رسائل و مسائل

محمد رضی الاسلام ندوی

مشترکہ تجارت کی بنیادی شرائط

سوال: حامد صاحب کا بہت بڑا فارم ہاؤس ہے۔ اس میں وہ نرسری (پودوں) کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کا ٹرن اوور(turnover) لاکھوں روپے کا ہے۔ انھوں نے اپنے دوست شفیع صاحب سے کہا کہ اگر وہ کچھ سرمایہ بینک میں رکھنے کے بجائے ان کے بزنس میں لگادیں تو انٹرسٹ سے بچے رہیں گے اور کچھ منافع بھی حاصل کرسکیں گے۔ انھوں نے یہ تجویز رکھی کہ اگر شفیع صاحب 10 لاکھ روپے مجھے دے دیں تو کل کاروبار میں فروخت (Sale) سے جتنی رقم آئے گی اس کا ایک فی صد منافع وہ دیں گے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میری کل پراپرٹی کی مالیت کتنی ہے؟ مجھے متعین طور پر معلوم نہیں۔ میرا کل سرمایہ کتنا ہے؟ اس کا بھی مجھے اندازہ نہیں ہے۔ اس لیے اپنے اور شفیع صاحب دونوں کے مجموعی سرمایہ سے حاصل ہونے والے منافع میں تناسب کی بنیاد پر منافع نہیں دیا جاسکتا۔ مجھے آسانی اس میں ہے کہ اگر شفیع صاحب مجھے دس(۱۰) لاکھ روپے دے دیں تو ایک مہینے میں جتنی مالیت کی نرسری فروخت ہوگی اس کا ایک فی صد(1%) میں ان کو دے سکتا ہوں۔

سوال یہ ہے کہ کیا Sale کی بنیاد پرمنافع دیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ مشترکہ تجارت درست ہے؟

جواب: تجارت کوئی شخص تنہا کرسکتا ہے اور دو یا دو سے زیادہ افراد مل کر بھی کرسکتے ہیں۔مشترکہ تجارت کی شریعت میں دو صورتیں بتائی گئی ہیں: ایک شرکت، دوسرے مضاربت۔شرکت یہ ہے کہ تمام شرکا سرمایہ بھی لگائیں اور محنت بھی کریں۔اور مضاربت کا مطلب یہ ہے کہ شرکا میں سے بعض صرف سرمایہ لگائیں، محنت نہ کریں اور بعض صرف محنت کریں، سرمایہ نہ لگائیں۔مشترکہ تجارت کی بنیادی شرط یہ ہے کہ تمام شرکا نفع اور خسارہ دونوں میں شریک رہیں گے۔تجارت سے جو نفع حاصل ہوگا وہ شرکا کے درمیان پہلے سے طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوگا اور اگر نقصان ہوا تو مضاربت کی صورت میں مضارب( محنت کرنے والا شریک) کو کچھ نہیں ملے گا، گویا اس کی محنت کا خسارہ ہوگا ،محنت اور وقت کے خسارے کے علاوہ اس پر کوئی تاوان عائد نہیں ہوگا،جب کہ ربّ المال(سرمایہ لگانے والا شریک) کو مال کا خسارہ برداشت کرنا ہوگا۔ اور شرکت کی صورت میں خسارہ تمام شرکا میں حسب حصص تقسیم ہوگا۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ مشترکہ تجارت درست ہونے کی کئی شرائط ہیں: اوّل یہ واضح ہو کہ یہ تجارت شرکت کی بنیاد پر ہے یا مضاربت کی بنیاد پر۔ دوم: شرکت کی صورت میں متعین طور پر معلوم ہو کہ ہر شریک نے کتنا سرمایہ لگایا ہے؟سوم: پہلے سے طے ہو کہ منافع میں ہر شریک کا کتنا فی صد ہوگا؟چہار م : تمام شرکا نفع اور نقصان دونوں میں شریک ہوں۔

تجارت کی جو صورت سوال میں ذکر کی گئی ہے اس میں کئی نقائص ہیں: اوّل یہ کہ تجارت میں ایک شریک کا لگا ہوا سرمایہ معلوم ہے، لیکن دوسرے شریک کا سرمایہ متعین نہیں۔دوم: اس میں منافع کا فی صد متعین نہیں۔ فروخت(sale) کو منافع مان لیا گیا ہے،حالاں کہ فروخت میں سے اخراجات وضع کیے جاتے ہیں تب منافع بنتا ہے۔سوم: اس میں نقصان کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ کاروبار میں نقصان ہونے کی صورت میں کس شریک کو کتنا برداشت کرنا ہوگا؟

اس تجارت کے درست ہونے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: یا تو حامد صاحب اپنے کل اثاثے کی مالیت کا اندازہ کریں، اس میں شفیع صاحب کے دس(۱۰) لاکھ روپے شامل کریں اورنفع و نقصان میں دونوں شامل ہوتے ہوئے فی صد/ حصص کا تناسب طے کریں۔ یاحامد صاحب کاروبار کا کوئی نیا گوشہ شروع کریں، اس میں اپنا اور اپنے شریک کا متعین سرمایہ لگائیں اور اس میں نفع و نقصان کی بنیاد پر شرکت کا معاملہ طے کریں۔وہ آپس میں منافع کاکوئی بھی فی صد طے کر سکتے ہیں۔

وراثت کے بعض مسائل

سوال: میرے چھوٹے بھائی کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی وراثت تقسیم ہونی ہے۔ براہ کرم اس سلسلے میں رہ نمائی فرمائیے:

۱۔ مرحوم کے بینک اکاؤنٹ میں کچھ پیسے ہیں۔ انھوں نے کسی مصلحت اور آسانی کے تحت جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوایا تھا اور اس میں اپنی اہلیہ کا نام شامل کر دیا تھا۔ مرحوم کی بیوی ایک گھریلو عورت (housewife) ہیں۔ کیا جوائنٹ اکاؤنٹ ہونے سے ان کی اہلیہ اکاؤنٹ کی نصف رقم کی مالک سمجھی جائیں گی، یا اکاؤنٹ میں موجود رقم میں تمام ورثا کا حصّہ ہوگا؟

۲۔ مرحوم نے اپنی جائیدادوں کا بھی جوائنٹ رجسٹریشن کرایا تھا۔ ان میں اپنی اہلیہ کا نام شامل کروایا تھا۔ کیا ان جائیدادوں میں ان کی اہلیہ کا نصف حصہ ہوگا، یا وہ بھی تمام ورثا میں تقسیم کی جائیں گی؟

۳۔مرحوم کے پاس دو کاریں تھیں۔ انھیں فروخت کردیا گیا۔ ان سے جو رقم حاصل ہوئی، کیا وہ بھی تمام ورثا میں تقسیم ہوگی؟

۴۔مرحوم کی اہلیہ کے پاس جو زیورات ہیں، کیا وہ بھی تمام ورثا میں تقسیم کیے جائیں گے، یا وہ صرف ان کی اہلیہ کی ملکیت قرار پائیں گے؟

۵۔ مرحوم ایک کمپنی میں کام کرتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد کمپنی سے ان کی گریجویٹی اور انشورنس کے پیسے ملے۔ کیا ان پر صرف ان کی اہلیہ کا حق ہے، یا ان کی بھی تمام ورثا میں تقسیم ہوگی؟

۶۔ مرحوم نے کچھ لوگوں کو قرض دے رکھا تھا۔ یہ قرض واپس ملے تو اس کی تقسیم کیسے ہوگی؟

۷۔مرحوم کے اعزّا میں ان کی بیوہ کے علاوہ والدہ، ایک بیٹی، ایک بیٹا، تین بھائی اور دو بہنیں موجود ہیں۔ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ ان کے درمیان مالِ وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

۸۔ مرحوم کی جائیداد میں ایک پانچ منزلہ عمارت ہے، جس میں کئی کرایے دار ہیں۔ اس عمارت کی ورثا کے درمیان تقسیم سے پہلے جو کرایہ آرہا ہے، کیا وہ بھی تمام ورثا میں تقسیم ہوگا، یا اس پر صرف ان کی اہلیہ کا حق ہے؟

۹۔ مرحوم کی والدہ صاحبِ حیثیت ہیں۔ انھیں اپنی گزر اوقات کے لیے بہ ظاہر کچھ مال کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا اس کے باوجود ان کا حصہ دینا ضروری ہے؟

۱۰۔ مرحوم کی وراثت تقسیم ہونے سے قبل ان کی بیٹی کا نکاح ہوگیا ہے۔ کیا نکاح میں ہونے والے مصارف پہلے وضع کیے جائیں گے، بعد میں وراثت تقسیم ہوگی، یاتقسیم وراثت کے بعد بیٹی کے حصے میں آنے والی رقم سے نکاح کے مصارف وضع کیے جائیں گے؟

جواب: آپ کے دریافت کردہ سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

۱۔ اگر کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کُل رقم اسی کی ہو، تو چاہے اس نے جوائنٹ اکاؤنٹ میں بیوی کا نام بھی شامل کر رکھا ہو، لیکن کُل رقم شوہر کے انتقال بعد اس کے ورثا میں تقسیم ہوگی۔ البتہ اگر جوائنٹ اکاؤنٹ میں شوہر اور بیوی کی مشترکہ رقم شامل ہو تو جتنی رقم شوہر کی ہو وہ اس کے ورثا میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگی اور جتنی رقم بیوی کی ہو، وہ اس کی ذاتی ملکیت شمار ہوگی۔

۲۔ یہی حکم جائیداد کا بھی ہے۔ جو جائیداد شوہر کی رقم سے خریدی گئی ہو اس کی ملکیت شوہر کی ہوگی، چاہے اس کے رجسٹریشن میں مشترکہ طور پر بیوی کا بھی نام ہو۔ البتہ اگر اس کی خریداری میں کچھ رقم بیوی کی لگی ہو، یا شوہر نے اپنی زندگی میں اس کا کچھ حصہ بیوی کو ہبہ کر دیا ہو تو وہ اس کی مالک سمجھی جائے گی۔

۳۔مرحوم کی ملکیت کی تمام چیزیں وراثت میں تقسیم ہوں گی۔ ان میں کاریں بھی شامل ہیں۔

۴۔ مرحوم کی اہلیہ کے پاس جو زیورات ہیں ان کی وہی مالک سمجھی جائیں گی۔ ان میں ورثا کا کوئی حق نہ ہوگا۔

۵۔ کسی شخص کے انتقال کے بعدکمپنی کی طرف سے گریجوٹی کی جو رقم ملتی ہے وہ ورثا کے درمیان تقسیم نہیں کی جائے گی، بلکہ وہ صرف بیوی کو دی جائے گی،یا اسے جس کو کمپنی کے ضوابط کے مطابق نام زد کیا گیا ہو، البتہ انشورنس میں ملنے والی رقم پر تمام ورثا کا حق ہوگا۔

۶۔ مرحوم نے قرض کی جو رقم دوسرے لوگوں کو دے رکھی تھی وہ جب واپس ملے گی تو اسے بھی تمام ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔

۷۔ مرحوم کے اعزّا میں اگر ماں، بیوہ، ایک لڑکا، ایک لڑکی، تین بھائی اور دو بہنیں ہوں تو ان کے درمیان مالِ وراثت کی تقسیم اس تناسب سے ہوگی:

ماں: 16.7% بیوہ: 12.5% بیٹا: 47.2% بیٹی: 23.6%

بھائیوں اور بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔

۸۔جب تک مرحوم کی جائیداد تقسیم نہ ہو اور مذکورہ عمارت سے کرایہ آرہا ہو، اس کرایے میں بھی تمام ورثا کا حصہ ہوگا۔

۹۔ تقسیم وراثت کی بنیاد ضرورت یا غربت نہیں، بلکہ قرابت ہے۔ اس لیے ماں مال دار ہو، تب بھی اس کا حصہ لگایا جائے گا۔ البتہ مستحقینِ وراثت کو اختیار ہوتا ہے کہ ان میں سے جو چاہے، اپنے حصے سے کم لے، یابالکل چھوڑ دے، یا کسی اور کو دے دے۔ اس لیے ماں چاہے تو اپنا یہ اختیار استعمال کرسکتی ہے۔

۱۰۔ باپ کے انتقال کے بعد بچوں کا ولی اور سرپرست چچا ہوتا ہے۔ شریعت نے اس کی ذمے داری قرار دی ہے کہ وہ اس کی کفالت کرے، جس میں نکاح کے مصارف اٹھانا بھی شامل ہے۔ لیکن اگر چچا نے ذمے داری نہیں اٹھائی ہے تو لڑکی کے حصے میں آنے والی رقم ہی میں سے مصارف وضع کیے جائیں گے۔

ہبہ میں نابرابری کا مسئلہ اور اس کا حل

سوال: ایک شخص کے چار بیٹے تھے۔ اس نے اپنی زندگی میں ایک بیٹے کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اسے ایک بڑی رقم دی، جس سے اس نے ایک گھر خریدلیا۔دوسرے بیٹوں کو کچھ نہیں دیا۔ کیا باپ کے مرنے کے بعد اس کی وراثت چاروں بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگی، یا جو بیٹا اپنے باپ کی زندگی میں اس سے بڑی رقم پاچکاتھا اس کو الگ کرکے وراثت صرف باقی تین بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگی؟

جواب: کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے مال یا کسی چیز کا دوسرے کو بلاعوض مالک بنادے،اسے اصطلاح شریعت میں ’ہبہ‘(gift)کہتے ہیں۔آدمی جس چیز کا مالک ہوا س پر اسے تصرّف کرنے کا پورااختیار رہتاہے۔اس بناپر وہ اسے ہبہ بھی کرسکتاہے۔

اولاد کو ہبہ کرنے کے سلسلے میں شریعت نے یہ رہ نمائی کی ہے کہ عام حالات میں سب کو برابر دیاجائے۔اس سلسلے میں حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی حدیث بہت مشہور ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے ایک ہدیہ دیاتومیری ماں نے ان سے کہاکہ اس پر رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنالیجیے۔وہ مجھے لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تفصیل بتائی۔آپؐ نے دریافت کیا: ’’کیاتم نے اپنی تمام اولاد کو یہ ہدیہ دیاہے؟انھوں نے جواب دیا: ’’نہیں‘‘تب آپؐ نے فرمایا: فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْدِلُوا بَیْنَ اَوْلَادِکُمْ’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف سے کام لو۔‘‘یہ سن کر میرے باپ نے اپنا ہدیہ واپس لے لیا۔(بخاری۲۵۸۷،مسلم: ۱۶۲۳)

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو ہبہ کرنے میں برابری کا معاملہ نہ کرے، کسی کودے اور دوسروں کو محروم رکھے تو اس کا کیاحکم ہے؟ اس سلسلے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے:

احناف،مالکیہ اور شوافع کہتے ہیں کہ اولاد کو برابر ہبہ کرنا مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔اس کی دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیرؓسے مروی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ جب ان کے والد نے اللہ کے رسول ﷺسے عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو فلاں چیز ہبہ کی ہے، آپؐ اس پر گواہ بن جائیے تو آپؐ نے فرمایا: فَاشْھَدْعَلَیٰ ھٰذَا غَیْرِیْ۔’’اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنالو۔‘‘(مسلم: ۱۶۲۳)اس سے معلوم ہوتاہے کہ ہبہ کرنے میں اولاد کے درمیان فرق کرنا پسندیدہ نہیں، لیکن جائز ہے۔ یہ حضرات دلیل میں وہ واقعات بھی پیش کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اپنی اولاد میں سے صرف حضرت عائشہؓ کواور حضرت عمرفاروقؓ نے اپنی اولاد میں سے صرف عاصم کو بعض ہدایا دیے تھے۔

بعض دیگر فقہا، مثلاً حنابلہ، احناف میں سے قاضی ابویوسفؒ،ابن مبارکؒ،طاؤوسؒ اور (ایک روایت کے مطابق) امام مالکؒ کہتے ہیں کہ ہبہ کے معاملہ میں تمام اولاد کے درمیان برابری کا معاملہ کرنا واجب ہے۔اگر کوئی شخص اپنی ایک اولادکو کوئی چیز ہبہ کرے گا اور دوسروں کو محروم رکھے گا، یا ان کے درمیان ہبہ کرنے میں کمی بیشی کرے گاتوگناہ گار ہوگا۔ اس پر لازم ہے کہ اس نے اپنی ایک اولاد کو جو چیز ہبہ کی ہے اسے واپس لے لے، یا دیگر تمام اولادوں کو بھی وہ چیز ہبہ کرے۔ یہ حضرات بھی دلیل میں حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی مذکورہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ اس کی بعض روایتوں میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تنبیہ کے بعد حضرت نعمانؓ کے والد نے ہبہ واپس لے لیاتھا۔(بخاری: ۲۵۸۷) تفصیل کے لیے دیکھیے: الموسوعة الفقہیة کویت: ۱۱؍۳۵۹۔۳۶۰

اس تفصیل سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

(۱) ہبہ کے معاملے میں عام حالات میں برابری کا معاملہ کرنا چاہیے۔ ایک بیٹے کو زیادہ دینا اور دوسرے بیٹوں کو کم دینا،یاایک بیٹے کو دینا اور دوسرے بیٹوں کو محروم کرنا صحیح نہیں ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے ایساکرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔

(۲) مختلف اسباب سے اگر کوئی شخص ناگزیر حالات میں اپنی زندگی میں کسی بیٹے کو زیادہ دے تو ایساکرنا اس کے لیے جائز ہے۔ اس سلسلے میں بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے دیگر بیٹوں کو اعتماد میں لے کر ایسا کرے۔ اگر وہ ان کی موافقت سے ایساکرے گا تو اس کے تعلق سے ان کے حسن سلوک میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔حضرت نعمان بن بشیرؓ سے مروی مذکورہ حدیث کی بعض روایتوں میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے نابرابری سے روکتے ہوئے فرمایا تھا:

أیَسُرُّکَ أنْ یَّکُونُوا اِلَیکَ فِی البِّر سَوَاءً۔(مسلم: ۱۶۲۳)

’’کیا تمھیں اس سے خوشی نہ ہوگی کہ وہ سب تمھارے ساتھ برابر حسن سلوک کریں۔‘‘

(۳) اگر کوئی شخص عام حالات میں اپنی اولاد کو ہبہ کرنے میں نابرابری کرتاہے،کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیتاہے تو اس کی یہ تقسیم نافذ ہوگی۔ جس بیٹے کو وہ کوئی چیز دے اور اس کا اس پر قبضہ ہوجائے تووہ اس کا مالک بن جائے گا۔

(۴) باپ کے مرنے کے بعد اس کی وراثت اسلامی قانون کے مطابق تمام زندہ ورثا کے درمیان تقسیم ہوگی اور وہ بیٹابھی حصہ پائے گا جسے باپ اپنی زندگی میں ایک بڑی رقم دے چکاتھا۔البتہ اس(بیٹے) کے لیے بہتر ہے کہ وہ دوصورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرے: یا تو وہ وراثت میں سے اپنا حصہ نہ لے اور اسے باقی بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوجانے دے، یا جو بڑی رقم اس نے اپنے باپ سے پائی تھی اسے مالِ وراثت میں شامل کرکے کل وراثت تمام ورثا کے درمیان تقسیم کرے اور اس کا جو حصہ بنتاہو اسے لے لے۔ایساکرنے سے وہ انصاف کا راستہ اختیار کرنے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اجر پائے گا۔

اگست 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau