عالمی قوتوں کی بدلتی پوزیشنیں اور عالم اسلام کا مستقبل – 2

محمد المختار الشنقیطی | ترجمہ: ڈاکٹر محی الدین غازی

جارحانہ حقیقت پسندی کا بیانیہ

ایک طرف تو وہ سیاسی بیانیہ ہے جو مغرب کے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہ ہمیں محبوبانی اور متعدد چینی محققین کے یہاں ملتا ہے۔ اس کے بالمقابل ایک دوسرا بیانیہ ہے جو چین کی اٹھان کو لے کر بہت سے اندیشے رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک چین کی یہ اٹھان مغرب کے لیے اور خاص طور سے امریکی طاقت کے لیے نحوست کا پیغام رکھتی ہے۔ چین کی اٹھان سے مغرب کا خوف زدہ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، ہم نے اس سے پہلے انیسویں صدی کے آغاز میں نیپولین بونا پارٹ (1769-1821) کا قول ذکر کیا ہے، جس میں وہ چین کے جاگ جانے سے خبردار کرتا ہے۔ اسی طرح بیسویں صدی کے آغاز میں بھی چین کی اٹھان کو لے کر فکرمندی ظاہر ہوتی ہے۔ برطانیہ کے سیاسی جغرافیہ کے نظریہ کار ہالفورڈ میکنڈر کے یہاں اس فکرمندی کے اظہار میں نسل پرستی کا آہنگ صاف سنائی دیتا ہے۔ ماکیندر نے ”تاریخ کے جغرافیائی محور”[33] کے عنوان سے اپنے مشہور خطاب میں چین کے ”زرد خطرے” سے ہوشیار کیا تھا۔ 1904 کے آغاز میں اس نے ”رائل جیوگرافیکل سوسائٹی” کے سامنے یہ مقالہ پیش کیا تھا۔ بعد ازیں سیاسی جغرافیہ کے علم میں یہ ایک بنیاد گزار متن کی حیثیت اختیار کرگیا۔ نیپولین اور میکنڈر جیسے لوگوں کے یہ قبل از وقت ڈراوے محض مفروضوں پر مبنی تھے، کیوں کہ اس وقت چین ایسی قوت نہیں تھا کہ اسے سنجیدگی سے خاطر میں لایا جائے۔ اس لیے ہمیں جس چیز سے دل چسپی ہے وہ ابھرتی ہوئی چینی قوت سے مغرب کا حالیہ خوف ہے، کہ اب وہ اٹھان ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے۔ اس طرزِ فکر کے ایک نمونے کے طور پر ہم شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر جون میرشایمر کو لیں گے۔ یہ ہمارے زمانے میں بین الاقوامی تعلقات کے علم کا ایک نمایاں ترین امریکی نظریہ ساز ہے۔

جون میرشایمر اس حوالے سے مشہور ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں عملیت پسند (paragmetic) اسکول کے نمایاں ترین حامیوں میں سے ایک ہے۔ اس اسکول سے نکلنے والے متعدد نظریات کے حوالے سے وہ جانا جاتا ہے۔ ہمارے زیرِ نظر موضوع کے لیے اس کا اہم ترین نظریہ ”جارحانہ حقیقت پسندی” (Offencive Realism)[34] ہے۔ یہ نظریہ کہتا ہے کہ ہر عظیم قوت فطری طور پر زیادہ سے زیادہ قوت حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے، یہ مقصد وہ دوسری عظیم قوتوں کو کم زور کرکے ہی حاصل کرسکتی ہے۔ یہ نظریہ یہ بھی کہتا ہے کہ دنیا میں متعدد قطبی قوتوں کے ہوتے جنگ بھڑکنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جب کہ یک قطبی بالادست قوت کی موجودگی میں یہ امکان کم ہوتے ہیں۔ اس نظریے کا انطباق کرتے ہوئے میرشایمر دو دہائی قبل شائع ہونے والی اپنی کتاب ”بڑی طاقتوں کی سیاست کا المیہ” (The Tragedy Of Great Power Politics) میں کہتا ہے کہ ”زیادہ امکان یہ ہے کہ چین اپنی معاشی قوت کو عسکری قوت میں تبدیل کردے گا، پھر جنوب مشرقی ایشیا پر بالادستی قائم کرنے کی کوشش کرے گا۔”[35] اور یہ وہ چیز ہے جو اس کے خیال میں امریکہ ہرگز قبول نہیں کرے گا، اس لیے ”چین کی قوت کے بڑھتے ہوئے چین اور امریکہ کے بارے میں یہ مقدر ہوچکا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حریف رہیں گے۔” [36]

میرشایمر اپنے اس تجزیے کا دفاع بعد کی تحریروں اور لاتعداد لکچروں میں بھی کرتا رہا ہے۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔اس نے 2001 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب کا حجم مزید بڑھایا اور 2014 میں شائع ہونے والے اس کے ایڈیشن میں آخری فصل کا اضافہ کیا جس کا عنوان رکھا: ”کیا چین پُر امن طریقے سے کرسی صدارت پر فائز ہوسکتا ہے؟”[37]۔ اسی طرح اس نے ایک سے زیادہ علمی مقالے بھی اس تھیسس کے دفاع میں شائع کرائے، جن میں اہم ترین وہ مقالہ ہے جو بین الاقوامی سیاست کے لیے مختص چینی مجلے میں شائع ہوا، اس کا عنوان ہے: ”پرجوش آندھی، ایشیا میں امریکی قوت کے لیے چینی چیلنج”[38]۔

میر شایمر جارحانہ حقیقت پسندی کے جس نقطۂ نظر کا علم بردار ہے، اس کی رو سے بین الاقوامی بالا دستی کی کنجی یہ ہے کہ ایک بڑی ریاست پہلے اپنے خطے میں بالا دستی قائم کرنے میں کام یاب ہوجائے، پھر وہ دوسری بڑی ریاستوں کو ان کے اپنے خاص خطوں پر بالادستی سے محروم کرے۔ میر شایمر کا خیال ہے کہ ”معقول اسٹریٹجک وجوہات” کی بنا پر امریکہ نے اپنی عمر کے پہلے نصف، یعنی انیسویں صدی کو اپنے خطے پر تنہا قابض ہونے اور امریکی براعظم سے یورپی قوتوں (برطانیہ، اسپین اور فرانس) کو باہر دھکیل دینے کی کوشش میں گزار دیا۔ اور جب اسے ”مونرو کے عقیدے” [40] کے مطابق اپنے خطے یعنی امریکی براعظم میں بالا دستی حاصل ہوگئی، تو اپنی عمر کے دوسرے نصف یعنی بیسویں صدی میں اس کی کوشش یہ رہی کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں کسی دوسری ریاست کی بالادستی باقی نہ رہنے دے۔ خواہ وہ شہنشاہیت والا جاپان ہو، نازی جرمن ہو، یا سوویت یونین کا روس ہو۔ میر شایمر کے تجزیے کے مطابق دونوں صدیوں کے ہر دو اہداف حاصل کرنے میں اسے کام یابی ملی۔

میر شایمر کا خیال ہے کہ چین اپنی قوت کی اٹھان کے بعد جو بھی کرے گا وہ ”انکل سام کی تقلید”[41] ہوگی۔ یعنی وہی اسٹریٹجکل منہج اختیار کرے گا جو اس سے پہلے امریکہ انیسویں صدی میں اختیار کرچکا ہے۔ چناں چہ اس وقت چین کی کوشش یہ ہے کہ وہ اپنے خطے پر بالادستی قائم کرلے، خاص طور سے بحرالکاہل کے ایشیائی ساحلوں پر۔ اس کی کوشش یہ بھی ہے کہ خطے کے طاقت ور پڑوسیوں (ہندوستان، جاپان، روس) کے مقابلے میں اس کی قوت کا فرق بڑھ جائے، جس کے بعد وہ ”اپنے پڑوسیوں کی طرف سے قابلِ قبول تعامل کے حدود بھی طے کرے گا” [42] جیسا کہ امریکہ نے اپنے پڑوس کے ساتھ پہلے کیا، نیز ان پڑوسیوں کو کم زور کرنے کی پوری کوشش کرے گا، جیسا کہ امریکہ نے اپنے خطے کے دو پڑوسیوں (کنیڈا اور میکسیکو) کو کم زور رکھنے کا اہتمام کیا۔

خلاصہ یہ کہ چین کا اپنا ”مونرو کا عقیدہ” ہوگا، لیکن وہ اس اسٹریٹجک عقیدے کے تقاضے یعنی خطے پر بالا دستی کو ہرگز پورا نہیں کرسکے گا، تا آں کہ امریکہ کے ساتھ اس کی ہر محاذ پر مڈبھیڑ ہو۔ میر شایمر کی جارحانہ حقیقت پسندی کی منطق یہ ضروری قرار دیتی ہے کہ امریکہ جہاں تک ہوسکے مشرقی ایشیا کے خطے پر چین کی بالادستی کو قائم نہ ہونے دے۔ اس طرح یہ دونوں دیوہیکل ملک تھوسی ڈائڈز کے جال (Thucydides Trap) میں جاپڑیں گے اور دونوں کے درمیان سرد یا گرم جنگ چھڑ جائے گی اور یہ جنگ ابھرتی قوت اور غالب قوت کے درمیان چلی آرہی کشمکش کی مساوات کے مطابق ہوگی۔ امریکی اسٹریٹجکل مفکر رابرٹ کیپلن (Robert D. Kaplan) میر شایمر سے اتفاق کرتا ہے کہ ”چین کی معاشی قوت جو عسکری قوت کے جلو میں مسلسل بڑھ رہی ہے، آنے والے برسوں کے دوران محوری نوعیت کا تناؤ پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔”[43] اس کی وجوہات میں یہ بھی شامل ہے کہ ”امریکہ جو آدھی مغربی دنیا پر بالادست قوت ہے، اس کی پوری کوشش کرے گا کہ چین کو آدھی مشرقی دنیا کے بڑے حصے پر بالا دست قوت نہ بننے دے۔”[44]۔

جارحانہ حقیقت پسندی کے سلسلے میں میر شایمر کا نظریہ امریکہ کی اٹھان کی دو صدیوں کا بالکل صحیح تعارف کراتا ہے۔ کہاں وہ یورپی استعمار کی ایک چھوٹی سی کالونی تھی جو بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس کے درمیان حصار بند تھی اور پھر کیسے وہ دنیا پر بالادستی قائم کرنے والی عالمی قوت بن گئی۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہ نظریہ اس راہ کی ترجمانی بھی کرے جو چینی اٹھان یا روسی بیداری یا مستقبل میں اٹھنے والی کوئی اور قوت اختیار کرے۔ وہ قوت مسلم دنیا کی صورت میں بھی ہوسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض نئی ابھرنے والی قوتیں امریکی تاریخ سے عبرت حاصل کریں اور امریکی تاریخ پر حاوی ”جارحانہ حقیقت پسندی” کے بجائے ”مدافعانہ حقیقت پسندی” کی راہ اختیار کریں۔ میر شایمر کا یہ اصرار کہ ہر نئی ابھرتی قوت کی راہ کو امریکی تاریخ کی آنکھوں سے پڑھا جائے، تحفظ طلب ہے، ممکن ہے کہ یہ محض امریکی ثقافتی مرکزیت کا اثر ہو۔

ہمارے اس مطالعے کی خاص دل چسپی اس سے ہے کہ آئندہ پیش آنے والی چین اور امریکہ کے بیچ کشمکش میں عالمِ اسلام کی کیا پوزیشن ہوگی۔ میرشایمر ہمیں اس سلسلے کے بعض قیمتی نکات سے نوازتا ہے۔ وہ یہ مانتا ہے کہ عالم اسلام مشرق و مغرب کے درمیان کشمکش کے میدان کا ایک حصہ ہے۔ میر شایمر کا خیال ہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان آئندہ ہونے والی کشمکش بحر الکاہل کے ساحلوں تک محدود نہیں رہے گی—جیسے تائیوان کا مسئلہ، چین کے جنوبی سمندر اور چین کے مشرقی سمندر کا مسئلہ—بلکہ وہ کشمکش دوسرے خطوں تک پھیلے گی جہاں دونوں ملکوں کے مفادات اور عزائم ٹکراتے ہیں، ان میں عالم اسلام کے اہم علاقے بھی ہوں گے، جیسے جنوب مشرقی ایشیا کا علاقہ اور مشرقِ وسطیٰ کا علاقہ، خاص طور سے عربی خلیج کے ساحلی علاقے، اس کے بارے میں وہ لکھتا ہے:

”یہ دیکھتے ہوئے کہ چین خلیج کے تیل پر انحصار کرتا ہے، غالب امکان یہ ہے کہ وہ اس اسٹریٹجک اہمیت والے خطے میں نفوذ کرنے کے لیے امریکہ سے مقابلہ کرے گا، وہ بھی اسی طرز پر جس طرز پر اس سے پہلے سوویت یونین نے کیا تھا۔ چین مشرقِ وسطیٰ پر حاوی ہوجائے، اس کا تو زیادہ امکان نہیں ہے، کیوں کہ وہ خطہ چین سے دور ہے، اور اس لیے بھی کہ امریکہ اس پیش قدمی کو ناکام بنانے کی جان توڑ کوشش کرے گا۔ لیکن اس کا غالب گمان ہے کہ چین اس خطے میں اپنی مسلسل موجودگی قائم رکھنے کے لیے عسکری بیس بنالے گا، اگر کوئی مقرب حلیف اس سے مدد طلب کرے۔ مثال کے طور پر یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ ایران اور چین کے باہمی تعلقات بہت مضبوط ہوں اور ایران چینی افواج سے اپنی زمین پر اڈہ قائم کرنے کی درخواست کرے۔ مختصر یہ کہ اگر یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو لے کر امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان شدید مقابلہ تھا، تو چین اور امریکہ کے درمیان مقابلہ آرائی غالباً صرف ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو لے کر ہوگی۔” [45]۔

ایسا لگتا ہے کہ جیسے میرشایمر 2010 میں ہی پیشین گوئی کرتا ہے کہ چین اور ایران کے درمیان ”ہمہ گیر اسٹریٹجک شراکت” کا معاہدہ ہوگا، اور اس معاہدے پر دونوں ملکوں نے 2021 میں دستخط کردیے۔ یہ معاہدہ چوتھائی صدی کی مدت تک تمام میدانوں میں اسٹریٹجک تعاون پر مشتمل ہے، اس میں عسکری میدان بھی شامل ہے [46]۔ میرشایمر کو اس کی بھی توقع ہے کہ ”چین اور مشرق وسطی کے درمیان بحری گزرگاہیں”[47] بھی چین اور امریکہ کے مابین مڈبھیڑ کی ایک جہت بنیں گی۔ خاص طور سے آبنائے ملاکا جوکہ ملیشیا، انڈونیشیا اور سنگاپور کو جدا کرنے والی آبی گزرگاہ ہے، اور وہ بین الاقوامی چینی تجارت کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے چین کے اسٹریٹجک نظریہ کار مسلسل ”ملاکا کے مسئلے” کے بارے میں بات کررہے ہیں [48]۔ میرشایمر کے قیمتی نکات ہمیں اسلامی سیاسی جغرافیہ کے قلب سے مزید قریب کردیتے ہیں، جس کے بارے میں ہم آگے تفصیل سے بات کریں گے، لیکن اس سے پہلے عالمی قوتوں کی بدلتی ہوئی نئی پوزیشنوں کے ضمن میں ہم روس کی پوزیشن پر بات کریں گے۔

یوریشیائی روس کی بیداری

25 جنوری 1991 کو میخائیل گورباچوف نے سوویت یونین کی کرسی صدارت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیااور سرخ پرچم کریملن کی بلڈنگ سے اتار دیا گیا۔ یہ اس سوویت یونین کی موت کا سرکاری اعلان تھا، جس نے نظریاتی حریف اور اسٹریٹجکل خطرہ بن کر سات دہائیوں تک مغرب کی نیند اڑا رکھی تھی۔ گورباچوف اس وقت سوویت یونین میں رائج سیاسی بزرگی کے معیارات کے مطابق (ساٹھ سال کا) جوان تھا، کیوں کہ اس سے پہلے ماسکو کے اقتدار پر متمکن متعدد بوڑھے کمیونسٹ لیڈر رخصت ہوچکے تھے۔ جیسے لیونڈ بریزینیف، (1906-1982) یوری اندروبوف (1914-1984) اور کانٹسٹائن چرننکو (1911-1985)، موخر الذکر دونوں موت کا نوالہ بننے سے پہلے اقتدار میں صرف ایک سال رہے۔

گورباچوف مثالیت پسند اور بردبار تھا، مغرب کے تعلق سے اس میں سیاسی سادگی پائی جاتی تھی۔ اس نے یہ تصور کرلیا تھا کہ مغربی قوتوں کے کسی اعتراض کے بغیر ہی سوویت یونین یورپی ملک بن جائے گا۔ خاص طور سے امریکہ کے دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد سے جس کی اسٹریٹجکل چھتر سایہ میں یورپ رہتا ہے۔ گورباچوف نے اپنی کتاب Perestroika میں (جس میں اس نے اپنے نظریاتی تجزیے درج کیے اور اپنا مستقبل کا وژن شامل کیا ہے) وہ عبارت لکھی ہے جو بتاتی ہے کہ اس کے دل میں کیا خواب مچل رہے تھے اور جو بعد میں سراب ثابت ہوئے:

”بعض لوگ کوشش کرتے ہیں کہ وہ سوویت یونین کو یورپ سے دور کردے۔ اور نادانستہ طور پر سہی، وہ یورپ کے اطلاق اور مغربی یورپ کے اطلاق کو ایک قرار دینے لگتے ہیں۔ اس کے علی الرغم، یہ سارے کھیل تاریخی اور جغرافیائی حقائق کو نہیں بدل سکتے۔ یورپ کی اقوام اور اس کے دیگر ممالک سے روس کے ثقافتی، تجارتی اور سیاسی تعلقات کی تاریخ میں گہری جڑیں ہیں۔ ہم بہرحال یورپین ہیں۔ عیسائیت نے قدیم روس کو یورپ کے ساتھ ایک شیرازے میں پرو رکھا تھا۔ آنے والے سال (1988) میں ہم اپنے اجداد کی سرزمین میں عیسائیت کی آمد پر ہزار سال گزر جانے کا جشن منائیں گے۔ روس کی تاریخ عظیم یورپ کی تاریخ کا قدرتی حصہ ہے۔ روس، یوکرین، بیلارس، مالڈووا، اسٹونیا، لیتھوانیا اور ہمارے (سوویت) ممالک کی دیگر اقوام نے یورپی تہذیب کے ارتقا میں قابلِ قدر حصہ لیا ہے، اور اسی لیے وہ اپنے آپ کو اس کا جائز وارث سمجھتے ہیں۔”[49]۔

بہت مشکل ہے کہ اس سے زیادہ واضح عبارت مل سکے جو اس نظریاتی تبدیلی سے پردہ اٹھاتی ہو، جس سے سوویت یونین آٹھویں دہائی میں گزر رہا تھا۔گورباچوف جو اس وقت سوویت یونین کا صدر تھا اور سوویت کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکرٹری تھا، یہاں روس اور اس کے حریف یورپیوں کے درمیان مشترک دینی اور تاریخی ورثے کے بارے میں لکھ رہا ہے، روس کی عیسائی شناخت پر ناز کر رہا ہے اور شرط لگا رہا ہے کہ اس کا ملک یورپی ملک بن جائے گا۔ گورباچوف نے اپنی اس کتاب میں بار بار ”مشترک یورپی گھر”[50] کے تصور پر اصرار کیا ہے، جو روس اور مشرقی یورپ کے ان ممالک کے لیے بھی کشادگی رکھتا ہو، جو سوویت یونین کا حصہ تھے یا اس کے محور میں گردش کررہے تھے۔ اس نے اس کی بھی دعوت دی کہ ”تمام عسکری حلف بندیاں کالعدم کردی جائیں”[51]۔ یہاں اس کے پیشِ نظر پہلے نمبر پر وہ دو پیکٹ تھے جو اس وقت یورپ کی فضا پر چھائے ہوئے تھے، یعنی نیٹو اور وارسا کے معاہدے۔

لیکن گورباچوف نے اپنی سیاسی سادگی کی وجہ سے جس چیز کا ادراک نہیں کیا وہ یہ تھی کہ امریکی قوت حسرت دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے بعد سے یورپ کے اسٹریٹجکل فیصلہ سازی کو اپنے قبضے میں کرلیا تھا، وہ روس کو ہرگز ایک یورپی ملک نہیں بننے دے گا، تاریخ اور جغرافیہ کی منطق خواہ کچھ بھی ہو۔ کیوں کہ روس کے یورپ میں شامل ہوجانےکا عمل روس کو یورپ کے خطے کے اندر کا ایک بالادست ملک بنا دے گا، یورپیوں کو امریکی اسٹریٹجکل چھتر سایہ سے بے نیاز کردے گا اور بڑی خشکی کی طاقتوں کے پلڑے کو بڑی بحری قوتوں کے مقابلے میں جھکادے گا، اس کشمکش میں جو ہمیشہ سے ان دونوں کے بیچ جاری ہے۔

گورباچوف نے اپنا منصب اور اپنی سووین یونین کی ریاست ایک ساتھ کھودی اور اس کا سادہ لوحی سے بُنا ہوا یورپی خواب سخت اسٹریٹجک سود و زیاں کی سخت چٹان سے ٹکراکر چور چور ہوگیا۔ امریکہ نے روس کے ضعف اور خلفشار سے فائدہ اٹھایا، اس نے نیٹو کے رقبے کو مشرق میں روس کی سرحدوں تک پھیلادیا، اس نے گورباچوف کی اس نصیحت کو دیوار پر دے مارا جس میں اس نے خبر دار کیا تھا کہ ”روس اور مغرب کے درمیان موجود رکاوٹوں کو دور نہیں کیا جاسکے گا اگر مغرب نے مشرق پر اپنا شکنجہ کسنے کی کوشش کی”[52]۔ امریکیوں نے نیٹو کو وسعت دینی شروع کی جو 1949 میں صرف بارہ ملکوں سے شروع ہوا تھا، پھر دس بار اس کی توسیع ہوئی، پہلی توسیع 1952میں ہوئی، اور دسویں توسیع اس سال 2023 میں ہوئی، جس کے ذریعے فن لینڈ اس میں شامل ہوگیا، اس طرح وہ روس پر مغرب کے اسٹریٹجک شکنجے کا اہم حصہ ہوگیا۔ یہ وہ شکنجہ تھا جس سے گورباچوف نے ایک تہائی صدی پہلے خبردار کیا تھا، اور جسے اب پوتین ہر قیمت پر کھول دینا چاہتا ہے۔ سویڈن بھی عنقریب نیٹو میں شامل ہوہی جائے گا، جس کے بعد نیٹو کے ارکان کی تعداد بتیس ملکوں تک پہنچ جائے گی۔

نیٹو کی مشرق کی سمت توسیع سے روس کو مستقل شکایت اور پریشانی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ نیٹو اصل میں قائم ہی ہوا تھا روس کا سامنا کرنے کے لیے۔ ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ سوویت دور کے اختتام پر گورباچوف اور امریکی قیادت کے درمیان یہ ضمنی سمجھوتا ہوگیا تھا کہ نیٹو کو جرمنی کے ماورا نہیں بڑھایا جائے گا، اور اس کے بدلے گورباچوف جرمنی کے دونوں حصوں کو ایک ہونے نیز سوویت یونین میں شامل ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے گا۔ اس سے اہم بات یہ ہے کہ نیٹو کا مشرق کی طرف پھیلنا روس کے اسٹرٹیجک نظریے سے پورے طور پر ٹکراتا ہے۔ روس کو تلخ تجربہ ہوا تھا جب انیسویں صدی کے آغاز میں نیپولین نے اس کے علاقوں پر فوج کشی کی تھی اور بیسویں صدی کے نصف میں ہٹلر اس پر حملہ آور ہوا تھا۔ روسی اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان کے اس طویل وعریض ملک کی اسٹریٹجک سلامتی مرکزیے اور غلاف (Neocleas and shell) کے اصول سے ہی ممکن ہے۔ سلاوی مرکزیہ اور ماتحت یا کم از کم دوست پڑوسی ممالک کا غلاف، جو مغرب میں مشرقی یورپ کی صورت میں اور جنوب میں وسطی ایشیا کی شکل میں ہوسکتا ہے ۔

اس طرح ولادیمیر پوتین نے 2000 میں روس کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لی۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران گورباچوف اور یلتسن کے دور حکومت میں روس مسلسل بے چینی، خلفشار، پسماندگی اور پسپائی سے دوچار تھا، روس کے اس ذلت آمیز حال و انجام سے متاثر ہوکر پوتین ناراضی اور انتقام کے جذبات سے جل رہا تھا۔ اس نے کئی بار اس پر اپنے گہرے غم کا اظہار کیا کہ روسی شہنشاہیت کا کردار سابقہ قائدین کے ہاتھوں ضائع ہوگیا۔ 2005 میں کی گئی ایک تقریر میں پوتین نے کہا:

”ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ سوویت یونین کا زوال اس (بیسویں) صدی کا ارضی سیاسیاتی سانحہ تھا۔ جہاں تک روسی قوم کا معاملہ ہے اس کے لیے یہ معاملہ ایک حقیقی ٹریجڈی بن گیا تھا۔ ہمارے کروڑوں ہم وطنوں اور ہم قوموں نے خود کو روسی سلطنت کی سرحدوں کے باہر پایا، یہی نہیں بلکہ ٹوٹ پھوٹ کا عارضہ خود روس کو لاحق ہوگیا۔۔۔پرانے آئیڈیل زمین بوس گئے۔۔۔اور عوام کا جو حال ہوا وہ بس یہ کہ وہ غربت کے زیر سایہ رہنے لگے”[53]۔

یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ پوتین اس شگافی بحران (interstitial crisis) کی تشخیص کرتا ہے جس سے اس وقت روس گزر رہا تھا، یہ ایک مرکب قسم کا بحران تھا، جس میں سیاسی جغرافیہ کا سکڑنا بھی تھا اور اسٹریٹجک پوزیشن کا ڈگمگانا بھی تھا، سماجی قدروں کی پسپائی بھی تھی اور معاشی پریشانیوں کا حد سے گزرجانا بھی تھا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ پوتین کی تقریر 2005 سے کچھ پہلے ہی 2004 میں نیٹو کی پانچویں توسیع عمل میں آئی تھی۔ اس توسیع کی رو سے یورپ کے وہ سات ممالک اس میں شامل ہوگئے تھے جو پہلے سوویت یونین کا حصہ رہ چکے تھے یا اس کے پڑوسی تھے۔ اس تشخیص کی بنا پر پوتین نے طے کیا کہ روس کی گم شدہ عظمت کی بازیافت کرنی ہے۔ وہ خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والا سخت دل انسان تھا، اس نے ان واہموں پر تکیہ نہیں کیا جن پر اس سے پہلے گورباچوف اور یلتسن نے کیا تھا، یعنی روس کو یورپی ریاست بنانے کا واہمہ نہیں پالا۔ اس کے برعکس اس نے یہ طے کیا کہ یورپ اور مغرب کے علی الرغم روس کی قوت کی تعمیرِ نو کرنی ہے۔ اس کے ذرائع میں آرتھوڈکس عیسائیت کو زندہ کرنا تھا، روس کی تاریخ پر فخر کو جگانا تھا، ٹھوس سلاوی مرکزیے کو توانائی دینی تھی اور جہاں تک ہوسکے اس اسٹریٹجک غلاف کو بحال کرنا تھا جو روس کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے، یہ وہ غلاف ہے جسے جیرالڈ تول (Gerald Toal) نامی محقق ”قریبی بیرون” کا نام دیتا ہے، اس کے بالمقابل ایک اصطلاح ”داخلی بیرون” کی ہے، جس سے اس کی مراد چیچینیا وغیرہ کے علاقے ہیں جنھیں روس کے اندر خود اختیاری ملی ہوئی ہے۔[54]

گورباچوف کے برخلاف، جس کا قبلہ پچھم کی طرف تھا، پوتین نے الیگزنڈر دوگِن، اور اس کے پیش رو پیوٹر سافتسکی (Pyotr Savitsky، 1895-1968) کے خیالات کو اپنالیا۔ موخر الذکر کے بارے میں دوگن کا کہنا ہے کہ وہ ”پہلا اور تنہا روسی مصنف تھا جسے ہر لحاظ سے ارضی سیاسیات کا ماہر کہا جاسکتا ہے۔”[55] سافتسکی نے روس کو مغرب کے سامنے کاسہ لیسی کے بجائے جنوب اور مشرق یعنی ترکی اور چینی اقوام کی طرف رخ کرنے کی صلاح دی تھی۔ (روسی مصنفین کی عادت کے برخلاف) اس نے روس اور وسطی ایشیا کی ترکی اقوام کے درمیان تعلقات کو سراہا تھا، اس پہلو سے کہ یہی وہ تعلق تھا جس نے روس کو تہذیبی سطح پر یورپ سے دور رکھا تھا، اور اس کے لیے ”رومن جرمن کی جارحیت پسند دنیا سے الگ ہوکر اپنی روحانی آزادی کو حاصل کرنا ممکن بنایا تھا”۔[56] دوگن نے بھی اپنی اسٹریٹجک نظریہ کاری میں اسی رخ کو اختیار کیا۔

سافتسکی کے مشاہدات بے سر پیر کے نہیں ہیں، بلکہ ان کی تاریخی اور تہذیبی اساس موجود ہے، یہ کہا جاسکتا ہے کہ روس کے اندر مشرقی روح زیادہ ہے جو اسے ایشیا اور عالم اسلام سے مغرب کے مقابلے میں زیادہ قریب کرتی ہے۔ اس کا مظہر یہ ہے کہ انیسویں صدی میں جو کہ روسی ادب کا سنہرا دور تھا، روسی ادیب اسلام اور اسلامی ثقافت سے اخذِ خیال (inspriration) کرتے نظر آتے ہیں۔ ان ادیبوں میں الیگزینڈر پشکن (1799-1837)، میخائل لیرمونتوف (1814-1841)، لیو ٹالسٹائی (1828-1910)، ایوان بینن (1870-1953) ہیں۔ اس حوالے سے دو عرب محقق خواتین، ایک مصر کی ہما مکارم غمری اور دوسری سوڈان کی نعمات طہ نے اسلامی ثقافت کے لیے شان دار خدمت انجام دی، انھوں نے بڑی سنجیدگی اور عرق ریزی سے روسی ادب میں اسلام کی اثر انگیزی کا بھرپور احاطہ کیا۔[57] اس مشرقی روح کی طرف مجھے عراق کے مایہ ناز ادیب و مترجم عبداللہ حبہ نے بھی متوجہ کیا ہے، انھوں نے روسی ادب کی اہم ترین کتابوں کو عربی زبان میں منتقل کیا ہے۔ لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ ثقافتی رابطوں کا مطلب ہمیشہ اسٹریٹجک قربت نہیں ہوتا ہے، خاص طور سے جب کہ ان روابط سے متضاد دوسرے مذہبی و ثقافتی اسباب بھی پائے جاتے ہوں، یا ان کے پیچھے سیاسی شہنشاہی عزائم پوشیدہ ہوں۔

بہرحال، معاملہ جو بھی ہو، ولادیمیر پوتین کی قیادت میں روسی بیداری، اور روس کو حاشیے پر رکھنے، اسے چھوٹا اور محصور کرنے کی امریکی ضد نے روس کی ابھرتی قوت اور امریکہ کی غالب قوت کے درمیان ٹکراؤ کو حتمی بنادیا ہے، جس سے مفر نہیں ہے۔ یہاں پروفیسر میرشایمر کا ”جارحانہ حقیقت پسندی” کا نظریہ اور ایلیسن کا ”تھوسی ڈائڈز کے جال” کا نظریہ صادق آتا ہے۔ روس کے قوم پرست جن کا سیاسی نمائندہ پوتین ہے اور فکری نمائندہ دوگن ہے، آج شدید تلخی محسوس کررہے ہیں جب وہ دیکھتے ہیں کہ نیٹو ان کے اہم ترین میدان میں پھیل رہا ہے۔ وہ اسے روس کے ساتھ غداری قرار دیتے ہیں، اور یہ مانتے ہیں کہ نوے کی دہائی کے شروع میں سوویت یونین کے بکھرنے کے دوران روس کو لاحق کم زوری سے غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ امریکیوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے روس کو بے دم کرنے یا اس پر شکنجہ کسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ یوکرین کی موجودہ جنگ دونوں فریقوں کے درمیان تصادم کی روش کا آخری شاخسانہ ہے۔

اگر یہ درست ہے کہ پوتین چال کھیلتے ہوئے غلط اندازے کا شکار ہوگیا جب اس نے سستی کمائی کی امید میں موجودہ حالات میں یوکرین پر فوج کشی کرڈالی، جیسا کہ اس سے پہلے 2008 میں جارجیا پر اور 2014 میں جزیرہ نما قرم پر کی تھی، تو اندازے کی زیادہ بڑی اسٹریٹجک غلطی امریکیوں اور ان کے حلیف یورپیوں سے سرزد ہوئی جب انھوں نے روس کو کونے میں دھکیل دیا اور اسے مجبور کیا کہ وہ ابھرتے ہوئے چینی پہلوان کے ساتھ اسٹریٹجک حلیف بن جائے۔ انھوں نے روس کو اس کی اجازت بھی نہیں دی کہ وہ یورپی تہذیب میں ضم ہوکر عام سی یورپی ریاست بن جائے، جیسا کہ گورباچوف چاہتا تھا، اور اسے پر عزم عالمی سلطنت کے طور پر بھی قبول نہیں کیا، بلکہ اسے دونوں ہی صورتوں میں کنارے لگانے اور اس کا قد گھٹانے کی کوشش کرتے رہے۔

یوکرین میں روس کی فتح مشکل ہے، لیکن اس کی شکست ناممکن ہے، اس سے قطع نظر کہ اسے کتنی پریشانیوں اور مشکلات کا سامنے کرنا پڑے گا۔ اس جنگ میں سب سے بڑے فرق کا یہی خلاصہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یوکرین کی جنگ امریکہ کے لیے نفوذ کی جنگ ہے جب کہ روس کے لیے یہ وجود کی جنگ ہے۔ یوکرین کا تعلق سلاوی نسل سے ہے، جس کی جگہ روس کے اسٹریٹجک وژن کے قلب میں ہے، روس کے لیے یوکرین کی جغرافیائی اور اقتصادی پہلو سے جو اسٹریٹجک اہمیت ہے وہ اس کے علاوہ ہے، اسی بات کو بریزنسکی (Zbigniew Brzezinski)نے نوے کی دہائی کے شروع میں کہا تھا: یوکرین کے بغیر روس ایک عام ملک بن جائے گا، اور یوکرین کے ساتھ (حصہ بن کر یا ماتحت بن کر) وہ سلطنت بن جائے گا۔[58]

اس جنگ میں کم سے کم جس چیز پر روس راضی ہوگا وہ ہے یوکرین کے مالا مال مشرقی حصے کو کاٹ کر اپنے قبضے میں کرلینا اور اس کے باشندوں کو جن کی اکثریت روسی آرتھوڈکس ہے، روس میں شامل کرلینا۔ یہ بھی امکان ہے کہ وہ بحر اسود پر واقع یوکرین کے ساحل کے ایک حصے کو بھی ہتھیالے، نیز جزیرہ قرم اور بحر آزوف کو بھی ان کی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر اپنے پاس محفوظ رکھے۔ اسٹریٹجک پہلو سے روس کے سامنے یہ راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ یوکرین میں مکمل نقصان قبول کرلے، چاہے جنگ کی کتنی ہی قیمت ادا کرنی پڑے، یہاں تک کہ یوکرین کے دو ٹکڑے کرنے پڑیں، جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جرمنی کے ساتھ ہوا تھا، اور ایسی صورت میں یوکرین کا دریائے ڈینبر مشرق و مغرب کے درمیان آبی دیوار برلن بن جائے گا۔ جغرافیہ اور تاریخ دونوں کی منطقیں اس جنگ میں روس کے حق میں ہیں، کیوں کہ جنگ کا میدان اس کا پڑوسی ملک ہے، دونوں کے درمیان انسانی، تاریخی اور تہذیبی اشتراک ہے، جب کہ امریکی دور سے بالواسطہ جنگ لڑرہے ہیں۔ یوکرین سے امریکہ کا فاصلہ پانچ ہزار کلومیٹر ہے۔ یہی بات صادق آتی ہے تائیوان کے اوپر چین اور امریکہ کے تنازعے کے بارے میں، وہاں بھی جغرافیہ اور تاریخ کی منطقیں چین کےحق میں ہیں، جہاں سے تائیوان محض ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور ہے، جب کہ امریکہ وہاں سے بارہ ہزار کلومیٹر دور ہے۔

آخر میں اس پر زور دینا بھی ضروری ہے کہ چین ہرگز مغرب کے سامنے روس کی اسٹریٹجک شکست کی اجازت نہیں دے گا، ایسی شکست جو روسی نظام حکومت کو تبدیل کردے، یا روس کا قد گھٹادے یا اس کے ٹکڑے کردے، یا اسے مغرب کے مدار میں محوِ گردش کردے۔ چین اور روس کے درمیان چار ہزار کلومیٹر سے لمبی سرحد ہے۔ ماسکو کے مغرب کے مدار میں چلے جانے کا مطلب ہوگا کہ خشکی میں چین کی پشت مغربی اسٹریٹجک حصار کے سامنے بے آڑ ہو جائے گی، اس کے ساتھ جنوبی بحر چین اور شمالی بحر چین کی جانب سے سمندری حصار ہوگا جس کے لیے واشنگٹن کوشاں ہے۔ چین کا یہ اسٹریٹجک عمق جو کسی بھی لمحے غیر منقطع کمک کی صورت اختیار کرسکتا ہے، وہ تن تنہا یوکرین میں روس کی شکست کو عملًا ناممکن بنانے کے لیے کافی ہے۔ یہ درست ہے کہ روس اور مغرب دونوں کی طاقت خرچ ہوجانے سے چین کو اسٹرٹیجک فائدہ ہوگا، اسی طرح روس کے اس پر معاشی انحصار سے بھی اسے فائدہ ہوگا، اسی طرح وسطی ایشیا میں روسی نفوذ کی پسپائی بھی اس کے حق میں ہوگی، جیسا کہ بعض محققین کا خیال ہے۔[59] لیکن روس کا زوال، یا اس کے اسٹریٹجک عقیدے کی تبدیلی، یا مغرب کے سامنے اس کی مکمل شکست، وہ چیز ہے جو چینی اسٹریٹجی کو راس نہیں آئے گی۔

لگتا ہے کہ چین نے ”روسی قیادت کے دل میں بیٹھی ہوئی تحفظ کے احساس کی معدومیت” سے بڑی حکمت کے ساتھ تعامل کیا ہے۔ امریکی اسٹریٹجی کے سرخیل جارج کینن (1904-2005) نے یہ تعبیر اختیار کی ہے۔[60] جب کہ مغرب وہ تعامل کرنے میں ناکام رہا۔ چناں چہ چین نے اپنی سیاسی حکمت کے پھل حاصل کیے، اس کی اٹھان کو مضبوطی ملی، مغرب اسے چھوڑ کر دوسری طرف مشغول ہوا اور روس پناہ لینے اس کی طرف بڑھا۔ اس طرح ابھرتا ہوا مشرق صرف چین نہیں رہا، بلکہ وہ چین جسے اپنے حلیف روس کی مدد حاصل ہے۔ میکنڈر ”کو ڈر تھا کہ چین کبھی نہ کبھی روس کے قہر پر قابو پالے گا” [61] لیکن چین جو اسٹریٹجی کے پہلو سے خوش قسمت واقع ہوا، لگتا ہے کہ اسے اب اس کی ضرورت نہیں رہی، کیوں کہ مغرب نے روس کو سونے کے طشت میں رکھ کر چینیوں کے سامنے پیش کردیا ہے اور روس ان کے قدموں میں جاگرا ہے۔ اکیسویں صدی کی تیسری دہائی کے شروع میں یوکرین کی جنگ بھڑکاکر کے پوتین نے امریکیوں کی چین سے توجہ ہٹادی، جس طرح اس صدی کی پہلی دہائی کے شروع میں اسامہ بن لادن کے گیارہ ستمبر کے ناسمجھ حملوں نے امریکیوں کی چین سے توجہ ہٹادی تھی۔ ان حملوں نے عالم اسلامی کی اسٹریٹجک بے حرمتی کے وہ بڑے دروازے کھول دیے جو آج تک بند نہیں ہوسکے۔ ”مشرق کے طلوع ہونے اور مغرب کے غروب ہونے” کے اس منظرنامے میں عالمِ اسلام کی کیا پوزیشن بنتی ہے، اس پر ہم آگے گفتگو کریں گے۔ (جاری)

حوالہ جات

(33) H. J. Mackinder, “The Geographical Pivot of History,” The Geographical Journal, no. 4 (April 1904), p.437.

(34) John J. Mearsheimer, The Tragedy of Great Power politics (New York: W. W, Norton & Company, 2001), p.5.

(35) حوالہ سابق، ص 4.

(36) حوالہ سابق، ص 4.

(37) John J. Mearsheimer, The Tragedy of Great Power politics, (New York: W. W, Norton & Company, 2014), Chapter 10.

(38) John J. Mearsheimer, “The Gathering Storm: China’s Challenge to US Power in Asia,” The Chinese Journal of International Politics, Vol. 3, (2010), p.381-396.

(39) John Mearsheimer, “China’s Unpeaceful Rise,” Current History, (April 2006), p.161.

(40) “مونرو کے عقیدے” کے بارے میں دیکھیں:

John O’Loughlin, “Monroe Doctrine,” in Dictionary of Geopolitics, 166-168.

(41) Mearsheimer, “The Gathering Storm,” p. 389.

(42) حوالہ سابق، ص 389-390.

(43) Robert D. Kaplan, Revenge of Geography: What the Map Tells Us About Coming Conflicts and the Battle Against Fate

روبرت كابلان، انتقام الجغرافیا: ما الذی تخبرنا به الخرائط عن الصراعات المقبلة وعن الحرب ضد المصیر، ترجمة إیهاب عبد
الرحیم علی (الكویت: المجلس الوطنی للثقافة والفنون والآداب، 2014)، ص 270.

(44) حوالہ سابق، ص 270.

(45) Mearsheimer, “The Gathering Storm,” p.392.

(46) Bethany R. Kauffman, “Motivations and Limitations in Iran-China Relations,” (Masters’ Thesis in Security Studies, Naval postgraduate School, Monterey, California, 2022), p.122-123.

(47) Mearsheimer, “The Gathering Storm,” p.392.

(48) حوالہ سابق، 395.

(49) میخائیل غورباتشوف، البیریسترویكا: تفكیر جدید لبلادنا والعالم، ترجمة حمدی عبد الجوَّاد (القاهرة: دار الشروق، 1988)، ص 230.

(50) حوالہ سابق، ص 234، 235، 238، فقط بطور مثال.

(51) حوالہ سابق، ص 233.

(52) حوالہ سابق، ص 234.

(53) Gerald Toal, Near Abroad: Putin, the West and the Contest over Ukraine and the Caucasus (New York: Oxford University Press 2017), p. 55.

(54) حوالہ سابق، ص 1.

(55) دوغین، أسس الجیوبولتیكا، ص 126.

(56)حوالہ سابق، ص 129.

(57) مكارم الغمری، مؤثرات عربیة إسلامیة فی الأدب الروسی (الكویت: المجلس الوطنی للثقافة والفنون والآداب، 1991)؛ نعمات عبد العزیز طه، “تأثیر الإسلام فی الأدباء الرّوس،” (رسالة دكتوراه بجامعة الخرطوم، 2010).

پرتگال کے مفکر و سیاسی دانش ور برونو ماساج نے اپنی کتاب یوریشیا کی سحر کا ساتواں باب روسی شناخت میں موجود اس مشرقی جہت کے بارے میں خاص کیا ہے، جس میں یہ بھی بتایا ہے کہ اس کے آج اسٹریٹجک اشارے کیا ہیں، دیکھیں:

Bruno Maçães, The Dawn of Eurasia: On the Trail of the New World Order (New Heaven: Yale University Press, 2018), 168-206.

(58) Zbigniew Brzezinski, “The Premature Partnership,” Foreign Affairs, Vol. 73, No. 2 (Mar.–Apr., 1994), p. 80.

(59) برسبیل مثال:

Dmitry Shlapentokh, “Dugin, Eurasianism, and Central Asia,” Communist and Post-Communist Studies 40 (2007), p.155.

(60) George Kennan, Memoirs 1950-1963 (Boston: Little, Brown and Company, 1972), p. 331.

(61) كابلان، انتقام الجغرافیا، ص 226.

اگست 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau