آرٹ، کلچر اور تہذیبی شعور

(ایس آئی او آف انڈیا کے النور لٹریچر فیسٹول میں کی گئی تقریر سے ماخوذ)

یہ میرے لیے بہت خوشی کی بات ہے کہ ایس آئی او نے بڑی کامیابی سے خوبصورت ثقافتی میلے کا اہتمام کیا ہے۔ آپ سب نوجوانوں نے اس میں جو دلچسپی لی اور جس جوش و خروش سے اس کے مختلف پروگراموں میں حصہ لیتے رہے، اسے دیکھ کر بہت مسرت ہوئی۔ اللہ کرے کہ یہ رنگا رنگ اور دلچسپ پروگرام تحریک اسلامی کے کاز کے لیے کچھ بڑے غیر معمولی آرٹسٹ اور فن کار پیدا کرے۔

تہذیبی اظہار کیا ہے؟

تہذیبی اظہار (cultural expression)دراصل خیالات اور جذبات کے موثر جمالیاتی اظہار(aesthetic expression)کا نام ہے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اُن چیزوں کا زیادہ گہرا تاثر قبول کرتا ہے جو اسے پسند ہوتی ہیں۔

انسان کن چیزوں کو پسند کرتا ہے؟ آپ غور کریں گے تو محسوس ہوگا کہ مختلف اشیا، اعمال، مظاہر وغیرہ میں انسانی پسند و ناپسند تین طرح کی قدروں پر مبنی ہوتی ہے۔ روحانی قدریں(spiritual values)، اخلاقی قدریں (Ethical values)اور جمالیاتی قدریں (aesthetic values)۔ روحانی قدریں حق یا سچائی (truth)کے بارے میں ہماری سوچ کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ اخلاقی قدریں خیر یا بھلائی (good)سے متعلق ہمارے نقطہ نظر پر مبنی ہوتی ہیں اور جمالیاتی قدروں کا تعلق حسن یا خوبصورتی (beauty)کے ہمارے معیارات سے ہوتا ہے۔ اس طرح سچائی، بھلائی اور حسن و جمال کے بارے میں آپ جو رجحان رکھتے ہیں اسی پر آپ کے تہذیبی اظہار کا دار و مدار ہوتا ہے۔ گویا انسان اُس چیز کو پسند کرتا ہے جو اسے حق، خیر اور حسن سے آراستہ لگتی ہے۔ سچائی، بھلائی اور حسن و جمال کے بارے میں تصور و رجحان اصلاً ہمارے عقائد، ورلڈ ویو اور نظریات زندگی کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس لیے انھی اساسیات پر تہذیب کی تشکیل ہوتی ہے۔ تہذیبی اظہار(cultural expression)دراصل حق اور خیر کا جمالیاتی اظہار ہے۔

انھی تین قدروں کے مطابق انسان کی سماجی زندگی کی تعمیر و تشکیل کا نام تمدن (civilization) ہے۔ اور انھی تین قدروں کی بنیاد پر خیالات و جذبات کا اظہار، تہذیبی اظہاریہ یا آرٹ ہے۔

مختلف کلچر اور سولائزیشن ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں تو وہ انھی تین طرح کی قدروں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ہر کلچر اپنے عقیدے اور ورلڈ ویو کے مطابق، ان تینوں کے بارے میں مخصوص خیالات رکھتا ہے۔ روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی قدریں کیا ہوں؟ اور ان کے درمیان ترتیب و ترجیح (order and priority)کی کیا شکل ہو؟ اس سوال کے جواب میں ہر تہذیب کے اپنے تصورات و معیارات (concepts and standards)ہوتے ہیں۔ یہ تصورات و معیارات ہی اس کو دوسری تہذیبوں سے جدا کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر مغربی آرٹ کے کسی بھی میوزیم میں چلے جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ عریاں تصویروں (paintings)اور مجسموں کو وہاں آرٹ کے فن پاروں کی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ ان کے اخلاقی تصورات میں عریانی عیب نہیں ہے اور اخلاق کو جمالیات پر ترجیح دینے کا تصور بھی مفقود ہے لیکن ایسا فن پارہ اسلامی تہذیب کی نمائندگی نہیں کرسکتا کیونکہ اسلام خیر کا ایک خاص تصور رکھتا ہے اور حسن و جمال کو خیر کے تابع رکھنے کے بارے میں بھی اسلام کا مخصوص مخصوص موقف ہے۔ اسلامی ذوق کی تشکیل میں حیا کا ایک خاص کردار ہے۔ اس کی وجہ سے عریانیت نہ صرف غیر اخلاقی محسوس ہوتی ہے بلکہ جمالیاتی ذوق پر بھی گراں گزرتی ہے۔

لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ بھی نہیں ہے کہ اسلامی تہذیبی اظہار میں جمالیات کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ایک بے ڈھب اور بدنما ڈیزائن سے بنائی ہوئی مسجد کی عمارت بھی تہذیبی معیار کی نمائندہ نہیں ہے کیونکہ بے شک اس میں کوئی روحانی یا اخلاقی عیب نہیں پایا جاتا لیکن چونکہ وہ ذوق جمالیات کی تسکین کا سامان نہیں کرتی، حسن و جمال کے معیار پر نہیں اترتی اورآنکھوں کو نہیں لبھاتی، اس لیے اس کا تہذیبی معیار پست مانا جائے گا۔ حقیقت اور خیر کی ترجمانی کرنے والی کتنی ہی اچھی باتیں بے ڈھنگی تک بندی کے ذریعے کہی جائیں وہ شعر و ادب کا فن پارہ نہیں کہلاسکتیں لیکن دوسری طرف غریبوں کے گھر اجاڑکر تعمیر کیے جانے والے خوبصورت شاپنگ مال کا بھی اسلامی مذاق روادار نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ عدل و مساوات کی اخلاقی قدر کو مجروح کرنے والا پروجیکٹ ہے۔ اس طرح تہذیبی بلندی دراصل حق، خیر اور حسن تینوں قدروں کے متوازن امتزاج اور تینوں حوالوں سے بلندی کا نام ہے۔

اسلام اور جمالیات

اسلام نے جمالیات (aesthetics) کواہمیت بھی دی ہے اورانسان کے ذوق جمال کا بھرپور لحاظ بھی رکھا ہے۔ حدیث نبویﷺ ہے”اِنَّ اللَّہَ جَمِیلٌ یُحِبُّ الجَمَالَ“۔”اللہ جمیل ہے اور جمال یا خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ (صحیح مسلم:91) زینت اور حسن کو اللہ نے بندوں کے لیے پیدا کیا اور اس کی ترغیب دی” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللَّهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ “ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا “ (سورہ اعراف: 32) قرآن مجید میں انسان کی تخلیق ہی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم (beautiful form) پرپیدا کیا ہے۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِی أَحْسَنِ تَقْوِیمٍ (سورہ تین:5) انسان کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں ایک اہم بات یہ فرمائی گئی ہے کہ انسان کو چار مراحل سے گزار کر وجود بخشا گیا ہے۔ الَّذِی خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ (7) فِی أَی صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكََ (جس نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا پھر متوازن بنایا۔ پھر جیسی صورت بنانی چاہی اس کے مطابق ترکیب دے دی۔ سورہ انفطار6-7) ان چار مرحلوں میں پہلا مرحلہ تخلیق(creation)کا ہے۔ اس کے بعد تسویہ جس کا ترجمہ مولانا مودودیؒ نے ‘نک سک سے درست کرنا’ (FineTuning) فرمایا ہے۔ پھرتعدیل یعنی تناسب فراہم کرنا، متناسب بنانا(well- proportion) اورتصویر و ترکیب، یعنی ہر ایک کو خاص شکل فراہم کرنا، انفرادیت و امتیاز فراہم کرنا (Casting a distinct shape)۔ تخلیق کے بعد کے تینوں مرحلے جمالیات سے متعلق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بناکر چھوڑ نہیں دیا بلکہ بڑے اہتمام سے اس کو ایک حسین روپ عطا کیا۔ گویا انسان کا وجود خود آرٹ کا ایک فن پارہ (masterpiece of art)ہے۔

انسان ہی نہیں، اللہ کی تمام تخلیقات اور پوری کائنات حسین و جمیل ہے۔ الَّذِی أَحْسَنَ كُلَّ شَیءٍ خَلَقَهُ ( اس نے جو شے بھی بنائی بہت خوبصورت انداز میں بنائی۔ سورہ سجدہ: 7) إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْأَرْضِ زِینَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَیهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا(واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔سورہ کہف:7)

ذوق جمال کو اسلامی روایات میں جو اہمیت دی گئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہمارے فقہا نے مقاصد شریعت کی جو درجہ بندی کی ہے اس میں ضروریات، حاجیات کے ساتھ تحسینیات بھی شامل ہے۔ علمائے اصول کے مطابق تحسینیات وہ امور ہیں جو زندگی میں حسن و سلیقہ پیدا کرتے ہیں۔ گویا زندگی میں حسن و سلیقے کی افزائش بھی شریعت اسلامی کے مقاصد ومصالح میں شامل ہے۔

چنانچہ حسن و جمال اور جمالیاتی حساسیت، اسلامی تہذیب اور اسلامی تمدن کی اہم خصوصیت ہے۔ اسلامی تہذیب و تمدن میں روحانی و اخلاقی قدروں کا کمال بھی ہے اور ان کا جمالیاتی اظہار بھی۔

اسلامی تہذیب میں، روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی، تینوں قدروں کا بھرپور ظہور صرف عام تمدنی مظاہر میں نہیں ہوتا ہے بلکہ عبادتوں تک میں ان کا خیال رکھا گیا ہے اور عبادتوں کے ذریعے روحانی اور اخلاقی تربیت کے پہلو بہ پہلو جمالیاتی پہلو سے بھی سلیقہ، نظافت اور نفاست پروان چڑھائی جاتی ہے۔ باجماعت نماز، اپنی روحانی و اخلاقی خصوصیات کے ساتھ ایک حسین و جمیل اور آنکھوں کو لبھانے والا دل ربا منظر بھی پیش کرتی ہے۔ صف بندی، اجتماعی رکوع و سجود کےمناظر، قرآن کی تلاوت میں حسن و ترتیل وغیرہ جیسے امور باجماعت نماز کو ایک جمالیاتی شاہکار بھی بنادیتے ہیں۔ یہی معاملہ حج کا بھی ہے۔ عبادت کے لیے طہارت و پاکیزگی کی شرط، وضو ومسواک کا اہتمام، لباس کی شائستگی، خوشبو کا اہتمام، جگہ کی صفائی یہ سب اعلیٰ جمالیاتی ذوق کی تربیت ہے۔

اسلامی تاریخ اور تہذیبی اظہار

اسی بھرپور تربیت کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں آرٹ کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیے۔ حق اور خیر کے اسلام کے تصورات کے تحت انہوں نے حسن کی طرح طرح کی انوکھی شکلیں ایجاد کیں۔ مسلمانوں کے آرٹ کی تاریخ میں بنیادی اصول وہی کارفرما نظر آتا ہے جس کا ابھی ذکر کیا گیا ہے یعنی روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی تینوں طرح کی قدروں میں توازن برتنے کا اصول۔

اسلام توحید کاعلم بردار ہے۔ شرک اور بت پرستی اسلام کے تصور حق سے متصادم ہے۔ اس لیے مسلمانوں نے اپنی عمارتوں کو بتوں اورمجسموں سے نہیں سجایا۔ اس کے متبادل کے طورپر کیلی گرافی کا بے مثال فن ایجاد کیا۔

مشاہیر کی تصاویر اور عریاں نگاری اُن کے تصور خیر سے متصادم تھا اس لیے ان کی جگہ انہوں نے ہندسی نقوش (Geometric patterns) اور عربیسک گل کاری (Arabesque Designs) کے ذریعے حسن و جمال پیدا کرنے کے نادر طریقے ڈھونڈ نکالے جن کے نمونے دنیا بھر کی مسجدوں اور محلات میں ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔

شاعری سے سفلی جذبات اور ہوس کی ترجمانی کا کام انھوں نے نہیں لیا اور نہ ہی مخلوق کے حسن کے بیان تک محدود رکھا بلکہ خدا سے محبت اور اصلاح کے پاکیزہ مقاصد کے لیے شعر کو استعمال کیا۔ مولانا جلال الدین رومی اور شیخ سعدی، جیسے شعرا آج ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ انہوں نے جہاں رائج اصناف ادب کونیا روپ اور آہنگ دے کر اسے عشق الہی اور اعلیٰ روحانی و اخلاقی تصورات کی ترجمانی کا ذریعہ بنایا وہیں اس مقصد کے لیے بالکل نئی اصناف بھی ایجاد کیں۔

قرآن مجید خود ایک جمالیاتی شاہکارہے۔ اس کی زبان میں غیر معمولی شگفتگی، اسلوب میں دل نشینی، آہنگ میں صوتی حسن (acoustic beauty) اور معنوں میں ایسی لطافت اور تہہ داری پائی جاتی ہے جو انسان کے ذوق جمال اور حسی لطافتوں کو بھی اپیل کرتی ہے۔ قرآن کی زبان اور لفظیات، اس کا ادبی حسن، صوتی آہنگ، وقف و وصل کی حکمت اور معنی و آہنگ کا باہم ربط، یہ سب مل کر روحانی اثر اور ہدایت و رہنمائی کی روشنی کے ساتھ لطیف جمالیاتی تاثر بھی پیدا کرتے ہیں۔ موزونیت (balance)، تزویج و تناسب (harmony & proportion)، اور طہارت و پاکیزگی (purity) جیسی خصوصیات قرآن مجید کے بیانیوں کی اہم جمالیاتی خصوصیات ہیں۔ ان ساری خصوصیات نے مسلمانوں کے تہذیبی ذوق اور فنّی اظہار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ مسلمان فنکار وں اور ادیبوں نے قرآن کے اس جمالیاتی مزاج سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ حسن وہی ہے جو حق کا ترجمان اور حق پرستی کی قدروں سے جڑا ہو، اخلاقی حدود کے اندر ہو، انسان کو بلندی کی طرف لے جائے اور حسن مطلق یعنی رب کائنات کی ذات سے اس کے تعلق کو مستحکم کرے۔ اسی لیے اسلامی شاعری میں الفاظ اور معنوں کا توازن، اسلامی فنِ تعمیر میں ساخت اور فضا کا وقار اور اسلامی خطاطی میں ضبط، تکرار اور ترتیب، یہ ساری خصوصیات قرآن مجید کے جمالیاتی مزاج ہی کی عکاسیاں ہیں۔ موزونیت، تزویج و تناسب، طہارت و پاکیزگی، شائستگی اور وقار، وحدت، بلندی جیسی خصوصیات مسلمانوں کے ہر فن پارے میں نمایاں رہیں۔ آرکٹیکچر، شاعری، گل کاری، خطاطی وغیرہ بظاہر بالکل مختلف میدان ہیں لیکن ان سب میں قرآنی جمالیات کی عکاسی اور قرآنی جمالیات کی مذکورہ خصوصیات کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ (قرآنی جمالیات، اس کی خصوصیات اور اسلامی آرٹ پر اس کے اثرات ایک مستقل موضوع ہے جسے ہم کبھی زیر بحث لائیں گے۔ ان شاء اللہ)

تمدن کی تشکیل میں آرٹ کا کردار

اب تک کی بحث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آرٹ دراصل اُس تمدن کا آئینہ ہوتا ہے جس میں وہ پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے:

Art and literature are mirrors reflecting the soul of a civilization. They serve as mediums for preserving knowledge, transmitting values, and shaping identity.

آرٹ اور ادب دراصل آئینہ ہوتے ہیں جو اپنے تمدن کی روح کا عکس پیش کرتے ہیں۔ وہ ایک ذریعہ ہوتے ہیں، علوم کے تحفظ، قدروں کی منتقلی اور شناخت کی تشکیل کا۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ آرٹ صرف تمدن کا آئینہ نہیں ہوتا بلکہ تمدن کی تشکیل میں بھی اس کا کردارہوتا ہے۔ چنانچہ یہ مقولہ بھی اہم ہے کہ:

“Art is not a mirror held up to reality, but a hammer with which to shape it.” – Bertolt Brecht

آرٹ صرف وہ آئینہ نہیں ہے جو حقائق کا عکس پیش کرتا ہے بلکہ وہ ہتھوڑا بھی ہے جس سے تمدن کی تعمیر و تشکیل کا کام لیا جاتا ہے۔

تہذیبی اظہار کے تمام ذرائع نے انسانی تاریخ میں انسان کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا کام ہی نہیں کیا بلکہ انسانی تمدن، انسانوں کی روحانی، اخلاقی اور جمالیاتی قدروں، معاشرتی معمولات (social norms)اور تہذیبی معیارات کو تشکیل دینے، تبدیل کرنے اور ان کے بناؤ بگاڑ میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس سلسلے کی کئی مثالیں حالیہ تاریخ سے پیش کی جاسکتی ہیں۔

مثال کے طور پر، الڈس ہکسلے کا ناول The Brave New World اور جارج آرویل کا 1984 محض خیالی یا ڈسٹوپیائی ادب نہیں تھے، بلکہ انہوں نے جدید دنیا کو متعدد نئی ٹکنالوجیوں کی طرف متوجہ کیا اور ساتھ ہی یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ اگر ٹیکنالوجی، ریاستی طاقت اور صارفیت بے لگام ہوجائیں تو انسانی آزادی، شعور اور اخلاقی اقدار کس طرح مسخ ہو سکتی ہیں۔ ان تخلیقات نے اجتماعی شعور میں خطرے کی گھنٹی بجائی اور ٹکنالوجی کے سلسلے میں نگرانی اور انضباط (regulations) کے نئے رجحانات کو عام کیا۔ ماحولیات سے متعلق معاصر ادب (مثلاً Kim Stanley Robinson’s The Ministry for the Future (2020))) نے ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو محض سائنسی مسئلہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے اخلاقی، سیاسی اور تہذیبی چیلنج بنادیا۔ جلد ہی یہ فلموں اور ڈراموں وغیرہ کا بھی اہم موضوع بن گیا اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ ماحولیاتی سرگرمیوں (environmental activism)، پالیسی مباحث اور پائیدار طرزِ زندگی (sustainability) کے تصورات کو عوامی شعور کا حصہ بنانے میں اس طرح کے ناولوں اور فلموں کا اہم کردار ہے۔ ناؤمی کلین کی This Changes Everything نے سرمایہ دارانہ نظام اور ماحولیاتی تباہی کے باہمی تعلق کو بے نقاب کیا۔ ہمارے دور کی بہت سی تہذیبی خرابیوں کی پشت پر بھی آرٹ اور تہذیبی اظہار کا کلیدی کردار ہے۔ آرٹ ہی کے ذریعے عریانیت اور جنسی بے راہ روی عام ہوئی۔ ہم جنس پرستی جیسے جنسی رجحانات کو بھی عام کرنے اور انہیں قابل قبول بنانے میں آرٹ، فنون لطیفہ اور ادب کا اہم کردار ہے۔ گویا آرٹ نہ صرف یہ دکھاتا ہے کہ دنیا کیسی ہے؟ بلکہ دنیا کیسی ہونی چاہیے؟ اس سلسلے میں واضح نقوش فراہم کرنے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ آج کی دنیا کی ناپسندیدہ چیزوں کو روشن کرکے ان کے تئیں نفرت و بیزارگی بھی پروان چڑھاتا ہے اور مطلوب دنیا کیسی ہونی چاہیے؟ اس کی واضح تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ اس کے خواب بھی دکھاتا ہے اور اس کی تشکیل و تعمیر کا حوصلہ و داعیہ بھی پروان چڑھاتا ہے۔ حالیہ اسلامی تراث میں علامہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کے کارنامے بھی یہی ہیں۔ علامہ اقبال نے شعر کے لطیف پیرائے کو اختیار کرکے اپنی گہری فلسفیانہ باتوں کو نہ صرف زبان زد عام و خاص کردیا بلکہ ان باتوں کو ایک طرح کا دوام (permanence) بھی فراہم کردیا اور وہ ایک صدی بعد آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ ایک مفکر اور عالم ہی نہیں تھے ایک جادو بیان ادیب بھی تھے۔ ان کی مقبولیت اور تاثیر کی پشت پر مضبوط استدلال کے ساتھ ساتھ بلاشبہ ان کی دلنشیں زبان اور ان کے اسلوب کی ادبی و جمالیاتی کشش کا بھی ایک رول ہے۔

اسلامی تحریک کی اہم ضرورت

اس بحث سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آرٹ، فنون لطیفہ اور تہذیبی اظہاریے اسلامی تحریک کی اہم ضرورت ہیں۔ تاہم اس وقت اس پر وہ توجہ نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے فنون لطیفہ کے بے مثل نمونے جنم دیے لیکن ان میں زیادہ حصہ اُن افراد اور طبقات کا ہے جن کا اسلام کی اخلاقی و روحانی قدروں سے رشتہ کم زور رہا ہے۔ آزادی کے بعد بھی فلم، غزل گوئی، قوالی، شاعری، وغیرہ متعدد فنون لطیفہ میں ہندوستانی مسلمانوں نے اعلیٰ درجے کے آرٹسٹ پیدا کیے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس معاملے میں ان کا حصہ ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ رہا ہے، لیکن چونکہ ان فن کاروں کا تعلق تہذیبی بنیادوں سے یعنی عقیدہ و اخلاق کے مخصوص اسلامی تصورات سے بہت کم زور رہا ہے اس لیے ان کی تخلیقات اسلام کے تہذیبی اظہار کا ذریعہ نہیں سکیں۔ دوسری طرف ہندوستانی مسلمانوں کے سواد اعظم نے اسلام کی روحانی و اخلاقی قدروں سے گہرا رشتہ برقرار رکھا ہے۔ ان کے درمیان مختلف دینی تحریکیں دینی و اخلاقی احیا کے لیے کام کرتی رہی ہیں۔ لیکن ان کا اظہار و ابلاغ سادہ نصائح و مواعظ اور خشک علمی و فکری کاموں تک محدود رہا۔ جمالیاتی اظہار اور اس کے لیے ثقافتی ذرائع کے استعمال پر ان کی توجہ بہت کم رہی۔ جمالیاتی اظہار جس ذوقِ لطیف اور جس تخلیقی توانائی کا تقاضا کرتا ہے وہ ان حلقوں میں بہت کم پیدا ہوسکا۔

اس طرح آرٹ کے حوالے سے دو انتہائیں پیدا ہوئیں۔ ایک طرف جمود، استرداد (rejection) یا لاتعلقی کا رویہ رہا۔ آرٹ یا جمالیاتی اظہار پر جیسی توجہ ہونی چاہیے تھی دین پسند حلقوں نے وہ توجہ نہیں دی۔ شاعری کو اختیار کرنے کی کوشش ضرور ہوئی لیکن اس میدان میں بھی اعلیٰ ترین تخلیقی صلاحیت کے حامل افراد بڑے پیمانے پر متوجہ نہیں ہوسکے، جس کے نتیجے میں وہ معیار کم ہی ملحوظ رکھا جاسکا جو دیر پا اثر اندازی کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ دوسرے اصناف پر توجہ ہی نہیں ہوپائی۔ مثلاً دین پسند ہندوستانی مسلمانوں نے یہاں کی فلم انڈسٹری کو اپنے تہذیبی اظہار کا وسیلہ بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی، جس کے بھرپور مواقع ان کو میسر تھے۔ یہی معاملہ ڈرامہ، پینٹنگ وغیرہ جیسے دیگر فنون لطیفہ کا ہے۔ ان سب میدانوں کو وسیلہ اظہار بنانے کی سنجیدہ کوشش بہت کم ہوئی۔

دوسری طرف نقالی اور تقلید جامد کا رویہ ہے۔ آرٹ نقالی کا نام نہیں ہے۔ یہ اپنی قدروں کے مطابق تخلیقی عمل کا نام ہے اور غیر معمولی تخلیقی توانائی چاہتا ہے۔ آرٹ اسی وقت کسی تہذیب و تمدن کی خدمت کا ذریعہ بن سکتا ہے جب اپنی قدروں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی بالکل نئی شکلیں ایجاد کی جائیں۔ تہذیب و تمدن میں صرف پیغام (message) کی نہیں بلکہ آرٹ کی شکل (form)کی بھی اہمیت ہے۔ مثلاً اسلامی تاریخ میں جب کہ عبادت گاہوں اور اپنی عظیم عمارتوں کو مجسموں سے سجانے کا عام رواج تھا، مسلمانوں نے یہ نہیں کیا کہ بتوں کی بجائے نعوذ باللہ ابو بکر و عمرؓ کے مجسمے بنادیے جائیں۔ انہوں نے تزئین و آرائش کی بالکل نئی شکلیں ایجاد کیں۔

آج اگر ہم بھونڈے اور بدنما طریقے سے اسلامی ترانے گائیں تو یہ بھی اسلامی آرٹ نہیں ہے لیکن اگر معاصر تمدنی طریقوں کی نقالی میں اعلیٰ کوالٹی کی پاپ اور راک میوزک کا استعمال کرتے ہوئے گائیں تو یہ بھی اسلامی آرٹ نہیں ہوگا۔ پہلا رویہ استرداد و بے اعتنائی کا ہے تو دوسرا رویہ تقلید جامد اور بھونڈی نقالی کا ہے۔ دونوں طریقے تہذیبی اظہار کی اُس قوت سے محروم ہیں جو گہرے تمدنی اثر کے لیے ضروری ہیں۔ دونوں رویوں میں وہ تخلیقیت (creativity) ناپید ہے جو جمالیاتی اظہار کی لازمی شرط ہے۔ دونوں کند ذہنی کے مظاہر ہیں۔

آپ اداکاراؤں کے سر ڈھانک کر تاریخی ناولوں سے اسکرپٹ لے کر ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کے انداز پر ‘اسلامی فلمیں’بنادیں تو آپ نے صرف پیغام بدلا ہے تہذیبی اظہاریے کی شکل نہیں بدلی۔ وہ آپ نے معاصر تمدن ہی سے مستعار لی ہے۔ یہ عمارتوں میں دیوی دیوتاؤں کی تصویریں مٹاکر اسلامی ہیروؤں کی تصویریں بنادینے کا کند ذہن عمل ہے۔ فنون لطیفہ میں صرف پیغام نہیں بلکہ شکل بھی اپنی تہذیبی اساس سے گہرائی سے جڑی ہوتی ہے۔ مجسمہ سازی کا گہرا تعلق مشرکانہ تصورات اور اس کے تہذیبی معیارات سے ہے۔ عریاں نگاری کی اساس شہوانیت پسندی ہے۔ اسلامی تہذیبی اظہاریہ بالکل نئی شکلوں کا تقاضا کرتا ہے۔ اسلامی تحریک اپنے تصورات کے بااثر تہذیبی اظہار میں اس وقت کام یاب ہوگی جب وہ نئی شکلوں کی ایجاد کے لائق ہوگی۔ وہ شکلیں کیسی ہوں؟ اس کا جواب ابھی ہمارے پاس نہیں ہے۔ ان کی ایجاد و اختراع ہی اصل تہذیبی وتمدنی چیلنج ہے۔

جن لوگوں نے علامہ اقبال کو گہرائی کے ساتھ پڑھا ہے انہیں ان کے اشعار میں قدم قدم پر اس وژن کی جھلک ملتی ہے۔

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں

سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر

مجھے امید ہے کہ اس طرح کی ثقافتی کاوشیں ہمارے نوجوانوں میں بلند حوصلہ اورعظیم تخلیقی توانائی جگانے کا ذریعہ بنیں گی۔

مشمولہ: شمارہ جنوری 2026

مزید

حالیہ شمارے

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں

نومبر 2025

Novشمارہ پڑھیں

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223