تعلقاتی قوت اور نافعيت

سید سعادت اللہ حسینی

ہندوستان میں امت مسلمہ کی تمکین و ترقی کی اس بحث میں آج ہم ایک ایسے موضوع کو زیر بحث لائیں گے جو ملک میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا دعوت دین کے حوالے سے ضرور زیر بحث رہتا ہے لیکن مسلمانوں کی تمکین و ترقی کی بحث میں بہت کم اس پر توجہ ہوتی ہے۔ کسی سماجی گروہ کی ’تعلقاتی قوت‘ (network power) کامطلب، اُس گروہ کے وہ تعلقات اور روابط ہیں جو وہ دوسرے گروہوں اور اُن گروہوں کے افراد سے اور ملک کے مجموعی سماج سے رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں سماج کے مختلف طبقات اور گروہوں کے اندر موجود امکانات، علوم و معلومات اور تجربات و وسائل سے خود اپنی بہتری اور ترقی کے لیے مستفید ہوتا ہے[1] نافعیت یا قوت تبادلہ (exchange power) کامطلب کسی گروہ کی سماج میں موجود دوسرے گروہوں یا ملک کی پوری آبادی کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت ہے۔[2] یہ دونوں صلاحیتیں کسی سماجی گروہ کی تمکین و ترقی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ ایک مخلوط سماج میں جہاں سماجی گروہوں کے درمیان فرق بہت گہرا ہو (جیسے ہندوستان میں مختلف مذہبی گروہوں کی صورت حال ہے)، اس قوت کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اگر کوئی گروہ دوسرے گروہو ں سے بہت زیادہ پچھڑا ہوا اور کم زور ہو (جیسا کہ اس ملک میں مسلم ملت کی صورت حال ہے) تو اس اہمیت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ 

تجسیری سماجی سرمایہ 

تعلقاتی قوت کو سمجھنے میں اُس معروف نظریے سے بڑی مدد ملتی ہے جو علم سماجیات میں تجسیری سماجی سرمایہ (bridging social capital) کہلاتا ہے۔ سماجی سرمائے اور تمکین و ترقی کے تعلق کو ہم ان صفحات میں زیر بحث لاچکے ہیں۔[3]  سماجی سرمائے سے مراد وہ سماجی تعلقات و روابط، مشترک اقدار اور اعتماد باہمی ہے جو کسی بھی سماج اور اس کے افراد کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے[4]۔ ہم نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ سماجی سرمائے کی دو قسمیں ہیں۔ ارتباطی سماجی سرمایہ (bonding social capital)، جس کا مطلب وہ تعلق ہوتا ہے جو کسی سماجی گروہ (یہاں ہندوستان کی مسلم ملت) کے افراد کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔ہمارے سیاق میں اس کا مطلب ہندوستانی مسلمانوں کا وہ گہرا باہم تعلق ہے جو انھیں جوڑ کر ایک ملت بناتا ہے۔ اسے گوند (glue)سے تشبیہ دی جاتی ہے[5] جو مختلف اشیا کو جوڑ کر ایک جسم بناتی ہے۔ سماجی سرمائے کی دوسری قسم تجسیری سماجی سرمایہ ہےجس کا مطلب کسی سماجی گروہ اور اس کے افراد کے دوسرے پڑوسی سماجی گروہوں اور ان کے افراد سے ایسے تعلقات ہیں جو ترقی میں معاون و مددگار ہوں۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اسے کسی پُل یا جسر یا پائپ سے تشبیہ دی جاتی ہے جو ایک دوسرے سے جدا دو مختلف چیزوں کو باہم جوڑتا ہے۔ ہندوستان کی مسلم ملت کے سیاق میں اس سے مراد وہ تعلق ہے جومسلمان مختلف غیر مسلم فرقوں اور ان کے افراد سے رکھتے ہیں۔ 

تجسیری سماجی سرمائے کے لیے وسعت نظری اور وسعت قلبی، کمیونی کیشن، اشتراک عمل (collaboration)، تعاون باہمی (cooperation)، دوسروں کی اچھائیوں کو سمجھنے کی صلاحیت، دوسروں کے جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت (empathy)وغیرہ جیسی اجتماعی صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔یہ صلاحیتیں ہوں تو سماجی گروہ، دوسرے گروہو ں کے وسائل سے بھی بھر پور طریقے سے مستفید ہوسکتا ہے۔تجسیری سماجی سرمایہ کئی طریقوں سے سماجی گروہ کی ترقی میں مدو گار ہوتا ہے۔ 

۱۔ تجسیری سماجی سرمائے کے نتیجے میں ترقی کے وسائل بڑھ جاتے ہیں اور دوسرے سماجی گروہوں کے علوم و معلومات، سرمایہ اور تجربات وغیرہ سے استفادے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ اگر کسی مسلمان یا کسی بستی کے مسلم سماج کے تعلقات صرف مسلمانوں تک محدود ہوں تو وہ مسلمانوں کے اندر موجود علم، تجربے اور وسائل ہی سے مستفید ہوسکے گا۔ گویا ’مسلم کنویں‘ میں قید ہوجائے گا۔ لیکن اگر اس کے تعلقات مختلف غیر مسلم سماجوں سے بھی ہوں تو وہ مثلاًمارواڑیوں کے تجارتی روابط سے بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے اس تعلق کے نتیجے میں کوئی مارواڑی سرمایہ دار اس کے ساتھ پارٹنرشپ کے لیے بھی آمادہ ہوجائے اور اس کی تجارت میں سرمایہ کاری کرے۔ ہندوستان میں مختلف سماجی گروہوں میں کچھ خاص خوبیاں (strengths) پائی جاتی ہیں۔ کسی کے یہاں علمی مزاج کی فراوانی ہے اور ان کے خاندانوں میں ذہین و فطین سائنس دانوں اورپروفیشنلوں کی بہتات ہے تو کوئی گروہ فن کاروں اور تخلیق کاروں کی کمیونٹی سمجھا جاتا ہے۔ جنوبی ہند کے بعض سماجی گروہ ہمیشہ اعلیٰ درجے کے ماہرین مالیات و معاشیات پیدا کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ بعض گروہوں میں سیاسی اثر و رسوخ پیدا کرنے کی فطری صلاحیت پائی جاتی ہے۔ تجسیری سماجی سرمائے کے نتیجے میں مختلف گروہوں کے یہ انسانی وسائل ہمارے لیے دستیاب ہوجاتے ہیں اور ہمارے یہاں بھی ان کی منتقلی ہونے لگتی ہے۔[6]

گذشتہ صدی میں، اسٹین فورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا مقالہ علم انتظام میں کافی مشہور ہوا تھا۔[7] اس مقالے میں اس نے یہ تصور دیا تھا کہ انسانوں کی ترقی میں کم زور تعلقات (weak ties)کا بڑا اہم رول ہوتا ہے۔ اوپر کی تصویرمیں فرض کیجیے کہ چار دوست، A,B,C,D ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں اوردوسرے چھ دوست U,V,W,X,Y,Zدوسری کمپنی میں۔ ایک ہی کمپنیوں میں کام کرنے کی وجہ سے A,B,C,D میں گہرےباہمی تعلقات ہوں گے اور ایک دوسرے کے علم اور تجربے سے وہ اچھی طرح مستفید ہوچکے ہوں گے۔ان کے پاس علم، فن، تجربے اور مواقع کی باہم شراکت ہوچکی ہوگی۔ ان میں سے ہرایک جتنا کچھ باقی لوگوں سے سیکھ سکتا ہے یا ان سے حاصل کرسکتا ہے، وہ سب کچھ حاصل کرچکا ہوگا۔ اس لیے ان کے گہرے آپسی تعلقات، ایک وقت کے بعد ان کے لیے ترقی کے زیادہ مواقع فراہم نہیں کرسکتے۔ جو کچھ ان میں سے ہر ایک کے پاس ہے، وہ باالآخر ان چاروں کا ہوجاتا ہے اور اس کے بعد ایک دوسرے کو دینے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ لیکن اس دوران جب C اور X کی دوستی ہوگی تو اگرچہ (الگ الگ کمپنیوں میں ہونے کی وجہ سے) یہ ایک کم زور تعلق ہوگا لیکن اس کی وجہ سے دوسری کمپنی کا علم و تجربہ پہلی کمپنی کو اور پہلی کمپنی کا دوسری کمپنی کو منتقل ہونا شروع ہوگا۔C اور Xکے ’کم زور تعلقات‘ A,B,C,D کو U,V,W,X,Y,Zکے علوم و فنون، تجربات اور وسائل سے مستفید کرنا شروع کریں گے۔ گویا ان کے اثاثے ادھر بھی منتقل ہونا شروع ہوں گے۔اس طرح دونوں گروہوں کی ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔ 

یہی معاملہ سماجی گروہوں میں بھی ہوتا ہے۔ مشترکہ اسپیس (common space) میں جب وہ آنا شروع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے فیض یاب ہونے کے فطری مواقع پیدا ہونے لگتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ تہذیبوں کے تعامل نے ترقی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ اسلامی تہذیب نے بھی ایرانی و سامانی، رومی و بازنطینی اور ہندوستانی تہذیبوں کے صالح اور نفع بخش عناصر کو قبول کیا، ان کے ذریعے خود کی ترقی کا بھی سامان کیا اور ان کے علوم و فنون کو بھی ترقی کی نئی بلندیاں عطا کیں۔ مثلاً ہندو پنڈتوں سے اعداد کا اعشاری نظام سیکھا، انھیں ترقی دی اور باقی دنیا کو اس سے متعارف کرایا۔ 

۲۔ تجسیری سماجی سرمائے کے نتیجے میں مسابقت بڑھ جاتی ہے اور ترقی کے معیارات بلند ہونے لگتے ہیں۔کوئی مسلمان طالب علم صرف مسلمانوں کے درمیان ہی رہتا ہو تو اس کی مسابقت صرف ان مسلمانوں ہی سے ہوپاتی ہے۔ اگر امتحان میں وہ باقی مسلمانوں میں اول آجائے، اپنے شہر سے سول سروس میں منتخب ہونے والے مسلمانوں میں اول ہو، یا اپنے مقام کے مسلمان تاجروں میں سب سے بڑا تاجر بن جائے تو وہ اسے ترقی کی معراج سمجھنے لگتا ہے۔چوں کہ اس کا سماج مسلمانوں تک ہی محدود ہے اس لیے اس کی مسابقت کا دائرہ اور اس کی امنگیں اور حوصلے بھی مسلمانوں کے اندر نمایاں کارکردگی ہی تک محدود ہوجائیں گے۔ چوں کہ ہندوستان کی مسلم ملت نسبتاً پسماندہ بھی ہے، اس لیے اس تنگ اسپیس میں محدود رہنے کے نتیجے میں فطری طور پر ترقی کا عمل بھی محدود ہوجائے گا۔ اہداف اور خوابوں کی سطح چھوٹی ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی گروہ کی پس ماندگی اس کے ارکان کی بھی پس ماندگی کا سبب بنتی ہے۔ لیکن اگر اس کے تعلقات اور قریبی روابط مختلف گروہوں سے بھی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں میں اول آنے کے باوجود اپنے دیگر ساتھیوں سے کافی پیچھے رہنے اور ان سے بھی آگے بڑھنے کی جستجو اس کو اور آگے بڑھنے کے لیے مضطرب رکھے یا سول سروس میں بہت سے منتخب ہونے والوں میں محض ایک فرد ہونے کا احساس اسے مطمئن ہونے نہ دے بلکہ اگلے ہدف کے لیےاسےمہمیز لگائے۔[8]

۳۔ تجسیری سماجی سرمایہ عدم مساوات کوکم کرتا ہے۔ یہ فطرت کا اصول ہے کہ اکثر چیزیں (مائع، گیس، توانائی وغیرہ) اُس جگہ سے جہاں وہ زیادہ ہوں، اُس جگہ کو منتقل ہوتی ہیں جہاں ان کی کمی ہوتی ہے۔اگر دو ٹنکیاں پائپ کے ذریعے جوڑ کر ایک ہی سطح پر رکھ دی جائیں اور ایک ٹنکی میں پانی زیادہ اور دوسری میں کم ہو تو زیادہ پانی والی ٹنکی سے کم والی ٹنکی کی طرف پانی بہنے لگے گا یہاں تک کہ دونوں میں پانی مساوی ہوجائے۔اسےسائنسی اصطلاح میں ’نفوذ‘ (diffusion)کہتے ہیں۔لیکن دونوں ٹنکیوں کو جوڑنے والا پائپ نکال دیا جائے تو یہ عمل نہیں ہوگا۔ یہ اصول سماجی معاملات میں بھی لاگو ہوتا ہے۔ [9]اسے ’سماجی نفوذ‘ (social diffusion)کہا جاتا ہے۔ یعنی عام حالات میں علوم و فنون، دولت و سرمایہ، تجربات اور صلاحیتیں یہ سب جس گروہ میں کم ہوں اس کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہیں الاّ یہ کہ اُ س گروہ کو دوسروں سے الگ تھلگ کردیا جائے، پُل (bridge)باقی نہ رہنے دیا جائے، سماجی دوری اور شک کی، یا ملکی سرحدوں کی یا طبقاتی تفریق کی مصنوعی دیواریں کھڑی کی جائیں ( یہی اس وقت دنیا میں عدم مساوات کے اسباب ہیں اور فطرت سے متصادم ہوکر انسانوں میں نابرابری پیدا کررہے ہیں)۔ اگر تجسیری سماجی سرمایہ ہو یا تعلقاتی قوت ہو تو آس پاس مختلف گروہوں میں،جس گروہ کے پاس بھی جو وسائل نسبتاً زیادہ مقدار میں ہیں وہ کم زور گروہ کو منتقل ہونے لگیں گے۔ کسی کا علم و ذہانت، کسی کی تجارتی مہارت، کسی کا فنی کمال، کسی کا سیاسی رسوخ یہ سب حاصل ہوتا رہے گا۔ جس سےاس کی کم زوری دور ہوتی رہے گی اور اس کی ہمہ جہت ترقی ہوتی رہے گی۔ 

۴۔ تجسیری سماجی سرمایہ مراکز قوت سے تعلق بڑھاتا ہے۔ حکومت، اس کے مختلف محکمے اور ایجنسیاں، سرکاری و غیر سرکاری ادارے، ذرائع ابلاغ، تاجروں کی انجمنیں اور چیمبر آف کامرس، سول سوسائٹی یہ سب جدید سماجوں میں طاقت و قوت کے اہم مراکز مانے جاتے ہیں۔ ان سے تعلق کم زور ہو تو ترقی کا سفر مشکل ہونے لگتا ہے۔ تجسیری سماجی سرمایہ اس تعلق کو مضبوط تر بناتا ہے۔ آپ کے تعلقات مختلف سماجی گروہوں،طبقات اور ذاتوں سے ہوں تو ہوسکتا ہے کچھ روابط آپ کو مختلف میڈیا کمپنیوں کے مالکوں پر اثر انداز ہونے میں معاون ہوں، کچھ سے آپ ریاستی و مرکزی حکومتوں اور وزراسے اپنے جائز حقوق حاصل کرنے میں مدد لے سکیں، کچھ بڑے تاجر آپ کو اپنی تجارت کی بہتری کے لیے دوسرے تاجروں یا بڑے گاہکوں سے جوڑنے میں مددگار ثابت ہوں۔[10]

۵۔ دوسری تمام قوتوں کا تعلق کسی نہ کسی درجے میں، تعلقاتی قوت سے ہے۔ تعلقاتی قوت آپ کی معاشی قوت میں اضافے میں مددگار ہوتی ہے۔ اس سے آپ کو اپنی علمی قوت بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ آپ کا تہذیبی ورثہ کتنا ہی شان دار ہو، ایک مخلوط سماج میں وہ اس وقت تک تہذیبی قوت نہیں بنتا جب تک آپ کے دوسرے تہذیبی گروہوں سے گہرے روابط نہ ہوں یعنی تعلقاتی قوت نہ ہو۔ افکار ونظریات بھی اسی وقت نظریاتی قوت بنتے ہیں جب وہ ملک کے مین اسٹریم میں زیر بحث آئیں اور پورے سماج کی رائے عامہ کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے لگیں۔ اس طرح تعلقاتی قوت کی حیثیت ایک ایسی قوت کی ہے جو باقی قوتوں کو فعال اور بار آور بناتی ہے۔ 

تجسیری اور ارتباطی سماجی سرمایہ 

تجسیری سماجی سرمایہ یعنی دوسرے گروہوں سے اچھے تعلقات کی اس اہمیت کے باوجود یہ بات نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ ارتباطی سرمایہ یعنی ملت کا اندرونی استحکام اور اس کا جسد واحد بنے رہنا بھی ترقی کی بھی ایک اہم ضرورت ہے۔ یہ بات اب جدید سماجیات کے مسلمّات میں سے ہے کہ دونوں طرح کے تعلقات نہ صرف ضروری ہیں بلکہ ایک دوسرے پر منحصر بھی ہیں۔ 

تجسیری سماجی سرمایہ اس وقت تک تشکیل نہیں پاتا اور مستحکم و مفید نہیں ہوپاتا جب تک ارتباطی سماجی سرمایہ مستحکم نہ ہو۔ ایک ایسے اسکول پروجیکٹ کا تصور کیجیے جس میں مختلف اجزا کو گوند کی مدد سے جوڑ کر دو چھوٹی گیندیں بنانی ہیں اور پھر ان گیندوں کو ایک پائپ یا تیلی کی مدد سے ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ اگر گیندوں میں متفرق اجزا مضبوطی سے نہ جڑے ہوں اور وہ سب مل کر ایک مضبوط گیند نہ بن گئے ہوں تو اسے دوسری گیند سے پائپ کی مدد سے جوڑنا ممکن نہیں ہوگا۔ ایک گیند دوسری گیند سے اسی وقت جڑ پائے گی جب وہ خود مضبوط ہو اور اس کے اجزا گوند کی مدد سے اچھی طرح جوڑ دیے گئے ہوں۔یہی حال سماجی گروہوں کا ہوتا ہے۔ ان کی ترقی کے لیے انھیں دو الگ الگ سطحوں پر مضبوط و مستحکم تعلقات رکھنے پڑتے ہیں۔ مسلمانوں کے معاملے میں ان کے درمیان ایک ایسا مضبوط تعلق جو انھیں جسد واحد بنادے۔اس تعلق کی بنیاد اسلامی فکر، عقیدہ اور اسلامی نصب العین ہوگا۔ یہ گوند ہوگا جس سے مسلم ملت ایک جسد واحد بنے گی۔ یہ گوند جس قدر مضبوط ہوگا،یعنی فکر و عقیدہ اور مقصد و نصب العین کی اساس پر ملت جس قدر باہم مربوط و متحد ہوگی، اس کا ارتباطی سرمایہ اتنا ہی زیادہ ہوگا اور یہ تجسیری سرمائے کے لیے اولین درکار شرط ہے۔[11]

ہندوستانی مسلمانوں کی صورت حال 

ہندوستان کی مسلم امت کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تجسیری اور ارتباطی سماجی سرمائے کے پہلو سے وہ آج بھی کم زور ہے۔ اس معاملے میں امت میں دو شدت پسند رویے پائے جاتے ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جن کا مطمح نظر صرف امت اور امت کے اندرونی حالات ہوتے ہیں۔ وہ بیرونی دنیا یعنی مجموعی طور پر پورے ملک کے سماج سے گہرے سماجی روابط کو ضروری نہیں محسوس کرتے۔ امت کو فکری و عملی اعتبار سے ایک گھیتو(ghetto) میں قید کردیتے ہیں۔ ان کے غور وفکر اور عملی کاوشوں کا محور و مرکز صرف امت کی اصلاح، اس کا تحفظ و سلامتی اور اس کی تعمیر و ترقی یعنی امت کے اندرونی حالات اور امت کو درپیش چیلنج اور مسائل ہوتے ہیں۔اس کے لیے ان کا پورا ارتکاز امت کے اندرون پر ہوتا ہے اور وہ یہ بات فراموش کرجاتے ہیں کہ خود امت کی ترقی اور اس کے تحفظ و سلامتی کا ایک بڑا تقاضا یہ ہے کہ اندرون کے ساتھ اس بیرونی دنیا پر بھی توجہ دی جائے جوامت کے احوال پر مسلسل اثر انداز ہورہی ہے۔ 

تاریخ کے مطا لعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی سے قبل، ہندوستان کے مسلمان تعلقاتی قوت یا تجسیری سماجی سرمائے کے اعتبار سے تہی دامن نہیں تھے۔ دیہاتوں میں مسلمان دوسرے طبقات کے ساتھ مل کر رہتے تھے۔ آبادیاں بہت زیادہ ایک دوسرے سے جدا نہیں تھیں۔ تجارتی، تمدنی اور تہذیبی تعلقات تمام طبقوں سے تھے۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو دوسروں سے مستفید ہونے کے بھی مواقع فراہم کر رکھے تھےاور اس کی وجہ سے مسلمان دوسروں کو اپنے علمی، تہذیبی، تمدنی اور دینی ورثے سے فائدہ پہنچانے اور ان پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں بھی تھے۔ 

آزادی کے بعد تقسیم ہند کی تلخیوں نے مسلمانوں کو ملک کی عام آبادی سے کاٹنا شروع کیا۔ بہتر مواقع کی تلاش میں اور پھر فسادات کے پیہم سلسلوں کی وجہ سے شہروں کی طرف مہاجرت کے سلسلے کا آغاز ہوا اور تحفظ و سلامتی کی ضرورتوں کی وجہ سے،شہروں میں گھیتو بننے لگے۔ شہروں میں کسی سماجی گروہ کی جو الگ آبادیاں بن جاتی ہیں، ماہرین سماجیات اس کی چار قسمیں بتاتے ہیں۔ گھیتو جو کسی نسلی یا تہذیبی گروہ کو بالجبر عام آبادی سے الگ تھلگ کرنے کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں، انکلیو(enclaves) جو کسی نسلی یا تہذیبی گروہ کے خود سے رضاکارانہ طور پر عام آبادی سے الگ رہنے کی ترجیح کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں، سلم (slums)جو نسلی یا تہذیبی وجہ سے نہیں بلکہ پسماندگی کی وجہ سے کسی گروہ کو عام آبادی سے الگ کرنے کا نام ہے اور سیٹاڈیل (citadels) جو اس لیے وجود میں آتے ہیں کہ مال دار اور خوشحال لوگ اپنے لیے عام آبادی سے الگ ’نخلستانوں ‘ کی تعمیرکرنا چاہتےہی۔[12] 

ہندوستانی مسلمانوں کی یہ منفرد کیفیت ہے کہ وہ علیحدگی کی متعدد کیفیات کے بیک وقت شکار ہیں اور درج بالا میں سے علیحدہ آبادیوں کے پہلے تینوں عامل ان کے یہاں پائےجاتے ہیں۔ مین اسٹریم آبادیوں نے بھی فسادات اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر گھروں کی خرید و فروخت کے رجحان کے ذریعے ان کو گھیتوؤں میں ڈھکیلا اورکئی جگہوں پر خود انھوں نے بھی تہذیبی اور مذہبی تحفظ و سلامتی کی ضرورتوں کے پیش نظر الگ رہنا پسند کیا اور اپنے انکلیو بنائے اور ساتھ ہی غربت و افلاس کی وجہ سے سلم علاقوں میں بھی ڈھکیلے گئے اور ان کے گھیتو اور انکلیو بھی سلم میں بدلتے گئے۔ 

اس کا نتیجہ ہے کہ اس وقت بڑے شہروں میں مسلمانوں کی بڑی آبادی عام آبادی سے الگ تھلگ ہوگئی ہے۔[13] اب یہ رجحان تیزی سے نسبتاً چھوٹے شہروں میں بھی عام ہورہا ہے۔ گذشتہ آٹھ نو برسوں میں اس عمل میں بڑی تیزی آگئی ہے[14]۔ آبادیوں کی دوری بتدریج سماجی اور تمدنی دوری کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔ چناں چہ یہ صورت حال بھی تیزی سے فروغ پارہی ہے۔ مسلمان آزادی کے بعد بتدریج اُس کامن اسپیس سے محروم ہوتے گئے جو کسی بھی سماجی گروہ کی فطری ترقی اور تمکین کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔ 

جغرافیہ کے بعد دوسرا بڑا عامل زبان ہے۔ ملک کے اکثر علاقوں میں مسلمانوں کی زبان،آبادی کی عام زبان سے مختلف ہے۔ اس نے بھی ان کو عام آبادیوں سے کاٹنا شروع کیا۔ آبادی کے ایک فعال عنصر نے دینی اداروں میں تعلیم حاصل کی جہاں غیر مسلم آبادی سے جُڑنے اور اس کو سمجھنے سمجھانے کا داعیہ ہمیشہ بہت کم زور رہا۔پھر یہی کیفیت جدید اداروں میں بھی پیدا ہونے لگی اور تعلیمی ترقی اور تہذیبی شناخت کی حفاظت کے تقاضوں نے خصوصًا شہروں میں جداگانہ تعلیمی اداروں کے رجحان کو فروغ دیا۔ مسلمانوں کی اکثر مذہبی تحریکوں نے بھی اپنی کاوشوں اور بیانیوں کو پوری طرح مسلمانوں میں مرکوز رکھا۔ خدمت خلق اور رفاہ عام کی کوششوں کا رجحان پیدا ہوا تو وہ بھی بیشتر مسلمانو ں ہی تک رہا۔ آزادی کے بعد ملک کے مختلف طبقات میں شناخت کی سیاست کے رجحان نے زور پکڑا۔ مسلمانوں نے اس کے اثرات بھی قبول کیے۔فرقہ پرستوں نے بھی مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی اور فرقہ وارانہ جارحیت کی پیدا کردہ دفاعی ذہنیت نے بھی سماجی اور تمدنی دوری کے رجحان کو تقویت دی۔اس دہرے اثر کے نتیجے میں ہندوستانی مسلمان عام آبادی سے کٹتے چلے گئے اورتاریخ کے ایک ایسے موڑ پر جب ہندوستان کی عام آبادی مختلف پہلوؤں سے تیزی سے ترقی و تمکنت کی منزلیں طے کررہی ہے، مسلمان اس ترقی کے ثمرات سے محروم ہیں۔ 

اس کے مقابلے میں ایک دوسرا انتہا پسندانہ رجحان بھی فروغ پایا۔ سیکولر اور لبرل مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو غیر مسلم سماج سے گہرے دوستانہ روابط رکھتی ہے اور امت سے بھی چاہتی ہے کہ وہ اپنے دائرے سے باہر نکلے اور مین اسٹریم کا حصہ بنے۔ ان کا مطمح نظر یہ ہوتا ہے کہ مذہب اور فرقے کے فرق کو مکمل طور پر فراموش کرکے مسلمان اس ملک کی عام آبادی کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں۔ وہ اس کے لیے اپنی تہذیبی اساسیات سے بھی دست بردار ہوجانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ مذہب اور تہذیب کو تشکیل معاشرہ اور ملت سازی کی اساس ماننے ہی سے وہ انکار کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چاہے تو ذاتی زندگی میں مذہب پر عامل ہو لیکن معاشرے اور سماج کی سطح پر مذہب کوئی فیکٹر نہ رہے۔ پورا سماج بلاتفریق مذہب و ملت ایک ہوجائے۔’ گنگا جمنی تہذیب‘ وغیرہ جیسی اصطلاحات اسی وژن کی دین ہیں۔ 

یہ لوگ اس اہم حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ دوسرے مذہبی و تہذیبی گروہوں سے امت کے اچھے روابط بے شک ضروری ہیں لیکن یہ روابط مسلم امت جیسے سماجی گروہ کے لیے اسی وقت معاون و مددگار ہوسکتے ہیں جب خود امت کا اندرونی ربط گہرا اور درست بنیادوں پر ہو اورامت مشترک تصور حیات، ملک کی تعمیر و ترقی کےمشترک وژن اور مشترک مقصد و نصب العین کی حامل ایک مضبوط ٹیم بن کر باقی ملک اور ملک کے مختلف سماجوں سے گہرا رشتہ استوار کرے۔ صرف مادی ترقی امت مسلمہ کا مطمح نظر نہیں ہوسکتا۔امت کا اصل ہدف تو آخرت کی کام یابی ہے جس کے لیے دینی اساسوں سے اس کی گہری وابستگی ناگزیر ہے۔ اس اہم حقیقت کے ساتھ ہم یہاں یہ بات بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خالص ترقی و تمکین کے مقصد کی خاطر بھی یہ رجحان مفید نہیں ہے بلکہ نقصان دہ اور مہلک ہے۔ 

معاصر سماجیات میں اب اس حوالے سے بڑے واضح نظریات سامنے آرہے ہیں۔ یہ بات عام طور پر تسلیم کی جارہی ہے کہ کسی سماجی گروہ کے اندر آپسی گہرے تعلق bonding social capital کے بغیر اس گروہ کے دیگر گروہوں سے یا ملک کے مین اسٹریم سے تعلقات bridging social capitalکی کیفیت مضبوط، پائیدار اور مفید و بارآور نہیں ہوسکتی۔[15] خلوط سرایت(mixed embeddedness) مخلوط سماجوں سے متعلق ایک اہم نظریہ ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مخلوط سماجوں میں اقلیتی گروہوں کی تعمیر و ترقی کی ایک ضروری شرط یہ ہے کہ ان کا سما ج میں گھل مل جانے کا معاملہ (embeddedness)دو سطحوں پر ہو۔پہلی سطح تو یہ ہے کہ اس کے افراد، اپنی کمیونٹی کا اہم حصہ بنیں، کمیونٹی کی اصل اساس مستحکم ہو اور اس سے افراد کا تعلق مضبوط ہو، اس طرح کہ وہ ایک دوسرے کے کام آسکیں اور مشترک خواب اور مشترک مفادات انھیں ہر وقت ایک دوسرے کے تعاون کے لیے تیار رکھیں۔ پھر وہ سب مل کر مجموعی سماج میں اس طرح گھلیں ملیں کہ مجموعی سماج کے وسائل اور اس کی قوتیں بھی ان کی قوت بن سکیں اور وہ مجموعی سماج کے لیے بھی مفید و نفع بخش بن سکیں۔[16]

قرآن مجید میں اس حوالے سے بڑی واضح رہ نمائی ملتی ہے۔ كُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ ایک مضبوط و پائیدار امت کی تشکیل پر دلالت کرتا ہے، أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اس بات کا اعلان ہے کہ اس امت کو باقی سماج (پورے ملک یا پوری انسانیت) سےتعلق قائم کرنا ہے۔ اور تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ امت سازی اور باقی انسانیت سے تعلق کے لیے ایک واضح نصب العین اور وژن پیش کرتا ہے۔ 

قرآن کے بیانات میں تعلق کی ایک سطح وہ ہے جو خاص مسلمانوں کے لیے ہے یعنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق اور گہری باہمی رفاقت کا حکم ہے۔ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق، تفرقے سے ممانعت، بنیان مرصوص بنے رہنے کا حکم[17] وغیرہ کا سیاق یہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ، دوسری سطح پر سارے انسانوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور رشتوں کا حکم ہے۔ ہمارے فقہاو مفسرین نے انسانوں کے درمیان تعلق کی تین سطحیں بیان کی ہیں۔ موالات (گہرا قلبی تعلق)، مواسات (ہمدردی، خیر خواہی اور نفع رسانی) اور مدارات( حسن اخلاق اور احترام و اکرام)۔ فقہا کے نزدیک موالات مسلمانوں کے لیے ہے۔ مواسات اُن غیر مسلموں کے لیے ہے جو برسر جنگ نہ ہوں اور مدارات سب کے لیے ہے۔[18] موالات کا ترجمہ جب دوستی اور تعلق خاطر کیا جاتا ہے تو اس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اس تصور پر بعض لوگوں نے تنقید بھی کی ہے۔ 

جن آیتوں میں خدا کے نافرمان بندوں سے ولایت کا تعلق نہ رکھنے کا حکم آیاہے اس کی تفسیر میں متعدد مفسرین نے یہ بات لکھی ہے کہ یہاں ولایت کا مطلب نصرت ہے یعنی کسی مشترک مقصد کے حصول میں معاونت۔[19] اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موالات کے تعلق کا مطلب وہ گہری باہمی رفاقت اور وہ مضبوط جذباتی بندھن ہے جو کسی مشترک تصورِ حیات، مشترک عقیدہ و اقدار، مشترک مقصد، مشترک خواب اور وژن اورمشترک ذمے داری کے احساس کے نتیجے میں انسانوں کے کسی گروہ میں پیدا ہوتا ہے۔ 

ہمارے خیال میں،یہی وہ چیز ہے جسے ابن خلدونؒ عصبیة کہتے ہیں[20] اور جسے جدید سماجی اصطلاح میں ارتباطی سماجی سرمایہ(bonding social capital) کہا جاتا ہےاور جس کی ضرورت وناگزیریت کو اب عام طور پر تسلیم کیا جارہا ہے۔ 

اس کے علاوہ قرآن نے تجسیری سماجی سرمایہ (bridging social capital)کے لیے بھی بڑی واضح بنیادیں فراہم کی ہیں۔ قرآن مجید میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مستحکم سماجی روابط کے بڑے واضح اشارے ملتے ہیں۔ موسیٰ اور ابراہیم علیہما السلام جیسے جلیل القدر انبیا غیر مسلم گھرانوں میں پرورش پاتے ہیں اور نبوت کے بعد بھی ان گھرانوں سے دعوتی تعلق کے علاوہ عام سماجی تعلق بھی برقرار رکھتے ہیں۔نوح(الشعراء 106)، صالح (الاعراف 73)،ہود(الاعراف 65)اور شعیب (ہود 84) جیسے جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کو اللہ نے قرآن میں ان کی قوموں کا بھائی کہہ کر یاد کیا ہے۔عام غیر مسلموں کے ساتھ قرآن واضح الفاظ میں بر و قسط (یعنی نیکی و بھلائی اور عدل و قسط) کا حکم دیتا ہے۔ (الممتحنہ 8) ان پر ظلم و ناانصافی کو قرآن بھی جرم قراردیتا ہے(المائدہ 8) اور نبی کریم ﷺ نے بھی اس کے لیے سخت وعید بیان کی ہے۔( اتقوا دعوة المظلوم وإن كان كافرا، فإنه لیس دونها حجاب۔[21] مظلوم کی بددعا سے بچو چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو کیوں کہ اسے اللہ تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی) 

تعلق کی ان دو سطحوں کا بڑا واضح ماڈل خود نبی کریم ﷺ کی سیرت میں ملتا ہے۔ آپ ﷺ نے اہل ایمان کو ایمان، مقصدیت اور اخوت کے گہرے رشتے میں باندھ کر انھیں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنادیا اور ساتھ ہی اس جماعت کے بھی اور اس کے ارکان کے بھی عام غیر مسلموں کے ساتھ مواسات اور مدارات کے مستحکم تعلقات قائم فرمائے۔ہجرت کے موقعے پر جب کفار قریش کے ساتھ کشمکش عروج پر تھی، اس وقت بھی آپ کے پاس ان کی امانتیں رکھی ہوئی تھیں۔[22]  متعدد صحابہ کے غیر مسلم تاجروں کے ساتھ تجارتی تعلقات حتی کہ مشارکت کے تعلقات بھی تھے۔حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ، عبد الرحمنؓ بن عوف، طلحہؓ، زبیرؓ کے تجارتی تعلقات نہ صرف مشرکین مکہ سے بلکہ شام اور بلاد روم کے اہل کتاب سے بھی تھے۔[23]حضرت عمر ؓ ان کے علاوہ فارس کے مشرکین کے ساتھ بھی تجارت فرماتے تھے۔[24] خود رسول اللہ ﷺ کے تجارتی تعلقات مکی دور میں ابو سفیان بن حرب اموی کے ساتھ تھے جو اس وقت مشرک تھے۔[25] صحابی رسول نعیمؓ بن عبد اللہ عدوی، مکے میں اپنی مال داری، فیاضی اور سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ کفار مکہ آپ کی فیاضی کے اس قدر احسان مند تھے کہ جب انھوں نے ہجرت کا ارادہ کیا تو معاشرے کے ضرورت مند لوگ جمع ہوگئے اور انھیں باصرار روکا کہ آپ چلے جائیں گے تو ہمارا کیا ہوگا،اس لیے آپ جو دین چاہیں قبول کریں لیکن یہیں رہیں۔کوئی ہم سب کو ختم کیے بغیر آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔[26] رسول اللہ ﷺ نے انھیں مکے میں ٹھہرے رہنے اور مکمل مشرکوں کے سماج میں (ہجرت کے بعد اب مکے میں مسلمان نہیں بچے تھے) فلاح و بہبود کے کام انجام دیتے رہنے کی اجازت دے دی تھی۔ اسی طرح آپﷺ نے عبد الرحمنؓ بن عوف کو مشرکوں کے ایک بڑے سردار اور اسلام کے سرکردہ دشمن، امیہ بن خلف کے ساتھ جاہلی دور میں کیے گئے ایک مخصوص معاہدے کو باقی رکھنے اور اس کی پابندی کرنے کی اجازت دی تھی جس کی رو سے دونوں ایک دوسرے کی جان و مال اور تجارتی و معاشی مفادات کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔اس معاہدے کی پابندی میں عبد الرحمن ؓ بن عوف نے غزوہ بدر میں امیہ کو بچانے کی بھی کوشش کی تھی۔[27]

مدینہ ہجرت کے بعد بھی غیر مسلموں سے یہ تعلقات باقی رہے۔ حدیث کے اکثر مجموعوں میں غیر مسلموں کے ساتھ تجارتی تعلقات سے متعلق مستقل ابواب موجود ہیں۔ صحیح بخاری میں مشرکوں اور اہل حرب کے ساتھ تجارتی تعلقات پر مستقل باب موجود ہے۔[28] اسی طرح مشرکوں کو اجرت پر کام دینے کے سلسلے میں، ان کے ساتھ شرکت و مزارعت کے تعلق کے سلسلے میں مستقل ابواب موجود ہیں۔[29] صحیح حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے اپنی زرہ رہن رکھ کر ایک یہودی سے قرض حاصل کیا تھا اور آپ کے وصال کے وقت قرض پر لیے ہوئے وہ جَو کے دانے گھر میں موجود تھے[30]۔ رسول اللہ ﷺ نے مشرکین کو تحفے تحائف بھی دیے ہیں اور ان کے تحفے قبول بھی فرمائے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی امام بخاری نے مستقل ابواب اپنی کتاب میں قائم فرمائے ہیں۔[31]

 مدینہ ہجرت سے پہلے آپ ﷺ نے آس پاس کے قبائل سے معاہدے کیے اور مشرک و اہل کتاب قبائل کی فوجی قوت اور وسائل کو گویا امت مسلمہ کی قوت و طاقت کا ذریعہ بنایا۔[32] غزوہ بدر کے بعد آپ ﷺ نے بعض کافر قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر فرمایا کہ وہ مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔[33] یعنی ان کی علمی صلاحیت سے استفادہ اور اس کی مسلم معاشرے میں منتقلی کا انتظام فرمایا۔ اس روایت کا تذکرہ کرتے ہوئے امام شافعی ؒ اپنے زمانے کے احوال پر تبصرہ کرتے ہیں کہ حلال و حرام کے علم کے بعد سب سے اہم علم، طب کا علم ہے مگر افسوس کہ اس پر یہودو نصاریٰ غالب آگئے ہیں اور مسلمانوں نے علم کا تہائی حصہ(یعنی علم طب) ضائع کردیا ہے اور اسے یہودیوں کے حوالے کردیا ہے۔[34]

ان تفصیلات سےیہ اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ ایک مخلوط سماج میں مسلمانوں کے تعلق کی مطلوب نوعیت کیا ہے؟ انھیں آپس میں گہرا تعلق قائم کرکے بنیان مرصوص بھی بننا ہے اور پھر اس بنیان مرصوص کا عام سماج سے یعنی غیر مسلم سماج سے رشتہ استوار کرنا ہے۔ گویا اسلامی نصوص ہم کو ارتباطی اور تجسیری سرمائے میں اسی توازن پر مبنی رویے کی طرف متوجہ کرتی ہیں جسے معاصر سماجی نفسیات میں تمکین و ترقی کا اہم تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ 

نافعیت یا قوت تبادلہ 

کسی گروہ کی سماج میں موجود دوسرے گروہوں یا ملک کی پوری آبادی کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت کا نام نافعیت ہے۔ جدید سماجیات اور اجتماعی نفسیات میں اسے قوت تبادلہ (exchange power)کہا جاتا ہے۔ یہ سماجی طاقت کا ایک اہم عنصر ہے۔ جب کسی گروہ کے اندر باقی سماج کو کچھ دینے اور نفع پہنچانے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے، اور دوسرے گروہ کسی معاملے میں اس پر منحصر ہونے لگتے ہیں تو یہ صورت حال ایک خاص قسم کا اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے۔اس کے کنٹری بیوشن باقی سماج کو شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کا احسان مند بنادیتے ہیں۔ سماجی نفسیات کا ایک مشہور اصول ’ تعامل بالمثل کا اصول‘ (principle of reciprocity)ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ سماج میں افراداور انسانی گروہ، احسان کا بدلہ اس سے بڑے احسان سے اور اذیت رسانی کا بدلہ اس سے بڑی اذیت رسانی سے دینے کی کوشش کرتے ہیں۔[35] چناں چہ آپ سماج کو کچھ دیں گے اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنائیں گے تو سماج بھی آپ کو کچھ دینا چاہے گا۔ اس سے آپ کی سماجی قوت بڑھے گی۔ 

اسلامی لٹریچر میں اس اصول کو بقائے انفع کا اصول کہا گیا ہے۔ اس اصول کا سرچشمہ اصلاًسورہ رعد کی یہ آیت ہے۔ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِیَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَابِیًا وَمِمَّا یُوقِدُونَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْیَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِثْلُهُ كَذَلِكَ یَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْأَرْضِ كَذَلِكَ یَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ (اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آ گئے اور ویسے ہی جھاگ اْن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنھیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں اِسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے جو جھاگ ہے وہ اڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ الرعد17) مولانا ابوالکلام آزاد نے اس کے علاوہ بھی قرآن مجید کی متعدد آیتوں کی تفسیر میں بقائے انفع کے اصول کا حوالہ دیا ہے۔[36] بلکہ بقائے انفع و اصلح کا اصول، قوموں کے عروج و فلسفے کے اُن کے فلسفے میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔اس اصول کی تائید نبی کریم ﷺ کی مشہور حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ أحبُّ الناسِ إلى اللهِ أنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ (اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو انسانوں کے لیے نفع بخش ہو۔[37]

نافعیت کے لیے تین خصوصیات درکار ہیں۔ 

 ایک نفع پہنچانے کی صلاحیت۔ باصلاحیت آدمی کا فائدہ زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ کم علم اور کم صلاحیت کا آدمی، زیادہ سے زیادہ اپنے دو چار پڑوسیوں کے روز مرہ کے مسائل حل کرسکتا ہے۔ لیکن ایک باصلاحیت ڈاکٹر سیکڑوں مریضوں کی جان بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر ایک عبقری سائنس داں اپنی ایجادات سے پوری بنی نوع انسان کے بڑے بڑے مسائل کوحل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ایک بڑا بزنس مین بہت سے انسانوں کے لیے روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک بڑاا دیب اور آرٹسٹ پوری آبادی کے دل کی آواز، ان کے جذبات کا ترجمان یا ان کا رہبر و رہ نما بن سکتا ہے۔ اس لیے صلاحیت کا معیار بلند ہو تو نافعیت بڑھتی جاتی ہے۔ گویا نافعیت کے لیے وہ قوتیں درکار ہیں جن کا اس سے قبل کے مضامین میں ہم جائزہ لے چکے ہیں۔ یعنی علمی قوت، معاشی قوت، تہذیبی قوت وغیرہ۔ 

دوسری خصوصیت جو مطلوب ہے وہ نفع پہنچانے کا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ نہ ہو تو بڑی سے بڑی صلاحیت بے فیض رہ جاتی ہے یا سرمایہ دار اُسے خرید کر بازار کے بے رحم اور بے فیض شکنجوں میں جکڑ لیتا ہے۔ یہ بھی نفع پہنچانے کے جذبے ہی کا ایک جز ہے کہ باصلاحیت آدمی، صرف اپنی ملت کے دائرے میں قید ہوکر نہ رہ جائے بلکہ پورے انسانی سماج کے لیے اس کے دل میں ہمدردی ہو اور ان کے رستے زخموں پر مرہم رکھنے کا جذبہ اسے مضطرب رکھے اوروہ ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگوں کو مستفید کرے۔نافعیت کا حوالہ ایک اور مشہور حدیث میں اس طرح آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا المؤمن یألف و یؤلف و لا خیر فیمن لا یألف، و لا یؤلف و خیر الناس أنفعهم [38](مومن دوسروں سے الفت رکھتا ہے اور دوسرے اس سے الفت رکھتے ہیں۔اس شخص میں کوئی خیر نہیں جو الفت رکھنے والا نہ ہو اور لوگوں میں بہترین تو وہ ہے جو انسانوں کے لیے نفع بخش ہو۔)اس حدیث میں واضح اشارہ موجود ہے کہ ایک مومن سے دوسرے انسانوں کے لیے انس و الفت کے ایسے جذبات مطلوب ہیں جو نفع رسانی کا سبب بن سکیں۔اس لیے نافعیت کی خاطر وہ قوت بھی مطلوب ہے جو اس مضمون میں زیر بحث ہے یعنی تعلقاتی قوت۔ 

تیسری خصوصیت اسلام سے گہری جذباتی اور مقصدی وابستگی ہے جسے ہم ’نظریاتی قوت‘ کے عنوان سے زیربحث لاچکے ہیں۔ اس لیے کہ دوسرے انسانوں کو نفع پہنچانے کا سب سے اہم ذریعہ یہ ہے کہ ان تک وہ پیغام حق پہنچے جو ان کی دنیا و آخرت کی نجات کا ضامن ہے۔ سورہ رعد کی محولہ بالا آیت میں بھی حق کو اصل نفع بخش چیز قرا ر دیا گیا ہے اور باطل کو ایسا جھاگ بتایا گیا ہے جو غیر منفعت بخش ہونے کی وجہ سے ثبات سے محروم ہوتا ہے۔ اہل اسلام کی جانب سے باقی دنیا کے لیے سب سے بڑا اور سب سے اہم تحفہ کوئی ہوسکتا ہے تو وہ خود دین اسلام ہے۔ 

خلاصہ 

مسلمانوں کی تمکین و ترقی کی ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ اسلامی فکر اور اسلامی نصب العین کی اساس پر متحد ہوکر جسد واحد بن جائیں (اس پر ہم اس سے قبل بحث کرچکے ہیں) وہیں ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ عام غیر مسلموں سے ان کے تعلقات مستحکم ہوں۔ فرقہ پرست طاقتیں ان کو عام سماج سے کاٹنا چاہتی ہیں۔ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس پروجیکٹ کو کام یاب ہونے نہ دیں اور ہر سطح پر مستحکم سماجی تعلقات کی طاقت ور مہم چلائیں۔ یہ جہاں ان کی ملکی اور منصبی مقصدی ذمہ داری ہے وہیں ان کی تمکین و ترقی کی ایک لازمی ضرورت بھی ہے۔ اس کے بغیر وہ تجسیری سماجی سرمایے سے اور تعلقاتی قوت سے محروم رہتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی باقی قوتیں بھی بے اثر ہوجاتی ہیں اور زوال، پس ماندگی اورضعف و کم زوری کی کیفیت اور مستحکم ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے موجودہ ملکی رجحان کو موڑنے کی کوشش کرنا ہندوستانی مسلمانوں کی ایک اہم ضرورت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ 

اس کے لیے متعدد محاذوں پر کام کرنے اور رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو نہ جغرافیائی گھیتوؤں میں قید ہونے دیا جائے اور نہ ذہنی، تمدنی اور سماجی لحاظ سے الگ تھلگ ہونے دیا جائے۔ بلکہ ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ آؤٹ ریچ اور مستحکم سماجی تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔ دینی مدرسوں میں بھی اس کی تربیت ہو۔ جہاں تحفظ و سلامتی کے سیریس مسائل درپیش نہیں ہیں وہاں مخلوط آبادیوں کی ہمت افزائی کی جائے۔ عام سماج کی زبانیں سیکھنے کی ہمت افزائی ہو۔ مشترک تعلیمی اداروں میں بچوں کو بھیجا جائے۔ خدمت خلق کے کاموں اور اداروں کو بلاتفریق مذہب و ملت سب کے لیے عام کیا جائے اور عام آبادیوں کی بھی زیادہ سے زیادہ خدمت کے رجحان کو تقویت دی جائے۔ مسلمان ریاستی اور قومی زبانوں میں اخبارات اور رسائل جاری کریں۔ مشترک تجارتوں کی کوشش کریں۔ میل جول اور خاندانی روابط کے استحکام پر توجہ دی جائے۔ عملی پروگرام کی تفصیلات کو فی الحال اس مضمون میں ہم نہیں چھیڑ رہے ہیں۔ تحریک اسلامی اس مقصد کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کام کو ایک عوامی تحریک بنادیا جائے۔ یہ مسلمانوں کی دعوتی و مقصدی ضرورت بھی ہے، ان کے تحفظ و سلامتی کا تقاضا بھی ہے اور ان کی تمکین و ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ 

 

 

[1] ملاحظہ ہو: 

Yvonne Rydin  (2014) Communities, networks and social capital’, in Nick Gallent, and Daniela Ciaffi (eds), Community action and planning: Contexts, drivers and outcomes; (Bristol, 2014; online edn, Policy Press Scholarship Online, 21 May 2015), 

[2] Peter Blau (2017). Exchange and Power in Social Life. United Kingdom: Taylor ‘ Francis.

[3] سید سعادت اللہ حسینی (2023) اشارات، زندگی نو؛ فروری 2023

[4] Robert D. Punam (Ed) (2002) Democracies in Flux; The Evolution of Social Capital in Contemporary Society; Oxford UK, pages 5-10

[5] R. D. Putnam,Feldstein,Cohen (2004). Better Together: Restoring the American Community. United Kingdom: Simon ‘ Schuster.Pages 1-5

[6] Social Capital and Poor Communities. (2002). United States: Russell Sage Foundation.

[7] Mark Granovetter(1973) ’’The Strength of Weak Ties.‘‘ American Journal of Sociology, vol. 78, no. 6, 1973, pp. 1360–80.

[8] اس بحث کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو ایک دل چسپ اور چشم کشا مطالعہ: 

Phil Wood and Charles Landry(2012) Intercultural City: Planning for Diversity Advantag; EarthScan; London.

[9]  Shakarian, Paulo., Bhatnagar, Abhivav., Aleali, Ashkan., Shaabani, Elham., Guo, Ruocheng. Diffusion in Social Networks. Germany: Springer International Publishing, 2015.

[10] Dalziel, P., Saunders, C., Saunders, J. (2018). Civil Society and Social Capital. In: Wellbeing Economics. Wellbeing in Politics and Policy. Palgrave Macmillan

[11] Agnitsch, Kerry ‘ Flora, Jan ‘ Ryan, Vern. (2006). Bonding and Bridging Social Capital: The Interactive Effects on Community Action. Community Development.

[12] Raphael Susewind (2017) Muslims in Indian Cities: Degrees of Segregation and the Elusive Ghetto; Environment and Planning A 2017, Vol. 49(6) 1286–1307

[13] اس موضوع پر درج ذیل کتاب حالیہ دنوں مین بہت مشہور ہوئی:

Laurent Gayer and Christophe Jaffrelot(2012) Muslims in Indian Cities: Trajectories of Marginalisation; Hurst; London.

[14] https://thewire.in/communalism/muslims-namaz-ramzan-noida-hindutva

[15] Agnitsch op. cit.

[16] اس تصور کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو:

Tine Davids, Marieke Van Houter: Emigration, Development and Mixed Embeddedness: An Agenda for Qualitative Research? In: International Journal on Multicultural Societies. Vol. 10, No. 2, 2008

[17] مزید تفصیل کے لیے اتحاد ملت سے متعلق ہماری بحث ملاحظہ ہو: سید سعادت اللہ حسینی (2023) اشارات، زندگی نو؛ فروری 2023 

[18] مولانا اشرف علی تھانوی؛ تفسیر بیان القرآن؛جلد اول؛ سورہ آل عمران آیت 28؛ مکتبہ رحمانیہ؛ لاہور؛ ص 226 

[19] فخر الدین رازی(1981) مفاتیح الغیب [تفسیر الکبیر]؛ جلد ۱۲؛ دارالفکر؛ بیروت؛ ص 30 الراغب الأصفهانی]1992 “المفردات فی غریب القرآن” دار القلم، الدار الشامیة – دمشق بیروت  ص885

[20] عصبیہ اور سماجی سرمایہ کے باہمی تعلق کی بحث کے لیے ملاحظہ ہو: سید سعادت اللہ حسینی (2023) اشارات، زندگی نو؛ دسمبر 2022 

[21]  رواه أحمد، فی مسندہ ،عن أنس بن مالك، الرقم: (٣ / ١٥٣) حسنہ الالبانی؛ سلسلة الأحادیث الصحیحة؛ ۷۶۷

[22]  عبد الملك بن ہشام(1955)السیرة النبویة؛ شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابی الحلبی وأولاده بمصر ص493

[23]  ملاحظہ ہو یاسین مظہر صدیقی صاحب کی یہ کتاب، اس میں فاضل مصنف نے ان صحابہ کی تجارتوں سے متعلق الگ الگ حوالے دیے ہیں۔ ڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی خطبات سرگودھا؛ شعبہ علوم اسلامیہ؛ یونیورسٹی آف سرگودھا؛ ص 157-158

[24] حوالہ سابق

[25]  حوالہ سابق  ص 157  بحوالہ بلاذری اور ابن کثیر

[26]  ابن عبدالبر(1992) الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب؛ المجلد الرابع؛ دارالجیل؛ بیروت؛ (ص 1507)

[27]  صحیح البخاری ؛كتاب الوكالة ؛ باب إذا وكل المسلم حربیا فی دار الحرب أو فی دار الإسلام جاز؛ رواہ عبد الرحمن بن عوف 

[28]  صحیح البخاری؛ کتاب البیوع؛  بَابُ الشِّرَاءِ وَالْبَیْعِ مَعَ الْمُشْرِكِینَ وَأَهْلِ الْحَرْبِ 

[29] صحیح البخاری؛ کتاب الاستجارۃ؛ بَابُ اسْتِئْجَارِ الْمُشْرِكِینَ عِنْدَ الضَّرُورَةِ أَوْ إِذَا لَمْ یُوجَدْ أَهْلُ الإِسْلاَمِ اور کتاب الشرکة، بابُ مُشَارَكَةِ الذِّمِّیِّ وَالْمُشْرِكِینَ فِی الْمُزَارَعَةِ 

[30]  صحیح البخاری؛ كِتَاب الشَّرِكَةِ؛بَابُ الرَّهْنِ عِنْدَ الْیَهُودِ وَغَیْرِهِمْ؛  روتہُ عائشۃ۔

[31]  صحیح البخاری؛ کتاب الھبہ، باب قبول الھدیہ منا المشرکین کتاب الھبہ، اور باب الھدایہ للمشرکین

[32]  راغب الحنفی راغب السرجانی؛ السیرة النبویة؛ دروس صوتیة قام بتفریغها موقع الشبكة الإسلامیة؛ص 16-17

[33]  مسند احمد(2216)؛ عبد اللہ بن عباسؓ؛ ؛ حسنہ احمد شاکر؛ تخریج 13482 

[34] شمس الدین الذہبی (1982)؛سیر أعلام النبلاء ؛ ج 10؛موسسۃ الرسالۃ؛ بیروت ص 57 

[35] Gouldner, A. W. (1960). The norm of reciprocity: A preliminary statement. American Sociological Review, 25(2), 161-178.

[36]  مولانا ابوالکلام آزاد؛ تفسیر ترجمان القرآن، اسلامی اکیڈمی ؛ لاہور؛ جلد 1ص 54؛ جلد 2 ص 138–/139،ص 339،ص 344

[37]  الطبرانی ؛المعجم الكبیر ؛ (3 / 209 / 2)  صححه الالبانی ’السلسلة الصحیحة‘۲۵۹۳

[38]  رواه الدارقطنی الجامع فی  ’الأفراد‘ و صححہ الألبانی  ’السلسلة الصحیحة‘ ١ / ٧١٢ 

اکتوبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau