فرد کا تزکیہ

قرآن و سنت کی روشنی میں

پروفیسر عبد الحق انصاری

تزکیہ کی اصل ’زکی’ ہے، جس کے معنی نمو، شادابی اور افزونی کے ہیں۔ چونکہ چیزوں کی نمو اور افزونی کے لیے ضروری ہوتاہے کہ انھیں خرابیوں اور نقائص سے پاک کیاجائے، اس لیے زکی میں طہارت اور پاکی کامفہوم بھی شامل ہوتاہے۔ شاب زکی اس لڑکے کو کہتے ہیں جو تندرست، دانا اور صالح ہو اور جسمانی، ذہنی اور اخلاقی خرابیوں سے پاک ہو۔ زکاۃ کو زکاۃ کہنے کی وجہ بھی یہ ہے کہ اس سے مال پاک ہوتا اور ترقی پاتاہے۔ قرآن مجید میں ہے:

خُذْ مِنْ أَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِم بِہَا    ﴿التوبہ: ۱۰۳﴾

’اے نبی! ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور ان کی زندگیوں کو سنوارو اور پروان چڑھاؤ۔‘

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بناکر اور کتاب الٰہی عطاکرکے عربوں میں بھیجنے کی جو غایت قرآن میں بیان کی گئی ہے اس میں تزکیہ سرفہرست ہے۔ فرمایاگیا:

ہُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِیْ الْأُمِّیِّیْنَ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْْہِمْ اٰیَاتِہٰ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِن کَانُوا مِن قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْن  ﴿الجمعہ:۲﴾

’وہی خدا ہے، جس نے عرب کے ان پڑھوں میںانھی میں سے ایک رسول بھیجا جو انھیں قرآن کی آیات سنائے، ان کا تزکیہ کرے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دے۔ درحقیقت وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو قرآن سناتے اور ایمان لانے کی دعوت دیتے۔ پھر جولوگ ایمان لاتے ان کی زندگیوں کی اصلاح و تعمیر کی طرف توجہ فرماتے۔ اسلام انسان میں کن اوصاف کو پروان چرھاناچاہتاہے اور کن صفات کو دبانا اور مٹانا چاہتاہے، اپنے ماننے والوں کو کن حسنات کا حامل اور کن سیئات سے پاک دیکھناچاہتاہے، اللہ رب العزت کے ساتھ کس طرح کے تعلق کو استوار کرنا اور کس طرح کے رویے کومٹانا چاہتاہے، مسلم معاشرے میں کس طرح کے روابط کو بڑھانا اور ترقی دینا اور اسے کس طرح کے سلوک سے پاک اور صاف دیکھنا چاہتاہے، اسلامی نظام زندگی کا کیا تصور پیش کرتاہے اور اس کے قیام کے لیے کس طرح کی جدوجہد کی تعلیم دیتاہے، ان سارے کاموں کی انجام دہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر رہاہے۔ موجودہ دور میں ہم ایسے افراد کیسے تیار کریں، رب کریم کے ساتھ ان کے مطلوبہ تعلق کو کس طرح استوار کریں، اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے کیا جدوجہد کریں یہ غیرمعمولی سوالات ہیں اور مفصل بحث کے طالب ہیں۔ اس وقت ہم صرف مسئلے کے ایک جز ’تعق باللہ‘ تک اپنی گفتگو محدود رکھیںگے۔

تعلق باللہ

اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق کسی اصول، کسی نظریےّ یا کسی نصب العین کے ساتھ تعلق کامعاملہ نہیں ہے، جن کی طرف سے کوئی ردعمل (Responce)نہیں ہوتا۔ یہ ایک شخصی تعلق ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوتے ہیں وہ ہماری طرف متوجہ ہوتاہے، ہم کچھ کہتے ہیں وہ سنتاہے، کچھ کرتے ہیں وہ دیکھتاہے، کچھ پیش کرتے ہیں وہ قبول کرتاہے، کچھ مانگتے ہیں وہ دیتاہے۔ ہمیں بتایاگیاہے کہ ہم اس سے کیسے خطاب کریں، کیا کہیں اور کس طرح کہیں، کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ اگر اس کاذکر کریں تو کیا کہیں، اگر کچھ عرض کریں تو کس طرح کریں، یہی نہیں بل کہ جب اس کے حضور حاضر ہوںتو کس طرح کھڑے ہوں، اس کی تعظیم میں رکوع اور سجدے کریں تو کیا کہیں، اس کا کلام پڑھاجائے تو ہماری کیفیت کیا ہو، اس کا فرمان سنیں تو اسے کیسے بجالائیں اور اگر اس پر عمل میں دشواری محسوس کریں تو اس سے مدد کی درخواست کس طرح کریں؟۔

اللہ تعالیٰ سے تعلق تو پوری زندگی کامعاملہ ہے۔ ہر لمحہ اور ہر گھڑی کا۔ لیکن اس کا ایک نمایاں ظہور عبادتوں، نمازوں،روزوں،اذکار و تسبیحات اوردعا واستغفار میں ہوتاہے اور ان جذبات و کیفیات میں ہوتاہے جو خدا کی ذات کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں۔ جیسے خشوع و خضوع ، خوف وخشیت، صبر وشکر، اخلاص ورضا جوئی، محبت اور ایثار، دعا اور درخواست میں ہوتاہے۔

نمازوں میں کچھ نمازیں فرض ہیں، انھیں جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا مطلوب ہے۔ کیونکہ ہماری اجتماعی زندگی کی تشکیل میں بھی فرض نمازیں بڑا اہم رول ادا کرتی ہیں۔ لیکن سنتوں اور نفل نمازوں کے سلسلے میں یہ پسند کیاگیاہے کہ وہ گھروں میں ادا ہوں۔ صحیحین کی حدیث ہے، حضورنے فرمایا:

صلوا ایہاالناس فی بیوتکم فان افضل الصلاۃ صلوٰۃ المرئ فی بیتہ الا المکتوبہ ﴿متفق علیہ﴾

’اے لوگو! نمازیں اپنے گھروں میں پڑھاکرو، جان لوکہ انسان کی بہتر نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے سوائے فرض نماز کے۔‘

فرائض کے علاوہ باقی نمازیں گھر میں ادا کرنے کے لیے ارشاد کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان نمازوں میں قرآن مجید کی قرأت بآسانی لمبی کی جاسکتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ رکوعوں اور سجدوں میں تسبیحات کا اعادہ بار بار کیاجاسکتا ہے اور دیر تک کیاجاسکتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ تسبیح کے ساتھ ساتھ دعا بھی کی جاسکتی ہے اور بار بار کی جاسکتی ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گھر میں پڑھی جانے والی نمازوں کے بارے میں کہتی ہیں:

کان النبی یکثر ان یقول فی رکوعہ وسجودہ سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح ﴿مسلم:۱۴۳۴﴾

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوعوں اور سجدوں میں ‘‘سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح’’ کثرت سے کہاکرتے تھے۔

یہ بھی روایت ہے کہ آپ رکوع اور سجدے میں یوں کہاکرتے تھے:

اللھم لک رکعت وبک آمنت ولک اسلمت۔ خشع لک سمعی وبصری ومخی وعقلی عصبی۔

’اے میرے اللہ! میں نے تیرے ہی آگے سر جھکایا، تجھی پر ایمان لایااور تیری ہی اطاعت کی۔ میرے کان، میری آنکھیں، میرا دماغ، میری عقل اور میرے اعصاب سب تیرے آگے جھکے پڑے ہیں۔‘

یہ بھی روایت ہے کہ آپ رکوع اور سجدے میں تسبیح و حمد کے ساتھ دعا بھی کرتے تھے۔

کان انبی یکثر ان یقول فی رکوعہ وسجودۃ سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفرلی ﴿متفق علیہ﴾

’نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں بکثرت کہاکرتے: اے اللہ ہمارے رب! تو پاک ہے اور ساری تعریفوں کامستحق ہے۔ میرے اللہ مجھے معاف فرمادے۔‘

مسلم نے یہ حدیث بھی روایت کی ہے آپ نے سجدے کی حالت میں کثرت سے دعا کرنے کی ترغیب دی ہے:

’اقرب مایکون العبد من ربہ وہو ساجد فاکثروا الدعائ‘ ﴿مسلم:۴۸۲﴾

’بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدہ میں ہوتاہے تو ایسے وقت میںتم کثرت سے دعا کیا کرو۔‘

عام زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کی ترغیب آپ نے ان الفاظ میں دی ہے:

لایزاک لسانک رطبا من ذکر اللہ ﴿ترمذی:﴾

’تمھاری زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔‘

خود اللہ تعالیٰ نے اسے کثرت سے یاد کرنے کی تلقین یوں کی ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْراً کَثِیْراًo وَسَبِّحُوہُ بُکْرَۃً وَأَصِیْلا                              ﴿الاحزاب :۴۱-۴۲﴾

’اے ایمان لانے والو! اللہ کوکثرت سے یاد کیاکرو اور صبح وشام اس کی پاکی بیان کرو۔‘

جو لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں زندوں اور مردوں سے تشبیہہ دی ہے۔ فرمایا:

مثل الذی یذکر ربہ والذی لایذکرہ مثل الحی والمیت ﴿مسلم:۴۸۹﴾

’جو اپنے رب کاذکر کرتاہے اور جو نہیں کرتا ان کی مثال زندہ اور مردہ شخص کی ہے۔‘

توبہ اور استغفار

نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح اور حمدو ثنا کے ذکر کے ساتھ ساتھ استغفار کابھی بڑا اہتمام کرتے اور لوگوں کو اس پر ابھارتے۔ فرمایا:

یاایہاالناس توبوا الی اللہ واستغفروہ فانی اتوب فی الیوم مآۃ مرۃ   ﴿ریاض الصالحین:۴۱﴾

’ لوگو! اللہ کے حضور توبہ کرو اس سے معافی مانگو، جان لو کہ میں دن میں سوبار توبہ کرتا ہوں۔

آپ سجدوں میں تسبیح کے ساتھ استغفار بھی کیاکرتے، حضرت ابوہریرۃؒ  کہتے ہیں:

ان رسول اللہ کان یقول یقول فی سجودہ: اللہم اغفرلی ذنبی کلہ دقہ وجلہ اولہ وآخرہ، علانیتہ وسرہ  ﴿مسلم:۴۸۳﴾

’رسول اللہ سجدوں میں کہاکرتے: ’اے میرے اللہ! میرے تمام گناہ معاف فرمادے چھوٹے اور بڑے، شروع کے اور آخر کے، کھلے اور چھپے۔‘

خود اللہ تعالیٰ نے اپن فاضل ترین بندوں محسنین کے بارے میں کہاہے:

کَانُوا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنoکَانُوا قَلِیْلاً مِّنَ اللَّیْْلِ مَا یَہْجَعُونَo وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ oوَفِٓیْ أَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُومِ  ﴿الذٰریات:۱۶-۱۹﴾

’اس سے پہلے وہ محسنین میں سے تھے، راتوں کو بہت کم سوتے، سحر کے وقت استغفار کرتے اور ان کے مال میں سائل اور محروم کے لیے متعین حق ہوتا۔‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار کی برکات کاذکر اس طرح کیاہے:

من اکثر من الاستغفار جعل اللہ من کل ہم فرجا ومن کل ضیق مخرجا ورزقہ من حیث لا یحتسب         ﴿مسند احمد﴾

’جو زیادہ استغفار کرتاہے اللہ تعالیٰ اس کی ساری پریشانیاں دور کرتاہے۔ تمام مشکلوں سے نکلنے کی صورت پیدا کرتاہے اور ایسے راستوں سے رزق عطا کرتاہے جو اس کے گمان میں بھی نہ ہوں۔‘

اخلاص ورضا جوئی

اللہ تعالیٰ سے تعلق کے مختلف پہلو ہیں۔ قرآن میں ان کاذکر بار بار کیاگیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی اہمیت اور ضرورت واضح کی ہے۔ ان میں سرفہرست اخلاص اور رب کی رضا جوئی ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کریں وہ حکم الٰہی کے مطابق ہو اور اس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی گئی:

قُلْ اِنِّیْٓ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّہَ مُخْلِصاً لَّہُ الدِّیْن ﴿الزمر:۱۱﴾

’اے نبی! ان سے کہو: مجھے حکم دیاگیاہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس کی بندگی کروں۔‘

قرآن میں فلاح آخرت کی بشارت جن لوگوں کو دی گئی ہے ایک جگہ ان کاتذکرہ اس طرح ہے:

وَالَّذِیْنَ صَبَرُواْ ابْتِغَآئ وَجْہِ رَبِّہِمْ وَأَقَامُواْ الصَّلاَۃَ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرّاً وَعَلاَنِیَۃً وَیَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃِ أُوْلٰٓئِٰکَ لَہُمْ عُقْبَی الدَّارِ ﴿الرعد:۲۲﴾

’جولوگ اپنے رب کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے علانیہ اورپوشیدہ خرچ کرتے ہیں اور بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں، آخرت کااچھا انجام انھی کے لیے ہے۔‘

اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَاعْتَصَمُواْ بِاللّہِ وَأَخْلَصُواْ دِیْنَہُمْ لِلّٰہِ فَأُوْلٰٓ ئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّہُ الْمُؤْمِنِیْنَ أَجْراً عَظِیْما ﴿النساء:۱۴۶﴾

’البتہ ان میں جو لوگ تائب ہوجائیں، اپنے طرزعمل کی اصلاح کرلیں، اللہ کادامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کردیں ایسے لوگ مومنین کے ساتھ ہیں اور عنقریب اللہ تعالیٰ مومنین کو اجر عظیم سے نوازے گا۔‘

خشوع

جن مومنوںکو اللہ تعالیٰ نے فلاح و کامیابی کی بشارت دی ہے، ان کی صفات میں ایک اہم صفت نمازوں میں خشوع ہے۔ فرمایا:

قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونoالَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَ﴿المومنون:۱،۲﴾

’یقینا فلاح پائی ان ایمان والوں نے جو اپنی نمازوں میںخشوع اختیار کرتے ہیں۔‘

نمازوںمیں خشوع کے معنی یہ ہیں کہ نمازوں میں اس طرح کھڑا ہواجائے جیسے کہ کسی عظیم باجبروت ہستی کے سامنے پیش ہورہے ہوں۔ سرجھکاہوا ہو، نگاہیں پست ہوں، آواز دبی ہوئی ہو اور جسم پر ہیبت طاری ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے:

ُ اِنَّہُمْ کَانُوا یُسَارِعُونَ فِیْ الْخَیْْرَاتِ وَیَدْعُونَنَا رَغَباً وَرَہَباً وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِیْنَ ﴿الانبیاء:۹۰﴾

’یہ لوگ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے اور رغبت اور خوف کے ساتھ ہمیں پکارتے اور ہمارے آگے جھکے رہتے تھے۔‘

خوف و خشیت

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی میزان میں کامیاب قرار دیے جائیں گے، ان کی صفات کاذکر کرتے ہوئے یہ فرمایاگیاہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کریں گے، اسی سے ڈریں گے اور کسی سے نہیں ڈریںگے اور راتوں کو اٹھ کر اس کے حضور ڈرتے ہوئے اور امید کے ساتھ دعا کیا کریں گے۔ کہاگیا:

مَن یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہ’ وَیَخْشَی اللَّہَ وَیَتَّقْہِ فَأُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُون ﴿النور:۵۲﴾

’جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور اللہ سے ڈرتے رہیں وہی کامیاب ہوں گے۔‘

اِنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائ اِنَّ اللَّہَ عَزِیْزٌ غَفُورٌ ﴿فاطر:۲۸﴾

’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے۔

تَتَجَافَی جُنُوبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَطَمَعاً وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ  ﴿السجدہ:۱۶﴾

’ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف و طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘

حب اللہ

اللہ کے نیک بندے اللہ سے ڈرتے ہی نہیں محبت بھی کرتے ہیں۔ بلکہ سب سے زیادہ اسی سے محبت کرتے ہیں: اور اللہ تعالیٰ بھی ان سے محبت کرتا ہے۔ فرمایا:

وَمِنَ النَّاسِ مَن یَتَّخِذُ مِن دُونِ اللّہِ أَندَاداً یُحِبُّونَہُمْ کَحُبِّ اللّہِ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوآْ أَشَدُّ حُبّاً لِّلّٰہِ ﴿بقرہ:۱۶۵﴾

’کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مدمقابل ٹھہراتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی اللہ کے ساتھ کرنی چاہیے ۔ حالانکہ ایمان والے سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں۔‘

قُلْ اِن کُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّہَ فَاتَّبِعُونِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوبَکُمْ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ  ﴿آل عمران:۳۱﴾

’اے نبی! لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میںاللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھاری خطائوں سے درگزر کرے گا اور اللہ بڑامعاف کرنے والا ہے۔‘

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلٰی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَآئ ُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْم  ﴿المائدہ:۵۴﴾

’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتاہے تو اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتاہے عطا کرتاہے اور اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔

صبرو شکر

اللہ کے نیک بندوں پر کوئی مصیبت آتی ہے یا نہیں کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے یا وہ کسی سخت آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں یا اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور قربانیاں دینی ہوتی ہیں تو ان کے قدم پیچھے نہیں اٹھتے۔ وہ صبرو سکون کے ساتھ تکلیفیں برداشت کرتے رہتے ہیں اور اف بھی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتاہے، انھیں ثابت قدم رکھتاہے، اپنی رحمتوں سے نوازتاہے اور ان کے درجات بلند کرتاہے۔ اس کاارشاد ہے:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون ﴿آل عمران: ۲۰۰﴾

’ لوگو! جو ایمان لائے ہو صبرسے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلے پامردی دکھائو، حق کی خدمت کے لیے کمربستہ رہو ، اللہ سے ڈرتے رہو ، امید ہے فلاح پائوگے۔‘

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اسْتَعِیْنُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ اِنَّ اللّہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَo ﴿البقرہ:۱۵۳﴾

’اے لوگو جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘

وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ أَئِمَّۃً یَہْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوا بِاٰیَاتِنَا یُوقِنُونَ ﴿السجدہ:۲۴﴾

’اور جب انھوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین کرتے رہے تو ہم نے ان کے اندر پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے رہے۔‘

صابرین کی طرح شاکرین کاذکر بھی قرآن مجید میں بار بار آتاہے۔ حق تو یہ ہے کہ زندگی میں شکر کے مواقع صبر کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ اللہ کے رسول نے تاکید کی ہے کہ ہم اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے، کھاتے پیتے، گھر میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے، غرض سارے ہی اچھے کاموں کو انجام دیتے وقت اللہ کا شکر ادا کریں اور شکر کا طریقہ بھی بتایاہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بارہا شکر ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور فضل کا وعدہ فرمایاہے:

یَآ أَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُواْ کُلُواْ مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُواْ لِلّہِ اِن کُنتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُونَ           ﴿البقرہ:۱۷۲﴾

’اے ایمان لانے والو! اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمھیں بخشی ہیں انھیں بے تکلف کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔‘

فَاذْکُرُونِیْ أَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُواْ لِیْ وَلاَ تَکْفُرُون      ﴿البقرہ:۱۵۲﴾

’تم مجھے یاد رکھو میں تمھیں یاد رکھوںگا اور میرا شکر کروناشکری نہ کرو۔‘

وَاِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِن شَکَرْتُمْ لأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِن کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد ﴿ابراہیم:۷﴾

’اور یاد رکھو تمھارے رب نے خبردار کیاتھاکہ اگر شکرگزار بنوگے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کروگے تو میری سزا بہت سخت ہے۔‘

متقین اور محسنین

اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو متقین اور محسنین دو گروپوں میں تقسیم کیاہے۔ متقین وہ ہیں، جو فرائض ادا کرتے ہیںاور محرمات سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہ تقویٰ کاپہلا درجہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اتق المحارم تکن اعبدالناس

’حرام کاموں سے بچو سب سے بڑے طاعت گزار بندے ہوجاؤگے۔‘

تقوے کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ ان چیزوں سے بھی احتراز کیاجائے جن کی صحت پر دل کو اطمینان نہ ہو:

لایبلغ العبد حقیقۃ التقویٰ حتی یدع ماحاک فی الصدر  ﴿بخاری: کتاب الایمان﴾

’بندہ حقیقی تقویٰ تک اس وقت تک نہیں پہنچتا جب تک کہ ان چیزوں سے بھی اجتناب نہ کرے جو دل کو کھٹکیں۔‘

اور تقویٰ کااعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ ان مباحات سے بھی اجتناب کیاجائے جن کے کرنے سے یہ اندیشہ ہو کہ کہیں ایسا فعل نہ کربیٹھے جو صراحۃً ممنوع ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لایصلح العبد ان یکون من المتقین حتی یدع مالا باس بہ حذرا من مابہ باس

’بندہ حقیقی معنی میں متقی اس وقت تک نہیں بنتا جب تک کہ وہ اس خیال سے کہیں کوئی غلط کام نہ کربیٹھے ان چیزوں سے بھی دور رہتا ہے جن کے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔‘

محسنین وہ ہیں جو اچھے اعمال کو بہتر طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ نمازوں میں احسان کی وضاحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں کی ہے۔

ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک﴿بخاری:۵۰﴾

’احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تو تم کو دیکھ رہاہے۔‘

لوگوں کے ساتھ تعلقات میں محسنین کاذکر قرآن میں اس طرح آیاہے:

الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ فِیْ السَّرَّآئ وَالضَّرَّآئ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ     ﴿آل عمران: ۱۳۴﴾

’جو لوگ خوش حالی اور تنگی دونوں صورتوں میں انفاق کرتے ہیں، جو غصہ پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں اللہ ان محسنین کو محبوب رکھتاہے۔‘

اللہ تعالیٰ اقامت دین کی جدوجہد سنجیدگی سے کرنے والوں کو محسنین میں شمار کرتا ہے اور ان کے ساتھ رہنے اور ان کی مدد کرنے کا وعدہ کرتاہے۔

وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللَّہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْن﴿عنکبوت:۶۹﴾

’جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم انھیں اپنی راہیں دکھاتے ہیں۔ بیشک اللہ محسنین کے ساتھ رہتاہے۔‘

ہماری زندگی کے تین پہلو ہیں۔ ایک ذاتی، دوسرا اجتماعی اور تیسرا ربانی۔ اِس وقت تزکیہ پر گفتگو کرتے وقت یہی تیسرا پہلو ہمارے پیش نظر رہاہے۔ یہ پہلو خود جس اہمیت کاحامل ہے اور ہماری اصلاح اور تربیت میں اس کا جو رول ہوتاہے خیال ہے کہ ہم اس کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی میں اسے وہ مقام دے سکیں جو مطلوب ہے تو نہ صرف ہم اللہ کے ایک اچھے بندے ثابت ہوں گے، بل کہ جو دعوت و تحریک ہم لے کر اٹھے ہیں اس کو بھی بہتر طور پر انجام دے سکیں گے۔ ہم لوگوں کے سامنے ایک اچھا نمونہ پیش کریںگے اور خدا کی نصرت اور رہ نمائی کے بہتر سزاوار بنیںگے۔ ہمیں کچھ وقت نفل نمازوں کے لیے نکالناچاہیے۔ رکوعوں اور سجدوں میں تسبیحات اور دعائوں کااضافہ کرناچاہیے۔ خالی وقتوں میں رب کے ذکر کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے بھی ہم ذکر کرسکتے ہیںاور اس کے لیے کچھ وقت بھی نکال سکتے ہیں۔ قرآن پڑھتے وقت ہمیں ان آیات پر جن میں متقین اور محسنین کی صفات کاذکر آیاہے ٹھہر کر اپناجائزہ لیناچاہیے۔ اپنی کوتاہیوں اور خطائوں پر استغفار کرناچاہیے اور مزید توفیق کی درخواست کرنی چاہیے۔

جنوری 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau