حج و عمرہ: چند توجہ طلب امور

عبید اللہ طاہر فلاحی

اسلام کی عمارت جن ارکان پر قائم ہے ان میں حجِ بیت اللہ ایک اہم رکن ہے۔ ہر صاحب ِ استطاعت عاقل وبالغ مسلمان مرد وعورت پر زندگی میں ایک بار حج فرض ہے۔چوںکہ اس میں مالی وبدنی دونوں عبادات شامل ہیں،اس لیے اس کی فرضیت کے لیے مالی و بدنی، دونوں استطاعتیں ضروری ہیں۔ ارشادِ باری ہے:

وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ الَیْہِ سَبِیْلاً ﴿آل عمران:۹۷﴾

’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے‘‘۔

حج میں عالمگیر انسانی اخوت ومحبت اور مساوات کاعملی پیغام ملتاہے۔ تمام حجاج کاایک وقت میں ایک جگہ جمع ہوکر ایک ہی طرح کے اعمال وشعائر انجام دینا، جہاں ایک طرف:

انَّمَا الْمُؤْمِنُونَ اخْوَۃٌ ﴿الحجرات:۱۰﴾’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں‘‘

کے احساس کوپختگی دیتا ہے، وہیں دوسری طرف ربِ واحد کے حضور انسانی مساوات کا نادر نمونہ پیش کرتا ہے۔اس عبادت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ زندگی میں صرف ایک بار فرض ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صرف ایک بار حج کیا۔

ہر اسلامی عبادت میں دو شرطوں کا پایا جانا ضروری ہے: اخلاص اورپیرویِ شریعت۔ چونکہ حج عموماً انسان زندگی میں صرف ایک بار ادا کرتا ہے، اس لیے اس میں بھول چوک اور غلطیوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ حج کی تمام جزئیات کا کتابی مطالعہ اور نظری علم الگ چیز ہے اور عملِ حج بالکل الگ۔ اسی لیے کثیر مطالعہ کے باوجود حجاجِ کرام سے لغزشیں سرزد ہوجاتی ہیں۔ اس بات کی کوشش کرنا کہ ہمارا حج صحیح و درست ہو، ہر مومن کے لیے ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہمیت اداے حج کے وقت کی تعیین کو حاصل ہے۔ فقہاے کرامؒ  کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ فرضیت ِ حج کے بعد فوراً حج کرنا ضروری ہے یا اس میں تاخیر کی گنجایش ہے۔ احناف کے نزدیک فوراً حج کرنا ضروری نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ رخصت ایک وبا کی طرح پھیل گئی ہے اور حج کے لیے عملاً بوڑھاپے کا وقت مخصوص مان لیاگیا ہے۔ یہ وطیرہ برّصغیرہندوپاک میں زیادہ ملتاہے۔ ہمارے علما اور داعیانِ اسلام کو اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔جب کہ شرعی اور موجودہ حالات کے لحاظ سے بھی جوانی میں حج کرلینا ہی بہتر ہوتاہے۔ کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ اگر کسی شخص پر حج فرض ہوجائے اور وہ اسے بوڑھاپے پر اٹھا رکھے اور پھر حج کیے بغیر ہی مر جائے تو وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ چوںکہ حج ایک پُرمشقت عبادت ہے۔ اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کا جہاد حج وعمرہ کو قرا دیاہے۔ موجودہ دور میں کثرتِ حجاج کی وجہ سے اس میں مزید مشقتیں پیدا ہوگئی ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ بوڑھے خواتین وحضرات ارکانِ حج کیسے اور کس قدر ادا کرپاتے ہوں گے۔

احرام کے سلسلے میں سرزد ہونے والی غلطیاں

  • ﴿۱﴾ میقات سے حج اور عمرہ کی نیت کرنا لازم ہے۔ میقاتیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے متعین کردہ ہیں۔ حاجی یامعتمر کے لیے بغیر احرام کے میقات سے گزرنا جائز نہیں ہے۔ خواہ وہ زمین کے راستے سفر کررہا ہو یا بحری یا ہوائی راستے سے۔ بعض حجاج ہوائی سفر میں بغیر احرام کے میقات سے گزر جاتے ہیں اور جدہ ایئر پورٹ پہنچ کر احرام باندھتے ہیں۔ یہ عمل سنت کے خلاف ہے۔ ان کو چاہیے کہ جہاز میں سوار ہونے سے قبل احرام باندھ لیں اور میقات سے پہلے جہاز ہی میں نیت کرلیں۔ اگر بغیر احرام کے وہ جدہ پہنچ جاتے ہیں تو واپس میقات تک جائیں اور وہاں سے احرام باندھیں۔ اگر ایسا نہیں کرتے ہیں اور جدہ ہی سے احرام باندھتے ہیں تو اکثر علما کے نزدیک اُن پر ایک جانور کے ذبح کرنے کا فدیہ واجب ہے، جو مکہ میں ذبح کیا جائے گا اور فقرا میں تقسیم ہوگا۔
  • ﴿۲﴾ احرام کی حالت میں حاجی یامعتمر دو چادریں استعمال کرتا ہے۔ ایک تہبند کی صورت میں باندھ لیتا ہے اور دوسری کندھے پر ڈال لیتا ہے۔ بعض حجاج کرام کی چادرناف سے نیچے سرک جاتی ہے اور وہ اس پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ حالانکہ ناف ستر میں داخل ہے۔ اس کو ڈھکنے کا خصوصی التزام ہونا چاہیے۔

طواف میں سرزد ہونے والی غلطیاں

﴿۱﴾  احتیاطاً حجرِ اسود اور رکن یمانی کے درمیان سے طواف شروع کرنا، غلو فی الدین ہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاہے۔

﴿۲﴾   زیادہ بھیڑ کی صورت میں حجرِ اسماعیلؑ  ﴿حطیم﴾کے اندر سے طواف کرنا۔ ایسی صورت میں طواف درست نہیں ہوگا۔اس لیے کہ حطیم خانہ کعبہ کاحصہ ہے۔

﴿۳﴾  ساتوں چکر میں رمل کرنا﴿ دلکی چال چلنا﴾۔ رمل صرف ابتدائی تین چکروں میں ہے۔

﴿۴﴾  حجرِ اسود کے بوسے کے لیے شدید دھکا مکی کرنا۔ کبھی کبھی نوبت گالم گلوج اور لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ بات یوں تو کسی حال میں درست نہیں ہے، لیکن حج میں خصوصیت کے ساتھ ممنوع ہے۔ ارشادِ باری ہے:

اَلْحَجُّ أَشْہُرٌ مَّعْلُومَاتٌ فَمَن فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِیْ الْحَجِّ  ﴿البقرۃ:۱۹۷﴾

’’حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقررہ مہینوں میں حج کی نیت کرے، اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بدعملی اور کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو‘‘۔

﴿۵﴾ حجرِ اسود کے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ بذاتِ خود نفع ونقصان پہنچاسکتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض حضرات اس کا استلام کرکے اپنے پورے بدن پر اور بچوں کے بدن پر ہاتھ پھیرتے ہیں، یہ سراسر جہالت اورناسمجھی کی بات ہے۔ نفع ونقصان کی قدرت صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ حضرت عمرؓ  کا واقعہ ہے:  ’’أنہ جائ الی الحجر الأسود فقبّلہ، فقال: اني أعلم أنک حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقبّلک ما قبّلتک‘‘ ﴿صحیح بخاریؒ ، ۱۵۹۷، صحیح مسلمؒ ، ۳۱۲۶-۳۱۲۸﴾ ’’آپؓ  نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: مجھے علم ہے کہ تو صرف ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اور اگر میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا‘‘۔

﴿۶﴾ پورے خانہ کعبہ کا استلام۔ ایسا کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ استلام ایک عبادت ہے، اور ہر عبادت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ضروری ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حجرِ اسود اور رکنِ یمانی کا استلام کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ  سے مروی ہے :’’أنہ طاف مع معاویۃ، فجعل معاویۃ یستلم الأرکان کلھا، فقال لہ ابن عباس: لِمَ تستلم ھذین الرکنین ولم یکن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم یستلمھما؟ فقال معاویۃ: لیس شییٔ من البیت مھجوراً، فقال ابن عباس: لقد کان لکم في رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم أسوۃ حسنۃ، فقال معاویۃ: صدقت‘‘ ﴿مسند احمدؒ : ۸۷۷﴾ ’’ حضرت عبداللہ بن عباسؓ  اورحضرت معاویہؓ  طواف کررہے تھے۔ حضرت معاویہؓ  تمام ارکانِ کعبہ کا استلام کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ  نے پوچھا کہ آپؓ  ان دونوں ارکان کا استلام کیوں کررہے ہیں، جب کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استلام نہیں کیا ہے؟ تو حضرت معاویہؓ  نے فرمایا: خانہ کعبہ کا کوئی حصہ متروک نہیں ہے۔ تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ  نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی تمھارے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ حضرت معاویہؓ  نے فرمایا: آپؓ  نے درست فرمایا‘‘۔

﴿۷﴾ ہر طواف کے لیے مخصوص دعا کا التزام کرنا بایں طور کہ اس کے علاوہ کوئی دعا نہ کرنا۔ بلکہ بسا اوقات اگر دعا پوری ہونے سے قبل طواف مکمل ہوجاتا ہے تو دعا بیچ ہی میں منقطع کرکے اگلے طواف میں پڑھی جانے والی دوسری دعا شروع کردی جاتی ہے اور اگر طواف مکمل ہونے سے قبل دعا پوری ہوجاتی ہے تو بقیہ طواف خاموش رہا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔

﴿۸﴾ کچھ لکھی ہوئی دعاؤں کو ان کا معنی ومطلب سمجھے بغیر پڑھتے رہنا مناسب نہیں، طواف کرنے والے کو معنی ومطلب سمجھ کر دعا کرنی چاہیے ۔خواہ اپنی مادری زبان میں ہی دعا کی جائے۔

﴿۹﴾ بعض حجاج کا ایک گروپ کی شکل میں طواف کرنا بایں صورت کہ ان میں سے ایک شخص بلند آواز سے دعا پڑھے اور بقیہ بلند آواز میں اسے دہرائیں۔ یہ چیز دیگر افراد کے خشوع وخضوع میں مخل اور ان کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے ۔حدیث میں ہے :  ’’أن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج علی الناس وھم یصلون وقد علت أصواتھم بالقرائۃ، فقال: ان المصلي یناجي ربہ، فلینظر بما یناجیہ بہ، ولا یجھر بعضکم علی بعض بالقرآن‘‘ ﴿موطا امام مالکؒ ،۱۷۷﴾ ’’ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں بلند آواز سے تلاوت کررہے ہیں تو آپﷺ  نے فرمایا:نمازی اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، تو وہ دیکھے کہ اپنے رب سے کیا کہہ رہا ہے، اورقرآن کی تلاوت میں ایک دوسرے سے آوازیں بلند کرنے کا مقابلہ نہ کرو‘‘۔

﴿۱۰﴾ بعض حجاج یہ سمجھتے ہیں کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں لازماً مقامِ ابراہیمؑ  کے پاس ہی پڑھنی چاہئیں۔ اس کے لیے وہ دھکا مکی کرتے اور طواف کرنے والوں کی راہ میں حائل ہوکر ان کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں، یہ صحیح نہیں ۔ یہ رکعتیں بیت اللہ میں کہیں بھی اداکی جاسکتی ہیں۔

﴿۱۱﴾ بعض حضرات مقامِ ابراہیمؑ  کے پاس کئی کئی رکعات پڑھتے رہتے ہیں،درآں حالے کہ دوسرے حضرات طواف سے فراغت کے بعد منتظر کھڑے رہتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔

﴿۱۲﴾ بسا اوقات اپنی نماز سے فارغ ہو کرگروپ کا رہنما اپنی پوری جماعت کے ساتھ بلند آواز سے دعا کرتا ہے اور دوسرے نمازیوں کی نماز میں مخل ہوتا ہے۔یہ مناسب نہیں۔

سعی کے دوران سرزد ہونے والی غلطیاں

﴿۱﴾ صفا ومروہ پر چڑھ کر خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے تین بار تکبیرِ تحریمہ کی طرح تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھانا سنت کے خلاف ہے۔ آپﷺ  کے حج کے طریقے میں مروی ہے:

’’فلما دنا من الصفا قرأ:’’ انَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰہِ‘‘ ’’أبدأ بما بدأ اللّٰہ بہ‘‘، فبدأ بالصفا فرقی علیہ حتی رأی البیت، فاستقبل القبلۃ فوحد اللّٰہ وکبرہ وقال: ’’لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شییٔ قدیر، لا الہ الا اللّٰہ وحدہ، أنجز وعدہ، ونصر عبدہ، وھزم الأحزاب وحدہ‘‘، ثم دعا بین ذلک، قال مثل ھذا ثلاث مرات، ثم نزل الی المروۃ حتی اذا انصبت قدماہ في بطن الوادي سعی، حتی اذا صعدتا مشی، حتی أتی المروۃ، ففعل علی المروۃ کما فعل علی الصفا‘‘ ﴿صحیح مسلمؒ ، ۳۰۰۹﴾

’’جب آپﷺ  صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰہِ ’یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔‘‘ اور فرمایا:’’میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے‘‘، چنانچہ آپﷺ  نے صفا سے سعی کا آغاز کیا اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ نظر آگیا، پھر آپﷺ  نے قبلہ رو ہوکر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کی اور اس کی کبریائی بیان کی اور یہ دعا پڑھی:  ’’لا الہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شییٔ قدیر، لا الہ الا اللّٰہ وحدہ، أنجز وعدہ، ونصر عبدہ، وھزم الأحزاب وحدہ‘‘ ’اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کی ہے، اور سارے شکریے کا مستحق بھی وہی ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی، اور تن تنہا تمام گروہوں کو شکست دی۔‘ پھر اس کے درمیان دعا کی، اسی طرح تین بار کیا، پھر اتر کر مروہ کی جانب چلے، یہاں تک کہ جب وادی کے بیچ میں پہنچے تو تیزرفتاری سے چلے، اور جب اوپر چڑھ گئے تو عام رفتار سے چلے، یہاں تک کہ مروہ پر پہنچ گئے اور وہاں بھی ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا‘‘۔

﴿۲﴾ پوری سعی کے دوران تیزرفتاری سے چلنا۔ یہ سنت کے خلاف ہے۔ تیزرفتاری سے صرف دونوں سبز لائٹوں کے درمیان چلنا ہے، بقیہ سعی میں عام چال چلنا ہے۔

﴿۳﴾ بعض خواتین دونوں سبز لائٹوں کے درمیان مردوں کی طرح تیزرفتاری سے چلتی ہیں۔ جب کہ عورتوں کو تیزی سے نہیں، عام رفتار سے چلنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ  کا ارشاد ہے: ’’لیس علی ال نساء  رمل بالبیت، ولا بین الصفا والمروۃ‘‘  ﴿سنن دارقطنیؒ ، ۶۶۷۲، سنن کبری للبیہقیؒ ، ۱۲۳۹﴾ ’طواف میں رمل اور سعی میں تیزرفتاری عورتوں کے لیے نہیں ہے۔‘

﴿۴﴾ بعض حجاج جب جب صفا یا مروہ کے قریب پہنچتے ہیں تو یہ آیت پڑھتے ہیں: اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِن شَعَآئِرِ اللّٰہِ۔حالانکہ یہ صرف پہلی سعی میں صفا کے قریب پڑھناسنت ہے۔

﴿۵﴾ بعض حجاج ہر چکر میں مخصوص دعا پڑھتے ہیں۔ اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

﴿۶﴾ بعض حجاج سعی کے دوران اضطباع ﴿دایاں کندھاکھلارکھنا﴾کرتے ہیں۔یہ درست نہیں ہے۔ اضطباع صرف طوافِ قدوم میں مسنون ہے۔

 وقوفِ عرفہ میں سرزد ہونے والی غلطیاں

﴿۱﴾ بعض حجاج حدودِ عرفہ سے پہلے ہی قیام کرلیتے ہیں اور سورج غروب ہونے تک وہیں رہتے ہیں، پھر وہیں سے مزدلفہ چلے جاتے ہیں، عرفہ میں قیام ہی نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے۔اس کی وجہ سے حج فوت ہوجاتا ہے۔اس لیے کہ وقوفِ عرفہ حج کا بنیادی رکن ہے۔ارشادِ نبویﷺ  ہے: ’’الحج عرفۃ، من جائ لیلۃ جمع قبل طلوع الفجر فقد أدرک‘‘  ﴿سنن ترمذیؒ ، ۸۸۹، سنن  نساء یؒ ، ۴۴۰۳، سنن ابن ماجہؒ ، ۳۰۱۵﴾ ’حج وقوفِ عرفہ کا نام ہے، چنانچہ جو شخص مزدلفہ کی رات فجر طلوع ہونے سے قبل بھی عرفہ آگیا تو اس نے حج پالیا۔‘ یہ غلطی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ بعض حضرات عرفہ سے قبل ہی قیام کرلیتے ہیں اور دوسرے انہیں دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں۔ اس لیے حجاجِ کرام کو چاہیے کہ وہ حدودِ عرفہ کی اچھی طرح تحقیق کرکے ہی قیام کریں۔ حدود کی تعیین کرنے والے بورڈوں اور وہاں کام کرنے والے افراد سے رہ نمائی لینا مناسب ہوگا۔

﴿۲﴾ بعض حجاج غروبِ آفتاب سے قبل ہی عرفہ سے نکل جاتے ہیں۔ یہ عمل سنت کے خلاف ہے۔ آپﷺ  غروب کے بعد عرفہ سے نکلے تھے۔

﴿۳﴾ دعا کے دوران قبلہ کے بجائے جبل رحمت کی جانب رخ کرنا۔ یہ سنت کے خلاف ہے۔ آپﷺ  نے قبلہ رو ہوکر دعا فرمائی ہے۔

﴿۴﴾ بعض حجاج عرفہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں اپنے اپنے وقت پر مکمل ادا کرتے ہیں۔ یہ سنت کے خلاف ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ظہر کے وقت میں ادا کرنی چاہیے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ حضرت جابرؓ  نبی کریمﷺ  کے حج کے تذکرے میں عرفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ثم أذن، ثم أقام فصلی الظھر، ثم أقام فصلی العصر، ولم یصل بینھما شیئاً‘‘ ﴿صحیح مسلمؒ ، ۳۰۰۹﴾ ’پھر اذان کہی گئی، پھر اقامت کہی گئی اور آپ ا نے ظہر پڑھی، پھر اقامت کہی گئی اور آپ ﷺ  نے عصر پڑھی، اور ان دونوں کے درمیان کچھ نہیں پڑھا۔‘

﴿۵﴾ منی، عرفہ اور مزدلفہ میں نماز قصر کے ساتھ پڑھنے کا حکم حج کا ایک خاص حکم ہے۔ اس میں اہلِ مکہ اور غیر اہلِ مکہ سب شامل ہیں۔ اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃالوداع کے موقع پر ان مقامات پر جب جب نمازیں پڑھائیں تو آپ ﷺ  کے ساتھ اہلِ مکہ بھی ہوتے تھے۔ لیکن آپﷺ  نے انہیں نماز پوری کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اگر نماز پوری کرنا ضروری ہوتا تو آپﷺ  انہیں اس کا حکم دیتے، جیسا کہ فتحِ مکہ کے موقع پر آپﷺ  نے کیا۔ حضرت عمران بن حصینؓ  فرماتے ہیں: غزوت مع رسول اللّٰہ ا وشھدت معہ الفتح، فأقام بمکۃ ثماني عشرۃ لیلۃ، لا یصلي الا رکعتین ویقول: ’’یا أھل البلد، صلوا أربعاً فانا قوم سفر  ﴿سنن ابوداؤد، ۲۳۱﴾ ’میں فتحِ مکہ میںاللہ کے رسول ا کے ساتھ تھا، آپ ﷺ  نے وہاں ۱۸ دن قیام کیا، آپ ﷺ  دو رکعتیں پڑھتے تھے اور کہتے: ’’اے اہلِ مکہ، چار رکعتیں پڑھو، کیونکہ ہم مسافر ہیں‘‘۔البتہ اگر کچھ لوگ منی یا عرفہ میں مستقل سکونت اختیار کرلیں تو قصر نہیں کریں گے۔‘

﴿۶﴾ عرفہ میں ۹/ ذی الحجہ کی ظہر اور عصر اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک ساتھ جمع کرکے پڑھیں گے۔ جب کہ منی میں تمام نمازیں اپنے اپنے وقت پر پڑھیں گے۔

 مزدلفہ میں سرزد ہونے والی غلطیاں

  • ﴿۱﴾ عام طورسے مزدلفہ کی رات کو سب سے افضل رات بتایا جاتا ہے اور اس میں عبادت کی بڑی فضیلت بیان کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات مغرب اور عشا کی نمازیں پڑھ کر طلوع فجر تک آرام فرمایا۔ حضرت جابرؓفرماتے ہیں:

حتی أتی المزدلفۃ، فصلی بھا المغرب والعشائ بأذان واحد واقامتین، ولم یسبح بینھما شیئاً ، ثم اضطجع رسول اللّٰہ ا حتی طلع الفجر         ﴿صحیح مسلمؒ ،۳۰۰۹﴾ ’پھر آپﷺ  مزدلفہ آئے، اور یہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامت سے فرمائیں، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نفل نماز نہیں پڑھی، پھر آپﷺ  لیٹ گئے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی۔‘

  • ﴿۲﴾ بعض حجاج غروب آفتاب کے فوراً بعد مغرب پڑھ لیتے ہیں خواہ عرفہ ہی میں ہوں۔ بہتر یہ ہے کہ غروب کے فوراً بعد عرفہ سے نکل جائیں اور مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں۔

 رمی جمرات میں سرزد ہونے والی غلطیاں

﴿۱﴾ یہ مشہورہے کہ مزدلفہ سے کنکریاں چننا ضروری ہے، چنانچہ لوگ رات میں بڑی مشقتوں کے ساتھ کنکریاں چنتے ہیں اور منیٰ میں ان کو بڑا سنبھال کر رکھتے ہیں۔ اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ حضرت ابن عباسؓ  فرماتے ہیں:

قال لي رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم غداۃ العقبۃ وھو علی راحلتہ: ھات القط لي، فلقطت لہ حصیات ھن حصی الخذف، فلما وضعتھن في یدہ قال: ’’بأمثال ھؤلائ، وایاکم والغلو في الدین، فانما أھلک من کان قبلکم الغلو في الدین۔        ﴿سنن  نساء یؒ ، ۳۰۵۷، سنن ابن ماجہؒ ، ۳۰۲۹﴾ ’عقبہ کی صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے مجھ سے فرمایا کہ میرے لیے کنکریاں چنو، تو میں نے آپﷺ  کے لیے کنکریاں چنیں جو چنے کے دانے کے برابر تھیں، جب میں نے انہیں آپﷺ  کے ہاتھ میں رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان جیسی کنکریوں سے رمی کرو، اور دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگوں کو دین میں غلو نے ہلاک کردیا‘‘۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپﷺ  نے جمرہ کے پاس کھڑے ہو کر کنکریاں چننے کا حکم دیا۔

﴿۲﴾ بعض بے علم لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیںکہ ہم شیطان کو مار رہے ہیں۔جمار کو شیطان کے نام سے موسوم کرتے ہیںاور انتہائی غیظ وغضب کے ساتھ شیطان کو صلواتیں سناتے ہوئے کنکریاں مارتے ہیں۔ بعض لوگ غصّے میں آکراوپر چڑھ جاتے ہیں اورجوتوں اور بڑے پتھروں سے جمارپرمارنے لگتے ہیں۔ یہ سب بے بنیاد ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

انما جعل الطواف بالبیت وبین الصفا والمروۃ ورمی الجمار لاقامۃ ذکر اللّٰہ‘‘﴿سنن ابوداؤدؒ ، ۱۸۹۰﴾ ’خانہ کعبہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کرنے کے لیے ہے۔‘

﴿۳﴾ بڑی بڑی کنکریوں، جوتے چپلوں اور لکڑیوں سے رمی کرنا، شریعت کے خلاف ہے۔

﴿۴﴾ جمرات کی طرف انتہائی شدت کے ساتھ بڑھنا، بایں طور کہ نہ دل میں اللہ کا خوف ہو اور نہ بندوں پر رحم کا جذبہ۔ اس طرزِ عمل سے بچنا چاہیے۔

﴿۵﴾ ایامِ تشریق ﴿۱۱،۱۲،۱۳/ذی الحجہ﴾ میں پہلے اور دوسرے جمرہ کی رمی کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ حج میں یہ دعا ثابت ہے: ’’أن رسول اللّٰہ ا کان اذا رمی الجمرۃ التي تلي مسجد منی یرمیھابسبع حصیات، یکبر کلّما رمی بحصاۃ، ثم تقدم أمامہا فوقف مستقبل القبلۃ رافعاً یدیہ یدعو، وکان یطیل الوقوف، حتی یأتي الجمرۃ الثانیۃ، فیرمیھا بسبع حصیات، یکبر کلّما رمی بحصاۃ، ثم ینحدر ذات الیسار مما یلي الوادي فیقف مستقبل القبلۃ رافعاً یدیہ یدعو، ثم یأتي الجمرۃ التي عند العقبۃ فیرمیھا بسبع حصیات یکبر عند کل بحصاۃ، ثم ینصرف ولا یقف عندھا‘‘ ﴿صحیح بخاریؒ ، ۱۷۵۳﴾

’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد منی کے قریب والے جمرہ کو کنکریاں مارتے تو سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر آگے بڑھ کر کھڑے ہوجاتے اور قبلہ رو ہوکر ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرتے، پھر دوسرے جمرہ کے پاس آتے اور اسے بھی سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر بائیں جانب وادی سے قریب اتر کر کھڑے ہوجاتے اور ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے، پھر عقبہ کے قریب والے جمرہ کے پاس آتے اور اسے سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، پھر واپس چلے جاتے اور اس کے بعد کھڑے نہیں ہوتے۔‘

﴿۶﴾ بعض حجاج ساری کنکریاں ایک بار میں مارتے ہیں۔ایسی صورت میں صرف ایک کنکری شمار ہوگی۔ ہر کنکری الگ الگ ماریں۔

﴿۷﴾ رمی کرتے وقت غیر منقول دعائیں غلط ہے۔ مثلاً:اللھم اجعلھا رضاً للرحمن، وغضباً للشیطان۔ بسااوقات اس دعا کو پڑھنے کے چکر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول تکبیر تک چھوڑ دی جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ آپﷺ  سے جتنا ثابت ہے کسی کمی بیشی کے بغیر اس پر عمل کیا جائے۔ آپﷺ  صرف تکبیر کہتے ہوئے ہر کنکری مارتے تھے۔

﴿۸﴾ رمی جمار میں سستی کرنا اور بلاعذر قدرت کے باوجود دوسروں کو رمی کے لیے وکیل بنا کر بھیجنادرست نہیں۔ ارشادِ باری ہے:  أَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّہِ ﴿البقرۃ:۱۹۶﴾ ’اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرہ کی نیت کرو تو اسے پورا کرو۔‘

جو شخص رمی کرنے کی طاقت رکھتا ہو اسے خود رمی کرنی چاہیے اور اس راہ میں آنے والی مشقتوں اور پریشانیوں پر صبر کرنا چاہیے۔حج ایک قسم کا جہاد ہے۔ اس میں پریشانیوں کا وجود لازم ہے۔

﴿۹﴾ رمی جمرات کے وقت کی تعیین کے سلسلے میں علماکی دو رائیں ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ۱۰/ذی الحجہ کی رمی کا وقت طلوعِ آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے اور ۱۱،۱۲،۱۳/ ذی الحجہ کو اس کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس سے قبل رمی کرنا جائز نہیں ہے۔ بعض دوسرے علمانے حالات کے لحاظ سے یہ فتویٰ دیا کہ طلوعِ فجر کے بعد بھی رمی کی جاسکتی ہے۔ اس مسئلے میں ایک معتدل رائے یہ نظر آتی ہے کہ وقت کی تعیین کا امر حاجی کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:  فَاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ﴿التغابن:۱۶﴾ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما نھیتکم عنہ فاجتنبوہ، وما أمرتکم بہ فافعلوا منہ ما استطعتم  ﴿بخاریؒ :۷۲۸۸، مسلمؒ : ۶۲۵۹﴾ آیتِ کریمہ اور حدیث نبوی کو سامنے رکھتے ہوئے ہر حاجی خود یہ فیصلہ کرے کہ حالات کے مطابق اس کے لیے کس طریقہ پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ مثلاً جن حجاج کرام کو منی میں خیمے میسر ہوں انہیں اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ زوال کے بعد رمی کریں۔ البتہ جن حجاج کو منی میں خیمے میسر نہیں ہوتے اور انتظامیہ کے افراد انہیں ہمہ وقت شارع پیمائی پر مجبور رکھتے ہیں ان کے لیے رخصت پر عمل کرتے ہوئے طلوعِ فجر کے بعد سے ہی رمی کی اجازت ہونی چاہیے۔

 طوافِ وداع میں سرزد ہونے والی غلطیاں

﴿۱﴾ ۱۲یا ۱۳/ ذی الحجہ کو رمی جمرات سے پہلے منیٰ سے مکہ آکر طوافِ وداع کرلینا، پھر منی واپس جاکر رمی کرنا، پھر وہیں سے وطن لوٹ جاناسنت کے خلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ  فرماتے ہیں: أمر الناس أن یکون آخر عھدھم بالبیت، الا أنہ خفف عن الحائض   ﴿صحیح بخاریؒ ، ۱۷۵۵، صحیح مسلمؒ ، ۳۲۸۴﴾ ’لوگوں کو یہ حکم دیا گیا کہ ان کا آخری وقت بیت اللہ کے ساتھ ہو﴿ طوافِ وداع کریں﴾، البتہ حائضہ کے لیے معافی ہے۔‘ حضرت عمرؓ  کا اس باب میں صراحتاً یہ حکم ہے کہ جس نے طوافِ وداع کے بعد رمی کی تو اس کا طواف وداع نہیں ہوگا اور اس پر یہ واجب ہوگا کہ وہ رمی کے بعد دوبارہ طواف کرے۔ اگر وہ دوبارہ طواف نہیں کرتا تو اس کا حکم اس شخص کے حکم کی طرح ہے جس نے طوافِ وداع کیا ہی نہیں۔

﴿۲﴾ طوافِ وداع کے بعد بلا عذر مکہ میں رکے رہنامناسب نہیں۔ البتہ اگر طواف کے بعد نماز کا وقت ہوجائے تو نماز پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح سفر کی ضروریات کی وجہ سے اگر دیر ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

﴿۳﴾ طوافِ وداع کے بعد خانہ کعبہ کی جانب منھ کرکے مسجد ِ حرام سے نکلنا، بایں طور کہ خانہ کعبہ کی جانب پیٹھ نہ ہو اور یہ سمجھنا کہ اس میں خانہ کعبہ کی تعظیم واحترام کا پہلو مد ِ نظر ہے، یہ سراسر بدعت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدینؓ  اور صحابہ کرامؓ  میں سے کسی کا یہ عمل نہیں تھا۔

﴿۴﴾ طواف کے بعد خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے الوداعی دعاوسلام بھی بدعت ہے۔

مسجد ِ عائشہؓ  سے احرام باندھ کر کثرت سے عمرہ کرنا

حدودِ حرم کے اندر مقیم اہلِ مکہ اگر عمرہ کرنا چاہیں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ حدودِ حرم سے باہر جاکر احرام باندھیں۔ اسی لیے حجۃالوداع کے موقعے پر جب حضرت عائشہؓ  ماہواری کی وجہ سے عمرہ نہ کرسکی تھیں تو طہارت کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرؓ  کے ساتھ حدودِ حرم سے باہر تنعیم نامی مقام پر عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے بھیجا تھا۔ یہ رخصت مخصوص حالت کی وجہ سے تھی۔ اسی لیے صحابہ کرامؓ  نے کبھی اس رخصت کو ہر شخص کے لیے عام نہیں سمجھا، بلکہ خود حضرت عائشہؓ  اس کو عام تصور نہیں کرتی تھیں۔ لیکن آج اس رخصت پر اس عموم کے ساتھ عمل ہورہا ہے۔آپﷺ نے حج وعمرہ کی خاطر مکہ آنے والوں کے لیے میقاتیں مقرر کی ہیں اور فرمایا: ’’ھن لھن ولمن أتی علیھن من غیر أھلھن لمن أراد العمرۃ والحج‘‘ اور جو حضرات میقات اور حد ِ حرم کے درمیان رہائش پذیر ہیں وہ حج اور عمرہ کا احرام اپنے گھروں سے باندھیں گے۔ جو حضرات حدودِ حرم کے اندر رہتے ہیں وہ حج کا احرام اپنے گھروں سے، اور عمرہ کا احرام حدودِ حرم سے باہر نکل کر باندھیں گے۔ اب صورتِ حال یہ ہوگئی ہے کہ حجاج کی ایک بڑی اکثریت بغیر کسی عذر کے تنعیم ﴿یا حدودِ حرم سے باہر کسی بھی مقام﴾ سے عمرہ کا احرام باندھ کر کثرت سے عمرہ کرتی ہے۔یہ مناسب نہیں۔ البتہ اس امر میں تشدد برتتے ہوئے اس کو مطلق ناجائز قرار دینا بھی غلط ہے۔ ایک معتدل نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس سلسلے میں حجاج کے درمیان فرق کیا جائے اور ہر ایک پر یکساں حکم لگانے سے گریز کیا جائے۔ لہٰذا یہ کہا جائے کہ جو حضرات دور دراز ممالک سے آئے ہیں، اور غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان کا پہلا اور آخری سفرِ حرمین ہے تو ایسے لوگوں کے لیے یہ گنجائش نکالی جاسکتی ہے کہ وہ بلا عذر بھی اس رخصت پر عمل کریں۔ لیکن جو لوگ سعودی عرب اور آس پاس ممالک میں مقیم ہیں اور جن کا کثرت سے مکہ آنا ہوتا ہے وہ بلا عذر اس رخصت پر عمل نہ کریں۔متعینہ میقات سے ہی احرام باندھیں۔

نومبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau