بیت المال : ایک اہم اسلامی ادارہ

(1)

مختار خواجہ | شعبہ حسنین ندوی

ذرائع کے مطابق 2020 میں امریکہ کا بجٹ 5.4 ٹریلین امریکی ڈالر تھا۔ یہ ایک ایسے ملک کا بجٹ ہے جس نے کئی دہائیوں سے خود کو دنیا کے سامنے ایک سپر پاور کے طور پر پیش کیا ہوا ہے۔ لیکن اگر ہم تاریخ کے صفحات کو پلٹنا شروع کریں تو عظیم مورخ عبد الرحمان بن خلدون [وفات: 808ھ / 1406ء]، جو اپنے ٹھوس تاریخی و معاشی تحلیل و تجزیہ کے لیے جانے جاتے ہیں، کی کتاب “المقدمة” کے توسط سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سن 350ھ / 964ء میں عہد اموی کے اندلس کے “بیت المال” میں تقریبا5.2 ٹریلین ڈالر موجود تھے۔

مذکورہ بالا موازنہ ہمیں اس لیے اہم لگا کیوں کہ اس کے ذریعے اُس عظیم معاشی بنیاد کو سمجھا جا سکتا ہے جس پر مسلمانوں کی تہذیب و تمدن کو مختلف جگہوں اور ملکوں میں قائم کیا گیا تھا۔ اس طرح کا موازنہ کرنے والے ہم پہلے شخص نہیں ہیں، 2012 میں مغرب میں ایک تاریخی معاشی مطالعہ پیش کیا گیا تھا جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مغربی افریقہ کے مسلم ملک “مالی” کے بادشاہ منسا موسی [وفات: 737ھ / 1336ء] تاریخ کے امیر ترین شخص ہیں۔ حتی کہ انھوں نے رومی شہنشاہ آگسٹس سیزر (وفات: 14 قبل مسیح) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جس کی دولت کا تخمینہ تقریباً 6.4 ٹریلین امریکی ڈالر لگایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افریقی مسلم بادشاہ کی دولت اس کے زیر اقتدار ‘‘بیت المال’’ کی دولت سے حاصل شدہ تھی جو اقتدار شمالی نائیجیریا سے بحر اوقیانوس تک پھیلا ہوا تھا۔

اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں موجود سینکڑوں اسلامی تہذیبی مراکز اور حکومتوں میں سے صرف ایک اسلامی تہذیبی مرکز یعنی اندلس کی حکومت کے “نقدی اثاثے” کے بارے میں ہم نے اوپر گفتگو کی ہے۔ دولت وثروت سے مسلمانوں کی اس درجہ کی دل چسپی کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کے یہاں ایک معاشی فکر اور ترقیاتی وژن پایا جاتا تھا جس کی نمائندگی “بیت المال” نامی ادارہ کرتا تھا۔ “بیت المال” کا موازنہ موجودہ دور کے مالیاتی زبان میں “وزارت خزانہ”، “مرکزی بینکوں” اور “خود مختار فنڈز” (sovereign funds)سے کیا جا سکتا ہے، خصوصا جب لیکویڈیٹی بیلنس (liquidity balance) اور گولڈ اسٹاک (gold stock) کےتناظر میں دیکھا جائے۔

مسلمانوں کے یہاں پائی جانے والی اس اخلاقی مالیاتی سوچ کی گہرائی کا اگر ہم جائزہ لینا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی بیت المال کے ایک سینیر سربراہ کے مندرجہ ذیل جملہ کو سامنے رکھنا چاہیے جو انھوں نے اُس وقت کہا تھا جب ان کی حکومت کے سربراہ نے بیت المال میں بیجا مداخلت کی کوشش کی تھی: “اگرچہ ہم امیر و سلطان [اللہ انھیں سلامت رکھے] کے مالیاتی معتمد ہیں لیکن درحقیقت ہم مسلم عوام کے بھی مالیاتی معتمد ہیں۔’’

اسلامی تہذیب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ خلفاء راشدین سے لے کر خلافت عثمانیہ تک کی مختلف اسلامی حکومتوں اور اسلامی معاشروں کے مالیاتی رویہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے۔ اس مضمون کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں مالیاتی ادارہ کے مختلف پہلووں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے، یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ بیت المال کے کیا خد و خال رہے ہیں، اس کے ارتقائی منازل کیا رہے ہیں، اس کی مختلف پالیسیاں [کم زور یا مضبوط] کیا رہی ہیں، اس کے مختلف طریقہ کار [کام یاب یا ناکام] کیا رہے ہیں، اس کے معاشرتی ترقیاتی کام کیا رہے ہیں اور اس کا انتظامی عملہ کیسا رہا ہے جس میں اسلامی تہذیب کے تمام رنگ شامل تھے۔

آگہی سے بھرپور آغاز

مسلمانوں نے عوامی مال کی اہمیت کو عہد نبوی میں ہی سمجھ لیا تھا۔ ابن لتیبہؓ کو نبی ﷺنے زکوة جمع کرنے کے کام پر مامور کر رکھا تھا، ایک بار وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقات لے کر آئے اور اس میں سے کچھ اپنے لیے یہ کہتے ہوئے رکھ لیا کہ “یہ آپ لوگوں کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں ملا ہے اس لیے میرا ہے۔’’ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر جا کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہمارے عامل اور کارندے کو کیا ہو گیا ہے کہ جب ہم اسے زکوة و صدقات جمع کرنے کے لیے بھیجتے ہیں تو وہ واپس آ کر ہم سے کہتا ہے کہ یہ آپ کا ہے اور یہ میرا ہے۔ وہ اپنے گھر پر بیٹھ کر دیکھ لے کہ اسے وہ ہدیہ ملتا ہے یا نہیں؟ خدا کی قسم عامل جو چیز بھی [ہدیہ کے طور پر] لے گا اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ (بخاری اور مسلم)

اگر سیاسی اور انتظامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو معلوم ہوتاہے کہ مسلم قائدین اور علما کے یہاں یہ بات بالکل واضح تھی کہ عوامی مال حکومت کی ریڑھ کی ہڈی اور اس کی طاقت کا ذریعہ ہے۔ امام ماوردی [وفات: 450 ھ / 1058ء] نے اپنی کتاب “الاحکام السلطانیة” میں خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ [وفات: 23ھ / 644ء] کے ایک خطبہ کا ذکر کیا ہے، جس میں انھوں نے کہا تھا: “میرا تجربہ ہے کہ مال کی بہتری تین چیزوں میں ہے: اسے صحیح طریقہ سے حاصل کیا جائے، صحیح جگہوں پر خرچ کیا جائے، اور جو جگہیں صحیح نہیں ہیں وہاں خرچ نہ کیا جائے۔ سن لو! تمھارے مال سے میرا تعلق اتنا ہی ہے جتنا ایک یتیم کے ولی کا یتیم کے مال کے ساتھ ہوتا ہے، اگر میں خود کفیل رہا تو میں تمھارے مال سے دور رہوں گا اور اگر مجھے ضرورت پڑی تو میں صرف بقدر ضرورت ہی لوں گا۔”

عوامی مال کے سلسلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نظریہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اسے جمع بھی درست طریقہ سے کیا جائے اور خرچ بھی صحیح جگہ پر کیا جائے۔ قائد کو ملکی اور عوامی مفادات کی نگہبانی کے عوض عوامی مال سے صرف بقدر ضرورت اور کم سب کم ہی لینا چاہیے۔ اسی نظریہ کو اسلامی ریاست کے پہلے چیف جسٹس قاضی ابو یوسف [وفات: 182ھ / 798ء] نے اپنی کتاب “الخراج” کے مقدمہ میں لکھا ہے، یہ کتاب ریاست کے مالی وسائل اور اخراجات کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔قاضی ابو یوسف لکھتے ہیں: “عوام کی بہتری اس بات میں ہے کہ ان پر حدود قائم کی جائیں [یعنی غلطیاں کرنے پر انھیں سزائیں دی جائیں]، ان پر ظلم و زیادتی نہ ہونے دی جائے اور اگر انھیں اپنے حقوق کے پامال ہونے کی شکایت ہو تو انھیں دور کیا جائے۔’’

ماضی کا “بیت المال” موجودہ دور کے “وزارت خزانہ” کے ہم پلہ تھا۔ بیت المال “محکمہ خراج” سے محصولات حاصل کرتا تھا اور ریاست و دار الخلافہ کے اخراجات کے لیے مختص “محکمہ اخراجات” کو مضبوطی فراہم کرتا تھا۔ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بیت المال کا تعلق ریاست میں ہونے والی پیسوں کی نقل و حرکت سے عمومی طور پر تھا اور خاص طور پر ریاست کے خزانے سے تھا۔ بیت المال کی کارکردگی سے ہی ریاست کی قوت یا کم زوری کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔

قدامہ بن جعفر [وفات: 337ھ / 948ء] کا شمار چوتھی صدی ہجری [دسویں صدی عیسوی] کی پہلے چوتھائی کے اعلی مالیاتی سربراہوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب “الخراج” میں بیت المال کے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: “بیت المال میں اخراجات کی جگہوں [expenses items] اور حکم ناموں [expences goverment orders] کو تحریر میں لایا جاتا تھا۔ محکمہ خراج کو جو مہربند رپورٹیں [یعنی فائنل اکاؤنٹنگ رپورٹیں] پیش کی جاتی تھیں وہ محصولات [یعنی آمدنی و منافع] پر مشتمل ہوتی تھیں اور محکمہ اخراجات کو جو مہر بند رپورٹیں پیش کی جاتی تھیں ان میں اخراجات کی جگہوں کا تذکرہ ہوتا تھا۔’’ قدامہ بن جعفر اس کام کے کرنے والے ادارہ کے مرکزی کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: “جب اس محکمہ کا کام مکمل ہو جاتا ہے تو ریاست کے لیے نکالے جانے والا مال اور مختلف گوشوں اور علاقوں سے حاصل کردہ محصولات اس محکمہ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں “۔

“المقدمة” میں بیت المال کی اہمیت اور اس کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن خلدون [وفات: 808ھ / 1406ء] لکھتے ہیں: “جان لو کہ یہ کام بادشاہ کے ضروری کاموں میں سے ایک اہم کام ہے۔ بیت المال کا کام صدقات و زکوة کو جمع کرنا، محصولات اور اخراجات میں ریاست کے حقوق کو محفوظ رکھنا، فوج کے ہر شخص کا نام لکھنا، ان کی تنخواہ کا اندازہ لگانا، مقررہ اوقات پر ان کی تنخواہ انھیں دینا ہے، اور یہ سارے کام ان قوانین کی روشنی میں انجام دینا جنھیں ان کاموں کے انچارج [یعنی مالیاتی حکام و سربراہوں] نے ترتیب دیا ہے۔ آمدنی و اخراجات سے متعلق یہ ساری باتیں تفصیل کے ساتھ ایک کتاب میں لکھی ہوتی ہیں، جو ماہر حساب دان لکھتے ہیں۔’’

بتدریج نشو و نما

ملکوں کی تعمیر و ترقی اور ریاستوں کی تشکیل میں مال و دولت کے اہم کردار سے ابتدائی دور میں آگہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی مدینہ منورہ کے ایک مقام “سُنح” میں ایک بیت المال قائم کر دیا گیا تھا جو کافی مشہور تھا اور اس کی نگرانی پر کوئی بھی مامور نہیں تھا۔ حضرت ابوبکرؓ سے ایک بار کہا گیا کہ آپ بیت المال کی حفاظت پر کسی کو مامور کیوں نہیں کر دیتے؟ انھوں نے جواب دیا کہ اس پر تالا لگا ہوا ہے۔ یہ واقعہ محمد بن سعد [وفات: 230ھ / 845ء] نے “الطبقات الکبری” میں بیان کیا ہے۔

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں بیت المال کو مزید منظم کر دیا گیا اور ریاست کے انتظامی ڈھانچے کی دیگر اکائیوں سے بیت المال کوعلحدہ کر کے اسے ایک مستقل حیثیت دے دی گئی۔ امام طبری [وفات: 310ھ / 922ء] نے اپنی کتاب “تاریخ الطبری” میں تحریر کیا ہے کہ سن 15ھ / 636ء میں حضرت عمر ؓ نے “خراج” سے متعلق پالیسیاں بنائیں اور ایک “عطیات کا دیوان” بنایا، یہ ایک ایسا رجسٹر تھا جس میں مستحق افراد کے نام اور ان کو دی جانے والی عطیات کا ذکر ہوتا تھا۔

ابن جوزی [وفات: 597ھ / 1116ء] نے اپنی کتاب “اخبار عمر” میں لکھا ہے: “عطیات کا دیوان” نام رکھنے کا سبب یہ واقعہ بنا کہ سن 20ھ / 641ء میں حضرت ابو ہریرہ ؓ بحرین [جزیرة العرب کا مشرقی ساحل] سے 5 لاکھ درہم لے کر آئے، حضرت عمر ؓ نے اس سلسلے میں صحابہ کرام سے مشورہ کیا جس کے بعد یہ طے کیا گیا کہ اس طرح کا ایک دیوان [رجسٹر] بنایا جائے۔’’

خلیفہ بن خیاط [وفات: 240ھ / 854ء] نے ذکر کیا ہے کہ اس دیوان [رجسٹر] کو قائم کرنے کا مشورہ ہشام بن ولید بن مغیرہ [وفات: 41ھ / 662ء] نے دیا تھا، انھوں نے حضرت عمر ؓ سے کہا تھا: “اے امیر المومنین، میں نے عجمیوں کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دیوان میں ملازمین کی تفصیل لکھتے ہیں اور انھیں اسی تفصیل کے حساب سے عطیات دیتے ہیں۔’’ ایک دوسری روایت میں ہے کہ انھوں نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ “آپ بھی ایک دیوان بنائیں اور اس میں فوجیوں کی تفصیلات تحریر کریں۔’’ اس طرح سے ایک دیوان بنانے کی بات طے پا گئی۔ ابن خلدون کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جانب سے دیوان کا قیام بتاتا ہے کہ انھیں اس بات کی اہمیت کا ادراک تھا کہ پیسوں کا صحیح سے حساب رکھا جائے اور ان پیسوں میں کن لوگوں کے حقوق ہیں اور کن لوگوں کو عطیات دینے ہیں، ان کی بھی تفصیل لکھی جائے۔

امام طبری بیان کرتے ہیں کہ سن 17ھ / 639ء میں کوفہ کی تعمیر کے بعد قصر امارت میں بیت المال کو بنایا گیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انھوں نے مرکزی بیت المال کو کوفہ منتقل کر دیا۔ وہ آواز لگاتے تھے: “اے ابن التیاح [وفات: 50ھ / 676ء کے بعد]، کوفہ کے بزرگ اور بوڑھوں کو میرے پاس لے کر آو۔’’ اسماعیل بن محمد اصفہانی [وفات: 535ھ / 1140ء] نے اپنی کتاب “سیر السلف الصالحین” میں لکھا ہے کہ بیت المال میں موجود ساری چیزوں کو حضرت علیؓ مستحقین میں تقسیم کر دیتے اور کہتے رہتے: “اے سونا اور اے چاندی، تم میرے سوا کسی اور کو دھوکہ میں ڈالو۔’’ اس کے بعد حضرت علیؓ پورے بیت المال میں جھاڑو دیتے تھے، یہ بتانے کے لیے کہ انھوں نے اپنا حق ادا کر دیا۔

عہد اموی میں “محکمہ خراج” کو “بیت المال” سے علحدہ کر دیا گیا۔ عبد الملک بن مروان [وفات: 86ھ / 706ء] کے عہد میں رجسٹروں کو رفتہ رفتہ عربی میں منتقل کیا گیا۔ ابن الجوزی نے اپنی کتاب “المنتظم” میں لکھا ہے کہ مالیاتی اور انتظامی طور پر مستقل بالذات ہونے کے لیے اس عہد میں جو اقدامات کیے گئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ سن 75ھ / 695ء میں دینار کا اسلامی سکہ ڈھالا گیا۔

عہد عباسی کے انتظامی اہلکار محمد بن عبدوس الجہشیاری [وفات: 331ھ / 943ء] نے اپنی کتاب “الوزراء والکتاب” میں لکھا ہے کہ عراق میں مال اور خراج کا دیوان فارسی میں لکھا جاتا تھا، شام میں رومی [لاتینی] زبان میں لکھا جاتا تھا، جب کہ تمام عرب ممالک میں عطیات کا دیوان عربی میں ہی لکھا جاتا تھا۔ المقریزی [وفات: 845ھ / 1441ء] نے اپنی کتاب “المواعظ والاعتبار” میں لکھا ہے: “مصر کا دیوان قبطی زبان میں لکھا جاتا تھا، امیرِمصر عبداللہ بن عبدالمک بن مروان [وفات: 90ھ / 710ء کے بعد] نے سن 87ھ / 706ء میں اسے عربی زبان میں منتقل کروا دیا۔’’

انتظامی امور کو عربی میں منتقل کرنے کا عمل ایک بڑی تہذیبی و ثقافتی تبدیلی ثابت ہوا۔ ابن خلدون نے اس تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فتوحات کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد لوگ خانہ بدوشی کی خستہ حالی سے تہذیب کی رونق کی جانب اور ناخواندگی کی سادگی سے پڑھنے لکھنے کی مہارت کی جانب منتقل ہو گئے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عربوں کے یہاں پڑھنے لکھنے میں ماہر افراد اور ماہر حساب داں پیدا ہوئے۔

عباسی عہد میں بیت المال میں اہم فنی اور انتظامی اضافہ جات کیے گئے۔ محمد بن عبدوس الجہشیاری کے مطابق عباسی وزیر خالد بن برمک [وفات: 165ھ / 782ء] نے رجسٹروں کے اوراق کو مجلد رجسٹر میں تبدیل کر دیا۔ الجہشیاری بتاتے ہیں کہ عباسیوں نے پیسوں کے چلتے پھرتے بیت المال بنا لیے تھا، اس کا علم اس واقعہ سے ہوتا ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ خلیفہ مہدی [وفات: 169ھ / 786ء] نے اپنے ایک سفر کے دوران ایک شخص کو پیسے عطا کیے تھے۔

بیت المال کی انتظامیہ

ابن خلدون کا خیال ہے کہ عہد اموی میں بیت المال براہ راست خلیفہ کے ما تحت ہوتا تھا، جب کہ عباسی عہد میں بیت المال اس شخص کی ماتحتی میں ہوتا تھا جسے بیت المال کے سلسلے میں گہری معلومات اور تجربہ ہو، عہد عباسی کے وزراء بنی برمک اور بنی سہل بن نوبخت وغیرہ کو یہ ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس کا آغار عباسی خلیفہ مہدی کے وقت سے ہوا، اس کا علم الجہشیاری کی اس تحریر سے ہوتا ہے: “جب مہدی خلیفہ ہوئے تو سن 159ھ / 777ء میں انھوں نے ابو عبداللہ معاویہ بن یسار الاشعری [وفات: 167ھ / 783ء کے بعد] کو وزارت اوررجسٹروں کی ذمہ داری عطا کی۔’’

سلجوقی وزیر نظام الملک [وفات: 485ھ / 1092ء] نے اپنی کتاب “سیاست نامہ” میں لکھا ہے کہ خراسان اور اس کے اطراف کے ترک شہنشاہی ریاستوں میں دو خزانے تھے، ایک “بنیادی خزانہ” اور دوسرا “خرچ کا خزانہ۔’’ “بنیادی خزانہ” میں حاصل شدہ مال و ثروت ہوتا تھا اور اسے بہت کم ہی دوسرے خزانے میں منتقل کیا جاتا تھا۔ نظام الملک کے مطابق “بنیادی خزانہ” صرف انتہائی ضرورت کے وقت ہی خرچ کیا جاتا تھا اور وہ بھی بطورِ قرض کہ اس رقم کو بعد میں “بنیادی خزانہ” میں واپس کر دیا جاتا تھا، تا کہ ملک کو ایمرجنسی کے وقت مالی تنگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ گویا کہ “بنیادی خزانہ” ہمارے زمانہ کے “خود مختار فنڈز” [Sovereign Funds ]کی حیثیت رکھتا تھا۔

اس زمانہ میں عباسیوں نے بیت المال کا نام “مخزن” رکھا تھا۔ اس نام پر مشتمل قدیم ترین عبارت خلیفہ قائم بامر اللہ [وفات: 467ھ / 1075ء] کے عہد کی ملتی ہے۔ ابن الاثیر نے اپنی کتاب “الکامل” میں اس خلیفہ کی سخاوت کا ایک واقعہ بیان کیا ہے جس میں واقعہ کے چشم دید گواہ کہتے ہیں کہ میں “مخزن” میں داخل ہوا اور وہاں جس سے بھی میں ملا ان میں سے ہر ایک کے پاس “ضرورت مند” والی پرچی تھی۔

اگر ہم سرزمین اسلام کے مغربی حصے کا تذکرہ کریں تو ابن خلدون کے مطابق اموی اندلس اور اس کے بعد کے دور میں بیت المال وزرا کے کنٹرول سے باہر رہا ہے۔ عہد موحدین کے شہنشاہوں نے بیت المال کو ایک مستقل محکمہ کی شکل دے دی تھی، جس کے مرکزی دفتر کی ذمہ داری موحدین میں سے کسی بالغ نظر شخص کے پاس ہوتی تھی۔ لیکن بیت المال کا ذمہ دار حاجب کے ماتحت ہو گیا تھا اور اس کا شمار زکوة و صدقات جمع کرنے والے کے طور پر ہوتا تھا۔

ممالیک نے وزارت کو کالعدم کر دیا تو ان کے یہاں بیت المال کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ تاریخ نویس ابن فضل اللہ العمری [وفات: 749ھ / 1349ء] نے اپنی کتاب “مسالک الابصار” میں وزارت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے: “سلطان ناصر محمد بن قلاوون [وفات: 741ھ / 1340ء] نے وزارت کے عہدہ کو ختم کر دیا اور وزیر کے کام کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا: ناظرِ مال [یعنی شہنشاہی خزانہ کا ناظر] جس کا کام محصولات کو جمع کرنا اور اخراجات کرنا تھا۔ اور ناظرِ خاص جس کی ذمہ داری تھی کہ بیت المال کے تمام امور کی نگہبانی کرے اور ملازمین کی تقرری کرے۔’’

ٹھوس اور پختہ ادارہ

بیت المال کے داخلی ساخت کی بات کریں تو حضرت عمر ؓ کے عہد میں مدینہ منورہ کے بیت المال کا آغاز صرف دو ملازمین سے کیا گیا تھا، ان دونوں کا نام معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی [وفات: 40ھ / 661ء سے پہلے] اور عبداللہ بن ارقم [وفات: 44ھ / 664ء] رضی اللہ عنہما تھا۔ ان میں سے ایک بیت المال کا ذمہ دارِ اعلی تھا جسے “بیت المال کا ذمہ دار” کہا جاتا تھا۔ ابن سعد [وفات: 230ھ / 845ء] نے “الطبقات الکبری” میں تابعی مروان بن عبداللہ الخزاعی [وفات: 93ھ / 713ء کے بعد] کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کو جب ضرورت ہوتی وہ “بیت المال کے ذمہ دار” کے پاس آتے اور ان سے قرض لے لیتے، اگر بیت المال میں تنگی ہو جاتی تو “بیت المال کے ذمہ دار” ان کے پاس آ کر قرض کی واپسی کا مطالبہ کرتے۔’’

حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں بیت المال پر محافظ متعین کیے گئے تھے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن کثیر [وفات: 774ھ / 1373ء] نے “البدایة والنھایة” میں بیان کیا ہے: “پھر لوگوں نے آواز لگائی کہ بیت المال پر قبضہ کرو، تم سے پہلے کوئی وہاں نہ پہنچ جائے۔ بیت المال کے محافظین نے جب یہ بات سنی تو انھوں نے تیز آواز میں کہا: بچاؤ بچاؤ۔’’

دوسری صدی ہجری / آٹھویں صدی عیسوی کے وسط سے مضافاتی ریاستوں کے مستقل بالذات ہونے کے بعد عہد اموی میں بیت المال کی ساخت ہر ریاست کے اپنے قواعد وضوابط کی روشنی میں مختلف اور متنوع ہونے لگی۔ ابن خلدون کا کہنا ہے: “کبھی بیت المال کا ایک ہی ناظر اور سپروائزر متعین کیا جاتا اور وہ بیت المال کے تمام امور کی دیکھ بھال کرتا، اور کبھی بیت المال کے ہر کام کے لیے ایک ناظر متعین کیا جاتا۔ اس طرح کی تقرری شاید ریاست کی اصطلاح کے مطابق اور متقدمین نے جو انتظامی ترتیب متعین کر رکھی تھی اُس کے مطابق کی جاتی تھی۔’’

مرکزی اسلامی ریاست کے ابتدائی دور میں عمومًا ریاست کا حکمراں مالیات اور انتظامیہ دونوں کا ہی ذمہ دار ہوتا، البتہ فوجی قیادت مالی و انتظامی قیادت سے علیحدہ ہوتی تھی۔ ایک وزیر جن کا نام علی بن الفرات ہے،نے ایسا کرنے کی وجہ کو مختصرًا یوں بیان کیا ہے: “تلوار (یعنی فوجی ادارہ) ماتحت ہے اور قلم (یعنی انتظامی و شہری ادارہ) کی پیروی کی جاتی ہے، اور شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ قلم پر تلوار غالب آ جائے، اور اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ تباہی کا سبب ہوتا ہے۔’’

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ فوجوں کے سربراہان نے ریاستوں پر قابض ہونا شروع کر دیا۔ جیسا کہ تیسری صدی ہجری/ نویں صدی عیسوی کے وسط میں مصر میں طولونی ریاست کے قیام کے وقت اور اِسی صدی کے آخر میں خلافت کے مشرقی حصہ میں سامانی ریاست کے قیام کے وقت ہوا۔

ایسے افراد کی تعداد بہت کم ہے جنھوں نے ابتدائی فتوحات کے دور میں فوجی اور مالی و انتظامی دونوں منصبوں کی ذمہ داری بیک وقت ادا کی۔ خلیفہ بن خیاط کے مطابق اِن میں ایک نام حضرت ابو موسی اشعری ؓ کا ہے جو بصرہ کے گورنر تھے۔ طبری کی روایت کے مطابق حضرت سعد بن وقاصؓ صرف مالیات و انتظامیہ کے ذمہ دار تھے، ان کو فوجی قیادت کی ذمہ داری نہیں دی گئی تھی۔ پھر بیت المال کی قیادت بھی شہری و تمدنی قیادت کے ضمن میں آنے لگی۔ مصر میں حضرت عمرو بن العاصؓ کے عہد سے لے کر طولانی عہد تک یہ بات عام تھی کہ حکم رانوں کے پاس تمام تر ذمہ داریاں ہوتی تھیں۔ کندی [وفات: 355ھ / 961ء] اپنی کتاب “الولاة والقضاة” میں لکھتے ہیں: “مصر کا ہر حکمراں نماز کا بھی ذمہ دار ہوتا تھا اور خراج کا بھی۔’’

متعدد اختیارات کے ساتھ

وزارتِ خزانہ کے انتظامی نظم و نسق کو سمجھنے کے لیے اگر ہم عباسی سلطنت کے متوسط عہد کو بطور مثال اپنے سامنے رکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مالیاتی ادارہ کی درجہ بندی میں سب سے اوپر وزیر ہوتا تھا جو کہ درحقیقت اپنے وقت کا وزیر اعظم ہوا کرتا تھا۔ الجہشیاری کے مطابق عہد عباسی میں وزیر ہی خلیفہ کے سامنے بیت المال کے تعلق سے جواب دہ تھا۔

الصابی نے لکھا ہے کہ اسلامی انتظامیہ کے قدیم مورخین کو اس بات کا ادراک ہو گیا تھا کہ ریاست کے اعلی اقتدار کے اداروں کے ذمہ داروں کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے اور ان کی کارکردگی اور نظم و نسق کی صلاحیت یکساں ہونی چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ قدیم زمانہ کے سینیر مصنفین کہا کرتے تھے: “خلیفہ معتضد باللہ [وفات: 278ھ / 891ء] کے عہد خلافت میں، خلیفہ [یعنی سربراہ مملکت]، وزیر [یعنی وزیر اعظم]، دیوان کا ذمہ دار [یعنی وزیر خزانہ] اور فوج کے سربراہ [یعنی وزیر دفاع] جس طرح باہم ایک دوسرے سے قریب ہوئے اتنے قریب کسی اور زمانہ میں نہیں ہو سکے۔’’

چوتھی صدی ہجری کے آغاز میں بیت المال دو حصوں میں تقسیم ہو گیاتھا۔ ایک “عوامی بیت المال” جو عوامی مال اور عوامی اخراجات سے متعلق تھا، اور دوسرا “خصوصی بیت المال” جو خلیفہ و بادشاہ اور ان کے خاندانوں کے اخراجات کو پورا کرتا تھا۔ بادشاہ کے مصاحبوں اور شاعروں کو انعامات “خصوصی بیت المال” سے ہی ادا کیے جاتے تھے۔ الجہشیاری کے مطابق “خصوصی بیت المال” کا آغاز عہد عباسی کے خلیفہ الہادی [وفات: 170ھ / 786ء] کے دور خلافت میں ہوا تھا۔ المقریزی نے اپنی کتاب “السلوک” میں لکھا ہے کہ عہدِ ممالیک میں “خصوصی بیت المال” کو “دیوان المفرد” کے نام سے جانا جاتا تھا۔

“خصوصی بیت المال” خلیفہ اور بادشاہوں کے لیے خاص تھا اور وہ اس میں سے اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرتے تھے، اس کے باوجود ان خلفاء اور بادشاہوں میں ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو “عوامی بیت المال” اور اس کی علاقائی اکائیوں سے بھی مکمل آزادی کے ساتھ خرچ کرتے تھے۔ “معجم الادباء” میں یاقوت الحموی [وفات: 26ھ / 1229ء] نے لکھا ہے: “عہد فاطمی کے خلیفہ المستنصر [وفات: 487ھ / 1094ء] نے ابوالعلاء المعری [وفات: 449ھ / 1058ء] کو معرِة النعمان کے بیت المال سے کچھ حلال رقم [بطور ہدیہ] دی جسے لینے سے انھوں نے انکار کر دیا۔’’

بیت المال کے اختیارات اور اس کی سرگرمیوں کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ابن قدامہ نے لکھا ہے: “جب اثاثوں اور اخراجات کے محکموں کے ذمہ داران ماہانہ مالیاتی آڈٹ کی رپورٹس پیش کرتے تو یہ وزیر کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ بیت المال کے دیوان کے ذمہ دار کے سامنے وہ رپورٹس پیش کرے تا کہ وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھ لے اور اُس کے پاس جو فیصلے دیوان میں محفوظ ہیں اسے پیش کر دے۔’’ معلوم ہوا کہ رجسٹروں میں لکھے ہوئے عطیات کے پیش نظر،فنڈز کا وقتا فوقتا جائزہ لیا جاتا رہتا تھا اور اس میں لکھے ہوئے عطیات کا بیت المال کے ذمہ دار کے پاس موجود دستاویزات سے موازنہ کیا جاتا رہتا تھا۔

انتظامی ترتیب کے لحاظ سے وزیر کے عہدہ کے بعد “بیت المال کے نگہبان” کا عہدہ آتا تھا۔ ابن سعد نے “الطبقات الکبری” میں جو کچھ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس عہدہ کا یہ پرانا نام ہے، اس کے بعد یہ نام تبدیل ہو کر “مخزن کا نگہبان” ہو گیا۔ عباسی عہد میں “بیت المال کا نگہبان” دو لوگوں کو کہا جاتا تھا: ایک “خصوصی بیت المال” کے نگہبان کو اور دوسرے “عوامی بیت المال” کے نگہبان کو۔ بسا اوقات دونوں طرح کے بیت المال کا نگہبان کوئی ایک ہی شخص ہوتا تھا، الصابی کے مطابق خلیفہ مقتدر باللہ [وفات: 320ھ / 932ء] نے اپنے عہد میں ابو الحسن بن ہبنتی القنائی [وفات: 312ھ / 924ء کے بعد] کو خصوصی بیت المال، عوامی بیت المال اور اخراجات کا نگہبان بنایا تھا۔

تکنیکی تجربے کی اہمیت

سیوطی [وفات: 911ھ / 1506ء] نے “حسن المحاضرة” میں لکھا ہے: “بیت المال کی ذمہ داری تھی کہ وہ سلطنت کے محصولات کو اپنے پاس رکھے اور اس میں سے خرچ کرے، کبھی”میزان” کے ذریعے اور کبھی “قلم” کے ذریعے۔’’ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیت المال کے ملازمین دو طرح کے تھے: “حساب کتاب کرنے والے “ اور “ماہرین” جنھیں عربی زبان میں “جہابذة” کہا جاتا تھا۔ “حساب کتاب کرنے والے “ لوگ حساب کتاب کرنے اور رپورٹ لکھنے کے ہنر سے واقف تھے جس کے لیے وہ قلم کا استعمال کرتے تھے، یہی حضرات بیت المال جیسے مالیاتی ادارے کے انتظامی امور کے ذمہ دار تھے۔

“ ماہرین” حضرات “میزان” کا استعمال کرتے تھے اور وہ لوگ بیت المال کے تکنیکی مالیاتی امور مثلا اکاؤنٹس اور آڈیٹنگ کے ذمہ دار تھے، وہ ایسے مالیاتی ماہرین تھے جو اصلی اور نقلی کا فرق پہچان سکتے تھے۔ ان “ماہرین” کے لیے عربی میں “جہابذة” کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی، امام النووی [وفات: 676ھ / 1271ء] نے اپنی کتاب “تھذیب الاسماء واللغات” میں لکھا ہے کہ “جہابذة” ایسے افراد کو کہتے ہیں جو اصلی درہم کو نقلی درہم سے الگ کرنے میں کمال درجہ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

“ماہرین” کو اکاؤنٹنگ، وصولی اور خرچ سے متعلق کام سونپے جاتے تھے۔ خرچ کی رسیدوں پر”ماہرین کی مہر” لگائی جاتی تھی۔ بسا اوقات فنڈز جمع کرنے اور خرچ کرنے سے متعلق کچھ انتظامی کام خصوصی بیت المال اور عوامی بیت المال کے نگہبان کو سپرد نہ کر کے وزیر اپنے “ماہرین” کے سپرد کیا کرتا تھا۔ الصابی نے لکھا ہے: “بیت المال کے اداروں میں ایک ادارہ مراسلات کو وصول کرنے کا تھا اور ایک ادارہ رپورٹوں اور مہر کا تھا۔ ان دونوں اداروں کے ذمہ دارکی ماہانہ تنخواہ چار سو دینار [موجودہ زمانہ کے حساب سے تقریبا 80 ہزار امریکی ڈالر] تھی۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ عہدِ اموی میں “ماہرین” کی بڑی تعداد یہودیوں اور عیسائیوں پر مشتمل تھی، کیوں کہ اس دور میں ریاست کے پاس تکنیکی مالیاتی ماہرین کی بہت کمی تھی۔ ان میں ایک نام منصور بن سرجون الرومی [78ھ / 698ء کے بعد] کا ہے، خلیفہ بن خیاط کے مطابق حضرت معاویہ بن ابو سفیانؓ [وفات: 60ھ / 680ء] کے عہد سے لے کررجسٹروں کو عربی میں منتقل کرنے کے عہد تک منصور بن سرجون الرومی شام کے “مکمل دیوان” کے ذمہ دار رہے۔ اسی طرح عراق میں زیاد بن ابیہ [وفات: 53ھ / 673ء] کے عہد سے لے کر حجاج بن یوسف الثقفی [وفات: 95ھ / 673ء] کے عہد تک “خراج کے دیوان” کے ذمہ دار مردانشاہ بن زادان فرّوخ [وفات: 82ھ / 680ء] تھے۔

عہدِ عباسی میں بھی یہودی اور عیسائی “ماہرین” کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ الصابی کے مطابق نمایاں یہودی “ماہرین” میں دو لوگوں کا نام آتا ہے: یوسف بن فنحاس [وفات: 296ھ / 907ء کے بعد] اور ہارون بن عمران [وفات: 309ھ / 922ء]۔ الصولی کے مطابق ابن سنکلا النصرانی [وفات: 329ھ / 941ء کے بعد] عہدِ عباسی کے نمایان عیسائی “ماہرین” میں سے ایک تھے۔ ابوبکر بن ایبک الداوداری [وفات: 736ھ / 1334ء] نے اپنی کتاب “کنز الدرر” میں لکھا ہے کہ عہدِ مملوکی میں “حساب کتاب کرنے والوں” کی ایک بڑی تعداد سامریہ یہودیوں اور عیسائیوں کی تھی۔

ہلال بن المحسن الصابی [وفات: 448ھ / 1057ء] اپنی کتاب “تحفة الامراء فی تاریخ الوزراء” میں تحریر کرتے ہیں کہ چند ایسے “حساب کتاب کرنے والے” بھی تھے جو ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے بیت المال کی صدارت کے عہدہ تک جا پہنچے۔ ان میں سے ہی ایک سلیمان بن مخلد [وفات: 332ھ / 944ء] تھے جو بحران کے دیوان، اخراجات کے دیوان اور بیت المال تینوں کے صدر تھے۔ ان کے ماتحت بہت سارے “حساب کتاب کرنے والے” تھے جو ان کے اور بیت المال کے نگہبان کے درمیان ربط کی کڑی تھے۔

انتظام وانصرام کے ٹھوس طریقہ ہائے کار

ہم تک جو معلومات پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی منظور شدہ خرچ کو بیت المال سے ادا کرنے سے پہلے اُسے انتظامیہ کے علم میں لانا ضروری تھا۔ یاقوت الحموی نے اپنی کتاب “معجم البلدان” میں لکھا ہے: “عیسی بن داب اللیثی [وفات: 171ھ / 787ء] نامی ادیب عباسی خلیفہ الہادی کے بہت پسندیدہ مصاحب تھے، ایک رات خلیفہ الہادی نے حکم دیا کہ عیسی کو تیس ہزار دینار دیے جائیں، جب عیسی نے یہ رقم حاصل کرنا چاہی تو ان سے کہا گیا کہ وہ پہلے “دستخط کرنے والے” کے پاس جائیں جو ان کے لیے دیوان کے نام ایک رقعہ لکھ کر دیں گے، پھر وہ اسے حاصل کر کے پہلے فلاں کام کریں پھر فلاں کام کریں۔’’

بیت المال میں نئی تقرری کے طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے الصابی نے اپنے عہد کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ نئے ملازمین کی تقرری کے لیے تقرری سے متعلق دستاویزات وزیر کے سامنے پیش کیے گئے تو وزیر نے حکم دیا کہ ان کا ایک نسخہ دیوان میں بھیج دیا جائے اور ان پر مہر لگا دی جائے اور اس کے بعد ان دستاویزات کو وزیر کے سامنے پیش کیا جائے، لہذا ان دستاویزات کو وزیر کے سامنے دوبارہ پیش کیا گیا تو وزیر نے ان پر دستخط کیے اور حکم دیا کہ ان پر مہر لگا دی جائے اور پھر انھیں مالی تقسیم کے ذمہ داران کے پاس بھیج دیا جائے۔

قدامہ بن جعفر لکھتے ہیں کہ سرکاری طور پر منظور شدہ طریقہ کار یہ تھا کہ “رپورٹیں، دستاویزات اور خرچ کے حکم ناموں پر دیوان کے نگہبان [یعنی وزیر خزانہ] کی مہر لگی ہوئی ہو، جنھیں وزیر [یعنی وزیر اعظم] اور ان کے جاں نشین و نائبین دیکھ کر ہی کوئی فیصلہ کرتے تھے، اگر مہر نہیں لگی ہوتی تو ان پر مہر لگا کر لانے کے لیے کہا جاتا، تا کہ لوگ دیوان کو نظر انداز نہ کریں، کیوں کہ نظر انداز کر نے کی صورت میں دیوان غیر منظم ہو جاتا اور اس کا کام مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔’’

جہاں تک فنڈز کو جمع کر نے کے طریقہ کار کا تعلق ہے تو ہر قسم کے فنڈز اور مال کو جمع کرنے کے لیے ایک الگ ملازم مختص ہوتا تھا۔ قاضی ابو یوسف نے خلیفہ کو یہ وصیت کی تھی کہ زکوة کو جمع کرنے کا کام خاص طور پر ایک امانت دار شخص کے سپرد کیا جائے جو تمام ممالک سے صدقات کے وصول کرنے کا ذمہ دار ہو۔ ابن سعد نے “الطبقات الکبری” میں لکھا ہے کہ عہدِ اموی میں سرحدوں پر کسٹم کے اہلکار ہوا کرتے تھے۔

حساب کتاب کرنے والوں کی ایک اہم اور بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی تھی کہ وہ حساب کتاب کا جائزہ لیں، اسے تحریر میں لائیں اور رجسٹروں میں موجود کسی بھی قسم کی کمی کو دور کریں۔ ساتویں صدی ہجری [تیرہویں صدی عیسوی] میں بغداد کے عوامی خزانہ کا حساب کتاب کرنے والوں کے چیف عبد الحمید بن ابی الحدید [وفات: 655ھ / 1257ء] نے اپنے ایک مضمون میں یہ وضاحت کی تھی کہ مالی حساب کتاب کرنے والے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لین دین کے معاملات کی چھان بین کرے اور اگر اس میں کسی قسم کی کمی پائی جائے تو اسے درست کرے، تا کہ حساب کتاب کو معمول کے طریقہ پر کیا جا سکے، پھر اس کا موازنہ سابقہ رپورٹوں سے کیا جائے، تا کہ جو حساب کتاب چھوٹ گئے ہیں انھیں دوبارہ لکھا جا سکے۔ مالی حساب کتاب کرنے والے کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ روزانہ کی رسیدوں کا بھی جائزہ لیتا رہے۔

ممتاز اور باصلاحیت حساب کتاب کرنے والوں کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ وہ بیک وقت اخلاق سے بھی آراستہ تھے اور اپنے کام میں مہارت بھی رکھتے تھے۔ امام طبری نے لکھا ہے کہ جب خلیفہ المامون نے عباسی لیڈر طاہر بن الحسین [وفات: 207ھ / 823ء] کے بیٹے عبد اللہ [وفات: 230ھ / 844ء] کو چند ممالک کا حکم ران بنایا تو طاہر نے اپنے بیٹے عبداللہ کو یہ نصیحت کی کہ وہ ہر کام کی ذمہ داری ایسے ہی شخص کو دیں جو صائب الرای ہو، منصوبہ بندی کر سکتا ہو، کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہو اور سیاست سے واقف ہو اور پاکدامنی کا خیال رکھتا ہو۔ اسلامی انتظامیہ کے تاریخ نویس القلقشندی [وفات: 821ھ / 1418ء] نے اپنی کتاب “صبح الاعشی” میں وزارت خزانہ کے منتسبین کے کام کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صرف اہل علم اور اعلی درجہ کے دیانت دار لوگوں کو ہی یہ ذمہ داری سونپنی چاہیے۔ (جاری)

فروری 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau