ایک روسی دانشورکا قبولِ اسلام

انٹرویو: احمد عبد اللہ | ترجمہ: تنویر آفاقی

سیرجی جنات مارکوس روس اور خاص طور سے وہاں کے اسلامی حلقے کی معروف شخصیت ہیں۔ پہلے عیسائی تھے ، لیکن عیسائیت کے پیچیدہ عقیدے نے ان کے ذہن میں کئی سوالات پیدا کر دیے تھے جن کا جواب انھیں صرف اسلام ہی میں مل پایا اور ایک دن حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ پیشے سے صحافی ہیں اور مختلف اخبارات ومجلات میں لکھتے رہتے ہیں۔ فن وثقافت سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اس بات کے لیے کوشاں رہتے ہیں کہ معاشرے میں فن و ثقافت کا مثبت کردار ہو، چنانچہ متعدد ثقافتی سرگرمیوں میں شریک رہتے ہیں۔ سیرجی کا اعتقاد ہے کہ روسی الاصل مسلمان ،روسی قوم سے قریب ہونے کی وجہ سے ،اس تک اسلامی فکر پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ موصوف کا تعلق ایک سوویت فوجی خاندان سے ہے۔ ان کے والد جرمنی کے خلاف روس کی قومی جنگ میں شریک تھے۔ کویت کے معروف رسالے ماہانہ ’’المجتمع‘‘ نے ان سے ایک انٹرویو لیا ہے جس کا ترجمہ یہاں ایک مضمون کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اسلام کی جستجو کا سفر

دین اسلام کی جستجو کا میرا سفر بچپن ہی سے شروع ہو گیا تھا، کیوں کہ میں ایک ’’بڑے معبود‘‘ پر یقین رکھتا تھا، اگرچہ میں اس وقت اسے کوئی مخصوص نام نہیں دے سکاتھا۔ اس معبود کو جاننے کی راہ میںالحاد اور بے دینی کی تعلیم بھی میری فطرت کے لیے سدّ راہ نہیں بن پائی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہو گیاتھا کہ اس معبود کی اصلیت سے واقفیت حاصل کی جائے۔ چنانچہ اپنے احباب کے توسط سے میرا تعارف پادری ’الیگزینڈر مین‘ سے ہوا، جن کا تعلق آرتھوڈوکس چرچ سے تھا۔ اس طرح عیسائیت کے ساتھ میرا سفر شروع ہوگیا۔ لیکن اس زمانے میں میری مذہبی سرگرمیاں غیر قانونی سمجھی گئیں، اس لیے مجھے مذہبی سرگرمیوں سے روک دیا گیا اور 1982ء میں مجھے تین سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ میں نے قید وبند کے یہ تین سال منگولیا اور چین کی سرحد سے متصل جنوبی سائبیریا میں واقع جمہوریہ توفا میں گزارے۔

1985ء میں ماسکو واپس آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب گورباچوف کی جانب سے ’’پروستروئیکا‘ سے متعلق اعلان کے بعد سے بنیادی تبدیلیاں آنی شروع ہو گئی تھیں اور مذہبی فرقوں کو کام کرنے کی آزادی دے دی گئی تھی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد 1990ء میں مجھے ریڈیو روس میں ایک مذہبی پروگرام کی نگرانی کے لیے بلایا گیا۔ میرا مطمح نظر اس وقت واقع ہونے والی سیاسی تبدیلیاں نہیں تھا، بلکہ یہ تھا کہ اس پروگرام کے دوران مجھے اپنے عقیدے کے متعلق گفتگو کرنے کی آزادی کس حد تک حاصل ہے۔

لیکن باوجود اس کے کہ ملک میں بڑی تبدیلیاں واقع ہو گئی تھیں اور کمیونزم کا دور ختم ہو چکا تھا، یہ چھوٹا سا ریڈیو اسٹیشن سرکاری ریڈیو اسٹیشن میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس کی نشریات روس کے اکثر حصوں تک پہنچتی تھیں۔ چنانچہ مجھ سے کہا گیا کہ اس کے پروگرام کو وسعت دی جائے اور ریڈیو اسٹیشن کے اندر مذہبی پروگراموں کے لیے ایک مکمل سیٹ اَپ قائم کر دیا گیا۔ اب ہم مجبور تھے کہ ایک ایسا مذہبی پروگرام پیش کیا جائے جس میں روس کے اندر پائے جانے والے تمام مذاہب کی نمائندگی ہو۔ سرکاری ریڈیو سے پورے روس میں ایک مذہبی پروگرام نشر کرنے کی بنیاد سب سے پہلے میں نے ہی ڈالی۔

میں عیسائی پروگرام پیش کیا کرتا تھا نیز کیتھولک ،پروسٹینٹ اور بودھ مذہب سے متعلق پروگرام پیش کرنے والوں کی تلاش میں نے شروع کر دی تھی۔ لیکن سب سے بڑی مشکل اسلام سے متعلق مذہبی پروگرام پیش کرنے کے سلسلے میں تھی۔ اس لیے کہ ایسے ماہرین کا فقدان تھا جو ابلاغیات کے پیشے اور دین اسلام کی معلومات دونوں سے لیس ہوں۔ اس کے باوجود ہم نے پروگرام کے آغاز کو چھ سال گزر جانے کے بعد لیلیٰ حسینوف کی قیادت میں ایک ایسی ٹیم تیار کر لی جو روس میں اسلام اور مسلمانوں پر مستقل پروگرام تیار کیا کرتی تھی۔ اس طرح روس کی تاریخ میں پہلی بار ہر جمعہ کو ’’صوت الاسلام‘ کے نام سے اسلام کے متعلق پروگرام نشر ہوا کرتا تھا۔

یہ پروگرام اسلامی حلقوں کی اہم ترین شخصیات، جن میں اسلامی مفکرین، فلاسفہ اور مفتیان کرام شامل تھے، سے روابط اور روس کے بڑے مذاہب میں سے ایک کو ماننے والوں سے متعارف ہونے کا حقیقی ذریعہ تھا۔

قسمت نے یاوری کی

واقعی قسمت نے ہی مجھے اس راستے پر ڈالا تھا۔ دراصل میں اُس وقت عیسائیت سے متعلق پروگرام نشر کیا کرتا تھا اور مذہبی پروگراموں کا چیف ایڈیٹر تھا۔ میں اپنے پروگرام کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے مذاہب کے متعلق جو پروگرام پیش کیے جاتے تھے ، انھیں بھی اور خاص طور سے اسلام سے متعلق پروگرام کو توجہ سے سنا کرتا تھا۔ میںخود یہ محسوس کرنے لگا تھا کہ اسلام براہ راست مجھے متاثر کر رہا ہے۔ اس کے بعد ایک واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے معاملہ بالکل تلپٹ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ لیلیٰ حسینوف نے پروگرام کی نشریات سے یہ کہہ کر ہاتھ کھینچ لیا کہ مسلسل چھ سال تک اس پروگرام کو پیش کرتے کرتے اکتا گئی ہے۔ اس طرح سے اسلامی نشریات کا سلسلہ رک گیا۔

اس وقت کے وزیر اعظم وکٹر چرنو میردین نے ریڈیو نشریات کے مدیر سیرجی ڈیوِڈ سے رابطہ کر کے ان سے مطالبہ کیا کہ اسلامی نشریات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے۔ ان کا یہ مطالبہ اس بنیاد پر تھا کہ اس کے رک جانے کی صورت میں روس کی داخلی سیاست پر اس کا منفی اثر پڑ سکتا تھا، کیوں کہ روس میں تقریباً بیس ملین مسلمان رہتے تھے۔ مجھ سے کہا گیا کہ میں اپنی آواز کو بدل کر کسی مجہول نام سے پیش کروں۔ میں نے اس پر اعتراض بھی کیا، کیوں کہ میں آرتھوڈوکس عیسائیوں کے یہاں اچھی طرح معروف تھا۔ اس کے باوجود مذہب اسلام کے ساتھ میرا سفرعملی طور پراس پروگرام کے توسط سے شروع ہوگیا۔ انڈری حسانوف کے نام سے میرا اس پروگرام کے شعبے میں ٹرانسفر ہو گیا۔ میرے لیے اس نام کے انتخاب کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔ میرے لیے تو اہم یہ تھا کہ میں ایک طرف اسلام اور دوسری طرف روسی تہذیب کے درمیان پُل کا کام کروں۔

اس مقصد کے لیے مجھے اسلامی تہذیب و ثقافت کے بارے میں زیادہ ہی چھان بین کرنی پڑتی تھی اور پروگرام میں پیش کرنے کے لیے عربی اور اسلامی موسیقی سے بھی واقفیت حاصل کرنی پڑتی تھی۔ اسلامی شخصیات سے بھی زیادہ سے زیادہ تعارف حاصل ہوا اور اس طرح میں اسلامی ثقافت کے کسی ماہر کی طرح ہو گیا۔ لیکن یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ تمام لوگوں سے آواز کو چھپانا ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ میرے دوستوں نے یوں کہنا شروع کر دیا کہ ’’ہمیں یقین ہے کہ تم نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ‘‘میں نے قطعی طور پر اس بات سے انکار کیا، کیوں کہ اس وقت تک اسلام قبول کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں نے انھیں سمجھایا کہ میں تو صرف اسی طرح اپنی ڈیوٹی ادا کر رہا ہوں جس طرح تاریخ کا کوئی ماہر کیا کرتا ہے۔ لیکن مذہب کی یہ تبدیلی بھی عملی طور پر 2000ء میں اس وقت ہو ہی گئی جب ایک روز رات کے وقت میرے ذہن میں گھومنے والے افکار کی وجہ سے میرا سر چکرانے لگا۔ اس وقت جو سوال میرے ذہن پر بار بار مسلط ہو رہا تھا، وہ یہ تھا کہ کیا میں واقعی اسلام قبول کر لوں گا۔ ‘‘

کیا مجھے حقیقت کی تلاش نہیں تھی

میں نے (گزشتہ سطروں میں)ذکر کیا کہ پروگرام کی تیاری کے سلسلے میں مجھے دین اسلام کا مطالعہ ایک طرح سے گہرائی کے ساتھ کرنا پڑتا تھا۔ اس مطالعے کے دوران مجھے بہت سے ایسے سوالات کے جوابات مل گئے جو عیسائیت کے سلسلے میں مجھے پریشان کرتے تھے۔ مثلاً رب اور بندے کے درمیان تعلق کی نوعیت، تثلیث کا نظریہ اورحضرت عیسیؑ سے متعلق بہت سے سوالات۔ چنانچہ حضرت عیسیؑ سے محبت کے باوجود میں یہ نہیں سمجھ پاتا تھا کہ لوگ انھیں معبود کیوں خیال کرتے ہیں؟

مسئلۂ توحید اور عیسیؑ سے اس کے تعلق نے اسی طرح میری بھی نیند اڑا دی تھی جس طرح یہ مسئلہ دوسرے بہت سے عیسائیوں کی نیند حرام کیے رہتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ اسلام کے اندر یہ تمام مسائل انتہائی ہلکے پھلکے ہیں اور ان میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ مجھے ان تمام سوالوں کا واضح جواب مل گیا تھا۔ اسلام کی دوسری بات جو مجھے بہت اچھی لگی، وہ اس کا طریقۂ عبادت اور خاص طور سے حالت ِسجدہ ہے۔ سجدے کے بارے میں میرا تصور پہلے سے ہی یہ تھا کہ سجدہ اللہ کے سامنے اپنی بندگی کے اظہار کی معراج ہے۔ جس وقت آپ اللہ کے سامنے اپنی پیشانی ٹیکنے کے لیے گھٹنوں کے بل زمین پر گرتے ہیں اور اپنے وجود کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں، وہ بڑی شاندار چیز ہے۔

میں اپنی بات کی طرف واپس آتا ہوں۔ میرے اندر چلنے والی شعوری کشمکش کے باوجود اور باوجود اس کے کہ اسلام قبول کرنے کے تعلق سے سوال میرے اوپر بار بار مسلط ہو رہا تھا، مجھے نیند آگئی۔ نیند کی حالت میں ہی کسی پکارنے والے کی آواز سنائی دی جو کہہ رہا تھا: ’’ تیرا یہ سوال غلط ہے۔ کیوں کہ تیرے اندر اتنی استطاعت نہیں ہے کہ تواسلام قبول کر سکے، وہ تو اسلام ہے جس نے تجھے قبول کر لیا ہے اور اپنا بنا لیا ہے۔ ‘‘ اتنی بات سننے کے بعد ہی میری آنکھ کھل گئی۔ اور میری زبان سے نکلا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ ‘‘میری سمجھ میں آگیا کہ وہ صرف اللہ ہی ہے جو کسی کے دل کو اسلام کے لیے کشادہ کر دیتا ہے۔

ابھی سفر جاری تھا

ایسا نہیں تھا کہ معاملہ یہیں ختم ہو گیا ہو۔ کیوں کہ سماج کی طرف سے اس پر جو ردعمل آسکتا تھا، میں اس سے ڈرا ہوا تھا۔ آرتھوڈوکس عیسائی حلقے میں میری حیثیت ایک معروف شخصیت کی تھی۔ روس کے پیٹریارک ’الیکسی دوم‘ سے میرے براہ راست تعلقات تھے، بلکہ میں نے مذہبی پروگرام کا آغاز بھی انھی کی مبارک شخصیت کو مدعو کر کے کیا تھا۔ اس طرح پے در پے بہت سے سوالات مجھے پریشان کرنے لگے۔ لیکن میںنے اپنے دل میں یہ فیصلہ کیا کہ زندگی کا روحانی پہلو قابل ترجیح ہے۔ رہے دوسرے مسائل ، تو میں انھیں زمانے اور دنیا کے رحم وکرم پر چھوڑتا ہوں۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ علی بلوسین سے مشورہ کیا جائے، جو کہ مجھ سے پہلے اسلام قبول کرچکے تھے۔ وہ خود ایک معروف مذہبی شخصیت تھے۔  آرتھوڈوکس چرچ میں پادری رہ چکے تھے اور ایک فلسفی و مفکر کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی اور میری صورت حال یکساں تھی۔ لیکن انھوں نے بعض ایسے امور کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا، جو ان کے ساتھ مخصوص تھے۔ انھوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اپنے قبول اسلام کا اعلان نہ کروں اور اس کے لیے مناسب وقت کا انتظار کروں۔

اس دوران میں نے اپنی دینی فرائض کی ادائیگی شروع کر دی۔ اور باوجود اس کے کہ میرے اکثر دوستوں اورمقربین نے مجھ سے قطع تعلق کر لیا تھا، میرے اندر تبدیلی کا عمل مسلسل جاری رہا۔ البتہ سفر حج، جس کا پروگرام میں نے پہلے سے نہیں بنا رکھا تھا، اس نے میرے نفسیات پر گہرا اثر ڈالا، کیوں کہ وہاں مجھے متعدد شخصیات سے ملنے کا موقع ملا۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے اسلام قبول کر رکھا تھا۔ اور یہ اللہ کی جانب سے توفیق اور اس بات کا پیغام تھا کہ میں اس راہ کا تنہا راہی نہیں ہوں۔

راہ کٹھن تھی

حقیقت میں انفرادی اور اجتماعی، دونوں پہلو سے اسلام قبول کرنا میرے لیے بہت مشکل تھا۔ کیوں کہ میں نسلی اعتبار سے روسی ہوں، شاعر بھی ہوں، روسی زبان سے مجھے محبت ہے، اسی زبان میں لکھتا ہوں، اپنے وطن سے بھی محبت کرتا ہوں۔ نفسیاتی اعتبار سے یہ میرے لیے مشکل تھا کہ ایک ہی لمحے میں ان تمام چیزوں کو خیرباد کہہ دوں اور کسی ایسی تہذیب سے وابستہ ہو جائوں جو اس تہذب کے بالمقابل ہے جو میری جانی پہچانی ہے اور جس سے مجھے عشق ہے۔

دوسرے پہلو سے، میں نے اسلا م قبول نہیں کیا تھا بلکہ اسلام نے مجھے قبول کیا تھا۔ اس بات سے میں نے یہ سمجھا کہ مجھ سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ میں دونوں تہذیبوں کے درمیان موازنہ کروں۔ میں مسلمان ہوں، لیکن بیک وقت قومیت، مزاج اور تہذیب کے اعتبار سے روسی بھی ہوں۔ میرا دل اس بات پر مطمئن ہو گیا کہ مجھ سے یہ مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے کہ میں اپنی اس تہذیب سے دست کش ہو جائوں جس میں رہ کر میری پرورش ہو ئی ہے۔ کیوں کہ اسلام قبول کرنے والوں میں اگر عرب کے رہنے والے صحابہ تھے تو دوسری طرف فارس کے سلمانؓ، حبشہ کے بلالؓ اور روم کے صہیبؓ بھی تھے۔ ان میں سے ہر شخص الگ الگ تہذیب سے آیا تھا۔ مسلمان سے تو صرف یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے دین میں گم ہو جائے تاکہ اپنی قوم کے درمیان اسلام کو اس کی اسی زبان میں پیش کر سکے جسے قوم کے افراد سمجھتے ہیں۔

مارچ 2014

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau