اِنسانی سماج اور اشتراکِ عمل

ڈاکٹر محمد رفعت

اِنسانوں کا ایک دوسرے سے مِل کر رہنے کا جذبہ اِنسانی تمدن کی بنیاد ہے۔ اِس جذبے کو اِنسانی فطرت کاایک بنیادی جُز قرار دیاجاسکتاہے۔ اِنسانوں کے اجتماعی ادارے اِسی جذبے کا مظہر ہیں۔ ہر اجتماعی ادارے میں مختلف افراد کسی متعین سماجی ضرورت کی تکمیل کے لیے اشتراکِ عمل کرتے ہیں۔ اِس اشتراکِ عمل کے لیے ناگزیر ہے کہ اجتماعی ادارے سے وابستہ افراد کے افکار وخیالات میں کم از کم اس حد تک یکسانیت موجود ہو جو ادارے کے چلانے کے لیے ضروری ہے۔

یہ واقعہ ہے کہ اِنسانوں کے درمیان بہت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ رنگ اور نسل کا اختلاف بھی ہوتا ہے اور زبان اور علاقے کابھی۔ طبیعتوںاور مزاج کا اختلاف بھی ہوتاہے اور ذوق و رجحان کابھی۔ اِسی طرح صلاحیتوں میں بھی اختلاف ہوتاہے۔ کچھ لوگ جسمانی محنت کرسکتے ہیں تو کچھ ذہنی ریاضت میں آگے ہوتے ہیں۔ کچھ میں قیادت کی صلاحیت ہوتی ہے اور وہ ہزاروں افراد سے کام لے سکتے ہیں تو کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو گنتی کے افراد کی قیادت بھی نہیں کرسکتے۔ ان تمام اختلافات کے باوجود اِنسانوں کے درمیان اشتراکِ عمل ممکن ہے۔ تاریخ اِنسانی میں بارہا مختلف نسلوں اور علاقوں کے لوگوں نے مشترک مقاصد کے لیے کام کیا ہے اور آج کی دنیا میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ رہا صلاحیتوںکا اختلاف تو وہ نہ صِرف اشتراکِ عمل میں رکاوٹ نہیں بنتا بلکہ اشتراک کے لیے راہیں کھولتا ہے۔ البتہ خیالات و افکار کا اختلاف ایسا اختلاف ہے جو اگر ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو اِنسانوں کے درمیان اشتراکِ عمل ممکن نہیں رہتا۔ اب چونکہ مِل جُل کر کام کرنا اِنسانوں کی ضرورت بھی ہے اور اُن کی فطرت کاتقاضا بھی ، اِس لیے اختلافِ افکار کو معقول حدتک محدود کرنے کی راہ تلاش کرنا ضروری ہے۔ اختلافِ افکار کے مسئلے کو حل کرنے کی سعی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ خودافکار کے اختلاف کی حقیقت کو سمجھ لیاجائے۔

اختلافِ افکار اور اختلافِ دین

یہ واقعہ ہے کہ اِنسانی ذہن مختلف خیالات کی آماجگاہ ہے۔ اِنسان کے دِل میں خیالات آتے اور جاتے رہتے ہیں۔ جو لوگ کوئی مستحکم فکر نہیں رکھتے وہ اپنے ِن متفرق خیالات کے پیرو ہوتے ہیں۔ چنانچہ اُن کا عملی رویّہ بھی غیرمستحکم اور ڈانوا ڈول ﴿متزلزل﴾ ہوتا ہے۔ کبھی خیالات کی ایک لہر انھیں نیکی کی طرف لے جاتی ہے تو کبھی اُس کے خلاف لہر انھیں بدی پر آمادہ کردیتی ہے۔ عموماً اُن کی ذہنی کیفیات خارجی حالات کی تابع ہوتی ہیں۔ چنانچہ حالات کی تنگی یا کشادگی اُن کے رویّے کو بدل دیتی ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کاتذکرہ کیاگیا ہے۔

وَاذَا غَشِیَہُم مَّوْجٌ کَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ الَی الْبَرِّ فَمِنْہُم مُّقْتَصِدٌ وَمَا یَجْحَدُ بِآیَاتِنَا الَّا کُلُّ خَتَّارٍ کَفُورٍ ﴿سورہ لقمان- آیت ۲۳﴾

’’اور جب ﴿سمندر میں﴾ ان لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھاجاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اسی کے لیے خالص کرکے۔ پھر جب وہ بچاکر انھیں خشکی تک پہنچادیتا ہے تو اُن میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے اور ہماری نشانیوں کااِنکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدار اور ناشُکرا ہے۔‘‘

اِس کے برعکس محکم فکر کی بنیاد ایمان پر ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے وہ خیالات کے انتشار سے بچ جاتا ہے۔ اُس کو وہ بصیرت حاصل ہوجاتی ہے جو اس کے خیالات میں درستگی، ترتیب اور نظم پیدا کردیتی ہے۔ چنانچہ ہر حال میں حق پر قائم رہنا اُس کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں ایمان کے اِن ثمرات کو بیان کیاگیا ہے:

لَا اکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِن بِاللّہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَی لاَ انفِصَامَ لَہَا وَاللّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌo اللّہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُواْ یُخْرِجُہُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ الَی النُّوُرِ وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ أَوْلِیَآؤُہُمُ الطَّاغُوتُ یُخْرِجُونَہُم مِّنَ النُّورِ الَی الظُّلُمَاتِ أُوْلَ ئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُون

﴿سورہ بقرہ- آیات۲۵۲ و ۲۵۷﴾

’’دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکارکرکے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ ﴿جِس کا سہارا اُس نے لیاہے﴾ سب کچھ سننے اور جاننے والاہے۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی ومددگار اللہ ہے اور وہ اُن کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی ومددگار طاغوت ہیں۔ اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اللہ کے دین کو اختیارکرے اور اُس کی پیروی کرے۔ اِسی طرح اِس کے برعکس بات بھی درست ہے۔ جو شخص اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان نہیں لاتا بلکہ اُن کا اِنکار کرتا ہے ﴿یعنی کفر کرتاہے﴾ وہ لازماً اللہ کے دین کے بجائے کسی اور دین کا پیرو سمجھاجائے گا۔ قرآن مجید نے اِس حقیقت کو صاف صاف بیان کردیاہے:

قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَoلَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ oوَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ oوَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ oوَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُo لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ o                                  ﴿سورہ کافرون﴾

’’کہہ دوکہ اے کافرو! میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادَت تم کرتے ہو۔ نہ تم اُس کی عبادَت کرنے والے ہو جِس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ اور نہ میں اُن کی عبادَت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے۔ اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جِس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔‘‘

مندرجہ بالا گفتگو کی روشنی میں چندامور سامنے آتے ہیں:

  • ﴿الف﴾اِنسان کس دین کاپیرو ہے اِس کا انحصار اِس پر ہے کہ وہ عبادت کس کی کرتا ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی لاشریک عبادت کرتاہے تو وہ اللہ کے دین یعنی دینِ حق کا پیرو سمجھاجائے گا۔ اگر وہ اللہ کو چھوڑکر دوسرے معبودوں کی عبادت کرتاہے یا عبادت میں اللہ کے ساتھ اُن کو بھی شریک کرتا ہے تو وہ اللہ کے دین کا پیرو نہ ہوگا بلکہ کسی باطل دین کا پیرو قرار دیاجائے گا۔
  • ﴿ب﴾دین، خواہ حق ہو یا باطل،اگر اِنسان اُس کی پیروی اختیارکرے تو اُس کے افکار و خیالات اُس دین کے پیش کردہ تصورِ کائنات کے عکاس ہوں گے اور اُس کا عملی رویہ بھی اُن افکار کے تابع اور اُن کے مطابق ہوگا۔
  • ﴿ج﴾چنانچہ اختلافِ افکار کا اصل منبع اختلافِ دین ہے۔ بالفاظ دیگر اِنسانوں کے خیالات و افکار کے مختلف ہونے کی حقیقت یہ ہے کہ اُن کے دین مختلف ہیں۔

دین سے رسمی وابستگی

اِس مقام پر یہ سوال پیداہوتاہے کہ بسااوقات دین ایک ہونے کے باوجود اِنسانوں کے افکار واعمال میں اساسی اختلافات نظرآتے ہیں۔ اس کی وجہ کیاہے؟ قرآن مجید اِس سوال کے جواب میں بتاتاہے کہ اِس صورت حال کی وجہ دین سے حقیقی اور مخلصانہ وابستگی کے بجائے محض رسمی اور بے روح وابستگی ہے جس کی بنا پر آدمی دینِ حق کی مخلصانہ پیروی کے بجائے خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔

وَلاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُواْ وَاخْتَلَفُواْ مِن بَعْدِ مَا جَائ ہُمُ الْبَیّنَاتُ وَأُوْلَئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْم        ﴿سورہ آلِ عمران -آیت ۱۰۵﴾

’’﴿اے ایمان لانے والو!﴾ کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھُلی کھُلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلاہوئے۔ جنھوںنے یہ روش اختیار کی، اُن کے لیے سخت سزا ہے۔‘‘

جناب شبیر احمد عثمانی آیتِ بالا کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یعنی یہودو نصاریٰ کی طرح مت بنو جو خداتعالیٰ کے صاف احکام پہنچنے کے بعد محض اوہام و اہواء کی پیروی کرکے اصولِ شرع میں متفرق اور فروع میں مختلف ہوگئے۔ آخر فرقہ بندیوں نے اُن کے مذہب وقومیت کو تباہ کرڈالا اور سب کے سب عذابِ الٰہی کے نیچے آگئے۔ اس آیت سے ان اختلافات اور فرقہ بندیوں کا مذموم و مہلک ہونا معلوم ہوا جو شریعت کے صاف احکام پر مطلع ہونے کے بعد پیدا کی جائیں۔‘‘

کہاجاسکتا ہے کہ آیتِ بالا میں ﴿وجہِ اختلاف کے طورپر﴾ خواہشات کی پیروی کا صراحتاً تذکرہ نہیں ہے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید دوسرے مقامات پر صراحت کے ساتھ اس مظہر کا تذکرہ کرتا ہے جو کتابِ الٰہی کے حامل گروہوں میں ابتدائی دور کے بعد نمودار ہوجایاکرتا ہے۔ ابتدا میں جب انبیاء  کی براہِ راست تربیت کے اثرات موجود ہوتے ہیں تو لوگ ہدایت پر قائم رہتے ہیں لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، خواہشات کی پیروی کا فتنہ سَر اُٹھانے لگتا ہے۔

فَخَلَفَ مِن بَعْدِہِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیّاًoالَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً فَأُوْلَئِکَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُونَ شَیْئاًo                  ﴿سورہ مریم- آیات ۵۹-۶۰﴾

’’پھر اُن کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنھوںنے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی۔ پَس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں۔ البتہ جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیارکرلیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور اُن کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہوگی۔‘‘

بظاہر دین میں متفق ہونے کے باوجود اختلافات کا شکار ہوجانے کی ایک وجہ خواہشات و اوہام کی پیروی ہے۔ ان اختلافات کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دین کی مکمل اتباع کے بجائے محض بعض  اجزاء  دین پر عمل کو کافی سمجھ لیاجاتا ہے۔

یَا أَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوا مِنَ الطَّیِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً انِّیْ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِیْمٌ oوَانَّ ہَذِہِ أُمَّتُکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَأَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُونِ oفَتَقَطَّعُوا أَمْرَہُم بَیْنَہُمْ زُبُراً کُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُونَo         ﴿سورہ مومنون- آیات ۵۱تا ۵۳﴾

’’اے پیغمبرو! کھائو پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو میں اُس کو خوب جانتاہوں۔ اور یہ تمھاری اُمت ایک ہی اُمت ہے اور میں تمھارا رَب ہوں پس مجھی سے تم ڈرو۔ مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا۔ ہرگروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے۔‘‘

وَاذْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ لاَ تَسْفِکُونَ دِمَائ کُمْ وَلاَ تُخْرِجُونَ أَنفُسَکُم مِّن دِیَارِکُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْہَدُون oثُمَّ أَنتُمْ ہَ ؤُلائ تَقْتُلُونَ أَنفُسَکُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِیْقاً مِّنکُم مِّن دِیَارِہِمْ تَظَاہَرُونَ عَلَیْہِم بِالاثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَان یَأتُوکُمْ أُسَارَی تُفَادُوہُمْ وَہُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْکُمْ اخْرَاجُہُمْ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَائ مَن یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنکُمْ الاَّ خِزْیٌ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ یُرَدُّونَ الَی أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَo

﴿سورہ بقرہ- آیات ۴۸-۵۸﴾

’’﴿اے بنی اسرائیل﴾ ذرا یاد کرو کہ ہم نے تم سے مضبوط عہد لیاتھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا۔ تم نے اس کا اقرار کیاتھا، تم خود اس پر گواہ ہو۔ مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کردیتے ہو، ظلم و زیادتی کے ساتھ اُن کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو اورجب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمھارے پاس آتے ہیں، تو اُن کی رِہائی کے لیے فدیے کا لین دین کرتے ہو، حالانکہ انھیں اُن کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا۔تو کیا تم کتاب کے ایک حصّے پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصّے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں، اُن کی سزا اِس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہوکر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیردیے جائیں؟ اللہ اُن حرکات سے بے خبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔‘‘

واقعہ یہ ہے کہ دینِ حق کی مخلصانہ اور کامل پیروی کالازمی نتیجہ حاملین دین کا باہم اتحاد ہے۔ اب اگر حاملین دین منتشر نظرآئیں تو اس کی وجہ دین کے بجائے خواہشات کی پیروی ہوگی یا محض بعض اجزائے دین پر عمل ہورہا ہوگا اور دین کے کامل اتباع سے غفلت برتی جارہی ہوگی۔

فروعی اختلافات

دینِ حق کی اساس پر متفق ہونے کے باوجود یہ ممکن ہے کہ اہلِ ایمان کے درمیان فروعی اختلافات پائے جائیں۔ ایسے اختلافات اتحادِ امت میں مانع نہیں ہیں۔ سورہ آل عمران آیت ۱۰۵کی تشریح کرتے ہوئے جناب شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

’’اللہ ورسول کے وعدے کے موافق ایک عظیم الشان جماعت بحمداللہ، خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے مااناعلیہ واصحابی ﴿میرے اور میرے اصحاب﴾ کے مَسلک پر قائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گی۔ باقی فروعی اختلافات صحابہ رضی اللہ عنھم اور ائمہ مجتہدین میں ہوئے ہیں ﴿وہ اس آیت کے منافی نہیں۔﴾‘‘

اگرفروعی نوعیت کے اختلافات اہلِ ایمان کے درمیان واقع ہوجائیں تو اُن کے رفع کرنے کا طریقہ قرآن مجیدنے یہ بتایاہے کہ کتاب و سنت کی روشنی میں اختلافات کو حل کرلیاجائے۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِیْ الأَمْرِ مِنکُمْ فَان تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئ ٍ فَرُدُّوہُ الَی اللّہِ وَالرَّسُولِ ان کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ ذَلِکَ خَیْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِیْلاًo ﴿سورہ  نساء – آیت۹ ۵﴾

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اِطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں۔ پھر اگر تمھارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اُسے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو، اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔‘‘

آیتِ بالا کی تشریح کرتے ہوئے جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

’’خدا کا حکم اور رسول کاطریقہ بنیادی قانون اور آخری سند ہے۔ مسلمانوں کے درمیان یا ﴿اِسلامی﴾ حکومت اور رعایا کے درمیان جِس مسئلے میں بھی نزاع واقع ہوگی اُس میں فیصلے کے لیے قرآن اور سنت کی طرف رجوع کیاجائے گا اور جو فیصلہ وہاں سے حاصل ہوگا اُس کے سامنے سب سرِتسلیم خم کردیں گے۔‘‘       ﴿ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی﴾

جناب شبیراحمد عثمانی آیتِ مذکور کے ذیل میں لکھتے ہیں:

’’اگر تم میں اور اولوالامر میں اختلاف ہوجائے کہ حاکم کا یہ حکم، اللہ اور رسول کے حکم کے موافق ہے یامخالف تو اُس کو کتاب اور سنت رسول اللہ کی طرف رجوع کرکے طے کرلیاکرو کہ وہ حکم فی الحقیقت، اللہ اوررسول کے حکم کے موافق ہے یا مخالف اور جو بات محقق ہوجائے اُسی کو بالاتفاق مسلّم اور معمول بہ سمجھنا چاہیے اور اختلاف کو دور کردیناچاہیے۔اپنے تنازعات اور اختلافات کو اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرنا اور اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرنی مفید ہے۔ آپس میں جھگڑنے یا اپنی رائے کے موافق فیصلہ کرنے سے اِس رجوع کا انجام بہتر ہے۔‘‘

اساسی اور فروعی اختلاف کا امتیازی فرق

حاملینِ دین کے درمیان کِس اختلاف کو اساسی قرار دیاجائے گا اور کس کو فروعی، یہ ایک اہم سوال ہے۔ جناب سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ  اِس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’قرآن اُس صحت بخش اختلاف رائے کامخالف نہیں ہے جو دین میں متفق اور اسلامی نظامِ جماعت میں متحد رہتے ہوئے محض احکام و قوانین کی تعبیر میں مخلصانہ تحقیق کی بنیاد پر کیاجائے، بلکہ وہ مذمت اُس اختلاف کی کرتا ہے جو نفسانیت اور کج نگاہی سے شروع ہو اور فرقہ بندی و نزاعِ باہمی تک نوبت پہنچادے۔‘‘ ﴿مقدمہ تفہیم القرآن﴾

یہ واقعہ ہے کہ اہلِ عقل ودانش کے مابین فروعی امور میں اختلافات کوئی غیرمتوقع شے نہیں ہیں۔ اِس سلسلے میں سید مودودی لکھتے ہیں:

’’پہلی قسم کا ﴿یعنی فروعی﴾ اختلاف تو ترقی کی جان اور زندگی کی روح ہے۔ وہ ہر اُس سوسائٹی میں پایاجائے گا جو عقل و فکر رکھنے والوں پر مشتمل ہو۔﴿ایضاً﴾

پھراساسی نوعیت کے اختلافات کے مضراثرات کاذِکر کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں:

’’رہا دوسری قسم کا ﴿یعنی اَساسی﴾ اختلاف تو ایک دنیا جانتی ہے کہ اُس نے جِس گروہ میں بھی سَر اُٹھایا اُس کو پراگندہ کرکے چھوڑا۔ اُس کا رونما ہونا صحت کی نہیں بلکہ مرض کی علامت ہے، اور اُس کے نتائج کبھی بھی اُمت کے حق میں مفید نہیں ہوسکتے۔‘‘ ﴿ایضاً﴾

دونوں قسم کے اختلافات کی ماہیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سید مودودی کہتے ہیں:

’’ایک صورت تو وہ ہے جِس میں خدا اور رسول کی اطاعت پر جماعت کے سب لوگ متفق ہوں، احکام کاماخذ بھی بالاتفاق قرآن اور سنت کو مانا جائے، اور پھر دو عالِم کسی جُزوی مسئلے کی تحقیق میں یا دو قاضی کسی مقدمے کے فیصلے میں ایک دوسرے سے اختلاف کریں۔ مگر اُن میں سے کوئی بھی نہ تو اس مسئلے کو اور اس میں اپنی رائے کو مدارِ دین بنائے اور نہ اُس سے اختلاف کرنے والے کو دین سے خارج قراردے، بلکہ دونوں اپنے اپنے دلائل دے کر اپنی حد تک تحقیق کا حق ادا کردیں، اور یہ بات رائے عام پر یا اگر عدالتی مسئلہ ہوتو مُلک کی آخری عدالت پر، یا اگر اجتماعی معاملہ ہوتو نظامِ جماعت پر چھوڑدیں کہ وہ دونوں رایوں میں سے جِس کو چاہیں قبول کریں، یا دونوں کو جائز رکھیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ اختلاف سرے سے دین کی بنیادوں ہی میں کرڈالاجائے، یا یہ کہ کوئی عالم یا صوفی یا مفتی یا متکلم یا لیڈر، کسی ایک مسئلے میں جِس کو خدا اور رسول نے دین کا بنیادی مسئلہ قرار نہیں دیاتھا، ایک رائے اختیار کرے اورخواہ مخواہ کھینچ تان کر اُس کو دین کا بنیادی مسئلہ بناڈالے، اور پھر جو اُس سے اختلاف کرے اُس کو خارج ازدین و ملت قرار دے، اور اپنے حامیوں کا ایک جتھا بناکر کہے کہ اصل امتِ مسلمہ بَس یہ ہے اور باقی سب جہنمی ہیں، اور ہانک پکارکرکہے کہ مُسلم ہے تو بَس اِس جتھے میں آجا ورنہ تو مسلم ہی نہیں ہے۔‘‘ ﴿ایضاً﴾

اِن دو قسم کے اختلافات کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوے کا تذکرہ کرتے ہوئے سید مودودیؒ  لکھتے ہیں:

’’قرآن نے جہاں کہیں بھی اختلاف اور فرقہ بندی کی مخالفت کی ہے اُس سے اُس کی مراد یہ دوسری قسم کا اختلاف ہی ہے۔ رہا پہلی قسم کا اختلاف تو اس کی متعدد مثالیں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش آچکی تھیں، اور آپ نے صرف یہی نہیں کہ اس کو جائز رکھا، بلکہ اس کی تحسین بھی فرمائی۔ اِس لیے کہ وہ اختلاف تو اِس بات کاپتہ دیتا ہے کہ جماعت میں غورو فکر اور تحقیق و تجسس اور فہم وتفقہ کی صلاحیتیں موجود ہیں، اور جماعت کے ذہین لوگوں کو اپنے دین سے اور اُس کے احکام سے دلچسپی ہے۔ اور اُن کی ذہانتیں اپنے مسائل زندگی کا حل دین کے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر ہی تلاش کرتی ہیں، اور جماعت بحیثیت مجموعی، اِس زرّیں قاعدے پر عامل ہے کہ اصول میں متفق رہ کر اپنی وحدت بھی برقرار رکھے اور پھر اپنے اہلِ علم و فکر کو صحیح حدود کے اندر تحقیق و اجتہاد کی آزادی دے کر ترقی کے مواقع بھی باقی رکھے۔‘‘ ﴿ایضاً﴾

حاملینِ دین کی دینی بصیرت سے یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اساسی اور فروعی اختلافات میں امتیازکریں گے پھر اس امتیاز کی بنا پر اساسی اختلافات سے بچیںگے اور امت کو بچائیںگے نیز فروعی اختلافات کے حل کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کریںگے جِس کی جانب اللہ تعالیٰ نے سورہ  نساء  کی آیت ۵۹ میں رہنمائی فرمائی ہے۔

ہدایتِ الٰہی کی ضرورت

اب تک کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے:

  • ﴿الف﴾اشتراکِ عمل اِنسانی سماج کی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اِنسان اپنی فطرت کے عین تقاضے کے مطابق دوسرے اِنسانوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کرنا چاہتا ہے۔
  • ﴿ب﴾اشتراکِ عمل کے لیے ناگزیر ہے کہ حیات وکائنات سے متعلق اساسی امور میں اِنسانوں کے درمیان اتفاق ہو۔
  • ﴿ج﴾افکارو خیالات کا یہ اتفاق اُسی وقت ظہور میں آسکتا ہے جب اِنسان دین کے سلسلے میں متفق ہوں اِس لیے کہ دین میں اختلاف کا لازمی نتیجہ، افکار اور طرزِعمل میں اختلاف ہے۔

اَب سوال یہ ہے کہ وہ دین کون سا ہے جِس پر اِنسان متفق ہوجائیں؟ خدا کے قائلین کے لیے اِس سوال کا جواب اِس کے سوا کیاہوسکتا ہے کہ وہ دین خالقِ کائنات کا عطا کردہ دین ہے۔ قرآن مجید اسی بنیادی حقیقت کی طرف اِنسانوں کو متوجہ کرتا ہے:

وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْہِ مِن شَیْئ ٍ فَحُکْمُہُ الَی اللَّہِ ذَلِکُمُ اللَّہُ رَبِّیْ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَالَیْہِ أُنِیْبo          ﴿سورہ شوریٰ- آیت ۱۰﴾

’’تمھارے درمیان جِس معاملے میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کاکام ہے۔ وہی اللہ میرا رَب ہے اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتاہوں۔‘‘

اِس آیت کی تشریح کرتے ہوئے سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ  لکھتے ہیں:

’’قرآنِ مجید کے الفاظ عام ہیں اور وہ صاف صاف علی الاطلاق تمام نزاعات واختلافات میں اللہ کو فیصلہ کرنے کا اصل حق دار قرار دے رہے ہیں۔ اُن کی رو سے اللہ جِس طرح آخرت کا مالک یوم الدین ہے اسی طرح اِس دنیا کا بھی احکم الحاکمین ہے۔ جِس طرح وہ اعتقادی اختلافات میں یہ طے کرنے والا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، ٹھیک اُسی طرح قانونی حیثیت سے بھی وہی یہ طے کرنے والا ہے کہ اِنسان کے لیے پاک کیاہے اور ناپاک کیا، جائز اور حلال کیاہے اور حرام ومکروہ کیا، اخلاق میں بدی و زشتی کیاہے اور نیکی و خوبی کیا، معاملات میں کِس کاکیا حق ہے اور کیا نہیں ہے، معاشرت اور تمدّن اور سیاست اور معیشت میں کون سے طریقے درست ہیں اور کون سے غلط۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن- سورہ شوریٰ، حاشیہ۱۴﴾

یہی بات جناب شبیراحمد عثمانی نے آیتِ بالا کے ذیل میں فرمائی ہے:

’’یعنی سَب جھگڑوں کے فیصلے اُسی ﴿اللہ﴾ کے سپرد ہونے چاہییں۔ عقائد ہوں یا احکام، عبادات ہوں یا معاملات جِس چیز میں بھی اختلاف پڑجائے اُس کا بہترین فیصلہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہ دلائل کونیہ کے ذریعے سے یا اپنی کتاب میں یا اپنے رسولوں کی زبان پر ، صراحۃً یا اشارۃً، جس مسئلے کا جو فیصلہ فرمادے، بندے کو حق نہیں کہ اُس میں چوں و چرا کرے۔‘‘

جولوگ چاہتے ہیں کہ اِنسانی سماج میں اشتراکِ عمل کی راہیں ہموار ہوں اُن کو قرآن مجید کی اس قیمتی رہنمائی کی قدر کرنی چاہیے۔ اِنسانوں کے درمیان اختلافات کے فیصلے کاآخری حق خود اِنسانوں کو یا اُن میں سے کچھ کو نہیں دیاجاسکتا۔ اِس لیے کہ اِنسانوں کی عقل محدود بھی ہے اور خطاکار بھی۔ اختلافات کا وہی فیصلہ قابلِ قبول ہے جو خالقِ کائنات کی جانب سے صادر ہو۔ اِس لیے کہ اُس کا علم کامل ہے اور وہ حکیم بھی ہے اور بصیر بھی۔

اِنسان کی آزادی انتخاب

اِنسانی اختلافات کا حکیمانہ حَل ہدایتِ الٰہی میں موجود ہونے کے باوجود، یہ واقعہ ہے کہ بہت سے انسان ایسے بھی ہوں گے جو ہدایتِ الٰہی کی ناقدری کریں گے۔ چونکہ دنیا کی اِس زندگی میں آزادی عمل سَب کو حاصل ہے، اِس لیے اللہ تعالیٰ زبردستی سے کام نہیں لے گا اور اُن کو ہدایت کے راستے پر چلنے کے لیے مجبور نہیں کرے گا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی مشیت کے اِس پہلو کاتذکرہ کیاگیاہے:

وَلَوْ شَائ اللَّہُ لَجَعَلَہُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَلَکِن یُدْخِلُ مَن یَشَائ ُ فِیْ رَحْمَتِہِ وَالظَّالِمُونَ مَا لَہُم مِّن وَلِیٍّ وَلَا نَصِیْرٍ ﴿سورہ شوریٰ-آیت ۸﴾

’’اگر اللہ چاہتاتو ان سب کو ایک ہی اُمت بنادیتا، مگر وہ جسے چاہتاہے اپنی رحمت میں داخل کرتاہے اور ظالموں کا نہ کوئی وَلی ہے نہ مددگار۔‘‘

آیتِ بالا کی تشریح کرتے ہوئے جناب شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

’’یعنی بے شک اُس ﴿اللہ﴾ کو قدرت تھی۔ اگر چاہتاتو سب کو ایک طرح کا بنادیتا اور ایک ہی راستے پر ڈال دیتا لیکن اُس کی حکمت اسی کی مقتضی ہوئی کہ اپنی رحمت و غضب دونوں قسم کی صفات کااظہار فرمائے۔ اس لیے بندوں کے احوال میں اختلاف وتفاوت رکھا۔ کسی کو اُس کی فرماں برداری کی وجہ سے اپنی رحمت کا مورد بنایا اور کسی کو اُس کے ظلم وعصیان کی بنا پر رحمت سے دور پھینک دیا۔‘‘

جناب سید مودودی اِس ذیل میں لکھتے ہیں:

’’اللہ کی مرضی یہی ہے کہ اِنسانوں کو اختیار و انتخاب کی آزادی عطا کی جائے، پھر جو ہدایت چاہے اُسے ہدایت ملے اور جو گمراہ ہی ہونا پسند کرے اُسے جانے دیاجائے جدھر وہ جانا چاہتا ہے۔ اگر یہ اللہ کی مصلحت نہ ہوتی تو انبیاء  اور کتابیں بھیجنے کی حاجت ہی کیاتھی۔ اس کے لیے تو اللہ جل شانہ کا ایک تخلیقی اشارہ کافی تھا۔ سارے انسان اُسی طرح مطیعِ فرمان ہوتے جس طرح دریا، پہاڑ، درخت، مٹی، پتھر اور سب حیوانات ہیں۔‘‘ ﴿تفہیم القرآن- سورہ شوریٰ-حاشیہ۱۱﴾

اِنسانوں کو حاصل حق اور باطل کے درمیان انتخاب کی یہ آزادی، اِنسانی سماج کو انتشار کے خطرے سے دوچار کردیتی ہے۔ اس خطرے کے سدّباب کے لیے اللہ تعالیٰ نے اُمتِ مسلمہ کی یہ ذمّہ داری قرار دی ہے کہ وہ اِنسانی معاشرے میں معروف کے فروغ کی اور مُنکر کے استیصال کی ہرممکن کوشش کرے۔

کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ وَلَوْ آمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْراً لَّہُم مِّنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونo ﴿سورہ آلِ عمران-آیت۱۱۰﴾

’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے اِنسانوں کی ہدایت و اِصلاح کے لیے میدان میں لایاگیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہلِ کتاب ایمان لاتے تو انھی کے حق میں بہتر تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیش تر افراد نافرمان ہیں۔‘‘

اِنسانی سماج میں اشتراکِ عمل

اللہ کی مشیت کے مطابق افراد کو اپنی شخصی حیثیت میں یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ ہدایت الٰہی پر ایمان لائیں یا نہ لائیں۔ اِنسانوں کی اِس آزادی کو سلب کیے بغیر، اُمتِ مسلمہ کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ اِنسانی سماج میں معروف کو قائم کرے اور مُنکر کو مٹائے۔ اگر یہ کام پوری توجہ اور اہتمام سے انجام پانے لگے تو اِنسانی سماج کا انتشار دور ہوسکتا ہے اور اشتراک عمل کی راہیں ہموار ہوسکتی ہیں۔ اہلِ ایمان کی سعی کے نتیجے میں یہ مظہر نمودار ہوگا خواہ سماج کے سارے افراد نے شخصی و انفرادی حیثیت میں دینِ حق کو قبول نہ کیا ہو۔

معروف اور منکر کی اصطلاحات کامفہوم بیان کرتے ہوئے جناب سید جلال الدین عمری لکھتے ہیں:

’’اِنسان قانون کامحتاج ہے اور قانون دینے کاحق صرف خدا کو حاصل ہے۔ اِنسان نہ تو شخصی زندگی میں قانون سے بے نیاز ہوسکتا ہے اور نہ جماعتی زندگی میں۔ لیکن یہ بات اُس کے لیے جائز نہیں ہے کہ خود سے کوئی قانون بنالے اور اُس پر عمل شروع کردے۔ خدا کا بنایا ہوا قانون ’’معروف‘‘ ہے اور جو قانون، خدا کے قانون سے ٹکرائے وہ ’’منکر‘‘ ہے۔ ﴿’’معروف ومنکر‘‘ باب پنجم﴾

اِس مفہوم کی روشنی میں اہلِ ایمان کی ذمّہ داری بیان کرتے ہوئے محترم مصنف فرماتے ہیں:

’’خدا کا قانون غالب و سربلند ہونے کے لیے آیا ہے۔ جو لوگ خدا پر یقین رکھتے ہیں، اُن کا فرض ہے کہ اسے غالب کرنے اور اُس کے مخالف قوانین کو مٹانے کی کوشش کریں۔‘‘ ﴿ایضاً﴾

واقعہ یہ ہے کہ اگر اُمت مسلمہ اپنے فرضِ منصبی کو تندہی کے ساتھ انجام دینے لگے تو اس کی صفوں میں بھی اتحاد واتفاق پیدا ہوگا اور وسیع تر اِنسانی سماج میں بھی اشتراکِ عمل کی راہ ہموار ہوگی۔ کامیابی کے ساتھ اس فریضے کو انجام دینے کے لیے ضروری ہوگاکہ قوی اور مستحکم استدلال کے ذریعے اِنسانی سماج کی مؤثر تربیت کی جائے۔ اِس تربیت کے نتیجے میں لوگ معروف کو معروف کی حیثیت سے پہچاننے لگیں گے اور مُنکر کے فی الواقع مُنکر ہونے کے قائل ہوجائیں گے۔ تو قع کی جانی چاہیے کہ قدروں اور معیارات کی یہ تبدیلی اِنسانی سماج کو اتحاد عمل سے ہم کنار کرے گی۔

نومبر 2012

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau