غیر مسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارکباد دینا

قرارداد یوروپین کونسل فار افتا اینڈ ریسرچ

عبد الرحمن خان فلاحی

(فسطائی پروپیگنڈے کی وجہ سے ہندوستان میں ہندو مسلم باہمی روابط کم زور پڑتے جارہے ہیں، دوریاں بڑھ رہی ہیں، اور اس کے ساتھ ہی بدگمانیوں اور نفرتوں کو پنپنے کا موقع زیادہ مل رہا ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں میں ہندوؤں سے رابطے کی ضرورت کا احساس بھی بڑھ رہا ہے۔ سوسائٹی سے لے کر سوشل میڈیا تک کا جائزہ بتاتا ہے کہ ہندوتہواروں پر مسلمانوں کی طرف سے مبارک باد دینے کا سلسلہ بڑھا ہے۔ جوبظاہر اسی ضرورت کے احساس کا نتیجہ ہے۔ مبارک باد دینے کے عمل کو اگر دعوتی محرکات سے جوڑ دیا جائے تو مبارک باد پیش کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک مثبت رخ دیتے ہوئےامت کے نصب العین کے لیے مددگار بنایا جاسکتاہے،اس سلسلے میں عملی رہ نمائی بے شک مفید ہوسکتی ہے۔ لیکن اس سے قبل اہل علمکے لیے اس طرح کے واقعے پر  مبارک باد دینے کی شرعی حیثیت طے کرنا ضروری ہے۔ مسلم علما کا مشہور موقف تو یہی رہا ہے کہ غیر مسلموں کو ان کے تہواروں پر مبارک باد دینا درست نہیں ہے۔ تاہم اہل علم کا ایک گروہ اس کی اجازت کا قائل ہے۔ اس موقف کا اظہار یوروپین کونسل فار افتا اینڈ ریسرچ کی درج ذیل قرار داد میں ہوا۔ یہ کونسل عالم اسلام کے مشہور ومستند علما پر مشتمل ہےجن میں سر فہرست علامہ یوسف القرضاوی کا نام ہے۔ اس قرار داد کا تعلق یوروپ کے تکثیری سماج سے ہے، جہاں مسلمان عیسائی اکثریت کے درمیان رہتے ہیں۔ ہندوستان کے تکثیری سماج کے لیےجہاں مسلمان ہندو اکثریت کے درمیان رہتے ہیں، اس قرارداد کی کیا معنویت ہوسکتی ہے، یہ جاننے کے لیے ہم نے ملک کے بعض اہل علم سے رائے لی ہے۔ قرارداد کے ساتھ ان کی رائیں بھی منسلکہیں۔ امید ہے کہ اس موضوع پر سنجیدہ غوروفکر کا سلسلہ جاری ہوگا۔ یہ بات واضح رہنی چاہیےکہ اس مسئلے میں قرآن وحدیث میں اجازت یا ممانعت کی کوئی صریح نص نہیں ہے، یہ اجتہادی مسئلہ ہے، اور اسی لیے اس میں غور وفکر اور اختلاف رائے کی گنجائشبلاشبہ ہے۔ (محی الدین غازی)

قرار داد

مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے یہ مسئلہ بہت اہم اور حسا س ہے۔ اس سلسلے میں کونسل کے پاس ان بھائیوں اور بہنوں کے طرف سے بہت سے سوالات آئے جو ان ملکوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں، اور غیر مسلموں کے ساتھ رہ رہے ہیں، ان میںباہمی سماجی تعلقات قائم ہیں جن کے بغیر زندگی گزارنا دشوار ہے، مثال کے طور پر کہیں غیر مسلم ہم سایہ، ہم سبق اور ہم دست وشریک کار ہیں- بسا اوقات ضروری ہوجاتا ہے کہ ایک مسلم دوسرے غیر مسلم کی مدد اور تعاون کا اعتراف کرے، جیسے ایک غیر مسلم سپروائزر مسلم طالب علم کا بھرپور تعاون کرتا ہے، ایک غیر مسلم ڈاکٹرمسلم مریض کا بہترین علاج کرتا ہے -کہا جاتا ہے:انسان احسان کے بوجھ تلے دبا رہتا ہے۔

ایک عربی شاعر کا بہت عمدہ شعر ہے

أَحْسِنْ إلی النَّاسِ تَسْتَعْبِدْ قُلُوْبَہُمْ            فَطَالَمَا اسْتَعْبَدَ الإنْسَانَ إحْسَانُ!

’’لوگوں کے دلوں پر راج کرنا ہے تو حسن سلوک سے پیش آؤ- ایسا بہت ہوا ہے کہ حسن سلوک نے انسانوں پر راج کیا ہے-‘‘

ایک مسلم کی سوچ، اس کا رویہ اور نقطہ نظر ان غیر مسلموں کے تئیں کیا ہونا چاہیے جو امن پسند ہیں، صلح پسند ہیں، مسلمانوں سے خیرخوا ہی کا برتاورکھتے ہیں، ان سے دشمنی نہیں رکھتے ہیں، ان سے دین کو بنیاد بناکر جنگ نہیں کرتے ہیں، انہیں جلا وطن نہیں کرتے، یا جلا وطن کرنے میں دوسروں کی معاونت نہیں کرتے ہیں؟

قرآن کریم نے سورہ ممتحنہ کی دوآیتوں میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کے اصول وضوابط مقرر کردیے ہیں اور بلا یہ آیتیں بت پرست مشرکین کے سلسلے میں اتری ہیں- اللہ تعالی کا فرمان ہے:لَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ لَمْ یُقَاتِلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَلَمْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ أَنْ تَبَرُّوہُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَیْہِمْ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ. إِنَّمَا یَنْہَاکُمُ اللَّہُ عَنِ الَّذِینَ قَاتَلُوکُمْ فِی الدِّینِ وَأَخْرَجُوکُمْ مِنْ دِیَارِکُمْ وَظَاہَرُوا عَلَی إِخْرَاجِکُمْ أَنْ تَوَلَّوْہُمْ وَمَنْ یَتَوَلَّہُمْ فَأُولَئِکَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (الممتحنۃ: 8-9)

”اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملہ میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا – اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے-

اللہ بس ان لوگوں سے تم کو موالات کرنے سے روکتا ہے جنہوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہے-اور جوایسے لوگوں سے دوستی کریںگے تو وہ اپنے ہی اوپر ظلم ڈھانے والے بنیں گے”-

اوپر کی دونوں آیتوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کو امن پسند اورشر پسند وجنگ پسند غیر مسلموں کے ساتھ الگ الگ طریقہ سے پیش آنا ہے

پہلی آیت کریمہ امن پسندوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے کا حکم دیتی ہے – ”بِرّ” کے معنی احسان اور اداے حقوق کے ہیں- ”بِرّ” کا مفہوم”عدل وقسط” سے بڑھ کر ہے کیونکہ عدل وقسط کے معنی اپنا پورا حق لینے کے ہیں جبکہ ”بِرّ” کے معنی اپنے بعض حقوق سے دست برداری کے ہیں- عدل وقسط کا مطلب یہ ہے کہ جس کا جو حق واجب ہے وہ پورا پورا ادا کردیا جائے، اس میں کوئی کمی بیشی نہ کی جائے- ”بِرّ” کا مطلب یہ ہے کہ جس کا جو حق واجب ہے اس سے زیادہ ادا کیا جائے-

دوسری آیت کریمہ شرپسندوں اور جنگ پسندوں سے دوستی و وفاداری کرنے سے روکتی ہے کیونکہ وہ مسلمانوں سے دشمنی کرتے ہیں، ان سے جنگ کرتے ہیں، انہیں ناحق دیس بدر کرتے ہیں، صرف اس جرم کی پاداش میں کہ وہ اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں، جس طرح قریش اور مشرکین مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحاب کرام کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں-

قرآن کریم نے امن پسندوں کے ساتھ معاملہ داری کے لیے ”بِرّ” کا لفظ استعمال کیا ہے، یہ لفظ والدین کے حق کی ادائیگی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے جو اللہ کے حق کے بعد سب سے اہم اور افضل حق ہے- ارشاد باری تعالی ہے” وَبَرًّا بِوَالِدَیْہِ” (مریم: 14) یحییٰ علیہ السلام اپنے والدین سے حسن سلوک کرنے والے تھے-

بخاری ومسلم کی روایت ہے کہ حضرت اسما بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میری والدہ جو مشرک تھیں، میرے یہاں آئیں- میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :میری والدہ مجھ سے ملاقات کی بہت خواہش مند ہیں، کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو- (بخاری: 2620، مسلم: 1003)

بلاشبہ اسلام بت پرست مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کے ساتھ ذرا نرم رویہ اپناتاہے کیونکہ قرآن میں اہل کتاب کا ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے شادی وبیاہ جائز ہے فرمان باری تعالی ہے: وَطَعَامُ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ حِلٌّ لَکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَہُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ (المائدۃ: 5)۔

”اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور شریف عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور شریف عورتیں ان اہل کتاب میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی تمہارے لیے حلال ہیں”

اس شادی کے نتیجہ میں شوہر بیوی کے درمیان الفت ومحبت پیدا ہوتی ہے، ایک دوسرے سے پیار ہوجاتا ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْہَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّۃً وَرَحْمَۃً(الروم: 21) ”اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرواور اس نے تمہارے درمیان محبت وہمدردی پیدا کی”-

شوہر اپنی بیوی وشریک حیات سے پیار کیوں نہ کرے جبکہ اللہ نے ازدواجی تعلقات کے متعلق فرمایا: ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ (البقرۃ: 187) ”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو”

اس شادی کی وجہ سے دادیہالی اور نانیہالی دونوں خاندانوں کے درمیان باہمی تعلقات ورابطے استوار ہوتے ہیں- در اصل شادی سے لوگوں کے درمیان فطری تعلقات وقربت کا دروازہ کھلتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

وَہُوَ الَّذِی خَلَقَ مِنَ الْمَاء بَشَرًا فَجَعَلَہُ نَسَبًا وَصِہْرًا (الفرقان: 54)

’’وہی ہے جس نے انسانوں کو پانی سے پیدا کیا اور پھر ان کودادیہالی اور نانیہالی رشتوں سے جوڑا‘‘

شادی کے نتیجہ میں بچوں کو ماں کی ممتا ملتی ہے اور اسلام میں بچوں پر ماں کے بہت سے حقوق وواجبات ہیں-اگر ماں کتابیہ ہے تو کیا یہ صلہ رحمی اور حسن سلوک میں شمار ہوگا کہ سال کے بڑے بڑے تہوار گزر جائیں اور بچہ اپنی ماں کو مبارک باد نہ دے- بچہ اپنے نانیہالی رشتہ داروں کے ساتھ کیا سلوک کرے جیسے نانا، نانی، خالہ، خالو، ماموں اور ان سب کے بچے-

یقینا خونی اور قریبی رشتہ داروں کے بہت سے حقوق ہیں- اللہ تعالی کا فرمان ہے:

وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللَّہِ (الأنفال: 76)

’’اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں‘‘ دوسری آیت میں فرمایا: إِنَّ اللَّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِیتَائِ ذِی الْقُرْبَی(النحل: 90) ’’اللہ عدل احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے‘‘-

ماں کے رشتہ اور قرابت داری کی وجہ سے لوگوں پر ماں اوررشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنا فرض ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے حسن سلوک، وفاداری اور اطاعت کا پتہ چلتا ہے -اسی طرح دوسرے حقوق کی ادائیگی کے لیے بھی ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ بہترین حسن سلوک کا مظاہرہ کرے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی: جہاں بھی رہو اللہ سے ڈرو، گناہ کے بعد نیکی کرلیا کرو تاکہ گناہ مٹ جائے، اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ- (مسند احمد: 22059، ترمذی: 1987)

اس حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ -چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم – حسن سلوک کی وصیت فرمائی ہے، حسن سلوک کا معاملہ صرف مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے-

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی تعلیم دی ہے، تشدد وانتہاپسندی سے منع فرمایاہے-چند یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا (السَّامُ عَلَیْکُمْ) یعنی تم پر موت آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: وعلیکم (تم پر بھی)، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا تم دشمنوں پر سام (موت وہلاکت ) ہو- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ اللہ تعالی ہر کام میں نرمی کو پسند فرماتے ہیں- حضرت عائشہ نے عرض کیا: کیا آپ نے ان یہودیوں کی بات نہیں سنی – آپ نے فرمایا میں نے بھی تو انہیں وعلیکم کہہ کر جواب دے دیا تھا- (متفق علیہ)

غیر مسلموں کو ان کے تہواروں میں مبارک باد دینا اورضروری ہوجاتا ہے جب وہ مسلمانوں کو ان کے اسلامی تہواروں میں مبارک باد دینے میں پہل کریں، کیونکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اچھائی کا بدلہ اچھائی سے دیں، اور سلام کا جواب اس سے بہتر الفاظ میں یا کم از کم انہیں الفاظ میں دیں جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوا بِأَحْسَنَ مِنْہَا أَوْ رُدُّوہَا (النساء: 86) ’’اور جب تمہیں سلامتی کی کوئی دعا دی جائے تو تم بھی سلامتی کی اس سے بہتر دعا دو یا اسی کو لوٹادو‘‘-

کسی مسلم کے لیے روا نہیں کہ وہ حسن خلق کے معاملہ میں دوسروں سے کمتر ہو بلکہ اسے حسن خلق اور ادب کا پیکر ہو نا چاہیے جیسا کہ حدیث میں ہے: ” کامل ترین مومن وہ ہے جو سب سے زیادہ خوش اخلاق ہو” (مسند احمد 7402:)- اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اعلی اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں” (مسند احمد: 895)

حسن سلوک کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے جب ہم غیرمسلموں کو اسلام کی طرف بلانا چاہیں، اسلام سے قریب کرنا چاہیں، ان کے دلوں میں مسلمانوں کے تئیں محبت پیدا کرنا چاہیں- یہ ہماری ذمہ دراری بھی ہے اور ایسا کرنا ہم پر فرض بھی ہے – یہ فریضہ سنگ دلی، روکھے پن، درشتی اور سخت مزاجی سے پورا نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے حسن تعلق اور رحم دلی کی ضرورت ہے-

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے مکی دور میں مشرکین قریش کے ساتھ حسن سلوک وحسن معاشرت کا مظاہرہ کیا جبکہ مشرکینمکہ مسلمانوں کو اپنے آزار اور ظلم وستم کا نشانہ بناتے رہے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں- شدید دشمنی ونفرت کے باوجود مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل اعتماد اور بھروسہ رکھتے تھے، اپنی قیمتی دولت وثروت بطور امانت آپ ہی کے پاس رکھنا پسند کرتے تھے- جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پرلٹایا تاکہ لوگوں کی امانتیں ان کے حوالہ کردیں-

مذکورہ بالاتفصیل کی بنا پر  کسی مسلم شخص یا اسلامی سنٹر کی طرف سے غیر مسلموں کو ان کے تہواروں میں مبارک باددینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چاہے وہ مبارک باد زبانی ہو یا کارڈ کے ذریعہ ہو جس میں اسلام کے منافی logo اور عبارتیں نہ ہوںمثلا صلیب وغیرہ، کیونکہ صلیب کا تصور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اللہ تعالی کا فرمان ہے: وَمَا قَتَلُوہُ وَمَا صَلَبُوہُ وَلَکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ (النساء: 156) ’’انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑہایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا‘‘-

یہ بات ذہن نشیں رہے کہ غیر مسلموں کے تہواروں پر تہنیتی پیغام بھیجنے سے ان کے کفریہ اعمال کا اقرار اور اظہار ِرضامندی نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ صرف اظہارِ تعارف و دل داری کے کچھجملے ہوتے ہیں –

غیر مسلموں سے تحائف قبول کرنا اور انہیں تحائف دینے میں کوئی بھی حرج نہیں ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر مسلموں مثلا قبطیوں کے شاہ مقوقس وغیرہ سے ہدیہ قبول فرمایا، (المعجم الکبیر للطبرانی: 3497)بس شرط یہ ہے کہ یہ تحائف مسلمانوں کے لیے حرام نہ ہوں مثلا شراب اور خنزیر کا گوشت-

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض فقہاء کرام مثلا شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن قیم نے مشرکین واہل کتاب کے تہواروں پر مبارک باد دینے اور اس میں شرکت کرنے سے سختی سے منع کیا ہے ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ مسلمانوں کے لیے مشرکین واہل کتاب کے تہواروں میں جشن منانا اور اس کا انعقاد کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض تساہل پسند مسلمان عید الفطر اور عیدالاضحی کی طرح کرسمس بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں، یہ جائز نہیں ہے- لیکن ان لوگوں کے لیے مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جن کے درمیان آپسی قرابت، رفاقت یا دوسرے سماجی تعلقات قائم ہیں جس میں عرف کا لحاظ کرتے ہوئے حسن سلوک وحسن معاشرت کے اظہار کی ضرورت ہوتی ہے –

رہی بات قومی اور سماجی تہواروں کی مثلا یوم آزادی، یوم اتحاد، یوم اطفال اور یوم مادر وغیرہ تو ان مواقع پر مسلمانوں کے لیے مبارک باد دینا، تقریبات منانا اور اس میں شرکت کرناجائز ہے،کیونکہ وہ اس ملک کے باسی، شہری یا عارضی سکونت پذیر ہیں، شرط یہ ہے کہ ان مواقع پر ہونے والے محرمات سے اجتناب کریں-

 

تبصرے

مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی

نائب ناظم المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد

انسان ایک سماجی مخلوق ہے، وہ اپنے گرد و پیش سے بے تعلق نہیں ہوسکتا،اس کی ضرورتیں باہمی لین دین سے پوری ہوتی ہیں۔ اسی تعامل سے خاندان، قبیلہ اور سماج کی تشکیل عمل میں آتی ہے۔

قدیم زمانے میں لوگ محدود پیمانہ پر یہ رشتہ استوار کرتے تھے، اسلام نے قبائلی، علاقائی، جغرافیائی اور نظریاتی حد بندیوں سے بلند ہو کر عالم گیر انسانی سماج کی تشکیل دی، تمام انسانوں کو انسانی اخوت کے رشتہ سے باندھ دیا، پرامن بقاے باہم کے منظم و مستحکم ضابطے عطا کیے، نیز مختلف سماجی و مذہبی اکائیوں کے ساتھ سماجی،معاشرتی، معاشی اور اخلاقی رابطوں کے اصول بھی واضح کر دیے گئے۔

غیرمسلم بھائیوں کے ساتھ تعامل کے حوالے سے ایک اہم فقہی مسئلہ ان کی خوشی و غم اور عید و تہوار کی مناسبت سے اظہار غمگساری یا مبارک بادی پیش کرنا ہے، اس کےدو بنیادی پہلوہیں :

۱۔ انسانی مواقع: جیسے موت و پیدائش، کامیابی و خسارہ، صحت و بیماری وغیرہ موقعوں پر مبارک باد پیش کرنا،یا اظہار غم کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ مطلوب ہے۔

۲۔ مذہبی مواقع: خالص دینی تصورات و نظریات پر مبنی مناسبتوں پر خوشی کا اظہار کرنا، یا مبارک باد کا تبادلہ کرنا؛ فقہی لحاظ سے قابل غور ہے، اس مسئلہ کی بنیاد اس نکتہ پر ہوگی کہ یہ عمل ان کے عقیدہ و نظریہ سے ہم آہنگی کا اظہار ہے، یا محض عید و تہوار کی خوشی پر خیرسگالی کا اظہار ؟!

اگر عقیدہ سے اظہار و ہم آہنگی کا خیال بھی ہو تو یہ عمل سخت گناہ اور بسا اوقات کفر کے مترادف ہوگا۔ علامہ ابن تیمیہ و دیگر فقہا نے غالبا اسی بنیاد پر شدت برتی ہے اور اسے ناجائز قرار دیا ہے۔

لیکن اگر عرف و رواج کے مطابق، محض خوشی کی مناسبت کی وجہ کر اظہار خوشی ہو؛ تو اس میں گنجائش نظر آتی ہے۔

مجموعی طور اس مسئلہ میں فقہا کی دونوں رائے موجود ہے، اور کسی بھی فریق کے پیش نظر کوئی ’’صریح و صحیح‘‘ دلیل موجود نہیں ہے، اس لیے یہ ایک مجتہد فیہ مسئلہ شمار ہوگا، جس میں یکساں طور پر دونوں رایوںکی گنجائش ہوگی۔

یہاں اس بات کا ذکر بےجا نہیں ہوگا کہ فقہا نے مجتہد فیہ مسائل کے تئیں یہ ضابطہ طےکیا ہے :

’’ لا إنكار في مسائل الخلاف‘‘

(اختلافی مسائل میں کسی پر نکیر کی گنجائش نہیں ہے)

یعنی وہ مسائل جن میں دلیل صریح یا صحیح، یا اجماع نہ ہونے کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہو؛ تو ان میں ایک سے زائد رائے کہ گنجائش بھی ہوگی، نیز کسی رائے پر نکیر کا حق نہ ہوگا، ہاں یہ ضرور ہے کہ بحث و تحقیق اور اختیار و ترجیح کے دروازے کھلے ا رہیں گے، ان پر بندش نہیں لگائی جاسکتی ہے۔

کاش علامہ ابن تیمیہ کا یہ چشم کشا اقتباس علما کا سرمہ چشم ہوتا :

إن مثل هذه المسائل الاجتهادية لا تنكر باليد، وليس لأحد أن يلزم الناس باتباعه فيها، ولكن يتكلم فيها بالحجج العلمية، فمن تبين له صحة أحد القولين: تبعه، ومن قلد أهل القول الآخر فلا إنكار عليه ’’انتهى من مجموع الفتاوى‘‘ (30/80) .

بیشک ان جیسے اجتہادی مسائل میں طاقت و قوت سے نکیر نہیں کی جائے گی، اور نہ کسی کو یہ حق ہوگا کہ وہ لوگوں کو اپنی اس رائے کا پابند بنائے، ہاں ان مسائل میں علمی دلیلوں کی بنیاد پر گفتگو کی جائے گی، اور جس کسی کو ایک جہت پر انشراح ہوجائے تو اس پر عمل کرلے، اور جو دوسری رائے پر عمل پیرا ہو اس پر نکیر کی گنجائش نہیں ہوگی۔

یوروپی افتا کونسل اجتماعی اجتہاد کا ایک مؤقر بین الاقوامی ادارہ ہے، امام یوسف القرضاوی(حفظه الله و رعاه) اس کے روح رواں اور میر کارواں ہیں، نیز جہان فقہ و اجتہاد کے آفتاب و ماہتاب اس سے وابستہ ہیں۔ اس ادارہ نے سنہ ۲۰۰۰ء میں اس مسئلہ کو بحث و تحقیق کا موضوع بنایا اور ایک مناسب فیصلہ کیا۔

فقہ اسلامی کی امتیازی خوبی ذکر کرتے ہوئے باحثین نے یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ اس کی بنیاد جہاں کتاب و سنت میں پیوست ہے، وہیں اس میں زمانہ و حالات کی رعایت اور لچک ومرونت بھی پائی جاتی ہے۔ چنانچہ ہندوستان کے تناظر میں بھی یہ فقہی اجتہاد اہمیت کا حامل ہے، اب حالات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ یہاں ’’فقہ الاقلیات‘‘ کے اصول اور ضابطوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی اسلامی شناخت اور ثقافتی اقدار کی حفاظت کی جائے۔

 

مولانا یحییٰ نعمانی

ناظم المعہد العالی للدراسات الاسلامیہ، لکھنؤ

کسی غیر مسلم کو اُس کے کسی تہوار کے موقعے پر مبارک باد دینا جس عام استعمال میں Wish کرنا کہتے ہیں جائز ہے یا ناجائز ہے اس مسئلے کا تعلق اسلام کی دو قسم کی ہدایات سے ہے۔ ہمیں دونوں پر غور کرنا ہوگا۔

(۱)   پہلی وہ ہدایات ہیں جس میں شرک وکفر سے مکمل براء ت اور بیزاری بلکہ ردّ وانکار کا حکم ہے۔ اسلام دنیا کے عام مذاہب کی طرح چند رسوم (Rituals) نہیں۔ وہ اپنی اس حیثیت پر شدید اصرار کرتا ہے اور اس حیثیت کو ماننا ہی ایمان قرار دیتا ہے، کہ وہ خدا کا اکیلا سچا پیغام ہے۔ اس میں مسلمانوں کو کفر بالطاغوت کو ایمان کے لیے شرط قرار دیا گیاہے(البقرہ: ۲۵۶)۔

یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کا ظہور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی شکل میں ہوا ہے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے یہ بات قطعاً ناقابل قبول قرار دی ہے کہ اسلام اور اسلامیت پر ان کا یقین ایسا کم زور اور ان کے اعتماد کا درجہ اتنا پست ہو کہ غیرمسلموں سے مرعوب ہوکر ان کی نقالی کرتے پھریں۔ کوئی مسلمان اگر غیرمسلم قوموں کی (چاہے ظاہری لباس اور ظاہری طرز معاشرت ہی میں سہی) نقل کرتا اور مشابہت اختیار کرتا ہے تو یہ سوائے احساس کہتری کے اعلان کے اور کچھ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی قوم کو ذلیل و پست سمجھتا ہے، اس کو قطعاً یہ یقین نہیں کہ اس کے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی پیغام اور اصول و مسلک بھی ہے۔

اسلام مسلمانوں کے لیے اس پوزیشن کو کیسے قبول کرسکتا تھا؟ جب کہ اس کا منشا یہ ہے کہ ہر ہر مسلمان اپنے دین و مسلک کے بارے میں نہ صرف یقین و اعتماد سے بھرا ہوا ہو، بلکہ اس کی زندگی سے دنیا کے سامنے ان حقائق اور اصولوں کی عملاً گواہی قائم ہوتی ہو۔ یہی مطلب اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمداً رسول اللہ کا ہے۔ اور یہی نہیں، بلکہ اسلام کا اپنے ماننے والوں سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ جس دین کو انہوں نے یہ سمجھ کر قبول کیا ہے کہ وہی دنیا و آخرت کے خیر و فلاح کا راستہ ہے، اور اس کے خلاف سب کچھ گمراہی و فساد ہے، وہ اس دین کے خیر وسعادت کو پوری دنیا میں پھیلانے اور اس کے چلن کو عام کرنے کے لیے ہرممکن حد تک جدوجہد کریں اور اس میں کسی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ یہی سبب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیروںکی مرعوبیت اور نقالی کو اسلامیت پراعتماد کے لیے قاتل کہا ہے۔

من تشبہ بقوم فہو منہم۔ (ابوداوود)

جس نے کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے ہوگیا۔

واقعۃًمسلمانوں کے اندر اسلامی طرز زندگی پر اور اسلامی اصول و اخلاق پر ایسا اعتماد باقی رہنا ان کی ملّی بقاء کے لیے اور اسلام کی اصولی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایسا ہی ضروری ہے۔

(۲)   دوسری اسلام کی عام حسن اخلاق کی تعلیم، جس میں تمام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک، خیر خواہی اور اچھے برتاو کی تعلیم دی گئی ہے۔ صحیح احادیث میں آیا ہے کہ اہل ایمان میں سب سے کامل ایمان اس کا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ اسی طرح قرآن مجید نے عام غیر مسلموں کے بارے میں (جو دشمن اسلام نہ ہوں) یہ کہا ہے کہ وہ قرآن کے اس عام حکم میں شامل ہیں جس میں سب کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید ہے (سورۂ ممتحنہ آیت: ۸،۹)۔

پہلی قسم کی ہدایات پر نظر کرنے سے واضح طور پر رجحان ہوتا ہے کہ ایسی ہر بات کو ممنوع قرار دیا جائے جس سے کفر وشرک کو نا پسند نہ کرنا ظاہر ہو۔ یا اس کے قابل قبول ہونے کا التباس ہو اور اس کی مخالفت وتغلیط کا واضح مسلم موقف دھندلا جائے۔

دوسری قسم کی ہدایات پر غور کرنے سے خیال ہوتا ہے کہ بطور حسن تعلق کے اظہار کے غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کے دن پر خیر سگالی کے طور پر مبارک باد دینا جائز ہی نہیں پسندیدہ بھی ہونا چاہیے۔ خصوصا موجودہ دنیا کی ایسی صورت حال میں جب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد غیر مسلم ممالک میں رہائش پذیر ہوگئی ہے۔ بڑی تعداد میں غیر مسلم مسلمانوں کے ساتھ حسن معاشرت کا برتاو رکھتے ہیں۔ بلکہ ان میں ایک بڑی تعداد مسلمانوں کے حقوق کے لیے لڑتی اور جد وجہد کرتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے اور ان کی مذہبی آزادیوں کے لیے یہ طبقہ بہت قیمتی ہے۔ اور ان ممالک میں مسلمانوں کے ملی وجود کے بقا کے لیے ضروری ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ حسن معاشرت اور شرکت عمل کی راہیں ہموار ہوں۔ بلکہ اب دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے، نیز مسلم حکومتوں کی کم زوری وبے بسی کسی لفظ وبیان کے حدود سے بھی ماوراء ہوگئی ہے۔ اس صورت حال میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ مسلم ممالک میں بھی ان کے غیر مسلموں کے ساتھ وسیع عام برادرانہ تعلقات قائم ہوں اور ان کے ذہن ونفسیات کے پردے پر مسلم امت کی ایک خوشگوار تصویر مرتسم ہو۔ اور مجموعی طور پر پوری دنیا امت مسلمہ کو اپنا دشمن وبد خواہ اور جھگڑنے والی قوم سمجھنے کے بجائے انسانیت کی خیر خواہ جماعت خیال کرے۔ غیرمسلموں میں دعوت دین کے نقطۂ نظر سے بھی یہ ضروری ہے۔

مذکورہ بالادونوں حکمتوں اور مصلحتوں کی رعایت کے ساتھ اس مسئلے پر غور کرنے کے بعد اسی طرف رجحان ہوتا ہے کہ شرک وکفر سے براء ت کا اظہار اسلام کی ایسی بنیادی تعلیم ہے جس کو بہر صورت ترجیح دینا ضروری ہے۔ خصوصا اس لیے بھی کہ ہمارے ملکی پس منظر میں برادران وطن کے تمام تہوار غیر اللہ کی عبادت پر قائم ہیں۔ ان کی تہذیب میں شرک اور غیر اللہ کی عبادت اس طرح رچی بسی ہے کہ کوئی تقریب اور تہوار اپنے بنیادی تصور سے لے کر عملی رسموں تک میں اس سے خالی نہیں ہوتا۔ ایسی صورت حال میں مبارک باد دینا ان تصورات سے اپنے آپ کو بری وبیزار قرار دینے کی اسلامی تعلیم سے خالی کرنے کے مرادف ہے۔ اور پھر خطرہ ہوگا کہ عام مسلمانوں تک میں ان تہواروں اور ان کی رسوم میں شرکت کا رجحان نہ پیدا ہونے لگے۔ جاہل مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایسے ہی قسم قسم کے شرک کی مرتکب بھی ہے اور جا بجا لوگ غیرمسلموں کے تہواروں میں مکمل شریک بھی ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ دوسری صورتوں اور شکلوں کے ذریعے غیر مسلموں کے ساتھ اشتراک عمل اور حسن تعلق کی شکلوں کے بارے میں سوچا جانا چاہیے۔

 

ڈاکٹر محمد فہیم اختر ندوی

صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔ حیدرآباد

یوروپ کے مختلف ملکوں میں آباد مسلمانوں کو سماجی زندگی میں مختلف نوعیت کے احوال درپیش ہوتے ہیں، جو مسلم سماج سے قدرے الگ ہوتے ہیں۔ یوروپین افتا کونسل دراصل اسی نوعیت کے مسائل کو شریعت کی روشنی میں حل کرنے کے لیے قائم کیا گیا فقہی و اجتہادی ادارہ ہے۔ 1997 سے قائم اس اجتہادی ادارہ کے سربراہ معروف عالم و مصنف ڈاکٹر یوسف قرضاوی ہیں اور عالم اسلام بشمول یوروپین ممالک کے علماء اس کے ممبر ہیں۔

اس ادارے نے اب تک مختلف سیمینار وں کے ذریعہ متعدد مسائل میں اجتہادی فیصلے کیے ہیں۔ کونسل کا چھٹا فقہی سمینار 28 اگست تا یکم ستمبر 2000 کو ڈبلن، آئرلینڈ میں منعقد ہواتھا، مذکورہ فتوی یوروپین افتاء کونسل کا وہی فیصلہ ہے۔

مسئلہ کا پس منظر یہ ہے کہ سماج میں مختلف مواقع پر مسلمانو ںکے روابط غیر مسلموں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ تعلیم گاہوں میں اساتذہ اور طلبہ اور ساتھیوں کے درمیان گہرے روابط قائم ہوجاتے ہیں۔ ملازمت کے اداروں میں اپنے ذمہ داروں اور کارکنوں کے ساتھ مراسم ہوتے ہیں۔ علاج معالجہ میں کبھی غیر مسلم ڈاکٹر کا بے انتہا مخلصانہ رویہ مسلم مریض کے ساتھ رابطہ پیدا کردیتا ہے۔ کبھی مکان کے پڑوس میں بااخلاق ومددگار غیر مسلم ہوتے ہیں۔ کیا غیر مسلموں سے باہمی تعلقات اور روابط کے پس منظر میں ان کے تہواروں پر تہنیت پیش کی جاسکتی ہے ؟ کونسل کا فتوی ہے کہ ایسے مواقع پر ان کو مبارک باد پیش کی جاسکتی ہے۔ البتہ ان میں ایسی مذہبی عبارتیں اور علامتیں نہ استعمال کی جائیں جو اسلامی اصولوں سے متصادم ہوں۔

راقم سطور کے خیال میں کونسل کا یہ فتوی نہ صرف اسلام کے حسن اخلاق اور داعیانہ کردار کا مظہر ہے، بلکہ موجودہ وقت میں تیزی سے تبدیل شدہ حالات میں یہ مسلمانوں کی ایک دینی ضرورت بھی ہے، کیونکہ اسلام جہاں دین فطرت، مکمل و متوازن نظام زندگی اور سراپا عدل وانصاف ہے، وہیں اس کی بنیاد اخلاقی بلندی پر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ ہمیشہ حسن اخلاق کا برتاو کیا، ان کی بدسلوکی کا جواب بھی اخلاقی بلندی سے دیا، اگر کسی نے غیر مسلم کی بدسلوکی کا جواب اسی طرز پر دینا چاہا تو اسے بھی آپ نے پسند نہیں فرمایا۔ یہ دراصل اس لیے تھا کہ خود اللہ رب العالمین نے اسی کا حکم فرمایا تھا کہ برائی کا بدلہ اچھائی سے بلکہ زیادہ اچھائی سے دیا جائے: ’’ ادفع بالتی ھی احسن‘‘۔ اور یہ بھی کہ اللہ ان کے ساتھ بر اور قسط یعنی نیکی اور انصاف کا معاملہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ چنانچہ رسو ل اللہ ﷺ نے اسی بات کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ : ’’ و خالق الناس بخلق حسن‘‘( لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ)۔ کونسل کا مذکورہ فتوی انہی شرعی بنیادوں پر قائم ہے۔

جہاں تک بعض ان فقہاء کی آرا کا تعلق ہے جو شدت پر مبنی ہیں، تو ان کا پس منظر ایک تو وہ غالب سیاسی ماحول ہے جس میں مسلمانوں کو عروج و غلبہ حاصل تھا، اور پھر اس ماحول کے اندر بھی وہ آراء ان فقہا کے اپنے اجتہادات تھے۔ اور دوسرے یہ کہ غیر مسلموں کے مذہبی تہواروں میں عملی شرکت اور شرکیہ رسوم میں شمولیت سے منع کرنا ان کا مقصود تھا۔ یہ رائے بالکل درست ہے، اور کونسل کے مذکورہ فتوی میں بھی یہ بات کہی گئی ہے کہ ان کے مذہبی تہوار منانا درست نہیں ہے۔ البتہ اس موقع پر ان کو مبارک باد دی جاسکتی ہے، کہ یہ حسن صلہ اور حسن سلوک کا اظہار ہے۔ کونسل کے فتوی کا یہ آخری حصہ بھی اہم ہے کہ قومی و اجتماعی تیو ہار جیسے یوم آزادی، اور یوم اطفال و یوم مادر وغیرہ میں شرکت اور ان پر مبارک باد دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

راقم سطور کونسل کے اس فتوی کو مزاج شریعت کا مظہر، اسلامی اخلاق کا نمونہ اور موجودہ سماجی منظرنامہ میں اسلام کے دعوتی تقاضوں کے لیے ضروری تصور کرتا ہے۔ ضرور ت ہے کہ ہمارے ملک کے اندر بھی سماجی روابط کو مضبوط کرنے والے اس رویہ کو مضبوطی کے ساتھ اختیار کیا جائے۔

 

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سکریٹری، جماعت اسلامی ہند

کسی سماج میں جو انسان رہائش پذیر ہوتے ہیں ان کا آپس میں ملنا جلنا، ایک دوسرے کی مسرتوں میں شریک ہونا، ایک دوسرے کا غم بانٹنااور ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرنا عین تقاضاے فطرت ہے۔ کسی بھی متمدن سماج کی یہ نمایاں پہچان ہوتی ہے۔ جس سماج میں یہ قدریں نہ پائی جائیں اسے غیر متمدن اور دورِ وحشت کی یادگار کہاجاتاہے۔

اسلام نے اپنے متبعین کے لیے دیگر مذاہب کو ماننے والے کے ساتھ رہن سہن اور تعلقات کے سلسلے میں واضح ہدایات دی ہیں۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کرلیاتھا، لیکن ان کے والدین کفر وشرک پر قائم تھے، ان سے کہاگیا:’’اگر وہ تجھ پر دبائو ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتائو کرتارہ۔ ‘‘(لقمان:۱۵)

اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ غیر مسلموں سے تعلقات کے ضمن میں عقائد کے معاملے میں کوئی مداہنت اور رواداری نہیں کی جائے گی، البتہ ان کے ساتھ خوش گوار سماجی تعلقات رکھے جائیں گے۔ یہی حکم سورۂ ممتحنہ میں بھی دیا گیاہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتائو کرو جنہو ںنے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالاہے۔ ‘‘(الممتحنہ:۸)

انسانی تعلقات کو مضبوطی اور استحکام بخشنے میں تقریبات کا اہم کردار ہوتاہے۔ یہ تقریبات سماجی بھی ہوتی ہیں اور مذہبی بھی۔ غیر مسلموں کی سماجی تقریبات میں اگر ناجائز اور غیر شائستہ کام نہ کیے جارہے ہوں توان میںشرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن ان کی مذہبی تقریبات میں مسلمانوں کی شرکت جائز نہیں ہے، اس لیے کہ ان میں عموماًپوجاپاٹ اور شرکیہ اعمال انجام دیے جاتے ہیں۔ شرک سے براء ت ظاہر کرنے کے لیے ان میں شرکت سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ البتہ ان مذہبی تقریبات اور تہواروں کا جو حصہ سماجی ہوتاہے،جس میں مختلف قریبی اور اہل ِ تعلق افراد سے محض ملاقات کے لیے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے کے لیے دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی مدعو کیاجاتاہے، ان میں شرکت مسلمانوں کے لیے جائز ہے۔ البتہ ان مواقع پران کے لیے ضروری ہے کہ کھانے پینے کے معاملے میں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔ چنانچہ اگر کھانے پینے کی چیزوں میں کسی حرام جانور کا گوشت، شراب یا دیگر نشہ آور مشروبات شامل ہوں تو ان سے بچیں۔

غیر مسلموں کی مذہبی تقریبات اور تہواروں کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے یہ احتیاط ملحوظ رکھنی ضروری ہے کہ ان کے انعقاد میں وہ خود شریک نہ ہوں۔ مثلاً ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے یہاں کرسمس، ہولی یا دیوالی کی تقریبات منعقد کرکے ان میں اپنے عیسائی یا ہندو دوستوں کو مدعو کریں، یا کسی ایسی تقریب کے کارڈ چھاپ کر تقسیم کریں، یا ہولی کے موقع پر رنگ کھیلیں اور دیوالی کے موقع پر دیے جلائیں، یا کسی تقریب میں شریک ہوں تو مورتی کے آگے ہاتھ جوڑیں یا پیشانی پر تلک لگائیں کہ یہ سب شرکیہ اعمال اور غیر قوموں سے تشبّہ ہے، جس سے منع کیا گیا ہے۔

تہواروں کے موقع پر مٹھائیوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ غیر مسلموں کی طرف سے موصول ہونے والی مٹھائیاں اور کھانے کی دوسری چیزیں قبول کی جا سکتی اور کھائی جا سکتی ہیں، اگر اطمینان ہو کہ وہ دیویوں دیوتاؤں پر چڑھاوے کی نہیں ہیں اور نہ ان میں کسی حرام اور ناپاک چیز کی آمیزش ہے۔

جہاں تک غیر مسلموں کے تہواروں کے موقع پر انھیں مبارک باد دینے کا معاملہ ہے تو اسے فقہ و فتاویٰ کی کتابوں میں عموماً ناجائز کہا گیا ہے۔ اس کی دلیل یہ دی گئی ہے کہ انھیں مبارک باد دینے سے کفر و شرک کی تائید اور عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ دلیل قوی نہیں معلوم ہوتی۔ مبارک باد دینا ایک سماجی عمل ہے۔ اس سے دنیاوی معاملات میں حسن سلوک کا اظہار ہوتا ہے، جس کی قرآن و حدیث میں تلقین کی گئی ہے۔

اس بنا پر المجلس الاوربی للافتاء و البحوث کے ساتویں اجلاس میں منظور شدہ یہ قرار داد مجھے درست معلوم ہوتی ہے۔ اس کی روشنی میں برِّ صغیر کے علما و اصحابِ افتا کو اپنی رائے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اجتماعی اجتہاد کے اداروںکو اس کے جواز کی تجویزپر غور کرناچاہیے۔ واللہ اعلم

دسمبر 2019

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau