غزہ اس صدی کا نہیں، انسانی تاریخ کا اعجوبہ ہے۔
غزہ حوصلوں کو جلا بخشنے والا شہر ہے۔
غزہ عزیمت کا راستہ دکھانے والی شاہ راہ ہے۔
غزہ صحابہ کی یادیں تازہ کردینے والی بستی ہے۔
غزہ ایمان کی تازگی کا سامان ہے۔
غزہ اسلام کی عملی شہادت کی بہترین مثال ہے۔
اس کے نوجوان چھوٹے خواب دیکھنے والے نو جوان نہیں، اس کے بوڑھے ضعیف الارادہ بوڑھے نہیں، اس کی عورتیں کم زور اور بے ہمت عورتیں نہیں اور اس کے بچے بچکانی امنگیں رکھنے والے بچے نہیں۔
اسلامی ہیرو شپ کو ہم صرف کتابوں میں پڑھتے تھے، اللہ تعالی نے غزہ والوں کی صورت میں ہمیں اسلامی ہیروشپ کا مشاہدہ کرا دیا۔
غزہ والوں نے اپنے خون کی روشنائی سے لکھ کر بتایا کہ سب سے اعلی، سب سے ارفع، سب سے زیادہ شان دار اور عالی شان اسلامی ہیروشپ ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے!
قریب دو سال سے غزہ کے جیالے دینی غیرت کے بے مثال نمونے پیش کررہے ہیں، کیا انھیں دیکھ کر ہمارے دلوں میں بھی غیرت بیدار ہورہی ہے۔ ذرا اپنے دل کو ٹٹولیے کیا غزہ والوں کی غیرت مندی کے کارنامے دیکھ کر آپ کے دل میں دینی غیرت بڑھی ہے یا بے حسی اور بے غیرتی کا راج برقرار ہے۔
قریب دو سال سے عالم اسلام کا ایک شہر غزہ پورے عالم اسلام بلکہ پوری دنیائے انسانیت کے لیے معلم کا کردار ادا کررہا ہے۔ غزہ قرآن کی آیتوں کا درس دے رہا ہے۔ سیرت کے اسباق تازہ کررہا ہے۔ اسلام کی اعلی تعلیمات کا نمونہ پیش کررہا ہے۔ دین حق کی عملی گواہی دے رہا ہے۔ قربانی اور عزیمت کاسبق پڑھا رہا ہے۔
کیاان دوسالوں میں ہمارے اندر بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں؟
اگر ہم نے غزہ کی خبروں کو دیکھ کر صرف آنسو بہائے ہیں اور ہمارے اندر کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ غزہ ہمارے لیے اسکول ہے یا تھیٹر ہے۔
ایک ہوتا ہے تھیٹر جہاں انسان خوشی و غم اور طرب و الم کے جذبات کا لطف اٹھاتا ہے۔۔۔وہ کامیڈی دیکھ کر ہنستا ہے، ٹریجڈی دیکھ کر روتا ہے، ایکشن دیکھ کر تالی بجاتا ہے اوررقص و سرود دیکھ کر مست ہوجاتا ہے۔اچھے رول اور پرفارمنس کی تعریف کرتا ہے اور خراب رول اور پرفارمنس کی مذمت کرتا ہے۔
اور ایک ہوتا ہے اسکول جہاں انسان سیکھتا ہے۔۔جہاں اس کی فکر سازی، کردار سازی اور رویہ سازی ہوتی ہے۔
تھیٹر انسان کے وقتی جذبات کو متاثر کرتا ہے اسکول انسان کی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے، اس کی پوری فکر اور رویے کو تبدیل کردیتا ہے۔
آپ جائزہ لیجیے کہ گذشتہ دو سال سے غزہ شدید مصائب میں جس صبر واستقامت کا نمونہ پیش کررہا ہے وہ آپ کے لیے تھیٹرمیں پیش ہونے والا ڈرامہ ہے یا اسکول میں پڑھایا جانے والا شخصیت ساز سبق ہے۔
غزہ کی خبریں دیکھ کر آپ کا دل بے شک دکھتا ہے، لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے پوچھیے کہ صرف دل دکھتا ہے یا دل بدلتا بھی ہے۔ اگر دل دکھتا تو ہے مگر اس کی غفلت پر کوئی اثر نہیں پڑتاہے، دل میں اللہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی ہے، آخرت کی فکر پیدا نہیں ہوتی ہے، اللہ کے بندوں سے محبت اور ان کے لیے فکر مندی نہیں بڑھتی ہے تو اس کا مطلب آپ نے غزہ کو صرف ایک تھیٹر کی طرح دیکھا ہے۔
اگر آپ غزہ کے خونی مناظر دیکھ کر بے تحاشا آنسو بہاتے ہیں مگر آپ کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے تو اس کا مطلب غزہ آپ کے لیے محض تھیٹر ہے۔
اگر آپ غزہ کی خبریں سن کر بے چین ہوجاتے ہیں راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے ڈپریشن کی کیفیت ہوجاتی ہے لیکن آپ کے اخلاق وکردار میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ غزہ آپ کے لیے تھیٹر ہے جس سے آپ نے بہت گہرا اثر لیا ہے۔
غزہ نےقریب دو سال سے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو یہ بتایا ہے کہ
ایک اعلی مقصد کے ساتھ زندگی کیسے گزاری جاتی ہے اور موت کا کس طرح سامنا کیا جاتا ہے۔
ایک اعلی مقصد کی راہ میں جب مصیبتیں آتی ہیں تو صبرواستقامت کا دامن کیسے تھامتے ہیں۔
ایک اعلی مقصد کی خاطر جب مطالبہ ہوتا ہے تو بلا ترددکس طرح بڑی سے بڑی قربانی پیش کی جاتی ہے۔
اللہ پر ایمان لانے والے اپنے اعلی مقصد کی خاطر دینی اخوت کے مضبوط رشتے میں جڑے ہوتے ہیں۔
ایک اعلی مقصد کی خاطر جمع ہونے والے ایک دوسرے کے لیے ایثار کا پیکر بن جاتے ہیں۔
اللہ پر ایمان رکھنے والے اللہ کی کتاب قرآن مجید کو اپنے دل میں بساتے ہیں۔ وہ جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو دنیا کی ساری مصیبتوں کو بھول جاتے ہیں۔
اللہ پر ایمان رکھنے والے ہر وقت اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔
اللہ پر ایمان رکھنے والے اللہ کے وعدوں پر پورا یقین رکھتے ہیں۔
اللہ پر ایمان رکھنے والے اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں اور راستے کے کانٹوں سے نہیں الجھتے ہیں۔
وہ اندرونی مسائل پراپنی قیمتی توانائی ضائع نہیں کرتے۔
وہ اعلی مقصد کے لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
وہ اپنی اعلی صلاحیتیں اعلی مقصد کی راہ میں لگا دیتے ہیں۔
وہ خوف اور مایوسی سے آزاد اور امید و توکل سے سرشار رہتے ہیں ۔
غزہ والوں نے ہمیں یہ دکھادیا کہ اللہ والے کیسے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ان اللہ والوں سے کیا سیکھا۔
اگر آپ اپنی انا کے لیے اپنے اصولوں کو پامال کررہے ہیں تو یاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
اگر آپ آپس میں لڑ رہے ہیں اور اپنی توانائیاں آپسی جھگڑوں میں کھپارہے ہیں تویاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
اگر آپ اپنی چھوٹی سی دنیا میں مست ہیں اورآپ کے دل میں دین کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ نہیں ہے تویاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
اگر آپ اپنا سارا مال اپنی حقیر اور معمولی خواہشات میں لگادیتے ہیں اور دین کی راہ میں کچھ نہیں لگاتے تویاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
اگر آپ کے اندر شکوہ شکایت کا مزاج باقی ہےاور کچھ کرنے کا جذبہ نہیں ہے تویاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
اگر آپ کے اندر دین کے سلسلے میں بے حسی ہے تویاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
اگر آپ نے اپنے بچوں کی دینی تربیت شروع نہیں کی تویاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
اگرآپ کے دل میں اپنے پیارے وطن کو برائیوں اور خرابیوں سے پاک کرنے کا جذبہ نہیں ہے تویاد رکھیے کہ آپ نے غزہ سے کچھ نہیں سیکھا۔
ذراسوچیے!
کہاں وہ غزہ والے جنھوں نے اصولوں کی خاطر گھر بار، جان مال سب قربان کردیا اور کہاں وہ خام سردارانِ قوم جو معمولی مفاد اور حقیر انا کے لیے اپنے اصولوں اورعقائد کا سودا کرلیتے ہیں۔
کہاں وہ غزہ والے جو مختلف میدانوں میں اعلی ترین اور بہترین تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر اس تعلیم کو اپنے اعلی مقاصد کے حصول کے لیے وقف کردیتے ہیں اور کہاں وہ کوتاہ نظر نوجوان جو تعلیم اور کیریر کا بہانا بناکر اپنے مقصد زندگی کو یکسر فراموش کردیتے ہیں۔
غزہ نے خود کو اتنی بلندی پر پہنچادیا کہ ملت کو لاحق بہت سی پستیاں صاف نظر آنے لگیں۔ ان پستیوں سےابھرنے کا وقت آگیا ہے۔یہی غزہ کی نفیر عام ہے۔
مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025