میری ایک بڑی بہن دہلی میں رہتی تھیں۔ میں ملاقات کے لیے اکثر ان کے گھر جایا کرتا تھا۔ ان کو اور ان کے گھر والوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ بلکہ میرا وہاں جانا ان کے لیے خوشی کا باعث ہوتا۔ کبھی کبھی میں ان کے یہاں رات میں قیام بھی کرلیتا۔ ان کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں تھا۔ وہ کرائے کے مکان میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھیں۔ انھوں نے اپنی ضرورت کے پیش نظرنسبتاً ایک بڑامکان کرائے پر لیا اوراس میں منتقل ہوگئیں۔ یہ نیا مکان جن صاحب کا تھا وہ پیشے سے وکیل تھے۔ وکیل صاحب اسی مکان کے سامنے والے حصّے میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے تھے۔ میں اپنی بہن سے ملنے کے لیے اس نئے مکان میں گیا اور کافی دیر وہاں ٹھہرا۔ نماز کا وقت ہونے پر میں نے نماز بھی ادا کی۔ اتفاق سے وکیل صاحب کی بیوی وہاں آ گئیں۔ میری بہن نے کمرے کا دروازہ بند کرنے کی کوشش کی مگر وکیل صاحب کی بیوی نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا۔ جب میں وہاں سے واپس آگیا تو انھوں نے میری بہن سے میرے بارے میں دریافت کیا۔ بہن نے سب کچھ ان کو بتا دیا۔ وکیل صاحب کی بیوی کو اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ انھوں نے بہن سے دریافت کیا کہ آپ کے بھائی نے ایسی (مذموم) حرکت کیوں کی۔ یقیناً کسی مسلم لڑکی کا چکّر ہوگا۔ بہن نے اس سے انکار کیا تو انھوں نے اگلا سوال داغا تو پھر مسلمانوں نے انھیں پیسوں کا لالچ دیا ہوگا۔ آپ لوگوں نے انھیں روکا کیوں نہیں؟ ہماری بہن نے اس بات سے بھی انکار کیا اور ان کو بتایا کہ یہ تو خود دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ خود ہمارا بھی انھوں نے کئی موقعوں پر تعاون کیا ہے۔ نہ تو انھیں کوئی لالچ دیا گیا ہے اور ڈرانے دھمکانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میری بہن نے ان کو یہ بھی بتایا کہ نہ صرف ہمارے اس بھائی نے اسلام اپنایا ہے بلکہ ہمارے پورے میکے والوں نے اسلام اپنایا ہے۔ ہمارے بڑے بھائی شہر کے ایک سرکاری آفیسر ہیں۔ انھوں نے بھی اسلام کو اپنایا ہے۔ بہن نے یہ بھی بتایا کہ ان لوگوں نے اسلام کا مطالعہ کیا، اس پر غور کیا اور پھر یہ فیصلہ کیا۔ بہن نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ان کو یہ بھی بتایا کہ اسلام ایک اچھا دھرم ہے، جو اپنے ماننے والوں کے اندر خوش نما تبدیلی لاتا اور ان کے اندر اوصافِ حمیدہ پیدا کرتا ہے۔ وکیل صاحب کی بیوی کی کچھ سمجھ میں نہ آیا اور وہ منھ بناتی اور نفرت کا اظہار کرتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔
مالک مکان کی بیوی نے یہ پوری بات اپنے شوہر کو بتائی اور کہا کہ یہ بات خطرے سے خالی نہیں ہے کہ کوئی مسلمان ہمارے گھر میں آئے اور یہاں قیام کرے۔ یہ بات مزید دکھ اور افسوس کی ہے کہ ایسا شخص ہمارے مکان میں آئے جو ہندو سے مسلمان بن گیا ہو۔ یہ تو ہمارے لیے بڑی شرم اور بے عزتی کی بات ہے۔ ہمیں ہر قیمت پر اسے روکنا ہوگا۔ اگر یہ بات ہمیں پہلے معلوم ہوتی کہ ہمارے کرائے دار کا کوئی عزیزمسلمان بن گیا ہے تو ہم ہرگز اپنا مکان اسے کرائے پر نہیں دیتے۔
مکان مالک وکیل صاحب کے علم میں جب یہ بات آئی تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گئے اور فوراً ہماری بہن کے پاس گئے۔ بہن سے انھوں نے دھمکی بھرے انداز میں کہا کہ میرے مکان میں کوئی مسلمان نہیں آسکتا اور وہ تو بالکل نہیں جو ہندو سے مسلمان بنا ہو۔ مجھے مسلمانوں سے سخت نفرت ہے اور میں نہیں چاہتا کہ کوئی مسلمان میرے گھر میں آئے۔ آئندہ اگر آپ نے اپنے مسلمان بھائی کو یہاں بلایا یا وہ خود یہاں آیا تو میں اپنا مکان آپ سے خالی کرالوں گا۔ اس بات کو یاد رکھیے گا۔
میری بہن نے فون پر مجھے اس صورتِ حال کی اطلاع دی اور اپنی بے چینی اور پریشانی کا اظہار کیا۔ انھیں یہ کسی طرح گوارا نہ تھا کہ میرا ان کے گھر آنا جانا مستقل طور پر بند ہو جائے۔ مالک مکان کے اعتراض اور دھمکی سے وہ بہت فکرمند ہو گئیں۔ میں نے اپنی بہن کو تسلّی دیتے ہوئے صبر وتحمّل سے کام لینے کی تلقین کی اور انھیں امید دلائی کہ خدا نے چاہا تو اس کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔ اس صورتِ حال سے فکر اور تشویش مجھے بھی تھی اور میں اپنی جگہ اس بات پر غور کرنے لگا کہ یہ مسئلہ کس طرح حل کیا جائے۔ اس کا کوئی حل میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ میں نے جماعت کے بعض ذمے داروں سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ انھوں نے بھی صبر سے کام لینے کا مشورہ دیا اور یہ بھی فرمایا کہ فی الحال بہن کے گھر نہ جاکر ان سے ملاقات کسی اور جگہ کر لیا کریں۔ میں اللہ سے دعا بھی کر رہا تھا کہ وہ اس کا کوئی حل نکال دے۔
ایک روز آفس میں حدیث کی ایک کتاب پر کچھ کام کر رہا تھا۔ اسی دوران ایک چیز میرے سامنے آئی اور مجھے اس میں امید کی کرن نظر آنے لگی۔ اور ایسا کئی بار ہوا کہ کوئی بڑا مسئلہ مجھے درپیش ہوا بظاہر جس کا حل ناممکن سا تھا مگر قرآن وحدیث میں اس کا حل مل گیا۔
میں نے فوراً اپنی بہن کو فون لگایا اور ان سے معلوم کیا کہ وکیل صاحب کے گھر سے باہر جانے کے اوقات کیا ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ عموماً صبح دس بجے سے شام چھ بجے تک وہ گھر سے باہر رہتے ہیں اور شام کو چھ بجے کے بعد ہی گھر آتے ہیں۔
دوسرے دن صبح گیارہ بجے میں نے اپنی بہن کو فون کیا اور وکیل صاحب کے بارے میں دریافت کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ گھر پر نہیں ہیں۔ یہ سن کر میں نے بہن کو اطلاع دی کہ میں آپ سے ملاقات کے لیے آپ کے گھر آ رہا ہوں۔ یہ سن کر وہ گھبرا گئیں اور آنے سے منع کرنے لگیں۔ انھیں اندیشہ تھا کہ میرے وہاں آنے سے کہیں کوئی ہنگامہ کھڑا نہ ہو جائے۔ انھیں وکیل صاحب کی دھمکی یاد آنے لگی۔ میں نے انھیں تسلی دی اور کہا کہ خدا نے چاہا تو سب ٹھیک ہی رہے گا۔ آپ مجھے آنے دیں کیوں کہ اس مسئلے کا حل تو نکالنا ہی ہے۔
میں بارہ بجے اپنی بہن کے گھر پہنچ گیا۔ بہن مجھے دیکھ کر بہت گھبرا گئیں اور پریشان ہو گئیں کہ اگر وکیل صاحب کے علم میں یہ بات آگئی تو بڑی مصیبت کھڑی ہو جائے گی۔ چناں چہ مجھے بٹھا کر وہ کمرے کا دروازہ بند کرنے لگیں تاکہ وکیل صاحب کی بیوی کی نظر مجھ پر نہ پڑے۔ وکیل صاحب اور میری بہن کا گھر آمنے سامنے تھا اور دونوں کا صحن مشترک تھا۔ میں نے اپنی بہن سے کہا کہ وکیل صاحب کی بیوی کو یہاں بلا لیں میں ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ سنتے ہی بہن کی حالت اور زیادہ خراب ہوگئی، جیسے وہ غش کھا کر گر پڑیں گی۔ میرے اصرار پر انھوں نے وکیل صاحب کی بیوی کو بلوا لیا۔ وکیل صاحب کی بیوی نے مجھے ہاتھ جوڑ کر ’’نمستے‘‘ کہا جیسا کہ غیر مسلموں میں دستور ہے۔ میرے اشارہ کرنے پر وہ میرے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئیں۔ دوسری کرسی پر میری بہن بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے فوراً اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے مٹھائی کے دو ڈبے نکالے، ایک ڈبہ اپنی بہن کی طرف بڑھایا اور دوسرا وکیل صاحب کی بیوی کے سامنے پیش کیا۔ وکیل صاحب کی بیوی نے اسے لینے سے انکار کیا تو میں نے عرض کیا کہ دو دن قبل ہماری عید تھی۔ عید کے مبارک موقع پر مجھے اپنی بہن کے لیے مٹھائی پہنچانی تھی۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہاں میری ایک اور بہن بھی ہے، اس لیے دونوں بہنوں کے لیے مٹھائی لایا ہوں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک بہن کے لیے مٹھائی لاتا اور دوسری کو نظرانداز کر دیتا۔ اس لیے آپ کو اسے قبول کرنا ہی ہوگا۔ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ یہ مٹھائی ’’دُرگا سویٹ ہاؤس‘‘ کی ہے (کسی مسلمان کے یہاں کی نہیں ہے) اسے آپ بلا جھجک اور بلا تکلف استعمال کر سکتی ہیں۔ میرے اصرار پر انھوں نے مٹھائی کا ڈبہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں تھوڑی دیر وہاں رکا اور چائے ناشتے سے فارغ ہوکر جلد واپس آگیا۔
گھر آکر میں وکیل صاحب کے ردِّعمل کا انتظار کرنے لگا۔ مگر رات تک بہن کا فون نہیں آیا اور مجھے بھی ان کو فون کرنے کی ہمت نہ ہوئی کہ کہیں کوئی ناخوشگوار بات سننے کو نہ مل جائے۔
دوسرے دن میری بہن کا فون آیا اور انھوں نے مجھے بتایا کہ وکیل صاحب تم سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ آج شام کو ہی تم ان سے ملاقات کے لیے یہاں آجاؤ۔ میں نے دریافت کیا کہ سب خیریت تو ہے، وکیل صاحب کا ردِّ عمل کیا ہے؟ بہن نے بتایا کہ بظاہر تو سب ٹھیک ٹھاک ہے، بقیہ تم سے ملاقات پر ہی معلوم ہوگا کہ انھوں نے تمھیں کیوں بلایا ہے اور تم سے کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔
شام کو میں وکیل صاحب سے ملاقات کے لیے اپنی بہن کے گھر پہنچ گیا۔ اندر سےمیں بھی کچھ خوف زدہ تو تھا ہی کہ کہیں وکیل صاحب کوئی ہنگامہ نہ کھڑا کر دیں۔ بہن بھی بہت ڈری ہوئی تھیں۔
جب وکیل صاحب کو میرے آنے کی اطلاع دی گئی تو وہ خود میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور ڈرائنگ روم میں بڑے احترام کے ساتھ بٹھایا۔ چائے ناشتے کا پہلے سے پرتکلف اہتمام تھا۔ انھوں نے بڑی محبت کے ساتھ میری تواضع کی۔
چائے وغیرہ سے فارغ ہو کر وکیل صاحب نے مجھے پاس ہی رکھے ہوئے صوفے پر بٹھایا اور مجھ سے فرمایا کہ بھائی! میں مسلمانوں کے سلسلے میں بڑی غلط فہمی کا شکار تھا، اسی لیے جب مجھے معلوم ہوا کہ آپ مسلمان ہوگئے ہیں تو آپ سے بھی مجھے سخت نفرت ہوگئی۔ اس لیے میں نے آپ کی بہن سے کہہ کر آپ کے یہاں آنے پر پابندی لگا دی۔ واقعی میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ کے ’ناپاک‘ قدم میرے گھر میں پڑیں۔ مگر کل آپ نے خلوص ومحبت کا جو رویہ اختیار کیا اس نے مجھے آپ کے بارے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر دیا۔ آپ کو علم تھا کہ میں آپ کے یہاں آنے کو پسند نہیں کرتا، اس کے باوجود آپ نے میری بیوی کو اپنی بہن تسلیم کرتے ہوئے انھیں عید کے موقع پر مٹھائی کا تحفہ پیش کیا۔ سب سے زیادہ مجھے آپ کی اس بات نے متاثر کیا کہ آپ ہمارے لیے جو مٹھائی لائے وہ کسی مسلمان حلوائی کے بجائے ہمارے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے ہندو حلوائی کے یہاں سے لائے تاکہ ہم اسے استعمال کرسکیں۔ یہ بات آپ کے خلوص و محبت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس رویے سے میری بیوی بھی متاثر ہوئی اور میں خود بھی، اور آپ کے بارے میں ہماری غلط فہمی دور ہوئی۔
وکیل صاحب نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مجھ سے یہ بھی فرمایا کہ میں نے آپ کی بہن سے سختی سے منع کر دیا تھا کہ آپ کو یہاں نہ بلائیں۔ بھائی! یہ مکان آپ کا ہے، آپ جب چاہیں یہاں آئیں اور جب تک چاہیں قیام کریں، ہمیں آپ کی آمد سے خوشی ہوگی اور آپ کا آنا ہمارے لیے باعثِ برکت ہوگا۔
وکیل صاحب کے اس خوش گوار ردِّ عمل پر مجھے یقیناً بڑی حیرت ہوئی۔ مجھے یہ تو یقین تھا کہ ان کا رویہ میرے سلسلے میں کچھ نہ کچھ ضرور تبدیل ہوگا، مگر وہ اس قدر متاثر ہوں گے اس پر ضرور مجھے حیرت ہوئی اور میں نے دل ہی دل میں ربّ کریم کا شکر ادا کیا، کیوں کہ وہی دلوں کو پھیر نے والا ہے۔
وکیل صاحب اپنی بات کہہ چکے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں نے آپ کے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہے وہ صرف اس لیے کیا ہے کہ اسلام نے مجھے اس کا حکم دیا ہے اور ہر مسلمان اسلام کی ہدایت پر عمل پیرا ہونے کا پابند ہے۔ اس کے بغیر وہ مسلمان ہی نہیں۔ موقع کی مناسبت سے میں نے آسان زبان میں اسلام کا مختصر تعارف کرایا اور بتایا کہ اسلام نفرت کا نہیں محبت کا دین ہے۔ اس کی نظر میں سارے انسان ایک خاندان، ایک ماں باپ کی اولاد اور بھائی بھائی ہیں۔ اپنے بھائیوں کو آرام پہنچانا اور انھیں کسی قسم کی تکلیف نہ دینا اس کی اہم ہدایت ہے۔
اسلام کے بارے میں میری یہ باتیں سن کر وکیل صاحب کو بڑی حیرت ہوئی اور انھوں نے مجھ سے ہندی یا انگریزی میں اسلامی لٹریچر طلب کیا۔ اس پوری گفتگو کے دوران وکیل صاحب کی بیوی وہاں موجود رہیں۔ میں جب تک وکیل صاحب کے پاس بیٹھا رہا، اسلام کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوتی رہی۔
وکیل صاحب کےیہاں سے فارغ ہوکر میں بہن کے پاس آیا اور انھیں مختصر روداد سنائی۔ انھوں نے اور ان کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی۔ اس ملاقات کے بعد بھی میں ان کے لیے اسلامی کتابیں بھیجتا رہا۔
بظاہر ایک بڑا مسئلہ اتنی آسانی کے ساتھ حل ہو گیا، یہ کیسے ہوا اور اس کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے؟ یہ سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے۔
درحقیت یہ کرشمہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کی پاکیزہ تعلیمات کا ہے۔ دراصل جب میری بہن نے مجھے بتایا کہ وکیل صاحب نے ایسی ایسی بات کہی ہے تو میں اس کے حل کی تدبیر سوچنے لگا۔ اس دوران پیارے نبی ﷺ کا یہ قول میرے سامنے آیا:
”ایک دوسرے کو تحفے دیا کرو کیوں کہ بلا شبہ تحفے دلوں کے کہنے اور عداوتوں کو ختم کر دیتے ہیں۔‘‘ (ترمذی)
اس قول رسولؐ پر نظر پڑتے ہی میرے دل نے گواہی دی کہ مسئلے کا حل مل گیا۔ وکیل صاحب کے دل میں نفرت کی جو آگ تھی، میں نے اسے اسی نبوی نسخے کے ذریعے بجھانے کی کوشش کی اور الحمدللہ اس میں کام یابی حاصل ہوئی۔
ربّ کریم نے قرآن مجید میں کتنی سچی بات فرمائی ہے کہ ’’بھلائی اور برائی برابر نہیں، تم ( برائی کو ) عمدہ سے عمدہ رویے کے ذریعے دور کرو۔ پھر تم کیا دیکھو گے کہ وہی شخص تمھارے اور جس کے درمیان عداوت تھی، ایسا ہوگیا ہے جیسے کوئی جگری دوست ہو‘‘۔ ( حم السجدۃ، ۴۱:۳۴) اس آیت کریمہ کی صداقت ہم نے اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ لی۔
قرآن مجید اور پیارے نبی ﷺ کی کسی بھی ہدایت سے ہمیں سرسری انداز میں نہیں گزرنا چاہیے۔ ان کے اندر بڑی حکمت، تاثیر اور برکت رکھی گئی ہے، اس بات کا ہمیں یقین ہونا چاہیے۔
مسلمانوں اور اسلام کے سلسلے میں رائے عامہ کی مثبت تبدیلی کے لیے قرآن وحدیث کی یہ ترکیبیں (Tips)ا ٓزماکر دیکھیے، حیرت انگیز نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔







