دعوت الی اللہ اور مذہبی خود اختیاری

(ہندوستانی سماج کے تناظر میں) - 2

صلاح الدین شبیر

اشاعت اسلام کے تقاضے

اگر کوئی شخص دعوت کو ایک دینی ذمہ داری سمجھ کر برتنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے تو اس کے کم سے کم تقاضوں کا شعور اور ان کی پابندی بھی لازم ہے۔ وہ تقاضے کیا ہیں اور انھیں پورا کیے بغیر دعوتی عمل میں حصہ لینا کن مضمرات کا حامل ہے اس پر بحث و گفتگو کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ دعوتی عمل کا اپروچ کیا ہونا چاہیے؟ دعوت دین کا عمل نہ تو کاروباری مارکیٹنگ ہے، نہ سیاسی پروپیگنڈہ ہے اور نہ ہی جبری ذہن سازی ہے۔ دعوت دین کا مقصد انسان کو اپنے آزادئ ارادہ کی بنا پر عقل و شعور سے فیصلہ لینے کی طرف مائل کرنا ہے اور خدا پرستی کے فطری داعیہ کو صحیح رخ پر ڈالنے کی کوشش کرنا ہے۔ فریب، لالچ، مادی ترغیب، جذباتیت، خوف یا جبر کے عناصر اگر رجحان سازی کے عمل میں کارفرما ہوں تو اسے کسی بھی طرح دعوت دین کا عمل نہیں کہا جا سکتا۔ ایسا دعوتی عمل خود نفس دعوت کی غیر معقولیت کا اعلان ہے۔ اس کا سیدھا مطلب تو یہ ہے کہ اس دعوت میں دعوت دینے والے کے ذاتی مفادات، قوم پرستانہ محرکات یا نفسانی اغراض پوشیدہ ہیں۔ اپنے ذاتی یا گروہی محرکات کے تحت دوسروں کو تبدیلئ مذہب پر آمادہ کرنے کی کوشش یا مادی لالچ اور جبر و اکراہ کے ذریعے مذہبی رجحان سازی کا عمل کسی بھی طرح دعوت دین کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جب دین کے حوالے سے زیر بحث موضوع “اسلام کیا ہے؟” ہو تو گفتگو و مکالمہ کا دائرہ افہام و تفہیم تک محدود رہتا ہے۔ اس گفتگو میں لوگوں کو اسلام کے بارے میں صحیح جانکاری دی جا سکتی ہے، ان کے سوالوں کا جواب دیا سکتا ہے اور ان کی غلط فہمیاں دور کی جا سکتی ہیں۔ ایسے سوالوں کا جواب مسلمانوں کے قول سے بھی مل سکتا ہے اور ان کے عمل میں بھی جھلک سکتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اسلام کی پیغام رسانی کا کام مسلمانوں کی روایت کا حصہ رہا ہے۔ علاقائی اور زمانی صورت حال میں تفاوت کے باوجود غیر مسلم اقوام کے عقائد و مذہب پر مسلم سماج کے اثرانداز ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔ یوں تو اسلام کی طرح بدھ دھرم اور عیسائیت بھی غیر نسلی اور غیر قومی مذاہب میں شمار ہوتے ہیں۔ لیکن بدھ دھرم کی اشاعت میں دھرم پرچارکوں اور عیسائی مذہب کی توسیع میں مشنری سرگرمیوں اور ریاستی جبر کا رول نمایاں نظر آتا ہے، اسلام کی اشاعت میں مبلغانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سماجی و تجارتی روابط میں اعلی کردار، مسلمانوں کے مذہبی اعمال کی سادگی اور مسلم تہذیب و ثقافت کی کشش کا عمل دخل بہت زیادہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔

تاریخی طور پر معلوم و معروف ہے کہ جہاں جہاں مسلمان پہنچے دیگر اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے معمول کے سماجی تعامل کے دوران دین کے بارے میں گفتگو، اخلاق اور انسانیت نوازی کے رویہ اور قرآن و سیرت کے بیان و واقعات پر مشتمل محفل و مجالس کی روایت نے اسلام کی پیغام رسانی میں اہم کردار ادا کیا۔ مسلم سماج اور اس کے افراد دین و اخلاق و معاملات میں جتنا بہتر اور جانکار ہوتے اسی قدر اسلام کی قولی اور عملی پیغام رسانی کا ذریعہ بنتے۔ پیغام رسانی اور اثر اندازی کا یہ عمل بہت سہج طریقے سے جاری رہا۔ اسی کے ساتھ ہر علاقے میں ایسے افراد بھی اٹھتے رہے جنھوں نے باضابطہ مبلغانہ سرگرمیاں انجام دیں۔ صوفیائے کرام کی تاریخ سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ان کی سیرت و کردار، وعظ و نصیحت اور بلاتفریق حسن سلوک نے لوگوں کے دلوں میں اسلام کے لیے رغبت پیدا کی۔

مسلم سماج کی دعوتی روایت کے تناظر میں دیکھا جائے تو مسلم سماج کی دینی تعلیم، اخلاقی اصلاح اور اجتماعی رویے کا رشتہ دین حق کی قولی و عملی گواہی سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن ایک مذہبی قوم کے افراد کا دوسری مذہبی قوم کے افراد کے درمیان اپنے مذہب کی اس طرح قولی تبلیغ و اشاعت جس سے راست قبولیت اسلام کا تاثر پیدا ہوتا ہو چند مضمرات کا حامل ہے۔ پہلا مسئلہ تو خود دعوت دینے والے افراد اور سماج کی دینی اخلاقی حالت کی درستی کا ہے۔ دوسرا مسئلہ مختلف مذہبی سماجی گروہوں کی تبدیلئ مذہب سے متعلق حساسیت کا ہے۔ تیسرا مسئلہ سماجی سطح پر موجود فرقہ وارانہ ماحول کا ہے۔ توفیق الہی کا معاملہ جدا ہے کہ کس شخص کا دل کن عوامل کی بنا پر قبولیت حق کے لیے کھل جائے لیکن راست قولی تبلیغ و اشاعت کے اثرات و نتائج عمومی طور پر ان سب مسائل سے جڑے ہوئے ہیں۔

جیسا کہ اوپر وضاحت کی گئی ہے کہ رسول خدا کا معاملہ راست دعوت حق کے سلسلے میں بالکل منفرد ہوتا ہے — ہم قومیت، ذاتی کردار، انتخاب خداوندی، دعوائے رسالت اور دیگر کئی اعتبار سے۔ لیکن مسلم قوم کے دوسری مذہبی قوموں کے ساتھ دعوتی رشتے کی نوعیت جداگانہ ہے۔ اس صورت حال میں راست قولی دعوت و تبلیغ جن سوالوں کو فطری طور پر جنم دیتی ہے (خواہ اس کا برملا اظہار ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو) انھیں نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ منطقی طور پر جو سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: “تم ہماری خیر خواہی کا دم بھرتے ہوئے اللہ کی بندگی قبول کرنے کی دعوت دے رہے ہو، پھر تمھاری زندگی میں خدا کی بندگی کیوں نظر نہیں آتی؟”، “کیا تم اپنے لیے خیر خواہ نہیں ہو، کیا تمھیں آخرت میں کام یابی نہیں چاہیے؟” تم اگر اسلام کو مسائل حیات کا حل سمجھتے ہو تو اس دین سے وابستگی کے باوجود تم انھی مسائل میں کیوں گھرے ہوئے ہو جن سے ہمیں نکالنے کا دعوی کرتے ہو۔ تمھاری اخلاقی، خاندانی اور سماجی زندگی کیوں اتنے سارے مسائل سے دوچار ہے۔ “کیا تمھیں اپنے مسائل حل کرنے میں دل چسپی نہیں؟”

ان سوالات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دعوت دین کے فطری تقاضوں کا جائزہ لے سکیں اور جو تقاضے سامنے آئیں ان کی اہمیت ہم پر واضح ہو سکے۔ جو لوگ انفرادی اور اجتماعی تبدیلی کے جذبے کے ساتھ اس کام کے لیے اٹھیں وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں ان تقاضوں کی اہمیت کو محسوس کر سکیں اور دعوتی عمل میں شریک ہوتے ہوئے ان تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر خود اپنا جائزہ لیں کہ وہ جس بات کی طرف لوگوں کو بلانے جا رہے ہیں وہ خود ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پائی جاتی ہے یا نہیں۔ دین حق کے معاملے میں اخلاص و یقین کا اظہار مبلغین کی زندگی میں نہ ہو تو خود اس دعوتی سرگرمی کی معقولیت مشتبہ ہو جاتی ہے۔ اکّا دکّا لوگوں کا سینہ حق کے لیے کھل جانا ان سوالوں کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا۔ نظریاتی اور سیاسی بیان بازی میں تو جذباتی نعروں اور بلند بانگ دعووں سے کام چل جاتا ہے لیکن جہاں معاملہ دماغ، قلب اور روح پر دستک دینے کا ہو وہاں حسن الفاظ کے علاوہ حسن کردار کا بڑا اثر ہوتا ہے۔

ہندوستانی مسلمان اور دعوت دین

ہندوستان میں مسلمان حکم رانوں کی تاریخ، فرقہ وارانہ سیاسی کشمکش اور تقسیم ہند جیسے عوامل کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ہندتواکے علمبرداروں نے نہ صرف مسلم منافرت کی فضا پیدا کی ہے بلکہ اسلام کے خلاف بھی غلط فہمی، بدگمانی اور دشمنی کا ماحول تیار کرنے میں اچھی خاصی کام یابی حاصل کی ہے۔ اس کام میں اندرون ملک سیکولرزم کا علم بردار طبقہ اور عالمی سطح پر اسلام دشمن یا مذہب بے زار دانش ور طبقہ مددگار ثابت ہوا ہے۔ اسلام کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے میں خود متشدد مسلم فکر کا بھی ایک رول نظر آتا ہے۔ دوسری طرف عام مسلم سماج اپنے قول و عمل سے ایسی شہادت پیش کرنے سے قاصر نظر آتا ہے جس سے اسلام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا ازالہ ہو سکے۔ مسلمانوں کی اس عمومی صورت حال کے پیش نظر ایسی انفرادی یا اجتماعی کوشش کی ضرورت تو ہے جس سے لوگ اللہ کی ہدایت سے صحیح طور پر واقف ہو سکیں اور ان کی لاعلمی اور غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے۔

اگر کوئی شخص اسلام کے بارے میں لا علمی، غلط فہمی یا بدگمانی کی وجہ سے کوئی سوال یا اعتراض کرتا ہے تو معقول انداز میں اس کا جواب ملنا چاہیے۔ فطری طریقہ تو یہی ہے کہ باہمی ربط و تعلق کے ذریعے اسلام کے بارے میں جانکاری دینے کا موقع پیدا کیا جائے۔ مناظرے اور اصرار کرکے اپنی بات منوانے اور مذاہب کے درمیان موازنے اور تفوق کا انداز اختیار کرنے کے بجائے اصل حقیقت واضح کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ معقول جواب کے باوجود ایک ہی بار میں غلط فہمی یا اعتراض دور نہ ہو۔ تو جلدی کیا ہے؟ سماجی روابط میں ایسے مواقع آتے رہیں گے جب مزید وضاحت سے اعتراض و غلط فہمی کے رفع ہونے کا امکان بڑھتا چلا جائے گا۔ رہا معاملہ قبولیت حق کا تو اس کا تعلق اس فرد سے ہے جس کی لاعلمی اور غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔

دعوت دین کی فطری صورت یہی ہے کہ سماجی ربط و تعلق کے نتیجے میں غیر رسمی طور پر حق کی قولی یا عملی گواہی لوگوں کے سامنے آتی رہے۔ لوگ عام طور پر مسلم امت کے قول و عمل سے اسلام کے بارے میں ایک رائے بناتے ہیں۔ جب ایک شخص خدا پرست نظر آتا ہے، اپنے اہل خاندان، ماں باپ اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کر رہا ہوتا ہے، وراثت میں حق تلفی نہیں کرتا، مادی فوائد کو نظر انداز کرکے امانت و دیانت پر قائم رہتا ہے، سماجی زندگی میں لوگوں کے ساتھ مکر و فریب اور نفرت و عداوت سے معاملہ نہیں کرتا، قوم پرستانہ رجحان کے بجائے انسانیت نوازی کا وطیرہ اپناتا ہے، ازیں قبیل وہ ہدایت الہی کے جس جس پہلو پر عمل کر رہا ہوتا ہے تو اس کی یہ عملی گواہی لوگوں کے سامنے حق اور راستی کی ترغیب بنتی ہے۔ اس عملی رویے کے ساتھ اگر کوئی شخص خدا پرستی اور آخرت پسندی پر گفتگو کرتا ہے، پیغمبر خدا کی زندگی کو رحمت للعالمین کی حیثیت سے پیش کرتا ہے اور اسلام کی اصل تعلیمات کو اجاگر کرتا ہے تو دعوت دین کا یہ عمل توفیق الہی سے حق کی راہ ہم وار کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اور کم از کم اتنا نتیجہ خیز تو ہو ہی سکتا ہے کہ لوگوں کی غلط فہمی دور ہو اور اصل حقیقت سے آگاہی ملے۔ سماجی ربط و تعلق کے دوران ایک انسان کا قول و فعل دوسرے انسان کو یا تو متاثر کرتا ہے، یا متنفر کرتا ہے۔ سماجی زندگی میں جاری اس غیر علانیہ دعوتی عمل میں کسی دعوے، دلیل یا ارادے کا دخل نہیں ہوتا بلکہ قول و فعل کی اپنی قوت اثر کام کرتی رہتی ہے۔ ہر انسان اپنے قول و عمل سے فطری طور پر دوسرے کو متاثر کرتا ہے اور اس طرح ایک دوسرے کی سوچ اور رویے میں تبدیلی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ یہ سارا عمل فطری اور غیر جبری دعوتی عمل ہے۔ظاہر ہے ان کوششوں کے رخ کا تعین اور فروغ کا امکان بڑی حد تک حالات و مواقع پر منحصر ہے۔ جہاں تک حالات و مواقع کا تعلق ہے تو ہندوستان کے پس منظر میں درج  ذیل زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے:

دور جدید کے بیانیے میں فرد کی آزادی کو بلاشبہ ایک بنیادی اصول کے طور پر قبول عام حاصل ہوا ہے۔ فرد کی آزادی میں مذہبی آزادی بھی شامل ہے۔ ہندوستان کے دستور میں بھی اسے نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔ ہندوستان کے ہر شہری کو بحیثیت فرد یکساں طور پر مذہب اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ و اشاعت کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ لیکن اس آزادی کو امن عامہ، اخلاق عامہ، صحت عامہ اور دیگر مفادات عامہ سے مشروط کیا گیا ہے۔  لہذا اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ کسی نہ کسی بہانے سےایسی قانون سازی کی جا سکے جو اس آزادی پر قدغن لگانے والی ہو۔

ہندوستان میں دستوری لحاظ سے  ہر فرد کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی آزادی تو حاصل ہے لیکن دوسرے کا مذہب بدلوانے کی کوشش اس آزادی میں شامل نہیں ہے۔ بلا شبہ دستوری طور پر ہر فرد کو آزادی ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے اختیار کرے اور اس پر عمل کرے لیکن مذہب کی یہ تبدیلی بالکل آزادانہ اور اس کی ذاتی پسند کی بنا پر ہو نہ کہ کسی لالچ یا خوف کی وجہ سے۔

تبدیلئ مذہب کا معاملہ ہندوستان میں راست قوم پرستانہ سیاست کے ساتھ بھی دو طرح سے جوڑ دیا گیا ہے: (۱) اکثریت کا دھرم پریورتن کرکے انھیں اقلیت میں بدلنے کی کوشش ہندوستانی قوم کے خلاف سازش ہے، (۲) جو لوگ ماضی میں دھرم پریورتن کر چکے ہیں ان کی گھر واپسی ہونی چاہیے۔

فرد، اجتماعیت اور مذہبی آزادی — مختلف نقطہ ہائے نظر

جدید قومی ریاست کا مذہبی آزادی کے حوالے سے کیا رویہ ہونا چاہیے اس پر مختلف نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ سیکولر ڈسکورس میں ریاست کے لیے یہ ایک غیر متعلق معاملہ ہے۔ ریاست اس بات کی ذمہ دار ہے کہ وہ فرد کو اپنی ذاتی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر چلنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق سے محروم نہ کرے۔ چناں چہ دنیا کی تمام جدید جمہوری سیکولر ریاستوں میں اصولی طور پر اس حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں میں بھی اس سے انحراف کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن عملاً مذہب پر چلنے اور اس کے اجتماعی اظہار پر بعض جمہوری اور غیر جمہوری دونوں ہی طرح کی حکومتیں اس بنیادی حق کے خلاف طرز عمل اختیار کرتی نظر آتی ہیں، مثلاً فرانس اور چین۔ ہندوستان ایک سیکولر جمہوری قومی ریاست ہے۔ اس کا دستور مذہبی آزادی کا حق تسلیم کرتا ہے جس میں اپنی پسند کے مطابق مذہب اختیار کرنے، اس پر چلنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق بھی شامل ہے۔ لیکن اس آزادی میں بطور خاص تبدیلئ مذہب کی آزادی کے حق میں ایسی شرائط داخل ہیں جو تبدیلئ مذہب مخالف قانون سازی کے لیے جواز فراہم کرتی ہیں۔ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کے مباحث اور تبدیلئ مذہب مخالف قوانین میں مذہب کی تبدیلی کی مخالفت میں جو باتیں پیش کی جاتی رہی ہیں ان میں دو باتوں پر زور دیا گیا ہے:

ایک یہ کہ ہندو دھرم پیدائشی طور پر نسلًا بعد نسل منتقل ہونے والا دھرم ہے اور اس کے اندر سے ابھرنے والے مذہبی گروہ بودھ، جین، سکھ اور دیگر بے شمار مذہبی فرقے بھی بنیادی اختلافات کے باوجود مذہبی لحاظ سے ہندو قوم کا حصہ ہیں۔ اس لیے ہندو دھرم سے کسی دوسرے بیرونی مذہب خصوصًا اسلام یا عیسائیت میں داخل ہونا ہندو قومیت کا رد (denationalisation)ہے۔

دوسری بات کا تعلق اس مفروضے سے ہے کہ اس دھرم پریورتن کا اثر اس ملک میں آبادی کے تناسب میں اتنی بڑی تبدیلی کا باعث ہوگا جس سے ملک کی مزید تقسیم کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ نظریاتی طور پر لبرل سیکولرزم میں مذہب کی تبلیغ اور مذہبی تبدیلی یا کلیتًا ترک مذہب کو فرد کی خود اختیاری (Freewill) کے طور پر لیا جاتا ہے۔ خود اختیاری ہر فرد کا پیدائشی اور بنیادی حق ہے جس میں سماج یا ریاست کی دخل اندازی ناقابل قبول ہے۔ تاہم بعض سیکولر یوروپی ممالک میں بھی مذہبی تبدیلی بطور خاص اسلام قبول کرنے والوں اور مسلم مہاجرین کی آمد کو مغربی کلچر کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو تقریباً تمام ہی معاشروں میں مذہبی تبدیلی کے عمل میں سماج یا ریاست کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔

اصولی اور فطری طور پر ہر انسان آزادئ ارادہ (Freewill) کا حامل ہے۔ اگر کسی شخص کے فیصلے کا تعلق اس کی نجی زندگی سے ہے اور اس کا منفی اثر دوسرے شخص کی زندگی پر نہیں پڑ رہا ہے تو اس پر جبری تحدید انسانی آزادی کے خلاف ہے۔ اگر اجتماعیت کسی فرد کی روش کو سماج کی معروف قدروں کے خلاف سمجھتی ہے تو تعلیم و تلقین تو کی جا سکتی ہے لیکن جبراً اسے اپنی نجی زندگی کا فیصلہ خود کرنے سے روکنا کسی طرح معقول نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

مذہب سے وابستہ سماج میں تبدیلئ مذہب (Religious Conversion)اور فرد کی خود اختیاری (Freewill)کا معاملہ ایک ایسے مخمصے (dilemma)کو جنم دیتا ہے جسے سلجھانے کے لیے فرد اور اجتماعیت کے اختیارات کے درمیان تطبیق (conformity)کے بنیادی اصول دریافت کرنا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں قرآن کے مطالعہ سے جو بنیادی اصول نمایاں ہوتے ہیں انھیں کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے: (۱) ہر شخص کو اللہ تعالی نے ارادے کی آزادی بخشی ہے؛ (۲) عقیدہ و مذہب کے انتخاب میں ہر فرد اس دنیا میں آزاد ہے اور آخرت میں جواب دہ ہے؛ (۳) لہذا! اجتماعیت کو عقیدہ و مذہب کے معاملہ میں کسی بھی فرد پر جبر و اکراہ کا حق نہیں ہے؛ (۴) کسی بھی شخص کو دوسرے کو ضرر پہنچانے اور اجتماعی زندگی میں فساد پھیلانے کا حق نہیں ہے؛ (۵) لہذا! اجتماعیت کو حق ہے کہ وہ کسی بھی فرد کی ایسی روش پر قدغن لگائے اور اس کا مواخذہ کرے جس سے دوسرے کو ضرر پہنچتا ہے یا سماج میں شر و فساد پیدا ہوتا ہے۔ قرآن سے اخذ کردہ ان اصولوں کی تہہ میں دو بنیادی حقائق پنہاں ہے: اوّل یہ کہ ہر شخص انفرادی طور پر اپنی سوچ اور عمل کے لیے آخرت میں جواب دہ ہے؛ دوم یہ کہ زمین پر انسان کی اجتماعی بود و باش کے لیے باہمی تعاون اور امن و امان ناگزیر ہے۔

کسی مذہب کو اختیار کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے میں از خود یہ بات شامل ہے کہ فرد ایک مذہب کو دیگر مذاہب پر ترجیح دینے کا اختیار رکھتا ہے۔ فرد کو آزادی ہے کہ وہ اپنے عقل و شعور اور ذاتی رائے کی بنیاد پر ایک کو قبول اور دوسرے کو رد کرے۔ عام طور پر یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان انفرادی ترجیح لازمًا دوسرے مذہب کی توہین ہے۔ حالاں کہ کسی مذہب کو قبول نہ کرنا اس کی توہین کے مترادف قطعًا نہیں ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ فرد کی خود اختیاری اور اس بنا پر قبولیت یا تردید کا معاملہ علمی دنیا میں کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں کرتا۔ علمی دنیا میں جو اصول متفق علیہ ہے وہ یہی ہے کہ دلیل کی بنیاد پر ہر فرد کو اختیار ہے کہ وہ کسی دعوےکو قبول کرے یا رد کردے۔ دلیل مضبوط ہے یا کم زور اس پر بحث ہوتی رہے گی لیکن ترجیح و تردید کا حق آپ سے آپ فرد کی خود اختیاری میں شامل ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ دو متضاد دعووں کو رواداری کے نام پر یکساں سمجھنے کی شرط زندگی کے دوسرے دائروں میں ناقابل قبول تسلیم کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس مخمصے کی وجہ کیا ہے؟

مذہبی اور نظریاتی تبدیلی میں فرق

اس موضوع پر غور کرتے ہوئے مناسب ہوگا کہ ہم مذہب کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ رکھ کر جائزہ لینے کی کوشش کریں کہ اس کا کون سا پہلو فرد کی مذہبی پہچان سے متعلق ہے جو اسے کسی مخصوص مذہبی گروہ کا حصہ بناتا ہے۔ اور کون سا پہلو دنیوی امور و معاملات سے متعلق ہے اور اس سے مذہبی شناخت قائم نہیں ہوتی۔ بظاہر یہ تقسیم دین و دنیا کی تقسیم سے مشابہ دکھائی دیتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ فرق سامنے رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ متعین کیا جا سکے کہ کس پہلو کا تعلق تبدیلئ مذہب سے ہے اور کون سے پہلو مذہبی تعلیم کا حصہ ہونے کے باوجود تبدیلئ مذہب سے متعلق نہیں ہیں۔

مذہب کا ایک پہلو اس کے عقائد، عبادات، خاندانی رسوم اور سماجی روایات پر مشتمل ہے۔ یہ پہلو ایک مذہبی گروہ کو دوسرے مذہبی گروہ سے ممتاز کرتا ہے خواہ وہ گروہ عملاً ان کی پیروی کرنے میں کوتاہ ہو۔ تبدیلئ مذہب کا مطلب دراصل اسی پہلو سے تبدیلی ہے جو کسی شخص کو نئی مذہبی پہچان دیتی ہے۔ یہ تبدیلی ایک شخص کو اپنے خاندانی اور سماجی رشتوں سے کاٹ کر دوسرے مذہبی سماج کا حصہ بنا دیتی ہے۔ سماجیاتی نقطۂ نظر سے اس تبدیلی سے خاندان اور سماج متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے خاندان اور سماج اس تبدیلی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ریاستی قوت کسی خاص مذہب کی طرف جھکاؤ رکھتی ہو تو قانونی اور سیاسی رکاوٹ کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس تناظر میں فرد کی خود اختیاری کے مقابلے میں سماجی استقرار کو ترجیحی حیثیت دی جاتی ہے۔

مذہب کا دوسرا پہلو اس کی اخلاقی اور سماجی قدریں بھی ہیں جو کم و بیش ہر انسانی گروہ میں، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے متعلق ہو، معروف و مشترک ہیں۔ یہ اشتراک کسی گروہ کو علیحدہ مذہبی پہچان تو نہیں دیتا لیکن انھیں برتنے یا نہ برتنے کی بنیاد پر کسی گروہ کے بارے میں سماجی سطح پر اچھے یا برے ہونے کا عمومی تاثر ضرور پیدا کرتا ہے۔

تیسرا پہلو اجتماعی اداروں کی تشکیل سے متعلق نظریات، اصول اور قوانین کا ہے،جو انسان کی معاشی، سیاسی اور دیگر اجتماعی سرگرمیوں کا رخ متعین کرتے ہیں۔ اسلامی نظریات، اصول اور قوانین کو دیگر نظریات، اصول اور قوانین کے بالمقابل فکری اور عملی طور پر زیر غور لانے میں کسی مذہبی تبدیلی کا سوال نہیں اٹھتا۔ اس بحث و گفتگو میں ان کی معقولیت، موزونیت اور افادیت جانچی جاتی ہے۔ اگر اس معیار پر وہ اپنی قدر و قیمت منوا لیں تو اجتماعی زندگی میں ان پر عمل آوری کو تبدیلئ مذہب کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا ہے۔ نظریات، اصول اور قوانین مذہب سے نسبت رکھنے کے باوجود بلاتفریق مذہب و ملت سیاسی، معاشی اور دیگر اجتماعی طور طریقوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کیوں کہ اس کی وجہ سے کسی گروہ کو اپنی مذہبی پہچان نہیں بدلنی پڑتی۔ اصولی طور پر اسلام بحیثیت دین ان سب پہلوؤں پر مشتمل ہے لیکن ان میں سے پہلا پہلو ہی دراصل مذہبی تبدیلی کی بنیاد بنتا ہے۔

ہندوستان میں نظریاتی بنیادوں پر سماجی تبدیلی کے عمل میں کئی طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں اور ان سرگرمیوں کو ملک کے جمہوری فریم ورک میں انجام دینے کی آزادی بھی حاصل ہے۔ بہت سی تحریکیں اور پارٹیاں سیاسی، معاشی یا سماجی سطح پر تبدیلیوں کے لیے اپنے اپنے نظریات کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ اصول و نظریہ سیکولر بھی ہو سکتا ہے اور مذہبی تعلیمات سے اخذ کردہ بھی ہو سکتا ہے۔  لیکن اس کی پہچان اصلًا اجتماعی نظام کی تعمیر و تشکیل کے پروگرام کے حوالے سے ہوتی ہے۔ اس پہلو سے دیکھیں تو اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق عقائد و عبادات سے ہے جسے مذہب کا لازمی جز گردانا جاتا ہے۔ دوسرا حصہ وہ ہے جسے ہم اصول و قانون  کہتے ہیں  جس کی بنیاد پر سیاسی، معاشی اور اجتماعی تبدیلیوں کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ جہاں تک اسلام کے اصول و قوانین کی روشنی میں  اصلاح و تعمیر کی  کوششوں کا تعلق ہے تو اس پر تبدیلئ مذہب کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس پر گفتگو اور اس کی قبولیت کا انحصار اجتماعی نظام کے لیے اس کی موزونیت، معقولیت اور افادیت پر ہے۔ مزید برآں اس کی ترویج اور نفاذ کا انحصار رائے عامہ کی قبولیت پر ہے۔

اگر بات صرف اسلامی اصول و نظریات کی بنیاد پر متبادل نظام سیاست و معیشت اور معاشرتی و قانونی اصلاحات کی ہوتی تو معاملہ دوسرا ہوتا۔ اس معاملہ میں اس کی موزونیت، معقولیت اور عملیت زیر بحث ہوتی نہ کہ مسلم اور غیر مسلم ڈیموگرافی کے حوالے سے اسے موضوع بحث بنایا جاتا۔  لیکن جب برادران وطن کے درمیان عقائد کی تبلیغ واشاعت کا معاملہ زیربحث ہو تو فطری طور پر اس میں اصلًا مذہبی  پہلو شامل ہوتا ہے۔ اس طرح بحث و مباحثہ کا رخ تبدیلئ مذہب کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اس لیے عقیدہ ومذہب کی راست تبلیغ و اشاعت اور اصول و قانون کی بنیاد پر اصلاحی و تعمیری پروگرام کی پیش کش کے درمیان اس واضح فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

تبدیلئ مذہب پر اسلامی موقف

تبدیلئ مذہب کے بارے میں ہمارا اصولی موقف کیا ہو؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ تو واضح ہے کہ اسلام لالچ، خوف یا جبر کے ذریعے تبدیلئ مذہب کا قائل نہیں ہے۔ یہ بھی واضح ہے کہ اللہ تعالی نے ہر شخص کو آزادی دی ہے کہ وہ اپنے لیے جو راہ پسند کرنا چاہے کر سکتا ہے(إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا)۔ یہ بھی معقول بات ہے کہ ہر شخص کو یہ آزادی حاصل رہنی چاہیے کہ وہ جس عقیدہ و مذہب کو پسند کرتا ہو اپنی آزاد مرضی سے اختیار کر سکے۔ ان تین اصولی باتوں کے پیش نظر ہمارا موقف یہی ہوگا کہ انسان کی آزادی کو قدغن لگانے والا تبدیلئ مذہب کا مشن اسلام کا مشن نہیں ہے۔ البتہ کوئی شخص جس بات کو حق سمجھتا ہے اسے پیش کرنا اس کا اخلاقی فرض ہے اور اس فرض کو ادا کرنے کی آزادی برقرار رہنی چاہیے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں ہر مذہبی گروہ کو اس آزادی کا حاصل رہنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ لوگ اپنے نظریے، عقیدے اور مذہب کے بارے میں آزادانہ اظہار خیال کر سکیں اور مختلف گروہوں کے درمیان موجود لاعلمی یا غلط فہمی کا ازالہ ہو سکے۔

دعوت دین کے حوالے سے بیانیہ کی تشکیل کے سلسلے میں اس بات کا تعین ضروری ہے کہ دعوتی اپروچ کیا ہو۔ اس سلسلے میں مذہبی تبلیغ و اشاعت کے دو طریقوں کا ایک سرسری جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے:

وحدت ادیان کا اپروچ

بعض لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ اسلامی عقائد کو قابل قبول بنانے کے لیے دیگر مذہبی کتابوں کے حوالے سے بات پیش کی جائے اور اسلامی عقائد کو ان کے ذریعے قابل قبول بنایا جائے۔ قرآن مجید میں دیگر آسمانی کتابوں کے تذکرے سے اس اپروچ کو اخذ کرنے کی معقولیت پر بحث و گفتگو سے قطع نظر، میرے نزدیک اس کا کم زور پہلو یہ ہے کہ یہ راستہ عقیدے کی یکسانیت نمایاں کرتے کرتے منطقی طور پر وحدت ادیان کی طرف لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ دوسری کم زوری یہ ہے کہ جس طرح غیر سائنسداں سائنسی اصولوں کو اس کے حقیقی مصداق و مضمرات کی سمجھ کے بغیر مذہب کی ماورائے عقل سچائیوں پر منطبق کرنے کی خام سی کوشش کرتے ہیں اسی طرح دیگر مذہبی کتابوں میں درج مماثل عقائد کو ان کے حقیقی مصداق و مضمرات کی سمجھ کے بغیر اسلامی عقائد پر منطبق کرنے سے ابہام اور بعض اوقات مغالطہ کا امکان ہے۔ اس کا تیسرا کم زور پہلو یہ ہے کہ جن دیگر مذہبی کتابوں کے حوالے سے اسلامی عقائد کو برحق ثابت کرنے کی مشقت اٹھائی جاتی ہے ان کتابوں کے بارے میں عام طور پر  نہ تو مخاطبین جانکاری رکھتے ہیں اور نہ ہی اس پر ایسا یقین رکھتے ہیں کہ اس کی وجہ سے اسلامی عقائد کو برحق مان لیں۔

مشنری اپروچ

مشنری اپروچ بنیادی طور پر مادی فوائد کے ذریعے پسماندہ آبادی کو مذہبی طور پر مسیحی اور تہذیبی طور پر مغربی بنانے کا عمل ہے۔ مغرب کی نو آبادیاتی یلغار کے جلو میں مشنری پروجیکٹ کے تحت تبدیلئ مذہب کو بطور مقصد پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے پیمانے پر کوششیں کی گئیں۔ جب مقصد تبدیلئ مذہب قرار پایا تو اسے حاصل کرنے کے لیے خدمت، مادی فوائد اور پروپیگنڈے کے ادارے بھی قائم کیے گئے۔ کرسچن مشنری سرگرمیوں، ان کے مقاصد اور نوآبادیاتی مغربی طاقتوں کے باہمی تعلق پر کئی تحقیقی کتابوں میں اس پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ڈی ایل رابرٹ کی کتاب کرسچن مشن میں ان کوششوں کے مختلف پہلوؤں کے جائزہ و مطالعہ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے۔ چناں چہ ایک مطالعہ میں D L Robert نے تفصیل سے مغربی نوآبادیاتی دور میں عیسائی مشنری کردار کو زیر بحث لاتے ہوئے بتایا ہے کہ انھوں نے خود تو شائد کھلے عام بندوق یا طاقت کے زور پر عیسائیت کی ترویج و اشاعت کی کوشش نہیں کی لیکن مقامی آبادی کو اپنے مذہب و ثقافت سے دور کرنے اور دباؤ سے تبدیلئ مذہب پر آمادہ کرنے کے لیے مطلوبہ کمک انھیں مغربی معیشت و سیاست کے ذریعے ملتی رہی۔ (حوالہ: Christian Mission, p.93)۔ اس اپروچ کی کم زوری یہ ہے کہ مذہبی عقائد کی قبولیت لالچ یا خوف سے آلودہ ہو کر  قلب کو کبھی بھی پاکیزگی کی طرف مائل نہیں ہونے دیتی۔ یہ اپروچ واضح طور پر اسلام کے دعوتی اصولوں کے خلاف ہے۔ اسلام کے دعوتی عمل میں قبولیت کا تعلق قبول کرنے والے کے دل کی آمادگی اور قلبی کیفیات کی تبدیلی سے ہے۔  جب کہ نو آبادیاتی دور میں عیسائی مشنری کا اپروچ اصلاً مغربی طاقتوں کے مہذب سازی کے پروجیکٹ (Civilisational Project for Uncivilised People) کا حصہ رہا ہے۔

شہادت حق اپروچ

اسلامی دعوت کا مزاج اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خود کو  پیغام رسانی کی ذمہ داری تک محدود رکھا جائے تاکہ جس  پیغام الہی پر ہم یقین رکھتے ہیں اور جو سارے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے وہ دوسروں تک پہنچ سکے۔ اس  پیغام کو قبول کرنا نہ کرنا لوگوں کا اپنا آزادانہ فیصلہ ہے۔ جب وقت کے رسول اپنی مثالی جد و جہد، جذبۂ خیر خواہی اور مخلصانہ کوششوں کے باوجود نہ تبدیلئ مذہب کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ ہی ان سے اس کا تقاضا کیا گیا ہے تو ہماری کیا حیثیت ہے کہ تبدیلئ مذہب کو اپنی ذمہ داری بنائیں۔ تبدیلئ مذہب تو دوسرے فرد کی قلبی کیفیت، ارادہ اور توفیق الہی پر منحصر ہے۔

مولانا مودودی علیہ الرحمة نے اس اپروچ پر روشنی ڈالتے ہوئے قولی اور عملی شہادت کی اہمیت بیان کی ہے۔ انھوں نے جو بنیادی نکتہ پیش کیا ہے وہ قابل غور ہے:

” قولی شہادت کی صورت یہ ہے کہ ہم زبان اور قلم سے دُنیا پر اُس حق کو واضح کریں جو انبیا کے ذریعے ہمیں پہنچا ہے۔ سمجھانے اور دل نشیں کرنے کے جتنے طریقے ممکن ہیں، اُن سب سے کام لے کر، تبلیغ و دعوت اور نشر و اشاعت کے جتنے ذرائع ممکن ہیں اُن سب کو استعمال کرکے، علوم و فنون نے جس قدر مواد فراہم کیا ہے وہ سب اپنے ہاتھ میں لے کر، ہم دنیا کو اُس دین کی تعلیم سے روشناس کریں جو خدا نے انسان کے لیے مقرر کیا ہے۔ فکر و اعتقاد میں، اخلاق و سیرت میں، تمدن و معاشرت میں، کسبِ معاش اور لین دین میں، قانون اور نظمِ عدالت میں، سیاست اور تدبیرِ مملکت میں اور بین الانسانی معاملات کے تمام دُوسرے پہلوؤں میں، اُس دین نے انسان کی رہ نمائی کے لیے جو کچھ پیش کیا ہے، اُسے ہم خوب کھول کھول کر بیان کریں۔ دلائل اور شواہد سے اُس کا حق ہونا ثابت کر دیں، اور جو کچھ اُس کے خلاف ہے، اُس پر معقول تنقید کرکے بتائیں کہ اُس میں کیا خرابی ہے۔

اِس قولی شہادت کا حق ادا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اُمّت مجموعی طور پر، ہدایتِ خلق کے لیے اُسی طرح فکرمند نہ ہو، جس طرح انبیاعلیہم السلام، انفرادی طور پر اُس کے لیے فکر مند رہا کرتے تھے۔ یہ حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ کام ہماری تمام اجتماعی کوششوں اور قومی سعی و جہد کا مرکزی نقطہ ہو۔ ہم اپنے دل و دماغ کی ساری قوتیں اور اپنے سارے وسائل و ذرائع اِس پر لگا دیں۔ ہمارے تمام کاموں میں یہ مقصد لازماً ملحوظ رہے، اور اپنے درمیان سے، کسی ایسی آواز کے اٹھنے کو تو کسی حال میں ہم برداشت ہی نہ کریں جو حق کے خلاف شہادت دینے والی ہو۔”

“رہی عملی شہادت، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی زندگی میں اُن اصولوں کا عملاً مظاہرہ کریں جنھیں ہم حق کہتے ہیں۔ دنیا صرف ہماری زبان ہی سے اُن کی صداقت کا ذکر نہ سنے، بلکہ خود اپنی آنکھوں سے، خود ہماری زندگی میں، اُن کی خوبیوں اور برکتوں کا مشاہدہ کر لے۔ وہ ہمارے برتاؤ میں اُس شیرینی کا ذائقہ چکھ لے، جو ایمان کی حلاوت سے انسان کے اخلاق و معاملات میں پیدا ہوتی ہے۔ وہ خود دیکھ لے کہ اس دین کی رہ نمائی میں کیسے اچھے انسان بنتے ہیں، کیسی عادل سوسائٹی تیار ہوتی ہے، کیسی صالح معاشرت وجود میں آتی ہے، کس قدر ستھرا اور پاکیزہ تمدن پیدا ہوتا ہے، کیسے صحیح خطوط پر علوم و آداب اور فنون کا نشو و نما ہوتا ہے، کیسا منصفانہ، ہم دردانہ اور بے نزاع معاشی تعاون رونما ہوتا ہے، انفرادی و اجتماعی زندگی کا ہر پہلو کس طرح سدھر جاتا ہے، سنور جاتا ہے اور بھلائیوں سے مالا مال ہو جاتا ہے۔

اِس شہادت کا حق صرف اس طرح ادا ہو سکتا ہے کہ ہم فردًا فردًا بھی اور قومی حیثیت سے بھی، اپنے دین کی حقانیت پر مجسّم شہادت بن جائیں۔ ہمارے افراد کا کردار اُس کی صداقت کا ثبوت دے۔ ہمارے گھر اُس کی خوشبُو سے مہکیں۔ ہماری دُکانیں اور ہمارے کارخانے اُس کی روشنی سے جگمگائیں۔ ہمارے ادارے اور ہمارے مدرسے اُس کے نور سے منور ہوں۔ ہمارا لٹریچر اور ہماری صحافت اُس کی خوبیوں کی سند پیش کرے۔ ہماری قومی پالیسی اور اجتماعی سعی و جہد، اُس کے برحق ہونے کی روشن دلیل ہو۔ غرض، ہم سے جہاں اور جس حیثیت میں بھی، کسی شخص یا قوم کو سابقہ پیش آئے وہ ہمارے شخصی اور قومی کردار میں اس بات کا ثبوت پا لے کہ جن اُصولوں کو ہم حق کہتے ہیں وہ واقعی حق ہیں اور اُن سے فی الواقع انسانی زندگی اصلح اور اعلیٰ و ارفع ہو جاتی ہے۔”

دعوتی بیانیہ کے عناصر

دعوتی بیانیے کے حوالے سے  درج ذیل نکات قابل غور ہو سکتے ہیں:

دعوت کی نسبت

دعوت کو جتنے لاحقوں کے ساتھ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اس سے نہ صرف اس کے مختلف پہلو اجاگر ہوتے ہیں بلکہ وہ دعوت کے بیانیے کی تشکیل میں مددگار ہو سکتے ہیں۔  دعوت کی نسبت ان تصورات سے کرنا جو کسی خاص قوم کی علامت کے بجائے تمام انسانوں کے درمیان معروف و مشترک ہیں۔ یہ نسبت ایک ایسے بیانیے کا آہنگ پیدا کرتی ہے جو مذہبی قومی عصبیت کو جگائے بغیر اصل حقیقت کی ترسیل کر دیتی ہے۔  لہذا! دعوت کے موزوں و مناسب بیانیے میں دعوت کی درج ذیل قرآنی نسبتوں کو نمایاں رکھنے کی ضرورت ہے: دعوت الی اللہ، دعوت الی الخیر، دعوت الی المرحمہ، دعوت الی المغفرہ، دعوت الی السلام، دعوت الی الجنہ، وغیرہ۔ دعوت کی ان نسبتوں سے واضح ہوتا ہے کہ دعوت الی اللہ ہر انسان کی فطری طلب ہے۔ تمام انسانوں کے رب کا تعارف اور اس کی بندگی کے تقاضوں کی یاد دہانی میں کسی قومی برتری یا کمتری کا سوال نہیں اٹھتا۔

موزوں طرز کلام

دعوتی بیانیے کی تشکیل کا دوسرا لازمی عنصر موزوں طرز کلام ہے۔ لہذا! دعوتی  بیانیے کو درج ذیل منفی عناصر سے بالکلیہ پاک ہونا چاہیے: تضحیک، تمسخر، مناظرہ، تنقیص، تحقیر، تعلٰی، ادعائیت جیسے رویے دعوتی بیانیے کو رد عمل، اشتعال، کج بحثی اور ہٹ دھرمی کی طرف لے جاتے ہیں۔

فطری اور سچا اظہار بیان: دعوتی بیانیے کا تیسرا پہلو  اسلام کی ترجمانی میں فطری پن اور تصنع سے پاکی  ہے۔ پیغام رسانی کا جذبہ بھی فطری ہو اور طریقہ بھی درست ہو۔ مطلب یہ کہ ہماری واقعی سوچ، رویے اور حقیقی اخلاق و کردار کا ہی اظہار ہونا چاہیے نہ کہ وقتی مصلحت کی بنا پر ہم ایک مصنوعی شخصیت کا لبادہ اوڑھ کر  پیغام حق کی سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ حسب موقع و ضرورت صرف ہماری زبان اور تحریر ہی  پیغام رسانی نہ کرے بلکہ ہمارا رویہ، ہمارا  کردار بھی ترجمان حق ہو اور اتنا ہی ہو جتنا واقعتًا وہ ہے۔

یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ امت جس ہندوستانی سماج میں رہتی ہے اس میں اس کی حیثیت حقیت واقعہ کے اعتبار سے  “من دیگراں تو دیگری” جیسی ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے یہ رویہ  معقول قرار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود کو “من کہ چیزے دیگری” سمجھیں۔ مسلم امت کو جو چیز اپنے سماج کے ساتھ بامعنی تعلق کی بنیاد فراہم کرتی ہے وہ قرآن کی روشنی میں خیر اور اعتدال کی صفات ہیں۔ افراد امت کو بھلائی پر قائم بھی رہنا چاہیے اور دوسروں کو بھلائی کی تلقین بھی کرنی چاہیے۔ اسی طرح برائیوں سے بچنا بھی چاہیے اور دوسروں کو بچنے کی تلقین بھی کرنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی توقع کسی بھی سلیم الفطرت انسان سے کی جا سکتی ہے خواہ وہ کسی بھی گروہ کا حصہ ہو۔ اسی طرح دین حق رکھنے کا شعور مسلمانوں کو احساس شکر کے جذبہ سے معمور کرے نہ کہ ان کے اندر زعم برتری پیدا کرے۔

خلاصۂ بحث

بندگئ رب کا جذبہ انسان کا فطری جذبہ ہے اور دعوت الی اللہ اس جذبے کو جگانے کا عمل ہے جس کا اظہار کائنات کی نشانیوں سے بھی ہو رہا ہے اور رسولوں کی راست دعوت میں بھی نمایاں ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو کاروں کی اولین ذمہ داری بندگئ رب کا پیکر بننا اور اپنے قول و عمل سے اسلام کی گواہی دینا ہے۔ مسلمانوں کا قول و عمل جتنا اسلام سے قریب تر ہوگا، معمول کے سماجی روابط میں اتنا ہی اسلام کی پیغام رسانی ہوگی۔

تاریخی طور پر اشاعت اسلام کے مظاہر میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ اسلام کی ترویج میں مبلغانہ سرگرمیوں کے علاوہ معمول کے سماجی ربط و تعلق کے دوران اسلام کی قولی اور عملی گواہی کی اثر پذیری نمایاں نظر آتی ہے۔

جدید قومی ریاستوں میں فرد کی مذہبی آزادی ایک مسلمہ اصول ہے۔ تاہم اس اصول کی خلاف ورزی کے امکانات اور مثالیں ایسے ممالک میں زیادہ ہیں جہاں مذہب کے تئیں سماجی حساسیت پائی جاتی ہے۔

مذہبی طور پر حساس سماج میں تبدیلئ مذہب ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کی کئی جہات ہیں۔ ہندوستان کے تناظر میں یہ سیاسی کشمکش اور فرقہ وارانہ جذبات کو برانگیختہ کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ فکر و عقیدہ میں تبدیلی کی آزادی ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی راہ میں اگر مشکلات آتی ہیں تو اسی شخص کو اس کا سامنا کرنا چاہیے۔

دعوت الی اللہ کے حوالے سے مسلمانوں کی کردار سازی بنیادی کام ہے تاکہ وہ عمومی طور پر اپنے سماجی ربط و تعلق کے دوران اسلام کا قولی اور عملی اظہار کریں۔ مسلم سماج کے اندر اس کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ انھیں اس اعتبار سے بھی باشعور بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ سماجی روابط کے دوران اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ اور اسلام کے بنیادی عقائد و تعلیمات سے واقف کرانے کا کام انجام دے سکیں۔

اسلامی نظام زندگی کے وہ پہلو جن کا تعلق سماجی، سیاسی، معاشی، تعلیمی و دیگر شعبہ ہائے زندگی کی تعمیر سے ان پر عوامی اور علمی گفتگو کے بھی مواقع ہیں اور ملکی قوانین کے تحت ان کا عملی نمونہ پیش کرنے اور ادارہ سازی کی بھی گنجائش ہے۔ اگر ادارہ جاتی سطح پر اسلامی نظریہ، اصول اور قوانین کی افادیت بہتر طور پر سامنے لائی جائے تو زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے اطلاق کے امکانات موجود ہیں۔ اچھی کارکردگی کے ساتھ ان امکانات کو بروئے کار لانے سے اسلام کے لیے رائے عامہ ہم وار ہو سکتی ہے۔

اگست 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau