آپ کی رائے

قارئین

محترم مدیر ماہ نامہ زندگی نو!          السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

آپ نے زندگی نو کے عام صفحات اختلافی ومتنازع افکار وخیالات کے لیے کھول دیے ہیں۔ پہلے جو پراگندہ خیالی ایک مخصوص گوشے میں تھی، اب وہ بغیر کسی ادارتی نوٹ کے شائع ہوجاتی ہے۔ ابوالکرم عرفان صاحب دعوتی پالیسی کے نکتے ’’برادران وطن شرک والحاد اور دیگر عقائد وافکار ونظریات کے باطل ہونے اور اخلاقی خرابیوں کی مضرتوں سے بخوبی واقف ہوجائیں‘‘ کو لے کر اپنے اعتراض کی عمارت اٹھارہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ کام کرلیا ہوتا تو ہمارا مقام جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا۔ گویا ان کے نزدیک معیار حق یہ ہے کہ داعی حق اپنا برحق ہونا سلاخوں کے پیچھے جاکر بتائے اور اگر یہ مرحلہ نہیں آرہا ہے تو گویا وہ نامراد ٹھہرے گا۔ یہ معیار حق وصداقت انبیائی طریقہ کار کبھی نہیں رہا کہ لامحالہ قیدوسلاسل کا مرحلہ آئے ،تب ہی داعی حق کامیاب وکامران ہے۔ مولانا صدرالدین اصلاحی صاحب نے اس مسئلے میں تحریک اسلامی ہند کے بارے میں اپنے خیالات کااظہار ان الفاظ میں کیا ہے:

وہ ایک ایسے ملک میں کام کررہی ہے جہاں کا دستور اپنے ہر باشندے کو ﴿اپنا پسندیدہ﴾ عقیدہ ومسلک ہی کی نہیں بلکہ اس کی تبلیغ واشاعت اور تنظیم کی بھی معقول حد تک آزادی دیتا ہے۔ اس لیے اس کے سلسلے میں ہجرت اور جنگ وجہاد کا مسئلہ ہی بحث سے خارج ہوجاتا ہے۔‘‘

﴿تحریک اسلامی ہند،باب پنجم’’طریق کار﴾

انبیائی طریقہ دعوت میں باطل قوتوں کو دعوت مبارزت نہیں نظر آتی ۔بلکہ افہام وتفہیم کی راہ اپنائی گئی ہے۔ دعوت موسوی کے ابتدائی مرحلے میں حضرت موسیٰ کو ہدایت دی گئی تھی: اذْھَبْ اِلیٰ فِرْعَوْن اِنَّہ، طَغیٰ اور دعوتی حکمت عملی کے طور پر معجزات کے علاوہ فَقُوْلاَ لَہ، قَوْلاً لیِّئنا﴿نرم لہجے میں بات کرنے ﴾کی ہدایت بھی دی گئی پالیسی اور عملی رویے میں اس سے بڑھ کر اور کیا تطابق ممکن ہے۔ نام نہاد دوٹوک انداز دعوت کے مدعین ذرا غور فرمائیں۔

دعوتی کاموں سے زیادہ خدمت خلق کے کاموں میںانہماک پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ مرحمت ومواسات کی جو بھی دینی اہمیت ہو وہ رضاے الٰہی کے جذبے اور مخلوق خدا کو عیال اللہ سمجھ کر آخرت میں اجر پانے کے نقطہ نظر سے کرنا مطلوب ہے۔ دعوت کے لیے نرم گوشہ محض ایک ثانوی فائدہ ہے۔ مکی زندگی میں اس کا فعال اور موثر مقام تھا۔ دین میں بھی زکوٰۃ کے مصارف میں ’’تالیف قلب‘‘ کی ایک مدضرور ہے۔ فقہا اس کو متروک قراردیں مگر ہر حال میں اس کو ساقط نہیں کہا جاسکتا۔ کہیں نہ کہیں مخصوص حالات میں اس کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ ملت کا خدمت خلق میں بھی ایک اہم حصہ ہے۔ ضرورت مند اہل خاندان پر زکوٰۃ وصدقات کے خرچ پردوہرا اجر ہے۔ صلہ رحمی کا اجر بھی اورمستحق کی مدد کرنے کااجر بھی۔ آخر ان دینی امکانات کو کیوں نظر انداز کیا جائے۔

معاشرتی اصلاح بھی ایک خصوصی اہمیت کا حامل موضوع ہے، جس میں سرگرمی درکار ہے۔ امت مسلمہ کو داعی حق کے مقام پر کھڑا کردینے کے مطمحِ نظر سے انجام پاناچاہیے۔

آخر میں یہ عرض ہے کہ ہم اپنے طریق کار کے لحاظ سے پرامن تبلیغ وتلقین اور اشاعت افکار کے ذریعے مطلوبہ صالح انقلاب لانے کے پابند ہیں اور ان طریقوں کو ممنوع گردانتے ہیں جن سے نقض امن، فساد فی الارض یا فرقہ وارانہ کش مکش برپا ہوتی ہو۔ کیا مضمون نگار اس کے قائل نہیں ہیں۔                                 سید شکیل احمد انور، ۴۹۹، پرانی حویلی ،حیدرآباد

محترمی ومکرمی!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

جنوری ۲۰۱۲؁ء کے شمارے سے قارئین کے خطوط کو شامل کرنے کا دوبارہ فیصلہ آپ نے کیا،خوشی ہوئی۔ پچھلے کئی شماروں میں ’’رسائل ومسائل‘‘ کالم کے تحت اور دوسرے مضامین کے ذریعے پردے کے مسئلے پر کافی گفتگو ہوئی۔ اس کی ایک وجہ بڑی تعداد میں عورتوں کا تحریک سے جڑنا بھی ہے۔ یہ بات خوش آیند ہے کہ اب عورتیں تحریک کا حصہ بن رہی ہیں۔ تحریک بھی افرادی اعتبارسے کافی مقبول ہوچکی ہے۔ اِس اعتبار سے مسائل، ان پر مباحث، تنقید وتبصرہ میں اضافہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ فرشتوں نہیں انسانوں کی تحریک ہے، تحریک بڑھے گی تو مسائل بھی آئیں گے اور دشواریاںبھی آئیں گی۔ لیکن جائزہ مجموعی طور پر ہی لیا جانا چاہیے۔

مسئلہ یہ ہے کہ چہرے کا پردہ ضروری ہے یا نہیں؟ سورۃ احزاب کی اُنسٹھویں آیت میں لفظ ’’جلباب‘‘ استعمال ہوا ہے، جس کا ترجمہ مفسرین نے چادر وغیرہ کیا ہے۔ آخر اس کا کیا مفہوم ہے؟ قرآن اور رسول کی تعلیمات کے سلسلے میں محض الفاظ پر غور کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ تعلیمات کی منشا ومقصد پر بھی نظر ہونی چاہیے۔ کیا ’’جلباب‘‘ اس معنی میں ہے کہ اس سے صرف سر ڈھکنے کا مفہوم لیا جائے؟ مرد بھی سرڈھکاکرتے تھے۔ صرف بالوں پر چادر ڈال دی جائے؟ یا چادر کا سرا چہرے کے اوپر کچھ اس طرح ڈالا جائے کہ پردہ بھی ہو اور چلنے دیکھنے میں کوئی دشواری نہ ہو؟ اب جو موجودہ شکل ہے برقعے کی ﴿چہرے کے پردے کے ساتھ﴾ اور ایک شکل ہے اسکارف والے برقعے کی۔ مشیت خداوندی کو سامنے رکھتے ہوئے ہرذی علم وباشعور اہل ایمان اپنے قلب سے فتویٰ پوچھ سکتا ہے۔

تحریک اسلامی کا جو بنیادی لٹریچرہے، وہ اب بھی اس تحریک کی اساس ہے۔ مسلسل مطالعے کی ضرورت ہے۔ انھی میں سے ایک مولانا مودودیؒ کی کتاب ’’پردہ‘‘ بھی ہے۔ زینب غزالی جب پہلی دفعہ ہندستان آئی تھیں تووہ چہرہ ڈھکا نہیں کرتی تھیں۔ ’’پردہ‘‘کامطالعہ کیا، دوبارہ جب آئیں تو چہرہ ڈھکا ہوا تھا۔ معاملہ قلب کے اطمینان اور حکم خداوندی کی منشائ کا ہے۔

تعلیم انسان کو حق اور باطل کی پہچان بتاتی ہے۔ صحیح معلومات دیتی ہے۔ فیصلے کا شعور اور عمل کا ذوق پیدا کرتی ہے۔ تعلیم وہ علم دیتی ہے جو انسان کو بحث کے ساتھ عمل پر بھی آمادہ کرے۔ شرط یہ ہے کہ تعلیم کی بنیاد علم حقیقی ہو۔ لیکن اسے المیہ کہہ لیں یاحادثہ، جوں جوں رائج الوقت تعلیم سے ہم قریب ہوتے جاتے ہیں، ہماری بزدلی اور بے عملی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے وہ لوگ جسے ہم ’’اَن پڑھ ا ور گنوار‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں، ان کا ایمان ہم سے زیادہ قوی اور مستحکم دکھائی دیتا ہے۔ وہ زیادہ حقیقت شناس دکھائی دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ صرف علم کا نہیں بلکہ ہمارے عمل کا ہے۔ خوف ہمیں حق اور انصاف کی بات کہنے سے روکتا ہے کہ کہیں معاشرہ خود ہمیں موردِ الزام نہ ٹھہرادے۔

انسان غلطیوں کا پُتلا ہے اور تحریک انسانوں ہی کا مجموعہ ہے۔ خامی ذات میں بھی ہوسکتی ہے اور تحریک کے پالیسی پروگرام میں بھی۔ اصل مسئلہ ہے بے وجہ تاویلوں سے اور بے بنیاد دلیلوں سے خامیوں کو صحیح ثابت کرنے کی لاحاصل کوشش ۔ غلط کو غلط کہنے کا مادّہ اہل ایمان میں ہونا چاہیے اور یہی مادّہ اہل تحریک کے اندر بھی ہوناچاہیے۔ اس سے تحریکی مقاصد کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہوتے ہیں۔ انسان اپنی خامیوں کی طرف توجہ کرتا ہے اگر تنقید معقول ہے تو رجوع کرتا ہے ورنہ سمت متعین کی طرف بغیر کسی الجھن اور تردد آگے بڑھ جاتا ہے ۔یہی کام تحریک بھی کرتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ عقل کے ساتھ ایمان واخلاص کا دامن ہاتھ میں ضرور رہے۔ بلکہ پیرہن ہی ایمان واخلاص کا ہوناچاہیے۔ مطمح نظر اخروی کامیابی ہو۔ اللہ روز محشر فرداً فرداً پوچھے گا۔ دوسری طرف تنقید برائے مشغلہ نہیں برائے اصلاح ہونی چاہیے۔ جس میں حسد اورجلن کی نہیں اخلاص کی خوشبو ہوتی ہے۔ ذاتی خلش نہیں ایمانی تڑپ ہوتی ہے۔ کہنے اور منوانے سے زیادہ سننے اور سمجھنے کا مادّہ ہوتا ہے۔ روز آخر جوابدہی کااحساس پنہاں ہوتا ہے۔

اگر تنقید نگار کی عملی زندگی بھی اس کے قول وفعل سے ہم آہنگ ہو تو ان شائ اللہ کوشش بھی نتیجہ خیز ہوگی ۔ ایک بے نمازی اگر ایک نماز پڑھنے والے کی نماز کی اصلاح کی کوشش کرنے لگے تو یہ بات نامناسب اور غیر معقول ہے اور یہ غیر موثر بھی ہوگی۔ردّعمل کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

عفان احمد کامل، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی۔

محترمی ومکرمی!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

’اقامت دین ‘کی تحریک سارے ہندستان میں پھیل رہی ہے۔ ملک کی بیش تر ریاستوں میں تحریک اسلامی کا کارواں رواں دواں ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حالات وکیفیات کے بدلتے ماحول میں مسائل وحوادث سے بھی تحریک ہمیشہ دوچار رہی ہے۔ ہر دور اور ہر زمانے میں الگ الگ مسائل ومعاملات تحریک کو سامنا کرنا پڑا لیکن یہ اللہ کا فضل واحسان ہے کہ ہر آزمائش کی گھڑی میں تحریک کھری ہی ثابت ہوئی۔

’’جنریشن گیپ‘‘ کی باتیں بسااوقات مایوسی دیتی ہیں۔ یوں بھی جنریشن گیپ کا تصور ایک بے بنیاد تصور ہے ۔انبیائ علیہم السلام کی مبارک زندگیوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ عمر کی تفریق انبیائ علیہم السلام کی زندگیوں میں کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ چنانچہ بیشتر انبیائ السلام نے بڑی عمروں میں نبوت کے پرچم کو بلند کیااور مخالف قوتوں سے نبرد آزما ہوئے۔ اسی طرح حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ پورا دور نبوت چالیس سال سے ترسٹھ سال تک پھیلا ہوا ہے۔ نبی کریمﷺ  کی عمر کبھی دعوت دین کی راہ میں کوئی مسئلہ نہیں بنی۔ آپﷺ  کی دعوت پر لبیک کہنے والے اکثر صحابہؓ  نوجوانی یا جوانی کی عمر سے تعلق رکھتے تھے۔ بعد ازاں صحابہ کرامؓ  کے دور میں بھی جب کہ مدینہ کی اسلامی حکومت کو سارے عالم تک وسعت دی گئی، اس میں قیادت وسیادت ہمیشہ بزرگ صحابہؓ  کے حصہ میں آئی اور دوڑ دھوپ وتلوار وخنجر کے جوہر کم عمر صحابہؓ  ہی نے دکھلائے۔

تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے اطراف جو لوگ ہمیشہ جمع رہتے تھے وہ بالعموم نوجوان ہی تھے۔ کبھی ’’جنریشن گیپ‘‘ کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ مولانا مودودیؒ کے رفیق خاص اور جناب نعیم صدیقیؒ اس سلسلے میں فرماتے ہیں:

’’ایمان اور خصوصاً شعوری ایمان جن لوگوں میں کار فرما ہوتا ہے، ان کا تصور شباب وشیب ہی بدل جاتا ہے۔ اہل ایمان میں ’’جوان‘‘ وہ شخص ہے جو باطل کی قوتوں کے آگے جھکنے کے لیے تیار نہ ہو، جوان وہ ہے جو راستے کو مشکل یا طویل دیکھ کر کرکنّی نہ کاٹ جائے اور اپنے پروگرام ہی میں ردوبدل نہ کردے۔ جوان وہ ہے جو عمر اور صحت کے ہر مرحلے میں جتنی قوت کار سے جو کام راہ حق میں لے سکتا ہو عزیمت کے ساتھ اسے انجام دے۔ اس طرح بوڑھا ہر وہ شخص ہے جو طاغوت کا زور دیکھ کر خم کھا جائے۔ جو وقت کے غلط رجحانات کے دباؤ کو سہہ نہ سکے اور ان کی رو میں بہنے لگے اور جو مالی حالت، عمر، یا کسی بھی طرح کی مشکلات کے باعث جتنا اور جیسا کچھ حصہ خدا کے دین کے لیے ادا کرسکتا ہو اتنے سے بھی ہمت ہار دے۔ یہ ہے معیار شیب وشباب۔ خواہ کسی کی عمر کچھ ہی کیوں نہ ہو! کتنے ہی نوجوان ہیں جو درحقیقت بوڑھے ہیں اور کتنے ہی بوڑھے ہیں جو درحقیقت میں جوان مجاہد ہیں۔ کتنے ہی صحت مند مریض اور کتنے ہی مریض صحت مند وتندرست وتوانا ہیں۔ کتنے ہی دولت مند قلاش اور کتنے ہی مفلس غنی ہیں۔ جسم کا بڑھاپا جسم کی بیماری ، جسم کی مجبوریاں الگ شئے ہیں یہ تو انسان کا ’’ٹول باکس‘‘ ہیں ۔اصل سوال یہ ہے کہ انسان کی روح یا شخصیت بوڑھی یا بیمار یا کند یا شکستہ یا مجبور ہوتی ہے یا نہیں۔ روح توانا ہے تو جسم کی معذوریاں اس رعنائی وبرنائی میں فرق نہیں لاسکتیں۔ سومبارک ہیں عمر کے وہ جوان جو دل کے ایک ’’جوانِ توانا‘‘ سے نئی ایمانی و روحانی قوت حاصل کرنے کے درپے ہیں۔‘‘

دوسرا فتنہ جس نے وابستگان تحریک کو مضطرب اور بے چین کررکھا ہے وہ گلوبلائزیشن ، جدیدیت اور ترقی کا فتنہ ہے۔ معاشی ، معاشرتی، سماجی اور سیاسی میدان میں آج کئی ایک مسائل وابستگان تحریک کو مضطرب اوربے چین کررہے ہیں۔ مخلوط تعلیمی ادارے، کال سنٹرس کی نوکریاں، سافٹ ویر کی ملازمتیں، آزادانہ کلچر، فیشن اور بیوٹی کی دھوم دھام، معیشت کی بے لگامی، سود ، انسورنش ،قرض کالالچ، پر تعیش سامان زندگی، اکل وشرب کی بے احتیاطی، اقدار سے محروم سیاست، اصول ونظریات کا فقدان ،مفاد پرستی، رشوت خوری دھوکے دہی اور کمیشن کا ماحول تحریک اسلامی سے وابستہ افراد کو ڈگمگانے لگا ہے۔ مختلف خیالات سننے کو ملتے ہیں! کہیں شراکت، کہیں مفاہمت کہیں لواور دو کی پالیسی، اور کہیں جواز یا عدم جواز کی باتیں۔ آخر ایسے میں وابستگان تحریک کے لیے کون سی راہ صحیح یا مناسب ہوسکتی ہے؟ سید مودودیؒ نے ترجمان القرآن میں واضح کردیا:

’’ کروڑوں مسلمانوں کے اس ملک میں اپنے آپ کو اجنبی اور غریب پاتا ہوں۔ جس جنون میں مبتلا ہوں اس کا مجنوں مجھے کہیں نہیں ملتا، برسوں سے جن لوگوں تک اپنے خیالات پہنچاتا رہا ہوں، ان کے بھی جب قریب جاتا ہوں تو وہ مجھ سے دور نظر آتے ہیں۔ ان کی دھن میری دھن سے الگ ، ان کی گرویدہ گری کے مرکز میرے مراکز گرویدگی سے جدا، ان کی روح میری روح سے ناآشنا، ان کے کان میری زبان سے بے گانہ۔ یہ دنیا کوئی اور دنیا ہے ،جس سے میری فطرت مانوس نہیں۔ جو کچھ یہاں ہورہا ہے اور جن نظریات ، جن جذبات ،جن اغراض ومقاصد اور جن اُصولوں کی بنا پر ہورہا ہے، سب کے خلاف بغاوت کا عَلم بلند کرنے پر میں مجبور ہوں۔ میں اس کے اجزا میں سے بعض کا باغی اور بعض کا حامی نہیں ہوں۔ بلکہ کل کا باغی ہوں۔ میں ترمیم کا خواہشمند نہیں ہوں بلکہ موجودہ زندگی کی پوری عمارت کو توڑ ڈالنا چاہتا ہوں اور اس کی جگہ خالص اسلامی اصولوں پر دوسری عمارت بنانے کا خواہاں ہوں۔‘‘

یہ ہے وہ اصل فکر، مقصد، نصب العین اور نظریہ جس کی علمبردار تحریک اسلامی ہے اختلاط پر مفاہمت پردہ سود وانشورنس، سودی کاروبار کی مختلف شکلوں ، رشوت خوری اور رشوت کی پیش کش عورتوں کی ملازمت ، علاقہ وزبان کے مسائل، جدید دور کے بے مہار اور آخرت کو بھلانے والے وسائل کا استعمال، ترقی وجدیدیت، اسی طرح کئی امور ومسائل پر زمانے سے مفاہمت ، حالات سے مفاہمت کی باتیں آج کل سننے کو ملتی ہیں، نظریۂ اسلامی کی مختلف تعبیریں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اپنی پسند ، مرضی اور نفس کے تقاضوں کے مطابق مسائل ومعاملات طے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرح کی تمام کوششیں انتہائی نامناسب ہیں۔ کم علمی، قرآن وسنت سے عدم واقفیت، عقیدہ ونظریۂ پر پھسپھسا یقین، دنیا کی چمک دمک اور رنگینیوں سے متاثر ہونا اور معمولی مفادات، فوائد اور سہولتوں کی خاطر احکام اسلامی کی تعبیر کرنا ایمان سے محرومی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسلامی نظام حیات کی قرآن وسنت کے مطابق سیدمودودیؒ نے جو تعبیر کی ہے اور تحریک اسلامی نے جسے من وعن قبول کیا ہے اس پر ہرکس وناکس کو لب کشائی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ قرآن وسنت پر عبور حاصل کیے بغیر جزوی مطالعہ اور جدید ڈگریوں اور نٹ ورک کے زعم میں کوئی فرد اسلامی نظریے اور عقیدہ کی من مانی تعبیر اور تشریح کرنے کی کوشش کرے تو اس سے زیادہ نادان کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔                      محمد نصیر الدین، حیدرآباد09848669130:

محترمی ومکرمی!           السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

دس اور گیارہ دسمبر ۲۰۱۱؁ءکو جماعت اسلامی ہند حلقہ آندھرا پردیش کے ارکان کااجتماع ہوا۔ الحمدللہ یہ اجتماع کئی اعتبار سے بہت کامیاب رہا۔ البتہ بعض اعتبار سے ناکام بھی رہا۔ ایک دفعہ مجھے کمیونسٹوں کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ پارٹی کے نہایت اونچے درجے کے لیڈرزمین پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کررہے ہیں۔ ان کی یہ سادگی، بے ساختگی اور اپنے رفقا سے محبت کا بڑا عمدہ منظر تھا۔ جسے میں اپنی جماعت میں نہیں دیکھ سکا۔ تزکیہ نفس اور تطہیر قلب خانقاہوں میں ہی ممکن ہے۔ باطنی اصلاح کی وہ تجربہ گاہیں ہوتی ہیں۔ اس میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں وہ ایک تجرباتی مرحلے سے گزارے جاتے ہیں اور مشق کروائی جاتی ہے۔  ایک طرف آپ خانقاہوں کی مخالفت کریں گے اور وہاں تجربات کے ذریعے سکھائے جانے والے علوم کو محض تقریر کرکے ختم کردیں گے تو نہ تقریر کرنے والے صاحب کی تطہیر قلب ہوگی اور نہ سامعین کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رائی برابر کبرکے پیدا ہونے پر جنت سے محرومی کا خدشہ بتایا ہے۔ آپ دیکھیے ہمارے قائدین کے کھانے، اور رہنے کے لیے aristocratic طرز اختیار کیاجاتا ہے۔ الگ کھانے ، سونے بیٹھنے کا انداز غیر اسلامی ہے۔ سیرت النبی اور سیرت خلفائ میں یہ چیزیں ہم کو نظر نہیں آتیں۔ ہر مقرر کا بار بار اسٹیج پر بیٹھے ہوئے قائدین کا الگ الگ نام لینا، گویا ان کو ایک کریڈٹ دینا ہے اور اگر یہ کریڈٹ بار بار دیاجاتارہے تو اندیشہ ہے کہ انھیں کبر نفس میں مبتلا کردے اور ان کے اندر سے عاجزی اور انکسار کے اعلیٰ اوصاف ختم کردے۔ تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں یہ سب نہیں ہوتا۔ ایک صاحب جو بیان کرتے ہیں وہی اسٹیج پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہاں نہ بڑے بڑے القاب لیے جاتے ہیں اور نہ اُنھیں بلابلا کر اسٹیج پر بٹھایاجاتا ہے۔ دونوں دن قائدین اپنی قیام گاہوں میں آرام واستراحت فرماتے رہے۔ ہونایہ چاہیے تھا کہ وہ عام ارکان کے ساتھ زمین پر نہ سہی کرسیوں پر ہی بیٹھتے۔ حال احوال معلوم کرتے، ارکان کی شخصی کاوشوں کا علم حاصل کرتے جماعت کی پالیسی ، پروگرام، طریقہ کار اور منصوبوں پر تبادلہ خیالات کا موقع دیتے اور ان کے شکوک وشبہات رفع کرتے۔

قائدین کے ہوائی دوروں سے ، سفر کرکے آنے اور سفرکی صعوبتوں کو انگیز کرنے کا دور ہی ختم ہوگیا۔ اب دین کے لیے بجائے قربانی دینے کے احساس سے ہم کنار ہونے کے ایک سرکاری اعزاز سے لطف اندوزی کا سامان ہورہاہے۔ مولانا مسلم صاحب اور مولانا ابواللیث ندوی صاحب کی قربانیوں کا ذکر کرکے اس کا کریڈٹ غیر شعوری پر حاصل کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی ڈالی ہوئی روایت کو اور آگے بڑھایا جاناچاہیے تھا۔ اقامت دین کے نصب العین کو آگے لے جانے کے بجائے پیچھے کی طرف لے جایا جارہا ہے۔

مرکزی شوریٰ کے ارکان ﴿بہ اِستثناے علما﴾ ایسے نہیں ہیں جو ہندستان میں اقامت دین کی تحریک کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ اس کے لیے بہتر طریقہ تھا کہ جماعت کے باہر کے ایسے علما جن کی علمیت کا اعتبار ہے ان کا تعاون لیتے۔ وہ لوگ خواہ اقامت دین کے سلسلے میں مکمل ہم آہنگی نہ رکھتے ہوں مگر ان کا علم اور مشاہدہ گہرا ہوتا ہے اور عوام میں ان کی اِمیج ہمارے ارکان شوریٰ کی امیج سے زیادہ ہے۔ ہم ان سے مشورہ کرسکتے ہیں اور عوام میں اپنی امیج کو بڑھاسکتے ہیں۔

جماعت ایک روٹین طریقہ کار کو اپنا چکی ہے۔ اس سے ہٹنے کو قرآن سنت سے ہٹنے کے مماثل سمجھتی ہے۔ ہمارے بعض ارکان پورا لٹریچر بار بار پڑھ چکے ہیں اخبار دعوت، زندگی نو بھی پابندی سے پڑھتے ہیں۔ خدمت خلق اور دعوتی کاموں میں بھی حصہ لینے میں سماج میں ایک باعزت مقام بھی رکھتے ہیں۔ مگر ان کو اقامت دین کے لیے اب کیا کرنا ہے؟ یہ ایک بڑا اہم سوال ہے۔ آندھرا پردیش کی جماعت نے بڑی محنت اور مشقت اٹھا کر بڑے پیمانے پر اجتماع منعقد کیا ۔ اس اجتماع سے کرناٹک مہاراشٹر اور تمل ناڈو کے ارکان بھی استفادہ کرسکتے تھے۔ ان کی شرکت کو Optionalرکھا جاسکتا تھا۔ چنانچہ بیدر، گلبرکہ، رائچور، نانڈیڑ پر بھنی، کے ایک سوپچاس ارکان شرکت کرسکتے تھے اور آندھرا کے ذمہ داروں کی اچھی تقاریر کو سن کر اپنی اسپرٹ کو تازہ کرسکتے تھے۔ مرحوم عبدالرزاق لطیفی صاحب کے فرزند عبدالرقیب لطیفی کی تقریر سن کر میں مبہوت ہوگیا۔ سکریٹری عبدالعزیز صاحب کی جوشیلی تقریر کو سن کر بلاشبہ ہم ان کو جونیر مولانا عبدالعزیز کہہ سکتے ہیں۔ مولانا محمد جعفر صاحب اپنی شخصیت کے اعتبار سے گو چھوٹے ہیں مگر بڑے اونچے مضامین کو چھیڑتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ان کی تقریر سے توجہ نہ ہٹائی جائے۔ عبدالباسط انور صاحب کا درس بڑا موثر تھا۔ دن میں چار دفعہ وہ انسولین لیتے ہیں، اس کے باوجود تحریک سے ان کے لگاؤ میںکمی نہیں ہے۔ امیر جماعت اپنی آواز کو تیز کرکے قرآنی آیات کے ذریعے تزکیہ فرماتے ہیں توسیدھے دل میں اُترجاتے ہیں۔ ان کی تذکیر کا ایک منفرد انداز ہے۔

ارکان کے سوالات بڑے ہلکے پھلکے قسم کے تھے۔ کسی ایک رکن نے بھی تشکیل تلنگانہ کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا جب کہ آندھرا پردیش کی جماعت نے بہت سرگرمی دکھائی مگر اب تک بھی کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ جماعت پر علاحدگی پسندی کا الزام بھی آیا اور علاقۂ آندھرا کے ارکان کو بھی شکایت رہی۔ میرا احساس ہے کہ اس بارے میں مرکزی قائدین کی صحیح رہنمائی حاصل نہیں ہوسکی۔

ڈاکٹر عبد الحمید مخدومی ﴿ رکن جماعت اسلامی ہند﴾ گلبرگہ

مارچ 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau