اسلام کے عائلی احکام

محمد رضی الاسلام ندوی

جنسی تسکین کے معاملے میں اسلام نے اعتدال و توازن کو ملحوظ رکھا ہے۔ اس نے نہ تو جنسی جذبہ کو دبانے اور کچلنے کی ترغیب دی ہے اور نہ کھلی چھوٹ دے دی ہے کہ اس کے لیے جو طریقہ چاہے اختیار کرلیا جائے۔ بہ الفاظ دیگر وہ نہ تو رہبانیت کا قائل ہے اور نہ اباحیت کا، بلکہ اس نے جنسی تسکین کے لیے نکاح کرنے کا حکم دیا ہے۔

نکاح

صالح تمدن اور پاکیزہ انسانی معاشرہ کا دارو مدار مرد و عورت کے جائز جنسی تعلق پر ہے، جو صرف نکاح ہی کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ نکاح ہی کے ذریعے مرد اور عورت کے اندر احساس ِ ذمہ داری پیدا ہوتی ہے اور وہ مل کر اولاد کی پرورش و پرداخت کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ نکاح ہی کے ذریعے ان کے اندر باہم ہمدردی، ایثار، قربانی، محبت و الفت، شفقت اور تعاون کے جذبات  پیدا ہوتے ہیں۔ یہ نہ ہو تو انسانی معاشرہ خود غرض درندوںکی ایک بھیڑ کے مثل ہوگا، جس کے پیش نظر جنسی خواہش کی تسکین کے علاوہ اور کوئی چیز نہ ہوگی۔

نکاح کو  تمدنی ضرورت کے ساتھ قرآن و حدیث میں  دینی و اخلاقی ضرورت بھی قرار دیا گیا ہے اور اس کا تاکیدی حکم دیا گیا ہے۔ قرآن میں ہے:

وَ اَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ  (النور:۳۲)

’’تم میں سے جو لوگ مجرد یعنی بے نکاح ہو ان کے نکاح کرادو۔‘‘

اور اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مرتبہ نوجوانوں کو مخاطب کرکے فرمایا:

’’اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہیے۔ اس لیے کہ وہ نگاہ کو پست اور شرم گاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔‘‘ ( بخا ر ی : ۵۰۶۶، مسلم : ۱۴۰۰ )

نکاح کو انبیاء کا طریقہ اور اسوہ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلاً  مِّنْ قَبْلِکَ وَ جَعَلْنَا لَہُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃًط   (الرعد:۳۸)

’’تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا۔‘‘

اسی طرح آخری رسول حضرت محمد ﷺ نے بھی نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے۔ ایک صحابی، جن کا کچھ میلان رہبانیت کی طرف تھا، انھوں نے آپؐ سے اپنی جنسی قوت کو ختم کرنے کی اجازت طلب کی تو آپؐ نے فرمایا:

’’سن لو، اللہ کی قسم، میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی و پرہیزگار ہوں، لیکن میں کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی نہیں رکھتا، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جس شخص نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ سے نہیں۔‘‘  (بخاری: ۵۰۶۳،مسلم:۱۴۰۱)

مقاصدِ نکاح

قرآن و حدیث میں نکاح کے متعدد مقاصد بیان کیے گئے ہیں۔

(۱) اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے عصمت و عفت کی حفاظت ہوتی ہے اور انسان شیطان کے پھندوں سے محفوظ ہوجاتاہے۔ سورۂ نساء میں ایک جگہ ان عورتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن سے نکاح حرام قرار دیا گیا ہے، پھر کہا گیا ہے کہ ان کے علاوہ دیگر عورتوں سے نکاح کرسکتے ہو۔ وہاں مردوں اور عورتوں دونوں کے بارے میں کہا گیا ہے:

مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ط (النساء:۲۴)

’’تاکہ حصارِ نکاح میں ان کو محفوظ کراؤ، نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔‘‘

مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلاَ مُتَّخِذٰتِ اَخْدَان ( النساء:۲۵)

’’تاکہ وہ حصارِ نکاح میں محفوظ ہو جائیں، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں۔‘‘

ان آیات میں نکاح کے لیے’احصان‘ اور زنا و بدکاری کے لیے ’سفاح‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔ ’احصان‘ کے معنی محفوظ کرنے اور پناہ گاہ بنانے کے ہیں اور ’سفاح‘ کسی چیز کو ضائع کرنے کو کہتے ہیں۔ گویا نکاح کے ذریعے مرد و عورت اپنی عصمت و عفت کو محفوظ کرتے اور زنا کرکے اس کو ضائع کرتے ہیں۔

(۲) نکاح کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ زوجین کے درمیان الفت و محبت ہو، وہ ایک دوسرے کے ذریعے سکون و راحت حاصل کریں، ان کا باہمی تعلق وقتی اور ہنگامی مصلحتوںسے بالاتر ہوکر مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ مِنْ ٰ ایٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً    ط  (الروم:۲۱)

’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔‘‘

(۳) نکاح کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے نسل انسانی میں اضافہ ہو اور تہذیب و تمدن تشکیل پائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَزْوَاجِکُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَۃً   (النحل:۷۲)

’’اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے تمھاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمھیں بیٹے پوتے عطا کیے۔‘‘

نکاح کا طریقہ

نکاح قانونی طور پردو الفاظ سے ہوجاتا ہے۔ انھیں ایجاب و قبول کہتے ہیں ۔ یعنی لڑکا یا لڑکی میں سے کوئی خود یا اس کا وکیل نکاح کی خواہش کا اظہار کرے اور دوسرا اسے قبول کرلے، بس نکاح ہوگیا۔ خواہش کرنے والے کے الفاظ کو ایجاب اور منظوری دینے والے کے الفاظ کو قبول کہا جاتا ہے۔ ان کی حیثیت رکن کی ہے کہ ان کے بغیر نکاح ہوگا ہی نہیں۔

نکاح کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے، خفیہ اور پوشیدہ طریقے پر اسے انجام نہ دیا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول دو گواہوں کی موجودگی میں ہو۔

مہر

نکاح سے متعلق ایک اہم چیز مہر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہے:

وَ ٰ اتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِہِنَّ نِحْلَۃً ط (النساء:۴)

’’اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔‘‘

مہر وہ رقم ہے جو مرد نکاح کے وقت عورت کو ادا کرتا ہے، یا ادا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں:

۱۔             مہر معجل، یعنی وہ مہر جو نکاح کے وقت فوراً ادا کردیاجائے۔

۲۔            مہر مؤجل، یعنی وہ مہر جسے بعد میں ادا کرنے کا وعدہ کرلیا جائے۔

مہر کی ادائی شوہر کے ذمے لازم ہوتی ہے۔ اس لیے اسے اتنا ہی مقرر کرنا چاہیے جتنا شوہر آسانی سے ادا کرسکے۔ محض فخر جتانے کے لیے یا اس وجہ سے کہ شوہر بیوی کو طلاق نہ دے سکے، مہر بہت زیادہ مقرر کرنا شرعی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ مہر مقرر کرنے لگے تو انھوں نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’لوگو! مہر مقرر کرنے میں غلو نہ کرو، اگر یہ چیزدنیا میں فخر و عزت یا آخرت میں اجر و ثواب کا باعث ہوتی تو اللہ کے رسول ﷺ سب سے پہلے اسے اختیار کرتے۔‘‘ (ابو داؤد:۲۱۰۶)

اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے کیا تو ان کا مہر پانچ سو درہم مقرر فرمایا تھا۔ اسے مہر فاطمی کہا جاتا ہے۔ جدید وزن کے اعتبار سے یہ ۱۵۳۱؍ گرام کے برابر ہے۔ اگر نکاح کے وقت مہر طے نہیں کیا گیا تو وہ معاف نہیں ہوگا، بلکہ عورت کو مہر مثل دینا ہوگا۔ اس سے مراد مہر کی وہ مقدار ہے جو عام طور پر اس کے خاندان کی عورتوں کی مقرر ہوتی ہے۔

مہر میں نقد رقم کے بجائے کوئی منقولہ سامان یا غیر منقولہ جائیداد مثلاً مکان، زمین وغیرہ بھی دی جاسکتی ہے۔ نکاح کے موقع پر زیورات بھی بہ طور مہر دیے جاسکتے ہیں، لیکن اس کی صراحت ضروری ہے، تاکہ یہ غلط فہمی نہ رہے کہ انھیں بہ طور ہدیہ دیا گیا ہے۔

نان و نفقہ

نکاح کے بعد شوہر پر عورت کا ایک حق یہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اس کا نفقہ فراہم کرے۔ نفقہ کے معنیٰ ہیں وہ چیز جو خرچ کی جائے۔ شوہر کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے کھانا، کپڑا، مکان اور دیگر ضروریات ِ زندگی کا انتظام کرے۔ قرآن کریم میں ہے کہ مردوں کو عورتوں کا نگراں بنایا گیا ہے۔ اس کی دو وجہیں ہیں۔ ایک یہ کہ:

وَ بِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِہِمْ ط  (النساء:۳۴)

’’اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘

نفقہ کا کوئی متعین معیار نہیں ہے، بلکہ وہ شوہر کی آمدنی اور حیثیت کے مطابق کم زیادہ ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ ط وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اتٰـہُ اللّٰہُ ط    (الطلاق:۷)

’’خوش حال آدمی اپنی خوش حالی کے مطابق نفقہ دے اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔‘‘

عَلَی الْمُوْسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہٗ  (البقرۃ:    ۲۳۶)

’’خوش حال آدمی اپنی قدرت کے مطابق اور غریب آدمی اپنی قدرت کے مطابق (عورت کو کچھ دے)۔‘‘

اللہ کے رسول ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو خطبہ دیا تھا اس میں عورتوں کے حقوق بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا:

وََ لَھُنَّ عَلَیْکُمْ رِزقُھُنَّ وَکِسْوَتُھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ  (ابو داؤد۱۹۰۵،ابن ماجہ:۳۰۷۴)۔

’’عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم معروف طریقے کے مطابق ان کے کھانے اور کپڑے کا انتظام کرو۔‘‘

نفقہ میں عورت کی آرائش و زیبائش کی چیزیں، دوا علاج کا خرچ، دایہ کے مصارف اور روز مرّہ کی ضروریات بھی شامل ہیں ۔ عورت شوہر کے مال میں سے حسب ضرورت موقع بہ موقع خرچ کرسکتی ہے ، اگر شوہر نے اسے اجازت دے رکھی ہو۔ شوہر اپنی بیوی کو خرچ کے لیے جو کچھ دے اس میں سے بیوی اگر کچھ بچا لے تو یہ اس کا حق ہے، شوہر نہ اسے واپس لے سکتا ہے اور نہ اس کے نفقہ میں کمی کرسکتا ہے۔

طلاق

اگر زوجین کے درمیان نباہ کی کوئی صورت نہ ہو اور ایک دوسرے سے ان کا بغض و نفرت اتنا بڑھ گیا ہو کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کر پا رہے ہوں تو شریعت نے علیٰحدگی کی اجازت دی ہے۔ اس کے لیے طلاق کو مشروع کیا گیا ہے۔ طلاق کے معنیٰ بندھن کھولنے کے ہیں۔ گویا نکاح کے ذریعے جو بندھن قائم ہوا تھا وہ طلاق کے ذریعے کھول دیا جاتا ہے۔

اسلامی شریعت میں اگرچہ طلاق کی اجازت دی گئی ہے، لیکن اسے سخت ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ہے:

’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔‘‘   (ابو داؤ:۲۱۷۸،ابن ماجہ:۲۰۱۸)

ایک حدیث میں ہے کہ شیطان کو سب سے زیادہ خوشی اس بات سے ہوتی ہے کہ ایک خاندان برباد ہوجائے اور میاں بیوی کے درمیان علیٰحدگی ہوجائے۔ (مسلم:۲۸۱۳)

اس لیے قرآن و حدیث میں رشتۂ نکاح کو توڑنے سے قبل خوب اچھی طرح غور کرلینے اور اسے باقی رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ شوہر سے کہا گیا کہ اگر بیوی میں تمھیں کچھ چیزیں ناپسند ہوں تو یہ سوچ لو کہ اس کے اندر کچھ خوبیاں بھی ہوسکتی ہیں (النساء: ۱۹) عورت کے بارے میں کہا گیا کہ ’’جو عورت بغیر کسی سبب کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (ابو داؤد۲۲۲۶ ، ابن ما جہ : ۲۰۵۵ )  میاں بیوی اگر اپنے اختلافات باہم حل نہ کرپا رہے ہوں تو حکم دیا گیا کہ ہر ایک کسی کو اپنا نمائندہ بنا دے اور وہ دونوں مل کر ان کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش کریں(النساء:۳۵) ۔یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہو اور ان کی ازدواجی زندگی تلخ ہوجائے تو طلاق کے ذریعے دونوں کا علیٰحدہ ہوجانا ہی بہتر ہے۔

طلاق کی قسمیں

طلاق کی تین قسمیں ہیں:

(۱)          طلاق رجعی، یعنی وہ طلاق، جس میں شوہر بغیر نکاح کے عورت کو بیوی کی حیثیت سے واپس لے سکتا ہے ، خواہ بیوی راضی ہو یا نہ ہو۔

یہ اس وقت ممکن ہے جب شوہر صریح الفاظ میں ایک یا دو طلاق دے ، پھر عدت پوری ہونے سے پہلے ہی رجوع کرلے۔

(۲)         طلاق بائن، یعنی وہ طلاق، جس میں شوہر بیوی کو واپس لے سکتا ہے، مگر دوبارہ نکاح پڑھانے کے بعد۔اس کے لئے بیوی کی مرضی ضروری ہے اور وہ نئے مہر کی مستحق ہوگی۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب شوہر صریح الفاظ میں ایک یادو طلاق دے، پھر عدت پوری ہوجائے۔

اگر صریح الفاظ کے بجائے اشارہ کنایہ میں طلاق دی جائے تو طلاق بائن واقع ہوگی، خواہ ایک طلاق دی جائے یا دو۔

(۳)         طلاق مغلظہ ۔وہ طلاق جس کے بعد شوہر بیوی کو واپس نہیں لے سکتا۔ یہ تین طلاقوں کی صورت میں ہوتا ہے، خواہ یہ طلاقیں ایک ساتھ دی جائیں یا ایک ایک کر کے۔

طلاق مغلظہ کے بعد عورت شوہر پر ہمیشہ کے لئے حر ام ہو جاتی ہے، البتہ اگر وہ کسی اور مرد سے نکاح کرلے، پھر وہ بھی اسے طلاق دے یااس کا انتقال ہوجائے، تووہ ازسر نو پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔

طلاق کے طریقے

 طلاق کے تین طریقے ہیں :

(۱)          طلا ق احسن :یہ طلاق کا سب سے اچھا طریقہ ہے۔ آدمی عورت کو حالت ِطہر میں (یعنی جب عورت حیض سے پاک رہتی ہے) جب کہ مجامعت نہ کی ہو، ایک طلاق رجعی دے اور عدت گزر جانے دے۔ عدت پوری ہوتے ہی ایک طلاق بائن پڑ جائے گی۔

(۲)         طلاق حسن: یعنی طلاق کا دوسرا صحیح طریقہ۔ آدمی ایک طلاق حالت ِ طہر میں دے، پھر حیض کے بعد جب عورت دوبارہ حالت ِ طہر میں آئے تو دوسری طلاق دے، اسی طرح تیسری حالت ِ طہر میں تیسری طلاق دے۔ اس میں بھی شرط ہے کہ اس مدت میں عورت کے ساتھ مجامعت نہ کرے۔

(۳)         طلاق بدعی: یعنی خلاف ِ سنت طریقہ پر دی گئی طلاق۔ آدمی یک بارگی دو یا تین طلاقیں دے دے، یا حیض کی حالت میں طلاق دے، یا اس پاکی کی حالت میں طلاق دے جس میں مجامعت کرچکا ہو۔

تفویض ِ طلاق

شریعت نے طلاق کا حق مرد کو دیا ہے، اس لیے کہ وہی نکاح کے مصارف برداشت کرتا ہے، عورت کو مہر دیتا اور اس کا نان نفقہ برداشت کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنایہ اختیار بیوی کو دے دے، مثلاً کہے کہ میں تم کو طلاق لے لینے کا اختیار دیتا ہوں، تو بیوی کو یہ اختیار حاصل ہوجائے گا۔  وہ جب چاہے طلاق لے کر علیٰحدہ ہوسکتی ہے۔ اسے تفویض ِ طلاق کہتے ہیں۔

خلع

زوجین کے درمیان نباہ ممکن نہ ہونے کی صورت میں علیٰحدگی کے لیے جس طرح شریعت نے مرد کو طلاق کا حق دیا ہے، اسی طرح عورت کو خلع کا حق دیا گیا ہے۔ طلاق اور خلع میں فرق یہ ہے کہ طلاق بغیر کسی معاوضہ کے دی جاتی ہے، جب کہ خلع میں عورت کو کچھ دینا پڑتا ہے۔

قرآن میں ہے:

فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ لا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ ط   (البقرۃ:۲۲۹)

’’اگر تمھیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود ِ الٰہی پر قائم نہ رہیں گے تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضایقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیٰحدگی حا صل کرلے۔‘‘

خلع میں بیوی اور شوہر دونوں کی رضا مندی ضروری ہے۔ بیوی مہر معاف کردے یا اسے پاچکی ہو تو واپس کردے، یا الگ سے کچھ مال شوہر کو دے کر اسے خلع پر راضی کرلے تو خلع ہوجائے گا اور ایک طلاق بائن پڑ جائے گی۔

اگر عورت کے مطالبے پر شوہر خلع کے لیے راضی نہ ہو تو عورت کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ دار القضاء میں دعویٰ کرکے خلع  حاصل کر لے ۔

عدّت

عدّت کے لفظی معنیٰ شمار کرنے کے ہیں۔ اس سے مراد وہ مدّتِ انتظار ہے جو نکاح ختم ہونے کے بعد  شریعت نے مقرر کی ہے۔ اس مدت میں عورت دوسرا نکاح نہیں کرسکتی۔

عدّت کی صورتیں

عدت کی درج ذیل صورتیں ہیں:

(۱) طلاق کی عدّت

جس عورت کو طلاق دے دی گئی ہو اس کی عدت تین حیض ہے۔ قرآن میں ہے:

وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰـثَۃَ قُرُوْٓئٍ ط (البقرۃ:۲۲۸)

’’جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو وہ تین مرتبہ ایامِ ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔‘‘

یہ حکم ان عورتوں کے لیے ہے جن کو حیض آتا ہو۔ جن عورتوں کو نابالغ ہونے کی وجہ سے حیض نہ آیا ہو ،یا کسی مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا ہو، ان کی عدت قرآن میں تین ماہ بیان کی گئی ہے۔  (الطلاق: ۴)

(۲)وفات کی عدّت

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّ عَشْرًا(البقرۃ:۲۳۴)

’’تم میں سے جو لوگ مرجائیں، ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے دس دن روکے رکھیں۔‘‘

یہ احکام ان عورتوں کے سلسلہ میں ہیں جن کو طلاق یا شوہر کی وفات کے وقت حمل نہ ہو۔

(۳)حاملہ کی عدّت

حاملہ عورت کی عدت وضع ِ حمل ہے۔ چاہے یہ شوہر کی وفات کے بعد فوراً ہوجائے یا چار ماہ دس دن سے زیادہ وقت لگے، بہر حال بچہ پیدا ہوتے ہی اس کی عدت پوری ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّط    (الطلاق:۴)

’’اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع ِ حمل ہوجائے۔‘‘

عدّت کے احکام

عدّت کے دو مقاصد ہیں: ایک یہ کہ معلوم ہوجائے کہ عورت کو شوہر سے حمل تو نہیں ہے، دوسرے یہ کہ یہ اظہار ہو کہ نکاح کا ٹوٹ جانا بڑی اہم اور قابل ِ افسوس بات ہے۔

دوران ِ عدّت عورت کو اظہار ِ غم کرنے اور سوگ منانے کاحکم دیا گیا ہے۔ اس مدت میں اسے نہ گھر سے باہر نکلنا چاہیے، نہ بناؤ سنگار کرنا چاہیے، نہ شوخ کپڑے پہننے چاہئیں۔ دوران ِ عدّت عورت کو صراحتاً نکاح کا پیغام دینا حرام ہے، البتہ اشارہ و کنایہ میں پیغامِ نکاح دیا جاسکتاہے۔

وراثت

کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کی ملکیت اس کے وارثوں میں منتقل ہونے کو وراثت کہا جاتا ہے ۔ قرآن و حدیث میں اس کا تاکیدی حکم ہے۔ اور ہر وارث کا حصہ متعین کردیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے اور مال ِ وراثت ،چاہے بہت کم ہو یا بہت زیادہ، ہر حال میں اس کی تقسیم کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لِلرِّجَالِ نَصِیِبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ص وَلِلنِّسَآئِ  نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَط نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاo   (النساء:۷)

’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے) مقرر ہے۔‘‘

مالِ وراثت سے متعلق حکم

کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو اس کے ترکے میں سے درج ذیل کاموں پر خرچ کیا جائے گا:

(۱) سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کی جائے گی۔

(۲) اگر اس پر کچھ قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔

(۳) اس کی وصیت نافذ کی جائے گی۔ بہ شرطے کہ وصیت اس کے ایک تہائی مال سے زائد کی نہ ہو اور کسی وارث کے حق میں نہ ہو۔

اس کے بعد جو کچھ بچے گا وہ وارثوں میں تقسیم ہوگا۔

وارثوں کی قسمیں

وارثوں کی تین قسمیں ہیں:

(۱) ذوی الفروض: یہ میت کے وہ رشتے دار ہیں جن کے حصے مقرر ہیں۔ ان کی کل تعداد بارہ ہے۔ چار مرد، آٹھ عورتیں۔

مرد: (۱) شوہر (۲)باپ (۳) اخیافی (ماں شریک) بھائی (۴) دادا

عورتیں: (۱) بیوی (۲) ماں (۳)بیٹی(۴)پوتی (۵)سگی بہن (۶)علاتی (باپ شریک) بہن (۷) اخیافی (ماں شریک) بہن  (۸) دادی، نانی

ان میں سے پانچ لوگ ہر حال میں ترکہ پاتے ہیں:

(۱) شوہر (۲)بیوی (۳)باپ (۴) ماں (۵) بیٹی

(۲) عصبہ: یہ وہ رشتے دار ہیں جنھیں وارث قرار دیا گیا ہے، لیکن ان کا کوئی حصہ متعین نہیں ہے، بلکہ ذوی الفروض میں تقسیم کرنے کے بعد جو کچھ بچے وہ سب ان کو مل جاتا ہے۔ یہ درج ذیل ہیں:

عورتیں: (۱) بیٹی (۲)پوتی (۳)سگی بہن (۴)علاتی (باپ شریک) بہن

مرد: (۱) بیٹا(۲) باپ (۳) دادا (۴)پوتا (۵)بھائی (حقیقی و علاتی) (۶)بھتیجا (۷) چچا

ان میں سے بیٹا ہر حال میں ترکہ پائے گا۔ اسی  طرح بیٹی بیٹے یعنی اپنے بھائی کے ساتھ عصبہ ہوکر لازماً ترکہ پائے گی، لیکن اس صورت میں اس کا شمار ذوی الفروض میں نہیں ہوگا۔

(۳) ذوی الارحام: یہ میت کے وہ تمام دودھیالی اور ننھیالی رشتے دار ہیں جو نہ ذوی الفروض میں سے ہوں نہ عصبہ میں سے۔ ان کے چار درجات ہیں:

درجۂ اول: نواسہ نواسی، بیٹے اور پوتے کے نواسے

درجۂ دوم: نانا پر نانا، باپ کے نانا پر نانا، ماں کے دادا

درجۂ سوم: بھتیجی بھانجا بھانجی اور ان کی اولاد، اخیافی بھائی بہن کی اولاد

درجۂ چہارم: پھوپھی، خالہ، ماموں اور ان کی اولاد، اخیافی چچا اور ان کی اولاد

تقسیمِ وراثت کے بعض احکام

قرآن کریم کی سورۂ نساء میں تقسیمِ وراثت کے سلسلے میں چند احکام مذکور ہیں، جو یہ ہیں:

۱۔مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے(آیت۱۱)

۲۔اگر میّت کی وارث دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انھیں ترکہ کا دو تہائی حصہ دیا جائے گا اور ایک ہی لڑکی وارث ہے تو آدھا ترکہ اس کا ہے(آیت۱۱)

۳۔اگر میت صاحبِ اولاد ہوتو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گااور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ ملے گا(آیت۱۱)

۴۔اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصے کی حق دار ہوگی(آیت۱۱)

۵۔شوہر کا انتقال ہو تو اولادنہ ہونے کی صورت میں بیوی کو ترکے کاچوتھائی حصہ ملے گا اور اولاد ہونے کی صورت میں اس کا آٹھواں حصہ(آیت۱۲)

۶۔بیوی کا انتقال ہو تو اولادنہ ہونے کی صورت میں شوہر کو ترکے کاآدھا حصہ ملے گا اور اولاد ہونے کی صورت میں چوتھائی حصہ(آیت۱۲)

۷۔اگر میت (مرد یا عورت)بے اولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا  بہن(اخیافی یعنی ماں شریک) ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا۔ اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکے کے ایک تہائی حصے میں وہ سب شریک ہوں گے۔شوہر کا انتقال ہو تو اولادنہ ہونے کی صورت میںبیوی کو چوتھائی حصہ ملے گا اور اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ (آیت۱۲)

۸۔اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن(حقیقی یا علّاتی یعنی باپ شریک) ہو تو وہ اس کے ترکے میں سے آدھا حصہ پائے گی۔اور اگر بہن بے اولاد مرے تو اس کا بھائی(حقیقی یا علّاتی) وارث ہوگا۔اور اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حق دار ہوں گی ۔ اور اگر کئی بھائی بہن ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہوگا(آیت۱۷۶)

تقسیم میراث کی دیگر تفصیلات کتبِ فقہ میں دیکھی جائیں۔

مشمولہ: شمارہ دسمبر 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau