ڈینیل ڈینیٹ: جدید الحاد کا فلسفیانہ چہرہ

شعور، ارادی رجحان اور روح کے انکار کا مسئلہ: ڈینیل ڈینیٹ کے نظریے کا محاسبہ

ڈینیل ڈینیٹ فلسفۂ ذہن (Philosophy of Mind) میں ایک ایسے موقف کے نمائندہ ہیں جسے عموماً اخراجی مادیت (Eliminative Materialism)یا کٹر مادی نظریہ (Strong Physicalism)کہا جاتا ہے۔ اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ انسانی شعور، ارادی رجحان اور ذات (self)کوئی وجودی (ontological) حقیقت نہیں رکھتے بلکہ یہ سب دماغی کیمیائی و برقی تعاملات کے ابھرتے ہوئے واہمے (illusion) ہیں۔ ڈینیل ڈینیٹ کی مرکزی کتب کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات بآسانی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ اصل میں وہ دعوی ٰکرتے ہیں کہ شعور کسی روح یا غیر مادی حقیقت کا نام نہیں۔ ارادی رجحان اور ارادہ دماغ کی حسابی (computational) سرگرمیوں کے نتائج ہیں۔ اور انسانی ذات اور اس ذات کا احساس بالاصل محض ایک بیانی فکشن ہے۔

وہ اپنی کتاب Consciousness Explained میں کہتے ہیں:

Human consciousness is not what it seems. It is not a single, unified thing, but a collection of parallel processes with no central observer.

(یعنی، انسانی شعور وہ نہیں ہے جو بظاہر محسوس ہوتا ہے۔ یہ کوئی اکہری یا یکجا شے نہیں بلکہ متوازی سرگرمیوں کا وہ مجموعہ ہے جس کا کوئی مرکزی نگراں نہیں ہوتا۔ )

یہ موقف بظاہر سائنسی معلوم ہوتا ہے، مگر گہری سطح پر یہ سائنس نہیں، بلکہ ایک مخصوص مابعد الطبیعاتی مفروضہ ہے۔ شعور، ارادہ، رجحانِ ارادی اور روح کے حوالے سے ڈینیل ڈینیٹ کے مختلف مفروضات اور خیالات کا تجزیہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔

1۔ شعور بطور واہمہ – جدید نیوروسائنس کی روشنی میں

ڈینیٹ شعور کو ایک توضیحی واہمہ (explanatory illusion) قرار دیتے ہیں، یعنی ایسی شے جو ہمیں حقیقی محسوس ہوتی ہے مگر دراصل موجود نہیں۔ تاہم جدید شعوریاتی مطالعات میں اس موقف کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اور جدید تحقیقات کچھ اور ہی منظر نامہ سامنے لارہی ہیں۔

معروف نیوروسائنس دان کرسٹوف کوخ(Christof Koch)، جو ڈی این اے کی ساخت کے دریافت کار فرانسس کرک(Francis crick) کے ساتھی ہیں، کہتے ہیں:

“Consciousness is not an illusion. Illusions themselves require consciousness. [Koch, Consciousness: Confessions of a Romantic Reductionist, 2012]

(یعنی، شعور کوئی واہمہ نہیں ہے۔ خود واہموں کو جاننے کے لیے شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ )

یہ بات نہایت اہم ہے۔ اگر شعور واہمہ ہے، تو واہمے کو محسوس کرنے والا کون ہے؟ یہ اعتراض ڈینیٹ کے پورے موقف کو زبردست چیلنج دیتا ہے اور اسے اندر سےمنہدم کر دیتا ہے۔

اسی طرح ڈیوڈ چالمر، جو شعوریاتی مطالعات میں ایک مرکزی نام ہے، ڈینیٹ کے نظریے کو شعور کا مشکل مسئلہ( Hard Problem of Consciousness)قرار دیتے ہیں۔ چالمرز کے مطابق:

“Explaining neural mechanisms does not explain subjective experience [Chalmers, The Conscious Mind (1996)]

(یعنی، عصبی سرگرمیاں شعور کے تجربوں (qualia) کی وضاحت نہیں کرتیں۔)

اس کو ایک سادہ سی مثال سے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ درد کا احساس ہر فرد کو ہوتا ہے، لیکن ہر فرد درد کو مختلف طریقے سے محسوس کرتا ہے۔ کسی کی شدت زیادہ ہو سکتی ہے کسی کی کم۔ اب نیورو سائنس کے مطابق ہمارے پاس ایک پورا فریم ورک موجود ہے کہ درد کے رسپٹر کون سے ہیں؟ کس کس قسم کے کیمیائی تعاملات درد کےاحساس میں انجام پاتے ہیں۔ لیکن اس کوئی جواب نہیں ہے کہ ایک ہی طرح کی چوٹ سے مختلف افراد درد کو مختلف انداز میں کیسے محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح خوشی،غم،ممتا، محبت، حسد، شرمندگی، خجالت، وغیرہ کے احساسات کے حوالے سے بات کی جا سکتی ہے۔

2۔ رجحانِ ارادی کا انکار اور اس کی سائنسی کم زوری

ڈینیل ڈینیٹ نے متعدد جگہ لکھا ہے کہ قصد،ارادہ، رجحانِ ارادی،شعور یہ تمام امور کمپیوٹر کے الگورتھم کی طرح ہیں، جن کا ارتقا ایک طویل عرصے میں ہوا ہے۔ چناں چہ یہ سب کے سب اپنے سیاق و سباق سے تربیت پاتےہیں۔ جس طرح ہم آج کل کمپیوٹر کے الگورتھم کو ڈیٹا کے ذریعے تربیت دیتے ہیں، اسی طرح یہ سب ایک طویل عرصے میں ارتقا پذیر ہوئے ہیں۔

اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ڈینیل ڈینیٹ کو اصل میں ایک بین موضوعاتی محقق و فلسفی کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔وہ اپنی تحقیق کے لیے مصنوعی ذہانت،کمپیوٹر سائنٹسٹ، نیورو سائنٹسٹ، وغیرہ کے ساتھ مل کر کام کرتے تھے۔ ان کے مذکورہ بالا دعوے کو جان سرل (John Searle)نے مضبوطی سے رد کیا ہے۔

مثلاً، رجحان ارادی یعنی ذہنی کیفیات کے کسی شے کی طرف مائل ہونےکے حوالے سے مشہور فلسفی سرل کا یہ قول بہت مشہور ہوا:

“Intentionality cannot be reduced to syntax or computation.[ Searle, The Rediscovery of the Mind (1992)]

(یعنی، رجحانِ ارادی کو نحو یات یا ریاضیات تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ )

اس کے علاوہ ان کی مشہور دلیل ہے جو چینی کمرے کی دلیل(Chinese Room Argument) کے طور سے مشہور ہوئی۔اس دلیل سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ محض حسابی پراسیسسنگ معنی (meaning) اور رجحانِ ارادی پیدا نہیں کر سکتی۔ چائنیز روم آرگومنٹ ایک مشہور فلسفیانہ دلیل ہے، جس کے مطابق صرف محسوبات پر عمل کرنا (computation)، کسی چیز کو سمجھ لینا (understanding)نہیں ہوتا۔اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کریں کہ ایک کمرا ہے جس کے اندر ایک شخص بیٹھا ہواہے۔اس شخص کو چینی زبان بالکل نہیں آتی۔ کمرے کے باہر سے چینی زبان میں سوالات اندر بھیجے جا رہے ہیں۔کمرے کے اندر موجود شخص کے پاس ایک کتاب ہے۔ اس کتاب میں لکھا ہےکہ اگر فلاں چینی علامت آئے تو اس کے جواب میں فلاں چینی علامت باہر بھیج دو۔ یہ شخص بس علامت دیکھتا ہے۔کتاب میں لکھی ہوئی علامت کے متعلق ہدایات پڑھتا ہے، اور ویسا ہی جواب باہر بھیج دیتا ہے۔ باہر کھڑے لوگ سمجھتے ہیں کے کمرے کے اندر بیٹھا شخص چینی زبان سمجھتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ شخص ایک لفظ بھی نہیں سمجھتا۔وہ صرف قاعدوں پر عمل کر رہا ہے۔

اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

کمپیوٹر بھی یہی کرتا ہے۔کمپیوٹرالفاظ نہیں سمجھتا، معنی نہیں جانتا، صرف قواعد (rules) کے مطابق علامتوں (symbols)کو آگے پیچھے کرتا ہے۔ یعنی، کمپیوٹر جواب درست دے سکتا ہے، مگر سمجھ نہیں رکھتا۔

اس کا تعلق ذہن اور شعور سے کیسے بنتا ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں “اگر کمپیوٹر انسان کی طرح بات کر لے، تو وہ بھی ذہن اور شعور رکھتا ہے۔

چائنیز روم آرگومنٹ کہتا ہے: ”نہیں، درست جواب دینا، سوال سمجھنےکی دلیل نہیں ہے۔“

یہ دلیل کیوں اہم ہے؟ چائنیز روم آرگومنٹ دکھاتا ہے کہ مشین اور انسان میں بنیادی فرق ہے۔ معنی، رجحانِ ارادی اور شعور کو صرف محسوبات سے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نکتہ براہِ راست ڈینیٹ کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ ذہن محض ایک الگورتھم ہے۔

4۔ روح کا انکار: سائنس کے حدود

ڈینیٹ روح کے تصور کو ماقبل سائنسی زمانہ کا توہم (pre-scientific superstition)کہتے ہیں، مگر یہاں ایک بنیادی ایپسٹی مولوجی کا سوال پیدا ہوتا ہے: کیا سائنس ہر حقیقت پر فیصلہ دینے کی اہل ہے؟ معروف سائنس داں اور فلسفی تھامس نیجل (Thomas Nagel)لکھتے ہیں:

Materialism is not a scientific theory but a metaphysical assumption. [Nagel, Mind and Cosmos (2012)]

(یعنی، مادیت کوئی سائنسی نظریہ نہیں بلکہ مابعد الطبیعاتی مفروضہ ہے۔)

نیجل کے مطابق شعور، عقل اور اخلاقی اقدار جیسے پیچیدہ تصورات کی تشریح محض مادیاتی نیورو سائنس کے ذریعے سے نہیں کی جا سکتی۔یہاں اس بات کا تذکرہ بےجا نہ ہوگا کہ اسلامی علمیات (Islamic intellectual tradition) کابھی یہی موقف ہے۔اسلامی فلسفے کا وسیع ترین تاریخی سفر اور اس کا مطالعہ اس بات کو واضح طور پر دکھاتا ہے کہ روح ایک تجرباتی شے نہیں، بلکہ وجودی حقیقت ہے جس کے اثرات (شعور، اخلاق، رجحانِ ارادی) قابلِ مشاہدہ ہیں، اگرچہ اس کی ماہیت تجربہ گاہ میں ناپی نہیں جا سکتی۔

اسلامی تصورِ روح اصل میں قران کی اس آیت سے ابھرتا ہے:

وَیسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّی(الاسراء: 85)

(وہ روح کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہو،روح تو میرے رب کے حکم سے ہے)

حالاں کہ اس آیت کو بہت سے مفسرین سیاق کے اعتبار سے حضرت جبرئیل کے متعلق ایک سوال کے جواب کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن اسے اس کی لفظی حیثیت میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ جدید سائنس بھی اب یہ تسلیم کر رہی ہے کہ شعور دماغی حالتوں سے نسبت تو رکھتا ہے، مگر اسے محض انھی حالتوں تک محدود نہیں کیا جا سکتا، نہ ہی اسے ان حالتوں کے ذریعے سے مکمل طور پر سمجھا جا سکتا ہے یعنی، شعور ذہنی حالتوں سے رشتہ تو رکھتا ہے، مگر محض اسی پر قابل تخفیف(reducible)نہیں ہے۔

یہی موقف غیر تخفیفی نظریہ طبیعی مادیت (Non-reductive Physicalism) یا دو پہلوئی نظریات (Dual-aspect theories)میں سامنے آ رہا ہے، جو ڈینیٹ کے سخت تخفیفی نظریے سے واضح طور پر مختلف ہے۔چناں چہ اس بات کو محتاط انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ ڈینیل ڈینیٹ کا شعور، رجحانِ ارادی اور روح کے انکار پر مبنی نظریہ جدید نیوروسائنس کے اندر بھی متنازع ہے اور فلسفۂ ذہن (philosophy of mind)میں بھی سنجیدہ اعتراضات کا شکار ہے۔

اختیارِ ارادہ (Free Will) کا انکار اور اخلاقی تضاد

اختیارِ ارادہ، رجحانِ ارادی اور اخلاقی ذمہ داری

ڈینیل ڈینیٹ کے یہاں تیسرا اہم پیراڈائم آزاد ارادے کے حوالے سے ہے۔ سیم ہیرس کے یہاں بھی اس بات کا بہت زور ملتا ہے کہ آزاد ارادہ اور اختیار کوئی شے نہیں ہے،کیوں کہ جدید الحاد کے مبلغین چالاکی کے ساتھ آزادی و اختیار کی نفی کرتے ہیں۔ مذاہب میں، بطور خاص اسلام میں، سب سے زیادہ زور آزادانہ اختیار اور ارادے کو ہے۔ قرآن مجید میں بطور خاص جگہ جگہ اس بات کا تذکرہ موجود ہے کہ انسان چاہے تو کفر اختیار کرے، چاہے تو سلامتی کا راستہ اختیار کرے۔ انسان چاہے تو شکر گزار بنے،چاہے تو ناشکر گزار بنے۔ انسان چاہے تو خدا پر یقین رکھے،اور نہ چاہے تو نہ رکھے۔ چناں چہ یہ آزادی اور اختیار ہی ایک آزمائش ہے۔ اسی آزمائش کے تحت انسان کا حساب ہوگا کہ اس نے اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد کیا اللہ کی بندگی اختیار کی۔ اس لیے جدید الحاد کا سب سے زیادہ زور آزادی و اختیار کی نفی کے حوالے ہی سے ہے۔ وہ مختلف طریقوں سے یعنی فلسفہ نیورو سائنس اور ارتقائی نفسیات،تینوں کے حوالے سے سارا زور اس بات پر صرف کرتے نظر آتے ہیں کہ آزاد ارادے کو اختیار کو سرے سے جھٹلا دیا جائے۔ ڈینیل ڈینیٹ فلسفے کے حوالے سے یہ کام کرتے نظر آتے ہیں۔چناں چہ دیکھا جا سکتا ہے کہ اختیارِ ِارادہ کا سوال جدید الحاد اور بالخصوص ڈینیل ڈینیٹ کی فکر میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ڈینیٹ بظاہر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ “آزاد ارادے”کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے، مگر درحقیقت وہ اس تصور کی ایسی تعریف کرتے ہیں کہ اس میں اس تصور کا کلاسیکی اخلاقی مفہوم باقی نہیں رہتا۔بغور مطالعہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ ان کا مقصد ایک ایسا تصورِ اختیار پیش کرنا ہے جو کٹر مادّیت (hard materialism) سے متصادم نہ ہو، مگر ساتھ ہی اخلاقی ذمہ داری کا کوئی نہ کوئی ڈھانچہ بھی برقرار رہے۔ اب ہم کچھ مرکزی نکات کے تحت ڈینیٹ کے اس فلسفے کا تنقیدی تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

اختیار بطور فریب: کلاسیکی آزاد ارادے کا انکار

ڈینیل ڈینیٹ اپنی معروف کتاب Elbow Room: The Varieties of Free Will Worth Wanting میں لکھتا ہے کہ روایتی معنوں میں آزاد ارادہ،یعنی ایسا اختیار جو مکمل طور پر (causal) نظامِ علل سے آزاد ہو—ایک غیر معقول تصور ہے۔وہ رقم طراز ہیں۔

The traditional idea of free will, the idea that we could have done otherwise in exactly the same circumstances, is a myth. [Dennett, Elbow Room, Chapter 4]

(یعنی، اختیارِ ِارادہ کا روایتی تصور کہ ہم انھی حالات میں کچھ اور کرتے، ایک مفروضہ ہے۔ )

یہاں ڈینیٹ واضح طور پر اس اختیار کا انکار کرتے نظر آتے ہیں جو روایتی یونانی فلسفے میں بھی اوراسلامی اخلاقیات اور کلاسیکی فلسفے (مثلاً ارسطو، غزالی) میں بھی اخلاقی ذمہ داری کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اسلام میں قدرت اور اختیار کے امتزاج سے ہی اخلاقی ذمہ داری (moral obligation) پیدا ہوتی ہے۔ اگر “ہم ویسے ہی کرتے جیسے کرنا طے تھا”، تو پھر اخلاقی احتساب کا تصور بے بنیاد ہو جاتا ہے۔

مفاہمت پسندی: حل یا سمجھوتا؟

ڈینیل ڈینیٹ نے اپنی کم از کم تین کتابوں میں اس حوالے سے گفتگو کی ہے اور اپنے آپ کو مفاہمت پسند (Compatibilist)باور کرایا ہےوہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جبریت (determinism) اور اخلاقی ذمہ داری دونوں بیک وقت ممکن ہیں۔

اسی تناظر میں وہ اپنی کتاب Freedom Evolves میں لکھتے ہیں:

Free will is not an all-or-nothing phenomenon. It is something that has evolved, gradually, like eyes or wings. [ Dennett, Freedom Evolves, Chapter 6]

(یعنی، اختیارِارادہ کوئی ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں ‘والا مظہر نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو بتدریج ارتقا پذیر ہوئی ہے، آنکھوں اور پروں کی طرح۔ )

یہاں آزاد ارادے کو ایک ارتقائی نتیجہ بنا دیا گیا ہے، نہ کہ ایک وجودی حقیقت۔ اخلاقیات اب کسی ماورائی یا عقلی بنیاد پر نہیں بلکہ حیاتیاتی افادیت پر قائم ہو جاتی ہے۔اس سے فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر اختیار ایک ارتقائی سہولت ہے، تو پھر وہ اخلاقی طور پر لازم کیوں ہو؟ ارتقا “ہونا” (is) بتاتا ہے، “ہونا چاہیے” (ought) نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈینیٹ کا نظریہ ’is–ought gap ‘ میں پھنس جاتا ہے۔ یعنی جب ارتقا سے محض یہی معلوم ہو سکتا ہے کہ کیسے ہوا تھا، نہ کہ کیسے ہونا چاہیے تھا، تو اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ یہی ازآٹ گیپ کہلاتاہے۔

 اخلاقی ذمہ داری بغیر حقیقی اختیار کے؟

ڈینیٹ کے تھیسس کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کے یہاں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہیں ہمارے فیصلے دماغی و ارتقائی عوامل کا نتیجہ ہیں، دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ

We are the sorts of agents who can be held responsible. [Dennett, Freedom Evolves, Chapter 7]

(یعنی، ہم وہ گماشتے ہیں جن کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔)

یہ موقف فلسفیانہ طور پر کم زور ہے، اور خود ان کے ذریعے دی گئی فلسفیانہ بنیادوں کے خلاف جاتا ہے۔کیوں کہ اگر میں وہی کرتا ہوں جو جبر مجھے کرنے دیتا ہے اور میں اس نظام سے باہر نکل ہی نہیں سکتا، تو مجھے اخلاقی طور پر ”ذمہ دار“کہنا محض ایک سماجی مفروضہ رہ جاتا ہے۔ حقیقت نہیں۔

اسلامی اخلاقیات میں ذمہ داری ایک حقیقی وجودی حیثیت رکھتی ہے، جس کا انکار پورے اخلاقی نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔

سزا، جزا اور اخلاقی عدل کا مسئلہ

ڈینیٹ کے نظریے کے تحت سزا اور جزا بھی ایک سماجی افادیت (social utility) بن جاتی ہے، نہ کہ اخلاقی انصاف کا تقاضا۔ وہ اپنی کتاب Elbow Room میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مثلاً، سزا کا مقصد اصلاح یا جرم سے باز رکھنے (deterrence) اور سماجی نظم کا حصہ ہو سکتا ہے یا ہونا چاہیے، نہ کہ حقیقی جواب دہی۔ یہ نقطۂ نظر اسلامی تصورِ عدل سے بالکل متصادم ہے، جہاں سزا محض اصلاح نہیں، بلکہ اخلاقی حساب بھی ہے۔ اگر انسان حقیقی اختیار سے محروم ہو، تو آخرت کا تصورِجزا و سزا،اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے۔

جدید نفسیات اور ڈینیٹ کے موقف کی کم زوری

جدید نفسیاتی تحقیق بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اختیارِ ارادہ پر یقین انسانی اخلاقیات کے لیے ناگزیر ہے۔

ماہرِ نفسیات رائے بومیسٹر (Roy Baumeister)لکھتے ہیں:

Disbelief in free will undermine moral behavior.[Baumeister et al., Psychological Science, 2009]

(یعنی، اختیارِ ارادہ پر یقین نہ رکھنے سے اخلاقی رویوں کی پوری عمارت ہل جائے گی۔ )

تجرباتی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ جب افراد کو بتایا جائے کہ اختیارِ ارادہ ایک فریب ہے، تو ان میں اخلاقی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ تجربی شواہد ڈینیٹ کے اس دعوے کو کم زور کرتے ہیں کہ اختیارِ ارادہ کے بغیر بھی اخلاقی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔

اسلامی تناظرمیں اختیارِارادہ اور عدل انسان کی خلافت کی بنیاد ہے، اور اس بنیاد پر وہ آزادانہ حیثیت میں اپنے شعور کے مطابق اچھے یا برے فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے لیے اسے ضروری رہ نمائی فراہم کر دی گئی ہے۔ اختیار اور آزادی کے حوالے سے اس کے پاس انتخاب موجود ہے۔ وہ چاہے تو اس اختیار اور آزادی کا استعمال کرتے ہوئے عدل کا قیام کرے، اور انسانی معاشرے میں الہی ہدایات کے مطابق اخلاقیات کی بنیادوں پر تہذیب کی آبیاری کرے، یا اس کے برخلاف عمل کرتے ہوئے جو چاہے کرے لیکن آخرت میں اس کے لیے وہ ذمہ دار اور مسؤل ہوگا چناں چہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈینیل ڈینیٹ کا اختیارِ ارادہ سے متعلق نظریہ بظاہر فلسفیانہ توازن (compatibilism) دکھاتا ہے۔ مگر درحقیقت اخلاقی ذمہ داری کو اس کی وجودی بنیاد سے محروم کر دیتا ہے۔ اور سزا، جزا اور عدل کو محض افادیت (utility)تک محدود کر دیتا ہے۔جس سے گہرا اخلاقی تضاد پیدا ہوتا ہے جس میں انسان ذمہ دار تو ہے لیکن اس کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے۔اور کسی بھی قسم کے غیر اخلاقی فیصلے کرنے سے روکنے کے لیے کوئی الوہیاتی میکینزم اس کے پاس نہیں ہے۔کیوں کہ یہ بات اب تسلیم کی جا چکی ہے کہ حقیقی اختیار کے بغیر حقیقی اخلاق ممکن نہیں۔

جدید الحاد کے ان چار اہم فکری بنیادوں کے گھڑ سواروں کے تنقیدی تجزیے کو ہم جدید علاج کی نرم طاقت اور ڈینیل ڈینیٹ کے رول کے حوالے پر ختم کرنا چاہیں گے۔سافٹ پاور اب کسی تعریف کا محتاج نہیں ہے اور اس پر علمی دنیا میں بہت بڑا ڈسکورس پہلے سے موجود ہے۔ذیل میں ہم الحاد کے سوفٹ پاور پر ڈینیل ڈینیٹ کے رول اور ان کی تحریروں کے حوالے سے جدید الحاد کے لیے اس ضمن میں ان کا کنٹریبیوشن پیش کرنا چاہیں گے۔

جدید الحاد کی نرم طاقت (Soft Power): ڈینیل ڈینیٹ اور غیر جارحانہ الحاد کی فکری حکمتِ عملی

جدید الحاد کو عام طور پر ایک جارحانہ، مذہب دشمن اور مناظرہ پسند (polemical)تحریک کے طور پر سمجھا جاتا ہے، جس کی نمائندگی رچرڈ ڈاکنز اور سیم ہیریس جیسے مفکرین کرتے ہیں۔ اور یہ بالکل درست ہے اور اس کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں۔لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ طے ہے کہ جدید الحاد کے اس پروجیکٹ کو ہر سمت سے محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور حکمت عملی کے طور پر نرم اور گرم دونوں طریقوں سے مذہب کی بنیادوں پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مذاہب میں بھی بطور خاص ابراہیمی مذاہب کو نشانہ بنایا گیا ہے کیوں کہ ابراہیمی مذاہب کی تعلیمات اپنے اندر وہ کشش رکھتی ہیں، جو دنیا کے ایک بڑے طبقے کو متاثر کر سکتی ہیں اور کر رہی ہیں۔چناں چہ جہاں سیم ہیرس اور رچرڈ ڈاکنز اور کرسٹوفر ہیچنز جارحانہ انداز میں اسلام اور عیسائیت پر زبردست حملے کرتے نظر آتے ہیں وہیں ڈینیل ڈینیٹ اس کی فلسفیانہ،نرم، معقول اور بظاہر غیر نظریاتی آواز کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں۔ہمارے نزدیک جدید الحاد کے سافٹ پاور کا سب سے موثر نمائندہ ڈینیل ڈینیٹ ہی ہیں۔

اس لیے قارئین یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ پائیں گے کہ ڈینیٹ براہ راست جارحانہ اور ہتک امیز انداز میں مذہب پر حملہ نہیں کرتے، بلکہ مذہب کو غیر ضروری باور کراتےہیں۔

وہ مذہب کو غلط ثابت کرنے کے بجائے اسے علمی طور پر غیر متعلق (epistemically redundant) قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک حکمتِ عملی ہے ،جدید الحاد کو تہذیبی سطح پر زیادہ مؤثر بنانے کی۔

سافٹ پاور کیا ہے؟

جوزف نائف (Joseph Nye)کے سیاسی تصور سافٹ پاور کو فکری میدان میں منتقل کریں تو اس کاسادہ اور آسان مطلب ہوتا ہے نظریے کو مسلط کرنے کے بجائے معمول (normal) بنا دینا، مخالفت کے بجائے غیر متعلق باور کرانا، انکار کے بجائے خاموش اخراج (silent exclusion) کی کوشش کرنا۔

ڈینیٹ یہی کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ مذہب غلط ہے، بلکہ یہ تاثر دیتے ہیں کہ سنجیدہ، تعلیم یافتہ اور سائنسی ذہن کے لیے مذہب ایک غیر ضروری شے ہے اور کائنات، مقصد، معنی، زندگی کی اعلی شعوری وضاحت،یہ سب امور سیکولر ہیومنسٹک اپروچ کے ذریعے طے کیے جاسکتے ہیں۔

مذہب کو علمی عملی اور اخلاقی معیار نہیں بلکہ تحقیقی شے بنانا

ڈینیٹ کی سافٹ پاور کی سب سے اہم جہت یہ ہے کہ وہ مذہب کو حقائق کی کسوٹی کے بجائے ایک مطالعہ کی شے بنا دیتے ہیں جیسے کہ انھوں نے اپنی مشہور کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔مثلاً اپنی کتاب Breaking the Spell میں انھوں نے مذہب کے مطالعے کو بشریات، نفسیات اور ارتقائی حیاتیات کے سپرد کر تے ہوئے ڈھٹائی کے ساتھ لکھا:

Religion should be studied scientifically, without granting it any special authority.[Dennett, Breaking the Spell, Chapter 2]

(یعنی، مذہب کا مطالعہ سائنسی انداز میں کیا جانا چاہیے، اسے کوئی خاص مقتدرہ دیے بغیر۔ )

یہاں مذہب کو رد نہیں کیا گیا، بلکہ اس کی ایپسٹیمک حیثیت سلب کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسا نہیں ہے کہ ڈینیٹ کے اس نقطہ نظر پر گہری تنقیدیں نہ ہوئی ہوں۔ ہم ذیل میں ایک مختصر تجزیہ پیش کرتے ہیں جو یہ دکھاتا ہے کہ جدید الحاد نے ڈینیل ڈینیٹ کے سافٹ پاور کے ساتھ اپنی پوری طاقت اس نقطہ نظر کے پیچھے صرف کی ہے، لیکن سنجیدہ علمی حلقوں میں اس کا دنداں شکن جواب آچکا ہے مثلا تو ماس حالک نے جدید الحاد کے لیے بہت شاندار بات کہی ہے وہ ایک چیک مفکر اور فلسفی ہیں انھوں نے کہا:

New Atheism is not atheism but bad theology.

(یعنی، جدید الحاد، الحاد نہیں بلکہ خراب الہیات ہے۔ )

ایک اور جگہ انھوں نے لکھا:

New Atheism does not refute faith; it refutes a caricature of faith. [Halík, I Want You to Be (2017)]

(یعنی، جدید الحاد مذہب کو نہیں جھٹلاتا بلکہ مذہب کے ایک کیری کیچر کو جھٹلاتا ہے۔ )

حالک اور دیگر مفکرین کے مطابق کے مطابق ڈینیٹ اور اس کے ہم فکر(جس میں وہ جدید الحاد کے چار گھڑ سواروں کے علاوہ ان کے توسیعی مفکرین کو بھی شامل کرتے ہیں!) مذہب کے ساتھ مکالمہ اس کے عمیق الہامی اور وجودی سوالات کے ساتھ نہیں کرتے، بلکہ اسے ایک سطحی بشریاتی مظہر دکھانا چاہتے ہیں-اور یہ ایک سوچی سمجھی علمی بددیانتی ہےکہ مذہب جیسے پیچیدہ اور گہرے انٹرپرائز کو سطحیت کا لبادہ پہناکر،سطحی قسم کے سوالات کے جھرمٹ میں چھپادیا جائے۔

اسی طرح کا مشاہدہ ہمیں عیسائی فلسفی ڈیوڈ بینٹلے ہارٹ (David Bentley Hart)کے یہاں بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ انھوں نے اپنی مشہور کتاب Atheist Delusions میں جدید ملحدین (بالخصوص ڈینیٹ اور ڈاکنز) پر سخت تنقید‌کی ہے، لکھتے ہیں:

The New Atheists display an almost perfect ignorance of theology.” [Hart, Atheist Delusions (2009)]

(یعنی، جدید ملحدین الہیات سے ایک کامل لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ )

ہارٹ کے مطابق ڈینیٹ کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ مذہب سے اختلاف کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ الہیات کو سنجیدگی سے پڑھتا ہی نہیں، اور مذہب کو ایک علمی طور پر خستہ (intellectually exhausted)روایت کے طور پر پیش کرتا ہے۔یہی سافٹ پاور ہے یعنی لاعلمی کو معقولیت کے لباس میں پیش کرنا۔

معروف کینیڈین فلسفی Charles Taylor نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب A Secular Age میں ایک شان دار بات لکھی ہے کہ جدید الحاد کی طاقت دلیل میں نہیں بلکہ سماجی تصوراتی فضا (social imaginary) میں ہے۔لکھتے ہیں:

Secularity today is not about arguments against God, but about conditions of belief. [Taylor, A Secular Age (200)]

(یعنی، لادینیت خدا کے خلاف دلائل پیش نہیں کرتی بلکہ ایمان کی حالتوں کو موضوع بناتی ہے۔)

ڈینیٹ کے حوالے سے یہ انتہائی لطیف تنقید ہے۔کیوں کہ اصل میں ڈینیٹ انھی “conditions of belief“ کوموضوع بناتے ہیں۔

وہ ایک ایسی فضا پیدا کرتے ہیں یا پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں مذہب ممکن تو ہے لیکن وہ علمی بھونڈے پن (intellectually exhausted)کا شکار ہے۔ یہ سافٹ پاور کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔

اسی طرح میکلائنٹائر (Alasdair Maclyntyre) اخلاقیات کے بڑے ماہر کے طور پر ڈینیل ڈینیٹ کے تصورِ اخلاق پر جو فوق الطبیاتی اور الہیاتی اصولوں کے بغیر قائم ہو، شدید تنقید کرتے ہیں۔

Modern moral discourse is a collection of fragments torn from their original contexts.[MacIntyre, After Virtue (1981)]

(یعنی، جدید اخلاقی ڈسکورس محض اصل سیاقات سے الگ کردہ ریزہ خیالی ہے۔)

چناں چہ ڈینیٹ کے اخلاقی تصور کو پڑھتے ہوئے ہم یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ڈینیٹ کا اخلاقی تصور بھی اسی ریزہ خیالی (fragmentation) کا شکار ہے۔ خدا نہیں، روح نہیں، ارادے اور اختیار کی آزادی نہیں، آخرت نہیں، گناہ و ثواب نہیں، جواب دہی نہیں، مگر پھر بھی اخلاقی ذمہ داری کا دعویٰ۔اخلاقیت کا یہ دعوی اخلاقی بنیادسے عاری ہے، جسے سافٹ پاور کے ذریعے قابلِ قبول بنایا جا رہا ہے۔چناں چہ ڈینیل ڈینیٹ مذہب کو نہیں جھٹلاتے، بلکہ اسے زندگی کے مرکزی سوالات سے ہٹا کر دکھاتے ہیں۔

مقصدِ حیات کے سوالات، زندگی بعد الموت کے سوالات،اخلاقیات کے سوالات، اخلاقیات کے منبع کے سوالات اور اخلاقیات کے اصولوں کو کہاں سے اخذ کیا جائے گا؟ اس طرح کےتمام گہرے سوالات سافٹ پاور کے ذریعے بیک گراؤنڈ نوائز بن جاتے ہیں۔ لیکن جلد یا بدیر یہ سافٹ پاور خود بیک گراؤنڈ ہو جائے گا، کیوں کہ اللہ نے کہا ہے حق اور باطل کو صاف صاف چھانٹ کر الگ کر دیا گیا ہے اور لوگوں کو اختیار کی آزادی اور اس کے لیے درکار قوت دونوں فراہم کر دی گئی ہیں۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

ڈینیل ڈینیٹ: جدید الحاد کا فلسفیانہ چہرہ

حالیہ شمارے

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223