جب ہم یہاں جمع ہوئے ہیں اور اپنا قیمتی وقت اپنی بھلائی کے لیے کچھ سوچنے پر صرف کر رہے ہیں تو ہمیں یہ نادانی نہیں کرنی چاہیے کہ صرف اِسی زندگی کے لیے سوچیں جو بہرحال ختم ہوجانے والی ہے۔ ہر فرد کی زندگی چاہے وہ آج اپنی عمر کے کسی مرحلے میں ہو آئندہ پچاس، ساٹھ ستّر برسوں میں ختم ہو جائے گی۔ آج سے ستّر اسّی برس بعد اُن لوگوں میں سے کوئی بھی زندہ نہ رہے گا جو اس وقت یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہاں جو لوگ موجود ہیں، خواہ وہ ہندو ہوں، مسلمان ہوں یا کسی بھی خیال کے ہوں ان کی ننانوے فی صد سے زیادہ اکثریت کسی نہ کسی شکل میں اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی آنے والی ہے۔ دانشمند انسانوں کی حیثیت سے ہر ایک کو اس کی فکر ہونی چاہیے کہ اس دوسری زندگی میں بھی بھلائی حاصل ہو۔ آج ہم غذائی قلت سے دوچار ہیں، نظم و نسق (Law And Order) کا مسئلہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے، بہت سے اور مسائل بھی ہیں۔ یہ مسائل کسی نہ کسی طرح حل ہوں گے۔ یہ زندگی گرتے پڑتے گزر ہی جائے گی۔ زندگی کبھی مسائل سے عاری نہیں رہی۔ آج جن تکلیفوں سے ہم دوچار ہیں ان کے باوجود یہ زندگی کسی طرح بسر ہوگی اور یقینًا ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ مسائل حل ہوں تکلیفیں کم ہوں اور زندگی سہولت و آرام سے بسر ہو۔ مگر ایسا نہ ہو کہ انہی مسائل میں الجھ کر ہم اس زندگی کے بعد آنے والی زندگی سے یکسر غافل ہوجائیں۔ اُس زندگی کو بنانے کی فکر بھی اسی زندگی میں کرنی ہے۔ اس کے لیے جو کوشش کرنی ہو آج ہی کی جاسکتی ہے۔ اُس میں فلاح کا انحصار بھی اِس زندگی میں گزر بسر کے طریقوں، انہی مسائل کے حل کے انداز اور اِس دنیا کی زندگی کی تعمیر کے نقشے پر ہے۔ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر آن اُس کو بھی سامنے رکھا جائے اور ہر مسئلے کے حل میں اُس کی رعایت بھی ملحوظ رہے۔ (۱۱ نومبر ۱۹۶۷ کے جماعت اسلامی ہند کے کل ہند اجتماع کے موقع پر کی گئی تقریر کا اقتباس۔ تحریک اسلامی عصر حاضر میں، ص ۴۶)
دنیا کے مسائل اور آخرت کی فکر
آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:







