اُٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

محمد اشفاق احمد

میں کہاں رُکتا ہوں عرش وفرش کی آواز سے

مجھ کوجانا ہے بہت اونچاحدپرواز سے

اسلام سے وابستگی کے نتیجے میں ملت اسلامیہ کے پاس ایک ایسا منصوبہء عمل موجودہے جواس سے انتھک محنت اورمسلسل جدوجہد کاطالب ہے ۔

اسلام نے زندگی گزارنے کا اسے ایک ایسا لائحہء عمل دیا ہے جس میں اُس کی دنیا وآخرت دونوں کی سرخروئی ہے ۔

اسلام نے اپنے ماننے والوں کوقرآن میں خیر امت (بہتر ین گروہ )اوراُمت وسط کے نام سے موسوم کیا ہے ۔اوران پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ اسلام کی صورت میں ان کے پاس جو تعلیمات ہیں وہ اس کے گواہ اورشاہدبن کراُٹھیں اور ان تعلیمات میں انسانیت کے درد کادرماں تلاش کریں ۔آج انسانیت ذات پات ،رنگ ونسل ، خطے اورعلاقے کی بنیاد پر منقسم ہو کر مفادات کی جس کھینچاتانی میں مبتلاہے ۔اس سے اُ س کو نکال کر عدل وانصاف ، مرحمت ومواسات، احترام انسانیت ، اخوت ومساوات ، امن اورشانتی ، سکون اوراطمینان جیسی نعمتوں سے مالامال کرے ، انسانوں کویہ بتائے کہ اس کی پریشانیوں کاحال مادہ پرستی اور مال ودولت کے حرص میں نہیں بلکہ ایک ایسے نظریہ حیات میں ہے جو انسانوں کے درمیان حقوق واختیار ات کی جنگ نہیں بلکہ فرائض کی ادائیگی اورایک دوسرے کی ضرورتوں اورپریشانیوں میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہے ۔یہی وہ پیغام تھا جس کولے کرملت اسلامیہ ہند کواہل ملک تک پہنچ کران کو بھی بتاناتھا کہ تمہاری حقیقی ترقی کاراز بھی اسی پیغام میں مضمر ہے ۔

افسوس یہ ہے کہ ملت اسلامیہ ہند اپنے اس اہم فریضہ کوفراموش کرکے ، دنیا طلبی اورمادی آسائشوں کے حصول ،جس کاآغاز ابتداء ً بنیاد ی ضرورتوں کی تکمیل اورا ختتام ھل من مزید کے کبھی ختم نہ ہونے والے دائر ے پر ہوتاہے ، میں گم ہوگئی ۔ اس کویہ بھی یاد نہ رہاکہ وہ کس مقصد کے لیے برپا کی گئی تھی ،اس کوکیا کرنا تھا اوروہ کیا کررہی ہے ۔ شب وروز کے گور کھ دھندوں میں وہ اس طرح مصروف ہوئی کہ یاد دلانے والوں کی آواز پر بھی اُس نے دھیان نہ دیا۔ اس صور تحال کااطلاق محض مسلمانان ہند پر نہیں ہوتا بلکہ مسلم ممالک اوربالخصوص عرب ممالک پر بھی صادق آتاہے ۔استحصالی ممالک نے انھیں چھوٹے چھوٹے علاقائی اورگروہی مفادات کی چمک دمک دکھا کر ان سے اپنے اپنے بڑے بڑے معاشی مفادات حاصل کیے ۔ اعلی مقاصد کے لیے برپاکی گئی امت کو چھوٹی چھوٹی جماعتوں میں تقسیم کرکے ، ان کی نگاہوں سے وسعت نظر ی اورآفاقیت کی روح سلب کرلی ہے

توہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا

ورنہ گلش میں علاج ِتنگی ِداماں بھی ہے

ان کے علاقائی تنازعوں میں ان طاقتوں نے ان کی پشت پناہی کرکے ، ان کوایک دوسرے سے نبر داز ماکیا اورکمزور کردیا اورجب یہ دیکھا کہ اب اس کاجادو کام نہیں کررہاہے تو پھر ان کے درمیان مسلکی تنازعات کو بھڑ کایا اورایک دوسرے کے مدمقابل کرکے امت کی طاقت کوکمزور کرنے کے درپے ہوگئی ۔افسوس امت کی آنکھوں پر ایسا پردہ پڑگیا کہ وہ دوست دشمن کی شناخت سے عاری ہوگئی اورنتیجہ یہ کہ خون مسلم ارزاں ہوگیا ۔

ملک عزیز میں حالیہ انتخابات کے جو نتائج سامنے آئے اوراس نے ترقی کا جو نعرہ دیا، دیکھنا یہ ہے کہ اس کاکیا انجام ہوگا۔ اہل نظر اوربالخصوص ملت اسلامیہ ہند کے باشعور افراد کے سامنے یہ بات واضح طورپر موجودہے کہ وہاں بھی کوئی نئی بات یا چمتکار نہیں ہے جس کے نتیجے میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ آج جو طاقتیں مرکز میںحکمراں ہیں وہ ریاستی حکومتوں میں بھی اقتدار میں رہی ہیں ۔کیا انہوں نے وہاں کی آبادیوں کے بنیادی مسائل کوحل کردیا ؟بجلی ، پانی ، کپڑا، مکان اورغذا اورعلاج کے معاملے میں عوام کے دکھ اورپریشانیاں ختم ہوگئیں ؟اصل میں گہرائی کے ساتھ اس ملک کے مسائل کودیکھنا ہوگا۔ اس کی بنیادوں میں جن تصورات کاعمل دخل ہے ۔ ان تک پہنچناہوگا۔یہاں تعاون باہمی اورانسانی ہمدردی کے بجائے یہ بات ذہن میں ہے کہ کچھ لوگوںکے مقدر ہی میں چھوٹے موٹے کام کرنا اورخدمت گزاربن کر رہنا ہے ۔ ان کووہ مقام حاصل نہیں ہوسکتاجو انسانوں کوشرف اوراحترام بخشتاہے ۔ ان کے مقدر ہی میں پسماند گی اورپچھڑاپن ہے ۔

افسوس کہ اس ملک کے طویل عرصے تک سیا ہ وسفید کے مالک ہونے کے باوجود ملت اسلامیہ اس فرق کوختم کرنے اورمٹانے میں کامیاب نہ ہوسکی۔

یقیناً اس فرق کواس نے اپنے عام انسانی رویے سے کم ضرورکیا ہے ۔

ان نئے حالات میں ملت کواز سرنواپنے فرض منصبی کو سامنے رکھ کر صورتحال کا جائزہ لینا ہوگا۔ وہ یقینا اس نتیجے پر پہنچے گی کہ:

علاج اُس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

یا پھر علامہ اقبال کی زبان میں

یہ نغمہ فصل گل ولالہ کا نہیں پابند

بہار ہوکہ خزاں لاالہٰ الا اللہ

اس سلسلے میں ملت اسلامیہ کوطویل اورمختصر مدتی منصوبہ بنا نا ہوگا۔

۱) سب سے پہلا کام امت میں خیر امت ہونے کے منصب کااستحضار اوراس کے لیے ضروری تیاری۔

۲) اہل ملک تک اسلام کے حیات افروز پیغام کو پہنچانا اوراس سلسلے کی جملہ تقاضوں کی تکمیل۔

اول الذکر مقصد کے لیے امت کے تمام طبقات تک امت وسط اورخیر امت ہونے کے احساس کو بیدار کرنا۔ تمام ذرائع ابلاغ ،پر یس ،خطابات جمعہ اورمساجد کے ذریعہ اس پیغام کی مسلسل یاد دہانی۔

امت کے مردوخواتین کویکساں طورپر اس کام کی طرف متوجہ کرنے کے لیے جہاں اُن میں دینی شعور کی بیدار ی کاکام کرنا ہوگاوہیں ان میں موجود ناخواند گی کو دور کرنا ہوگا۔

2011؁ء کی مردم شمار ی کے مطابق اس وقت مجموعی حیثیت سے پورے ملک کی شرح خواندگی 75%ہے اس میں مرد 85%اورعورتیں 65%خواندہ ہیں ۔ مسلمان 2001؁ء کے اعداد وشمار کے مطابق تعلیمی طورپر پسماند ہ ہیں ۔ ان دس سالوں میں اگر یہ مان لیا جائے کہ ملک کی شرح خواندگی میں بحیثیت مجموعی 10%کا اضافہ ہو اہے تواسی لحاظ سے مسلمانوںکی موجود ہ شرح خواندگی کومحتاط طریقہ سے مردوں کی خواند گی کو 73%اور مسلم عورتوں کی خواندگی کو 60%کہا جاسکتاہے ۔اس سلسلے میں مر دوں اورعورتوں میں تعلیم بالغان وبالغات کے مراکز قائم کرنا اورانہیں ان مراکز میں حروف شناسی کے ساتھ خداشناسی کی بھی تعلیم دیناہوگا۔ اب یہ کام بہت آسان ہے ۔ اس سلسلے میں حکومت کی اسکیموں سے بھی فائد ہ اُٹھایا جاسکتاہے اورملت کے پڑھے لکھے افراد ،علماء اورریٹائرڈٹیچرس بہت اہم کام انجام دے سکتے ہیں ۔ ان مراکز میں نوشت وخواند کے ساتھ ساتھ ابتدائی دینی تعلیم کاکام ساتھ ساتھ انجام دیا جائے ۔ اس سلسلے میں تقریباً ہر جماعت نے دینی تعلیمی رسالے بنائے ہیںان سے کام لیا جاسکتاہے ۔جماعت اسلامی ہند نے بالخصوص سچادین کے نام سے اسلامیات کاایک جامع سیٹ تیار کیا ہے ۔جواردو ، ہندی اورانگریزی زبانوں کے علاوہ علاقائی زبانوں میںبھی موجودہے ، جہاں یہ بچوں کے لیے مفید ہے وہاں بڑے بھی اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آسان زبان میں دینی لڑیچرکی بھی کمی نہیں ۔افسوس یہ ہے کہ نہ صرف کم پڑھے لکھے افراد کی وہاں تک پہنچ نہیں ہے اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بھی دینی علم کے لحاظ سے بہت پچھڑے ہوئے ہیں ۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے افراد بالخصوص اساتذہ مرد وخواتین سے جب دین کے بارے میں بنیادی باتیں پوچھی جاتی ہیں تووہ بتانے سے قاصر رہتے ہیں ۔ ماحول میں دین کے تئیں کچھ اتنی بیگانگی پائی جاتی ہے کہ ان کواس ضرورت کااحساس تک نہیں ہوتا۔ ہمارے روزہ مرہ کے مساجد میں ہونے والے پروگرام اوربالخصوص خطبات جمعہ اگر ایک ترتیب کے ساتھ دیے جائیں تودین کااچھاخاصا علم بہم پہنچایا جاسکتاہے اورعوام کے ایک بڑے حصے میں دینی شعور بیدار کیا جاسکتاہے ۔

لیکن دیکھا یہ جارہاہے کہ اب بھی بہت سے مقامات پر بغیر سمجھے بوجھے عربی خطبے پر اکتفاکیا جاتاہے ۔جس کی وجہ سے عوام دینی تعلیم سے بالکل ہی محروم ہوجاتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں منصوبہ بند طریقے سے ان خطبات کو موثر بنایا جائے ۔ اگر واقعی یہ خطبات اس طرح ہر مسجد میں دیئے جائیں تو خطیب اورعلماء جن کے بارے میں یہ گمان ہے کہ ان کوسوائے مسجد کی امامت اورمدرسوں میں تدریس کے کوئی اورکام نہیں ، ناکافی ثابت ہو ںگے اوربعض اب بھی ناکافی ثابت ہورہے ہیں ۔ جو لوگ نسبتاً موجود لوگوں میںکچھ دین کی شدبدرکھتے ہیں ، ان سے کام لیا جارہاہے ۔

جن پر واقعی علامہ اقبال کے اس شعر کا اطلاق ہوتاہے

قوم کیا ہے قوموں کی امامت کیا ہے

اس کو کیا جانیں بیچارے دو رکعت کے امام

اس سلسلے کادوسرا بڑا اہم کام بچوں کی دینی تعلیم وتربیت ہے ۔ ملک کی آزادی کے بعد تعلیم کاخوب چر چاہوا حتی کہ یہ نشانہ مقرر کیاگیا کہ 1960؁ء یعنی دستور کے نفاذ کے دس سالوں میں ۸ تا ۴ا؍سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیمی قانون فراہم کردی جائے گی ۔ لیکن 2010؁ ء میں جاکر لازمی تعلیم کاقانون منظور ہوا۔ تین سال کی مہلت اس کے نفاذ کے سلسلے میںدی گئی لیکن پتہ نہیں یہ سفر کب طے ہو۔ ریاستی حکومتیں مالیات کی کمی کی شکایات کررہی ہیں۔

افسوس یہ کہ ملت اسلامیہ ہند جس کے نبی نے آج سے 1400؁ء سال پہلے حصول علم کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیا تھا اورجس کی کتاب کاآغاز اقرأ سے اوراقرأ وربک الاکرم الذی علم بالقلم سے ہوتاہے ۔نہ صرف اپنی نوخیز نسلوں کی تعلیم وتربیت کاانتظام کرتی بلکہ ملک اورانسانیت کو وسیع پیمانے پر ا س طرف متوجہ کرتی لیکن ملت نے اس سلسلے میں بے پناہ غفلت کا مظاہر ہ کیا ۔ یقیناً اس کی معقول وجوہات بھی ہوسکتی ہیں ۔ تاریخی عوامل بھی یقینا اس میں کار فرماہیں۔ لیکن بہر حال بہت زیادہ دنوںتک یہ عذر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ امت اپنے بچوں کومحض اسکولوں میں بھیج کر مطمئن نہیں ہوسکتی بلکہ امت کوان کی دینی تعلیم وتربیت کاانتظام بھی کرنا ہوگا۔اس سلسلے کی جتنی بھی تدابیر ممکن ہیں ان سب کو اختیار کرناہوگا۔

۱) ایساتعلیمی نظام جس میں بچوں کی مکمل ابتدائی اورثانوی تعلیم اسلامی نقطہء نظر سے دی جائے۔

۲) ایسے اسکول قائم کرناہوں گے جہاں عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کابھی نظم ہو۔

۳) انگریزی، علاقائی اورمادری زبان کے تعلیمی اداروں میں لازماًکرناہوگا۔

۴) ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے جہاں دینی تعلیم کاانتظام نہیں ہے ان کے لیے جزوقتی ،اصباحی ،شبینہ ،مدارس فاصلاتی تعلیم کے مراکز، سمر کلاسز ،اورتعطیلاتی کلاسز کاانتظام کرنا ہوگا۔

۵) ان تمام تعلیمی مراکز میں رسمی دینی تعلیم نہ ہو بلکہ آغاز ہی سے طلبہ کو مختلف اذکار ، دعائوں اوراحادیث کاآسان مفہوم بھی ذہن نشین کرایا جائے تاکہ پہلے ہی دن سے اُنہیں یہ احساس ہو کہ ان کی عبادات اوراذکار یہ سب بامعنی ہیں اوریہ کہ قرآن ہمارے لیے دستورزندگی ہے ۔اس لیے اس کوسمجھنے کی طرف انھیں برابر ان کے سن وسال کے لحاظ سے متوجہ رکھاجائے ۔

۶) اعلی دینی تعلیمی اداروں میں بھی عصری آگہی کے عنصر کوحسب ضرورت بڑھانا ہوگا۔

میرے خیال میں مختلف الجہات کوششوں کواگر مذکورہ بالا لائحہ عمل کو سامنے رکھ کر مرکوز کیا جائے تو بہت جلد صورتحال میں تبدیلی ہوسکتی ہے ۔ اوریہ امت اپنے منصبی فرائض کی انجام دہی کے قابل ہوسکتی ہے اورملک جن پریشانیوں اورجن بحرانوں سے گزر رہاہے اورانسانیت تباہی کے جس دہانے پر پہنچ گئی ہے اس کوامن وآشنی ، حقیقی عدل وانصاف سے ہم کنار کیا جاسکتاہے ۔

یہ گھڑی محشرکی ہے توعرصہء محشر میں ہے

پیش کرغافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے

اورعلامہ اقبال کی زبان میں وہ دن دور نہیں ہے ۔

اُٹھ کہ اب بز م جہاں کااورہی انداز ہے

مشرق ومغرب میں تیر ے دور کاآغاز ہے

اگست 2014

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau