قول و فعل میں تضاد – اسباب اور تدارک

فلاح الدین فلاحی

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں اللہ کے نزدیک یہ بات بہت بری ہے کہ جو تم کرتے نہیں وہ کہتے ہو‘‘ (سورہ صف)ان آیات میں قول و فعل میں تضاد پر تنبیہ کی گئی ہے ۔

اکثر و بیشتر ہم تقاریر میں سنتے اور کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ دنیا ایک عارضی قیام گاہ ہے ،مستقل قیام گاہ نہیں ہے اس دنیا میں جو بھی آیا ہے اُسے خالی ہاتھ واپس جانا ہے چاہے اُس کے پاس قارون کے خزانے کی کنجی ہی کیوں نہ ہو۔لیکن ہم دیکھ رہے ہیںکہ اِس حقیقت کے باوجود لوگ اقتدار کی حرص میں پڑے ہوئے ہیں مسلمان حکمراں پڑوسی ممالک کے انقلاب سے دہشت زدہ ہیں ۔ انہوں نے اللہ کے بندوں کو تہہ تیغ کرنے کی غرض سے اپنے خزانے کے منہ کھول دئے ہیں تاکہ اللہ کا کلمہ کہیں بلند نہ ہو سکے  اور اُن کااپنا اقتدارباقی رہے وہ اپنی جھوٹی شان کی بقا چاہتے ہیں ۔وہ اسلام اوراللہ اور رسول کے خیر خواہ ہونے کی بات تو کرتے ہیں لیکن ان کا فعل اس حقیقت کی جانب اشارہ کر رہا ہے کہ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے ۔وہ حرص اقتدار کی وجہ سے اللہ کے کلمہ کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں جبکہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے (سورہ صف،۹۔۸)’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور ’یعنی دین اسلام‘کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں ،حالانکہ اللہ اپنے نور کو مکمل کر کے رہے گا گرچہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ لگے ۔وہی ہے جس نے اپنے رسول کو واضح ہدایات اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرے گرچہ مشرکوں کو کتنا ہی ناخوشگوار کیوں نہ لگے۔‘‘مسلم بادشاہوں کا عمل ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنا اقتدار بچانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑ نا چاہتے ۔ان کے عمل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ اور ہیں۔

اس کے علاوہ بھی متعددمثالیں موجودہیں جو بیان کردہ اور حقیقی صورت حال کے درمیان یاقول و فعل کے درمیان تضاد کی غماز ہیں ۔مسلم معاشرہ میں ایسے افراد یقیناًموجود ہیں جن کا عمل اُن کے قول کے مطابق ہے ،وہ کوشش کرتے ہیں  اس فرائض کے بجالانے میں کوئی کمی نہ ہو، بسااوقات وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پاتے،لیکن جلد راہِ حق پر پلٹ آتے ہیں۔ اِنسانوں کے  ان دو رویّوں کااثرانسان کی انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی اور حکومتی سطح تک  محیط ہے۔لیکن دنیا کی عام صورتحال یہ ہےکہ اسلامی ممالک ہوں یا غیر اسلامی ،جمہوریت نواز ہوں یا غیر جمہوری ،ہر جگہ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جوقول و فعل کے تضاد سے دوچار نہ ہو۔

یہی معاشرتی زندگی کا بھی ہے ہم بیٹی کو اللہ کی رحمت تصور کرتے ہیں لیکن تین چار بیٹیاں ہو جاتی ہیں تو اپنے اندر گھٹن محسوس کرتے ہیں حقیقت واقعہ کے بالکل برعکس شو ہر عورت کو اس کا ذمہ دار سمجھنے لگتا ہے ۔پھر عورت پر ظلم و زیادتی ہوتی ہے اسے چھوڑنے اور دوسری شادی کرنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ وہی قول وفعل کا تضاد ہے ۔ عورت کے ساتھ حسن سلوک اور حسن معاشرت کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے اور لوگوں کو اس کا درس تک دیا جاتا ہے لیکن عملی رویّہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔

مسئلہ کا حل :

اس مسئلے کے حل کی تلاش سے پہلے اس کے اسباب سے واقفیت ضروری ہے۔ بسااوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں اب ایسے اشخاص ناپید ہو گئے ہیں جن کے کام ان کے قول سے ہم آہنگ ہوں یعنی قول و فعل میں مطابقت پائی جاتی ہو ۔اس صورتحال کی متعدد وجوہ ہیں۔زمانے کی تکنیکی ترقی اور نئی نئی ایجادات نے انسانی ضرورتوں کو بڑھا دیا ہے جبکہ پہلے انسانی ضرورتیں محدود ہوا کرتی تھیں ۔ روٹی کپڑا اور مکان ۔لیکن فی زمانہ انسانی سماج کے ارتقائی سفر نے مادی ضروریات کا دائرہ وسیع کردیا۔ آج انسان کے لئے ہر دلکش چیز لازمی ضرورت بن چکی ہے ۔ چنانچہ انسان روحانی اور اخلاقی اعتبار سے گرتا جا رہا ہے ۔اس پرمادی خواہشات غالب ہیں اور روحانی اور اخلاقی قدریں اس قدر کمزور ہو گئی ہیں کہ ہوس اُن پر غالب آچکی ہے۔

قول وعمل کے تضاد کی ایک دوسری  وجہ بھی ہے۔ یہ وہ باطل اعتقادات ہیں جو اتنے پختہ ہو گئے ہیں کہ غلط طرز عمل کی پہلی بنیاد بنتے ہیں ۔تیسری وجہ اسلامی تعلیمات کا فقدان ہے۔ ایمان ہی وہ طاقت اور قوت ہے جو انسان کو عمل صالح پر آمادہ کرتی ہے دل میں ایمان ہو تو زندگی میں صالح اعمال کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔چوتھی وجہ نفس کی غلامی ہے اگر دل میں ایمان مضبوط ہوتو نفس کی ترغیبات پر ایمان غالب رہے گا لیکن اگر نفس پر مادہ پرستی کا غلبہ ہوگا تو پھر انسان کے قول وفعل میں تضاد لازمی ہے ۔

انقلابی صلاحیت:

عمل کی درستگی کے لئے ضروری ہے کہ انسان کی عقل ،دل اور نفس کی اِصلاح ہو۔ اگر ان تینوں عوامل میں صالح تبدیلی واقع ہو جائے تو انسان کے اندر انقلاب کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے ۔اور انسان قرآن مجید کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنے لگتا ہے کیونکہ قرآن مجید روشنی دینے والی کتاب ہے جو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف انسانوں کو لاتی ہے ۔اللہ تعالی کی راہ پر چلنے والوں کے لئے قرآن راہ روشن کرتا ہے انسان کا دِل راہِ رات کے حق ہونے پرمطمئن ہو جاتا ہے اور وہ منزل آتی ہے کہ اللہ اس سے راضی ہو جائے اور وہ اللہ کو راضی کر لے ۔

یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے جو انسان کے اندر انقلاب پیدا کرتی ہے فطرت کی عکاسی اصل اِنسانی شخصیت نکھر کر سامنے آجاتی ہے جب انسان اللہ کے کلام کی طرف دِل لگاتا ہے اور اس کے معنی اور پیغام کو سمجھتا ہے تو اس کی زندگی میں انقلاب برپا ہو تا ہے اس کا مشاہدہ انسانی معاشرہ نےاکثر کیا ہے۔ایسے افراد اس لائق ہو جاتے ہیں کہ قرآن کی روشنی میں بندگانِ خدا کی اصلاح کا کام کرتے ہیں ، قول وعمل کی حقیقی ہم آہنگی کی تصویر کشی کرتے ہوئے قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے ’’آپ کہہ دیجئے کہ میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا مرنا اور جینا یہ سب خالص اللہ ہی کے لئے ہے ،جو سارے جہان کا مالک ہے ‘‘۔(الانعام ،۱۶۲)

مارچ 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau