اخلاق کی تعلیم

رادھا کرشنن کمیشن کی تجاویز کا جائزہ

سید تنویر احمد

اکثر جمہوری ممالک میں شہریوں کے حقوق و مطالبات طشت میں پیش نہیں کیے جاتے۔ یہ کیفیت اور بھی زیادہ ناممکن ہوجاتی ہے جب معاملہ اقلیتوں کا ہوتا ہے۔ جمہوری طرزِ حکومت میں یوں تو قوانین اور حکومت کے فیصلے کثرتِ رائے سے ہوتے ہیں تاہم باشعور اقلیت کئی بار اکثریت پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ اس کی واضح مثالیں امریکہ اور بھارت پیش کرتا ہے۔

مسلمانانِ ہند کا یہ المیہ رہا ہے کہ وہ جمہوریت کو صرف الیکشن کی عینک سے دیکھتے آئے ہیں۔ کسے ووٹ دیا جائے اور کسے نہیں۔ ہمارے ارکانِ پارلیمنٹ اور ارکانِ اسمبلی کتنے ہیں، بس اسی حساب کتاب میں قوم مصروف ہے۔ اور اسی کو ملک گیری سمجھتی ہے۔

آزادی کے بعد سے اب تک کی سیاست کا سرسری جائزہ بتاتا ہے کہ ملتِ اسلامیہ نے قانون یا پالیسی کو تدوین کرکے اسے پارلیمنٹ یا اسمبلیوں میں منظور کرانے کی کوشش بہت ہی کم کی ہے۔ البتہ قوانین کی مخالفت کرنے، انھیں تبدیل یا ردّ و بدل کرانے کے شاندار احتجاجات ہم نے کیے ہیں۔ کیا ہم نے جمہوریت میں ووٹ ڈالنا اور احتجاج کرنا ہی سیکھا ہے؟ ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا یقیناً نیکی ہے لیکن عدل و انصاف کے قیام کی تعلیم و تربیت اور ایسے تعلیمی و تربیتی نظام کو جاری کرنا اور اس کے لیے تگ و دو کرنا اور دماغی کاوشوں کے ساتھ حکیمانہ اقدامات بھی کرنا بہرحال بڑی نیکی ہے۔

یقیناً جمہوری ریاستوںمیں پارلیمنٹ اہم کردار ادا کرتی ہے تاہم بیدار وچالاک عوامی گروہ جمہوریت میں اپنا نشانہ بھی حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے نظریات کا نفوذ بھی کردیتے ہیں۔

تقسیم ملک کے بعد ملت شدید نفسیاتی مسائل کا شکار رہی۔ ایک یہ کہ تقسیم ملک کا جھوٹا الزام پوری ملت کے سر منڈھ دیا گیا، دوسرا یہ کہ ملت اور ملی اجتماعیت ملی تشخص کے تحفظ میں سرگرداں رہی اور تیسرا مسئلہ جان و مال کے تحفظ کی فکر کی صورت میں تھا۔ اس کیفیت میں ملت کا ملک اور باشندگانِ ملک کی خیرخواہی کے لیے سوچنا مشکل ترین کام ہوگیا تھا۔ شاید ان وجوہات کی بنا پر تعلیمی پالیسیوں میں ملت کوجتنی شرکت کرنی چاہیے تھی وہ نہیں کرسکی۔ آزادی کے ستر سال گزرنے کے بعد کم سے کم اب اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔ جماعتِ اسلامی ہند نے اپنے وقتِ قیام سے ہی تعلیم کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے۔ وہ تعلیمی میدان میں اپنا کردار بحسنِ وخوبی انجام دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کے لیے تعلیمی میدان میں کام کر رہی دیگر تنظیموں کے تعاون کے ساتھ مسلسل کام کرنے کی ہنوز ضرورت ہے۔ یہ کام اسی وقت موثر ہوسکتا ہے جب کہ بھارت میں اب تک تعلیم کے حوالے سے وضع کیے گئے قوانین، پالیسیوں اور اصلاحات کا ہمیں ادراک ہو۔ ملت کی دل چسپی چوں کہ مذہب اور اخلاق کی تعلیم سے زیادہ ہے، اس لیے ہم نے مضامین کے اس سلسلہ کا آغاز کیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اخلاقی تعلیم کے ذریعہ ہم مختلف النوع سماجی اور سیاسی بگاڑ کو سدھار سکتے ہیں۔ گذشتہ دو قسطوں میں ہم نے دو اہم کمیشنوں کا جائزہ پیش کیا تھا۔ دونوں کمیشنوں کا تعلق پرائمری اور ہائر پرائمری تعلیم سے تھا۔ ذیل میں ہم اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں اصلاحات کے لیے جو کمیشن بنایا گیا تھا اس کا تعارف پیش کریں گے۔ یہاں ہم صرف ان نکات کو پیش کر رہے ہیں جو ہمارے مرکزی موضوع ’’اخلاق کی تعلیم‘‘ سے متعلق ہیں۔ یہ نکات ہمیں حکومت (چاہے وہ مرکزی ہو کہ ریاستی) سے مکالمات کے لیے ضروری مواد فراہم کرتے ہیں اور پالیسی وضع کرنے میں ہمارے ممد و معاون بھی ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر رادھا کرشنن کمیشن

بھارت کی آزادی کے بعد اس وقت کی نہرو حکومت کے سامنے کئی مسائل تھے۔ ان میں سے ایک تعلیم کا بھی تھا۔ چوں کہ تعلیمی نظام میکاولے کا وضع کردہ تھا اس لیے اس نظام میں دو بنیادی کمزوریاں تھیں۔ اول وہ نظام انگریز حکومت کے لیے ملازمین اور سامراجیت کے وفادار و مبلغین پیدا کرتا تھا، دوم اس نظام میں مذہب کی تعلیم کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ آزادی کے بعد ان دونوں مقاصد کو تبدیل کرنا تھا۔ یہ بحثیں ہورہی تھیں کہ ملک کا مستقبل تعلیم گاہوں میں طے ہوتا ہے۔ ملک کی تعمیر گارے اور اینٹوں سے نہیں بلکہ تعلیم سے ہوتی ہے۔ اب ملک کو قائدین چاہییں جو یونیورسٹیوں میں تیار ہوتے ہیں۔ ملک میں سماجی تبدیلی لانی ہو تو تعلیم کو عام کرنا ہوگا۔ خواتین کی بہبود انھیں تعلیم سے جوڑنے میں ہے۔ ہمارا ملک مذہبی ملک رہا ہے، اس لیے یہاں کے تعلیمی نظام میں مذاہب کی تعلیم کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اخلاق کی تعلیم روحانیت کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے روحانی بالیدگی کےلیے تعلیمی اداروں میں پروگرا م منعقد کیے جائیں۔ سائنس، ٹکنالوجی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دیا جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ تعلیم کے حوالے سے ان مطالبات کی گونج میں مولانا ابوالکلام آزاد کو ملک کا پہلا وزیرِ تعلیم بنایا گیا تھا۔ یہ امر اس بات کا غماز ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم مسٹر جواہر لال نہرو مولانا کی بصیرت کے قائل تھے۔ مولانا نے اپنی وزارت سنبھالتے ہی بھارت کے شعبہ تعلیم میں جوہری تبدیلیوں کے عمل کا آغاز کردیا تھا۔ آزادی کے ڈھائی ماہ بعد ہی انھوں نے 4 نومبر ۱۹۴۸ کو اعلیٰ تعلیم (یونیورسٹی ایجوکیشن) کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن ’’یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن‘‘ قائم کیا تھا۔ اس کمیشن کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیم کے میدان میں اصلاحات کے لیے حکومت کو تجاویز پیش کرنا تھا۔

یہ ملک کا پہلا کمیشن تھا۔ اس کا قیام اس وقت کی حکومت اور ملک کے لیڈران کی اس فکر کا مظہر تھا کہ جو طلبا یونیورسٹیوں میں اس وقت زیر تعلیم تھے وہ چند برسوں بعد یونیورسٹیوں سے فارغ ہوکر ملک کے مختلف شعبوں میں نظم و نسق کی باگ ڈور لینے والے تھے۔ اس لیے انھیں وہ ضروری نظریہ اور تربیت فراہم کرنی تھی جو انھیں ایک نئے بھارت کی تعمیر کے خاکے میں رنگ بھرنے کی صلاحیت عطا کرسکے۔کمیشن کے قیام پر مولانا آزاد نے افتتاحی تقریر کی ،جس میں انھوں نے قیامِ کمیشن نیز اس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ اس تقریر کا ریکارڈ ہم نے حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی ہاتھ نہ آئی۔

اس کمیشن کا یوں تو سرکاری نام ’’یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن‘‘ ہے لیکن اسے ڈاکٹر رادھا کرشنن کمیشن بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ ڈاکٹر سرپلی رادھا کرشنن اس کے چیئرمین تھے۔

کون تھے ڈاکٹر رادھا کرشنن: ڈاکٹر رادھا کرشنن کا جنم اس وقت کی ریاست مدراس کے ایک گاؤں تروتنی (Thiruttani) میں ہوا تھا۔ آپ بنارس ہندو یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ جب وہ وائس چانسلر تھے انھی دنوں انھیں یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں موصوف بھارت کے نائب صدر اور پھر صدر کے عہدے کے لیے بھی منتخب ہوئے تھے۔ 5 ستمبر 1888 کو ان کی ولادت ہوئی تھی۔1960میں ان کے چند طلبا نے ان کی سالگرہ کی تقریب منعقد کی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر رادھا کرشنن نے کہا کہ میری یومِ پیدائش کو ’’ٹیچرس‘‘ کے نام کیا جائے تو مجھے مسرت ہوگی چناں چہ 1962 سے 5 ستمبر کو ’’ٹیچرس ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ اس کمیشن کے کل 10 ممبران تھے۔ 6 ہندوستانی اور 4 بیرونِ ملک سے۔ 6 بھارتی ارکان میں ڈاکٹر ذاکر حسین بھی شامل تھے۔ اس وقت ڈاکٹر ذاکر حسین جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر تھے۔ ان دنوں ذاکر حسین صاحب کی بڑی پذیرائی ہورہی تھی، اس لیے کہ انھوں نے جامعہ کو بند ہونے سے بچا لیا تھا۔ کمیشن نے تفویض شدہ ذمہ داری کو ایک سال کے وقفہ میں مکمل کرکے 24 اگست 1969 کے دن رپورٹ حکومت کو سونپ دی تھی۔

کمیشن نے رپورٹ کی تیاری میں 600 ماہرین تعلیم سے مشورے حاصل کیے تھے۔ 705 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے دو حصہ ہیں۔ پہلے حصہ میں 18 ابواب ہیں۔ جس میں رپورٹ اور تجاویز شامل ہیں جب کہ دوسرے حصے میں 10 ضمیمے ہیں۔ اکثر ضمیموں میں اعداد و شمار اور جدول شامل ہیں۔ کمیشن نے مشاورت کے لیے جن چنندہ یونیورسٹیوں کا دورہ کیا تھا ان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد کا نام بھی شامل ہے۔

تعلیم کے میدان میں سرگرم افراد بالخصوص وہ ماہرین جو پالیسی انٹروینشن میں دل چسپی رکھتے ہیں انھیں کمیشن کی مکمل رپورٹ کا مطالعہ کرلینا چاہیے۔ یہ رپورٹ بہ زبان انگریزی taleemiboard.org پر بھی دست یاب ہے۔

اس رپورٹ پر بعض سخت تنقیدیں اس پہلو سے کی گئی ہیں کہ اس میں ہندو فلسفہ زندگی کی بزور ترجمانی کی گئی ہے اور سرو دھرم سمبھاوکے فلسفے کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ ایک مستقل بحث کا موضوع ہے، اس مضمون میں ہم اس سے صرف نظر کرتے ہوئے دیگر امور کا جائزہ لیں گے۔

ہم اس مضمون میں اس رپورٹ کے چند اہم ابواب پر روشنی ڈالیں گے۔

1۔ اس رپورٹ کا پہلا باب بھارت میں تعلیم کی تاریخ کو پیش کرتا ہے۔ اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اول بھارت میں تعلیم کی تاریخ 1857 سے قبل اور دوم 1857 کے بعد۔ اس جائزے میں رپورٹ کہتی ہے کہ ’’ہماری موجودہ یونیورسٹیوں کو قدیم بھارت کے تعلیمی مراکز سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ جدید یونیورسٹیاں ان قدیم مراکز سے بہت کم تجربات حاصل کر سکتی ہیں۔‘‘ یہ خیال ملک کے پہلے تعلیمی کمیشن کا ہے۔ جب کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اس کے برخلاف کہتی ہے۔ وہ یہ کہ ہمیں قدیم ہندوستان کے تعلیمی مراکز جن میں نالندہ اور شکشا شیلا شامل ہیں انھیں نمونہ اور معیار بنانا چاہیے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کا جب جائزہ پیش کیا جارہا تھا تو ہمارے علم کے مطابق کسی بھی تبصرے نے ڈاکٹر رادھا کرشنن کمیشن کی رپورٹ کے اس حصہ کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا تھا۔

کمیشن نے ایک پیراگراف میں قرون وسطیٰ (مسلم دورِ حکومت) میں تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ میں تحریر ہے کہ ’’محمڈن حکمرانوں نے لاہور، دہلی، رام پور، لکھنؤ، الہ آباد، جونپور، اجمیر اور بیدر میں کالجز (مدرسوں) کے قیام کے لیے ہمت افزائی کی تھی۔‘‘ اس رپورٹ میں اس دور کی تعلیمی خدمات کا مزید تذکرہ کچھ یوں ملتا ہے: ’’شیر شاہ، جو بعد میں بادشاہ ہوا، اس نے جونپور کے مدرسہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اس نے وہاں تاریخ، فلسفہ، عربی و فارسی ادب کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان مدارس کا نصاب اس دور کے یورپی تعلیمی مراکز کے برابر تھا۔ نصاب میں گرامر، منطق، قانون، جیومیٹری، علم فلکیات، فلسفہ، مابعد الطبیعات، مطالعہ مذاہب شامل تھے۔ شاعری سرور حاصل کرنے کا ذریعہ تھی۔ ان میں سے چند مدارس ایک یا دو مضامین کی تعلیم کے لیے مختص تھے۔ جیسے رامپور منطق اور علمِ طب کے لیے مشہور تھا تو لکھنؤ مطالعہ مذاہب کے لیے جب کہ لاہور ریاضی اور علم فلکیات کا مرکز تھا۔‘‘ رپورٹ میں قرونِ وسطیٰ کا اتنا تعارف یوں تو حقیقت سے بہت کم ہے تاہم رپورٹ میں درج دیگر ادوار کے تذکرے کے اعتبار سے متناسب محسوس ہوتا ہے۔ جب کہ موجودہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں قرونِ وسطیٰ میں تعلیم کاکسی بھی قسم کا تذکرہ نہیں ملتا۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے ڈرافٹ پر جب حکومت نے تجاویز طلب کی تھیں، اس وقت یہ حوالہ دیا جاسکتا تھا۔ لیکن شاید ایسا نہیں ہوسکا۔ ہم اسے ملت کی کمزوری پر محمول کرنے کے بجائے اس خوش گمانی سے کام لیں گے کہ اس کا حوالہ امت کے دانشوروں نے اس لیے نہیں دیا کہ موجودہ حکومت سنتی نہیں بلکہ اپنی بات، من سے سنانے پر یقین رکھتی ہے۔

تاریخی پس منظر میں برٹش راج میں ہونے والی تعلیمی سرگرمیوں کا معروضی جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں کمیشن نے عیسائی مشنری کی جانب سے انجام دی گئی تعلیمی خدمات کو بھی ریکارڈ کیا ہے۔رپورٹ کے اس حصے میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کا بھی ذکر ملتا ہے۔ جب کہ اس کے برخلاف قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں برطانوی حکومت کے دوران تعلیم کے میدان میں کی گئی خدمات کا تذکرہ ندارد ہے۔ دورِ قدیم سے چھلانگ لگا کر قومی تعلیمی پالیسی نے سیدھے 2020 میں قدم رکھا ہے۔ تاریخ پر پردہ ڈالنا، تاریخ کو مسخ کرنا اور مخصوص تاریخ کے گوشوں کو منظر عام پر لانا قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تخلیق کاروں کا شیوا معلوم ہوتا ہے۔

2۔ یہاں ہم کمیشن کی رپورٹ کے 18 ابواب میں سے چند منتخب نکات پیش کر رہے ہیں۔ ان نکات کے مطالعہ سے یہ بھی اندازہ ہوگا کہ بھارت جو کبھی تمام مذاہب کے احترام اور تکثیری سماج کو فروغ دینے کی پالیسیوں پر کاربند تھا آج اس مقام پر پہنچا ہے جہاں صرف ایک کلچر کی بالاتری کی بات ہی نہیں کہی جاتی ہے بلکہ اسے نافذ بھی کیا جانے لگا ہے۔

۱۔ دوسرا باب یونیورسٹی کی تعلیم کے مقاصد کے بارے میں ہے۔ اس میں پہلا عنوان ہے ’’نیو انڈیا‘‘ نیا بھارت۔ یعنی موجودہ بھارت 15 اگست 1947 میں وجود میں آیا۔ اس نئے ملک کا سماج نیا، مزاج نیا، تعلیم نئی اور معیشت بھی قدیم بھارت سے جدا ہے۔

۲۔ یونیورسٹی کی تعلیم میں طلبا کے اندر یہ شعور بیدار کیا جائے کہ ان کی زندگی کا ایک مقصد ہے۔ ( یہ اور بات ہے کہ اس مقصد کی وضاحت اس رپورٹ میں نہیں کی گئی۔ اس کمیشن کے ناقدین نے اس کمزوری کی طرف نشان دہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کمیشن نے بالخصوص مذہب اور اخلاق کی تعلیم کے سلسلہ میں واضح تجاویز پیش نہیں کیں۔)

۳۔ ہمارے قدیم اساتذہ مضامین کے ساتھ حکمت بھی سکھایا کرتے تھے۔ ان کا مقصد تعلیم کے ذریعہ محض معلومات پڑھا دینا نہیں ہوتا تھا بلکہ زمین پر رونما ہونے والے حقائق کے ذریعہ طلبا میں معرفت پیدا کرنا ہوتا تھا۔ رپورٹ میں انگریزی حرف وزڈم (wisdom) کے بعد قوسین میں معرفت لکھا ہے۔ اسی پیراگراف کے اختتام پر یہ فقرے لکھے ہوئے ہیں:

معرفت کیا ہے؟ تعلیم میں گم ہوگئی

تعلیم کیا ہے؟ معلومات میں گم ہوگئی

۴۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ چھ سال کے دوران ہٹلر نے جرمن نوجوانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ ہم کس طرح کا سماجی نظام چاہتے ہیں، اس کے مطابق ہمارے تعلیمی نظام کے لیے رہ نمایانہ خطوط فراہم کیے جائیں۔‘‘

ہٹلر کے ذکر کے بعد کمیشن کا یہ کہنا کہ ہندوستانی سماج کی تشکیل کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیمی نظام وضع کیا جائے۔ یہ بات آج سے 70 سال پہلے کہی گئی تھی لیکن آج بھی یہ اتنی ہی اہم ہے جتنی اس وقت تھی بلکہ آج اس بیان کی اہمیت دوبالا ہوگئی ہے۔

۵۔ چوں کہ تعلیم عقل اور روح کی تربیت چاہتی ہے اس لیے علم اور معرفت دونوں کو تعلیم کے مقاصد میں شامل ہونا چاہیے۔

۶۔ بھارتی روایات کے مطابق تعلیم کومحض معاش کے حصول کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی یہ فکر کی بالیدگی کا ذریعہ ہو اور نہ ہی صرف شہری پیدا کرنے کا نظام ہو بلکہ یہ روح کی تربیت و تزکیہ کا ذریعہ ہو تاکہ انسان حقیقتوں کا ادراک حاصل کرکے معروضات کو اختیار کرسکے۔ علم اسے ایک نیا جنم دے۔ اس کے لیے سنسکرت فقرہ ’’دیویتیا جنما‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں درج ان جملوں سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کمیشن، انگریزوں کی روحانیت سے عاری تعلیمی پالیسی میں روحانیت، مقصدیت اور عرفان جیسی خصوصیات کو داخل کرانے کا قائل تھا۔ لیکن یہ مقاصد صرف پالیسیوں کی زینت بن کر رہ گئے اور ہمارا تعلیمی نظام آزادی کے بعد سے اب تک عملاً ’’مارکس وادی‘‘ ہے۔ (مارکس یعنی نمبرات، مارکسی یعنی نمبرات ہی کے اطراف گردش کرنے والا۔ یہ نہیں پرکھا جاتا کہ طالب علم نے کتنا علم و عرفان حاصل کیا ہے بس یہ دیکھا جاتا ہے کہ طالب علم نے کتنے نمبرات حاصل کیے ہیں۔)

3۔ مذہب کی تعلیم: اس کمیشن نے آٹھویں باب میں مذہب کی تعلیم کے حوالے سے تفصیلی بحث کی ہے۔ اس نے دستور ساز اسمبلی میں ہوئے مباحث کا بھی حوالہ دیا ہے۔ مندرجہ ذیل نکات کو ہم نے دستورکی ڈرافٹ کمیٹی کے صدر بی آر امبیڈکر کے دلائل سے اخذ کیا ہے۔ اس سے دوباتیں واضح ہوتی ہیں:

۱۔ سرکاری یا سرکارکے فنڈ سے چلائے جانے والے تعلیمی اداروں میں کسی بھی مذہب کی تعلیم نہیں دی جاسکتی ہے۔ اس لیے کہ اس ادارے کی مالی ضروریات حکومت اپنے خزانے سے پوری کرتی ہے۔ خزانے میں پیسہ ٹیکس کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک فرد ایک مخصوص مذہب کا پیروکار ہے تو وہ کیوں دوسرے مذہب کی تعلیم کے لیے مالی مدد کرے۔ یہ عمل ٹیکس کی وصولی کے بنیادی مقاصد اور منطق سے مغائر ہے۔

ڈاکٹر امبیڈکر کا یہ بھی کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں میں مخصوص مذہب کی تعلیم ملک کی ٹیکس پالیسی اور ٹیکس سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

۲۔ دوسری بحث ڈاکٹر امبیڈکر نے یہ کی تھی کہ ایسے تعلیمی ادارے جو حکومت کے تعاون سے نہیں بلکہ نجی ادارے، ٹرسٹ اور سوسائٹیاں چلاتی ہیں ان میں مذہب کی تعلیم کا انتظام کیا جاسکتا ہے تاہم طلبا کو یا ان کے والدین کو اس طرح کے انتظام میں شرکت کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دستور ہند کے اس قانون سے ٹکرانے والی بات ہوگی جس کا تذکرہ (مسودہ) دستورکے آرٹیکل 21 میں کیا گیا ہے جو ضمیر کی آزادی کے بارے میں ہے۔

اس بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ تعلیمی ادارے جو اپنی مالی ضرورت خود اپنے طور پر پورا کرلیتے ہیں اور حکومت کے مالی تعاون سے نہیں چلتے ہیں وہ اپنے اداروں میں مذہبی تعلیم کا انتظام کرسکتے ہیں۔ لیکن گذشہ سالوں بعض تعلیمی اداروں کو اس لیے پریشان کیا گیا تھا کہ وہ اپنے اسکولوں میں مذہب کی تعلیم دے رہے ہیں۔

مزید تحقیق پر یہ بات واضح ہوئی کہ جو تعلیمی ادارہ جس تعلیمی بورڈ سے ملحق ہے اسے اس بورڈ کے ضوابط اور نصابِ تعلیم کو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ دستور ساز اسمبلی میں ہوئے مباحث کے دوران ڈاکٹر امبیڈکر نے یہ کہا تھا کہ نصابِ تعلیم اور نصابی کتب میں کسی ایک مذہب کو فروغ دینے والا مواد شامل نہ ہو، البتہ معلومات فراہم کرنے کی غرض سے یا اعلیٰ درجوں میں تحقیق کے لیے مذہبی مواد کو نصاب میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ امبیڈکر کی یہ وضاحت ہندوستانی سماج کے تناظر میں مناسب محسوس ہوتی ہے۔ ایک دوسرے مقام پر امبیڈکر اپنے اس موقف کی وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر سرکاری اسکولوں میں مذہبی تعلیم کی آزادی دی جاتی ہے تو یہاں آباد مختلف مذہبی اکائیوں کی حق تلفی ہوگی۔ ایک غالب مذہب اپنے مذہب کو مزید غلبہ عطا کرنے کی کوشش کرے گا۔

بھارت میں بارہویں جماعت تک کی تعلیم کے لیے نصاب اور کتب کی تیاری کا ذمہ( NCERT National Council of Educational Research and Training) پر ہے۔ یہی ادارہ کتب کی تیاری کے لیے خطوط کار تیار کرتا ہے۔ اس کے خطوط کار میں کسی بھی مضمون کی کتاب میں مذہبی عقائد کو شامل کرنا یا مذہبی عقیدے کی تبلیغ کرنا غیرقانونی ہے۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اخلاقیات کے درس، روحانیت اور انسانیت پیدا کرنے کے لیے چند اختراعی طریقوں پر بھی بحث کی ہے جن میں دو اہم درج ذیل ہیں۔

۱۔ عالمی مذہب: کمیشن کا یہ خیال ہے کہ تمام مذاہب کی ان تعلیمات کو یکجا کیا جائے جومذاہب کے بنیادی عقائد کے بجائے اخلاقیات کے درس سے متعلق ہیں۔ اس کی ایک کتاب تدوین کی جائے اور یونیورسٹی میں پڑھائی جائے۔

۲۔ بھارتی مذہب: کمیشن نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ ’’بھارتی مذہب‘‘ کے عنوان کے تحت ایک کتاب ترتیب دی جائے جس میں مختلف مذاہب سے ان باتوں اور اخلاقیات کو نوٹ کرلیا جائے جن پر تمام کا اتفاق ہو۔ مزید اس میں دستورِ ہند کے دیباچہ (Preamble) سے اخذ شدہ اوصاف کو شامل کیا جائے تاکہ ہم ہندوستانی دستور کے مطابق ملک کو مطلوب شہری تیار کرسکیں۔ ایک مقام پر ’’فطری مذہب‘‘ کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔ فطری مذہب سے مراد یہاں وہ اعلیٰ انسانی اخلاق ہیں جن کی کسی بھی مذہب نے نفی نہ کی ہو۔

کمیشن نے مذہب کی تعلیم اور اخلاقی درسیات پر طویل بحث کے بعد مرکزی حکومت کو چار نکاتی سفارش پیش کی:

  1. اول کلاسس کے آغاز میں چند منٹوں کے لیے میڈیٹیشن (meditation) کے لیے وقت فارغ کریں۔ اس دوران طلبا میڈیٹیٹ (meditate) کریں۔ اس کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ میڈیٹیشن کس نوعیت کا ہو۔ ہاں البتہ اس کی غرض و غایت پر بحث کرتے ہوئے کمیشن نے لکھا ہے اس کا مقصد طلبا میں روحانیت پیدا کرنا ہوگا۔ کیا کمیشن کا اشارہ ’’یوگا‘‘ کی طرف تھا؟
  2. دوسری سفارش کمیشن نے یہ کی تھی کہ تین سالہ گریجویشن کے پہلے سال ’’بانیانِ مذاہب‘‘ کی زندگی کے متعلق ضروری باتیں پڑھائی جائیں۔ جن شخصیات کا ذکر کمیشن نے کیا تھا ان میں حضرت محمد ﷺ کا نام بھی شامل تھا۔ اگر اس سفارش کو قبول کرلیا جاتا تو ملک کا تعلیم یافتہ نوجوان کم سے کم مذاہب کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہوجاتا اور آج جو غلط فہمیوں کا بازار گرم ہے، اس میں کچھ کمی تو ضرور ہوجاتی۔
  3. تیسری سفارش یہ تھی کہ گریجویشن کے دوسرے سال میں مختلف مذاہب کی بنیادی کتابوں سے مذاہب کی بنیادی تعلیمات کو پڑھایا جائے۔
  4. چوتھی سفارش میں یہ تجویز شامل تھی کہ مختلف مذاہب کی تعلیمات سے جڑے مسائل پر بحث ہو۔ یہ گویا مذاہب کے تنقیدی مطالعہ کی تجویز تھی۔ اس تجویز کے علاوہ اوپر کی تجاویز قابلِ عمل تھیں لیکن ان پر کوئی عملی پروگرام بن نہیں سکا۔ بعض مبصرین کا خیال یہ ہے کہ ان تجاویز کی مخالفت کمیونسٹ دانشوران اور برہمن لابی نے کی تھی۔

الغرض ڈاکٹر رادھا کرشنن کمیشن نے مذہب اور اخلاقیات کی تعلیم پر تفصیلی بحث کی ہے۔ ان مباحث میں سے اکثر عناوین موجودہ سماج کی اصلاح کے لیے ضروری محسوس ہوتے ہیں اور ان پر دوبارہ بحث تعلیمی اداروں اور دیگر پلیٹ فارموں پر ہونی چاہیے۔ بالخصوص یہ کہ ہم کس طرح کے شہری تیار کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جو لنچنگ کی تائید کرے اور اس کے حق میں دلائل پیش کرے یا وہ جو لنچنگ کو غیرانسانی عمل ہی نہیں بلکہ ظلم و بربریت سمجھے۔

تعلیم گاہیں بڑی تیزی سے نفرت پھیلانے والے مراکز بنتی جارہی ہیں۔ ہم ’’اپنی‘‘ تعلیم گاہوں میں اخلاق کی تعلیم کے لیے متفکر تو رہتے ہیں لیکن عام تعلیمی اداروں کے بارے میں ہمیں کم ہی فکر ہوتی ہے۔ آج وہاں سے جو شعلے نکل رہے ہیں، اگر ہم توجہ نہ کریں گے تو وہ ملک کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس مضمون کے آخر میں یہ درخواست ہے کہ طلبا اور تعلیم گاہوں میں اخلاقی بیداری کے منصوبوں پر غور کرتے رہیں اورہمیں اپنی تجاویز سے نوازیں تاکہ ہم ایک مربوط پروگرام وضع کرکے ان صفحات میں شائع کرسکیں۔

اگست 2021

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau