ایک خط

سید نقی علیؒ

دارالسلام

۲۲؍رجب ۱۳۶۲ھ

برادرم! السلام علیکم، تمہارا خط آئے کافی دن ہوگئے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں تم کو جلد جواب نہ دے سکا۔ تم نے اپنے خط میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ ’’آپ جہاں ہیں اس کے قرب و جوار اور آپ کے مشغلوں سے واقف ہوناچاہتا ہوں۔‘‘ میرے لیے تمہاری اس خواہش کو پوری طرح پورا کرنا تو مشکل ہے۔ یہاں کی مصروفیات سے جو وقت بچ سکتا ہے وہ تو عموماً صفر کے برابر ہوتا ہے بس کھینچ تان کر اور تمہارے نام خط لکھنے کو بھی خدا کی طرف سے ذمہ داری سمجھ کر جواب دے رہا ہوں۔

ہم دارالسلام میں ہیں۔ یہ مقام امرتسر سے پٹھان کوٹ جانے والی ریلوے لائن کے کنارے سرناؔ اسٹیشن سے پانچ فرلانگ پر واقع ہے۔ یہاں سے پٹھان کوٹ چار میل اور امرتسر ۶۳ ترسٹھ میل ہے۔ چار ریل گاڑیاں اور پندرہ بیس موٹر بسیں روزانہ دونوں طرف جاتی ہیں۔ دارالسلام کی نوآبادی میں تقریباً پندرہ سولہ گھرانے ہیں اور چند دوسری عمارتیں۔ رہنے والوں میں سے ایک دو کو چھوڑ کر سب جماعت اسلامی کے ارکان ہیں۔ اسی نوآبادی میں ایک مسجد، ایک بڑا کنواں، دکان اور ڈاک خانہ بھی ہے۔ ڈاک خانے کا نام جمال پور فروٹ فارم ضلع گورداس پور ہے۔

دارالسلام سے ہمالیہ کی برف پوش چوٹیاں صاف نظر آتی ہیں۔ اوسطاً تیس میل کے فاصلے پر یہ سلسلۂ کوہ واقع ہے۔ کم بلند پہاڑ اور چھوٹی پہاڑیاں مشرق میں چار میل اور شمال میں آٹھ میل کے فاصلے سے دریائے راوی کے پار شروع ہوجاتی ہیں اور کشمیر کے پہاڑ شمال میں ہیں۔ آٹھ میل کے فاصلے پر دریاے راوی کے پاس سے جموں و کشمیر کی ریاست شروع ہوجاتی ہے۔ اسی جگہ راوی پر باندھ باندھ کر نہر نکالی گئی ہے۔ یہ نہر دارالسلام سے نصف فرلانگ کے فاصلے سے بہتی ہے۔ سرد، تیز رفتار پانی کی نہر 43½ گز چوڑی، گرمی میں ریت ہی ریت، اور جاڑے میں شیشے کی طرح کا صاف پانی۔ یہ پانی اتنا سرد ہوتا ہے کہ گرمیوں میں بھی اس پر برف کے پانی کا شبہ ہوتا ہے۔ اور واقعی ہوتا بھی ہے وہ برف کا ہی پانی، جو برف کی چوٹیوں سے راوی میں اور راوی سے نہر میں آتا ہے۔

دارالسلام کے قرب و جوار کا علاقہ بڑا سرسبز ہے۔ یہاں گرمیوں میں اتنی ہریالی نظر آتی ہے جتنی دوسرے علاقوں میں برسات میں ہوتی ہے۔ بس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین اپنے اندر کا سب کچھ اگلے دے رہی ہے۔ موسم سب سے اچھا جاڑوں کا ہوتا ہے۔ اس زمانے میں صحت اچھی ہوجاتی ہے۔ کھانا خوب کھایا جاتا ہے اور ہضم بھی خوب ہوتا ہے۔ سب کے چہرے سرخ و سفید ہوجاتے ہیں۔ پہاڑی گوجر جو مسلمان ہیں، برف باری کی وجہ سے پہاڑوں سے اتر آتے ہیں، ان کے ساتھ ان کی بھینسوں کے گلّے بھی ہوتے ہیں اور دودھ سستاہوجاتا ہے۔ اس زمانے میں بعض اوقات تپش پیما کا پارہ 34, 35درجے تک بھی گرجاتا ہے۔ اور یہ تو تم جانتے ہی ہوگے کہ 32درجے پر پانی برف بن جاتا ہے۔ گرمی کا موسم زیادہ سخت نہیں ہوتا۔ پارہ عموماً ایک سو دس سے اوپر کبھی نہیں جاتا، عموماً سو کے آس پاس رہتا ہے۔ البتہ حبس تکلیف دہ ہوتا ہے۔ برسات کا موسم یہاں کے اعتبار سے بہت خراب ہوتا ہے۔ حشرات الارض کی کثرت، بیماریوں کی زیادتی اور بارش کے تسلسل کی وجہ سے کام میں رکاوٹ، لیکن ایک بات یہاں کی زمین میں اچھی ہے کہ پانی کو خوب جذب کرتی ہے اور کیچڑ کم کرتی ہے۔ یہاں کی خاص پیداوار گیہوں ہے۔ اس کے علاوہ چاول، کپاس، مکئی، گنّا اور چنا بھی خوب ہوتا ہے۔ سبزیاں اور پھل تقریباً سب ہی ملتے ہیں۔

تم سوچ رہے ہوگے کہ یہ جگہ تو بڑی اچھی ہے، ہاں اچھی تو ہے لیکن سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس علاقے میں انسانی صحت اچھی نہیں رہتی جس کو دیکھو کسی نہ کسی مرض میں مبتلا رہتا ہے۔ یہاں کے لوگ صحت کے اعتبار سے پنجابی نہیں معلوم ہوتے۔

اچھا اب میرے مشغلے سنو، میں یہاں تمہاری ہی طرح کے لڑکوں کو پڑھاتا ہوں، اور اس کے علاوہ جماعتی کام کرتا ہوں۔ تم پوچھوگے جماعتی کام کیا؟ تو سنو!

یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ جماعت اسلامی کا مرکز آج کل دارالاسلام ٹرسٹ کی عمارتوں میں ہے۔ میں اس جماعت کا رکن ہوں۔ یہ بھی تم جانتے ہو کہ جب جماعت اسلامی ہے تو ظاہر ہے کہ اسلام کا کام جماعت کا کام ہے۔ اسلام کے معنی ہیں اطاعت۔ اس جماعت کا کام بھی اطاعت ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہر کام میں اور ہر بات میں قول سے اور عمل سے، تحریرسے اور تقریر سے۔ اور تم جانتے ہو کہ پوری اطاعت اسی وقت ممکن ہے جبکہ دل میں اللہ کا یقین اور خوف ہو۔ اور آدمی دنیا میں سوائے خدا اور رسول کے، کسی کی غلامی میں گرفتار نہ ہو۔ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ خود بھی اطاعت کرے اور دوسروں کو بھی اطاعت کی طرف بلائے۔ زمین کو اور زمین کے رہنے والوں کو جس خدا نے بنایا ہے اسی خدا کا قانون زمین پر جاری کرائے تاکہ خدا کے بندے اپنے بنانے والے کے قانون کی اطاعت کریں۔ جماعت اسلامی کے قیام کا مقصد بھی یہی ہے کہ انسانوں کو خدا کی بندگی اور اطاعت کی طرف لایا جائے اور یہ بندگی اور اطاعت صرف ظاہری نہ ہو بلکہ پوری پوری اور دل سے ہو۔ زندگی کے ہر معاملے میں، نماز، زکوٰۃ سے لے کر کھانے پینے، رہنے سہنے تک میں، بلکہ سیاست میں بھی اللہ کی اطاعت ہو اور دوسرے سارے کاموں میں بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں بلکہ بڑا مشکل ہے۔ خصوصاًآج کل جبکہ اسلام کے نام کو کافی سمجھا جاتا ہو اور کام کو چھوڑ دیا جاتا ہو، لیکن جب کلمہ پڑھ کر ہم نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا تو حالات کی شرط نہیں لگائی اس لیے حالات موافق ہوں یا مخالف، اپنی قوت بھر کوشش کریں گے کہ اللہ کے احکام دنیا کے اندر اس کے رہنے والوں پر جاری ہوں اور اللہ کی حکومت قائم ہو۔بس یہ ہے جماعت کا کام، بلکہ دراصل ہر مسلمان کا کام بھی یہی ہے۔ لوگ اس کو بھول گئے ہیں اور ہم ان کو پھر یاد دلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس ادائے فرض کے سلسلے میں یہاں بہت سے کام کیے جاتے ہیں۔ ایک رسالہ نکلتا ہے جس کا نام تم نے سنا ہوگا بلکہ دیکھا بھی ہوگا  ترجمان القرآن۔ اس میں قرآن کی ترجمانی اور موجودہ زمانے میںاسلام کی ترقی اور کامیابی پر عمدہ مضامین ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ جماعتی لٹریچر ہے۔ خطبات، پردہ، رسالۂ دینیات، تنقیحات وغیرہ کوئی پندرہ بیس بڑی اور اتنی ہی چھوٹی کتابیں ہیں۔ یہ سب بھی یہیں سے شائع کی جاتی ہیں۔ انگریزی میں ترجمے کا کام بھی تیزی سے شروع ہوگیا ہے۔ بعض ترجمے پہلے سے موجود ہیں۔ بعض اب کیے جارہے ہیں۔ پوری جماعت کی تنظیم کی دیکھ بھال بھی یہیں سے ہوتی ہے، جس کے لیے شعبہ تنظیم قائم ہے۔

اور ہاں تم یہ جانتے ہو کہ بڑوں کا کام آج ہے تو کل کے کام کرنے والے بچے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے بچوں کو تیار کرنا بہت ضروری ہے۔ اس کام کے لیے ایک درس گاہ قائم ہے۔ ابھی تو درس گاہ میں پڑھنے والے بہت تھوڑے ہیں اور پڑھانے والے بھی صرف دو۔ لیکن اللہ نے چاہا تو ایک دن یہ درس گاہ اتنی بڑی اور اتنی اہم ہوگی کہ اس کے مقابلے کی درس گاہ ان خصوصیات کے ساتھ ہندوستان کیا دنیا میں بھی نہ مل سکے گی۔ بہرحال یہ ہماری کوششوں پر اور خدا کی توفیق پر منحصر ہے۔ درسگاہ میں ہم جو نصاب پڑھانے کی کوشش کررہے ہیں، اور جو نصاب بنایا جانے والا ہے وہ خالص اسلامی ہوگا۔ قرآن اور حدیث کی رہ نمائی میں سارے قدیم و جدید علوم اس میں پڑھائے جائیں گے۔ یہاں تک کہ جوہری طاقت (atomic energy) کے جائز اور صحیح استعمال بھی سکھائے جائیں گے بلکہ ممکن ہے کہ ہمارے طالب علم اس سے بھی آگے بڑھ کر خدا کے دیے ہوئے دماغ کو استعمال کرکے خدا کی بنائی ہوئی ان قوتوں کو بھی استعمال کرنا معلوم کرلیں جو ابھی چھپی ہوئی ہیں۔

ہم نے اس درسگا ہ میں ایک رسالہ یا اخبار بھی جاری کیا ہے، اس کا ایک سال ۱۵؍جون کو پورا ہوجائے گا۔ اس کا نام  نور  رکھا گیا ہے۔ یہ کاپی سائز کے چھ یا آٹھ صفحات پر شائع ہوتا ہے۔ پہلے اس کو ہفتہ وار رکھا گیا تھا، اب اس کو پندرہ روزہ کردیا گیاہے۔ عیدالفطر، عیدالاضحی اور اجتماع دارالسلام کے موقع پر اس کے خاص نمبر بھی نکالے تھے۔ اب سالگرہ نمبر زیرِ ترتیب ہے۔ ابھی قلمی نکل رہا ہے ان شاء اللہ جب چھپے گا تو تم لوگوں کے ہاتھوں تک پہنچ جائے گا۔ اس میں تقریباً سارے مضامین لڑکوں لڑکیوں کے ہوتے ہیں، میں بس کہیں کہیں درست کردیتا ہوں۔ کتابت اور ادارت بھی لڑکوں کے سپرد ہے۔ ہمارے پرانے شمارے کا تازہ شمارے سے مقابلہ کیا جائے تو لکھنے والوں کی تحریر، زبان اور بیان میں بڑا زبردست فرق نظر آتا ہے۔ لڑکوں کو ان کی طبیعت کے لحاظ سے خود ہی مضمون کی سرخی سوچنے اور جو جی چاہے لکھنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس طرح ان کو مشق حاصل ہورہی ہے اور ان شاء اللہ اچھے اہلِ قلم ان میں سے نکل کر آئیں گے۔

اچھا بھائی خدا حافظ۔ اس خط کی معلومات سے میرے دوسرے شاگردوں اور جاننے والوں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔ ان سب کو سلام مسنون۔ فقط   ■

)بشکریہ الحسنات، ستمبر1947ء(

جون 2020

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau