آپ کی رائے

قارئین

محترم مدیرِ زندگیِ نو!                                 السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

مارچ کے زندگی نومیں ڈاکٹر غطریف شہبازندوی کامقالہ پڑھا اُنھوںنے فکر مودودیؒکے حوالے سے اسلامی حکومت کے بارے میں اظہارخیال کیاہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں:

v      ’’دوسری طرف اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بعض علمبردار تحریکوں نے حکومت الٰہیہ کے قیام کے کونشانہ بناکر دعوت کاآغاز کیا اور دین کی مجموعی  تعبیراسی نکتے کے تحت کی‘‘۔

v      ’’اسی افراط و تفریط کے مابین مولانا اصلاحی مرحوم نے دعوتِ دین اور اس کے طریقۂ کار پر قلم اُٹھایااور قرآنی نقطہ نظر سے دعوتِ دین  کامکمل فلسفہ مرتب کردیا‘‘۔

v      ’’ دین و سیاست کے مابین ربط و تعلق کی نشان دہی ایک دشوار گزار عمل ہے۔ اسی سلسلے میں ایک رائے وہ ہے کہ جس میں دین کو قریب اسٹیٹ کے معنی میں لیاگیا ہے۔ اس کی ترجمانی مولانا مودودیؒنے اپنی مشہور کتاب میں کی ہے۔

v      ’’ اس سلسلے میں مولانا اِصلاحی کا امتیاز ہے کہ اُنھوںنے اس پُرخطر وادی کو بہت اِعتدال کے ساتھ طئے کیا ہے۔‘‘ ﴿ص: ۷۸، ۷۹﴾

ڈاکٹر صاحب موصوف کی مذکورہ بالا باتوں سے اتفاق نہیں کیاجاسکتا۔ مولانا مودودیؒاور دوسرے قدیم اور جدید متعدد جلیل القدر علمائ نے اسلامی حکومت، اس کی ضرورت و اہمیت، اغراض و مقاصد، اس کے قیام کے طریقۂ کار اور قیام کے بعد اس کے فرائض کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے وہ قرآن و سنت کے عین مطابق، افراط و تفریط سے پاک، اِعتدال اور توازن پر مبنی ہے۔

ڈاکٹر غطریف ندوی کی یہ بات صحیح نہیں ہے کہ ’’دین و سیاست کے مابین ربط و تعلق کی نشان دہی ایک دشوار گزار عمل ہے۔‘‘ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ کچھ لوگ اپنے سوئے فہم یا کسی مفاد کے سبب اسلامی حکومت کے متعلّق صحیح فکر کااظہار نہ کرسکے۔ مولانا مودودیؒنے جماعت اسلامی کی تشکیل سے بہت پہلے ایک خاص تناظر میں لکھاتھا کہ دین کے معنی قریب قریب اسٹیٹ کے ہیں۔ مولانا مودودیؒکے اس قول کو اسلامی حکومت سے متعلق ان کی دوسری بے شمار واضح اور تفصیلی تحریروں کی روشنی میں سمجھنا ہوگا۔ خود مذکورہ عبارت کی اگلی سطور میں دین کے بارے میں وہ سب باتیں موجود ہیں جو ناقدین کے نزدیک صحیح ہیں۔

اگرمولانا مودودیؒنے دین کی سیاسی تعبیر کی ہوتی اور ان کے تصوّر اسلام پر سیاست اور حصول حکومت کا غلبہ ہوتا تو اس کے فطری نتیجہ کے طورپر جماعت اسلامی ہند اپنی تشکیل کے فوری بعد سیاست اور الیکشن میں ضرور حصہ لیتی۔

اس سلسلے کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ کوئی عالم اور باشعور مسلمان جماعت اسلامی کے تصّور اقامت دین کی مخالفت نہیں کرسکتا۔ واقعہ یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلمائ ، مدرستہ اصلاح، جمعیت العلمائ اور امارت شرعیہ بہار وغیرہ کے بانیوں اور بزرگوںکے اسلامی حکومت کے بارے میں وہی تصّورات اور دلائل تھے جو مولانا مودودی کے ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا اشرف علی تھانویؒ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزادؒ، علامہ حمید الدین فراہیؒ، علامہ سید سلیمان ندویؒ، قاری محمد طیب اور مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒوغیرہ نے اپنی کتابوں میں اسلامی حکومت کے بارے میں جو کُچھ لکھا ہے، وہ فکر مودودیؒسے عین مطابقت رکھتا ہے۔ نہ مولانا مودودیؒکاتصور اقامت دین نیا ہے اور نہ ہی اس کے حق میں دئے گئے ان کے دلائل نئے ہیں۔

جب مولانا وحید الدین خاں جماعت اِسلامی کے ایک ممتاز رکن تھے تو اُنھوںنے ماہ نامہ ‘زندگی’ میں ایک طویل مضمون لکھاتھا، جس میں مذکورہ جماعتوں کے اغراض و مقاصد او رعلمائ کے بیانات اور دلائل وغیرہ کی روشنی میں ثابت کیا تھا کہ جماعتِ اسلامی کا تصور اقامت دین کوئی نیا نہیں ہے بلکہ مذکورہ اور دیگر جلیل القدر علمائ اور جماعتیں بھی اِس کے قائل ، حامی اور داعی تھے۔ مولانا خاں صاحب یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ میں اب اس کاقائل نہیں رہا ۔ لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان علمائ نے بھی اپنے تصور حکومت الٰہیہ اور اس کے حق میں پیش کردہ دلائل سے رجوع کرلیا ہے۔ جِس زمانے میں وحید الدین خاں صاحب جماعت اسلامی میں شامل تھے انہوںنے اپنی بعض کتابوں میں فکر مودودیؒکے مطابق اسلامی حکومت کی ضرورت اور افادیت کو موثر انداز میںاُجاگرکیاتھا۔ وہی کتابیں جناب خاں صاحب اب بھی اپنے مکتبہ سے شائع کررہے ہیں۔ جب کہ الرسالہ میں جہاد اور اسلامی حکومت کی مخالفت بھی کررہے ہیں۔ خان صاحب کا یہ تضاد اپنی تردید آپ ہے۔

٭       جہاد اس کے اقسام اور اس کے اغراض و مقاصد اور دین و سیاست کے مابین ربط و تعلق. یہ مسائل مشکل اور گنجلک نہیں بل کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں آسان، عام فہم اور دل و دماغ کو اپیل کرنے والے ہیں۔ موجودہ زمانے میں سید مودودیؒنے اِن مسائل کو انتہائی مدلل اور منظم انداز میں بیان کیا ہے۔

٭         یہاں یہ بات بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ دین و سیاست کے مابین جو رشتہ، ربط اور تعلق قرآن وحدیث کی رو سے پایا جاتاہے مولانا مودودیؒنے اسے کسی افراط و تفریط کے بغیر پورے توازن اور اعتدال کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔ مولانا مودودیؒکے ہاں حکومت برائے حکومت کوئی معنی نہیں رکھتی بل کہ ان کا تصّور  حکومت برائے اسلام اور اِصلاح مسلمین تھا۔ وہ حکومت کی طاقت، اختیارات اور اس کے وسیع ذرائع اور وسائل کو مسلمانوں کی تعلیم و تربیت ، دعوت و تبلیغ اور حدود اللہ کے قیام اور نفاذ کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ایک غیراسلامی حکومت کے ذریعے جو برائیاں اور گُمراہیاں پھیلتی ہیں، ان کا مقابلہ اور ازالہ حکومت                 سے محروم علما اور دینی جماعتیں نہیں کرسکتیں۔ مولانا مودودیؒ کامقصد سوائے اس کے اور کُچھ نہ تھا کہ حکومت کی طاقت کو معروفات کی اِشاعت کے لیے استعمال کیاجائے تاکہ مسلمان اسلام کے حقیقی پیرو اور پابند شریعت ہوجائیں۔

محمد اشفاق حسین

الاوہ بی بی، حیدرآباد

مارچ ۲۰۱۰ کا شمارہ زیرمطالعہ ہے، فی الحال دو مضامین پر تبصرہ مقصود ہے:

ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی کامضمون ’’تحریک اسلامی بدلتے ہوئے حالات میں‘‘اور جناب محمد رافع گیاوی کا مضمون’’تحریک اسلامی کی امتیازی فکرکی بقا‘‘۔

مذکورہ دونوں مضامین کوجو ایک دوسرے کاجواب ہیں آپ نے اپنے موقر ماہ نامہ میں شائع کرکے نہ صرف فِکری غذا فراہم کی ہے بلکہ رہ نمائی فرمادی ہے۔

محمد رافع گیاوی صاحب کے مضمون میں اِس بات کاتذکرہ ہے کہ ’’تحریک اسلامی قرآن وسنت کی اساس پر قایم ہوتی ہے اور اُس کے لیے سب سے اہم داخلی چیلنجز ہوتے ہیں‘‘ اور‘ قومی حقوق و مفادات کے لیے لڑائی لڑنا نہ صرف تحریکی کام نہیں بل کہ اسلامی تحریک کے منافی ہے۔ جو شخص ان کی حصولیابی میں اپنی توانائی صرف کرے گا وہ اس تحریک کی راہ کھوٹاکردے گا’، ‘غور کرنا چاہیے کہ تحریک اسلامی کی اصل شناخت کیاہے۔ شناخت باقی نہ رہے تو فِکری ہم آہنگی، باہمی اعتماد، انشراح صدر، عزم وحوصلہ، جوش و ولولہ اور ایثار و قربانی جیسے اوصاف گم ہوجاتے ہیں۔ جو اس کا قیمتی سرمایا ہے۔ اسلامی کام کے لیے اصل چیلنجزیہی داخلی چیلنجز ہیں۔

مضمون کے اقتباسات سے صاف ظاہر ہوتاہے فاضل مضمون نگار نے نہ تو تحریک اسلامی کو سمجھاہے اور نہ قرآن و سنت سے ہی استفادہ کیا ہے۔ اپنے خود ساختہ خیالات کی بنیاد پر مضمون کو لکھا ہے۔

محترم نجات اللہ صدیقی صاحب کے مضمون ’’تحریک اسلامی بدلتے ہوئے حالات میں‘‘ میں جن خیالات کا اظہار کیاگیاہے وہ موصوف کی دیرینہ فِکرکے مطابق ہیں۔ وہ معروف اور ممتاز دانشور ہیں۔ جن کا شمار تحریکِ اسلامی کے چند ذہین معماروں میں ہوتاہے۔ انھوںنے تقسیم ہند کے بعد ہندستان میں جماعت اسلامی کے رول کو مہمیزدینے اور دستور جماعت اسلامی ہند کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کیاہے۔ اُن کا یہ کہنا ہے کہ ’’اپنی کوششوں کے نتیجے میں ہم کیا کچھ حاصل کرسکیں گے اس بارے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنا چاہیے‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہمیں یہ نہ بھولناچاہیے کہ یہ زندگی امتحان کے لیے ہے۔ ہمیں تعمیری کاموں ، انسانی سماج کی اصلاح، ازالہ ظلم و فساد، قیام عدل پر مامور ضرور کیاگیا ہے۔ مگر یہ فریضہ عاید کرنے والے ہی نے انسانوں کو آزادی اختیار بھی دی ہے اور انھیں اس بات کا اطمینان دلایاہے کہ سچ اور جھوٹ ، اچھے اور بُرے کو الگ الگ واضح کردینے کے باوجود کسی پر جبر واکراہ نہیں کیاجائے گا۔ دوسری تحریکوں کی طرح ہم اپنے مطلوبہ نظام حیات کو بہ ہرحال کسی بھی طریقے سے قایم کردکھانے کا عزم نہیں کرسکتے۔ کیوں کہ نصب العین ہی نہیں طریق کار بھی خدا ہی نے دیا ہے، اس سے تجاوز ممکن نہیں‘‘۔

درحقیقت جماعت اسلامی ہند جس نصب العین کی علمبردار ہے وہ ملک عزیز ہندستان میں اقامت دین ہے۔ جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے جن افراد کو لے کر یہ کام کرنا چاہتی ہے، انھیں تعلیمی، معاشی اور دینی لحاظ سے طاقتور بنانا اور رکھنا بھی ایک اہم کام ہے۔

آزادی ہند کے بعد حکومت کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے سارے باشندوں کو تعلیمی و معاشی اعتبار سے طاقتور بنائے لیکن یہ کام وہ نہیں کرسکی، جس کی وجہ سے عوام مسائل کا شکار ہوگئے اور ملک شدید بحران کا۔

اِن پریشان کُن حالات میں جماعت اسلامی ہند مُلک و ملت کی زبوں حالی اور سماج کے مختلف طبقات کی پس ماندگی دور کرنے کی کوشش کررہی ہے تو اِس پر یہ الزام لگایاجارہا ہے کہ یہ اپنے نصب العین سے ہٹ گئی ہے اور قرآن و سنت کے خلاف عمل کررہی ہے۔ یہ سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ جماعت اسلامی ہند جو کچھ کررہی ہے وہ قرآن وسنت کے عین مطابق ہے۔  والسلام

شبیر حسین، بریدہ سعودی عرب

زندگیِ نوفروری ۲۰۱۰ کے شمارے میں مثالی امیر مقامی کے مضمون میں فاضل مصنف نے کہاہے کہ’’اسلامی اجتماعیت میں امیدواری حرام ہے‘‘﴿ص:۳۳﴾ جب کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صالحین کی حسب ذیل دعا کاذِکر کیا ہے:

وَالَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّتِنَا قُرَّۃَ أَعْیُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اماماؐ﴿الفرقان: ۴۷﴾

’’جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کاامام بنا‘‘

سورۃ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام، وقت کے بادشاہ سے ان الفاظ میں اپنی صلاحیت کا ذکر کرتے ہیں

وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

’’یوسف نے کہا: ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے، میںحفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں‘‘۔

حضرت موسیٰ اپنے بھائی کے سلسلے میں وزارت یانیابت کی درخواست باری تعالیٰ کی جناب میں پیش کرتے ہیں:

واجعل لی وزیراً من اھلی

اِس سلسلے میںلوگ غالباً حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ اِس لیے کہ

ترمذی، ابودائود اور ابن ماجہ میں قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں نقل ہوا ہے کہ:

﴿عن انس قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من ابتغی القضائ وسال وکل الی نفسہ و من اکرہ علیہ انزل اللّٰہ علیہ ملکا یسددہ﴾

لیکن مذکورہ بالاحدیث سے زیادہ سے زیادہ امارت کی خواہش کی کراہت ہی ثابت کی جاسکتی ہے۔ البتّہ ابودائود کی حدیث اپنے مفہوم میں صریح ہے ان اخونکم عندنامن طلبہ ’’ہمارے نزدیک تم میں وہ شخص سب سے خائن ہے جو حکومت طلب کرے‘‘ لیکن مذکورہ بالا قرآنی آیات اور دیگر احادیث و آثار کی روشنی میں یہ بات باعتبار درائت محلِ نظر قرارپاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعت کاالیکشن میں حصّہ لینا خوداجتماعی سطح پر غلط ہوگا اگرامارت کی طلب حرام قرار دی جائے۔ بہرحال طلب امارت کو قطعی طورپر حرام قرار دینا محتاج نظرثانی ہے۔

مفید خان

جدہ، سعودی عرب

مارچ کے شمارے میں شائع شدہ محترم اسلم غازی صاحب کامراسلہ پیش نظر ہے۔ انہوںنے ﴿۱﴾مدیر زندگی نو، ﴿۲﴾مرزا سبحان بیگ صاحب، ﴿۳﴾ابوالکرم عرفان صاحب اور ﴿۴﴾احسن مستقیمی صاحب پر تنقید کی ہے۔ لیکن ان کی یہ تنقید صحیح نہیں ہے۔

(۱﴾ مدیر ’’زندگی نو‘‘ نے اکتوبر ۲۰۰۹ کے شمارہ میں بڑی وضاحت سے ڈائیلاگ یا مکالمہ کا فرق سمجھایا ہے اور بتایاہے کہ ڈائیلاگ کاترجمہ ’’مکالمہ‘‘ صحیح نہیں ہے۔ مختلف ڈکشنریوں کے حوالے سے ڈائیلاگ کا مطلب واضح کیا ہے۔ پھر قرآنی مباحثہ اور ڈائیلاگ کا فرق بتایاہے ، مگر موصوف مراسلہ نگار بضد ہیں کہ ’’مکالمہ تسلیم شدہ امر ہے‘’ اور قرآنی آیات سے آج کے ڈائیلاگ میں مطابقت پیدا کرنے کی بے بنیاد سعی کررہے ہیں۔

﴿۲﴾ مرزا سبحان بیگ کی گرفت کو بھی موصوف ایک بار پھر سمجھنے کی کوشش کریں تو بہتر ہے۔ جو الفاظ ان کے لیے مراسلہ میں تحریر کیے ہیں وہ بالکل مناسب نہیں ہیں۔ مولانا مودودیؒنے جو طریقۂ کار اختیار کیا،اسے بطور حجت پیش کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟

﴿۳﴾ ابوالکرم صاحب نے محترم نجات اللہ صدیقی صاحب کے مضمون پر جو گرفت کی تھی وہ درست تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے مضمون کا صرف ایک جملہ بطور نمونہ یہ ہے کہ ’’عورت بہت کچھ کرسکتی ہے اس ’’بہت کچھ‘‘ میں سیاست، تجارت اور خدمت بھی شامل ہے’’ کیا موجودہ دور میں ان محاذوں پر آپ عورتوں کو لانا چاہتے ہیں؟ ممکن ہے آپ اور ڈاکٹر صاحب تیار ہوں مگر آپ دونوں کے تیار ہوجانے سے تحریک اسلامی کا مزاج تو نہیں بدل سکتا۔

﴿۴﴾ احسن مستقیمی صاحب نے اپنے مضمون میں یہ کہاں کہا ہے شوریٰ و نمائندگان کو اجتہاد کا حق نہیں۔ انھوںنے تو ایک بنیادی سوال اٹھایاہے کہ اجتہاد کون کرے گا؟ اِس سوال پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ مجتہد کی شرائط کیا ہیں؟ اللہ ہم سب کو تفقہ فی الدین عطا فرمائے۔

شیخ نجم الدین

شولاپور، مہاراشٹر

 

مسلمان سب سے زیادہ جس مبارک ذات سے محبت کرتا ہے۔ وہ ہیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ آج جب فلم، ٹی وی اور میڈیانے اس قوم کو دین اور آخرت کی فکر سے بالکل آزاد کردیا ہے۔ میں نے اپنے مضمون کے ذریعے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دل میں سوئی ہوئی محبت کو جگانے کی کوشش کی ہے۔

اپنے رسالے کے ذریعے آپ کی کوشش رہتی ہے کہ اس سوئی ہوئی قوم کے ایمان میں کچھ حرارت پیدا ہو۔ آپ اس مبارک کام میں مجھے بھی شامل فرمائیں۔ بڑی مہربانی ہوگی۔ آپ کی خدمت میں دوکتابیں بطورِ تحفہ پیش کررہاہوں۔ ایک کتاب میں نے غیرمسلموں میںدعوت کے مقصد سے لکھی ہے اور دوسری کتاب سفرِ حج کے مسائل اور ان کے ممکن حل سے متعلق ہے۔ انھیں قبول کرکے شکریہ کا موقع دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے رسالے کو ترقی دے۔ آپ کے سبھی اسٹاف کو اور دنیا کے تمام مسلمانوں کو دنیا اور آخرت میں کامیاب فرمائے۔آمین

قمرالدین خان

بھانڈوپ، ممبئی

’’زندگیِ نو ‘‘کے اشارات میں ڈائیلاگ، تکثیری سماج وغیرہ پر آپ کی تحریریں حق کو واضح کررہی ہیں۔ اُنھیں پڑھ کر ہم جیسے لوگوں کے ذہن صاف ہورہے ہیں۔ ہمیں حوصلہ بھی ملتاہے۔

آپ کی رائے کے تحت جو مضامین اور مراسلے ’’زندگی نو‘‘ میں شائع ہوئے ہیں، انھیں پڑھ کر یہ اندازہ ہوتاہے کہ غورو فکر اور رائے قائم کرنے کے جو بنیادی نکات ہیں وہ نظرانداز ہورہے ہیں۔ بنیادی نکات میرے نزدیک یہ ہیں:

۱-  جماعت کا یہ موقف ہے کہ سیکولرزم ایک باطل نظریہ ہے اور سیکولرجمہوری نظام غیراسلامی، باطل اور خلاف حق ہے ۔

۲-  جماعت کا یہ موقف ہے کہ لادینی جمہوری نظام کو چلانے کے لیے الیکشن میں حصہ لینا جائز نہیں ہے۔ کسی صاحب کو اس موقف سے اختلاف ہوتو اُنھیں مدلل طورپر اپنی بات پیش کرنی چاہیے۔

۳-   جماعت کا موقف ہے کہ اسلامی نظام کے قیام اور دستور کو اسلامی نظام و دستور میں تبدیل کرنے اور دین و ملت کے مفادات کے لیے الیکشن میں حصہ لینا جائز ہے۔ کیا کسی کو اس سے اختلاف ہے؟ اگر ہے تو واضح طورپر بتائے کہ اس کے اختلاف کے معقول وجوہ کیا ہیں؟

۴-    یہ بھی ایک طے شدہ امر ہے کہ موجودہ دستور اور نظام حکومت میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں ہے کہ کوئی جماعت یا فردشِق ﴿۳﴾ میں مذکور اغراض و مقاصد کے لیے حصہ لے سکے۔اگر کسی کایہ خیال ہے کہ نہیں موجودہ دستوراور نظام حکومت میں اس کی گنجائش ہے تو وہ مدلل طورپر اپنی بات پیش کرے۔

۵-  رائج الوقت جمہوریت آج پورے کرۂ ارض پر بے نقاب ہوچکی ہے۔ عالمی سطح پر بھی اور خود ہمارے ملک میں بھی اس کی فتنہ سامانیوں کو دیکھ کر بہت سے غیرمسلم اور مسلم دانشور دانت تلے انگلی دبانے پر مجبور ہیں۔ اس ’’نیلم پری‘‘ کا مکروہ چہرہ سامنے آگیا ہے اور اس کی تباہ کاریوں کادھڑلے سے اظہارکیاجارہا ہے۔ ’’ناچار مسلمان شُد‘‘ کی بات کھُل کر سامنے آرہی ہے۔ کوئی اورنظریہ و نظام سامنے نہیں ہے ۔

۶-  رہا یہ سوال کہ ہمیں تسلیم ہے کہ سیاست کا میدان گندگی سے پُر ہے تو کیا اسے اُس کے حال پر چھوڑدیاجائے اور گندگی دور نہ کی جائے۔ میں عرض کروں گا کہ اس گندگی کو دور کرنے کی اصل جگہ انسانی معاشرہ ہے اور دعوت کے لیے بھی یہی موزوں جگہ ہے۔ کُرسی پر براجمان ہوکر نہیں، کرسی سے دور رہ کر آپ خدمت خلق بھی بہتر طورپر کرسکتے ہیں اور دعوت دین کا کام بھی۔ انسانی معاشرہ کو پھلانگ کر اقتدار وقت تک پہنچنے کی آرزو، دینی فکر سے میل نہیں کھاتی۔ باشندگانِ ملک کو اخلاص، یکسوئی اور لگن کے ساتھ اللہ کے پیغام سے روشناس کرائیں۔ معاشرہ میں فکری انقلاب لائیں۔ یہ تمنا نہ کریں کہ اسلام کاغلبہ و نفاذ لازماً آپ کی زندگی ہی میں ہوجائے اور زمامِ کار کے مالک آپ ہی بنیں۔

۷-   اگر آپ ایک مضبوط کردار و اخلاق کے ساتھ خدا پرستانہ نظریہ ونظام کو پیش کریں گے لوگوں کے فکر و نظر میں انقلاب لائیں گے تو اللہ تعالیٰ وہ وقت بھی ضرور لائے گا جب یہی افراد جو دین سلام کی جیتی جاگتی تصویر ہوں گے ، اسلامی انقلاب برپا کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔ ہمارے سامنے الیکشن واحد ذریعہ ہے، مگر ضروری نہیں ہے کہ احکم الحاکمین کی نگاہ بھی اسی ایک طریقہ میں محدود ہو۔ جو بھی نظریاتی انقلاب اس دنیا میں برپا ہوئے ہیں خواہ وہ اسلامی ہوں یا غیراسلامی۔ کبھی پیشگی متعین کیے ہوئے مرحلوں اور قیاسات کی بنیاد پر نہیں آئے۔ بل کہ سچ تو یہ ہے کہ ان راہوں سے آئے جن کا سعی وجہد کرنے والوں کو گمان تک نہ تھا۔

مہرالدین

غازی آباد

میں ’’زندگیِ نو‘‘کا مستقل قاری ہوں اور جماعت اسلامی کے مکتبہ سے شائع کردہ کتابوں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ زندگی نو کا بڑی دلچسپی سے مطالعہ کرتا ہوں۔

جماعت اسلامی ہند کا لٹریچر اسلام کے صحیح واضح فہم پر مشتمل وہ خزانہ ہے، جِس کا بغور مطالعہ کرنے پر اسلام کی ایک ایک بات کھل کر سامنے آنے لگتی ہے۔ اِس مراسلے میں تنقید کے موضوع پر چند گزارشات پیش کررہاہوں۔

تنقید کے معنی ’’تبصرے‘‘ اور جانچ کے ہیں۔ جو کھرے اور کھوٹے میں تمیز کردے۔ جماعت اسلامی کی اجتماعیت میں اِس کاخاص اہتمام ہوتاہے کہ تنقید سے ہر پہلو منظرعام پر آجائے۔ اِصلاح کے لیے تنقید لازم ہے ۔

ہمارے گرد وپیش کی طرف اگر ہم نظردوڑائیں تو ایک تشویش ناک منظر سامنے آتا ہے۔ دنیا کے کسی خطّہ میں بھی اسلامی حکومت کا باضابطہ قیام وجود میںنہیں۔ اسی لیے طاقت سے بُرائی کو روکنے کا ’’پہلے درجے کا ایمان‘‘ ہماری چاردیواری میں ہمارے اہل وعیال تک محدود رہ گیا ہے۔ البّتہ ایسی حکومت موجودہے جس میں عوام کو اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے۔ ایسی صورت میں تنقید کرنا ہی وہ ’’دوسرے درجہ‘‘ کا ایمان ہے جسے ایک بندۂ خدا باقی رکھ سکتاہے۔ کسی بھی مومن بھائی کے اور خاص طورپر جماعت کے رفیق کے کسی غلط فعل یا بات پر تنقید کرنالازم اور فرض ہے بشرطیکہ تنقید کرنے والے میں خود وہ بُرائی موجود نہ ہو۔ اگر اس طرح کی اسپرٹ جماعت اسلامی کے رفقائ میں نہ ہو اور جماعت کے ذمّے دار اس اسپرٹ کو پروان چڑھانے کے لیے بھی کوشاں نہ ہوں تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایمان کا ’’دوسرا درجہ‘‘ بھی مخدوش ہے۔ اس ڈر سے کہ کہیں لوگوں کی ناراضگی کا سامنا نہ کرنا پڑجائے خاموش رہنا صحیح نہیں ہے۔ اس ڈر وخوف کو حکمت کا نام دینا غلط ہے۔ خاموشی کے معنی ہیں کہ روزِ آخرت کی جواب دہی کے احساس کو بھُلاکر رکھ دیا۔ کبھی اس احساس کو جگانے کی کوشش نہ کی کہ ایمان کے دوسرے درجہ کے مواقع فراہم ہونے کے باوجود بھی ہم نے ایمان کے تیسرے درجہ کو کیوں اختیار کررکھاتھا۔

جماعت کے بعض ذمّہ داران پر جب تنقید کی جاتی ہے تو وہ بالکل لاجواب نظرآتے ہیں۔ تنقید کے جواب میں ان کے پاس کوئی ٹھوس بات نہیں ہوتی۔ البّتہ کچھ لوگ بڑے اعتماد کے ساتھ ’’تنقید براے اصلاح ہونی چاہیے‘‘ یہ فقرہ کہہ دیتے ہیں۔ گویا یہ کہتے ہیں کہ آپ کی ’’تنقید‘‘ بے معنی رہی کیونکہ ہماری اصلاح نہ ہوسکی۔ چناں چہ اس عدم اصلاح کے لیے خود ناقد ذمے دار ہے ۔

کوئی داعی دعوت کا حق ادا کردے لیکن پھر بھی مدعو اگر ہدایت سے محروم رہے تو یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے۔ اِس کے لیے روزآخرت کٹگرے میں داعی کو کھڑا نہیںہونا ہوگا۔ برادرانِ وطن میں بسااوقات ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جو دعوت کو حق تو تسلیم کرلیتے ہیں لیکن یہ بہانہ کرتے ہیں کہ للہ ہمیں ہدایت سے نوازے گا تو ہم اہلِ ایمان میں ضرور شامل ہوجائیںگے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہدایت تو وہ سرمایہ ہے جو دل کی تڑپ، لگن اور جستجو رکھنے والے افراد کو ہی ملتا ہے۔ اس میں حسب و نسب کاکوئی دخل نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتے دار بھی محض رشتے کی فضیلت کی بِنا پر ہدایت نہیں پاسکتا۔

یاد رہے کہ جماعت کے کسی رکن کا معمولی درجہ کابگاڑ بھی نظیر بننے لگتاہے۔ اِس لیے گرفت ضروری ہے۔ مگر بسااوقات ہوتا یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کارکن کے خلاف سازش رچی جاتی ہے کہ وہ تنقید سے باز آجائے یاجماعت سے ہی کنارہ کشی اختیارکرلے۔ یہ ایک اناپرستی ہے جو معاشرے کو خطرناک کھائی میں ڈھکیل دیتی ہے۔

حالات کے تناظر میں اس معاملے پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ بدستِ مبارک مولانا مودودی الگ الگ زبان، خاندان وقبیلہ سے تعلق رکھنے والے افراد خاص اللہ کے لیے ایک ہار میں بڑی لگن اور محنت سے پروئے گئے ہیں۔ یہ بیش قیمت موتی کہیں بکھر کر نہ رہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے تبنیہ کی ہے کہ ’’بیشک اللہ ایسی صورت میں دوسری قوم کو کھڑا کردے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوںگے‘‘ ذرا سوچیے روزآخرت میں پھر ہمارا کیا ہوگا؟

اللہ نے کئی مقامات پر قرآن میں عقل کے استعمال کی طرف متوجہ کیا ہے۔ عقل کا صحیح استعمال نہ کرنے والوں کو اندھے اور بہرے بتاتے ہوئے کتاب الٰہی کی ناقدری کرنے والوںکی مثال ایک گدھے کی دی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں۔

عقیل احمد بابوسابق پی۔اے

ایڈیشنل سی ۔ای۔ او، ضلع پریشد امراوتی، مہاراشٹر

آج کل جماعت سے منسلک کچھ احباب کی تحریروںمیں طنزو تعریض کاندازملتاہے۔ مجھے اس سے صدمہ ہوتاہے۔ یہ الفاظ اور انداز بیان اس بات کی غماز ی کرتے ہیں کہ ایسے لوگ اپنے آپ کو بڑی بلندی پر اور دوسروں کو گھٹیا سمجھتے ہیں۔ ذہن کے کسی گوشے میں یہ کم زوری چھپی ہوئی ہے جو تحریک اسلامی کے مزاج سے میل نہیں کھاتی ہے۔ ایسی تحریریں شایع نہ کی جائیں بل کہ بھیجنے والے کو واپس کردی جائیں کہ وہ اصلاح کرکے بھیجیں اور صحیح بات تو یہ ہوگی کہ ایسے لوگ مستقل طورپر اس کام میں لگ جائیں کہ وہ اپنے مزاج اور کمزوری پر قابو پائیں۔ دوسروں پر قلم اٹھانا اس وقت تک بند کردیں جب تک مزاج اعتدال پر نہ آجائے۔ اگر تحریک سے ہم دردی ہے تو اس مزاج کی اصلاح بے حد ضروری ہے۔

اپریل ۲۰۱۰ میں محترمہ ثمینہ مظہرفلاحی صاحبہ کا تنقیدی مضمون ’’آپ کی رائے‘‘ کے عنوان کے تحت پڑھا۔ برادر مکرم ڈاکٹر نجات اللہ صاحب کا مضمون بھی پڑھاتھا۔ ان کے مدعا کو گھسیٹ کر کہاں سے کہاں سے لے گئی ہیں ہماری بہن۔ غیرمسلموں سے ربط اور نفوذ کے سلسلے میں یہ بات بالکل صحیح ہے کہ خواتین کا رول تقریباً صفر ہے۔ کم از کم اپنے پاس پڑوس اور شہر کے غیرمسلموں، خاندانوں کی خواتین سے ربط تو ہوسکتاہے۔ کچھ نہیں تو قربت بڑھے گی اور غلط فہمیاں کم ہوںگی۔ آہستہ آہستہ مثبت باتیں بتلائی جاسکتی ہیں۔ اس ضرورت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ عزیزہ بہن سے امید کرتاہوں کہ وہ کچھ اور ہم خیال خواتین کو آمادہ کرکے جس حد تک ہوسکے اس کام میں لگیں۔ اس میں شک نہیں کہ سیاست پر جتنی توجہ دی جارہی ہے، اس سے زیادہ توجہ غیرمسلموں میں دعوت اور ربط پر دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمارا کام نمبر ایک ہے۔ اللہ ہم سے اپنی پسند کا کام لے اور قبول فرمائے۔ والسلام

مقصودعالم صدیقی، پورنیہ

ماہِ مارچ ۲۰۱۰ کے شمارے میں ’’ جماعتِ اسلامی ہند- ایک تعارف‘‘ شائع ہوا۔ اِس مضمون میں جناب محترم غلام رسول دیش مکھ صاحب نے جماعت کا جو تعارف کرایا ہے وہ محلِ نظر ہے۔ اس میں جماعت کی غرض وغایت اقامتِ دین، اعلاے کلمۃ اللہ غیرمسلم برادران وطن کے سامنے دین حق اسلام کی من و عن تعلیمات اور احکام کو پیش کرنے کے داعیانہ فرض کو نظرانداز کردیاگیا ہے۔ موصوف نے تحریر فرمایاہے کہ ’’جماعتِ اسلامی ہند اپنے تعمیری، فلاحی اور اخلاقی کاموں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعمیری طریقۂ کار اختیارکرتی ہے۔‘‘ بالکل صحیح ہے مگر یہ بعد کا ہدف ہے جماعتِ اسلامی کا وصف خاص یہ ہے کہ وہ تمام ہی بندگانِ خدا کے سامنے اسلام کو من و عن پیش کرتی رہی ہے جو اس کا امتیاز ہے اقامتِ دین۔ مگر غلام رسول صاحب دیشمکھ نے جماعت کی اصطلاحوں کو قطعی نظرانداز کردیا ہے۔ مجھے ایسا محسوس  ہوا گویا یہ جماعتِ اسلامی کاآسان اور سستاایڈیشن ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا تحریکی کام کتنا ہی مختصرہو مگرہم کو کرنا تو وہی ہے جو حق ہے اور حق کا تقاضا ہے۔ اقامتِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ اور بندگانِ خدا کے سامنے اسلام کو پیش کرنا مِن و عن۔ آسان اور شارٹ کٹ راستے ہمارے لیے مناسب نہیں ہیں۔

ماہِ اپریل ۲۰۱۰ کے شمارے میں جناب ڈاکٹر تابش مہدی صاحب نے مضمون بعنوان ’’مولانا اشرف علی تھانویؒایک مصلح ، ایک مُربی ّ ’‘سپردِ قلم فرمایاہے۔ اس کو بار بار پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب محترم نے بڑے ہی والہانہ انداز میں عقیدت اور محبت واحترام سے لب ریز الفاظ میں مولانا اشرف علیؒکے زندگی کے واقعات پر روشنی ڈالی ہے۔ ہم تحریکِ اسلام سے وابستہ تمام ہی افراد تھانہ بھون، رائے پور، سہارن پور، دیوبند اور ندوہ کے تمام علمائ کرام اور بزرگانِ دین کو اپنا روحانی سہارا سمجھتے رہے ہیں ان کی عقیدت و احترام دل کی اتھاہ گہرائی سے کرتے رہے ہیں اور آج بھی یہ سلسلہ لطف و کرم باقی ہے۔ ڈاکٹر تابش مہدی صاحب کامضمون پڑھتے پڑھتے اچانک یہ خیال آیاکہ جب مولانا مودودیؒنے کفرو ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں نورِ حق کے چراغ کو روشن کیا۔ مغرب کے سارے فلسفوں، اشراکیت، سرمایہ داری، اِلحاد، نیشنلزم وغیرہ باطل نظریات کو علم کی کسوٹی پر کس کر ان کی حقیقت ناکارہ پن ثابت کردیا اور اس کے مقابلے میں دینِ حق کی حقیقی تصویر ایک نظام اسلامی کی شکل میں پیش کی تو عین اس وقت جماعت ِ اسلامی اور مولانا مودودیؒکی مخالفت کی گئی۔ ’’فتنۂ مودودیت‘‘ اس وقت پیش کی گئی جب کہ جماعت پر پابندی لگی ہوئی تھی اور ذِمّہ داران جیل میں تھے۔ دِل چاہتاہے کہ کاش اُس پُرآشوب دور میں جب کہ باطل اپنی پوری لائولشکر کے ساتھ حق کو مٹانے اور چراغِ محمدی کو بجھانے میدان میں اترا تھا تو ہماری اِن مقدس اور قابلِ احترام ہستیوں نے مولانا مودودیؒکے کاز کو بچانے کے لیے سہارا دیا ہوتا۔

بزرگ محترم جناب احسن مستقیمی صاحب کا مراسلہ غور سے پڑھا۔ موصوف نے لادینی جمہوری نظام اور الیکشن کے تعلق سے ۹ باتیں پیش فرمائی ہیں۔ان میں پہلی بات یہ ہے کہ ’’اِس ضمن میں مرکزی شوریٰ نے جو فیصلے کیے ہیں، وہ شدید اختلافات کے پس منظر میں کثرت رائے سے کیے ہیں۔ اختلافات کے باوجود وہ فیصلے ہمارے لیے قابلِ تسلیم رہے ہیں اور آج بھی قابل تسلیم ہیں۔‘‘ اگر ان سطور میں جو کچھ فرمایاگیا ہے وہ واقعی ’’قابلِ تسلیم‘‘ ہوتا تو آگے ۸ نمبرات میں جو کچھ کہاگیاہے اس کی قطعی ضرورت نہ ہوتی۔نمبر۲ میں فرمایاکہ ’’جماعت اسلامی ہند کی تشکیل جدید۸۴۹۱ سے ۰۶۹۱ تک یہی پالیسی رہی ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ اِس کے بعد جماعت کی پالیسی کیا رہی ہے جناب نے اس کی وضاحت نہیں کی۔ نمبر۵ میں فرماتے ہیںکہ ’’میرا سوال یہ ہے کہ کیا مرکزی شوریٰ کو یہ مقام حاصل ہے کہ وہ کثرتِ رائے سے تحریم و تحلیل، جائز و ناجائز کافیصلہ کردے؟‘‘ آگے فرماتے ہیں کہ ‘‘ان باتوں کے باوجود اِس بنیادی سوال کاجواب ملنا چاہیے کہ خود مرکزی مجلس شوریٰ کی حیثیت کیا ہے۔ کیا وہ تحلیل و تحریم اور جائز وناجائز کے فیصلے کرسکتی ہے اور اجتہادی امور میں کثرتِ رائے سے کوئی بات طے کرسکتی ہے۔‘‘ اِس طرح صاحب موصوف نے نمبر۱ – میں لکھے جملے اختلاف کے باوجود وہ فیصلے ہمارے لیے قابلِ تسلیم رہے ہیں‘‘ کی نفی کردی ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تسلیم بھی کیاجارہا ہے دوسری طرف انکار کی روِش بھی جاری ہے۔

میری گزارش ہے کہ احسن مستقیمی صاحب کے اٹھائے گئے نکات کے سلسلے میں وضاحت کے لیے ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کا مضمون جو مارچ ۲۰۰۸ میں بہ عنوان ’’جماعت اسلامی اور انتخابی سیاست‘‘ شائع ہوا ہے۔ دوبارہ شائع کردیاجائے۔ اِس طرح قارئین کے سامنے تصویر کا دوسرا رخ بھی آجائے گا۔ چاہے سب مطمئن نہ ہوں۔

عبدالصمد

فردوس گارڈن، اورنگ آباد

زندگی نو کا اپریل۲۰۱۰ کا شمارہ پیش نظر ہے۔‘آپ کی رائے’ کالم میں جناب زبیر ملک فلاحی ﴿لکھنو﴾ور جناب ثنائ اللہ﴿دہلی﴾ نے ڈاکٹر تابش مہدی صاحب کے اس تبصرہ پر نقد کیا ہے جو انھوں نے ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کی کتاب ‘نقد فراہی’ پر مارچ کے شمارہ میں کیا تھا۔ ان مراسلات کو دیکھنے کے بعد میں نے پھر مارچ کا شمارہ نکال کر تابش مہدی صاحب کا تبصرہ پڑھا۔مجھے تو اس میں کوئی بات قابل گرفت نظر نہیں آئی۔عموماً مبصر اپنے تبصرے میں صاحب کتاب اور مشتملات کتاب دونوں کا تعارف کراتا ہے اور یہی تابش صاحب نے بھی کیا ہے۔تبصرہ بہت زیادہ علمی و تحقیقی نہیں ہوتا،بلکہ مبصر کے تاثرات پر مبنی ہوتا ہے۔مراسلہ نگاروں کو متعین طور پر بتانا چاہیے کہ مبصر نے صاحب کتاب کے تعارف میں کیا مبالغہ آمیزی کی ہے یا کیا باتیں خلاف واقعہ بیان کی ہیں؟اگر تبصرہ میں مولانا فراہی کے اصول تفسیر یا احادیث کے بارے میں ان کے نقطئہ نظر کا تذکرہ صحیح انداز میں نہیں آ سکا ہے تو اس کا الزام مبصر کو دینے کے بجائے مصنف کو دینا چاہیے۔مبصر کا کام بس کتاب کا تعارف کرا دینا اور قارئین کو اس کی جانب متوجہ کر دینا ہوتا ہے اور تابش صاحب اس معاملہ میں کامیاب ہیں ۔ان کے تبصرہ کو پڑھ کر میں نے کتاب منگوائی اور اس کا بالاستیعاب مطالعہ کیا۔مجھے اس سے بہت فائدہ پہنچا ہے۔علوم قرآنی سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ رضی الاسلام ندوی صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انھوں نے قرآنیا ت کے ایک اہم موضوع پر قلم اٹھایا۔یہ بات واضح رہے کہ نہ مولانا فراہی کی تمام باتیں واجب التسلیم ہیں ،نہ یہ ضروری ہے کہ رضی الاسلام ندوی صاحب کی تمام تنقیدیں درست ہوں۔ہمیں اختلاف کو برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

نجم الحسن فاروقی

ایوت محل،مہاراشٹر

زندگی نو مارچ۲۰۱۰ میںنائب مدیر جناب ڈاکٹر تابش مہدی صاحب کے قلم سے ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کی کتاب‘نقد فراہی’ پر تبصرہ پڑھ کر اس کے مطالعے کا اشتیاق پیدا ہوا۔بالآخر کتاب حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور اس کا بالاستیعاب مطالعہ کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔اللہ تعالیٰ رضی الاسلام ندوی صاحب کی قلمی کاوشوں کو قبول فرمائے۔نئے نئے اور متنوع موضوعات پر ان کی کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں۔اس کتاب میں بھی انھوں نے بہت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ مولانا فراہی کے بعض افکار و خیالات پر نقد کیا ہے اور عدل و انصاف کا دامن کہیں ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔نبی معصومﷺ کے علاوہ کوئی شخص تنقید سے بالا تر نہیں۔ علوم قرآنی کے میدان میں مولانا فراہیؒکی خدمات قابل تحسین و ستائش ہیں،لیکن ان کی فکر کے بعض کم زور پہلوئوں پر نقد کرکے رضی الاسلام ندوی صاحب نے جادئہ اعتدال کو واضح کرنے کی سعئی مشکور کی ہے،اگرچہ اس کتاب میں کہیں کہیں تشنگی کا احساس ہوتا ہے،مثلاً حدیث نبوی کی حجیت اور اس کی اصولی حیثیت کی بارے میںمولانا فراہی کے کیا خیالات ہیں اس پرکتاب میں بحث نہیں کی گئی ہے۔اسی طرح نظم قرآن مولانا کا خاص نظریہ ہے اس پر کوئی مقالہ کتاب میںشامل نہیں ہے۔

اشفاق احمد

عالیہ ثالثہ،دار العلوم ندوۃ العلمائ لکھنو

ان دنوں زندگی نو کے حالیہ شماروں ﴿اکتوبر۲۰۰۹ سے مارچ ۲۰۱۰ تک﴾ کے مباحث میں خاکسار کو بھی کچھ ضمناًعرض کرنا ہے کہ ملکی حالات کے تناظر میں سیاسی پارٹی کی تشکیل کی ناگزیریت کے پیش نظر، ملک کی سیاست کا پس منظر اور پیش منظر ہمارے سامنے رہنا چاہیے۔ انھیں دوباتوں کے مدنظر، اوّل دستور ہند ودستور جماعت کے مطابق، جماعت اسلامی ہند، سیاست کے عملی میدان میں اپنے مردان کارتیار کرے اور ایسے مردان کارکی تیاری کی صورت یوں ممکن ہوسکتی ہے کہ جماعت سے وابستہ پختہ افراد جنھیں سیاست سے دلچسپی ہو، جن کے اندر جذبہ خدمت خلق اور دور اندیشی ہو، جو حسن تقریر وتدبر میں مہارت رکھنے کے علاوہ تقویٰ وطہارت میں بھی قابل اعتماد ہوں نیزجو کسی سیاسی پارٹی سے منسلک نہ ہوں تو ایسی صفات کے حاملین کو انتخابات میںآزاد امیدوار کی حیثیت سے جماعت اپنی بساط بھرمیدان سیاست میںاتارے اور جب ایک معتدبہ تعداد سیاسی تجربہ کاروں کی جماعت کے پاس تیارہوجائے اس وقت سیاسی پارٹی کی تشکیل کسی مناسب نام سے کرے۔

بعدہ ملت کے دیگر مکتبِ فکر کے وہ افراد جو آپ کے معیار پر پورے اترتے ہوں، انھیں اپنے ساتھ لے کر اور اس کے بعد برادران وطن میں جو آپ کے ’’معاون‘‘ ہوں ان کے تعاون سے ملک کے شہریوں کا اعتماد بحال کیاجائے اور رفتہ رفتہ جماعت اپنادائرہ سیاست کو بڑھائے اور اس کے قبل کوئی قدم ایسا نہ اٹھائے جس سے پشیمانی اٹھانی پڑے اور جگ ہنسائی ہو یا میدان سیاست سے شکست خوردہ واپس ہونا پڑے۔ اس طریقہ کار کے لیے ایک طویل مدت درکار ہے جو بڑا صبرآزما تجربہ ہے اور اس تجربے سے گزرے بغیر ہم اندھیرے میں تیر نہ چلائیں۔ اس طرح کی تیرافگنی سے قبل اپنے محدود وسائل و ذرائع اور افرادی قوت کا بھرپور جائزہ لینا ضروری ہے اور اگر ہم مطلوبہ سیاسی کسوٹی پر کھرے اترتے ہوں تو ہمیں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس طرح جماعت،میدانِ سیاست میں تدریجی اقدام کرے۔

ڈاکٹر وحیدالزماں

محمودآباد،موبائل:۹۴۶۶۱۱۸۳۸۹

پچھلے کئی شماروں سے جمہوریت اوراس کی سب سے بڑی ‘عید’ انتخابات کو لے کر قارئین کی تحریروںسے زندگی نو کے صفحات ‘آراستہ’ ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں چند منتشر خیالات پیش خدمت ہیں۔ سب سے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ جمہوریت کہتے کسے ہیں؟ ‘جامع اردو انسائیکلوپیڈیا’ کے مطابق جمہوریت محض ایک نظام حکومت ہی نہیں بلکہ پہلے ایک طرزِ زندگی اور ایک سماجی نظام بھی ہے۔ یہ ان چنداصولوں اور رویوں کے مجموعہ کانام ہے جو کسی سماج کے ارکان کی نہ صرف سیاسی میدان میں بلکہ نجی، سماجی ،اقتصادی اور تہذیبی امور میں بھی رہ نمائی کرتے ہیں۔ ﴿ج:۳، ص:۳۳۰، NCPUL﴾، نیز انھی مقاصد کے حصول کے لیے پورے سماج کو خاص کرمسلم سماج کو جمہوریت زدہ اور سیکولرائزکرنے کے لیے سرکاری سطح سے کس طرح کی کوششیں ہورہی ہیں، اُن کو جاننے کے لیے ملاحظہ ہو اسرار عالم صاحب کی کتاب :فتنۂ سیکولرائزیشن۔ ظاہر ہے جمہوریت کی اس تعریف کو جان لینے کے بعد ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اس نظام کے زیر سایہ زندگی گزرنے پر قناعت کرکے کیا ہمارا دین اسلام رہ سکتا ہے؟

خدا کے وہ بندے جن کا کام اپنے رب کی اطاعت اور اس کی بندگی کرناتھا، وہ اپنے حدسے تجاوز کرکے جب پارلیمنٹ اور ایوانہائے باطلہ کے ذریعے خدا کے دیگر بندوں کے لیے قانون اور نظام ِ حیات پیش کرکے خدائی اور آقائی کامنصب خود سنبھال لیں تو ذرا بتایاجائے کہ یہ عمل طاغوتی نہیں تو اور کیاہے! قرآن کم از کم تین بار اجتنابِ طاغوت اور انکار طاغوت کاحکم دیتاہے۔ بندے طاغوت سے اجتناب اور انکار کے بجائے خود طاغوت بن بیٹھیں یا طاغوت بننے کے لیے راہ  ہموار کریں اور اس کے لیے پر تولیں تو قیامت کے دن اس کا حشر کیاہوگا؟ کتاب و سنت کی روشنی میں سوچنا چاہیے۔

تعجب ہوتاہے کہ جب بعض روشن خیال کہے جانے والے دین پسند حلقوں کی طرف سے یہ باتیں بار بار سنتاہوں کہ ’’جمہوریت اسلامی نظام سے سب سے زیادہ قریب ہے، جمہوریت کے زیرسایہ ہمیں وہ سہولیات اور حقوق حاصل ہیں جو بعض مسلم ممالک میں بھی نہیں ہیں اورجمہوریت اس دور میں ہمارے لیے کسی رحمت سے کم نہیں ہے وغیرہ‘‘ اب یہ بات کسی سے مخفی نہیں رہ گئی ہے کہ مسلمانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے اور اسے بدلنے کے لیے بڑے اونچے پیمانے پر منظم سازشیں رچی جاتی ہیں۔ اسی کے تحت خود مسلمانوں کے اندر سے معتبر سمجھے جانے والے چند اشخاص کی زبان سے یہ باتیں کہلوائی جاتی ہیں۔

’’  زندگی نو’’ اس جماعت کا ترجمان ہے جس کاقیام ہی اس مقصد سے ہواتھا کہ سارے باطل خدائوں کی خدائی کاانکارکرکے صرف احکم الحاکمین کی حکومت قائم کی جائے اور جمہوریت، کمیونزم، شہشاہیت جیسے باطل اور ظالمانہ نظام سے دنیا کو نکال کر خلافت علی منہاج النبوۃ کے زیرسایہ رحمت اور امن و عافیت کاماحول اللہ کے بندوں کو فراہم کیاجائے۔ ’’ہندتوا‘’رنگ میں رنگی ہوئی جمہوریت میں حصہ لے کر اسلام پسندو ںکو کہاں تک کامیابی مل سکتی ہے اس پر ذرا سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

شاہد حبیب

جامعۃ الفلاح بلریا گنج، اعظم گڑھ،موبائل: ۴۳۳۳۱۶۶۱۶۹

مارچ ۲۰۱۰ کاشمارہ کافی تاخیر سے دستیاب ہوا۔ اپریل کا شمارہ اس سے پہلے مل گیاتھا۔ محترم نجات اللہ صدیقی نے اپنے مضمون ’’تحریک اسلامی بدلتے ہوئے حالات میں‘‘ میں بالکل صحیح فرمایا ہے کہ ’’اس کے لیے جو کچھ کرناہے وہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیںبہرحال کرناتھا کہ اچھے مسلمان بنیں اور دوسروں میں گھل مل کر رہیں تاکہ لوگ ہم سے قریب آئیں۔‘‘ جہاں تک اسلام کے مکمل نظام حیات ہونے اور اس کی اقامت کا معاملہ ہے تو اس سے عام مسلم معاشرہ ہنوز ناواقف ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہی دراصل جماعت اسلامی کی ناکامیوں کاسبب ہے۔ عام مسلم معاشرہ نہ صرف ناواقف ہے بلکہ ابھی بھی جماعت اسلامی کا مخالف ہے۔ اور اس کی وجہ دراصل مقامی جماعتوں کی کوتاہیاں ہیں۔ ان میں خود اعتمادی کی کمی یا ان کے ذمہ داروں میں احساس برتری کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے جماعت نہ خود عوام سے قریب ہوسکی اور نہ وہ جماعت سے قریب آسکے۔ مقامی جماعتیں ہر ہر معاملے میں ’’اوپر‘‘ کی ہدایات و احکامات کی منتظر ہوتی ہیں اس لیے خود کوئی کام سوائے ’’تربیتی اجتماعات‘‘ یا کسی خاص موقع پر کوئی خاص ’’رسمی اجتماع‘‘ کے نہیں کرپاتی ہیں۔ جماعت اسلامی کی طرف سے عوامی خطابات یا مختصر مضامین پر مشتمل کتابچوں کی تقسیم کاکام بالکل نہیں ہوتاہے۔ جماعت کے اخبارات و رسائل نہایت محدود حلقے میں پڑھے جاتے ہیں۔ ’’دعوت‘‘ کا تو یہ حال ہے کہ خود جماعت میںعام نہیں ہے۔

اس بات پر غور کیاجانا چاہیے کہ ہم ابھی تک عام مسلمانوں کو یہ نہیں سمجھاسکے کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے اور اس کی اقامت ہم پر فرض ہے۔ اس لیے عام مسلمانوں کی حمایت سے ہم محروم ہیں۔ خطابات عام میں ان باتوں پر روشنی نہیں ڈالی جاتی ہے اور وضاحت سے نہیں بتایاجاتاہے کہ کیسے یہ مکمل نظام حیات ہے اور کس طرح اس کی اقامت ہوتی ہے اور پھر عام طورپر خطابات عام کا ہمارے یہاں چلن ہی نہیں ہے۔ اس لیے ہم اپنے حق میں عوامی ذہن کی ہمواری کے سلسلے میں ناکام ہیں۔ ہمارے اخبارات و رسائل کو بھی ضرورت سے زیادہ معیاری و خشک بنانے کے بجائے عام فہم اور عام طورپر پیش آنے والے معاملات و مسائل پر بات کرنے والے بنانے کی ضرورت ہے۔ مقامی جماعتوں کو اپنے حالات اور ماحول کے اندر کام کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے کہ وہ ہر ہر کام اور ہر ہر بات کے لیے اوپر کے اشاروں یا ہدایات و احکامات کے منتظرنہ رہیں بلکہ ہر وقت کوئی دعوتی کام یا مہم ضروری سمجھیں تو مقامی ارکان و وابستگان کے مشورے سے انجام دینے کی کوشش کریں۔ اس طرح عوامی سطح پر کیے جانے والے کاموں کی سخت ضرورت کو ہمیں محسوس کرنا چاہیے اور رائے عامّہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی سب سے زیادہ فکر کرنی چاہیے کہ اس کے بغیر دنیا کی کوئی تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔

منظورالحق انصاری

نیوایرکھیڑا۔ پوسٹ، کامٹی۲۰۰۱۴۴

اپریل ۲۰۱۰ کا ماہ نامہ ’’زندگی نو‘‘ کا شمارہ جلد مِل گیاتھا۔ اشارات ڈاکٹر رفعت صاحب نے بہت اچھا لکھا ہے۔ اللہ ان کے قلم میں مزید ترقی نصیب فرمائیں۔ اسی طرح مجھے آپ کا مضمون  ’’مولانا اشرف علی تھانویؒایک مصلح، اور ایک مُربی‘‘ بہت پسندآیا، چو ں کہ ان کے متعلق ہمیں مختصر وقت میں کافی معلومات ہوئی، اسی طرح سے آپ مختلف علمائے کرام کی حیات و خدمات پر زندگی نو میں لکھتے رہیں گے تو ہم آپ کے ممنون و مشکور ہوں گے، چونکہ اس وقت اکثر لوگ اپنے اسلاف کے بارے میں جانتے ہی نہیں ہیں کہ انھوںنے کیا کیا گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اس سلسلے میںآپ سے مؤدبانہ گزارش کروںگا کہ سابق امیر جماعت اسلامی مولاناابواللیث اصلاحی ندویؒپر ایک جامع مضمون زندگی نو میں جلد از جلد شائع کریں، چونکہ ان کے متعلق دوسروں کو توچھوڑیے خود تحریک اسلامی سے وابستہ افراد کو بھی بہت کم واقفیت ہے اور S.I.Oکے نوجوانوں کو اپنے اکابرین کے حالات سے واقفیت بھی ہوگی۔

آصف

میسور، کرناٹک

ماہ اپریل کاشمارہ زیرمطالعہ رہا۔ مضامین علمی اور مفید ثابت ہوئے۔ مولانا جرجیس کریمی صاحب کا مضمون ’’جنت کااشتیاق اور مطلوبہ اعمال‘‘ بھی بہت اچھا لگا۔ لیکن محترم مضمون نگار نے اپنے مضمون کی آخری سطروں میں جو لکھاہے وہ محلِ نظر ہے۔ لکھتے ہیں کہ ’‘توکل کااعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی جائز اور حلال ذرائع بھی استعمال نہ کرے۔‘‘ مثال میں انھوں نے یہ بیان کیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیماریاں بھی بنائی ہیں اور ان کا علاج بھی بتایاہے اور لوگوں کو علاج کا بھی حکم دیا ہے۔ مگر کوئی شخص مرض میں دوائیں استعمال نہ کرے بلکہ کامل طورپر اللہ پر بھروسہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ اس کو شفا دے گا تو ایسے شخض کے بارے میں آیاہے کہ بلاحساب و کتاب جنت میں داخل ہوگا۔ میں یہ معلوم کرنا چاہتاہوں کہ محترم مضمون نگار نے یہ بات کن براہین اور دلائل کی بنیاد پر کہی ہے۔ جب کہ حضور پاکﷺکے مختلف اقوال علاج کرانے کی ترغیب دیتے ہیں اور علاج کو علمائے سلف نے بھی ایک مسنون عمل قرار دیاہے۔ اگر محترم مضمون نگار نے ان سطور سے قبل بیان کردہ حدیث کی بنیاد پر یہ بات کہی ہے تو مجھ جیسے ایک طالب علم کو اس حدیث سے صبر کامفہوم سمجھ میں آتاہے نہ کہ ترکِ علاج کا۔

محمد آصف

طالب علم، جامعتہ الفلاح، بلریا گنج

مئی 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau