رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

سوال: قرآن کے مطالعے کے دوران چند مقامات پر الجھن ہوتی ہے۔ بہ راہ کرم تشریح و توضیح فرماکر ممنون فرمائیے۔

﴿۱﴾سورۂ اعراف آیت ۲۹میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے: کَمَابَدَاَکُمْ تَعُوْدُونَ۔ مولانا مودودیؒ نے اس کا یہ ترجمہ کیاہے: ’’جس طرح اس نے تمھیں اب پیدا کیا ہے، اُسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤگے۔‘‘ ’’جس طرح‘‘ کے لفظ سے فوراًیہ مفہوم ذہن میں آتاہے کہ جس طرح اس نے تمھیں اب یعنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیاہے، اسی طرح یعنی ماؤں کے پیٹ سے پھر پیدا کیے جاؤگے۔ جب کہ قرآن کے دیگر مقامات سے معلوم ہوتاہے کہ جو انسان مرچکے ہیں انھیں ازسرِ نو پیدا نہیں کیاجائے گا، بل کہ اُنھیں زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ مثلاً:

وَنُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَاِذَا ہُم مِّنَ الْأَجْدَاثِ اِلَی رَبِّہِمْ یَنسِلُونَ﴿یٰسین:۵۱﴾

’’پھرایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔‘‘

دونوں بیانات بہ ظاہر ایک دوسرے سے مختلف و متضاد ہیں، جب کہ کلام الٰہی میں تضاد و اختلاف ممکن نہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّہِ وَأَیْْمَانِہِمْ ثَمَناً قَلِیْلاً أُوْلَ ئِکَ لاَ خَلاَقَ لَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ وَلاَ یُکَلِّمُہُمُ اللّہُ وَلاَ یَنظُرُ  اِلَیْْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلاَ یُزَکِّیْہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْم ﴿آل عمران: ۱۷۷﴾

’’رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموںکو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا، بل کہ ان کے لیے تو سخت دردناک سزا ہے‘‘

سوال پیداہوتاہے کہ جب اللہ تعالیٰ نہ مجرموں کی طرف دیکھے گا نہ ان سے بات کرے گا تو ان سے حساب کیسے لے گا؟ حساب لینے کے لیے تومجرموں سے مخاطب ہونا ہی پڑے گا۔

ظہیراحمدغوری،سکینہ کالونی، جودھ پور ﴿راجستھان﴾

جواب: قرآن کریم کسی انسان کا کلام نہیں ہے، بل کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ اس کی ایک دلیل خود قرآن میں یہ بیان کی گئی ہے:

أَفَلاَ یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِندِ غَیْْرِ اللّہِ لَوَجَدُواْ فِیْہِ اخْتِلاَفاً کَثِیْراً ﴿النساء:۸۲﴾

’’کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پاتے۔‘‘

اگر قرآن کریم کے دو بیانات بہ ظاہرٹکرارہے ہیں تو یہ کلام الٰہی میں تضاد و اختلاف نہیں، بل کہ انسانی فہم کا قصور ہے۔ کسی آیت کی وہی تفسیر و تاویل قابلِ قبول ہے، جو قرآن کے دیگر بیانات سے نہ ٹکراتی ہو۔ سوال میں مذکور دونوں آیتوں کا جو مطلب لیاگیا ہے، وہ چوں کہ قرآن کے دیگر بیانات سے ٹکراتا ہے، اس لیے صحیح نہیں۔سورۂ اعراف کی مذکور بالا آیت کا ترجمہ مولانا احمد رضاخاںؒ نے یہ کیا ہے:‘‘جیسے اس نے تمھارا آغاز کیاویسے ہی پلٹوگے۔‘‘ یہ لفظی ترجمہ ہے۔ مولانا مودودیؒ نے لفظی ترجمہ نہیں کیاہے، بل کہ ان الفاظ میں ترجمانی کی ہے: ’’آپ نے اس ترجمہ سے جو مفہوم اخذ کیا ہے ﴿جس طرح اس نے تمھیں اب یعنی ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیاہے، اسی طرح یعنی ماؤں کے پیٹ سے، پھر پیدا کیے جاؤگے﴾ وہ سراسر آپ کے ذہن کی اُپج اور الفاظِ قرآنی کے ساتھ کھینچا تانی ہے۔ آیت میں کَمَا حرف تشبیہ ہے اور بلاغت کی کوئی کتاب اٹھاکر دیکھ لیجیے، اس میں یہ لکھا ہوا ملے گا کہ اگر کسی چیز کو دوسری چیز سے تشبیہ دی جائے تو دونوں میں ہر پہلو سے مشابہت ہونا ضروری نہیں۔ کہاجائے: ’’زید شیر کی طرح ہے‘‘ تو اس کایہ مطلب نکالنا درست نہ ہوگا کہ زید شیر کی طرح چار پیروں سے چلتاہے اور اس کے تیز دانت اور نوکیلے پنجے ہیں، جن سے وہ جانوروں کو پکڑتا اور ان کی تِکّا بوٹی کردیتا ہے۔ بل کہ اس جملے میں زید کو محض بہادری میں شیر کی طرح کہاگیاہے۔ اسی طرح آیت میں لفظ کَمَا ﴿جس طرح﴾ سے یہ مطلب نکالنا درست نہ ہوگا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلی مرتبہ انسانوں کو ان کی ماؤں پیٹ سے پیدا کیا ہے، اسی طرح دوبارہ انھیں ماؤں کے پیٹ سے پیدا کرے گا۔ بل کہ تشبیہ صرف عملِ تخلیق میں ہے نہ کہ کیفیتِ تخلیق میں۔ امام رازیخنے حسنؒ اور مجاہدؒ سے یہ تشریح نقل کی ہے: ’’اُس نے تمھیں دنیا میں پیدا کیا، جب کہ تم کچھ نہ تھے، اسی طرح تم دوبارہ زندہ کیے جاؤگے۔‘‘ ﴿تفسیر کبیر، المکتبۃ التوفیقیۃ مصر، ۱۴/۴۹﴾ علامہ زمخشریؒ نے لکھاہے:‘‘جس طرح اس نے شروع میں تمھیں پیدا کیاتھا، اسی طرح دوبارہ ﴿پیدا﴾کرے گا۔‘‘﴿کشاف، ج:۲،ص:۷۵،۷۶﴾

کفار مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کیے جانے کا انکار کرتے تھے، اس آیت میں ان کے خلاف دلیل پیش کی گئی ہے۔ یہ مضمون قرآن کریم میں بہ کثرت مقامات پرآیا ہے۔ انسانوں کی دوبارہ تخلیق کو ’’مردہ ذہن‘‘ سے بھی تشبیہ دی گئی ہے، کہ جس طرح زمین پر سبزہ اگتا ہے، پھر وہ مرجھاجاتاہے اور زمین سوکھ کر چٹیل بن جاتی ہے، دوبارہ پانی ملتا ہے تو وہ پھر پھبک اٹھتی ہے۔ یہ عقلی دلیل بھی دی گئی ہے کہ کسی چیز کو پہلی مرتبہ وجود میں لانا دشوار ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ پہلی مرتبہ انسانوں کی تخلیق پر قادر ہوگیا تو دوبارہ اس کا انھیں پیدا کرسکنا کیوں کر ناممکن ہے۔

سورۂ آل عمران کی آیت ۷۷ پر جو اشکالات وارد کیے گئے ہیں، امام رازیؒ نے ان کے تین جوابات دیے ہیں:

۱- ان الفاظ سے محض یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے سخت ناراض ہوگا۔ یہ شدّتِ غضب کا کنایہ ہے۔ ان الفاظ کا ظاہری مفہوم یہاں مراد نہیں ہے۔

۲- اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے بلاواسطہ بات کرنا ان کے لیے بڑا اعزاز ہوگا، اس لیے اس کے مستحق صرف اس کے نیک بندے ہوں گے۔ کافر و فاسق سے اللہ تعالیٰ بلاواسطہ بات نہیں کرے گا، بل کہ اپنے فرشتوں کے ذریعے ان سے حساب لے گا۔

۳- بات نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے لطف ومحبت کی بات نہ کرے گا اور نہ دیکھنے کامطلب یہ ہے کہ وہ ان پر کرم و احسان کی نگاہ نہ ڈالے گا۔ آیت میں یہ الفاظ مجازی معنیٰ میں آئے ہیں۔ ان کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہے۔ ﴿تفسیرکبیر، ۸/۹۷،۹۸﴾

علامہ ابن کثیرؒ نے تیسرے جواب کو اختیار کیا ہے۔ لکھاہے: ’’یعنی اللہ تعالیٰ ان سے محبت سے بات نہ کرے گا اور ان پر رحم و کرم کی نگاہ نہ ڈالے گا۔‘‘ اس مفہوم کی تائید میں انھوںنے متعدد احادیث نقل کی ہیں جن میں یہی مضمون بیان کیاگیاہے۔ ﴿تفسیر ابن کثیر، مؤسۃ الریّان بیروت، ۲۰۰۷،۱/۴۲۱-۴۲۳﴾

مولاناعبدالماجد دریابادیؒ نے لکھاہے: لَایَنْظُرْاِلَیْہِمْ۔ یعنی نگاہِ مہرو التفات سے ان کی طرف نظر نہ کرے گا، نگاہ قہر کی نفی مراد نہیں۔ ﴿تفسیر ماجدی، طبع لکھنؤ، ۲۰۰۸، ۱/۵۹۹﴾

چھوٹی ہوئی نمازوں کا کفّارہ؟

سوال: میرے ایک قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں نمازوں کے بڑے پابند تھے، مگر مرض وفات میں ان کی کچھ نمازیں چھوٹ گئی ہیں۔ کیا ان کا فدیہ ادا کیاجاسکتا ہے؟ اگر ہاں تو بہ راہِ کرم یہ بھی بتائیے کہ فدیہ کتنا ہوگا اور کیسے ادا کیا جائے گا؟

محمد خالد، کلکتہ

جواب: اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اس کی کچھ نمازیں یا روزے چھوٹ گئے ہوں کیا ان کا وارث ان کا فدیہ ادا کرسکتا ہے؟ اس معاملے میں احادیث میں صرف روزوں کاتذکرہ ملتاہے، نمازوں کے سلسلے میں کوئی صراحت نہیں ملتی۔ متاخرین فقہائے احناف نے نمازوں کو روزوں پر قیاس کرتے ہوئے چھوٹی ہوئی نمازوں پر بھی کفارہ مشروع قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی وفات سے قبل اپنی چھوٹی ہوئی نمازوں کافدیہ ادا کیے جانے کی وصیت کردی ہو تو اس کے ایک تہائی مال میں سے اس کی وصیت کو پورا کرنا اس کے ورثائ پر واجب ہوگا۔لیکن اگر اس نے وصیت نہ کی ہوتو ورثائ کو اختیار ہے۔ ان کے مطابق ایک نماز کا وہی فدیہ ہے جو ایک روزے کا ہے۔ یعنی بقدر صدقۂ فطر ﴿ایک صاع جَو/ نصف صاع گیہوں﴾ ۔ اس سلسلے میں ملاحظہ کیجیے فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، طبع دیوبند۱۳۸۴ھ،۴/۳۶۳-۳۷۳، ذیلی عنوان ’’بعد موت کفارۂ نماز‘‘ کے تحت مختلف فتاویٰ﴾

صحیح بات یہ معلوم ہوئی ہے کہ فدیہ کے معاملے میں نمازوں کو روزوں پر قیاس کرنا درست نہیں۔ جس شخص کی کچھ نمازیں اس کی زندگی میں چھوٹ گئی ہوں، اس کے ورثائ کا اس کے لیے دعائے مغفرت کرنا اور اس کی طرف سے صدقہ وخیرات کرنا کافی ہے۔ اس کی طرف سے چھوٹی ہوئی نمازوں کا فدیہ ادا کرنے کا حکم نہیں ہے۔

‘‘

جون 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau