Opens in a new tab

تاجروں کی خدمت میں

اگر آپ تاجر ہیں تو یاد کرتے رہیں کہ آپ کے سامنے بیک وقت دو تجارتوں کے تقاضے ہیں۔ ایک وہ تجارت جو آپ کا پیشہ ہے اور دوسری وہ جو ہر مومن کی زندگی کا مطمحِ نظر ہے۔ ایک تجارت کا نفع نقصان دنیوی ہوتا ہے، اس لیے معمولی اور عارضی ہوتا ہے جب کہ دوسری تجارت کا نفع نقصان اخروی ہوتا ہے اور اس لیے بہت بڑا اور دائمی ہوتا ہے۔ قیامت کا ایک نام یوم التغابن (نفع نقصان کا دن) بھی ہے، جس کا ذکر سورۃ التغابن میں آیا ہے۔

سورۃ الصف اور سورۃ الجمعۃ دونوں نظم قرآن کی اصطلاح میں جوڑا ہیں۔ اس حوالے سے ایک خاص واقعہ پیش آیا۔ ہوا یہ کہ ایک دن مجھے تجارت سے متعلق ایک پروگرام میں تذکیر پیش کرنی تھی۔ اللہ کا کرنا، اسی دن فجر کی نماز میں امام صاحب نے پہلی رکعت میں سورۃ الصف اور دوسری رکعت میں سورۃ الجمعۃ کی تلاوت کی۔ دورانِ نماز یکایک ذہن اس نکتے کی طرف متوجہ ہوا کہ دونوں سورتوں میں تجارت کا ذکر ہے۔ سورۃ الصف میں ایک عظیم تجارت کی ترغیب دی گئی ہے، جب کہ سورۃ الجمعۃ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عام تجارتی سرگرمیاں کسی بڑی غفلت کا سبب نہ بن جائیں۔

سورۃ الصف کی متعلقہ آیتیں ملاحظہ فرمائیں:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمْ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ. تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ. يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ. وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ. [الصف: 10 – 13]

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذاب الیم سے بچا دے؟. ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمھارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمھیں عطا فرمائے گا یہ ہے بڑی کام یابی. اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمھیں دے گا، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح اے نبیؐ، اہل ایمان کو اِس کی بشارت دے دو۔)

سورۃ الجمعۃ کی متعلقہ آیتیں ملاحظہ فرمائیں:

يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ. فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ. [الجمعة: 9 – 11]

(اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو. پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، شاید کہ تمھیں فلاح نصیب ہو جائے۔ اور جب انھوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمھیں کھڑا چھوڑ دیا ان سے کہو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔)

قرآن تجارت کی تعبیر اختیار کرتے ہوئے دو طرح کی تجارتوں کا ذکر کرتا ہے۔ ایک عظیم تجارت جس کا تعلق انسان کے اخروی نفع نقصان سے ہے۔ دوسری عام تجارت جس کا نفع نقصان اس دنیوی زندگی تک محدود ہوتا ہے۔

قرآن کی واضح اور دوٹوک رہ نمائی یہ ہے کہ دنیا کی چھوٹی تجارت آخرت کی بڑی تجارت سے غافل کرنے کا سبب نہ بنے بلکہ آخرت کی تجارت کو نفع بخش بنانے میں اپنا ایجابی کردار ادا کرے۔

کارِ تجارت باعثِ غفلت نہ بنے

تجارت کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ انسان کو مکمل مصروف رکھتی ہے۔ انسان ہر وقت خرید و فروخت کی کیفیت سے دوچار رہتا ہے۔ زراعت اور دست کاری کے مقابلے میں تجارت انسان کے اوپر زیادہ حاوی رہتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن میں خاص طور سے تجارت کی غفلت سے بچنے کی تاکید کی گئی۔ درج ذیل آیت پر غور کریں۔

رِجَالٌ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ. [النور: 37]

(وہ لوگ جو صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں۔ جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی۔)

غفلت کے حوالے سے یہاں تین باتوں کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے:

  • اللہ کا ذکر
  •  نماز کی اقامت
  •  زکٰوۃ کی ادائیگی

ان تینوں امور کا تاجر کے مزاج و حالات سے گہرا تعلق ہے۔ اس کا ذہن کاروبار میں مشغول رہتا ہے جس سے اللہ کی یاد متاثر ہوتی ہے۔ وہ ہر وقت کاروبار میں مصروف رہتا ہے اس لیے نمازیں متاثر ہوتی ہیں۔ وہ مال سے بے حد لگاؤ رکھتا ہے اس لیے زکٰوۃ و صدقات اس کے لیے کڑی آزمائش بن جاتے ہیں۔

ایک لطیف نکتہ یہ ہے کہ جن تین باتوں کی طرف آیت بالا میں توجہ دلائی گئی ہے انھی تین چیزوں کی طرف درج ذیل آیت میں بھی اسلوب بدل کر توجہ دلائی گئی ہے۔

إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ [فاطر: 29]

(جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انھیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا۔)

دونوں آیتوں کو سامنے رکھ کر یہ معلوم یہ ہوا کہ دنیا کی چھوٹی تجارتیں جن تین کاموں سے غافل کردیتی ہیں وہی تین کام درحقیقت نفع بخش تجارت تشکیل دیتے ہیں۔ ایسی تجارت جس کے نصیب میں گھاٹا نہیں ہے۔

تجارت کی بعض خصوصیات

دیگر پیشوں کے مقابلے میں تجارت کی کچھ ایسی خصوصیات ہیں جو انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں اور ان کے تئیں ہر تاجر کو اپنا رویہ طے کرنا چاہیے۔

تجارت میں انسان کا اپنی حرکت و ذہانت پر زیادہ بھروسا ہوتا ہے۔

زراعت میں حرکت و ذہانت کا ایک محدود کردار ہوتا ہے اور بڑا انحصار حالات پر ہوتا ہے۔  وقت پر بارش ہوجائے، نا وقت بارش نہ ہو، آندھی طوفان کا گزر نہ ہو، کوئی بیماری نہ لگے، کھیت میں آگ نہ لگ جائے، فصل پر پالا نہ پڑ جائے، غرض انسان اپنی بساط بھر محنت کرلینے کے بعد بے بسی کے ساتھ اپنی قسمت پر بھروسا کرتا ہے۔ یہ جملہ بہت عام ہے کہ اس سال فصل اچھی ہوئی اور اس سال فصل اچھی نہیں ہوئی۔

اسی لیے اسلامی لٹریچر میں زراعت کو توکل سے جوڑ کر دیکھا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ یہ توکل والا پیشہ ہے۔ بندہ مومن کے لیے یہ اللہ پر توکل کا موقع ہوتا ہے۔ وہ اللہ پر توکل کرتا ہے، اچھے نتائج کے لیے اللہ سے دعا کرتا ہے، اچھے نتائج پر اللہ کا شکر کرتا ہے اور خراب نتائج پر صبر کی روش اپناتا ہے۔

دوسری طرف تجارت میں حرکت و ذہانت کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ “محنت میں برکت ہوتی ہے” کا فارمولا کثرت سے دوہرایا جاتا ہے۔ آدمی کی ساری توجہ اپنی کوششوں اور حکمت عملیوں پر ہوتی ہے۔ تجارت کے ہنر کی بہت زیادہ اہمیت جتائی جاتی ہے اور آدمی اسے سیکھنے کے لیے کافی کچھ خرچ کرتا ہے۔ کوشش اور ہنر مندی پر بہت زیادہ انحصار اسے خدا پر توکل سے غافل کردیتا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس کام کے لیے جس قدر کوششیں درکار ہیں وہ سب کرتے ہوئے بھی خدا پر توکل ضرور کیا جائے۔ یہ یقین کہ ہماری تمام تر کوششوں کو بار آور بنانے والی ذات صرف خدا کی ہے ایک مومن کو اپنے رب سے جوڑ کر رکھتا ہے۔ غرض دنیا پرست تاجر خواہ اپنی حرکت و ذہانت پر کتنا ہی زیادہ بھروسا رکھتے ہوں، ایک مومن تاجر حرکت و ذہانت کا پورا پورا حق ادا کردینے کے باوجود اللہ پر توکل کی کیفیت سے معمور رہتا ہے۔

تجارت زیادہ دولت کمانے (مال دار بننے) کا ذریعہ ہے۔

انسان کی کمائی کے ذرائع بہت سے ہوسکتے ہیں، تاہم مال دار بننے کا اصل ذریعہ تجارت ہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کسان کھیتی کرکے مال دار نہیں ہوتا، تاجر اس سے غلہ خرید کر بازار میں فروخت کرکے مال دار ہوجاتا ہے۔ دست کار دن رات محنت کرکے جو مال تیار کرتا ہے اس سے اسے تو محدود آمدنی ہوجاتی ہے، لیکن وہی چیز بازار میں پہنچ کر تاجر کو مال دار بناتی ہے۔ تجارت کے ساتھ نفع کا تصور وابستہ ہوتا ہے اور تاجروں کے سامنے زیادہ سے زیادہ مال دار بننے کا ہدف ہوتا ہے۔ نفع پسندی انسان کے اندر دنیا طلبی کو بڑھاوا دیتی ہے۔ جیسے جیسے دنیا طلبی بڑھتی ہے، رضائے الہی اور فلاحِ آخرت کی طلب گھٹنے کا اندیشہ بڑھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ انسان آخرت طلبی کو بڑھا کر دنیا طلبی کو کنٹرول میں رکھے۔

تجارت میں ایمان داری کا زیادہ امتحان ہوتا ہے

بے ایمانی کے مواقع تو ہر جگہ ہوتے ہیں۔ لیکن تجارت میں ایمان داری کی سب سے سخت آزمائش ہوتی ہے۔ بے ایمانی سب سے زیادہ تاجروں میں راہ بناتی ہے۔ تجارت میں دھوکہ اور بے ایمانی کی اتنی زیادہ شکلیں نکل آتی ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ایمان دار تاجربننے کے لیے تقوی و پرہیزگاری کا بہت طاقت ور جذبہ درکار ہوتا ہے۔

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: التاجر الصدوق الأمين مع النبيين، والصديقين، والشهداء۔ ”سچا اور ایمان دار تاجر نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کی معیت حاصل کرے گا۔“

سچائی اور ایمان داری سے ہر مسلمان کو ضرور متصف ہونا چاہیے، تاہم ایک تاجر کے لیے ان صفات کا حصول بڑے چیلنجوں سے بھرپور ہوتا ہے اور اسی لیے سچے اور ایمان دار تاجر کے لیے بڑی خوش خبری ہے۔

اعتماد تجارت کی ریڑھ کی ہڈی ہے

تاجر سامان فروخت کرتا ہے اور خریدار تاجر پر اعتماد کرکے سامان خریدتا ہے۔ تاجر کو جو بھی نفع حاصل ہوتا ہے، اس میں سامان کے ساتھ اعتماد کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ جو تاجر اس اعتماد کی حفاظت کرتا ہے وہ اپنا بھی بھلا کرتا ہے اور پوری تاجر برادری کی لاج رکھتا ہے اور جو اس اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے وہ اپنا بھی نقصان کرتا ہے اور پوری تاجر برادری کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔

تجارت کی بہت سی پرتوں میں اعتماد کی کارفرمائی ہوتی ہے۔ فیکٹری میں سامان پیک ہوتا ہے۔ سامان کی خصوصیات کی وضاحت کی جاتی ہے۔ خوردہ فروش تھوک فروش سے خریدتا ہے اور عام خریدار خوردہ فروش سے۔ ہر مرحلے پر فروخت کرنے والے کی بات پر اعتماد کیا جاتا ہے۔

اسی طرح وہ تجارت جو شرکت پر قائم ہوتی ہے اس میں تمام حصہ داروں کو اعتماد کا رشتہ ہی مربوط رکھتا ہے۔

تجارت میں اعتماد کرنا ناگزیر ہے اور اعتماد کی حفاظت کرنا بہت بڑا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔

إن الله يقول: أنا ثالثُ الشريكَين، ما لم يَخُنْ أحدُهما صاحبَه، فإذا خانَه خرجْتُ من بينهما۔ (سنن أبی داود) (اللہ فرماتا ہے: میں دو شریکوں کا تیسرا ہوتا ہوں، جب تک ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہ کرے، جب وہ خیانت کر بیٹھتا ہے، تو میں ان دونوں کے بیچ سے نکل جاتا ہوں۔)

اہل علم نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ یہ ایک استعارہ ہے، مراد یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے برکت انھیں حاصل ہوتی ہے جو باہمی اعتماد کی حفاظت کرتے ہیں اور جو اعتماد کو پامال کرتے ہیں وہ اللہ کی معیت اور اس کی برکت کو کھودیتے ہیں۔

تجارت کریں لیکن ایثار کی خوبی نہ چھوڑیں

زراعت اور تجارت میں ایک اور فرق بھی ہے۔ زراعت میں ہر آن مقابلہ آرائی نہیں ہوتی ہے۔ دوسرے کے کھیت کی فصل اچھی ہو یا خراب، اس سے آپ کی فصل پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ پڑوسی کسانوں کے درمیان کوئی خاص مقابلہ نہیں ہوتا۔ جب کہ تجارت میں ہر وقت مقابلے کی کیفیت رہتی ہے۔ بازار میں آنے والے خریدار سے ہر دکان دار کی یہ امید ہوتی ہے کہ وہ اس کی دکان پر آئے۔ اس سے مقابلہ آرائی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور یہ ہر آن کی مقابلہ آرائی خود غرضی کو بڑھاتی اور ایثار کے جذبے کو متاثر کرتی ہے۔ ایک مومن تاجر کے لیے یہاں ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ تمام تر تجارتی سرگرمیوں کے باوجود اپنے دل کی حفاظت کرے اور اس میں خود غرضی کو ڈیرا نہ ڈالنے دے۔ ایثار کی خوبی اللہ کو بہت پسند ہے۔ اس خوبی سے محروم ہوجانا بہت بڑا خسارہ ہے۔ کسی بھی تجارتی خسارے سے بڑا خسارہ۔

اخلاق کی حفاظت

بد اخلاقی کو تاجر اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ بے ایمان تاجروں کا تو کچھ پوچھنا ہی نہیں، دھوکہ ان کی سرشت میں، نیز جھوٹ اور جھوٹی قسمیں ان کی زبان پر رہتی ہیں، تاہم ایمان دار تاجروں کے لیے بھی سخت روی جیسے رویے کبھی ضروری ہوجاتے ہیں۔ خاص طور سے ادھار وصولی کے لیے ایک تاجر کو جتنے جتن کرنے پڑتے ہیں اس کا اندازہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔

دیگر پیشوں کے مقابلے میں اخلاقی خوبیاں تجارت کے پیشے میں زیادہ خطرے سے دوچار رہتی ہیں۔

ایک مومن تاجر کو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہیے کہ میدانِ تجارت کے تقاضے اس کے اخلاقی پیکر کو مجروح نہ کرنے پائیں۔

رفاہی کاموں میں انفاق

یہ سمجھا جاتا ہے کہ تاجر پائی پائی کا حساب رکھتا ہے، ہر چیز کو نفع نقصان کی عینک سے دیکھتا ہے، اس لیے اس کا ہاتھ تنگ ہوتا ہے۔ ہندوستانی زبان میں بنیا بخل اور کنجوسی کا استعارہ ہے۔ لیکن اخلاقی   نقطہ نظر سے یہ رویہ قابل قبول نہیں ہے۔ ضرورت مندوں کے کام آنا اور سماج کا سہارا بننا ہر صاحبِ ثروت کی ذمہ داری ہے خواہ اس نے کتنی ہی محنت سے دولت جمع کی ہو۔

اس بات پر تو دورِ حاضر میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ صاحب ثروت کی سماجی ذمہ داریوں میں قابل لحاظ حصہ داری ہونی چاہیے۔ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (CSR) اس دور کی معروف اصطلاح ہے۔ عالمی سطح پر جہاں یہ دیکھا جاتا ہے کہ دنیا کے مال دار ترین افراد کون ہیں، وہیں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ رفاہی کاموں میں سب سے زیادہ خرچ کرنے والے کون ہیں۔

رفاہی کاموں کے میں خرچ کرنے کے عام محرکات جو بھی ہوں، تاہم اسلامی نقطہ نظر سے جب ایک تاجر سماج کے رفاہی کاموں میں حصہ لیتا ہے تو وہ آخرت میں بڑے نفع کا سامان کرتا ہے۔ دورِاول کے عظیم مسلم تاجروں کے تذکروں میں سب سے نمایاں پہلو ان کی سماجی خدمت کا ہے۔ حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمان بن عوف صرف بڑے تاجر ہی نہیں تھے، وہ جود و سخاوت میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔

تجارت دل و دماغ کو مشغول رکھتی ہے

دوسرے پیشوں کے مقابلے میں تجارت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں دل و دماغ کچھ زیادہ ہی مشغول رہتے ہیں۔ ایسے میں دل میں اعلی درجے کے جذبات اور دماغ میں بلند افکار کے لیے راستہ تنگ ہوجاتا ہے۔

ایک تاجر کے لیے یہ نفع کا سودا نہیں ہے۔ اس کی قلبی اور ذہنی صحت و سلامتی اور پاکیزگی و بلندی کے لیے ضروری ہے کہ وہ تجارت کی تمام تر سرگرمیوں میں مشغول رہنے کے ساتھ اپنے دل و دماغ کو اعلی جذبات و افکار سے آشنا رکھے۔

دو نمونے

دولت کے خزانے مل جانے کے بعد انسانوں کے الگ الگ رویے سامنے آتے ہیں۔ قرآن مجید دو خاص رویوں کی مثالیں دیتا ہے۔

ایک مثال قارون کی ہے۔ وہ بہت بڑا تاجر تھا اور اس نے بے ٹھکانا دولت پائی تھی۔ اس کی سب سے بڑی خرابی اس کا یہ غرور سے بھرا زُعم تھا کہ ساری دولت اسے اس کے علم و ہنر کی بنا پر ملی ہے، کسی اور کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس لیے اسے کسی کا شکر گزار نہیں ہونا ہے۔ اس نے گھمنڈ سے چور ہوکر کہا:

إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَى عِلْمٍ عِنْدِي [القصص: 78]

(یہ تو مجھے صرف اور صرف اس علم ک بدولت حاصل ہوا جو میرے پاس تھا۔)

دوسری مثال حضرت سلیمان علیہ السلام کی ہے۔ وہ بھی بہت بڑے تاجر تھے۔ ان کی بحری تجارت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی۔ اللہ نے بڑی دولت سے نوازا تھا۔ لیکن ان کے دل میں ذرا بھی گھمنڈ نہیں آیا۔ ان کا دل اس یقین سے معمور تھا کہ جو کچھ بھی ملا ہے سب اللہ کی عطا ہے اور اس لیے انھیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ انھوں نے کمالِ عبدیت کی کیفیت سے معمور ہوکر کہا:

هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [النمل: 40]

(وہ پکار اٹھا ”یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے۔“)

تاجروں کے لیے قارون کی ناشکری میں بڑی عبرت اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی شکرگزاری میں بہترین نمونہ ہے۔

اختتامیہ

تجارت انسان کی خصوصیت ہے۔ انسان کی تمدنی ترقی میں تجارت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت اور صنعت سے مال تیار ہوتا ہے۔ لیکن اس مال کو دنیا بھر کے لیے دست یاب کرانے کا کام تاجر کرتا ہے۔ قدیم زمانے میں تجارتی سفر جان لیوا مہم کی طرح ہوتی تھی۔ پھر بھی تاجروں کے مضبوط عزم و حوصلے کی بدولت دور دراز علاقوں تک چیزیں پہنچ جایا کرتی تھیں۔

تاجر صرف سامان کی ترسیل کا کام نہیں کرتا ہے بلکہ وہ عقائد و اقدار کی ترویج کا کام بھی کرتا ہے۔ اسلام کی تبلیغ میں تاجروں کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے متعدد ملکوں میں اسلام تاجروں کے ذریعے پہنچا۔

دیگر پیشوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ سماجی روابط قائم کرنے کے مواقع تاجروں کو حاصل ہوتے ہیں۔ ہر مسلمان پر شہادتِ حق فرض ہے۔ لازم ہے کہ مسلمان تاجر بھی اپنی ذمہ داری اور وقت کے تقاضوں کا ادراک کریں اور اپنے اپنے دائرے میں اسلامی تعلیمات کی ترسیل کا اہم فریضہ انجام دیں۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

تاجروں کی خدمت میں

حالیہ شمارے

اکتوبر 2026

شمارہ پڑھیں

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223