… اور ماحول بدل گیا!!

بنارس سے نئی دہلی کے لیے ٹرین اپنے صحیح وقت پر روانہ ہوئی۔ ڈبے کے تمام مسافر اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے۔ تھری ٹائر سلیپر کا ڈبہ تھا اس لیے وہی لوگ اس میں سوار ہوئے جن کی سیٹیں رزرو (Reserve)تھیں۔

ٹرین اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ کچھ دیر کے بعد مسافر باہم گفتگو میں مصروف ہوگئے، جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد گفتگو کا موضوع اور ایجنڈا بدلتا رہا۔ پہلے ریلوے منسٹر کی تعریف سے گفتگو کا آغاز ہوا۔ سبھی لوگو ں نے تعریف کرتے ہوئے اپنے تاثرات اس طرح بیان کیے کہ ریلوے منسٹر نے اپ گریڈ کی اسکیم لاگو کرکے عام لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ کسی نے کہا کہ پچھلے کئی سالوں سے کرائے میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ کسی نے کہا کہ ریلوے انکوائری کا سسٹم نہایت عمدہ ہوگیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس موضوع سے جب لوگ اُکتا گئے تو ملک میں پھیلی بدعنوانی اور کرپشن پر گفتگو ہونے لگی۔ لوگ اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں گفتگو کرنے لگے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ملک کے تمام اصحاب حل وعقد یہاں موجود ہیں اور سارے مسائل آج ہی حل کرلیں گے۔ حالانکہ اگر تحقیق کی جائے تو کتنے ہی مسائل انھیں لوگوں کے پیدا کردہ ہوں گے۔ ملک کے بلکہ دنیا کے سب سے بڑے مسئلے ’’دہشت گردی‘‘ پر گفتگو بھلا کیسے نہ ہوتی۔ چنانچہ اس پر بھی لوگ خوب بولے۔ کسی نے سیاست دانوں کو اس کی وجہ قرار دیا تو کسی نے مذہبی جنون اور قدامت پسندی کو۔ مسلمانوں کے خلاف کھل کر تو نہ بولے مگر اشارے کنائے میں ضرور گفتگو کی۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس ڈبے میں مولانا ۔۔۔ صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ شاید ان کا لحاظ کیا۔ بہرحال ہم ہندوستانیوں میں کچھ نہ کچھ شرم و لحاظ باقی ہے۔ لوگ مولانا صاحب کو دیکھ کر محتاط بھی تھے کہ کہیں۔۔۔ نہ ہوں۔ اس لیے ان پر پوری نظر رکھے ہوئے تھے۔ ایک دو لوگوں نے کچھ کانا پھوسی بھی کی۔ پتا نہیں کیا بات کی۔

گاڑی ایک اسٹیشن پر رکی اور چند منٹ کے بعد پھر روانہ ہوئی۔ ابھی گاڑی نے پوری رفتار بھی نہ پکڑی تھی کہ ایک خاتون زور سے چلائی۔ پکڑو پکڑو، ابھی لوگ سمجھ پاتے اتنی دیر میں کوئی چور اچکا اس خاتون کا پرس لے کر بھاگ چکا تھا اور چلتی ٹرین سے اترچکا تھا۔ ٹرین نے اپنی رفتار پکڑلی تھی۔ اس لیے اسے پکڑنا بھی ناممکن تھا۔ سبھی لوگ اس خاتون  کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ عورت کسی فوجی کی بیوی تھی۔ کسی مجبوری کے تحت اکیلے سفر کررہی تھی۔ اسے میرٹھ سے آگے کسی دیہات میں جانا تھا۔ اس ٹرین سے غازی آباد میں اتر کر آگے کا سفر بس سے کرنا تھا۔ اس کی ساری رقم اسی بیگ میں تھی جسے کوئی لٹیرا لے اُڑا تھا۔ وہ عورت بہت پریشان تھی۔ بڑی بے چین ہورہی تھی۔ اس کے اندر کی بے چینی، اس کے چہرے سے بالکل عیاں تھی۔ وہ سوچ رہی تھی اب کیا ہوگا۔ میں کیسے اپنی منزل پر پہنچوںگی؟میرے پاس تو ایک روپیہ بھی نہیں بچا۔جو کچھ تھا اسی بیگ میں تھا۔ اس بات کا اظہار اس نے اپنی زبان سے کر بھی دیا یا ہو گیا۔

اب لوگوں نے حسبِ عادت پھر تبصرے شروع کردیے۔ ایک صاحب گویا ہوئے: ’’ارے بھئی یہ سب پولیس کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔‘‘ کسی نے کہا:’’ایسے لوگوں کو تو پھانسی دے دینی چاہیے۔‘‘ ایک صاحب نے کچھ اور کہا، ایک صاحب نے کچھ اور۔ لوگوں کے تبصرے اس عورت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کررہے تھے۔ طرح طرح کے برے خیالات اس عورت کے ذہن میں آرہے تھے۔

مولانا صاحب جو خاموشی کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے، ذرا بلند آواز میں بولے، ارے آپ لوگ بھی بڑے عجیب لوگ ہیں۔ آپ لوگ صرف تبصرے ہی کرتے رہیں گے یا اس بہن کی کچھ مدد بھی کریں گے۔ یہ کہہ کر مولانا نے اپنی جیب سے کچھ رقم  نکالی اور اس عورت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ بہن فکر نہ کرو یہ پیسے رکھ لو۔ تم اِن شاء اللہ بہ آسانی اپنی منزل تک پہنچ جاؤگی۔ اس عورت نے پیسے لینے سے صاف انکار کردیا اور روتے ہوئے کہنے لگی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مجھے بھیک لینی پڑے گی۔ میں اچھے گھر کی عورت ہوں اور ایک فوجی کی بیوی ہوں۔ مجھے کسی مجبوری میں اکیلے سفر کرنا پڑگیا۔ ہائے یہ میرے ساتھ کیا ہوگیا؟ ہائے میں کیا کروں؟

مولانا نے اسے تسلی دیتے ہوئے فوراً کہا کہ بہن یہ پیسے آپ کو بھیک کے طور پر نہیں دے رہا ہوں بلکہ یہ قرض دے رہا ہوں۔ قرض تو بڑے سے بڑے آدمی کو بھی لینا پڑسکتا ہے۔ تم اپنے گھر پہنچ کر یہ پیسے کسی غریب یا محتاج کو دے دینا اور تم پر سے یہ قرض ادا ہوجائے گا۔ کافی اصرار پر اور اپنی مجبوری ولاچاری کو دیکھتے ہوئےاس عورت نے وہ پیسے رکھ لیے۔ اس پر برے وقت میں اس احسان کا اتنا اثر تھا کہ وہ شکریہ بھی نہ کہہ سکی۔ اور اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔وہ پلّو میں منہ چھپا کر رونے لگی۔

اس منظر کو سبھی لوگ دیکھ رہے تھے۔ سب اپنی، اپنی سیٹ پر واپس ہوگئے۔ گفتگو پھر شروع ہوگئی۔ مگر اب گفتگو کا موضوع تھا ’’انسانیت مسلمانوں میں ہی پائی جاتی ہے۔‘‘ ’’برے وقت میں مسلمان ہی لوگوں کے کام آتے ہیں۔‘‘ ’’ان کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے بالکل غلط ہیں۔‘‘ ’’برے وقت میں مسلمان اپنی گھروں اور مسجدوں تک کے دروازے پناہ لینے والوں کے لیے کھول دیتے ہیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ لوگ اپنے اپنے تجربے اور مشاہدے کے مطابق مسلمانوں کے بارے میں اسی طرح کی باتیں کرنے لگے۔

ایک معمولی سے بروقت حسنِ سلوک نے ماحول کو پوری طرح بدل دیا تھا۔ جو لوگ مولانا کو شک کی نظروں سے دیکھ رہے تھے، اب ان کی نظروں میں وہ نہایت قابلِ احترام تھے۔ ان کی صحبت سے راحت اور سکونِ قلب حاصل کررہے تھے۔

یہ مسلمان کا وظیفہ حیات ہے کہ وہ جہاں ہو، جس حال میں ہو لوگوں کی خدمت کے لیے تیار رہےاور حتی الامکان ان کا تعاون کرے۔ اس کی نشاندہی قرآن نے فرمائی ہے کہ اپنے وظیفہ حیات سے غافل لوگوں کا کردار یہ ہوتا ہے کہ چھوٹی اور معمولی چیزیں تک لوگوں کو دینے سے منع کر دیتے ہیں۔

اگر مسلمان یہ قرآنی کردار اپنے اندر پیدا کر لے تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ بھی راضی ہوگا اور مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جو ماحول ہے اس میں تیزی سے کمی واقع ہوگی۔ ان شاء اللہ !!

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

… اور ماحول بدل گیا!!

حالیہ شمارے

جولائی 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223