Opens in a new tab

مولانا مودودى كا ایك غیر مطبوعہ خط

برادر محترم ڈاكٹر سكندر على اصلاحى صاحب  (لكھنؤ) 10؍اگست 2026 كو ضلع بارہ بنکی بھارت کے ایک گاؤں تھلواڑہ گئے تھے۔ اس بستى سے چودھری شفیع احمد بن چودھری حمید احمد صاحب كا تعلق تھا جو 1942 میں  جماعت اسلامی کے رکن ہوئے تھے اور تشکیل جدید کے بعد 1948 میں مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ آپ كا نام  روداد میں ملتا ہے۔ ڈاكٹر سكندر علی  صاحب كى فراہم كردہ معلومات كے مطابق، چودھری صاحب کا انتقال 18؍اکتوبر 1981 میں ہوا۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا سید ابوالحسن علی ندوی اور مولاناعبدالماجد دریابادی وغیرہ اس گاؤں میں  تشرىف لےجاچكے ہىں۔ان کے پوتے محمد انس ندوی کی عنایت سے اس خط کا انہوں نے فوٹو حاصل کیا۔ برادرم محترم رضوان احمد فلاحی، مقیم لندن نے یہ خط مع عکس کے برائے اشاعت ارسال فرمایا، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ تحریک کا کام کرنے اور اس کام کے نشیب و فراز کا سامنا کرنے والوں کے لیے خط میں بہت سے بصیرت افروز نکات ہیں۔(مدیر زندگی نو)

رسالہ ترجمان القرآن ماہوار

جمال پور ، پٹھان کوٹ ، پنجاب

شمارہ:416/64                 مؤرخہ: 7 ؍صفر ۶۴ھ[21 ؍جنورى 1945]

محترمى و مکرمی                          السلام علیکم در حمۃ اللہ وبركاتہ

عنایت نامہ مورخہ 17 ؍محرم بروقت مل گیا تھا اور جو اب بھی آپ کو بروقت مل جاتا بشرطیکہ آپ یہ شرط نہ لگاتے کہ جواب میں اپنے ہی قلم سے دوں۔ تاخیر جواب کی ذمہ داری بس اس شرط کے سر ہے۔ جو لوگ میرے قلم سے جواب چاہتے ہیں ان کے لیے اب یہ مقدّر ہو چکا ہے کہ ان کی خدمت میں جواب بدىر حاضر ہو کیوں کہ میرے اوپر کام کا بوجھ حد سے بڑھ گیا ہے اور جب میں کام سے فارغ ہوتا ہوں تو اتنی ہمت نہیں رہتی کہ پھر قلم وکاغذ كا شغل كچھ اور دىر جاری رکھ كر خطوط كے جوابات لکھوں۔

لكھنؤ کی حالت مجھے معلوم ہے اور مجھ کو اس کا بڑا افسوس ہے، مگر جب تلک وہاں کوئی اىسا شخص نہ مل جائے جو قیادت کی اچھی صلاحیت رکھتا ہو اور قابل اعتماد بھی ہو اس وقت تک وہاں جماعت کو از سر نو قائم کرنا مناسب نہ ہوگا۔ سردست یہی صورت بہتر ہے کہ جو لوگ واقعی ہمارے ہمدرد ہیں، باہم ملتے رہیں اور آپس کے مشورے سے دعوت کا کام جاری رکھیں۔ آپ بھى ان سے مراسلت اور شخصى رابطہ قائم رکھیں اور جب کوئی صاحب نظر اور صاحب علم آدمی آپ کو لكھنؤ میں کام سنبھالنے کے لیے مل جائے تو مجھے اطلاع دیں۔ میں آپ کی رپورٹ پر غور کر کے اندازہ کرلوں گا کہ جماعت کو ازسرنو قائم کرنے كے لىے زمین تیار ہو چکی ہے یا نہیں۔ ایک جگہ جہاں کام بگڑ چكا ہو وہاں دوباره اسے شروع كرنے مىں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔

آپ خود اپنے کام کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں۔ ایک حصہ تو خود اپنے قریبی ماحول سے متعلق ہونا چاہیے اور اس میں آپ خود اپنی بستی میں دعوت کو عام کریں اور لوگوں کو اس دعوت کے مزاج کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں، پھر ان لوگوں کے ذرىعہ سے بتدریج آس پاس كى بستیوں میں کام کو پھىلاتے چلے جائیں۔ دوسرا حصہ یہ ہونا چاہیے کہ اودھ میں مختلف مقامات پر جائیں اور وہاں عوام کو نہیں بلکہ خواص کو اس تحریک سے روشناس کرائیں، لٹریچر پھیلائیں اور ان اشخاص کو تلاش کرنا شروع کریں جو آپ کی طرح اپنے اپنے مقامات پر دعوت عام کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوں۔

ان دونوں کاموں کی رپورٹىں آپ وقتاً فوقتاً یہاں بھیجتے رہیے۔ میں بفضل خدا بخىر ہوں اور آپ کے حق میں دعائے خیر کرتا ہوں۔

ىہاں كے رفقاء کی طرف سے آپ اور آپ كے رفىق سفر کو سلام۔

خاكسار

ابوالاعلى

مکری و محترمی   السلام علىكم ورحمۃ الله

اپنی ماہ وار رپورٹ ارسال فرمائیں۔ نیز بارہ بنكى مىں جناب ہدایت علی صاحب منیجر تعلقدار فرم نہایت مخلص ہمدرد جماعت ہیں۔ ان سے ربط قائم كىجىے اور ملتے رہىے۔

خاكسار

طفیل محمد

ادارتی نوٹ:

چودھری شفیع احمد صاحب کے بارے میں ان کے ساتھی مولانا عبدالغفار ندوی مرحوم لکھتے ہیں:

چودھری شفیع احمد مرحوم بقیہ السلف میں سے تھے۔ قدیم رفقا اچھی طرح واقف ہیں۔ کئی سال سے فالج کے حملہ میں صاحب فراش تھے۔ اسی اگست میں دوبارہ فالج کا شدید حملہ ہوا جب سے بات چیت غذاوغیرہ تقریباً بند ہو گئی تھی۔ آخر ۱۶-۱۷ کی درمیانی شب میں دنیا کی الجھنوں سے نجات پانے کا وقت آ گیا اور اپنے رب سے جا ملے۔

مرحوم اپنی وجاہت و جسامت میں ممتاز، وضع قطع میں نمایاں، دینی معاشرت اور جزوی فکر و رائے میں کم نظیر اور اپنے طرز و مذاق میں منفرد تھے۔ فطری طور سے جرات و بے باکی، صاف گوئی اور شدت پسندی بھی پائی جاتی تھی مگر ظریفانہ طبیعت کے ساتھ مزاج میں یک گونہ تفنن بھی تھا اسی لیے تشدد اور کٹرپن بھلا ہی لگتا تھا۔

اپنے ان ہی طبعی اور فطری اوصاف کے ساتھ مرحوم جماعت کے دعوتی تنظیمی اور تربیتی امور میں ہمیشہ سرگرم رہے اور کبھی پیچھے نہیں آئے۔

۴۳ء میں جماعت سے وابستہ ہوئے۔ تقسیم سے قبل شوری کے رکن رہے۔ تقسیم کے بعد حلقہ اودھ اور حلقہ لکھنؤ کے نام اعزازی قیم حلقہ رہے۔ مجلس نمائندگان میں ۱۹۶۸ء تک شریک ہوئے۔ اس کے بعد صحت سے معذور ہو گئے تھے۔ جماعتی احباب اور تحریکی سرگرمیوں کا ذکر والہانہ انداز میں کیا کرتے تھے۔ خاتمہ بالخیر کے لیے دعا اور موت کا ذکر بھی خوب کرتے تھے۔( دعوت، ۴ نومبر، ۱۹۸۲ء)

یہاں یہ وضاحت بھی برمحل ہوگی کہ ”تشکیل جماعت اسلامی کیوں اورکیسے “ نامی کتاب میں شفیع احمد صاحب کا نام سب جگہ محمد شفیع درج ہے۔ یہ مصنف کا سہو ہے۔ اصل نام شفیع احمد ہے۔

اس خط کے مطالعہ کے بعد جناب ہدایت علی صاحب کے بارے میں جاننے کی جستجو پیدا ہوئی۔ ذہن اس طرف گیا کہ یہ ملیح آباد والے ہدایت علی صاحب ہوسکتے ہیں جنھوں نے جماعت اسلامی ہند کی تشکیل کے وقت آم کا بڑا باغ اور مکان وغیرہ جماعت کو عطیہ کیے تھے۔ ان کے بیٹے عبدالحق صاحب کو جو خود بہت معمر ہیں اور بمبئی میں مقیم ہیں، فون کیا۔ انھوں نے تصدیق کی اور بتایا کہ والد صاحب تھے تو ملیح آباد کے مگر بارہ بنکی کے تعلقدار کے مینیجر تھے۔ البتہ ان کے مطابق اس خط میں ”فرم“ کا لفظ کسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اس خط کے طفیل مرحوم ہدایت علی صاحب کے بارے میں بھی معلومات میں خوش گوار اضافہ ہوا۔ چودھری شفیع احمد صاحب کی طرح مرحوم ہدایت علی صاحب بھی جماعت اسلامی کی تاریخ کی اہم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ہمارے سبھی بزرگوں کی خدمات قبول فرمائے۔

(محی الدین غازی)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

مولانا مودودى كا ایك غیر مطبوعہ خط

حالیہ شمارے

اکتوبر 2026

شمارہ پڑھیں

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223