ایسے ہزاروں بچے ہیں جن کی تکلیفیں لفظوں میں نہیں آتیں، جن کی آنکھوں میں سوال ہوتے ہیں مگر وہ بیان نہیں کر پاتے۔ والدین اسے ضد، لاڈ یا موڈ سمجھ کر ٹال دیتے ہیں اور اکثر ان کے غیر معمولی رویوں کو نارمل سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کا بچہ اچانک چپ کیوں ہو جاتا ہے؟ وہ کسی بھی چھوٹی بات پر رونے کیوں لگتا ہے؟ کھانا کیوں نہیں کھاتا یا پڑھائی میں دل کیوں نہیں لگاتا؟ دوست بنانے میں مشکل ہوتی ہے یا اسکول کے نام سے ڈر جاتا ہے؟ ہم میں سے اکثر ان علامات کو شرارت یا معمولی ضد سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر یہی رویے آگے چل کر خوف، بے چینی، کم اعتمادی اور ذہنی دباؤ جیسے سنگین مسائل میں بدل سکتے ہیں۔ بچپن کے یہی خاموش زخم بڑے ہوکر پوری شخصیت کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کی ذہنی صحت کو پہچاننا، سمجھنا اور ان کا حل تلاش کرنا والدین کی ذمہ داری ہے ۔
جسمانی طور پر صحت مند بچہ کھیلتا کودتا ہے، اچھی پڑھائی کرتا ہے اور ایکٹیو رہتا ہے۔ جسمانی صحت کا خیال رکھنے کے لیے والدین متوازن غذا، آلودگی سے پاک ماحول اور بھرپور نیند کی طرف توجہ دیتے ہیں۔ جب بچہ بیمار ہوجاتا ہے تو اس کی جسمانی سرگرمیوں پر اثر پڑتا ہے اور وہ کمزور ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ذہنی صحت بھی اہم ہے، ذہنی صحت دراصل بچے کے سوچنے، محسوس کرنے، سیکھنے، تعلقات بنانے اور روزمرہ پیش آنے والے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا مجموعہ ہے۔
ایک ذہنی طور پر صحت مند بچہ:
- اچھا محسوس کرتا ہے،
- تجسس رکھتا ہے،
- تیز مشاہدہ رکھتا ہے،
- سوالات پوچھتا ہے،
- باتوں کو جلدی سمجھ لیتا ہے،
- سمجھداری کا مظاہرہ کرتا ہے،
- دوسرے بچوں کے ساتھ آسانی سے دوستی کرتا ہے،
- دوستوں کے ساتھ تعلقات نبھاتا ہے،
- اپنے کاموں میں مہارت حاصل کرتا ہے اور دوسروں کی بھی مدد کرتا ہے،
- غلطی ہونے پر ٹوٹتا نہیں ہے بلکہ سنبھلنے کی کوشش کرتا ہے،
- خوش اور پر اعتماد رہتا ہے،
- اس کے کاموں سے ذہانت اور تخلیقیت جھلکتی ہے،
- اپنے مشاغل میں متحرک اور توانا رہتا ہے۔
ذہنی صحت شخصیت کی بنیاد ہے۔ مستقبل کی زندگی، کردار، رویے اور کامیابیاں اسی بنیاد پر استوار ہوتی ہیں۔ ہر بچہ بہترین خلقت پر پیدا ہوتا ہے، وہ ذہانت، صلاحیت اور تخلیقیت کو بطور وراثت اپنے ساتھ لاتا ہے اور اس میں بہت سی اچھائیاں بھی موجود ہوتی ہیں مگر وقت کے ساتھ وہ اپنے والدین، خاندان، اسکول، اساتذہ، دوستوں اور ماحول کے اثرات کا سامنا کرتا اور متاثر ہوتا ہے۔ سیکھنے کی اسی نازک عمر میں پیش آنے والے تلخ تجربات بچے کو مختلف جذباتی مراحل سے گزار دیتے ہیں، جو نہ صرف اس کی سوچ اور نظریات بلکہ کردار، خود اعتمادی، تعلقات اور یہاں تک کہ جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے والدین کو ذہنی صحت کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے اور اس مقصد کے لیے والدین کو یہ جاننا چاہیے کہ
- بچے مختلف عمروں میں کن جذباتی کیفیات اور ذہنی مسائل سے گزرتے ہیں؟
- ذہنی مسائل کی علامات کیا ہیں؟
- کون سی ذہنی پریشانیاں گھر( کے ماحول ) میں حل کی جا سکتی ہیں اور کن مسائل میں ماہرین سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے؟
ذہنی پریشانی کی علامات
ذہنی پریشانی کی علامتیں عمر کے مختلف مراحل میں مختلف طرح سے ظاہر ہوتی ہیں۔ کبھی کبھار یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ آیا یہ علامات عام نشوونما کا حصہ ہیں یا کسی ذہنی صحت کے مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اگر علامات مسلسل رہیں، شدید ذہنی دباؤ پیدا کریں یا اسکول، کالج گھر یا دوستوں کے ساتھ روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بنیں تو ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
درج ذیل علامات کا خصوصی خیال رکھیں:
- موڈ میں تبدیلیاں
- جذبات میں تیز یا غیر معمولی اتار چڑھاؤ
- دو ہفتے یا اس سے زیادہ مسلسل اداسی
- بلا وجہ چڑچڑاپن
- رویوں میں تبدیلیاں
- سب سے کنارہ کشی کرنا
- پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہو جانا
- خطرناک رویے
- خود کو نقصان پہنچانا
- نشہ آور اشیاء کا استعمال
- کارکردگی میں تبدیلیاں
- اسکول میں پڑھائی سے دل اچاٹ ہوجانا
- اچانک امتحانات میں برے نتائج آنا
- روزمرہ کے معمول کے کام انجام دینے میں مشکل آنا
- توجہ اور فوکس برقرار رکھنے میں دقت آنا
- یادداشت کمزور پڑنا
- بار بار اور بغیر وجہ کے سر درد یا پیٹ درد
- نیند میں بے چینی اور کمی
- بھوک اور وزن میں غیر معمولی تبدیلیاں
- اور بھی معمول سے مختلف نظر آنے والی باتیں
ذہنی مسائل کا حل
بچوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ہمیشہ مہنگے علاج یا پیچیدہ طریقوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اکثر وہ چھوٹی چھوٹی عادتیں، جو ہم روزمرہ زندگی میں نظر انداز کر دیتے ہیں، بچوں کے ذہنی سکون اور جذباتی توازن کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ اور یہ عادتیں پیچیدہ ذہنی مسائل کو بھی کنٹرول کرتی ہے جس کے بعد تھیراپی اور کاؤنسلر کی سخت ضرورت پیش آتی ہے۔ مندرجہ ذیل چند آسان عادتیں ہیں جنہیں ہر گھر، ہر ماں باپ، اور ہر بچہ اپنی زندگی میں اپنا سکتا ہے۔ نقطۂ نظر یہ ہے کہ اگر ہم ان بنیادی چیزوں پر توجہ دینا سیکھ لیں تو بچوں کی ذہنی صحت کو برقرار رکھنا نہ صرف آسان ہو جاتا ہے بلکہ قدرتی انداز میں ممکن بھی ہو جاتا ہے۔
زندگی کے پہلے ایک ہزار دن
حمل کے آغاز سے لے کر بچے کی دوسری سالگرہ تک کا عرصہ انسانی زندگی کے ابتدائی ہزار دن کہلاتا ہے۔ یہ انسانی نشوونما کا سب سے نازک اور اہم دور ہے۔ اسی عرصے میں بچے کے دماغ، اعصابی نظام، جذبات، قوت مدافعت اور جسمانی صحت کی بنیاد مضبوط ہوجاتی ہے۔ تحقیق کے مطابق اس ابتدائی دور میں دماغ ہر سیکنڈ میں لاکھوں نئے اعصابی رابطے بناتا ہے، اور مناسب غذائیت، تحفظ اور محبت ان رابطوں کو مضبوط بناتے ہیں، جو سیکھنے، یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
ان ایک ہزار دنوں میں ماں کی متوازن غذا، ذہنی سکون، ماں کا دودھ، بروقت اور غذائیت سے بھرپور اضافی خوراک، بچے کی دماغی نشوونما، مضبوط مدافعتی نظام اور جسمانی ترقی کو سہارا دیتی ہے۔ اس کے برعکس غذائی کمی، مسلسل ذہنی دباؤ یا جذباتی غفلت نہ صرف دماغی نشوونما کو متاثر کرتی ہے بلکہ مستقبل میں کمزور مدافعت، سیکھنے میں مشکلات، جذباتی عدم توازن اور دائمی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
یہی وہ دور ہے جس میں گفتگو، کھیل، لمس، ماں کی آواز، جذباتی ردِعمل اور محفوظ ماحول بچے کے دماغ میں مثبت نقش چھوڑتے ہیں۔ اس لیے پہلے ایک ہزار دن صرف پرورش کا مرحلہ نہیں بلکہ ذہنی صحت، شخصیت اور زندگی بھر کی صلاحیتوں کی تعمیر کا بنیادی عرصہ ہے۔ والدین اگر اس دور میں توجہ، محبت اور درست رہنمائی فراہم کریں تو وہ اپنے بچے کے مستقبل کو مضبوط بنیاد دے سکتے ہیں۔
مقصد یاد دلانا
اپنے بچوں کو ان کے کاموں کے مقاصد یاد دلانا کیونکہ وہ اکثر بھٹک جاتے ہیں جیسے وہ کالج جاتے ہیں، تو ان کے سامنے یہ بات واضح ہو کہ وہ پڑھائی کے لیے اور اپنا مستقبل بنانے کے لیے جارہے ہیں اور انہیں یہ بات یاد بھی دلانی چاہیے تاکہ وہ دوسری فضول کی دوستی یاری اور حرکتوں میں نہ پھنسیں اور اپنی ذہنی صحت برقرار رکھتے ہوئے اپنا فوکس رکھ سکیں۔
اپنے جسم کا خیال رکھنا
بچوں کو اپنے جسم کی قدر کرنا سکھائیں۔ جسم روح کا مکان ہے۔ جسم کی وجہ سے ہم اپنے روزمرہ کے کام کر پاتے ہیں جسم ہی ہے جو ہمیں سکون دیتا ہے اور ہمارے مقاصد پورے کرنے میں ہمارا ساتھ دیتا ہے۔ آپ کی زندگی کو بامقصد اور یادگار بنانے میں جسم ساتھ دیتا ہے چنانچہ اس کے ہر عضو کو ضروری سمجھنا، تمام اعضاء کو قبول کرنا اور ان پر شکر گزار رہنا، صاف ستھرائی کا خیال کرنا، متوازن غذا کھانا اور نیند پوری کرنا۔ ذہنی صحت کا تعلق جسمانی صحت اور سرگرمیوں سے بھی ہوتا ہے۔ اس لیے بچوں کو جسم کے حقوق ادا کرنا سکھائیں۔
اپنے جذبات کو پہچاننا
بچوں کو اپنے جذبات کو نام دینا سکھائیں۔ اکثر بچے یہ سمجھ نہیں پاتے کہ انہیں کیا ہو رہا ہے اور اس لیے وہ اظہار نہیں کرپاتے۔ جیسے وہ اسپتال جانا پسند نہیں کرتے۔ انہیں دواؤ ںکا ذائقہ اچھا نہیں لگتا یا ڈاکٹر کے انجکشن سے ڈر لگتا ہے۔ امتحانات آتے ہی ان کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا انہیں کسی مضمون کا خوف ہے، کیا انہیں نمبرات کم آنے سے ڈر لگتا ہے۔ کیا انہیں کسی سے مسابقت کرنے سے ڈر لگتا ہے؟ اگر وہ کسی مقابلے میں حصہ لینے سے ڈرتے ہیں یا کیریئر کو چننے سے ڈرتے ہیں تو کوشش کیجیے کہ وہ خود دریافت کرسکیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں، وہ کیا محسوس کرتے ہیں، انہیں اپنے جذبات کو پہچاننا اور کیوں کو جاننا اور حل کرنا سکھائیں۔ تاکہ وہ تذبذب سے نکلیں اور کھل کر باشعور ہوکر اپنی زندگی جئیں۔
Doodleکرنا بھی کارآمد ہے
ڈوڈل کرنا یعنی صفحہ پر بنا سوچے سمجھے لاشعوری طور پر چھوٹی سی ڈرائنگ بنادینا۔ اس کی وجہ سے بہت سے اندر کے وہ خیالات جنہیں سمجھ نہیں پاتے جن کا ذکر نہیں کرپاتے وہ صفحات پر نظر آتے ہیں۔ بار بار لکیریں کھینچنا، دائرے یا نقش و نگار کھینچنا دماغ کو سکون دیتا ہے۔ اسی لیے بہت سے لوگ پریشانی یا گہری سوچ کے دوران خود بخود خاکہ بنانے لگتے ہیں۔ اس کی وجہ سے غصہ یا غم یا بھڑکے ہوئے جذبات کچھ کم ہوجاتے ہیں۔ جب بچے ایسا کرتے ہیں تو انہیں اپنے جذبات کے اظہار کا ایک طریقہ ملتا ہے اور وہ بڑی خوبصورتی سے اپنی تکلیفوں کا اظہار سیکھتے ہیں۔ اس طرح ایک دلچسپ اور آسان سا طریقہ بچوں کی ذہنی صحت کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔
بچوں میں ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں
ڈائری لکھنے سے بچوں کو اپنے جذبات کے اظہار کا ایک اچھا موقع ملتا ہے۔ کچھ ڈائریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں ہر صفحہ پر چند سوالات ہوتے ہیں جنہیں ڈائری لکھنے والے کو حل کرنا ہوتا ہے، اسے جرنل کہتے ہیں۔ یہ روزمرہ کے تعلق سے سوالات ہوتے ہیں جو بچوں کی زندگی کو منظم بناتے ہیں۔ یا پھر انہیں ایک عام سی ڈائری دیں جن میں روزانہ کم سے کم تین صفحات لکھتے رہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو، دوسروں کو، اپنے اچھے برے خیالات کو، اپنے مقاصد اور اپنی پلاننگ کو سمجھ سکیں۔ ڈائری لکھنے سے ان کی تحریری صلاحیت بھی نکھرے گی اور ان کی ذہنی صحت بھی اچھی رہے گی۔
24 گھنٹہ ، ایک رُول
اپنے گھر اور خاندان کے لیے کچھ اصول بنائیے جیسے 24 گھنٹے کا رول، جس کے مطابق اگر گھر کی کوئی چیز خراب ہوجائے یا کسی فرد کی کوئی ضرورت یا مانگ ہو تو اسے حل کرنے کے لیے ذمہ دار کو چوبیس گھنٹے دیے جائے۔ جیسے بچوں کو کھانا تیار ہونے کے باوجود دوسری کوئی ڈش کھانے کا من چاہتا ہو، ان سے کہا جائے ان کی خواہش ضرور پوری ہوگی لیکن اس کے لیے اس خواہش کو پورا کرنے والے ذمہ دار کو چوبیس گھنٹے دیے جائیں گے۔ اب جو سامنے کھانا ہے وہ تو انہیں کھانا ہے اور جس چیز کا اچانک ان کا من کررہا ہے وہ چیز ملنے میں کچھ صبر کرنا ہوگا۔ اس طرح اپنے مسائل کو رکھنے کی بھی آزادی ہوگی، صبر بھی سیکھا جائے گا اور مسائل حل کرنے والوں پر پریشر نہیں ہوگا بلکہ وہ سہولت سے حل کریں گے۔
بچوں کو سماجی آداب سکھائیں
بچوں کی شخصیت کی تعمیر میں سماجی رویے (Social Behaviour) بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ سماج ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے۔
بچوں کو دوسرے بچوں سے دوستی کرنا سکھانا چاہیے۔ انہیں سکھانا چاہیے کہ وہ کس طرح کے بچوں سے دوستی کریں اور کس طرح کی صحبت اختیار کریں۔ انہیں اپنے دوستوں کی خوشیوں میں شریک ہونا، انہیں تحفے دینا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا سکھائیں۔ انہیں سکھائیں کہ غم کے دنوں میں انہیں اپنے دوستوں کا معاون بننا ہے۔ انہیں سکھایا جائے کہ دوستوں سے کس طرح بات کرنی ہے، ان سے کون سی چیزیں شیئر کرنی ہیں۔ اگر ان کے کسی دوست کی وجہ سے انہیں تکلیف ہورہی ہے جیسے وہ راز کو راز نہیں رکھتا، مذاق اڑاتا ہے دل دکھاتا ہے، حسد کرتا ہے تو ایسے دوستوں سے فوراً دوری اختیار کرنا سکھائیں ۔
بچوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ وہ بہت سے دوست بناسکتے ہیں اور دوستی ختم بھی کرسکتے ہیں۔ اس طرح وہ کسی ایک دوستی کے بوجھ کو لے کر اٹک نہیں جاتے بلکہ غلط رویوں کو جانتے ہیں ان کے اثرات کو سمجھتے ہیں اور ان سے دور ہوجاتے ہیں۔
بچوں کو بڑوں کی فرماں برداری کرنا سکھائیں اور بڑوں کے سامنے اپنے نظریات رکھنے کا ڈھنگ بھی بتائیں ۔
غذائیت پر توجہ دیں
- بچوں کو شروع سے ہی صحت مند غذا کی ترغیب دیں۔ جو کھانا ہم کھاتے ہیں اس سے صرف جسم ہی نہیں بنتا بلکہ ذہن بھی متاثر ہوتا ہے۔
- ️فاسٹ فوڈ وقتی خوشی دیتا ہے لیکن بعد میں تھکن، چڑچڑاپن اور اداسی بڑھاتا ہے۔ دماغی کیمیکل (جیسے سیروٹونن) کو متاثر کرتا ہے ۔ سیروٹونن دماغ میں موجود ایک کیمیائی مادہ (Neurotransmitter) ہے جو ہمارے موڈ، جذبات، نیند، بھوک اور سکون کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
- ️کھانا چھوڑ دینا یا دیر سے کھانا درست نہیں ہے۔ یہ بلڈ شوگر کو متاثر کرتا ہےاور موڈ سوئنگ بڑھاتا ہے۔ ان عادتوں سے غصہ اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔
- ️آنتوں کو “دوسرا دماغ“ کہا جاتا ہے۔ خراب خوراک نظامِ ہاضمہ خراب کرتی ہے، دماغ تک منفی پیغامات بھیجتی ہے اور ذہنی دباؤ بڑھاتی ہے۔
- کم پانی پینے سے Brain fog ہوجاتا ہے جو چڑچڑاپن، تھکن اور بے دلی کا سبب بنتا ہے۔
- ️متوازن غذا موڈ بہتر رکھتی ہے۔ سوچ کو واضح بناتی ہے۔ جذباتی توازن پیدا کرتی ہے۔
بچوں کی نیند پر توجہ دیں
- نیند جسم کے لیے بے حد ضروری ہے۔ یہ جسم کو آرام دیتی ہے ۔
- ️نیند پوری نہ ہو تو چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے،غصہ جلد آتا ہے اور اداسی اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اچھی نیند موڈ کو بہتر اور دل کو ہلکا رکھتی ہے۔
- ️نیند کے دوران دماغ دن بھر کی معلومات کو ترتیب دیتا ہے ، یادداشت کو مضبوط کرتا ہے، سیکھنے کی صلاحیت بڑھاتا ہے۔
- ️نیند کی کمی سے توجہ کم ہوتی ہے، بھولنے کی عادت پڑجاتی ہے اور ساتھ ہی تذبذب بڑھ جاتا ہے اور انسان فیصلے لینے میں مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔
- ️کم نیند کی وجہ سے اسٹریس ہارمون بڑھتے جاتے ہیں۔ پریشانی اور خوف کا گراف بڑھتا ہے اور یہ جذبات شدت اختیار کرتے ہیں۔ جب نیند بہتر ہو تو دماغ دباؤ کو بہتر طریقے سے سنبھالتا ہے لیکن نہ ہو تو ہر چھوٹی بات بھی بہت بڑی معلوم ہوتی ہے۔
- ️اچھی نیند انسان کو صبر والا بناتی ہے، ردِعمل کو متوازن رکھتی ہے اور تعلقات بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
- اس لیے بچوں کے سونے اور جاگنے کے اوقات کو مقرر کریں۔ انہیں سونے سے فوراً پہلے کھانا کھلانے یا بہت پانی پلانے سے پرہیز کریں تاکہ سونے میں انہیں بے چینی نہ ہو اور نہ ہی انہیں رات میں بیت الخلا جانے کی ضرورت محسوس ہو بلکہ وہ بنا کسی رکاوٹ کے آرام سے اپنی نیند پوری کریں۔
سیکھنے اور جلد خود کو بدلنے کی صلاحیت
- والدین بچوں کو سیکھنے اور اپنے آپ کو تبدیل کرنے کا ہنر سکھائیں۔ بچوں کو سیکھنے کے مواقع دیں اور انہیں تبدیلی کو قبول کرنا سکھائیں تاکہ وہ عمر کے کسی بھی مرحلے میں بنا خوف آگے بڑھ سکیں اور پریشانیوں کا سامنا ہمت سے کرسکیں۔
- اپنے جذبات کو سنبھالنا سکھائیں
- جذبات کو سمجھنا اور بیان کرنا بچوں کی ذہنی صحت کو مضبوط بناتا ہے۔ بچوں کو ان جذبات کا ماسٹر بنائیں اور ان کی شخصیت کو مضبوط کریں کیونکہ ذہنی صحت کے مسائل ہر عمر میں ہوتے ہیں اور جو افراد جذباتی طور پر مضبوط ہوتے ہیں وہ ان مسائل کو آسانی سے حل کرلیتے ہیں اور ان کا زیادہ اثر نہیں لیتے۔
- بچوں کو ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت سکھائیں
- گھر میں مل جل کر کام کرنے کی عادت بچوں میں ٹیم ورک کی بنیاد استوار کرتی ہے اس لیے بچوں میں گھر کے کاموں اور ذمہ داریوں کو تقسیم کریں۔
- جب والدین بچوں کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں تو بچے تعاون اور ذمہ داری سیکھتے ہیں اس لیے بچوں کی باتوں کو سنیں، ان سے مشورہ کیا کریں اور انہیں سراہیں۔
- ٹیم میں کام کرنے کی صلاحیت بچوں کو مستقبل میں بہتر تعلقات اور قیادت کی طرف لے جاتی ہے۔
دماغ کے لیے دماغ کا استعمال
ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ دماغ کو قابو میں رکھنا یا سمجھنا ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے، اسی لیے ہم اپنی الجھنوں اور جذبات کو قسمت یا حالات کے حوالے کر دیتے ہیں۔ حالانکہ جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ دماغ کو صحت مند رکھنے کے لئے کچھ سادہ اور عملی تکنیکیں موجود ہیں جو ہر فرد سیکھ سکتا ہے۔ جب ہم دماغ کے کام کرنے کے بنیادی اصولوں کو سمجھ لیتے ہیں تو خیالات، جذبات اور رویوں کو بہتر سمت دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم ایسی ہی مؤثر دماغی تکنیکوں کا تعارف پیش کریں گے جو روزمرہ زندگی میں ذہنی توازن، بہتر فیصلوں اور صحت مند رویوں کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
Neuro Coupling
جدید نیورو سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بچوں کے خیالات، جذبات اور رویے دراصل دماغ اور جسم کے درمیان ایک مضبوط تعلق کا نتیجہ ہوتے ہیں، جسے نیورو کپلنگ (Neuro-Coupling)کہتے ہیں ۔ نیورو کپلنگ دراصل دماغ کے خیالات اور جسم کے احساسات کے درمیان تعلق ہے۔
جب بچہ بار بار ایک ہی طرح کے خیالات سوچتا ہے مثلاً خوف، ناکامی یا غصہ تو دماغ ان خیالات کو جسم کے احساسات (جیسے دل کی دھڑکن، تناؤ، بے چینی) سے جوڑ دیتا ہے۔ یوں ایک خودکار نظام بن جاتا ہے۔ مثلا:
منفی سوچ ، جسم میں تناؤ ، مزید منفی سوچ
مثبت سوچ ، سکون ، اعتماد اور عمل
یہی وجہ ہے کہ بعض بچے معمولی بات پر بھی شدید ردِعمل دیتے ہیں، کیونکہ ان کا دماغ پہلے ہی خطرے یا بقا (Survival Mode) کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے۔
بچوں کا دماغ بہت حساس ہوتا ہے۔ وہ بار بار جو کچھ سنتے، دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں، اُن کے دماغ میں وہی پیغام مضبوط ہوجاتا ہے۔ والدین کے لہجے، ردِعمل اور رویے بچے کے دماغ میں گہرے نقش چھوڑتے ہیں۔ مسلسل ڈانٹنا، موازنہ کرنا، شرمندہ کرنا، جذبات کو نظر انداز کرنا یہ سب منفی نیورو کپلنگ کرتے ہیں۔ بچے کا دماغ یہ سیکھتا ہے کہ محسوس کرنا خطرناک ہے اور اس لیے بچہ بے چینی (Anxiety)، غصہ، بے جا ضد، خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل سے گزرتا ہے۔
مثال: اگر بچہ بار بار یہ سنے کہ “تم سے نہیں ہوگا“ تو دماغ میں سوچ +خوف کا تعلق بن جاتا ہے۔ جیسے ہی اسے کوئی کام کرنے کو کہا جائے گا چونکہ بچے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، اس لیے دماغ فوراً احساس دلاتا ہے اور بچہ گھبراہٹ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
مثبت نیورو کپلنگ کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو بار بار یہ تجربہ ملے کہ وہ محفوظ ہے، اس کے جذبات قابلِ قبول ہیں، غلطی پر اسے ریجیکٹ نہیں کیا جائے گا بلکہ غلطی تو سیکھنے کا موقع ہے، اگر بچہ بار بار یہ سنتا ہے تو دماغ میں سوچ + تحفظ جُڑ جاتا ہے۔ اس طرح والدین کے ہاتھوں میں بچوں کی دماغ کی تربیت ہے ۔
میٹا کاگنیشن (Metacognition)
میٹا کاگنیشن کا مطلب ہے اپنے خیالات کے بارے میں سوچنا اور یہ جاننا کہ میں کیا سوچ رہا/رہی ہوں اور کیوں سوچ رہا/رہی ہوں۔
Metacognition= Think what you Think
بچے اکثر جذبات میں بہہ جاتے ہیں، فوراً غیر ضروری ردِعمل دیتے ہیں، غصہ، خوف یا مایوسی میں غلط فیصلے کرلیتے ہیں اس لیے انہیں یہ مہارت سکھائیں۔ جب بچہ میٹا کاگنیشن سیکھتا ہے تو منفی جذبات کا اثر کم ہوجاتا ہے اور وہ حالات سے نمٹنے کی ترکیبیں سوچتا ہے۔
مثلاً: “میں ڈر رہا ہوں“ یہ ایک منفی جذبہ ہے۔ اور یہ ایک عام بچہ کی سوچ ہے۔ لیکن بچہ میٹا کاگنیشن کی مہارت سیکھنے کے بعد اس طرح سوچتا ہے“میں ڈر محسوس کر رہا ہوں، مگر میں سنبھل سکتا ہوں۔“
اس طرح میٹا کاگنیشن بچہ کے دماغ کو صحیح راہ پر ڈالتی ہے۔
ایپی جینیٹکس(Epigenetics)
ایپی جینیٹکس انسان کی ذہنی صحت کو سمجھنے کا ایک جدید زاویہ ہے جس سے ہمیں ہمارے بچوں کی ذہنی مسائل کو حل کرنے کے لیے ترغیب ملتی ہے۔
اکثر والدین بچوں میں کچھ ایسی برائیاں دیکھتے ہیں جن کو وہ حل نہیں کر پاتے اور انہیں لگتا ہے کہ یہ موروثی مسائل ہیں اور یہ کبھی حل نہیں ہو سکتے۔
والدین مایوس ہوجاتے ہیں کہ “میرا بچہ ایسا کیوں ہے؟ شاید یہ اس کے جینز میں ہے۔“
لیکن ایپی جینیٹکس ہمیں یہ خوش خبری دیتی ہے کہ جینز ہماری تقدیر نہیں ہوتے، بلکہ ماحول یہ طے کرتا ہے کہ کون سا جین فعال ہوگا اور کون سا غیر فعال رہے گا۔ ایک انسان اپنے بیس سے پچیس ہزار جینز لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس میں اپنے آبا و اجداد کی خصوصیات اور خامیاں منتقل ہوتی ہیں۔ ہر آنے والی نسل انہی جینز کی وجہ سے زیادہ تیز ہوتی ہیں کہ وہ اپنے ساتھ پچھلی ساری خصلتیں بھی لے کر پیدا ہوتی ہیں اور نئے دور میں انہیں نئے مواقع بھی ملتے ہیں۔
ایپی جینیٹکس کا مطلب ہے جینز پر ماحول کا اثر ہونا۔ یعنی بچے کو کس طرح کا ماحول ملتا ہے، وہ کتنا محفوظ یا غیر محفوظ محسوس کرتا ہے، والدین اس سے کیسے بات کرتے ہیں، اسے والدین سے محبت ملتی ہے یا نہیں ملتی، گھر میں خوف ہے یا خوش حالی ہے۔ جینز سے بچوں میں مثبت اور منفی دونوں ہی خصلتیں منتقل ہوتی ہیں۔ منفی جذبات، منفی رویوں کو دیکھ کر والدین مایوس ہوجاتے ہیں کہ بچوں میں کیسی عادات منتقل ہوئی ہیں جبکہ حالات اور ماحول ان جینز کو فعال کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
اگر والدین کو بہت غصہ آتا ہے، وہ بچے کو بار بار ڈانٹتے مارتے ہیں تو بچوں کے وہ منفی جینز فعال ہوتے ہیں جو بچوں کو غصیلا یا ڈرپوک بناتے ہیں۔
اگر والدین بچوں کو پیار اور خوشحالی سے بھرا ماحول دیتے ہیں تو بچے کے مثبت جینز فعال ہوجاتے ہیں جو بچوں کو ذہین، توانا اور پراعتماد کرتے ہیں۔
اب والدین کو اپنے بچوں میں جینز میں منتقل ہوئی خصلتیں دیکھ کر گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بچوں میں اچھی خصلتوں کے لیے اچھا ماحول دینے کی کوشش کرنی ہے۔
اپنے بچوں کو بچوں کے ڈاکٹر کے پاس ضرور لے جاتے رہیں اور ان کی عادات، صلاحیتیں اور تبدیلیوں کا ذکر کرتے رہیں۔ اگر آپ کے بچے کا کوئی پیچیدہ سا مسئلہ ہے تو ماہرین سے ضرور رابطہ کریں۔ بچوں کی ذہنی صحت کے مسائل کو جانتے رہیں۔ اپنے بچوں میں ان علامتوں پر نظر رکھیں اور ہمیشہ ان کی اچھی صحت کے لیے کوشش کریں۔
بچوں میں ذہنی صحت کے مسائل آج کے دور میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور مختلف تحقیقات بھی اس حقیقت کو واضح طور پر تسلیم کرتی ہیں۔ بے چینی، دباؤ، غصہ اور توجہ کی کمی جیسے مسائل اب کم عمری میں ہی نظر آنے لگے ہیں، جو اگر بروقت سمجھے نہ جائیں تو آگے چل کر سنگین صورت اختیار کرسکتے ہیں۔ تاہم اس مضمون میں بیان کی گئی دماغی تکنیکیں اور ترکیبیں والدین کو ایک امید افزا راستہ دکھاتی ہیں۔ اگر ہم ان اصولوں کو روزمرہ زندگی میں اپنائیں تو بچوں کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور انہیں ایسی مہارتیں دی جا سکتی ہیں جو نہ صرف موجودہ مسائل حل کریں بلکہ انہیں پوری زندگی ذہنی طور پر مضبوط بنائیں۔
آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ والدین خود اس بات کا یقین رکھیں اور بچوں کے اندر بھی یہ یقین پیدا کریں کہ اللہ کا ذکر دل و دماغ کو اطمینان کی دولت عطا کرتا ہے۔







