اقامت دین اور رضائے الہی

صلاح الدین شبیر

 تحریک اسلامی کا مزاج، راہ عمل، منزل مقصود اور کام یابی و ناکامی کا پیمانہ دوسری تحریکوں سے بالکل مختلف ہے۔ اتنا مختلف کہ دیگر دنیوی تحریکات کے برخلاف تحریک اسلامی کے کارکنوں کو نہ صرف تحریک کی دنیوی کام یابی مطلوب ہوتی ہے بلکہ اس جدوجہد میں اصل محرک خوشنودئ رب کا جذبہ ہوتا ہے۔ اس عارضی دنیا میں انسانی سرگرمیوں کی معنویت تو در حقیقت اخروی کام یابی میں ہی پوشیدہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تحریک اسلامی کی دنیوی کام یابی کے باوجود بعض معروف و تیز گام کارکن نیت میں کھوٹ کے باعث آخرت میں ناکام قرار پا جائیں اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تحریک کی دنیوی ناکامی کے باوجود بہت سےکارکن اخلاص نیت کے ساتھ جدوجہد کی بنا پر سرخرو ہو جائیں۔ اس فرق کی اصل وجہ جہد حیات کی غایت اصلی (Ultimate Goal) میں پنہاں ہے۔ تحریک اسلامی کے نزدیک دنیوی زندگی کی ساری تب و تاب رضائے الہی کی مرہون منت ہے۔ اگر اللہ کی خوشنودی نگاہوں سے اوجھل ہو تو ہر سرگرمی بے مایہ اور زندگی کا سارا سفر نامراد۔ پھر زندگی کی سعی و جہد کیا اور حاصل زندگی کیا؟ سب بے معنی، سب مہمل۔ وابستگان تحریک کی کام یابی اور ناکامی کا سارا دارومدار اسی ایک طلب پر ہے: رضائے الہی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے بغض کیا، اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے روکا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔

اس طرح اپنی اصل حقیقت میں تحریک اسلامی ایک روحانی تحریک ہے جس کا مقصد وابستگان تحریک اور اس کے مخاطبین کو اپنے رب سے جوڑنا اور اس کی رضا جوئی کی طلب میں سر گرم عمل رکھنا ہے۔ رضائے الہی کی طلب انسان کی روحانی طلب ہے۔ روح کی تسکین اور اس کا اطمینان تو اس ذات سے وابستہ ہے جس نے جسد خاکی میں روح پھونکی۔ أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ [الرعد: 28] جان لو کہ اللہ کی یاد سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔

زندگی کے تمام معاملات میں اپنی من مانی سے دستبردار ہونے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو مرضیات الہی پر استوار کرنے کی کوشش ہر شخص کے ذاتی ارادے پر منحصر ہے۔ اگر انسانی ارادے کو متحرک کرنے والی چیز اللہ تعالی کی ذات و صفات اور اختیارات کا وہ شعور ہو، جو قرآن نے بیان کیا ہے، تو یہ شعور فطری طور پر ہمارے اندر دو تمنائیں بیدار کرتا ہے: ایک یہ کہ ہمیں جس دنیا میں ایک مدت خاص تک بسایا گیا ہے وہ اللہ تعالی کی ہدایت کے مطابق سنواری جائے تاکہ انسانیت عدل، احسان اور امن سے ہم کنار ہو اور دوسرے یہ کہ ہماری زندگی کی سرگرمیوں کا مقصود و حاصل اللہ تعالی کی خوشنودی ہو۔ اقامت دین کی کوشش ان دو تمناؤں سے جنم لیتی ہے اور حالات و مواقع کی مناسبت سے انسانی ارادے کی عملی صورت گری کرتی ہے۔ اقامت دین کے تقاضوں کی بجا آوری کا دار و مدار ہر شخص کے شعور، صلاحیت اور حالات پر ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص کو، جو اقامت دین کی جد و جہد میں شریک ہے، اپنی صلاحیت کے فروغ اور حالات و مواقع کی سمجھ پر توجہ دینی چاہیے اور اسی کے ساتھ اس بات پر بھی دھیان رکھنا چاہیے کہ اس کے اندر خوشنودئ رب کا جذبہ پروان چڑھتا رہے۔ کبھی کبھی سرگرمیوں کے ہجوم میں اس پہلو کے نظر انداز ہو جانے کا خدشہ بنا رہتا ہے۔ چناں چہ اس بات سے خبردار رہنا ضروری ہے کہ رضائے الہی ایک غیر شعوری گردان کے بجائے ہماری شعوری طلب بن کر ہمارے ذہن و قلب میں جا گزیں رہے۔ ہر سرگرمی کے بعد یہ جائزہ لیا جاتا رہے کہ گزرگاہ قلب پر رضائے الہی کے نقوش ثبت ہو رہے ہیں یا دنیوی چاہتوں کے گرد و غبار پڑ رہے ہیں۔

رضائے الہی کی طلب آپ سے آپ اللہ کے حقوق کی ادائیگی پر آمادہ رکھتی ہے۔ خدا کے ساتھ انسان کا اصل رشتہ چاہت و عبودیت کا رشتہ ہے۔ محبت و بندگی کا رنگ زندگی کی سرگرمیوں میں حقوق اللہ کی ادائیگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ انسانی زندگی میں حقوق کی ہر جہت حقوق اللہ کی توسیع (extension) ہے۔ اپنی جان کا حق ہو یا اپنے خاندان کا حق، پڑوسی کا حق ہو یا سماج کا حق، سب کی معنویت حقوق اللہ کے شعور میں پنہاں ہے۔ انسانوں کے مابین حقوق اور تعلقات کا پورا نظام حقوق اللہ کے زندہ شعور پر ہی صحیح طور سے استوار ہو سکتا ہے۔ اگر اللہ کے ساتھ تعلق اور اس کے حقوق کا شعور ہی نہ ہو تو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی، باہمی تعلقات، سماجی رشتے اور فرد اور ریاست کے مابین حقوق و فرائض کا میثاق سب کا سب غیر یقینیت (uncertainty) اور نا پائیداری کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسانی عقل و جذبات اللہ سے غافل ہو کر ذاتی مفادات اور نفسانی خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ اس کا اثر انسانی تعلقات اور ان کے مابین حقوق کے تعین پر پڑتا ہے۔ اللہ سے غفلت کے نتیجے میں انسانوں کے مابین صرف عملاً ہی حقوق کی پامالی کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ اصولًا بھی سارے حقوق غیرمربوط (inconsistent) اضافی (relative) اور عارضی (ephemeral) شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

مندرجہ بالا گذارشات کا مقصد یہ ہے کہ انسان اور خدا کے مابین حقیقی تعلق — عبد و معبود کا تعلق — اور اس تعلق کی بنیاد پر حقوق اللہ کے تقاضوں کا شعور ہر دم تازہ رکھنے کی اہمیت ہمارے سامنے رہے۔ اس شعوری کوشش کے بغیر رضائے الہی کو انسانی سرگرمیوں کا مرکز و محور بنائے رکھنا ممکن نہیں۔ چوں کہ رضائے الہی کی طلب کے بغیر ہر عمل، ہر سرگرمی لاحاصل ہے، اس لیے تحریک اسلامی اسی رخ پر رجحان سازی کے لیے کوشاں ہے تاکہ اقامت دین کے لیے کی جانے والی انفرادی اور اجتماعی کوششیں حقیقی معنی میں بارآور ہوسکیں۔

رضائے الہی کی راہ کی رکاوٹیں

انسان کی اس فطری روحانی طلب کے بالمقابل اس کے وجود میں ترغیبات نفس کی قوتیں بھی ہر دم سرگرم عمل رہتی ہیں جو ذہن و قلب کو بھٹکاتی رہتی ہیں۔ انسان اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایک کام شروع کرتا ہے لیکن اسی دوران اس کا نفس ایک نئی ترغیب سے اس کی سوچ، اوراس کے جذبات کو آلودہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس عمل میں کبھی کبھی خارجی عوامل بھی ترغیبات نفس کے معاون بن جاتے ہیں۔ اچھے کاموں، مخصوص صلاحیتوں، یکسوئی اور لگن، وغیرہ جیسی خوبیوں کی تحسین و تعریف ایک فطری رد عمل ہے۔ اس سے کام کرنے والوں کو حوصلہ ملتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی منھ پر مبالغہ آمیز تعریف و توصیف، اور اس سے آگے بڑھ کر خوشامد آمیز گفتگو نفس کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ اگر آدمی چوکنا نہ رہے اور اپنے داخلی محاسبے سے غافل ہو جائے تو وہ تعریف و تحسین کا عادی ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ رویہ ترغیبات نفس کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے جس کے نتیجے میں بہت سارے خوابیدہ نفسانی محرکات طاقتور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ خود پسندی (Egotism)، ریاکاری، ضد، انانیت، منفیت پسندی (Negativity)، حرص، ناموری، جاہ طلبی، وغیرہ جیسے مرغوباتِ نفس ذہن و قلب کو پراگندہ کرتے رہتے ہیں۔ انسان کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت ارادی سے ان ترغیبات نفسانی کی سرکش موجوں کے علی الرغم رضائے الہی کی طلب پر جما رہے۔ جو گرد و غبار خواہی نخواہی اس کی سوچ اور جذبے کو آلودہ کرتے رہتے ہیں انھیں استغفار اور رجوع الی اللہ کے آب مصفا سے پاک کرتا رہے۔ خدا کی طرف بار بار پلٹ کر دل ہی دل میں یہ خیال جمانے کی کوشش کرے کہ جو خوبی، جو صلاحیت بھی ہے وہ خدا کی عطا ہے اور ان خوبیوں، ان صلاحیتوں پر پھولے نہ سمانا ہماری خطا ہے اور اللہ تعالی ہی اس فتنۂ نفس سے حفاظت اور درگزر فرمانے والا ہے۔ انسان کی اصل فطرت یہی ہے کہ وہ اخلاص نیت اور حسن عمل کی کوشش کے باوجود غفلت اور نادانی میں ترغیبات نفس کی ٹھوکر سے لڑکھڑا سکتا ہے اور پھر اپنی قوت ارادی اور توفیق الہی سے سنبھل سکتا ہے۔ اس کارزار حیات میں انسان کو داخلی معرکۂ خیر و شر سے مسلسل واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ اس معرکہ میں کام یابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے ذہن و قلب میں خدا کا تصور جا گزیں کرنے، عبد و معبود کے رشتہ کو تازہ رکھنے اور اللہ تعالی کے حق کی ادائیگی کی طرف مسلسل متوجہ رہنے کی کوشش کرتا رہے۔

 خدا اور انسان

رب کائنات کے وجود کا احساس ہماری روح میں نقش اولیں (primordial) کے طور پر ثبت ہے۔ الست بربکم، قالوا بلی (کیا میں تمھارا رب نہیں؟ سب نے کہا بیشک تو ہی رب ہے) کی گونج ہر انسان کی روح میں ارتعاش پیدا کرتی رہتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری یادداشت میں وہ خواب کے مانند کروٹیں لیتی رہتی ہو۔

حیات انسانی کا ہر لمحہ اللہ تعالی کے انعامات و احسانات کا مرہون منت ہے۔ اسی لیے جذبۂ شکر اولین جذبہ ہے جو انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ خدا انسانوں کو متوجہ کرتا ہے کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو ان کا شمار ممکن نہیں:

 وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ [إبراهیم: 34]اور جو کچھ تم نے مانگا تم کو عنایت کیا اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو۔ کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔

ہر سانس جو ہم لیتے ہیں اور ہر آن جو ہم بسر کرتے ہیں اس کی نعمتوں سے پر ہے۔ اس لیے اللہ کا حق ہم جتنا بھی ادا کرنے کی کوشش کرلیں ادا نہیں کر سکتے۔ ہم بے ساختہ پکار اٹھیں گے: حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔ اسی لیے تو اللہ تعالی اپنے حق کی ادائیگی میں کوشش کے باوجود کمی رہ جانے پر عفو و درگزر کی بشارت دیتا ہے۔

آئیے، اب یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ انسان کی حقیقت، خدا اور انسان کے مابین حقیقی رشتے اور انسانوں پر اللہ کے حقوق کس طرح باہم دگر ایک دوسرے سے مربوط و منسلک ہیں جنھیں اپنے ذہن و قلب میں ہمیشہ تازہ رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور رضائے الہی کا حصول بن سکے۔ اسی ربط و تعلق کی یاد دہانی تحریک اسلامی کے سارے تربیتی بیانیے کی اصل روح ہے۔

پوری کائنات خدا کا تخلیقی شاہ کار ہے۔ لیکن خدائی تخلیق میں انسان اس لحاظ سے ممتاز ہے کہ وہ اپنے وجود میں خود ایک کائنات ہے۔ انسانی وجود کی اس کائنات کے تین رنگ پوری کائنات کے تمام رنگوں سے منفرد اور ان پر حاوی ہیں۔ یہ تین رنگ در اصل اس کی تین اہم خصوصیات سے ابھرتے ہیں جن سے پوری کائنات تہی دامن ہے۔ انسانی وجود کی یہ خصوصیات اس وسیع و عریض کائنات میں اسے تگ و تاز کی صلاحیت بخشتی ہیں۔

انسانی وجود کا پہلا رنگ اس کی خود مختاری ہے۔ وہ جو ارادہ کرنا چاہے آزاد ہے۔ اس کے ارادے پر کوئی بندش نہیں۔ لیکن کائنات خود مختار نہیں، وہ قانون فطرت سے جکڑی ہوئی ہے۔ ذروں سے کہکشاؤں تک کائنات کا وجود ایک اٹل قانون کا پابند ہے۔ فطرت کے یہ قوانین تہہ در تہہ اور انتہائی پیچیدہ ہیں۔

دوسرا رنگ اس کی عقل ہے۔ انسان اپنی عقل سے جستہ جستہ فطرت کے قوانین دریافت کرتا ہے اور انھیں بروئے کار لا کر تسخیر کائنات کی مہم میں مشغول سفر رہتا ہے۔ اس طرح اس کی تمدنی زندگی مرحلہ بہ مرحلہ ترقی کرتی جاتی ہے۔ وہ کائنات کی طرح مفعول نہیں فاعل ہے۔ وہ سو ڈھنگ سے اس کائنات کو برتنے کی قدرت رکھتا ہے۔ چوں کہ عقل کی بھی ایک حد ہے اس لیے بہت کچھ جان لینے کی صلاحیت کے باوجود اس کی رہ نمائی کے لیے ماورائے عقل حقائق سے با خبر علیم و خبیر ہستی کی دستگیری لازم ہے۔

تیسرا رنگ اس کا جذبہ ہے۔ وہ کائنات کی طرح جذبات سے عاری نہیں۔ سینکڑوں جذبات اس کی داخلی دنیا کو بناتے بگاڑتے رہتے ہیں۔ کبھی رحم دلی اسے دوسروں کا ہاتھ تھامنے پر آمادہ کرتی ہے، کبھی سنگدلی دوسروں پر ظلم کے لیے اکساتی ہے۔

لیکن ان تین رنگوں پر جو رنگ حاوی ہے وہ ہے انسانی خودمختاری کا رنگ، انسانی ارادے کی آزادی کا رنگ۔ وہ اپنے ارادے سے اپنی عقل کو صحیح یا غلط راہ پر ڈال سکتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنے جذبات کو بھی صحیح یا غلط رخ پر موڑ سکتا ہے۔ انسان کو دی گئی ارادہ کی آزادی ہی اسے اخلاقی طور پر جواب دہ بناتی ہے۔ اگر کائنات اور اس میں موجود دیگر مخلوقات کی طرح انسان بھی بے اختیار ہوتا تو جواب دہ بھی نہ ہوتا۔ اسے صحیح اور غلط میں تمیز کے لیے اگر عقل نہ ملتی تو اس سے اخلاقی تقاضا بھی نہ ہوتا۔ اس کے نہاں خانۂ قلب میں خیر و شر کی فطری استعداد نہ ڈالی جاتی تو اس سے پاکیزگی اور روحانی بلندی کا مطالبہ بھی نہ کیا جاتا۔ انسانی جذبات، عقل اور ارادہ کا فطری تقاضا ہے کہ جس نے ان نعمتوں سے نوازا ہے اس کا حق ادا کیا جائے۔

حقوق اللہ

اللہ تعالی کے حقوق کیا ہیں؟ اسلام اسی ’کیا‘ کا جواب ہے۔ اسلام جو راہ بتاتا ہے اسے مختصر الفاظ میں حقوق کی ادائیگی کا راستہ کہہ سکتے ہیں: اللہ تعالی کے حق کی ادائیگی، رسول اللہ کے حق کی ادائیگی اور خلق خدا کے حق کی ادائیگی، اسلام ان تینوں کے لیے رہ نمائی دیتا ہے۔ چوں کہ دیگر تمام حقوق کی بنیاد حقوق اللہ پر استوار ہے اس لیے اللہ کے حق کا فہم سب کی اصل ہے۔ حقوق اللہ کے بنیادی طور پر پانچ نمایاں پہلو ہیں جن پر ہمیں اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہیے: معرفت، ایمان، محبت، عبادت، اور اطاعت۔

(۱) معرفت الہی

سب سے پہلا اور بنیادی حق یہ ہے کہ ہم اس کی معرفت حاصل کریں، یہ جاننے سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ کون ہے اور کیسی عظیم ہستی ہے۔ اپنی اپنی صلاحیت کے مطابق ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ معرفت الہی کا طلبگار بنے اور اس کے لیے کوشاں رہے۔ یہ اللہ کا حق ہے کہ ہم اس کے وجود کو نظر انداز نہ کریں، اس سے غافل نہ رہیں، اسے جاننے، سمجھنے، پہچاننے کی کوشش کریں۔ انسان کے اندر اپنے رب کے لیے فطری تجسس اور رجحان موجود ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق، مالک اور پروردگار بس ایک ہی خدا ہے۔ وہی اوّل ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے، وہی باطن ہے۔ اس کا خیال، اس کی یاد ہمیں حیرت، چاہت، عظمت، خوف اور امید کے احساس سے سرشار کر دے۔ خدا کے تصور سے حقیقتًا جو احساس طاری ہونا چاہیے اسے الفاظ میں بیان کیا ہی نہیں جا سکتا۔ خدا کے تصور سے ہر شخص کے اندر پیدا ہونے والا احساس و تجربہ جداگانہ ہوتا ہے۔ وہ ایسا ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ پوری کائنات اس کی قدرت، حکمت، علم، رحمت اور مغفرت کی گواہی دے رہی ہے۔ آئیے ان پانچ پہلوؤں سے خدا کا تصور قائم کرنے کی کوشش کریں۔

خدا قادر مطلق ہے

کچھ بھی نہ تھا اور اس نے کہا ہو جا اور یہ کائنات وجود میں آگئی۔ اس حقیقت کی تھوڑی سی عقلی آگہی Big Bang theory سے حاصل ہوئی ہے، اور حقیقت واقعہ کی مزید کتنی پرتیں کھلنی ہیں، کہنا مشکل ہے۔ کائنات کی تخلیق، مرحلہ بہ مرحلہ کہکشاؤں، ستاروں، سیاروں کا بننا اور مٹنا، کائنات کا مسلسل پھیلاؤ اور توازن، زمین پر انسان کا وجود اور رزق کی فراوانی سب کچھ اس کی لامحدود قدرت کا کرشمہ ہے۔ اگر کسی پہلو سے اس کی قدرت میں اک ذرا سی بھی کمی ہوتی تو یہ کائنات وجود میں ہی نہ آتی۔

خدا حکیم مطلق ہے

کائنات کی ہر چیز اس کی قدرت سے ایسی بنی کہ انسانی عقل و نگاہ حیران و سرگرداں ہے۔ ہر چیز کے پیچھے چھپی حکمتیں بے شمار ہیں۔ انسانی عقل جس قدر غور کرتی ہے نت نئی حیران کن حکمتیں سامنے آتی ہیں۔ قوانین فطرت کی دریافت مزید حکمتوں کی جستجو پر ابھارتی ہے۔ جس نے یہ کائنات بنائی ہے اس کی حکمت لا محدود ہے۔ انسان جس قدر حکمتوں کی تلاش میں آگے بڑھتا جائے گا کائنات کی معنویت آشکار ہوتی جائے گی لیکن اس کی حکمتوں کے خزانے ختم نہ ہوں گے۔ کائنات کے نظام میں نہ کوئی کمی ہے، نہ کوئی خلل۔ کائنات کو جیسا بنانا چاہیے تھا خدا نے اسے ویسا ہی بنایا۔ کائنات کی تخلیق کا جو مقصد تھا، وہ ٹھیک ویسی ہی بنی۔ جس قادر مطلق خدا نے اسے وجود بخشا وہ حکیم مطلق ہے، اس کی حکمتیں ذرے ذرے میں کار فرما ہیں۔

خدا علیم مطلق ہے

جس عظیم الشان کائنات میں ہم جی رہے ہیں اس کا ہر پہلو اس کے لا محدود علم کا پتہ دیتا ہے۔ اس کا علم کائنات کے ہر راز کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کا علم ابتدا اور انتہا کے لاحقوں سے پاک، زمان و مکان کی بندشوں سے آزاد ہے۔ ہر شئے سے وہ باخبر ہے، ہر چیز پر اس کی نظر ہے۔ اگر وہ کسی ایک بات سے بھی غافل ہوتا تو یہ کائنات قائم ہی نہ رہتی۔ وہ قیوم ہے، وہ علم کا سرچشمہ ہے۔

خدا رحمن و رحیم ہے

یہ کائنات اور اس میں انسان کا وجود سب اس کی رحمت پر منحصر ہے۔ اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو نہ کائنات ہوتی، نہ انسانی زندگی ہوتی۔ یہ کائنات اور انسانی زندگی سب کچھ اس کی رحمت کا مظہر ہے۔ اس کی رحمت اتنی ہی نہیں جس کا ہر آن ہم تجربہ کرتے ہیں۔ اس کی رحمت بے پایاں ہے۔ ہر آتی جاتی سانس جس پر ہماری زندگی قائم ہے اور ہر تعلق الفت جسے ہم نبھا رہے ہیں بس اسی کی رحمت کے مرہون منت ہیں۔ وہ رحمن و رحیم ہستی ہے۔ اس کی رحمت ہر شئے پر چھائی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ اس کی رحمت نے اس کے غضب کو بھی ڈھانک رکھا ہے۔

خدا غفار و ستّار ہے

خدا نے انسان کو ارادہ کی آزادی بخشی۔ ارادہ کی یہی آزادی ہماری غلطیوں کی ذمہ داری ہمارے سر ڈالتی ہے۔ لیکن خدا نے اپنی مغفرت کا دامن کشادہ کر دیا کہ وہ غفار ہے۔ وہی ہماری خطاؤں کی پردہ پوشی کرنے والا ہے، کہ وہ ستّار ہے۔ بندہ خطائیں کرے، بابِ توبہ کھلا ہے۔ جو چاہے اس میں داخل ہو جائے اور مغفرت طلب کرے۔ جس نے بابِ مغفرت پر دستک دی اسے مغفرت ملی۔ انسان سو بار خطا کرے، درِ توبہ کھٹکھٹائے، مایوس نہیں لوٹے گا۔ اس کے رب کی مغفرت لا محدود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی سرکشی کے رویے پر ڈٹا رہے، اپنے رب کے سوا دوسروں کے در پر بھٹکتا پھرے اور اپنے رب کی پکار پر کان نہ دھرے۔ یہ انسان کی اپنی کرنی ہے جو چاہے کرے اور جس انجام سے دوچار ہونا چاہے ہو جائے۔ خدا کسی کو زبردستی بابِ توبہ میں داخل نہیں کرتا کیوں کہ اسی نے انسان کو خود مختاری بخشی ہے۔ لیکن وہ اپنی مغفرت سے کسی کو مایوس بھی نہیں کرتا کہ وہ غفور و رحیم ہے۔

یہ تو بس چند جھلکیاں ہیں رب سے شناسائی کی جن سے قرآن انسان کو آشنا کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن بتاتا ہے کہ ہر خوبی، ہر اچھی صفت کامل و اکمل طور پر بس اسی ہستی میں پائی جاتی ہے۔ اس طرح قرآن انسان کے اندر خدا کی ذات و صفات و اختیارات کی لامحدودیت کا احساس جگاتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کا محور و مرکز خوشنودئ خداوندی کو بنائے اور اس کے سامنے سر بسجود ہو جائے۔

اللہ تعالی کا نہ ہم مشاہدہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کا تصور قائم کر سکتے ہیں۔ ہم تو اس ذات کو اس کی صفات سے پہچاننے کی ایک محدود سی بشری کوشش کرسکتے ہیں۔ اس کے اسمائے حسنہ اس کی صفات کا پتہ دیتے ہیں۔ اس کے اسمائے حسنہ سے ظاہر ہونے والی صفات، اس کی پہچان کا ذریعہ ہیں۔ انھی صفات کے ذریعے ہم اس کے رو برو ہوتے ہیں، اس کے دامن رحمت سے لپٹتے ہیں، اس کے غضب سے ڈرتے ہیں۔ وہ رحمن و رحیم ہے، اسی بنا پر تو ہم اس کائنات میں اپنا وجود رکھتے ہیں۔ وہ رب العالمین ہے، اسی لیے تو پوری کائنات اس کے حکم کی تابع نظر آتی ہے۔ وہ مالک یوم الدین ہے، اس لیے ہم سب کو مرنے کے بعد اسی کے سامنے اپنی زندگی کا حساب دینا ہے۔ وہ ستار و غفار ہے کیوں کہ وہی ہمارے عیوب کو چھپا سکتا ہے اور وہی ہماری خطاؤں کو معاف کر سکتا ہے۔ وہ جبار و قہار ہے، اس لیے اس کی پکڑ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔ وہ ظلم کرنے والوں کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہیں دیتا اور اس کی پکڑ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ وہ علیم و خبیر ہے، اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ وہ رازق و کریم ہے چناں چہ ہر مخلوق اسی سے رزق پا رہی ہے۔ چٹان کے نیچے چھپے ہوئے کیڑے کو بھی وہی رزق فراہم کر رہا ہے۔ غرض سارے اچھے نام، تمام اچھی صفات بس اسی کو زیبا ہیں اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى [طه: 8]۔

اس کے اختیارات لامحدود ہیں۔ وہ مالک الملک ہے، وہ احکم الحاکمین ہے، وہ رب السموات و الارض ہے۔ اس لیے چار و ناچار پوری کائنات اسی کے حکم کی پابند ہے۔ اس نے ہمیں عقل اور ارادہ کی آزادی بخشی۔ اس لیے ہمیں اپنی عقل سے اس کے اختیار کو سمجھنا چاہیے اور اپنے ارادے سے اس کا حکم بجا لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے حکم کے مقابلے میں ہر حکم باطل ہے۔ انسان کا فرض ہے کہ وہ پوری خوشدلی کے ساتھ اس کا حکم بجا لانے کی کوشش کرتا رہے اور بھول چوک پر اس سے معافی کا طلب گار بنے۔ لیکن کسی بھی صورت اس کے حکم سے جان بوجھ کر سرکشی نہ کرے اور سرکشی ہو جائے تو اس پر ڈٹا نہ رہے۔

(۲) ایمان باللہ

اللہ تعالی کا دوسرا حق اس پر ایمان و یقین ہے۔ جب ہم نے خدا کو پہچان لیا، اس کی ذات و صفات و اختیارات کا علم ہو گیا تو یہ علم، یہ جانکاری، یہ سمجھداری ایمان میں بدل جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کو بتا دیا جائے کہ آگ کا کام جلانا ہے۔ یہ ایک جانکاری ہے۔ یہ جانکاری جب یقین میں بدل جائے تو کوئی شخص بھی آگ میں کودنا پسند نہیں کرے گا۔ اس طرح کا یقین تو ایمان کی محض ایک چھوٹی سی مثال ہے۔

خدا کی ذات و صفات و اختیارات پر ایمان انسان کے عقل و شعور کا سب سے اعلی درجہ اور قلب و روح کی سب سے خوشگوار کیفیت کا نام ہے۔ ایمان باللہ کا مطلب یہ ہے کہ اب ہمارے دل میں کوئی شک اور تردد باقی نہ رہا۔ چلتے پھرتے سوتے جاگتے خدا ہمارے شعور و احساس میں موجود ہے۔ ہم اپنے ارد گرد موجود چیزوں سے بڑھ کر اسے موجود پائیں۔ ہمیں جو کوئی نعمت ملے تو یقین ہو کہ خدا نے دی ہے۔ جب کوئی چیز چھن جائے تو احساس ہو کہ خدا کے اذن سے چھینی گئی ہے۔ جب کوئی مصیبت آئے تو یقین ہو کہ یہ اللہ کی اجازت سے آئی ہے اور جب راحت ملے تو اطمینان ہو کہ یہ اللہ کی عنایت سے ملی ہے۔ اللہ پر ایمان ہمارے وجود کا اس طرح حصہ بن جائے کہ ہم کبھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہ کریں۔ اس پر یقین کسی حال میں متزلزل نہ ہو، راحت ہو یا مصیبت اللہ کا وجود ہمارے شعور کا حصہ بنا رہے۔

حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔ تو آپ نے فرمایا : “و میں اللہ پر ایمان لایا، پھر ثابت قدم ہو جاؤ”۔

اللہ تعالی پر ایمان میں یہ یقین شامل ہے کہ پلٹنا اسی کی طرف ہے۔ قرآن انسان پر واضح کر تا ہے کہ اگر یہ کائنات تمھارے لیے بنائی گئی ہے، اگر ہر آن تم کو نعمتیں مل رہی ہیں، اگر تمھاری زیست کا ہر سامان مہیا کر دیا گیا ہے تو اپنی آزادی کا غلط استعمال مت کرو اور اپنی مرضی کو اپنے رب کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہ دنیا تمھاری امتحان گاہ ہے۔ یہاں کا ہر لمحہ تمھارے فکر و عمل کا گواہ ہے۔ یہ نہ بھولو کہ اس امتحان کا نتیجہ بھی نکلنا ہے۔ کام یابی اور ناکامی تو تمھارے ہاتھ میں نہیں لیکن کام یابی اور ناکامی کی کوشش کرنے میں تم آزاد ہو۔ اس طرح قرآن انسانی زندگی کی سرگرمیوں کو اخروی جواب دہی کے احساس کے ساتھ گوندھ کر ایک وحدت بنا دیتا ہے۔ انسانی وجود دراصل زندگی اور موت کی وحدت سے عبارت ہے۔

موت یہ زندگی سے کہتی ہے، لوگ جیتے ہیں اس خبر کے لیے

زندگی کا سفر رہے جاری، ہاتھ تھامو نئے سفر کے لیے

 انسانی زندگی کی معنویت اسی وحدت کے شعور میں پنہاں ہے۔ اگر یہ شعور زندہ نہ رہے تو زندگی کی ساری بھاگ دوڑ بے ہنگم، لا یعنی اور زندگی کا ہر لمحہ مہمل بن جاتا ہے۔ پھر خدا پر ایمان ہماری زندگی میں ایک بے معنی وظیفہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

(۳) محبت الہی

اللہ تعالی پر ایمان کا فطری تقاضا ہے کہ اس کی محبت سے ہمارا دل معمور ہو۔ وہی تو ہے جو حقیقی معنی میں ہمارے شوق، ہماری محبت، ہمارے خلوص کا مرکز و محور ہو سکتا ہے۔ دیگر تمام چاہتیں تو اس کی چاہت کے تابع ہیں۔ وَالَّذِینَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ [البقرة: 165]اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ خدا سے محبت کا تقاضا ہے کہ اس کی خوشنودی کے لیے دل پسند مال آس کی راہ میں خرچ کیا جائے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ [آل عمران: 92] تم ہرگز بھلائی کو نہیں پا سکو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی دل پسند چیز خرچ نہ کرو۔ وَیطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِینًا وَیتِیمًا وَأَسِیرًا (8) إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِیدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا[الإنسان:8-9] اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ان سے کہتے ہیں کہ ہم تمھیں بس اللہ کی رضا کے لیے کھانا دیتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے نہ احسان جتاتے ہیں۔ حضرت سیدنا ابو رَزین عُقَیلیؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسولَ اللہ، ایمان کیا ہے؟ آپ نے اِرشاد فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تمھارے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں۔(مسند امام احمد)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے الفاظ پر غور فرمائیں کہ اللہ سے محبت اور اس محبت سے وابستہ دیگر تقاضے کس طرح دل میں جا گزیں ہونا چاہیے: أَسأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَن یحِبُّكَ، وَحَبَّ عَمَلٍ یقرِّبُ إلٰى حُبِّكَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت کا طلب گار ہوں، اور اس شخص کی محبت کا جس سے تو محبت کرتا ہے، اور اس عمل کی محبت کا جس کی بدولت تیری محبت حاصل ہوتی ہے۔

(۴) عبادت الہی

اللہ تعالی کی معرفت، ایمان اور محبت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالی کا حق ہے جس کی ادائیگی ہر شخص پر لازم ہے۔ اس حق میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ چناں چہ قرآن مجید میں واضح اعلان کر دیا گیا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِیعْبُدُونِ [الذاریات: 56] میں نے جنوں اور انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا یدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِی الْكَبِیرُ [الحج: 62] یہ اس لیے کہ خدا ہی برحق ہے اور یہ لوگ خدا کے سوا جس کو پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور یہ کہ خدا ہی رفیع الشان اور بزرگ و برتر ہے۔ قرآن بتاتا ہے: ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَیءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَیءٍ وَكِیلٌ [الأنعام: 102] یہی اوصاف رکھنے والا خدا تمھارا پروردگار ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی ہر چیز کا پیداکرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے۔ قرآن خوش خبری دیتا ہے کہ جو شخص بندگئ رب میں اللہ تعالی کے آگے بچھ جاتا ہے وہ ہر اندیشہ و غم سے نجات پا جائے گا۔ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَیهِمْ وَلَا هُمْ یحْزَنُونَ [البقرة: 112] ہاں، جس نے اللہ تعا لیٰ کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا وہ محسن ہے اور اس کے لیے اپنے ربّ کی طرف سے اجر ہے اور اس کے لیے نہ خوف ہے اور نہ غم۔

حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ میں اللہ کے رسول ﷺکے پیچھے ایک گدھے پر سوار تھا، آپ نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو اللہ تعالی کا حق اس کے بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ تعالی پر کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالی کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ تعالی پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اسے عذاب نہ دے۔ (صحیح البخاری: 2856،صحیح مسلم: 30)

اللہ تبارک و تعالی کے اس حق کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کی عبادت کو صرف اسی کے لیے خاص کیا جائے۔ ہمارے قلب، ہماری زبان، ہمارے جسم، ہمارے مال سب پر اللہ تعالی کے حقوق ہیں جن کی ادائیگی سے عبادت الہی کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ قرآن و سنت میں قلبی عبادت، بدنی عبادت اور مالی عبادت کی مختلف صورتوں اور کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔

قلب کی سلامتی کے لیے جن جذبات و احساسات کی آبیاری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ان میں یہ کیفیات بہ طور خاص قابل توجہ ہیں: اخلاص، یقین، خوف، امید، اور توکل۔ فرمانِ باری تعالی ہے: یوْمَ لَا ینْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ [الشعراء: 88، 89] اس دن مال و اولاد سے کچھ فائدہ نہ ہوگا سوائے اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے۔ رسول اکرم کی دعا ہے کہ: وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا، وَقَلْبًا سَلِیمًا (اے اللہ! تجھ سے لسان صدق اور قلب سلیم مانگتا ہوں)۔ قرآن نے توکل کو ایمان کا بنیادی تقاضا قرار دیتے ہوئے فرمایا: وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِینَ [المائدة: 23] اور اللہ تعالی پر ہی توکل کرو، اگر تم مومن ہو۔ مزید ارشاد ہوا: وَلِلَّهِ غَیبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَیهِ یرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَیهِ [هود: 123] آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی جانتا ہے، تمام امور اسی کے سپرد ہیں، تو اسی کی بندگی کرو اور اسی پر توکل کرو۔قلب سلیم کی تیاری کے لیے ضروری ہے کہ تمام قلبی کیفیات و جذبات کا محور و مرکز صرف اللہ تعالی کی ذات کو بنایا جائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث کا ٹکڑا ہے کہ لَا یسْتَقِیمُ إِیمَانُ عَبْدٍ حَتَّى یسْتَقِیمَ قَلْبُهُ، وَلَا یسْتَقِیمُ قَلْبُهُ حَتَّى یسْتَقِیمَ لِسَانُهُ (بندے کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک اس کا قلب درست نہ ہو، اور اس کا قلب اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک اس کی زبان صحیح نہ ہو)۔ زبان کی عبادت یہ ہے وہ ذکر الہی سے تر و تازہ رہے یاأَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِیرًا [الأحزاب: 41]اے ایمان والو اللہ کا خوب خوب ذکر کرو۔ اور یہ کہ دعا میں مصروف رہے۔ خدا خود کہتا ہے کہ مجھ سے دعائیں کرو، میں تمھاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔ وہ ہدایت دیتا ہے کہ کثرت سے استغفار کرو: وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیهِ إِنَّ رَبِّی رَحِیمٌ وَدُودٌ}[هود: 90] تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو یقین مانو کہ میرا رب بڑا مہربان بہت محبت کرنے والا ہے۔ حدیث میں کہا گیا کہ اگر تمھارے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اللہ سے مانگو۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب کوئی بندہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی فریاد سنتا ہوں، جب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کی حاجت روائی کرتا ہوں۔ اللہ تعالی کے سوا اور کون ہے جو ہماری مدد کر سکے، ہماری حاجت پوری کر سکے، ہماری مصیبت دور کر سکے۔

ہمارا جسم اللہ کا عطیہ ہے۔ اس نے ہمیں بہترین ساخت عطا کی۔ ہمارے ہاتھ پاؤں، آنکھ ناک کان، پیشانی اور سر سب کچھ اللہ تعالی نے اپنی حکمت سے ان مقاصد کے عین مطابق بنائے جنھیں پورا کرنا ہمارے جسم کے لیے ضروری ہے۔ ہمارا جسم نہ صرف ہماری دنیوی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے بلکہ ہمارے جسم پر اللہ تعالی کی عبادت بھی لازم کی گئی ہے۔ اس لیے جو بھی بدنی عبادتیں فرض کی گئیں ہیں انھیں ادا کرنا ہمارے جسم کی ذمہ داری ہے۔

مال اللہ تعالی نے دیا ہے اس لیے اس کا استعمال بھی اسی طرح کیا جائے جیسا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اس مال پر ہمارا حق بھی ہے اسی لیے ہمیں دیا گیا ہے اور اس پر اللہ کا حق بھی ہےجس نے یہ مال دیا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تو محتاج نہیں اس لیے اللہ کے حق کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حکم سے اس کے محتاج اور ضرورت مند بندوں پر خرچ کیا جائے۔ اس میں کچھ حق تو لازمی ہے (فریضة من اللہ) اور باقی اختیاری یا نفلی ہے۔

(۵) اطاعت رب

اللہ کی معرفت، اسی پر یقین و ایمان، اس سے محبت و اخلاص اور اس کی پرستش و عبادت پر سفر رک نہیں جاتا۔ جب خدا کی پہچان ہوگئی، اس پر یقین دل میں جا گزیں ہوگیا، اس کی چاہت سے قلب سیراب ہو گیا اور اس کے آگے سر ٹیک دیا تو زندگی کے تمام معاملات میں اس کی بندگی و اطاعت کو خوشدلی کے ساتھ قبول کرنا ہی ایک منطقی و معقول رویہ ہو سکتا ہے۔ چناں چہ قرآن نے اطاعت الہی سے روگردانی کو کافرانہ رویہ قرار دیا: قُلْ أَطِیعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا یحِبُّ الْكَافِرِینَ [آل عمران: 32]کہہ دواللہ اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ اطاعت الہی کا تقاضا ہے کہ جب اللہ اور رسول کا حکم معلوم ہو جائے تو ہم کسی دوسرے آپشن کی طرف دھیان بھی نہ دیں۔ چناں چہ واضح ہدایت کر دی گئی کہ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ یكُونَ لَهُمُ الْخِیرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ یعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِینًا [الأحزاب: 36] کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گم راہی میں پڑ گیا۔ اطاعت الہی میں یہ بھی شامل ہے کہ جب کسی معاملہ کا فیصلہ کیا جائے تو فیصلہ احکام الہی سے مطابقت رکھتا ہو۔ چناں چہ واضح ہدایت دی گئی کہ: وَمَنْ لَمْ یحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ [المائدة: 45] جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی لوگ ظالم ہیں۔ اطاعت الہی اس بات کی قطعًا اجازت نہیں دیتی کہ جب احکام الہی کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار ہو تو اس سے منھ موڑ کر فیصلہ کے لیے طاغوت سے رجوع کیا جائے۔ چناں چہ ارشاد باری تعالی ہے : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِینَ یزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَیكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یرِیدُونَ أَنْ یتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ یكْفُرُوا بِهِ وَیرِیدُ الشَّیطَانُ أَنْ یضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِیدًا [النساء: 60] کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ پر اور آپ سے پہلے نازل ہوا ہے اُس پر ایمان رکھتے ہیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ (اپنا مقدمہ) طاغوت کے پاس لے جاکر فیصلہ کرائیں حالاں کہ ان کو اس سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور شیطان ان کو دور کی گم راہی میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس کے نتیجے میں جنت کا دروازہ کھلتا ہے اور اطاعت الہی سے انحراف عذاب کا باعث بنتا ہے۔وَمَنْ یطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ یدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَنْ یتَوَلَّ یعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِیمًا [الفتح: 17]اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ اسے بہشتوں میں داخل فرما دے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی، اور جو شخص (اطاعت سے) منہ پھیرے گا وہ اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کر دے گا۔

 زندگی کے انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات میں احکام الہی کو جاننے، ماننے اور ان کی تعمیل کرنے کی کوشش اس بات کا ثبوت ہے کہ بندہ اللہ کا وفادار ہے۔ اطاعت الہی پر جمے رہنا اس بات کی شہادت ہے کہ ہمارے شب و روز اس کی رضا کی طلب میں بسر ہو رہے ہیں۔

اقامت دین کے لیے کی جانے والی ہر چھوٹی بڑی کوشش کی معنویت اور قدر و قیمت کا کلی انحصار رضائے الہی کی طلب پر ہے۔ حضرت عمر بن الخطابؓ سے روایت ہے، فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول کی جانب ہے تو اس کی ہجرت اللہ تعالی اور اس کے رسول ہی کی جانب ہے۔ اور جس کی ہجرت دنیا کے لیے ہے کہ اسےکمائے یا عورت کے لیے ہے کہ اس سے نکاح کرے تو اس کی ہجرت انھی کی جانب ہے۔(بخاری ومسلم)

اگر کارکنان کو رضائے الہی کے تقاضوں کا شعور ہو تو وہ اجتماعی سرگرمیوں میں تحریک سے کسی بنیادی اختلاف کے بغیر ذرا ذرا سی بات پر دل برداشتہ ہو کر سرد مہری یا کنارہ کشی کا رویہ نہیں اختیار کر سکتے۔ ان کی تگ و تاز اگر رضائے الہی سے وابستہ ہے تو دوسرے کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں اس سے ان کی دل چسپیاں اور سرگرمیاں کیوں کر ماند پڑ سکتی ہیں؟ دوسروں سے شکوہ سنج ہو کر وہ کاروان تحریک سے جدائی کا کیوں سوچیں؟ انھیں تو بس اس بات کی فکر ہونی چاہیے کہ جو کچھ وہ کر سکتے ہیں اور جتنا کچھ وہ کر پا رہے ہیں وہ سب خوشنودئ رب کے حصول کی خاطر ہو اور بارگاہ ایزدی میں شرف قبولیت پائے۔ نہ تو دوسروں کی طرف سے ستائش ان کے عمل کی قیمت بڑھا سکتی ہے، نہ دوسروں کی بے اعتنائی اس کی قدر میں کمی کر سکتی ہے۔ اگر خوشنودئ رب کا شعور اس مزاج کی تشکیل نہیں کر پا رہا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ نفس کی کم زوریاں مختلف حیلوں بہانوں سے کام لے کر ذہن و قلب کو بھٹکا رہی ہیں۔ اس خاموش سیند ماری سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

اپریل 2023

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau