آپ کی رائے

قارئین

تحریک اسلامی ہند نے اپنے آغاز ہی سے دعوت کے فریضے کو اپنے پروگرام میں شامل رکھاہے۔ بانی جماعت نے تقسیم ملک سے چند دن قبل خطبۂ مدراس میں بہت اہم ہدایات دی تھیں۔ بہرحال دعوت کے اسی مقصد کے تحت تحریک اسلامی ہند نے اپنے لٹریچر اور قرآن مجید کو ملک کی تمام اہم زبانوں میں منتقل کیا۔ اس طرح برادران وطن میں دعوت کے کام کوآسان بنادیاگیا۔ آئے دن ترجمہ قرآن کے تعارفی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں، ان پروگراموں اور دعوتی کوششوں میں برادران وطن کی خدمت میں ترجمہ قرآن پیش کیاجاتاہے۔ خبروں میں جو اِن سرگرمیوں کے تاثرات پیش کیے جاتے ہیں ان میں میری رائے میں کچھ تصنع،خوش فہمی یا مبالغہ نظرآتا ہے۔خاکسار نے ناظم ڈویژن ہونے کی حیثیت سے اپنے زمانے میں کئی مقامات پر ترجمہ قرآن کے تعارفی پروگرام منعقد کیے ہیں اوراس کے علاوہ میسا (Misa)میں گرفتاری کے زمانے میں متعدد بار جیل میں بھی RSSکے صدر دیورس صاحب کو ہندی ترجمہ قرآن کا مطالعہ کروایا ہے۔ ایک سیاسی رہنما Ratansing Rajda ﴿جو بعد میں ممبئی سے ایم پی منتخب ہوئے تھے﴾ ایک روز کہنے لگے کہ جب سے آپ آئے ہیں ہرٹیبل پر میں ہندی ترجمہ قرآن دیکھ رہاہوں۔؟ حکمت عملی کا تقاضا یہ ہے کہ ترجمہ قرآن سے قبل کچھ بنیادی کتابوں کے ذریعے سے اسلام کے پیغام سے متعارف کرادیاجائے تاکہ مدعو اسلام سے واقف ہوجائے اور قرآن کا مطالعہ کرنے کے لیے اس کے اندر دل چسپی پیداہو۔

مجھ سے ایک کالج کے پرنسپل صاحب نے کہاکہ ترجمہ قرآن میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتا۔ اس لیے اگر اس کی ہندی تفسیر مل سکتی ہوتو منگوادیجیے میں اس کو خرید لوںگا۔ میں نے موصوف کو شمس پیرزادہ صاحب کی تفسیر دعوت القرآن کی جلدیں منگواکر دیں۔ موصوف نے وہ بھی خرید لیں۔ موصوف کو پروگرام میں جب بھی بلایاجائے وہ تشریف لاتے ہیں۔

ایک صاحب جو ایک کل ہند جماعت کے نائب صدر ہیں۔ کالج کے ریٹائرڈ پرنسپل ہیں۔ پی ایچ ڈی بھی کیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بھی ایک رفیق جماعت سے بات کہی تھی کہ قرآن کا ترجمہ پڑھ کر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجھے کوئی اس کو پڑھ کر سمجھائے تو بہتر ہوگا۔ ان صاحب کو قرآن سمجھانے کے لیے تحریک اسلامی ہند کے اہل علم اور دانشوروں کی ایک ٹیم لگادی گئی تھی اور یہ رائے قائم کرلی گئی کہ ’وہ جلد آرہے ہیں۔‘جب اس ناکارے نے یہ بات سنی تو کہاکہ وہ ادھر نہیں بدھ مت کی طرف جائیں گے۔ بعد میں ایک ملاقات میں انھوں نے اس کا اظہاربھی کردیا۔

رپورٹوں کودیکھ کر مجھے ایک خدشہ لگارہتا ہے کہ یہ سلسلہ کہیں ترجمہ قرآن کو ہینڈبل کی طرح تقسیم کرنے تک نہ پہنچ جائے۔ اس میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ میری رائے میں جو صاحب ترجمہ لیناچاہتے ہیں ان کو رعایتی قیمت لے کر دے دینا چاہیے۔ ہر وقت تحفے میں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ خریدی ہوئی چیز کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

مندرجہ بالا تحریر کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس میدان میں کام کرنے والے حضرات افراط و تفریط کے بجائے اپنا توازن برقرار رکھیں اور مایوسی کا شکار نہ ہوں۔

غلام رسول دیشمکھ،انجمن روڈ،بھساول،

 مکرمی!

جماعت اسلامی ہند قرآن اور سیرت کی روشنی میں تین بڑے اہم کام انجام دیتی ہے۔ دعوت دین، اقامتِ دین اور خدمت خلق۔ دعوت دین کے عملی تقاضے یہ ہیں کہ لوگوں کے ساتھ مل کر انفرادی اور اجتماعی طورپر توحید کی دعوت پیش کی جائے اور شرک کا ابطال کیاجائے۔ یہ کام اجتماعات ، انفرادی ملاقاتوں ، تقسیم لٹریچر کے ذریعے ہورہاہے اور سعید روحیں جن کے دلوں میں بات اتر جاتی ہے دائرۂ اسلام میں داخل ہوجاتی ہیں۔ جماعت ان کی اصلاح و تربیت کا انتظام کرتی ہے اور اس کے لیے ادارے بھی چلاتی ہے۔ خدمتِ خلق کے بھی بہت سے کام ہورہے ہیں۔ خصوصاً فسادات کے بعد ریلیف تقسیم کرنے کاکام جماعت بڑے منظم انداز میں کرتی ہے۔ ہزاروں فسادات ہوئے اور لاکھوں لوگ گھر سے بے گھر ہوگئے ، ان کے مکانات اور دُکانیں جلائی گئیں اور خواتین کی بے حرمتی کی گئی ایسے حالات میں جماعت کے کارکنوں نے گھر گھر جاکر سروے کاکام کیا اور اہل خیرحضرات سے رقوم حاصل کرکے فساد زدہ شہروں میں ریلیف فراہم کرکے خانما برباد لوگوں کی مدد کی اور عدالتوں میں دائر کیے گئے مقدمات کی پیروی بھی کی جاتی ہے۔ آزادی کے بعد سے ہندستان میں فسادات کاایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے۔ دیانتداری، ایمانداری ، ہمت اور جرأت سے جماعت کے کارکن منظم انداز میں ریلیف پہنچانے کا کام کرتے ہیں اور ملت اسلامیہ جماعت کے کاموں کو بہ نظر تحسین دیکھتی ہے۔

مگردعوت اور خدمت خلق کے کاموں کا اس قدر بوجھ جماعت پر ہے کہ وہ اقامتِ دین کا کام بہ حسن و خوبی انجام نہیں دے پارہی ہے۔ اس کے جو عملی تقاضے ہیں، وہ ادھورے رہ جاتے ہیں۔ باطل نظام سیاست نے تمام اہل ملک بشمول مسلمانوں کو تہہ و بالاکردیا ہے۔ بدعنوانی، رشوت خوری، اقربا پروری، فرقہ واریت، اسلام اور مسلمانوں سے تعصب، عورتوں پر مظالم، زنابالجبر، دیگر جرائم کی بہتات ہے، سود، شراب ، بے پردگی اور عریانیت جیسی بُرائیاں روز افزوں ہیں اور اس پر مستزاد بے روزگاری، مہنگائی، بچہ مزدوری وغیرہ جیسی بُرائیاں عام ہیں۔ جب تک حکومتی نظام اسلامی قانون پر نہیں چلے گا، ان بُرائیوں کا خاتمہ ناممکن ہے معاشرہ اس حد تک پریشان ہے کہ وہ دعوت دین قبول کرنے سے پہلے اسلام کے نظام سیاست کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوسکتاہے۔ مگر ہم لوگ معاشرے کے اس کرب سے بے تعلق رہتے ہیں۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بڑے پیمانے پر اسلامی ریاست کے خد وخال مختلف زبانوں میں پیش کریں، خلیفہ کا انتخاب، ماضی میں خلفائے اسلام کاکردار، ان کی ایمانداری و دیانت داری کا تذکرہ کریں، انتخاب میں حصّہ لے کر اپنے کچھ نمائندوں کو اسمبلی اور پارلیمنٹ میں بھیجنے کے بجائے موجودہ حکمرانوں سے ملاقاتیں کرکے اسلام کے طریق انتخاب اور طرزِحکمرانی واضح کریں۔ ٹی وی چینلوں میں خلفا کے واقعات پیش کیے جائیں۔ اِن شاء اللہ  ایسی صورت میں ہماری اقامت دین کی منزل قریب سے قریب تر ہوسکتی ہے۔ جمہوریت اور خلافت، انسانی قانون اور اسلامی قانون، دستوری ترمیمات اور اس کی وجوہ اسلامی سزائیں، نکسلزم، کا علاج، سرمایہ داری کے بُرے اثرات وغیرہ جیسے عنوانات پر سمپوزیم ، سمینار اور ورکشاپ رکھ کر وزیروں، قانون دانوں، آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدے داروں کو شرکت کی دعوت دی جاسکتی ہے۔ اس طرح ہم عوام کو یہ بات بتاسکتے ہیں کہ اسلام ہی ایک نسخہ کیمیا ہے جو تمام بُرائیوں کو دور کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحمید مخدومی، گلبرگہ

مکرمی !

آج کل درگاہ حاجی علیؒ  میں عورتوں کے داخلے کا مسئلہ بڑے زوروں پہ ہے۔یہ مسئلہ خالص شرعی ہے۔ مسلمانوں میں زیادہ دلچسپی لینے والا بریلوی طبقہ ہے۔ مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی سے سوال کیا گیاکہ: ’حضور اجمیر شریف میں خواجہ صاحبؒ  کے مزار پر عورتوں کو جانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب دیا: یہ نہ پوچھوکہ عورتوں کامزار پر جانا جائز ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبرکی طرف سے؟ جس وقت گھر سے ارادہ کرتی ہے، لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضۂ انور کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں۔‘ عورتوں کے لیے زیارتِ قبور مکرو ہ ہی نہیں بلکہ حرام ہے۔ ﴿ملفوظات، ج:۲، ص:۱۱۰﴾ اس فتویٰ کا ماخذ اور دلیل یہ حدیث ہے:

’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کرتی ہیں۔‘ ﴿ابن ماجہ، ترمذی، ابودائود، سنائی، مشکوٰۃ﴾

محمد اشفاق حسین، حیدرآباد

محترمی !

زندگی نو کا مطالعہ پابندی کے ساتھ جاری ہے۔ الحمدللہ! سبھی مضامین پسند آرہے ہیں خصوصاًڈاکٹر محمد رفعت صاحب کے اشارات کا مجھے شدّت سے انتظار رہتا ہے۔ ماہ جنوری کے اشارات میں ’محسن انسانیت سے دشمنی کے اسباب‘ کے ذیل میں علمی اور تحقیقی انداز سے یہود ونصاریٰ کی اسلام دشمنی کے نفسیاتی پہلوؤں کا قرآن حدیث کی روشنی میں تجزیہ کیاگیاہے جو کافی توجہ طلب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودخدا کی مبغوض قوم ہے۔ اسلام کے فروغ اور اسلامی بیداری کی لہر سے یہ عناصر خوف زدہ ہیں۔ امت مسلمہ کا فرض ہے کہ اہلِ کتاب اور دوسرے باشندگان خدا تک اسلام کے آفاقی پیغام کو پہنچائے۔ الحمدللہ! کچھ حد تک امت نے اس سمت میں پیش قدمی کی ہے۔ محب اللہ قاسمی صاحب کا مضمون ’صبر اور شکر مومن کے امتیازی اوصاف‘ پڑھ کر ایمان میں تازگی آئی۔ یہ آرزو بیدارہوئی کہ زندگی کی آخری سانس تک انبیاء ی مشن کے لیے سرگرم عمل رہیں۔ ایک مشورہ موجودہ سماج میں اخلاقی بُرائیوں کے سیلاب کے پس منظر میں ہے۔ ان سب بُرائیوں کے فروغ میں فلسفۂ تعلیم کا کیا رول ہے، اس کاجائزہ لینا چاہیے۔ علاوہ ازیں اسلام نے جو متبادل دیا ہے، اس پر اگر اشارات یا دیگر مضامین کے تحت تحریریں آئیں تو بہتر رہے گا۔

رفیق الزماں خاں

﴿09358890209﴾

مشمولہ: شمارہ فروری 2013

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau