رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

بڑی مساجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی

سوال : کورونا کے دور میں نماز جمعہ بحالت مجبوری چھوٹی بڑی تمام مساجد میں شروع ہوئی اور اب جب کہ لاک ڈاؤن ختم ہوچکا ہے، تب بھی یہ عمل جاری ہے۔ ایسے میں جمعہ کے مقاصد واضح طور پر فوت ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس پس منظر میں چند سوالات سے متعلق رہ نمائی فرمائیں:

۱۔ نماز جمعہ کے مقاصد کیا ہیں؟ کیا چھوٹی بڑی تمام مساجد میں نماز جمعہ پڑھنے سے وہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں؟

۲۔ اگرکسی جگہ بحالت مجبوری جمعہ شروع ہوا اور اب وہ مجبوری نہ ہو تو کیا وہاں جمعہ بند نہیں کیا جاسکتا؟

۳۔ کیا مرکزی مساجد میں نماز جمعہ پڑھنے کے بجائے اپنی اپنی مساجد میں نماز جمعہ ادا کی جاسکتی ہے؟

جواب:دین میں نمازِ جمعہ کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کی ادائیگی کا حکم قرآن مجید میں دیا گیا ہے۔ (الجمعة:۹) جو لوگ مسلسل نمازِ جمعہ ترک کریں ان کے لیے حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔

نمازِ جمعہ میں نمازیوں کی کثرت مطلوب ہے۔ اسی لیے کسی آبادی میں اسے سب سے بڑی مسجد (جامع مسجد) میں ادا کرنے اور چھوٹی چھوٹی مساجد میں ادا نہ کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔ اگرچہ فقہا نے ایک آبادی کی کئی مساجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کو جائز قرار دیا ہے:

وَتُؤَدَّى الْجُمُعَةُ فِی مِصْرٍ وَاحِدٍ فِی مَوَاضِعَ كَثِیرَةٍ وَهُوَ قَوْلُ أَبِی حَنِیفَةَ وَمُحَمَّدٍ -رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى- وَهُوَ الْأَصَحُّ (الفتاوی الھندیة،۱؍۱۴۵)”نمازِ جمعہ ایک شہر کی کئی مساجد میں ادا کی جا سکتی ہے۔ یہ امام ابو حنیفہؒ اور امام محمدؒ کا قول ہے اور یہی صحیح ہے۔”

کرونا کی وبا کے زمانے میں، جب مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کردیا گیا تھا، مختلف مقامات: کھلی جگہوں، چھتوں، چھوٹی مساجد وغیرہ میں نمازِ جمعہ کی اجازت دی گئی تھی۔ ایسا عذر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ اب، جب کہ عذر دوٗر ہوگیا ہے اور حالات معمول پر آگئے ہیں تو سابقہ حکم بھی بحال ہوجائے گا، یعنی نمازِ جمعہ کی ادائیگی صرف بڑی مساجد میں ہونی چاہیے، چھوٹی مساجد میں نہیں ہونی چاہیے۔

بڑی مساجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی شریعت کے منشا کے مطابق ہے، اس لیے فقہا نے اسے افضل قرار دیا ہے، اگرچہ دوسری مساجد میں بھی جائز ہے۔ جو لوگ حالات معمول پر آجانے کے باوجود چھوٹی مساجد میں نمازِ جمعہ قائم کرنے پر بضد ہوں، انہیں مقامی علما کے ذریعے سمجھانے بجھانے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن اس معاملے پر تنازعہ سے بچنا چاہیے۔

زکوٰة کے بعض مسائل

سوال :براہِ کرم زکوٰة کے سلسلے میں درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں:

۱۔ اسلام میں اجتماعی زکوٰة کے کیا خدو خال ہیں؟

۲۔ زکوٰة کا اجتماعی نظام قائم کرنا کس کے ذمہ ہے؟

۳۔ زکوٰة کو کہاں خرچ کیا جائے؟

۴۔ زکوٰة کب واجب ہوتی ہے؟

۵۔ کیا زکوٰة کی ادائیگی تاخیر سے کی جاسکتی ہے؟

۶۔ کیا زکوٰة ادا کرتے وقت دینے والے کو بتانا ضروری ہے کہ یہ زکوٰة کی رقم ہے؟

۷۔ کیا کسی مقام پر اجتماعی زکوٰة کا نظام ہونے اور مستحقین کے باوجود کسی دوسرے مقام پر زکوٰة روانہ کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب: اجتماعی نظامِ زکوٰة کے سلسلے میں آپ کے دریافت کردہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ زکوٰة کا اجتماعی نظام قائم کرنا پسندیدہ ہے۔ عبادات کی ادائیگی اجتماعی طور پر مشروع کی گئی ہے۔ جیسے نماز کی باجماعت مسجد میں ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے، روزہ تمام مسلمان مل کر ماہِ رمضان رکھتے ہیں، حج کے لیے تمام مسلمان مقررہ دنوں میں اکٹھا ہوتے ہیں، اسی طرح زکوٰة کا بھی اجتماعی نظام قائم کرنا مطلوب ہے۔

۲۔ زکوٰة کا اجتماعی نظام قائم کرنا اسلامی ریاست کی ذمے داری ہے۔ جہاں اسلامی ریاست نہ ہو وہاں کے مسلمانوں کو اس کے سلسلے میں کوشش کرنی چاہیے۔

۳۔ زکوٰة کے آٹھ (۸) مصارف سورة التوبة:۶۰ میں بیان کیے گئے ہیں۔ زکوٰة کو ان تمام میں یا ان میں سے کچھ میں خرچ کرنا چاہیے۔ ان مصارف کے علاوہ اور کسی مصرف میں اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔

۴۔ زکوٰة ہر برس واجب ہوتی ہے۔ جب مقررہ مقدار میں مال کسی شخص کے پاس ایک برس تک رہے تو اسے زکوٰة ادا کرنی ہے۔ زکوٰة نکالنے کے لیے صرف ماہِ رمضان کو خاص کردینا درست نہیں ہے۔

۵۔ زکوٰة واجب ہونے کے بعد حسبِ ضرورت کسی قدر تاخیر سے نکالی جاسکتی ہے اور اسے ایڈوانس بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔

۶۔ جس کو زکوٰة دی جائے اسے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰة کا مال ہے۔

۷۔ زکوٰة جس سے وصول کی جائے، بہتر ہے کہ وہیں کے غربا و مستحقین پر خرچ کی جائے، لیکن یہ لازم نہیں ہے۔ حسبِ ضرورت دوسرے مقامات میں بھی بھیجی جا سکتی ہے۔

پراپرٹی کا ایک مسئلہ

سوال: محترمہ نعیم النساء کا ایک لڑکا ( محمد سمیع الدین) اور دو لڑکیاں (حسنہ خاتون اور نجمہ خاتون) تھیں۔ ان میں سے حسنہ خاتون کا انتقال ماں کی زندگی ہی میں ہوگیا تھا۔

محمد سمیع الدین نے اپنی ذاتی رقم سے ۱۲؍ گٹّھہ زمین خریدی، لیکن اس کی رجسٹری اپنی ماں( نعیم النساء) کے نام سے کروائی۔ بعد میں انھوں نے یہ زمین اپنے بیٹوں کو ہبہ کردی۔ اس پر کافی عرصہ گزر گیا ہے۔ خاندان میں اس کے گواہ بھی موجود ہیں کہ مذکورہ زمین کی کل رقم محمد سمیع الدین نے اپنے پاس سے ادا کی تھی۔

اب نجمہ خاتون کے لڑکے اس زمین میں اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی تقسیم بہ طورِ وراثت ہونی چاہیے۔ ایک تہائی حصہ نجمہ خاتون کا بنتا ہے ، جو ان کی اولاد کو ملنا چاہیے۔

براہ کرم شریعت کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ محمد سمیع الدین کے ذریعے اور ان کی رقم سے خریدی گئی زمین پر صرف ان کے لڑکوں کا حق بنتا ہے ، یا ان کی ماں کے نام اس کی رجسٹری ہونے کی وجہ سے اس میں قانونِ وراثت جاری ہوگا اور سمیع الدین کی بہن(نجمہ خاتون) کو بھی ان کا حصہ ملے گا، جو ان کے بعد ان کی اولاد میں تقسیم ہوگا؟

جواب: جس شخص نے زمین خریدنے میں اپنی رقم لگائی ہے ، وہی اس کا مالک سمجھا جائے گا، چاہے اس نے کسی مصلحت سے اس کی رجسٹری دوسرے کے نام سے کروادی ہو۔زمین محمد سمیع الدین نے خریدی اور اس کی کل رقم اپنے پاس سے ادا کی ، جس کا ثبوت ان کے پاس موجود ہو، یا خاندان اور علاقہ کے لوگ اس کی گواہی دیتے ہوں، تو چاہے انھوں نے اس کی رجسٹری اپنی ماں کے نام سے کروائی ہو ، لیکن اس کے مالک محمد سمیع الدین ہی سمجھے جائیں گے۔ انہیں اس میں تصرف کرنے کا حق ہوگا۔ اس میں ماں کی وراثت جاری نہیں ہوگی۔

٭٭٭

جون 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau