جذباتی ذہانت اور ہمارے بچے

ام مسفرہ

حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو بے بہا نصیحتیں کیں۔ قرآن مجید کی سورت لقمان میں ان کا تذکرہ ہے۔ حکیم لقمان نے ان نصیحتوں کے ذریعے اپنے بیٹے کو جذبات پر تصرف کی بہترین راہیں بھی دکھائی ہیں۔ سورت یوسف میں حضرت یوسف کے والد اپنے بیٹے میں جذباتی سوجھ بوجھ کو پروان چڑھاتے نظر آتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جذبات اللہ کی بڑی نعمت ہیں اور جذبات کے ساتھ حکیمانہ تصرف انسان کی بڑی قوت ہے۔ کسی بھی بڑی کام یابی کے لیے اس قوت کو ساتھ رکھنا ضروری ہے۔

جدید محققین کے نزدیک انسانی جذبات کا اتار چڑھاؤ کسی بھی سطح پر کام یابی میں اہم کردار کرتا ہے اور کار کردگی کو کافی حد تک متاثر کرتا ہے۔ اکثر طلبہ امتحانات کی تیاری تو کرلیتے ہیں لیکن عین موقع پر ان پر خوف طاری ہوجاتا ہے۔ اسٹیج پر پیش کش ہو یا زبانی امتحان یا کھیل کود کے میدان، جہاں کام یابی ایک قدم دور ہو وہاں اگر جذبات بے قابو ہوجائیں تو انسان ڈگمگا جاتا ہے اور اس سے کوسوں دور ہوجاتا ہے۔ اس لیے کارکردگی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے جذبات پر قابو ہونا لازمی ہے۔ جذباتی ذہانت ایسی خوبی ہے جس کے ذریعے سے جذبات و احساسات کے بے لگام بہاؤ کو قابو کیا جاسکتا ہے اور انھیں صحیح رخ دیا جاسکتا ہے۔

جذباتی ذہانت (emotional intelligence) کی اصطلاح بیسویں صدی میں، 1964 کے آس پاس، تحقیقات کی صورت میں پیش ہوئی۔ مگر اسے مقبولیت 1995 میں ڈینئل گولمین (صحافی) کی مقبول کتاب ‘جذباتی ذہانت’کے ذریعے ملی۔ جذباتی ذہانت کہتے ہیں اپنے جذبات کو سمجھنے، ان کا صحیح استعمال کرنے اور ان پر کنٹرول کرنے کی اُن تمام مہارتوں کو جو انسان کی شخصیت میں اعتدال قائم رکھنے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہیں۔ واضح رہے کہ ماہرین نفسیات کے مطابق ذہانت کی پیمائش ‘آئی کیو’سے زیادہ جذبات کی پیمائش ‘ای کیو’ زندگی کے مختلف شعبوں (خاندان، سماج) اور راہوں (تعلیم و تعلم، روزگار) میں کام یابی کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ کچھ محققین کا ماننا ہے کہ یہ صلاحیت پیدائشی ہوتی ہے۔ دیگر محققین کا دعویٰ ہے کہ یہ صلاحیت پروان چڑھائی جا سکتی ہے۔ چوں کہ جذباتی ذہانت کے راستے سے اپنے اور دوسروں کے جذبات اور احساسات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے اور مثبت روی اپناتے ہوئے رویوں اور ردعمل کو سمت ملتی ہے، اس لیے کام یابی کے حصول کے حوالے سے یہ ایک اہم موضوع ہے۔ والدین کے لیے خوش آئند بات یہ ہے کہ وہ بچوں میں اس خوبی کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں محنت کرسکتے ہیں۔

یہاں اسی موضوع پر گفتگو ہوگی۔

ماہرین و محققین نے جذباتی ذہانت کی تربیت کے پیش نظر جو ماڈل پیش کیے ان میں مندرجہ ذیل تین ماڈل سب سے زیادہ مقبول ہیں:

کے وی پیٹرائڈس (K V Petrides)، یونیورسٹی کالج لندن میں سائیکالوجی کے پروفیسر رہ چکے ہیں۔ موصوف نے سائیکومیٹرک لیبارٹری کی بنیاد ڈالی۔ بین الاقوامی سطح پر آپ “انٹرنیشنل سوسائٹی فار دی سٹڈی آف انڈویجول ڈیفرینس” میں شریک رہے اور مقبول جرنل “پرسنیلٹی اینڈ انڈویجول ڈیفرینس”کے معاون مدیر بھی رہے۔ انھوں نے 2001 میں خاصوں کے ماڈل (trait model) کے ذریعے جذباتی ذہانت کو جاننے اور مضبوط کرنے کے لیے خود احتسابی کی ترغیب دی۔

پیٹر سالوی (Peter Salovey–امریکی ماہرین نفسیات اور ییل یونیورسٹی کے موجودہ صدر) اور جان ڈی مائر (John D. Mayer–امریکی یونیورسٹی میں ماہرین نفسیات) نے مل کر صلاحیت ماڈل (ability model) بنایا، جس کے ذریعے جذبات کو پہچاننے، ان کا استعمال کرنے اور انھیں سمجھنے میں رہ نمائی ملتی ہے۔

ڈاکٹر ڈینئیل گولمین (Daniel Goleman) نے جو بین الاقوامی سطح پر معروف ماہر نفسیات اور سائنس جرنلسٹ ہیں، مخلوط ماڈل (mixed model) پیش کیا ہے جو پیشہ ورانہ شعبوں میں مستعمل ہے۔ یہ ماڈل جذبات سے متعارف کراتا ہے اور ان پر قابو پانے کے اطوار بھی بتاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ ماڈل دوسروں کے جذبات پر اثرانداز ہونے اور اچھے تعلقات بنانے میں بھی معاون ہے۔

ان ماڈلوں کی بنیاد پر اور مزید کچھ تحقیقات کی بنا پر والدین مندرجہ ذیل تدابیر اپناتے ہوئے اپنے بچوں کی شخصیت میں ای کیو کو مضبوط کرسکتے ہیں۔

بچوں کے جذبات کو قبول کریں

40 سال تک خاندانی نظام پر مسلسل تحقیق کرنے والے 40 کتابوں کے مصنف جان گوٹ مین کے نزدیک والدین بچے کے لیے ایموشنل کوچ ہیں اور بچوں کے جذبات کو سمجھ کر اور انھیں قبول کر کے بچوں کی رہبری کرسکتے ہیں۔ والدین بچے کے تمام جذبات اور احساسات کو قبول کریں کہ یہ فطری ہیں اور ان کے پیچھے جو وجوہات ہیں انھیں نوٹ کرتے رہیں اور ان معاملات میں بچے کو جسمانی یا ذہنی مریض ہرگز نہ سمجھیں۔ بچے کو دل و ذہن سے اس کی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرنا والدین کی اپنی ذہنی صحت اور ان کے ہر ایک عمل اور ردعمل کے لیے بہت بہتر ہے۔ جذباتی ہم‌آہنگی کے لیے آزادانہ فضا کی فراہمی بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند رکھتی ہے۔ ایموشنل کوچ ہونے کا اصل مقصد والدین کا اپنے بچوں کو جذبات کا ردعمل سکھانا ہے۔

ڈینئیل گولمین اپنی کتاب جذباتی ذہانت میں لکھتے ہیں: “خاندان جذبات کی نشوونما کے لیے پہلا اسکول ہے۔” بچوں کا رونا، چیخنا، چلانا اور ان کا خوش ہونا، پرجوش ہونا ایسے تمام اعمال جو جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں پہلے خاندان میں ہی مستحکم ہوتے ہیں۔ والدین کی دانائی اور اعلی ظرفی سے اگر انھوں نے بچوں کو دوستانہ ماحول مہیا کیا تو بچوں میں جذباتی ہم‌آہنگی کے امکانات ہوں گے۔ اس کے برعکس والدین بچوں کے جذبات کو نظر انداز کرتے رہے تو بچے کی شخصیت کا نہ ارتقا ہوسکے گا نہ تکمیل ہوگی۔ یقیناً بچے خاندان کے مناسب ماحول میں ہی کامل بنتے ہیں اور یہیں کے نامناسب ماحول سے سے کم زور اور کم ظرف بھی بنتے ہیں۔

والدین جذبات پر قابو رکھیں

اگر والدین بذات خود اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں رکھتے تو وہ جذباتی ذہانت کے تحت نونہالوں کی تربیت کیوں کر کرسکیں گے۔ بیشتر اوقات والدین بچوں کی سرگرمیوں میں ہلکی سی لغزش پر خفا ہوجاتے ہیں۔ کبھی وہ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرپاتے، کبھی فکرمند ہوجاتے ہیں کہ بچے دوسروں کے مقابلے میں کم زور ہیں۔ چوں کہ بچے حساس ہوتے ہیں، وہ والدین کے تاثرات کو فوراً بھانپ لیتے ہیں اور کم زور کارکردگی پر ان کی ڈانٹ اور تنبیہ بچوں کے دل پر بری طرح اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے والدین کو اظہار کے وہ اطوار اپنانے چاہئیں جن سے بچوں کو تقویت ملے نہ کہ ان کی حوصلہ شکنی ہو۔ کسی بھی سرگرمی کی کام یابی کے لیے بچوں کا بھرپور تعاون کریں۔ ان کی ہمت بڑھائیں اور نرم روی سے ان کی اصلاح کریں۔ بچوں کی ضد، ہٹ دھرمی، شرارتوں اور مسلسل رونے سے پریشان ہوکر ان پر بارہا غصیلے ردعمل دینے سے بچوں میں بھی جذباتی خرابی آسکتی ہے۔

اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے متوازن شخصیت کے مالک بنیں اور ان کا ای کیو عمر کے ساتھ بڑھتا رہے تو والدین کو اس کے لیے پہلے اپنی ذات سے ابتدا کرنی ہوگی۔ آج کے دور میں والدین کے لیے اینگر مینجمنٹ (غصہ پر قابو پانے کی مہارت)، ٹائم مینجمنٹ (وقت اور کاموں کی تنظیم)، ٹینشن مینیجمنٹ (تناؤ سے پاک ذہنی صحت کے لیے) وغیرہ موضوعات پر آن لائن ورکشاپ کی سہولیات موجود ہیں۔ یہ ایسی سرگرمیاں اور مہارتیں ہیں جن سے تربیت کے بہت سے مسائل حل ہوتے رہتے ہیں اور فکری عمل کو صحیح راہ ملتی ہے، مزید یہ کہ خود والدین کی شخصیت میں اعتدال آجاتا ہے۔ والدین کو ایسی تربیت کے تعلق سے نئی باتیں اور ترکیبیں (ٹپس) ضرور معلوم کرتے رہنا چاہیے۔

بچوں کو جذبات سے متعارف کرائیں

اسکول کے ابتدائی دور کا نصاب دیکھیے، اس میں چہرے کے تاثرات کو پہچاننے کی مشق ضرور ہوگی۔ حالیہ برسوں میں ذہنی کیفیت کو (الفاظ کے بغیر) چہرے پر نمایاں اثرات یا باڈی لینگویج سے سمجھنے کی تکنیک پر زور دیا جارہا ہے۔ چہرے کے تاثرات انسانی ذہنی کشمکش، دلی مسرت، اندیشے، نا امیدی تک رسائی کرتے ہیں۔ کم سنی میں بچوں کو اپنے احساسات کی پہچان کروائی جائے، یہ بھی ایک اہم مرحلہ ہے۔

نئے اسکول یا نئے گھر میں جانے پر بچوں میں ایک طرف پرانے دوستوں کو چھوڑنے کا غم، دوسری طرف نئے دوستوں سے ملنے کا جوش ایک ساتھ جمع ہوجاتا ہے۔

جب والدہ برسر ملازمت ہو اور وہ بچے کو کسی کے پاس چھوڑنے کے لیے تیار کررہی ہو، تو بچہ ہر کام میں سستی کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی ماں سے دور نہیں ہونا چاہتا، لیکن ماں کو تاخیر ہونے کے سبب غصّہ آتا ہے۔

امتحانات میں نمبرات اچھے نہیں آئے اس لیے گھر میں پڑھنے کے اوقات طے ہوگئے اور کھیل کود کا وقت محدود ہوگیا۔ بچے تناؤ کا شکار ہیں۔

کم عمر بچے جب دوسری، تیسری مرتبہ اسپتال یا کلینک لے جائے جاتے ہیں تو وہاں پہنچ کر رونا شروع کردیتے ہیں۔

درج بالا مثالیں ان صورتوں کی ہیں جب بچپن میں بچے اپنے جذبات نہیں سمجھ پاتے اور نہ ہی صحیح ردعمل کرپاتے ہیں۔ والدین کو ایسے حالات میں بچوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ان کو ان کے احساسات سمجھنے میں تعاون کرنا چاہیے۔ والدین کو متعین طور پر متوجہ کرنا چاہیے:

یاد آرہی ہے؟ کیا خوف محسوس ہو رہا ہے؟ اداس ہو؟ خوش ہو؟ پر جوش ہو؟ وغیرہ سوالات کرسکتے ہیں یا اطلاع بھی دی جاسکتی ہے:

تم خوش نظر آرہی ہو۔ تم دکھی معلوم ہوتے ہو۔

بہرحال، بچوں کے جذبات کو نام دیجیے تاکہ وہ اپنی اندرونی کیفیات سے متعارف ہوسکیں۔ پہلے خود انھیں سمجھنا (کہ کن جذباتی کیفیت سے بچہ گزر رہا ہے اور ان کی کیا ذمہ داری ہے) پھر انھیں سمجھانا (بچوں کو ان کے احساسات سمجھنے میں تعاون کرنا اور ان کی مسئلہ حل کرنے میں یا رسپانس کے سلسلے میں رہ نمائی کرنا)۔ اس طرح جب وہ جذبات کی سطح پر سمجھ دار ہوں گے تو انھیں اپنے معاملات کو سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔

بچے میل ملاپ اور ہم آہنگی ( دیگر بچوں کے ساتھ مل کر کھیل کود، پڑھائی، پروجیکٹ، مقابلے میں حصہ لینا) سیکھنے میں بہت وقت لگادیتے ہیں۔ تاہم سماجی اقدار، اخوت و ہم آہنگی کی ترویج کے لیے بچوں کو اجتماعیت کا عادی ہونا ضروری ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سکھایا جائے کہ کن کاموں سے ان کو تسکین ملتی ہے اور کن باتوں سے دوسروں کو خوشی ملتی ہے۔ اس سرگرمی میں، بچوں کو ان کا اپنا موڈ میٹر (mood meter) بنانے کے لیے رہ نمائی کی جائے۔ جس سے وہ جان سکیں کہ وہ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے جذبات کو منظم کرنے کے بجائے اپنے جذبات کو ٹریک کرنے اور ان کا نظم (manage) کرنے کے قابل ہوں۔ موڈ میٹر کو جذبات ناپنے کا آلہ بھی کہاجاتا ہے۔ یہ بچوں میں بنیادی مہارتوں کو تیار کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جذبات کو پہچاننا، سمجھنا، لیبل لگانا، اظہار کرنا اور ان کو منظم کرنا۔ ییل سینٹر فار ایموشنل انٹیلی جنس اس کی وضاحت اس طرح کرتا ہے”موڈ میٹر وقت کے ساتھ جذباتی ذہانت (ای کیو) بڑھاتا ہے۔ جذبات کی شناخت کرنا اور لیبل لگانا (انھیں نام دینا) سیکھنا جذباتی ذہانت کو فروغ دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ موڈ میٹر کے استعمال سے آپ کا مشاہدہ تیز ہوگا کہ کس طرح آپ کے جذبات دن بھر میں بدلتے رہتے ہیں اور کس طرح جذبات عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ موڈ میٹر کا استعمال خود آگہی اور اپنے آپ کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوگا۔ ضروری ہے کہ آپ اپنی جذباتی زندگی کے مکمل دائرہ کار کو سمجھیں۔” موڈ میٹر رنگین چارٹ کی طرح ہوتا ہے جسے والدین پرنٹ کرواکر گھر کی کسی دیوار پر لگاسکتے ہیں۔ موڈ میٹر سے بچوں میں اپنے جذبات کی شناخت کے تحت دل چسپی بڑھے گی اور وہ آسانی سے بے قابو جذبات پر کنٹرول پانا سیکھیں گے۔

والدین سے غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ بچوں کے جذبات پر اپنی مصروفیات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں رہ نمائی نہ ملنے پر بچے جذباتی کش مکش میں مبتلا رہتے ہیں۔ بعد ازاں وہ اپنے احساسات کے حوالے سے ہمیشہ الجھن میں ہوتے ہیں۔ بیک وقت بہت سارے جذبات کی اتھل پتھل ہونے سے وہ ذہنی تناؤ کا شکار بن جاتے ہیں۔

بچوں کو اظہار کا موقع دیا جائے

ہر عمر میں اظہار کا طریقہ بدلتا رہتا ہے۔ بالکل کم عمر بچے خوف کے احساس سے، بھوک سے، نیند سے بوجھل ہوکر، چوٹ لگنے پر یا کسی چیز کا مطالبہ کرتے ہوئے روتے ہیں، اور بسا اوقات رونا ہی ان کے اظہار کا طریقہ ہوتا ہے۔ کم عمر بچے احساسات بیان کرنے میں بے باک ہوتے ہیں۔ تین چار برس کی عمر تک، آوازوں سے خوف محسوس ہو تو بچے کان پر ہاتھ رکھتے ہیں، کسی چیز کو دیکھنے سے ڈر لگے تو آنکھیں بند کرتے ہیں۔ جب بڑے ہوجاتے ہیں تو ان کی قوت برداشت بڑھ جاتی ہے اور ان کے اظہار کا طریقہ بھی بدل جاتا ہے۔

خود انضباطی (self-regulation) جو جذباتی ذہانت کی ایک کڑی ہے، ایسی صلاحیت ہے جو پچھلے تجربات اور جذبات کے اظہار کو منظم کرتی ہے۔ یہ ظاہری اور باطنی دونوں ہی رویوں کا جائزہ لینے والی ایسی قابلیت ہے جس سے جذبات کی تشخیص بھی ہوجاتی ہے اور اس کے بے ساختہ بہاؤ پر کسی حد تک لگام بھی لگائی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی جذباتی عمل یا ردعمل فوری طور پر ہو بھی جائے تب بھی وہ رویہ قابل قبول ہی ہوتا ہے کیوں کہ خود انضباطی کے تحت احساسات کے اظہار کی مشق ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے رویوں کی شدت پر کسی حد تک روک لگ جاتی ہے۔ بچوں کے ذہن میں جو بھی تجربات جمع ہورہے ہوں وہ ان کو یاد رکھتے ہوئے اظہار کے طریقوں کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے عمر کے ساتھ ساتھ سمجھ داری بڑھتی ہے اور ان کے کم سنی کے اطوار (رونا، چیخنا، چلانا) بدل جاتے ہیں۔ اس عمل کے تحت والدین کو بچوں کی رہ نمائی کرنی ہوگی۔ مثلاً کھانے کے دوران منھ میں جب کوئی بدمزہ شے آجائے تو اسے تھوکنا پڑتا ہے۔ بالکل ایسے ہی ذہن و دل پر کوئی منفی خیال ہو تو بچوں کے دل و دماغ سے اس کا نکلنا بھی ضروری ہے۔ بدمزہ شے پہلو میں بیٹھے شخص پر تھوکنا یا قے کرنا دونوں ہی بداخلاقی کے زمرے میں آتے ہیں۔ عین اسی طرح منفی رجحانات انتہائی شدت کے ساتھ کسی کے سامنے اگلنا حسن اخلاق کے خلاف ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اظہار کے اطوار اور اصول بھی سکھائیں۔ جذبات کے ردعمل کے لیے کچھ حدود متعین کی جائیں تاکہ بچوں میں قوت برداشت بڑھے اور وہ اپنی بات رکھنے کا سلیقہ سیکھ سکیں۔

بچوں کو اظہار کا پورا حق ہے۔ لہذا ان کے ایسے مواقع ضائع نہ کیے جائیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے ان کے مسائل کے بارے میں گفتگو کریں۔ یہ گفتگو والدین اور بچے دونوں کے لیے اطمینان بخش ہونی چاہیے۔ والدین کو بچوں کے لیے وقت نکالنے کے ساتھ ان کے ساتھ گفتگو کے لیے ذہنی و جسمانی طور پر مکمل حاضر رہنا، ساتھ ہی گفتگو کے اخیر میں نتیجہ نکالنا بھی ضروری امور ہیں۔ خواہ کوئی چھوٹی بات ہو یا بڑا مسئلہ درپیش ہو، والدین بچوں کو ان کے مسائل کے ساتھ تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ بچہ اپنے جذبات کا اظہار کرکے ان کا حل جاننا چاہتا ہے۔ یہ مرحلہ والدین اور بچے کے درمیان ہونے والی گفتگو کا انتہائی نازک مرحلہ ہے، جس میں بچے کے ذہن کے سوالات حل کرنا یا مسئلہ آسان کرنا ہی اصل ذمہ داری نہیں بلکہ بچے کا رہ نما بن کر قدم قدم پر اس کے لیے مشعل راہ بننا والدین کا اہم کام ہے۔ کوشش کریں کہ ایسی نشست میں ہی کوئی مناسب حل ضرور نکالیں تاکہ بچہ یہ نہ سمجھے کہ وہ کسی مسئلے سے دوچار ہوگیا ہے تو اب وہ اسی میں الجھا رہے گا۔ یاد رہے جو حل والدین پیش کریں گے وہ بچے کی یاد داشت کے نہاں خانوں میں زندگی بھر کے لیے نقش ہوجائے گا اور مماثل حالات میں وہ اسی سے رہ نمائی لے گا۔ بچوں کے مختلف ردعمل کو نوٹ کرتے رہیں۔ اداس ہیں، روتے ہیں، کھانا نہیں کھاتے، ضد کرتے ہیں وغیرہ۔ معلوم کریں کہ غمگین رہنے کی وجہ کیا ہے (کسی دوست سے جھگڑا، بڑوں کی ڈانٹ، امتحان اور نتائج، کسی عزیز کا انتقال)۔ والدین کو خیال رکھنا چاہیے کہ کس بات پر کتنی اداسی یا مایوسی کی گنجائش ہے اور یہ کہ کوئی ردعمل ضرر رساں ہونے کی حد کو نہ پہنچے۔

تربیت کے لیے مثبت رویہ اختیار کرنا یا بچوں کو الفت کا حصار دینا شاید عام بات ہو، ایسا اکثر والدین کرتے ہیں۔ وہ بچوں سے ان کی خفگی یا خوشی کی وجہ معلوم کرتے ہیں۔ مگر بہت ہی کم والدین بچوں کے جذبات کی صحیح اور مکمل رہ نمائی کرپاتے ہیں۔

بچوں کو خود احتسابی کی ترغیب دیں

بچے اپنا جائزہ لیں اور غلطیوں کی اصلاح خود کریں، یہ سکھانا والدین کا فرض ہے۔ گویا بچے اپنا تزکیہ خود کرنے والے بن جائیں۔ اس حوالے سے چند مہارتیں والدین بچوں میں پروان چڑھا سکتے ہیں۔

اصول و ضوابط کی پابندی کریں: گھر میں جو اصول بنتے ہیں ان کی پاس داری کرنا اور حدود کا لحاظ کرنا بچپن سے ہی ضروری ہے۔ اس کی مشق اس طرح بھی ہوسکتی ہے کہ بچوں کو ترغیب دیں کہ جب کوئی اصول لایا جائے تو وہ اسے سمجھیں، قبول کریں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ کسی بھی اصول کو سمجھنے اور اپنانے سے پہلے ہی اس کی مخالفت نہ کریں۔ اصول بناتے وقت والدین مشاورت کے ذریعے اس کے نفع نقصان کو واضح کریں۔

تنقید کو قبول کریں: بچوں کے لیے عملی ماحول فراہم کیا جائے کہ کس طرح اپنی انا کو قابو میں رکھ کر اپنی غلطی تسلیم کریں۔ والدین کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اصلاح کے نرم رویے اپنائیں۔ ترش روی سے گریز کریں۔ ساتھ ہی بچوں میں تنقید کو قبول کرنے کا تحمل بھی پیدا کریں۔

مہذب طریقے پر اتفاق کریں: جب بچے اپنی کسی غلطی پر صفائی پیش کرنا چاہتے ہیں تو انھیں موقع ضرور دیا کریں اور ان کے انداز کو قابل قبول بنانے پر زور دیں۔ بچوں کو سکھایا جائے کہ تنقید پر مشتعل ہوکر اونچی آواز میں بولنے کے بجائے تمیز کے دائرے میں رہ کر اپنا عذر پیش کریں۔

والدین کو بچوں کا وقتاً فوقتاً احتساب لینا چاہیے۔ اس سے بچوں کو خود احتسابی کی ترغیب ملتی ہے۔ جذباتی ذہانت کے لیے خود احتسابی اہم ہے کیوں کہ ہر بار اپنی کوتاہیوں کی نشان دہی اور اصلاح کے جذبے سے ہی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

بچوں کے جذباتی رہبر بنیں

گوٹ مین نے 119 خاندانوں (والدین اور بچوں) کا سروے کیا۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ بچے اور والدین جب جذباتی ہوتے ہیں تو ان کا باہمی تاثر کیا ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی تحقیق میں مندرجہ ذیل تین قسم کے والدین کا تجزیہ پیش کیا۔

مسائل سے صرف نظر کرنے والے والدین (dismissing parents)

مسائل کو مسترد کرنے والے والدین (disapproving parents)

دخل اندازی نہ کرنے والے والدین (laissez faire parents)

مسائل سے صرف ِنظر کرنے والے والدین

اس زمرے میں آنے والے والدین اپنے بچے کے مشکل جذبات کو نقصان دہ سمجھتے ہیں اور ان کی کوشش جلد از جلد ان جذبات کو نظر انداز کرنے کی ہوتی ہے۔ وہ شدید اور مشکل جذبات سے ڈرتے ہیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ انھیں کس طرح سنبھالنا ہے، نیز وہ ایسے جذبات کو بوجھ محسوس کرتے ہیں کیوں کہ وہ انھیں ایسا مطالبہ سمجھتے ہیں جن کو حل کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ وہ بچے کے جذبات کو غیراہم اور غیر معقول قرار دیتے ہیں اور بچے کی توجہ اس سے ہٹا کر ان مسائل میں تخفیف کرتے ہیں۔ وہ بچے کی اس کے احساسات کو سمجھنے میں مدد نہیں کرتے اور نہ ہی وہ مسئلہ حل کرنا سکھاتے ہیں۔ اس ماحول میں پرورش پانے والے بچے جب شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ وہ ایسی کیفیت میں خود کو نہ تو سنبھال پاتے ہیں نہ سمجھ پاتے ہیں، بلکہ غیر ضروری طور پر خود کو قصور وار بھی ٹھہرانے لگتے ہیں۔

مسائل کو مسترد کرنے والے والدین

اس گروہ میں آنے والے والدین، مذکورہ بالا گروہ سے بہت مشابہت رکھتے ہیں البتہ یہ ان سے زیادہ منفی رجحان کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ مشکل اور شدید جذبات کو کردار کی گراوٹ کی علامت گردانتے ہیں اور ایسے جذبات کو مسترد کرنے لگتے ہیں۔ وہ بچوں کے اظہار خیال کی ضرورت نہیں محسوس کرتے۔ یہ والدین مزاجاً سخت ہوتے ہیں۔ تنقید، ڈانٹ ڈپٹ اور سزا کا استعمال کرتے ہیں اور جسمانی سزاؤں کی بہت سی حدیں توڑ دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بچوں کو زندہ رہنے کے لیے جذباتی طور پر سخت بننے کی ضرورت ہے۔ اکثر حالات میں بچے جن احساسات کا شکار ہوتے ہیں ویسے ہی احساسات والدین کے بھی ہوتے ہیں لیکن ان کی انا اس طرح درمیان میں آتی ہے کہ وہ بچوں کو ان احساسات پر گفتگو کی اجازت نہیں دیتے۔

دخل اندازی نہ کرنے والے والدین

اس قسم کے والدین تمام جذبات و احساسات کو اور ان کے اظہار کو قابل قبول سمجھتے ہیں۔ وہ پریشانی میں بچے کو تسلی دیتے ہیں لیکن وہ ان کے جذبات کو سمجھنے یا مسئلہ حل کرنے میں ان کی مدد نہیں کرتے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بچے کو ایسی صورت میں خود کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے اور ذہنی پریشانی کو وقت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ ختم ہوجائے۔ وہ رویوں پر کچھ قدغن لگاتے ہیں اور جذباتی کیفیت میں تھوڑی بہت رہ نمائی کرلیتے ہیں۔ اس زمرے میں آنے والے والدین بچوں سے دوستی کرنے، مل جل کر حل تلاش کرنے میں کوفت محسوس کرتے ہیں۔ وہ بچوں پر اور ان کے معاملات پر بہت دیر تک توجہ نہیں دیتے۔

گوٹ مین نے اپنی تحقیق میں والدین کو جذباتی مدد کے کوچ (emotional coach) بننے پر زور دیا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ چوتھا زمرہ ہے جو مثالی ہے۔

جذباتی مدد کے کوچ

یہ والدین جذباتی کیفیات اور پریشانیوں کو اپنے بچے کے ساتھ تعلق مستحکم کرنے اور فروغ دینے کے موقع کے طور پر دیکھتے ہیں۔وہ بچے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں اور جو کچھ وہ محسوس کرتے ہیں اسے محسوس کرنے اور بیان کرنے دیتے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ جذبات نارمل اور صحت مند ہوتے ہیں۔ وہ حساس حالات میں بچوں کو ان کے اندرونی احساسات کو سمجھنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ نہ صرف بچوں کو جذبات کا تعارف دیتے ہیں بلکہ مسئلہ حل کرنے میں بھی معاون بنتے ہیں۔ یہ بچوں کو عمل اور رد عمل کی اجازت تو دیتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ وہ بچوں پر جذباتی عمل و ردعمل کے تعلق سے انتہا پسند رویوں پر روک بھی لگاتے ہیں۔ ایسی تربیت میں بچے مسائل کو حل کرنے اور جذبات کو کنٹرول کرنے کی مہارتیں سیکھتے ہیں۔ یہ بچے اپنے جذبات پر بھروسا کرتے ہیں، اعلیٰ درجے کی خود اعتمادی رکھتے ہیں اور سماجی اور تعلیمی لحاظ سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

آخری گروہ کام یاب ہے۔ یہ گروہ جذباتی ذہانت کے حوالے سے بچوں کی تربیتی سرگرمیوں پر اپنا وقت اور توانائی صرف کرتا ہے۔ اس زمرے میں آنے کے لیے صبر و تحمل کی ضرورت ہے۔ مطالعہ و مشاہدہ بھی ناگزیر ہے۔ حکمت عملی اور پختہ تدبیر سے بھی کام لینا ہوگا۔ یہ بھی ذہن نشین کرنا ہوگا کہ بچپن سے ہی جذبات و احساسات کو سمت دینا والدین کی ذمہ داری ہے۔ ایسا نہ ہونے پر انتہا پسند نسلیں فروغ پائیں گی اور انتہا پسندی کے نقائص سے تو ہم سب واقف ہیں۔

اللہ نے انسانی قلب کو جذبات سے معمور کیا ہے۔ غصّہ، خوف، اندیشے، خوشی، مسرت، مایوسی ہر ایک جذبہ اللہ کی نعمت اور انسان کے لیے بہت مفید ہے۔ ان جذبات کا ہونا زندگی کی علامت ہے۔ لیکن ان جذبات کا اس قدر بے قابو ہوجانا کہ انسان اپنے اور دوسروں کے لیے تکلیف دہ اور نقصان دہ ہوجائے، بڑی خرابی ہے جس کی اصلاح پر ضرور توجہ ہونی چاہیے۔ اچانک بھڑکنے والی ان جذباتی کیفیات پر قابو پانے کے لیے ذہانت اور مشق دونوں ہی ضروری ہیں۔ بقولِ شاعر:

ظفؔر آدمی اس کو نہ جانیے گا، وہ ہو کیسا ہی  صاحبِ فہم و ذکا

جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا

نومبر 2022

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau