قرآن کی اثر انگیزی

ڈاکٹر محمد جسیم الدین

قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے اور وہی انسانوں کی نفسیات سے کماحقہ واقف ہے۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ انسانوں کی نفسیات پر کیسے اثر انداز ہواجاسکتاہے اور اس کی نفسیات کن چیزوں سے کیسے اثر قبول کرسکتی ہے۔ قرآن میں اس نے اسی اسلوب اور پیرایے میں گفتگو کی ہے۔ انسان اگر کسی تعصب میں گرفتار نہ ہو اور وہ قلب سلیم اور مثبت ذہنیت کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرنے پر آمادہ ہو تو اس کے اسرار ورموز اس پر کھلتے چلے جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ کتاب اس کی شخصیت پر اپنے اثرات مرتب کرتی چلی جاتی ہے اور اس کی ذات قرآن کی آئینہ دار بن جاتی ہے۔ ایک وقت وہ بھی آتا ہے جب وہ اس حقیقت کااعتراف بھی کرتا ہے کہ یہ کتاب حق ہے اور رب کائنات کی طرف سے اس کا نزول ہواہے۔ یہ کتاب انسانوں کو بھی متاثر کرتی ہے اور جنوں کو بھی۔ یہ بیک وقت عام انسانوں کے، اہل کتاب اور اہل ایمان سب کو متاثر کرتی ہے۔ اس کتاب کا اثر انسان کی جلد پر ، آنکھ پر، دل پر اور دماغ پر اور اس کے پورے وجود پر پڑتاہے۔ جسم پر جب اس کااثر پڑتاہے تو وہ کانپنے لگتاہے، رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور دل خوف خدا سے لرزنے لگتاہے۔ انسان کے وجود پرخشیت طاری ہوجاتی ہے اور اس کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسورواں ہوجاتے ہیں۔

غوروفکر :

قرآن سے کامل فیض یاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اس کے معانی ومطالب کو سمجھنے کے لیے غوروفکر کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ جو لوگ تفہیم قرآن سے بے نیاز ہوکر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ان کو اس کا ثواب تو مل سکتاہے لیکن ان کی ذات پرقرآن خوانی کاکوئی اثر مرتب نہیں ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

’’اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمھارے سامنے پیش کرتا ہے، شاید کہ ان علامتوں سے تمھیں اپنی فلاح کا سیدھا راستا نظر آجائے۔‘‘﴿آل عمران: ﴾

’’زمین اور آسمان کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ہوش مندوں کے لیے نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین وآسمانوں کی ساخت میں غوروفکر کرتے ہیں۔ وہ بے اختیاربول اٹھتے ہیں: پروردگار! یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔ پس ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔‘‘ ﴿آل عمران﴾

کتاب کی تلاوت کا حق ادا کرنا

قرآن مجید کی تلاوت کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان﴿۱﴾اسے خوب توجہ سے پڑھے﴿۲﴾ اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھے ﴿۳﴾ اس میں جو کچھ تحریرہے، اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اس کو چھپائے نہیں ﴿۴﴾ اس کی محکم باتوں پر عمل کرے اور متشابہات پر پختہ ایمان رکھے۔ ﴿۵﴾اس کے ہر حکم کا اتباع کرے۔

ارشاد ربّانی ہے:

’’جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جیساکہ پڑھنے کاحق ہے۔ وہ اس قرآن پر سچے دل سے ایمان لاتے ہیں اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘   ﴿البقرہ﴾

غیرذی روح پر اس کااثر

قرآنِ مجیدکا اثر ذی روح پر تو ہوتا ہی ہے غیر ذی روح پر بھی ہوتاہے۔ پہاڑ بھاری بھرکم، مضبوط، بلند وبالا، جامد اور غیر ذی روح مخلوق ہے۔ قرآن کااثر اس پر اس قدر سخت ہوتاہے کہ وہ اگر اس کو سمجھتا اور اس کی ذمہ داریوں سے واقف ہوتا تو کانپ اٹھتا اور پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتا :

’’اگر ہم نے اس قرآن کو پہاڑ پر بھی اُتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہاہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ ﴿اپنی حالت پر﴾ غور کریں۔‘‘ ﴿الحشر﴾

جنوں پر قرآن کا اثر

یہ وہ مخلوق ہے جو ذی روح اور بااختیار تو ہے لیکن خلافت کی ذمہ داری اسے نہیں دی گئی ہے۔ اس میںہدایت اور گمراہی میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ جب اس کے ایک گروہ نے قرآن کو سنا تو وہ بھی اس سے اثر انگیز ہونے سے خود کو نہ روک سکا۔ ارشاد الٰہی ہے:

’’اے نبی کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا پھر ﴿جاکر اپنی قوم کے لوگوں سے﴾ کہا ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتاہے۔ اس لیے ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔‘‘ ﴿الجن:﴾

ایک جگہ فرمایا:

’’اور یہ ہے کہ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا۔‘‘ ﴿الجن﴾

قرآن مجید میں ہے

’’اور کہتے ہیں کہ آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے۔‘‘ ﴿المائدہ:﴾

اللہ تعالیٰ نے مزید ارشاد فرمایا:

’’اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمھاری طرف لے آئے تھے تاکہ وہ قرآن سنیں۔ جب وہ اس جگہ پہنچے ﴿جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے﴾ تو انہوں نے کہا خاموش ہوجاؤ۔ پھر جب وہ پڑھا جاچکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ انھوں نے جاکر کہا اے میری قوم کے لوگو! ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہ نمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف۔ اے ہماری قوم کے لوگو! اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کرلو اوراس پر ایمان لے آؤ۔اللہ تمھارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمھیں عذاب الیم سے بچادے گا اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ زمین میں خود کوئی بل بوتانہیں رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کردے، اور نہ اس کے لیے کچھ ایسے حامی وسرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ ﴿الاحقاف﴾

اہل کتاب پر اس کا اثر

اہل کتاب میں یہود ونصاریٰ دونوں ہی شامل ہیں۔ انہوں نے بھی جب اللہ تعالیٰ کی کتاب کا بغیر کسی تعصب کے مطالعہ کیا تو اس کی اثر انگیزی سے متاثر ہوئے۔ آج بھی جو لوگ اس قرآن کاکھلے ذہن سے مطالعہ کرتے ہیں تو حق ان پر واضح ہوجاتا ہے اور وہ اس کی اثر انگیزی قبول کیے بغیرنہیں رہتے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’جن لوگوں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اس ﴿قول﴾ پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں، ہم ایمان لائے یہ واقعی حق ہے۔ ہمارے رب کی طرف سے ، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔‘‘ ﴿القصص﴾

مزیدارشاد فرمایا:

’’مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہِ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیںاور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اللہ اور روز جزا پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کاحکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔‘‘ ﴿آل عمران﴾

اہل ایمان پر اثر

قرآن مجید وہ کتاب ہے جو غیر ذی روح، جنوں، عالم انسانیت اور اہل کتاب کو متاثر کرتی ہے تو اہل ایمان اس سے کیوں کر متاثر نہیں ہوں گے۔ لیکن اس کااثر انھی اہل ایمان پر ہوتاہے جو اسے سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں اور اس کی آیات پر غوروفکر کرتے ہیں۔ جس انداز سے آج اہل ایمان کی اکثریت قرآن مجید کو بغیر سمجھے بوجھے محض ثواب کی خاطر پڑھتی ہے، اس کے نتیجے میں اس پر قرآن کاکوئی اثر دکھائی نہیں دیتا ہے۔ یہ اللہ کی کتاب ہے اور یہ پڑھنے والے پر اس وقت اثر انداز ہوگی جب پڑھنے والا سمجھے کہ وہ کیاپڑھ رہاہے۔ یہ کتاب اندھے ، بہرے اور گونگے کی طرح پڑھنے والوں کو کبھی متاثر نہیں کرتی۔ جن لوگوں کا اللہ کی کتاب پر ایمان ہے وہ اگر شعوری طور پر اس کا مطالعہ کریں تو یہ ضرور ان پر اپنا اثر دکھائے گی۔

’’حقیقت میں تو جو لوگ اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہوتے ہیں، جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں، جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، اور جن کاحال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ وہی بھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کرکے انہیں پانے والے ہیں۔‘‘

﴿المومنون﴾

قرآن کی اثر انگیزی کی کیفیات

قرآن نے اپنی اثر انگیزی کو مختلف پیرائے میں بیان کیاہے۔ یوں تو اس کی کیفیت کااثر انسان کے پورے جسم پر پڑتاہے۔ لیکن سب سے زیادہ اثر انسانوں کے دل، دماغ اور آنکھوں پر ہوتاہے۔ آنکھیں اشک بار ہوتی ہیں اور انسانی جسم کے مختلف اعضا مختلف کیفیتوں سے دوچار ہوتے ہیں۔

پورے جسم پر اس کااثر

جب قرآن کو سمجھنے اور اس میں غوروفکر کرنے کی غرض سے اس کامطالعہ کیاجاتاہے تو اس کااثر انسان کے پورے جسم پر پڑتاہے۔ کیفیت یہ ہوتی ہے کہ جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے،رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی خشیت سے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔

’’اللہ نے بہترین کلام اُتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزا ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اسے سن کر ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں اور پھر ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیںہے۔‘‘  ﴿الزمر﴾

آنکھوں پر اس کااثر

قرآن کو شعور کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اس کا اثر انسانی جسم پر نہ ہو۔ یہ انسان کے حساس دلوں پر اثر کرتا ہے۔ جس کااظہار اس کی آنکھوں سے ہوتا ہے۔ دلی جذبات آنکھوں سے آنسو بن کر رواں ہوجاتے ہیں

’’جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسولﷺ پر اُترا ہے تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ وہ کہتے ہیں کہ آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جوحق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیںکہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے؟ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میںہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے نیک رویہ اختیارکرنے والوں کے لئے۔‘‘    ﴿المائدہ: ﴾

’’اے نبی تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیاگیا ہے انھیں جب یہ سنایاجاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گرجاتے ہیں اور اسے سن کر ان کاخضوع اور بڑھ جاتا ہے۔ ‘‘﴿بنی اسرائیل ﴾

’’یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدم کی اولاد میں سے اور ان لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میںسوار کیا تھا، ابراہیم کی نسل سے اور اسرائیل کی نسل سے۔ اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ ان کاحال یہ تھا کہ جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے۔‘‘ ﴿مریم ﴾

دل پر اس کا اثر

انسان کے جسم میں گوشت کاایک ٹکڑاہے جو دھڑکتارہتاہے اور وہ بہت ہی حساس ہے۔ اس حصے کو دل کہتے ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ شعور کے ساتھ قرآن پڑھاجائے اور جسم کایہ حصہ اس سے اثر قبول نہ کرے۔ جب قرآن کی تلاوت سمجھ بوجھ کے ساتھ کی جاتی ہے تو دل کانپ اٹھتاہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے پگھل اٹھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اے نبیﷺ ، بشارت دے دو عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو جن کاحال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہی ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیاہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔‘‘﴿الحج ﴾

’’حقیقت میں تو جو لوگ اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہوتے ہیں، جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں، جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور جن کاحال یہ ہے کہ جب دیتے ہیں تو جو کچھ بھی دیتے ہیں ان کے دل اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔ وہی بھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کرکے انہیں پانے والے ہیں۔‘‘﴿المومنون: ﴾

کلام کے اثرانداز نہ ہونے کے وجوہ

جن لوگوں پر قرآن اثر انداز نہیںہوتا ہے وہ تعصب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کامطالعہ اس لیے کرتے ہی نہیں کہ اس سے اپنی اصلاح کریں۔ یہ لوگ غرور وتکبر، بغض وعناد، ہٹ دھرمی اور ضد میں مبتلا ہوتے ہیں۔ قرآن ان لوگوں پر اثر اندازنہیں ہوتا جو اس سے اثر لینا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ یہ لوگ کفر وشرک کی ضلالت میں ہی پڑے رہنا چاہتے ہیں۔

ارشاد الٰہی ہے:

’’اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اس طرح رُخ پھیر لیتا ہے کہ گویا کہ اس نے انہیں سنا ہی نہیں، گویاکہ اس کے کان بہرے ہیں،اچھا مژدہ سنا دو اسے ایک دردناک عذاب کا۔‘‘   ﴿لقمان:﴾

’ص، قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی، بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیاہے، سخت تکبر اور ضدر میں مبتلا ہیں۔‘‘

’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تویکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔‘‘  ﴿الزمر﴾

قرآن سے مستفیض ہونے اور اس سے ہدایت پانے کے لیے اللہ کے دامن میں آنا ضروری ہے۔ تبھی کلام اللہ سے رہنمائی، ہدایت، حبل اللہ اور صراط مستقیم مل سکتا ہے۔

’’ تمھارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع ہے، جب کہ تم کو اللہ کی آیات، سنائی جارہی ہیں اور تمھارے درمیان اس کارسول موجود ہے؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھام لے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا۔‘‘   ﴿آل عمران: ﴾

’’جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے، بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔‘‘  ﴿الفرقان:۷﴾

جنہیں اگر ان کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔ ‘‘﴿الفرقان:۲﴾

اثرات کے فوائد

اگرقرآن کو اس کے تقاضے کے ساتھ مطالعہ کریں تو اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ جب ہمارے ذہنوں اور دلوں پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے تو اس کے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ قرآن کی اثر انگیزی کے بے شمار فائدے ہیں۔ ان میں سے کچھ فائدوں کا ضمناً تذکرہ قرآن کی اثر انگیزی کی کیفیات میں آگیا ہے۔ اگر اسے غور سے پڑھیں تو بہت سے فوائد جان لیں گے۔ اس مختصر مضمون میں سارے فوائد کاتذکرہ تو ممکن نہیں۔ اختصار کے ساتھ کچھ اور فوائد بیان کیے جارہے ہیں۔ جن فوائد کاذکر یہاں مطلوب ہے وہ بہت جامع اور اہم ہیں۔ ان فوائد کے حاصل ہونے سے مزید فوائد حاصل ہوں گے۔ ان میں سے پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ اس سے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل میں اضافہ ہوتا ہے۔ تیسرافائدہ یہ ہے کہ اعمال صالح کی طرف رغبت اور اس کے کرنے کے بعد دلی سکون میسر ہوتاہے۔ ان تینوں فوائد کے حاصل ہوجانے سے قرآن کے مطالعے میں دلچسپی پیداہوتی ہے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا آسان ہوتا جاتا ہے۔ جب عمل کرنا ممکن ہوجاتا ہے تو مزید قرآن کو جاننے کی طلب اور تڑپ بڑھتی چلی جاتی ہے اور قرآن کا مطالعہ کرنا آسان ہوتا چلاجاتا ہے۔

ایمان میں اضافہ

اللہ تعالیٰ کے کلام میںیہ تاثیرہے کہ جب اس کی تلاوت سمجھ بوجھ کر کی جاتی ہے تو اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ دل مائل ہوتا ہے اور دلوں کی شادمانی میں اضافہ ہوتا ہے اور دلوں کو اطمینان نصیب ہوتاہے ۔

’’جب کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ ﴿مذاق کے طور پر مسلمانوں سے﴾ پوچھتے ہیں کہ ’’کہو تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ ہوا؟‘‘جولوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں تو فی الواقع ﴿ہرنازل ہونے والی سورت نے﴾ اضافہ ہی کیا ہے اور اس سے دل شاد ہیں۔‘‘  ﴿التوبہ﴾

اللہ تعالیٰ پر توکل میں اضافہ

کسی کام کانتیجہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس محفوظ رکھاہے۔ اپنی ساری مساعی اور وسائل کو بروئے کار لاکر نتیجے کے لیے اللہ تعالیٰ پر بھروسے میں اضافہ ہوتا ہے۔

’’ سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔‘‘ ﴿الانفال:۲﴾

اعمال صالحہ میں اضافہ

جب کلام الٰہی کا ذکر اہل ایمان کے سامنے کیاجاتا ہے تو ان کے رویے میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں، وہ اللہ کی یاد میں سرور محسوس کرتے ہیں اور اپنے رب کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ ان کے اندر عاجزی وانکسار پیداہوتا ہے اور وہ رات سوکر نہیں گزارتے بلکہ رات کا کچھ حصہ قیام، رکوع ، قعود اور سجود میں گزارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے بھی ہیں اور پرامید بھی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنامال خرچ کرتے ہیں۔

اللہ کا ارشاد ہے:

’’ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیںکرتے۔ ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘ ﴿السجدہ:﴾

حاصل کلام

مندرجہ بالا گفتگو سے یہ اندازہ ہوگیا ہوگاکہ قرآن سے اثر قبول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کو قرآن کی زبان میں سمجھا جائے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ قرآن عربی مبین میں نازل کیاگیا ہے۔ اگر ہم عربی زبان نہیں جانتے ہیں تو ہم لوگوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی مادری زبان کے علاوہ کئی زبانیں ہم لوگوں نے مختلف ضرورت کے تحت سیکھی ہیں۔ عربی زبان سیکھنے کی کوشش شروع کردیں۔جب تک عربی زبان سے واقفیت نہیںہے اس وقت تک جس زبان کوہم بہتر طورپر جانتے ہیں اس زبان میں قرآن کے ترجمے سے مددلیں۔ اس طرح قرآن کو سمجھنا شروع کردیں۔ جب ترجمے سے قرآن کے معنی اور مفہوم سے آشنائی ہوجائے تو اسے مزید سمجھنے کے لیے کسی تفسیر سے مدد لیں اور اس کی آیات پر غور وفکر کریں۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں کہ اللہ ہم تیرے کلام کو سمجھنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کررہے ہیں تو اپناکلام مجھے سمجھادے۔ انشائ اللہ ایسا کرنے سے قرآن سمجھ میں آجائے گا۔ جب قرآن سمجھ میں آجائے گا تو وہ اپنا اثربھی ہمارے ذہن وفکر اور دل ودماغ پر ڈالنے لگے گا۔ یہاں سے ایمان میں زیادتی، اعمال کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ پر توکل ہوتا چلا جائے گا۔ جسم بھی خشیت الٰہی سے نرم پڑے گا، رونگٹے بھی کھڑے ہوجائیں گے ، دل پرلرزہ بھی طاری ہوگا اور آنکھیں بھی اشک بار ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہم لوگوں کواپنا کلام سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔ ہماری کوششوں کو بار آور کرے اور ہماری کوششوں کو قبول فرمائے۔ اپنے کلام کی حقانیت کو ہمارے ذہن ودل میں اُتاردے۔ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے اور اس پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی بھی توفیق عطا کرے۔ قرآن کو ہم لوگوں کا سفارشی بنائے اور قرآن کو ہمارے حق میں گواہی دینے والا بنائے کہ ہم لوگ قرآن پڑھتے ہوئے جنت میں داخل ہوجائیں۔ آمین ثم آمین۔

ستمبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau