عالمی قوتوں کی بدلتی پوزیشنیں-3

محمد المختار الشنقیطی | ترجمہ: ڈاکٹر محی الدین غازی

عالمِ اسلام کی مورفولوجی (morphology)

اسلام کا ظہور جزیرہ نما عرب میں ہوا۔ یہاں ان تین براعظموں کا سنگم ہے، جو اس وقت آباد زمین کی اساس تھے، یعنی ایشیا ، افریقہ اور یوروپ۔ پھر جزیرہ عرب سے اسلام مشرق کا سفر کرتا ہوا جنوبی ایشیا میں جاپہنچا اور مغرب کا سفر کرتا ہوا شمالی افریقہ میں پہنچ گیا۔ اس طرح عالمِ اسلام کی وہ جغرافیائی ہیئت تشکیل پائی جسے ہم آج دیکھ رہے ہیں۔متعدد قومیں اسلام کے سائے میں داخل ہوگئیں اور ان میں سے ہر ایک کا اسلامی تمدن میں اپنا خاص حصہ رہا۔ اسلام کی تمدنی فضا نے اپنی معنوی وحدت اور باہم سیاسی تعاون کی صدیوں حفاظت کی اور دور ِجدید تک یہ صورت ِحال باقی رہی، اس کے باوجود کہ وہ فضا قومی، تہذیبی اور لسانی تنوع سے بھرپور تھی اور تمام مذاہب ملتوں اور فرقوں کے لیے اس کے اندر کھلاپن موجود تھا۔

کہا جاسکتا ہے کہ ابن ِبطوطہ (1304-1377ء) کا سفرنامہ وہ اہم ترین تاریخی دستاویز ہے جو مسلم اقوام کے درمیان معنوی اور تہذیبی وحدت کا پتہ دیتی ہے۔ مراکش کے اس سیاح نے ان تمام سرزمینوں پر جہاں اس کے قدم پہنچے مسلم اقوام کے یہاں مشترک زبان اور مشترک قدریں پائیں۔ ان میں سے بیشتر نسل، وطن اور روایات میں اس سے مختلف تھے، لیکن آفاقی توحیدی عقیدے یعنی اسلامی عقیدے میں اور عالمی انسانی ثقافت یعنی اسلامی ثقافت میں وہ اس کے ساتھ تھے۔ اس کا سفر طویل تھا۔ وہ پچیس سال سے زیادہ مدت پر مشتمل تھا۔ اس دوران اس نے ایک لاکھ چالیس ہزار کلومیٹر طے کیے اور زمین کے اتنے بڑے رقبے کو گھوم لیا تھا جس کے اندر اس وقت چوالیس جدید ممالک اپنا وجود رکھتے ہیں اور جن میں سے بیشتر ملک تنظیم تعاون اسلامی (OIC) کے ممبر ہیں۔ اس طویل سفر میں ہر جگہ مسکراتے ہوئے مسلمان چہروں نے اس کا استقبال کیا۔ 

اسلامی نقشے کے ہر مقام پر ابن ِبطوطہ نے باعزت قیام کیا۔ مسجدوں میں، تصوف کی خانقاہوں میں اور محلوں میں۔ اس نے ہندوستان اور مالدیپ کے جزیروں میں منصب ِقضا سنبھالا، ہندوستان کے مسلم بادشاہ کا سفیر بن کر وہ چین گیا، مصر، شام اور حجاز کے علما سے شرعی علوم حاصل کیے، ترکی اور فارسی دونوں زبانیں سیکھیں، عظیم ثروت جمع کی اور متعدد خواتین کو رشتہ ٔازدواج میں داخل کیا۔ مصری مورخ حسین مونس نے ابن ِبطوطہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے یہ احساس درج کیا  ہےکہ: اس آدمی نے پورے عالمِ اسلام کو مراکش سے انڈونیشیا تک جسے وہ جاوا یا سماٹراکے ملک کے نام سے ذکر کرتا ہے، اور فلپائن کے جزیروں تک جسے وہ طوالسی کا ملک بتاتا ہے، چھان مارا۔ وہ چین کے مشرقی اور جنوبی ساحلوں پر آباد مسلم قوموں کے یہاں بھی گیا اور شوقِ سفر اُسے بیجنگ تک لےگیا۔ اس آدمی نے یہ طویل اسفار کیے اور اسے یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ اپنے ملک سے باہر نکلا ہے یا اپنے گھر والوں سے جدا ہوا ہے۔ ہر جگہ اسے خوش آمدید کہنے والے، رہائش دینے والے اور اس کے لیے کھانے کا دسترخوان بچھانے والے ملتے رہے۔‘‘(62)

آج عالمِ اسلام خشکی کے چوتھائی حصے کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ اس کا رقبہ تین کروڑ بیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی دنیا کی آبادی کا تقریبًا بیسواں حصہ ہے۔ جہاں تک اسلامی جغرافیہ کی ہیئت کی بات ہے، جمال حمدان نے اس نظریے کے بیج ڈالے، جسے ’’عالمِ اسلام کی مورفولوجی‘‘ کا نام بھی اس نے ہی دیا(63)، یعنی اس کا جغرافیائی ڈھانچا اور اس کے اساسی نشانات۔ حمدان نے اسلام کا مطالعہ کیا، اس حیثیت سے نہیں کہ وہ ’’ایک روحانی قبا ہے جو تیزی سے پھیلتی چلی گئی‘‘(64)، یہ کام تو بہت لوگوں نے کیا، اس نے اسے اس طور سے دیکھا کہ ’’وہ ایک جگہ کا منظرنامہ ہے‘‘(65)، اور پھر اس نے اسلامی سیاسی جغرافیہ کی صورت میں ایک مضبوط نظریہ پیش کیا۔

موقع و محل کے پہلو سے، حمدان نے یہ نوٹ کیا کہ عالمِ اسلام ’’براعظموں کے اندرون میں ایک براعظم ہے، وسطی براعظم‘‘(66)، جو ان تینوں براعظموں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے جو قدیم دنیا میں آبادی کا محور تھے، یعنی افریقہ، ایشیا اور یوروپ۔ حمدان نے ’’وسطی براعظم‘‘ کے نام کو فرانسیسی مستشرق فینسان مونتے(1913-2005) کی طرف منسوب کیا، حالاں کہ مالک بن نبی حمدان سے پہلے عالمِ اسلام کو ’’وسطی براعظم‘‘ سے متصف کرچکے تھے۔ مالک بن نبی نے نیپولین بوناپارٹ کی طرف یہ بات منسوب کی تھی کہ اس نے عالمِ اسلام کو ’’درمیانی براعظم‘‘ کا نام دیا تھا(67)۔

حمدان کا خیال ہے کہ عالمِ اسلام، اپنی جغرافیائی شکل و صورت میں، ایک ہلال یا قوس ہے، جو ’’ایک قلب اور دو بازوؤں سے مل کر بنتی ہے‘‘(68) اور یہ ہلال یا قوس جنوبی ایشیا اور شمالی افریقہ کے درمیان تقسیم ہے۔ ’’اس قوس نما شکل سے ایک بنیادی حقیقت برآمد ہوتی ہے اور وہ یہ کہ افریقہ میں دار اسلام اس کے شمالی حصے میں مرکوز ہے، جب کہ ایشیا میں اس کا ارتکاز جنوبی حصے میں ہے‘‘(69) (نقشہ نمبر 1)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سیموئل ہنٹنگٹن (1927-2008) اسلامی ہلال کے آئیڈیا میں حمدان کا ہم خیال ہے۔ اس نے سرسری اشارہ کیا ہے کہ ’’اسلامی گٹھ بندھن ایک ہلال کی شکل لیے ہوئے لگتا ہے، جو افریقہ کی گہرائی سے ایشیا کے وسط تک پھیلا ہوا ہے‘‘(70)۔ عالمِ اسلام کے افریقی اور ایشیائی دونوں بازوؤں کے آئیڈیا کو آج کےسیاسی جغرافیہ کے واقعات تقویت پہنچاتے ہیں، تنظیم تعاون ِاسلامی چھبیس افریقی ممالک اور ستائیس ایشیائی ممالک پر مشتمل ہے، اس قلب اور دونوں بازوؤں کے ما ورا مضبوط قسم کا اسلامی امتداد نہیں پایا جاتا ہے، باوجود اس کے کہ لاطینی امریکا کے دو ملک تنظیم تعاون اسلامی کے ممبر ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ ’’خط استوا کے جنوب میں اسلام ثانوی اعضا اور انگلیوں کی صورت میں ہے، اور نئی دنیا میں وہ اڑتے ہوئے نیبولا کے ٹکڑوں کے مانند ہے‘‘(71)۔

حمدان نے بہت اچھا کیا کہ بحر ہند کو عظیم اسلامی ہلال کے اندرونی حصے کا تارا قرار دیا۔ اس کا یہ خیال بھی عمدہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے مسلمانوں نے جب بڑھتی ہوئی یوروپی قوتوں کے سامنے بحیرہ روم کھویا، تو دوسری طرف بحر ہند پر اقتدار قائم کرکے اس نقصان کی تلافی کردی۔ اس میں اہم کردار جزیرہ ٔعرب کے جنوبی ساحل کی آبادیوں یعنی یمن اور عمان والوں کی زندگی سے بھرپور نقل و حرکت کا تھا، انھوں نے اسلام کو سمندر کے راستے ہندوستان کے جنوب مغرب کے علاقے میں اور جنوب مشرقی ایشیا کے جزیروں تک پہنچایا۔ ان جزیروں میں ملیشیا ہے، نیز انڈونیشیا جو اس وقت آبادی کے لحاظ سے عالمِ اسلام کا سب سے بڑا ملک ہے۔

اسلامی سیاسی جغرافیہ میں بحر ہند کے مقام پر گفتگو کرتے ہوئے حمدان کہتا ہے: ’’اسلامی ہلال کے قلب میں، اور گویا کہ اس کا تارا بن کر، بحر ہند کا وجود ہے، یہ منطقی اور لازمی طور پر اسلامی بحر اعظم ہے۔ اسلام نے بحیرہ روم کو کھودیا تھا، جس کی حیثیت اسلامی بحیرے کی تھی، یا روایتی اسلامی نما کی تھی، تاہم اس نے بحر ہند کو حاصل کرلیا جو عالمِ اسلام کا بحر روم بن گیا، حضرمی اور عمانی اس کے یونانی اور وینیشین تھے، گو کہ وہ اس کے رومی نہیں تھے‘‘ (72)۔ جب حمدان حضرمیوں اور عمانیوں کو یونان اور وینیس کے لوگوں سے تشبیہ دیتا ہے اور رومیوں سے تشبیہ کو مسترد کرتا ہے، تو وہ ایک لطیف اشارہ کرتا ہے کہ انھوں نے اسلام کو ایشیا کے جنوب مشرق میں پرامن دعوت اور تجارتی معاملات کے راستے سے پہنچایا، نہ کہ فوجی فتوحات کے راستے سے۔

بحر ہند کی اہمیت اور اسلامی سیاسی جغرافیہ میں اس کی مرکزیت کے سلسلے میں متعدد مغربی محققین حمدان سے اتفاق رکھتے ہیں۔ وہ ایسا بحر اعظم ہے جہاں عالمی بحری راستے ایک دوسرے سے ملتے ہیں، غالب اور ابھرتی ہوئی عالمی قوتیں باہم مقابلہ کرتی ہیں کہ انھیں اس میں یا اس کے ساحلوں میں قدم جمانے کی جگہ مل جائے، یہ چیز اسلامی سیاسی جغرافیہ کی اسٹریٹیجیکل اہمیت کو بڑھادیتی ہے۔ ان محققین میں ایک امریکی رابرٹ کیپلن (Robert D. Kaplan)ہے، اور ایک کنیڈین سیبیسٹین پرانگ (Sebastian R. Prange)ہے، دونوں نے خاص اس موضوع پر ایک ایک کتاب لکھی ہے(73)۔ ہم نے ایک خاص مطالعے میں ابن بطوطہ کے سفرنامے اور حمدان کے افکار پر گفتگو کی ہے کہ وہ عالمِ اسلام میں معنوی اور مادی وحدت پر کس طرح دلالت کرتے ہیں(74)۔

حمدان کے نظریہ کو خوبی اور اولیت دونوں حاصل ہیں، تاہم اس نظریہ سے بے اطمینانی پیدا کرنے والی ایک چیز یہ ہے کہ اس اسلامی ہلال میں کچھ ایسے ملک بھی شامل نظر آتے ہیں جو عالمِ اسلام کا حصہ نہیں ہیں، جن میں ہندوستان اور چین جیسے بڑے ملک بھی ہیں۔ یہ اس نظریے میں ایک بڑا انقطاع ہے جس سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ہم ایسا خاکہ تجویز کررہے ہیں جو اسلامی سیاسی جغرافیہ سے زیادہ ہم آہنگ ہے اور صورتِ واقعہ سے زیادہ مطابق ہے۔ وہ یہ کہ عالمِ اسلام کی جغرافیائی لحاظ سے دو تقسیمیں کی جائیں، ایک برّی عالمِ اسلام اور دوسرا بحری عالمِ اسلام۔

برّی عالمِ اسلام (نقشہ ۲) ایک مضبوط گٹھ بندھن ہے، اس کے درمیان کہیں بڑے بحری فاصلے نہیں ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایک بڑے پرندے کی شکل میں ہے، ہلال یا قوس کی شکل میں نہیں ہے، اس عظیم پرندے کا سر  اناطولیہ میں ہے، اور اس کا دل جزیرہ عرب میں ہے، (جزیرہ عرب اپنے وسیع مفہوم میں جو خلیجی ممالک، یمن عراق اور شام پر مشتمل ہے)، اور اس کے دو بازو ہیں، ایک جنوبی ایشیا میں پھیلا ہوا ہے اور دوسرا شمالی افریقہ میں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اسلامی روایت میں ایک قول موجود ہے جس کا تعلق اس عظیم پرندے کے مجازی مفہوم سے ہے، تابعی کعب احبار (ت 652م) سے ان کا یہ قول مروی ہے کہ ’’اللہ نے دنیا کو پرندے کی حیثیت سے بنایا، مشرق اور مغرب دو بازو رکھے، اور سر شام کو بنایا‘‘(75)۔ہوسکتا ہے یہ قول اسی طرح گھڑا ہوا ہو، جس طرح ملکوں اور شہروں کے فضائل میں بہت سے اقوال گھڑے گئے ہیں، لیکن یہ مسلمانوں کے جغرافیائی خیال خانے میں ایک قدیم تصور کی موجودگی کا پتہ دیتا ہے جس کے مطابق صرف عالمِ اسلام نہیں بلکہ پوری دنیا ایک پرندے کی شکل میں ہے جس کا سر سرزمین شام میں ہے۔ شام وہ علاقہ ہے جو جزیرہ نما اناطولیہ  کے اندر تک ہے، جہاں عظیم اسلامی پرندے کا سر پایا جاتا ہے۔

یہ وضاحت باقی رہ جاتی ہے کہ عالمِ اسلام کا ایشیائی بازو افریقی بازو کے مقابلے میں جغرافیہ اور آبادی کے لحاظ سے زیادہ بھاری بھرکم ہے، اگرچہ افریقہ کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب زیادہ بڑا ہے۔ جمال حمدان نے بھی یہ نوٹ کیا کہ ’’افریقی بازو کو وزن اور کشش ثقل کے لحاظ سے ایشیائی بازو پر بالکل قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘(76)۔ اسی طرح مالک بن نبی بھی جنھوں نے نوٹ کیا کہ اسلام کا جھکاؤ مشرق کی طرف ہے(77) اور اس کے بشری کشش ثقل کا مرکز ایشیا میں ہے (78)۔ آگےجب ہم دور حاضر میں اسلام کے مرکزِ ثقل پر بات کریں گے تو مالک بن نبی کی اس رائے پر گفتگو کریں گے۔ شاید افریقی بازو کے بالمقابل اسلام کے ایشیائی بازو کی بڑھی ہوئی ضخامت سے متاثر ہوکر محبوبانی نے عالمِ اسلام کو ایشیائی منظرنامے کے عناصر میں سے ایک عنصر قرار دیا ہے۔

جہاں تک بحری عالمِ اسلام کی بات ہے، (نقشہ ۳) وہ ایسے علاقوں پر مشتمل ہے جو اسلامی جغرافیہ کے بنیادی ڈھانچے سے الگ ہیں، وہ ایسے علاقوں سے مل کر بنتا ہے جہاں جمال حمدان کی تعبیر کے مطابق اسلام ’’سمندر کا سفر کرکے‘‘ پہنچا، خشکی کے پھیلاؤ کے راستے نہیں، خشکی کا پھیلاؤ بلند و بالا ہمالیہ کے پہاڑوں کے سامنے رک گیا، یہ وہ رکاوٹ تھی جس نے ’’بعد میں اسلام کو اس سمت میں آگے بڑھنے سے روک دیا، تو وہ سمندر کا سفر کرکے جنوب کی سمت سے ہوتے ہوئے وہاں آیا‘‘(79). بحری عالمِ اسلام کچھ ملکوں پر مشتمل ہے، اور وہ ہیں: بنگلادیش، اندونیشیا، ملیشیا، برونای اور مالدیپ۔ بحری عالمِ اسلام کی خصوصیت جغرافیائی تنگی اور آبادی کی کثرت ہے، وہاں مسلمانوں کی بڑی کثیف آبادی ہے۔

مشرق وسطی کا علاقہ (نقشہ ۴) برّی عالمِ اسلام کی چھوٹی شکل ہے، وہ بڑے اسلامی پرندے کی شکل کے اندر ایک چھوٹے پرندے کی شکل میں ہے۔ آبادی میں مسلمانوں کا تناسب دیکھا جائے تو اس خطے میں یہ تناسب سب زیادہ ہے، گو کہ دنیا کے مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد اس خطے میں نہیں رہتی ہے۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ اسلامی مقدسات مشرق وسطی میں پائے جاتے ہیں، جہاں کہ مکہ، مدینہ اور القدس ہے۔ یہ کشش سے بھرپور خطہ ہے کیوں کہ یہاں قبلہ ہے اور حج کے مقامات ہیں۔ یہ خطہ عالمی سطح کی اسٹریٹیجیکل اہمیت کا حامل ہے، اور اسی لیے ابھرتی ہوئی قوتیں تاریخ کی ابتدا سے اب تک اس خطے پر اپنا رسوخ بڑھانے اور سکہ چلانے کے لیے مقابلہ کرتی رہی ہیں اور اب بھی یہ مقابلہ جاری ہے۔

مشرق وسطی کے اندر بھی اور اس کے کناروں پر بھی اہم سمندر ہیں، جو عالمی نقشے پر اسٹرٹیجیکل پوزیشن رکھتے ہیں، بحیرہ اسود(Black Sea)، بحیرہ ابیض (Mediterranean Sea) اور بحر احمر (Red Sea)، ان کے ناموں کو دیکھتے ہوئے انھیں ہم رنگین سمندر کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح مشرق وسطی میں اہم ترین سمندری آبنائے ہیں، جن پر دنیا کے بیشتر ملکوں کے تجارتی اسفار اور عسکری نقل و حرکت کا دارومدار ہے۔ یہ ہیں، آبنائے باسفورس، در دانیال، نہر سویز، آبنائے باب المندب، آبنائے ہرمز اور اگر ہم آگے بڑھ کر پورے عالمِ اسلام کے نقشے کو دیکھیں تو ایشیا کے جنوب مشرق میں آبنائے ملقا اور افریقہ کے شمال مغرب میں آبنائے جبل الطارق (نقشہ ۵)۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی اہم ترین آٹھ آبنائے میں سے سات آبنائے عالمِ اسلام میں پائی جاتی ہیں۔ اسٹریٹیجیکل آبنائے میں صرف نہر پاناما براعظم امریکہ کے جنوب میں ہے(80)۔

مشرق وسطی کے خطے کا خاص مقام ہے سیاسی اور تمدنی جغرافیہ کے نقشوں میں:

تاریخی لحاظ سے، اس خطے میں انسانی تمدن کا ظہور ہوا، نیز یہاں کئی عالمی مذاہب کا ظہور ہوا جنھوں نے دنیا کا چہرہ اور تاریخ کی سمت بدل دی، یہاں تک کہ اس خطے کی تاریخ گویا پوری انسانیت کی مذہبی روایت کے جلی خطوط (broad lines) پر مشتمل ہے، ان میں دین اسلام بھی شامل ہے جو تمام عالمی مذاہب کے درمیان سب سے زیادہ جوان اور سب سے تیزی سے پھیلنے والا دین ہے۔

جغرافیائی پہلو سے، اس خطے میں اور اس کے گردوپیش میں اہم ترین سمندر اور بحر اعظم ایک دوسرے سے ملتے ہیں، نیز اس خطے میں اہم ترین اسٹرٹیجیکل آبنائے پائی جاتی ہیں جن پر بیشتر انسانی آبادی اپنے تجارتی لین دین میں انحصار کرتی ہے اور انسانوں کے فیصلوں پر حکومت کرنے اور اپنا رسوخ بڑھانے کی خاطر کوشاں عالمی طاقتیں اس میں اپنے قدم جمانے کے لیے مقابلہ آرائی کرتی ہیں۔

سماجی پہلو سے، یہ خطہ توانا جوان قوموں سے آباد ہے، یہ بڑی سماجی فعالیت کی حامل ہیں، جوانوں کا تناسب یہاں غالب ہے، جب کہ دوسری بہت سی اقوام سماجی لاغر پن اور بڑھاپے سے دوچار ہیں اور اپنی توانائی اور قوت محرکہ کھوتی جارہی ہیں۔اس کی وجہ ان کے اندر سماجی ٹوٹ پھوٹ کا بڑھنا اور ان کا تعیش پرستی میں غرق رہنا ہے۔

معاشی پہلو سے، یہ خطہ ایسی اسٹرٹیجیکل ثروتوں سے مالا مال ہے، جن پر عالمی صنعتوں کا دار و مدار ہے، ان میں پٹرول اور قدرتی گیس کے ذخیرے اہم ترین ہیں۔ استعماری سلطنتوں کے درمیان شدید مقابلہ رہتا تھا کہ ان ثروتوں پر کس کا راج رہے، آج بھی یہ ثروتیں باہم متصادم عالمی اسٹرٹیجیوں کے قلب میں جگہ رکھتی ہیں۔ 

یہ تمام حقائق اس پر دلالت کرتے ہیں کہ عالمِ اسلام میں پوشیدہ امکان ایک عظیم اور متعدد پہلوؤں والا امکان ہے، شرط یہ ہے کہ اسے باشعور قیادتیں نصیب ہوں جن کے پاس سیاسی ولولے اور اسٹرٹیٹیجکل حس ہو۔  

عالمِ اسلام: قبائے وحدت تار تار

عالمِ اسلام میں موجود امکان کے بارے میں ہم نے جو کچھ کہا ہے، وہ اپنی جگہ، لیکن افسوسناک امریہ ہے کہ یہ امکان بہت حد تک ضائع ہورہا ہے۔ اس کے کچھ تاریخی اسباب ہیں جو دور حاضر میں اسلامی تمدن کو درپیش مصائب کا حقیقی سبب ہیں، خاص طور سے مشرق وسطی میں جو اسلامی تمدن کا گہوارا ہے۔ عثمانی سلطنت جس کے پہلے بیج کا ابن بطوطہ نے اناضول میں چودھویں صدی عیسوی میں مشاہدہ کیا تھا، اسلامی تمدنی فضا کے بڑے حصے کو منظم رکھنے والی آخری سیاسی چھتری تھی، خاص طور سے اس علاقے کو جسے ہم نے برّی عالمِ اسلام کا نام دیا ہے۔ بڑی اسلامی سلطنتوں میں اس کی عمر سب سے لمبی تھی اور لمبی صدیوں تک اسلام کی سرحدوں کی حفاظت کی قدرت اس میں سب سے زیادہ رہی تھی۔ بیسویں صدی کے شروع میں عثمانی سلطنت کے سقوط کے ساتھ ہی عالمِ اسلام ایک سخت دور میں داخل ہوگیا۔ اس کے اندرون میں شدید قسم کا بکھراؤ تھا اور بیرون کی طرف اسٹریٹیجیکل حفاظت کی دیوار ڈھے گئی تھی۔ اس طرح سو سال سے زیادہ مدت سے عالمِ اسلام کا بڑا حصہ اپنے کشش ثقل کے مرکز سے محروم ہے۔ وہ مرکز جو اس کے بکھرے ٹکڑوں کو جمع کرتا، اس کی قوت کو مرکوز کرتا اور اسے متحد رکھتا۔

عثمانی سلطنت کے حصے بخرے ہوجانے کے نتیجے میں تاریخ سے جو رشتہ ٹوٹا، اس نے مسلمانوں کو اقدامی حوصلے اور مشترک کوشش کے جذبے سے محروم کردیا۔ مسلم اقوام کے درمیان انسانی، سیاسی اور تہذیبی شیرازے پارہ پارہ ہوگئے، سب نے ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر لی، بلکہ ماضی کی استعماری قوتوں کے مراکز سے ان کا معاشی، سیاسی اور تہذیبی تعلق باہمی تعلقات سے کہیں زیادہ مضبوط رہنے لگے۔ اس طرح اسلام کے ان اصولوں کو فراموش کردیا گیا جو مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، محبت، ہم دردی، امدادِباہم اور ایک دوسرے کی طاقت بننے کو لازم قرار دیتے ہیں۔

عالمِ اسلام آج بھی دشمن کے سامنے بے بسی اور اسٹریٹیجیکل عدم تحفظ کی حالت میں ہے۔ امریکہ کے سیاسی فلسفی سیموئل ہنٹنگٹن نے اس امر کا ادراک کیا اور اپنی مشہور زمانہ کتاب تہذیبوں کے ٹکراؤ میں اسے تفصیل سے واضح کیا۔ ہنٹنگٹن نے یتیمی کی اس حالت کو نوٹ کیا جو اس دور میں اسلامی تہذیب پر سوار ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس ’’مرکزی ریاست‘‘ نہیں ہے، جو اس کے سفر میں پیش پیش رہے، اس کے داخلی اختلافات کو درست کرے، اور دشمنوں کے تیروں کو اس سے روکے۔ اس نے واضح کیا کہ: ’’اسلامی مرکزی ریاست کا نہ ہونا اسلامی معاشروں اور غیر اسلامی معاشروں کی بہت سی اہم مشکلات کی وجہ ہے‘‘(81)، یہ چیز ’’اسلام کے لیے کم زوری کا سرچشمہ ہے اور دوسری تہذیبوں کے لیے خطرے کا سامان ہے‘‘(82)۔

ہنٹنگٹن نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اسٹرٹیجیکل عدم تحفظ کی یہ حالت اس وقت سے شروع ہوئی ہے جب بیسویں صدی کے آغاز میں عثمانی سلطنت کو یوروپ کی استعماری طاقتوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا، اس نے کہا: ’’عظیم عثمانی سلطنت کے خاتمے نے اسلام کو کسی مرکزی ریاست کے بغیر چھوڑ دیا۔۔۔، اور اس طرح بیسویں صدی کے بڑے حصے میں کسی اسلامی ریاست کے پاس نہ بقدر کفایت قوت تھی، نہ تہذیب اور نہ ہی دینی جواز، جس کی بنا پر وہ اس کردار کو ادا کرتی اور اسلامی ریاستوں اور غیر اسلامی معاشروں میں اسلامی تمدن کے پیشوا کے طور پر قابل قبول ہوتی”(83). آگے جب ہم عالمِ اسلام میں اسٹریٹیجیکل مرکز کشش کی بات کریں گے تو ہنٹنگٹن کے خیالات پر مزید گفتگو کریں گے۔

سب کو جمع کرنے والی سیاسی چھتری نہ ہونے کی وجہ سے، عالمِ اسلام دوسروں کی مقابلہ آرائی کا میدان بن کر رہ گیا ہے۔ ذاتی قوت مدافعت، اسٹریٹیجکل حس اور سمجھ دار قیادت کی اس کے پاس کمی ہے۔ شاید ٹکڑے ٹکڑے بیلٹ shatter belt ایسی اصطلاح ہے جس سے عالمِ اسلام کی موجودہ صورت حال کی بالکل صحیح عکاسی ہوتی ہے، یہ اصطلاح جیو پولیٹیکس میں دنیا کے ان علاقوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو اندر سے ٹوٹ پھوٹ سے دوچار ہوں اور اس پر مزید بڑی طاقتوں کی لوٹ مار کا نشانہ بھی بنے ہوئے ہوں(84)۔ عالمِ اسلام کے عربی اور افریقی حصے پر یہ کیفیت خاص طور سے صادق آتی ہے، آج یہ خطے بہت گہری فکری اور سیاسی تقسیموں سے دوچار ہے، اور اس کے وجود اور امکان دونوں لوٹ مار کا شکار ہیں، اکثر ممالک ایسی کسی عالمی قوت کا ضمیمہ بن کر رہ گئے ہیں جو اسلامی سرزمین کی ہوس رکھتی ہے یا عالمی بالادستی کے خواب دیکھتی ہے۔ ہم سیاسی جٖرافیا کے کچھ معاصر نظریات پر نظر ڈالیں گے اور ان میں عالمِ اسلام کی پوزیشن کو تلاش کریں گے، یہ جائزہ یہ جاننے کے لیے کافی ہوگا کہ اسلامی جٖغرافیا نظری اور عملی دونوں پہلوؤں سے لوٹ مار کی کس کیفیت سے دوچار ہے:

ایک نظریہ ہے ’’متنازعہ خطے‘‘ (Debated and Debatable Zone) کا جس کا خالق ہے امریکہ کا ألفرید ماهان (T. Mahan) (1840-1914)، اس کے مطابق عالمِ اسلام کے اہم حصہ اس خطے کا مغربی حصہ ہے جس پر اس وقت کی بڑی طاقتیں زور آزمائی کررہی ہیں، مغرب میں ترکی سے لے کر مشرق میں چین کی سرحدوں تک پھیلا ہوا یہ حصہ ہے، اس میں اناضول بھی شامل ہے اور وسطی اور مغربی ایشیا کا ایک حصہ بھی۔ وہ مغرب کو نصیحت کرتا ہے کہ اس خطے میں روس سے قدم رکھنے کی ہر جگہ چھین لی جائے(85)۔

ایک نظریہ ہے زمین کے قلب (Heartland Theory) کا، اس کا خالق ہے برطانیہ کا ہالفورڈ میکنڈر  (H. J. Mackinder)، اس کی رو سے عالمِ اسلام کا بڑا حصہ یوریشیا کے ساحلوں پر واقع ’’داخلی ہلال‘‘ میں پایا جاتا ہے، میکنڈر نے بیسویں صدی کے آغاز میں برطانیہ کو نصیحت کی تھی کہ ان ساحلوں پر قبضی جمالے، اور قیصر کے روس سے انھیں چھین لے، اس امید کی راہ میں کہ دنیا کے بحری اور برّی دونوں حصوں پر اس کی بالادستی مکمل ہوجائے(86)۔

ایک نظریہ ہے زمین کے کنارے (Rimland Theory) کا، اس کا سہرا امریکہ کے نیكولاس اسیکمین (Nicholas Spykman)کے سر جاتا ہے، اس کےمطابق عالمِ اسلام یوریشیا کے ان ساحلوں کا اساسی حصہ ہے جو بڑی برّی طاقتوں اور بڑی بحری طاقتوں کے بیچ سد راہ ہیں۔ وہ امریکا کو نصیحت کرتا ہے کہ اس خطے کا پورا استحصال کرے، تاکہ سوویت کی طاقت کو اپنے قابو میں رکھا جاسکے اور اس پر شکنجہ کسا جاسکے۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یہی ہوا جب امریکہ نے کمیونزم کو اپنے قابو میں رکھنے کی اسٹریٹیجی اختیار کی۔

ایک نظریہ درمیانی خطے (la région intermédiaire) کا ہے، اس کو بنانے والا یونان کا دیمیتری کتسکس ( 1935-2021,Dimitri Kitsikis)ہے، اس میں عالمِ اسلام کی اہمیت اس طرح بتائی گئی ہے کہ وہ ارتھوڈکس دنیا کے ساتھ مل کر ایک درمیانی گٹھ بندھن بنتا ہے، یہ مغرب (امریکہ و یوروپ) اور مشرق (ہندوستان اور چین) کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے، اور تہذیبی لحاظ سے ان دونوں سے مختلف ہے۔ کتسکس اگرچہ مسلمانوں کو سمجھتا ہے اور ان سے ہمدردی رکھتا ہے، لیکن وہ عالمِ اسلام کو ارتھوڈکس اور یونانی تہذیب کا تمدنی اور اسٹرٹیجیکل ضمیمہ بنادینے کے درپے نظر آتا ہے(87)۔

ایک نظریہ شطرنج کی بڑی بساط (The Grand Chessboard) کا ہے، اس کا موجد امریکہ کا بریزنسکی (Zbigniew Brzezinski)(1926-2017) ہے، وہ جب یوریشیا پر کشمکش کا اسٹریٹیجیکل جائزہ لیتا ہے، تو عالمِ اسلام کے بہت بڑے حصے کو (سینا سے لے کر چین کی سرحدوں تک) وہ ’’عالمی بلقان‘‘ اور ’’یوریشیائی بلقان‘‘ قرار دیتا ہے، (88)۔ یہ ثروتوں سے مالا مال علاقہ ہے، جو داخلی تقسیموں سے پارہ پارہ ہے، اور عدم استحکام نے اسے ناتواں کررکھا ہے، بریزنسکی یہ کیفیت بیان کرتے ہوئے امریکا کو نصیحت کرتا ہے کہ وہ نرم طاقت اور سخت مداخلت کے ملے جلے طریقے سے اس علاقے کو اپنے زیر دست رکھے۔

تہذیبوں کی کشمکش (clash of civilizations) کا نظریہ جسے امریکہ کے سیموئل ہنٹنگٹن نے پیش کیا، عالمِ اسلام کو ایک ممتاز تہذیبی اکائی کے طور پر بتایا گیا ہے، لیکن اس تہذیب کی سرحدیں خون میں نہائی ہوئی ہیں، کیوں کہ وہ (اس کے گمان کے مطابق) دوسری تہذیبوں سے ایک ہمہ گیر تہذیبی جنگ میں مشغول ہے۔ یاد رہے کہ ہنٹنگٹن ان تمام جنگوں کا ذمے دار مسلمانوں کو بتاتا ہے، جن میں مسلمان ایک فریق ہیں، خواہ وہ اس جنگ میں مظلوم اور کچلے ہوئے کیوں نہ ہوں۔ ہنٹنگٹن نے خبر دار کیا ہے ’’کونفوشی اسلامی اتحاد‘‘ کے ظہور سے جو ایک برا اسٹریٹیجیکل گٹھ بندھن بن سکتا ہے اور امریکی اسٹریٹیجیکل چھتری کے نیچے سے بساط کھینچ سکتا ہے(89)۔

ایک اور نظریہ یوریشینزم (Eurasianism) کا ہے، جس کی تشہیر روس کا الگزنڈر دوگِن کرتا ہے، وہ عالمِ اسلام کے ایک حصے یعنی وسطی ایشیا کو اس اسٹریٹیجیکل غلاف (کور) کا حصہ مانتا ہے جس سے روس اپنی حفاظت کرے، جب کہ وہ اسے اسلامی اسٹریٹیجیکل فضا کا حصہ نہیں مانتا۔ دوگن جب یہ دعوت دیتا ہے کہ ایک ترکی سلاوی اتحاد وجود میں آئے ناٹو (امریکی یوروپی اتحاد) کے خلاف، تو وہ دراصل عالمِ اسلام کے ایک حصے کو اپنانے کی کوشش ہوتی ہے، تاکہ وہ روس کی ارضی اسٹریٹیجیکل امنگوں میں رنگ بھرے، یہ مانتے ہوئے کہ روس یوریشیائی مجموعے میں ’’بڑے بھائی‘‘ کا مقام رکھتا ہے(90)۔

اس طرح وقت کے رائج جیو اسٹریٹیٹیجی کے نظریات کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ عالمِ اسلام کا کردار ہنوز انفعالی ہے، وہ دوسروں کے ڈھالے ہوئے اسٹریٹیجیکل خیالات اور منصوبوں کے ایک مہرے سے زیادہ نہیں ہے۔ ابھی تک اس نے فاعلیت کی پوزیشن نہیں سنبھالی ہے جس کے پاس واضح نقوش راہ پر مشتمل جیو اسٹریٹیجی کا خود اپنا نظریہ ہو، اس کے سامنے عملی منصوبے ہوں، جن کے ذریعے وہ اپنے اسٹریٹیجیکل ارادے کو متحد کرے، اور قوموں کے درمیان اپنی شایان شان جگہ اپنے زور بازو سے حاصل کرے۔ عالمِ اسلام میں پوشیدہ بہت سا تاریخی، جغرافیائی اور سماجی امکان ضائع کردیا گیا اور دور حاضر میں اسلامی تہذیب کی بازیافت کے لیے ان کو ثمر آور نہیں بنایا جاسکا۔ ان امکانات کے ضائع ہوجانے کے متعدد اسباب ہیں، جیسے:

ماضی سے وراثت میں ملے کم زوری کے بعض کہنہ مظاہر ابھی تک موجود ہیں، اس خطے کے افراد نے ان مظاہر کا خاطر خواہ اخلاقی شجاعت اور سیاسی بصیرت سے سامنا نہیں کیا ہے۔ اصلاح کی ان کوششوں کے باوجود جو دو تقریبًا دو صدیوں پہلے سے شروع ہوئی ہیں، ماضی کے بعض امراض اس خطے میں ابھی تک جڑیں جمائے ہوئے ہیں۔ جب تک ایسی اصلاح نہیں ہوگی جو ماضی سے نکال کر مستقبل میں پہنچائے، یہ خطہ اپنے بحران سے نہیں نکل سکے گا۔

اس خطے کو دور جدید میں اس کا موقع نہیں ملا کہ وہ فطری طریقے سے، اپنی قدروں اور اپنی مخصوص تاریخی اور سماجی ثقافت کے ساتھ ترقی کرسکے۔ بلکہ ہوا یہ کہ استعماری قوتوں نے زور و تشدد کے ساتھ اس پر چڑھائی کی اور انھوں نے اپنی ہوس کے مطابق اس خطے کے ایسے نقشے بنائے، جو اسے اندر سے ٹکڑے ٹکڑے کرتے رہیں، اور باہر سے اسے محکومیت میں گرفتار رکھیں، اس خونریز چڑھائی کے نتیجے میں جو تباہی برپاہوئی اور بگاڑ پیدا ہوا اس کے نشانات آج بھی آنکھوں کے سامنے ہیں۔

اس خطے کی اقوام نے یوروپی استعمار سے قومی تفریق کی ثقافت قبول کرلی۔یہ ثقافت بیسویں صدی کے آغازمیں ہر طرف پھیل گئی۔ اس کے نتیجے میں وہ آپس میں ایک دوسرے سے دور ہوگئیں اور اپنی مشترک تہذیب کو فراموش کربیٹھیں۔ انھوں نے دین، تہذیب، تاریخ اور جغرافیہ کے ان رشتوں کو پامال کیا جو انھیں ایک شیرازے میں پرونے والے تھے۔ حالاں کہ اسلام کی تہذیبی فضا اپنی ہیئت کے لحاظ سے مغربی فضا سے کہیں بہتر حالت میں تھی، مغربی فضا کے عناصر کو تو لمبی مسافتیں اور وسیع بحر اعظم ایک دوسرے سے دور رکھتے ہیں۔

یہ زبردست امکانات جو عالمِ اسلام کے پاس موجود تھے، انھیں ایسی چیزوں میں ضائع کیا گیا جو مسلم اقوام کے مستقبل کو تباہ کرنے والی تھیں۔ یہ امکانات یا تو خطے کی اقوام کے درمیان تباہ کن جنگوں میں لگائے گئے، جن میں یہاں کی آبادیاں عالمی طاقتوں کی کشمکش کا آئندھن بنتی رہیں، اور ان جنگوں کی قیمت ان کے خون اور دولت سے وصول کی گئی۔ یا پھر انھیں بد دیانت استبدادی حکومتوں کی حفاظت میں لگایا گیا، جو اقوام کے مسائل سے لاپروا رہیں، جن کے پاس اسلامی تہذیب کی بازیافت کا کوئی جذبہ ہی نہیں تھا اور نہ ہی ابھرتی ہوئی اقوام کے درمیان امت مسلمہ کے لیے جگہ بنانے کا کوئی عزم تھا۔

حوالہ جات

(62) حسین مؤنس، ابن بطوطة ورحلاته: تحقیق ودراسة وتحلیل (القاهرة: دار المعارف، 1980)، ص 22.

(63) جمال حمدان، العالم الإسلامی المعاصر (القاهرة: عالم الكتب، 1971)، ص 19.

(64) حوالہ سابق، ص 11.

(65) حوالہ سابق، ص 6.

(66) حوالہ سابق، ص 25.

(67) بن نبی، فكرة الإفریقیة الآسیویة، ص 226.

(68) حمدان، العالم الإسلامی المعاصر، ص 20.

(69) حوالہ سابق، ص 20.

(70) Samuel P. Huntington, ’’The Clash of Civilizations?‘‘ Foreign Affairs (Summer 1993), 35.

(71) حمدان، العالم الإسلامی المعاصر، ص 15.

(72) حمدان، حوالہ سابق، ص 19-20.

(73) دونوں کی کتابیں دیکھیں :

Robert D. Kaplan, Monsoon: The Indian Ocean and the Future of American Power (Random House, New York, 2010); Sebastian R. Prange, Monsoon Islam: Trade and Faith on the Medieval Malabar Coast (Cambridge: Cambridge University Press, 2018).

(74) محمد المختار الشنقیطی، “من طنجة إلى جاكرتا: وحدة المعنى والمبنى فی العالم الإسلامی بین ابن بطوطة وجمال حمدان،” مجلة الثقافة الدولیة، كوالالمبور. المجلد 12، العدد 1 (یولیو 2002)، 153-173.

(75) علی بن الحسن ابن عساكر، تاریخ دمشق (دمشق: دار الفكر، 1995)، ج 1، ص 192.

(76) حمدان، العالم الإسلامی المعاصر، 20.

(77) بن نبی، فكرة الإفریقیة الآسیویة، 255.

(78) حوالہ سابق، ص 255.

(79) حمدان، العالم الإسلامی المعاصر، ص 42-43.

(80) آٹھ آبنائے اور ہیں، لیکن ان کی اتنی اہمیت نہیں ہے، جتنی اہمیت مذکورہ بالا آبنائے کی ہے۔کل سولہ آبنائے کے بارے میں جاننے کے لیے دیکھیں:

Patrick O‘Sullivan, ’’Chokepoints,‘‘ in O‘loughlin, Dictionary of Geopolitics, p.41.

(81) صامویل هنتنغتون، صدام الحضارات: إعادة صنع النظام العالمی، ترجمة طلعت الشایب (بغداد: سطور، 1999)، ص 221.

(82) حوالہ سابق، ص 289.

(83) حوالہ سابق، ص، 289.

(84) سیاسی جغرافیہ میں ٹکڑے ٹکڑے بیلٹ کے بارے میں جاننے کے لیے دیکھیں:

Kelly, Classical Geopolitics, 185.

(85) ماہان کے نزدیک متنازعہ خطے کے بارے میں دیکھیں:

T. Mahan. The Problem of Asia and It‘s Effects upon International Policies (Boston: Little, Brown and Company 1900), p. 21-22.

(86) H. J. Mackinder, ’’The Geographical Pivot of History,‘‘ p. 312.

(87) درج ذیل دونوں کتابوں (فرانسیسی زبان) میں اس پر گفتگو کی ہے:

Dimitri Kitsikis, L‘Empire Ottoman (Paris: Presse Universitaire de France, 1985), p.14-18; Dimitri Kitsikis, ’’Une Vision Géopolitique: la Région Intermédiaire,‘‘ Relations Internationales, No. 109 (2002/1), p.99-116.

(88) بطور مثال دیکھیں:

Zbigniew Brzezinski, The Grand Chessboard: American Primacy and Its Geostrategic Imperatives (New York: Basic Books, 1998), p.123-147; Zbigniew Brzezinski, ’’Hegemonic Quicksand,‘‘ The National Interest (Winter 2003/04), p. 5-16.

(89) هنتنغتون، صدام الحضارات، 413.

(90) دوغین، أسس الجیوبولتیكا، ص 129. سلاوی معاہدے کے سلسلے میں پوتین کے خیالات پر تنقیدی نظر کے لیے دیکھیں:

Shlapentokh, ’’Dugin, Eurasianism, and Central Asia,‘‘ p.143-156.

ستمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau