اسلام اور تشکیل انسان

حجة اللہ البالغہ کا مطالعاتی جائزہ

حجة اللہ البالغہ مسلم علمی سرمائے کا ایک بے مثال شاہ کار ہے۔ اہل علم کی غالب رائے یہ ہے کہ اسرارِ دین اور حکمتِ شریعت کے موضوع پر مسلمانوں کی چودہ سو سالہ علمی تاریخ میں اس کے ہم پلہ کوئی دوسری تصنیف موجود نہیں ہے۔

برصغیر کی اسلامی علمی روایت میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ انھوں نے حدیث، فقہ، اصول فقہ، تفسیر، تصوف، فلسفۂ دین اور عمرانی فکر کو ایک جامع اور مربوط فکری نظام میں جمع کرنے کی کام یاب کوشش کی۔ وہ ایسے دور میں سامنے آئے جب مغلیہ سلطنت زوال کا شکار تھی، معاشرہ انتشار کا شکار تھا اور دینی علوم ایک دوسرے سے کٹتے جا رہے تھے۔ فقہ مسلکی حدود میں سمٹ رہی تھی، حدیث محدود علمی حلقوں تک رہ گئی تھی اور بعض صوفیانہ رجحانات شریعت سے دور ہوگئے تھے۔ انھوں نے ان مسائل کو الگ الگ نہیں، بلکہ ایک ہی بنیادی بحران کی مختلف صورتیں سمجھا۔ ان کے نزدیک اصل خرابی یہ تھی کہ اسلامی علوم اپنی باہمی وحدت کھو چکے تھے، جس کے نتیجے میں دین کی جامع روح پس منظر میں چلی گئی اور جزوی مباحث غالب آ گئے۔ اسی لیے ان کی علمی جدوجہد کا مقصد کسی ایک فن کی اصلاح نہیں، بلکہ اسلامی علوم کے باہمی ربط اور ہم آہنگی کو دوبارہ قائم کرنا تھا۔ ان کے نزدیک قرآن، حدیث، فقہ، اصول، تصوف، اخلاق، سیاست اور معاشرت ایک ہی دین کے مختلف پہلو ہیں، جنھیں ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تصانیف میں محدث، فقیہ، مفسر، اصولی، صوفی، متکلم اور عمرانی مفکر کی شخصیت ایک ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔ یہی جامع اور متوازن منہجِ فکر شاہ ولی اللہؒ کو اسلامی علمی روایت میں ایک منفرد اور امتیازی مقام عطا کرتا ہے۔

شاہ ولی اللہ دہلوی کی جامع دینی فکر کا سب سے مربوط اظہار حجة اللہ البالغہ میں ملتا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے دین، شریعت، انسانی فطرت، اخلاق، معاشرت، سیاست اور تمدن کو ایک مربوط اور حکیمانہ نظام فکر کی صورت میں پیش کیا ہے۔ اس نظامِ فکر میں نصوص شرعیہ، عقلی استدلال، تاریخی شعور اور انسانی تجربہ کو گوندھ کر پیش کیا گیا ہے۔ شاہ صاحب کے نظام فکر میں شریعت اور طریقت لازم وملزوم بن کر جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ منفرد اصطلاحات، وسیع موضوعات اور جامع علمی اسلوب کی وجہ سے یہ کتاب عموماً مشکل سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد مسلم اور غیر مسلم اہل علم نے اس کتاب کو سہل ترجمے، تشریح اور تعارف کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کوششوں سے اس کتاب کا مطالعہ پہلے کی نسبت بہت آسان ہوگیا ہے۔

اسرار دین اور حکمت شریعت

شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے شریعت کے احکام کو سمجھنے کے لیے تین باہم مربوط مگر الگ الگ مدارج پر گفتگو کی ہے: علت، حکمت اور اسرار دین۔ علت حکم کی فقہی بنیاد کو واضح کرتی ہے، حکمت اس کے مقصد اور مصلحت کو آشکار کرتی ہے، جب کہ اسرار دین کی بحث روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی اثرات کی معرفت عطا کرتی ہے۔ اس طرح حجة اللہ البالغة محض علل احکام یا مقاصد شریعت کی کتاب نہیں بلکہ ایک ایسے جامع علم کی بنیاد رکھتی ہے جو احکام الٰہی کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں کو محیط ہے۔ شاہ صاحب اس علم کی عظمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وَإِنَّ أَدَقَّ الْفُنُونِ الْحَدِیثَةِ بِأَسْرِهَا عِنْدِی، وَأَعْمَقَهَا مَهْتدًى، وَأَرْفَعَهَا مَنَارًا، وَأَوْلَى الْعُلُومِ الشَّرْعِیةِ عَنْ آخِرِهَا فِیمَا أَرَى، وَأَعْلَاهَا مَنْزِلَةً، وَأَعْظَمَهَا مِدَارًا، هُوَ عِلْمُ أَسْرَارِ الدِّینِ الْبَاحِثُ عَنْ حِكَمِ الْأَحْكَامِ وَلِمِّیاتِهَا، وَأَسْرَارِ خَوَاصِّ الْأَعْمَالِ وَنُكَاتِهَا. (یعنی میرے نزدیک تمام علوم میں سب سے زیادہ دقیق، گہرا، بلند مرتبہ اور نافع علم، علم اسرار دین ہے، جو احکام کی حکمتوں، ان کے علل واسباب، اور اعمال کی مخصوص تاثیرات اور باریک اسرار پر بحث کرتا ہے)۔  اس جامع عبارت کی تشریح کرتے ہوئے مولانا پالن پوری نے جو وضاحت کی ہے (رحمة الواسعہ جلد اول، ص: 74-75) اس کا مفہوم یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ کے نزدیک اس علم کے تین بنیادی اجزا ہیں: حِكَمِ الْأَحْكَامِ جس سے مراد احکام کی حکمتیں اور مقاصد ہیں، لِمِّیاتِهَا جس سے مراد ان کی علتیں یا اسباب ہیں، جب کہ أَسْرَارِ خَوَاصِّ الْأَعْمَالِ سے مراد اعمال کی وہ مخصوص تاثیرات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہر عبادت اور ہر شرعی عمل میں ودیعت فرمائی ہے۔ گویا شاہ صاحب کے نزدیک علم اسرار دین، علت، حکمت اور خواص اعمال تینوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔

اسرارِ دین کا بیان شاہ ولی اللہ کی فکر کا سب سے منفرد پہلو ہے۔ یہاں بحث اس سوال کی ہوتی ہے کہ مخصوص اعمال مخصوص باطنی اثرات کیوں پیدا کرتے ہیں؟ نماز میں ایسی کون سی حقیقت پوشیدہ ہے کہ وہ بندے کو اللہ کے قریب کرتی اور فحشاء ومنکر سے روکتی ہے؟ روزہ سے تقویٰ کیوں پیدا ہوتا ہے؟ زکوٰة نفس اور مال کو کیوں پاک کرتی ہے؟ حج میں ایسی کیا معنوی تاثیر ہے کہ انسان نومولود کی طرح ہو جاتا ہے؟ قرآن کی تلاوت دل پر سکون اور بصیرت کیوں نازل کرتی ہے؟ ذکر الٰہی قلب کو اطمینان کیوں بخشتا ہے؟ شاہ ولی اللہ کے نزدیک یہ سوالات نہ فقہ کے دائرے میں آتے ہیں اور نہ صرف مقاصد شریعت کے، بلکہ یہ علم اسرار دین کا موضوع ہیں۔

تزکیہ کا وسیع تصور

قرآن انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں تعلیم اور تزکیہ کو ساتھ ساتھ بیان کرتا ہے۔ علم حقیقت سے آگاہ کرتا ہے، جب کہ تزکیہ اس حقیقت کو انسان کی شخصیت اور کردار کا حصہ بنا دیتا ہے۔ عربی زبان میں تزکیہ کے مفہوم میں پاکیزگی، نشوونما اور تکمیل تینوں پہلو شامل ہیں۔ یہ صرف گناہوں سے اجتناب کا نام نہیں، بلکہ انسان کی فطری استعدادوں کو ان کے مطلوبہ کمال تک پہنچانے کا عمل بھی ہے۔ قرآن کا مقصود محض برائی سے روکنا نہیں، بلکہ ایسے انسان کی تشکیل ہے جس کے اندر خیر، عدل، رحمت، احسان اور تقویٰ مستقل اوصاف بن جائیں۔ قرآن مجید کے مطابق انسان کی حقیقی کام یابی محض علم، اقتدار، معاشی وسائل یا مادی ترقی کے حصول میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنی فطری استعدادوں کو صحیح رخ پر پروان چڑھائے، اپنے نفس کا تزکیہ کرے اور اپنی پوری شخصیت کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ اس کے برعکس ناکامی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان کی عقل خواہشات کی تابع ہو جائے، ذاتی مفاد عدل پر غالب آ جائے، اور غضب، شہوت، حرص، تکبر اور تعصب جیسی باطنی قوتیں اس کے اخلاقی شعور کو مغلوب کر دیں۔ قرآن اس کیفیت کو نفس کی آلودگی قرار دیتا ہے۔

شاہ صاحب کے نزدیک شریعت کا مقصد محض احکام کی ظاہری تعمیل یا چند قانونی ضابطوں کا نفاذ نہیں، بلکہ انسان کی شخصیت کی ایسی ہمہ گیر اصلاح ہے جس میں اس کے عقائد، اخلاق، جذبات، اعمال، معاشرت اور تمدنی زندگی سب ایک متوازن نظام کے تحت آجائیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ انبیا علیہم السلام کی بعثت کا بنیادی مقصد انسانوں کا تزکیہ اور اس کی سعادت ہے، جب کہ تمام شرعی احکام اسی غایت کے مختلف وسائل ہیں۔ شاہ صاحب کے تصور میں تزکیہ صرف چند روحانی اعمال یا باطنی اذکار کا نام نہیں، بلکہ انسانی شخصیت کی تمام داخلی قوتوں کو اعتدال پر لانے کا عمل ہے۔ عقل کو صحیح بصیرت، شہوت کو عفت، غضب کو عدل وشجاعت، اور محبت ونفرت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرنا ہی حقیقی تزکیہ ہے۔ وہ احکام شریعت کی حکمت بیان کرتے ہوئے ہر حکم کے پس منظر میں موجود اخلاقی، نفسیاتی اور تمدنی مصلحتوں کو واضح کرتے ہیں، تاکہ معلوم ہو کہ شریعت انسان کی شخصیت کے ہر پہلو کی تعمیر کرتی ہے اور اسے انفرادی واجتماعی دونوں سطحوں پر خیر کا سرچشمہ بناتی ہے۔

ان کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص فطرت اور متعدد صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے، لیکن ان صلاحیتوں کی صحیح نشوونما خود بخود نہیں ہوتی۔ اگر انسان صرف اپنی خواہشات، عادات یا معاشرتی اثرات کے تابع رہے تو یہی صلاحیتیں فساد، ظلم اور اخلاقی انحطاط کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وحی اور شریعت کے ذریعے ایسا جامع تربیتی نظام عطا کیا جو انسانی فطرت کی اصلاح، تہذیب اور تکمیل کرتا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک شریعت کے تمام احکام اسی مقصد کے لیے مقرر کیے گئے ہیں کہ انسان اپنی حیوانی خواہشات پر قابو پا کر عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کے مطابق زندگی گزارے اور بالآخر سعادت کے اس مقام تک پہنچ جائے جو انسان کی تخلیق کی اصل غایت ہے۔

شاہ صاحب کا اجتہادی منہج

شاہ صاحب نے اس کتاب کے ابتدائیہ میں واضح کیا ہے کہ دینی علوم میں سب سے بلند، باریک اور قیمتی علم وہ ہے جو شریعت کے احکام کی حکمت، مقاصد، مصالح اور ان کے باطنی معانی کو واضح کرتا ہے۔ یہی علم انسان کو یہ بصیرت عطا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی حکم کو کیوں مشروع کیا ہے اور اس کے پیچھے کون سی مصلحت کارفرما ہے۔ اس علم کے ذریعے احادیث اور احکام شریعت کی صحیح تفہیم حاصل ہوتی ہے، جیسے علم عروض شعر کو، منطق فلسفے کو، نحو زبان کو اور اصول فقہ فقہی استنباط کو صحیح بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس بصیرت کے بغیر آدمی اندھیرے میں راستہ ٹٹولنے والے یا بغیر علم کے احکام اخذ کرنے والے شخص کی طرح غلطیوں کا شکار ہو سکتا ہے، جب کہ حکمت شریعت کا علم اسے واضح دلیل، گہری سمجھ اور مضبوط یقین عطا کرتا ہے، جس سے اس کا ایمان مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔ [انگریزی ترجمہ کتاب، ص:6-5]۔ انھوں نے تعارف کتاب میں اس تصور کو قطعی غلط قرار دیا ہے کہ شریعت کے احکام محض بندوں کی آزمائش کے لیے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی حکمت یا مصلحت نہیں ہے۔ ہر حکم الٰہی کسی نہ کسی خیر، مصلحت اور مقصد پر مبنی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت اور امت کے اہل علم کا اجماع اس کی تائید کرتا ہے کہ اعمال کی اصل قدر صرف ان کی ظاہری صورت میں نہیں، بلکہ ان کے پیچھے موجود نیت اور قلبی کیفیت میں ہے۔ اسلام میں جزا وسزا کا مدار بھی نیت، اخلاص اور عمل کی حقیقی روح پر ہے، نہ کہ محض ظاہری افعال پر۔ حکمت شریعت کی یہی بصیرت انسان کو احکام الٰہی کی حقیقت اور ان کے مقاصد کو سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔ [انگریزی ترجمہ کتاب، ص: 11]

شاہ صاحب کے نزدیک شریعت کی حکمت کو سمجھنے کی بنیاد انسان کی فطرت کا فہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا، شریعت اسی کی رہ نمائی اور تکمیل کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس لیے شریعت انسان پر کوئی خارجی یا غیرفطری نظام مسلط نہیں کرتی، بلکہ اس کی فطری استعداد کا خیال رکھتی ہے۔ اسلامی فقہ نے اس قرآنی تصور کو اہلیت وجوب (capacity for acquisition of rights) اور اہلیت ادا (capacity for exercise of obligations) کے اصولوں کی صورت میں ایک جامع قانونی نظریے کے طور پر پیش کیا ہے جو قرآن کی آیت لَا یكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی قانونی تعبیر ہے۔ اس نظریے کے مطابق انسان محض انسان ہونے کی بنا پر بنیادی حقوق کا مستحق ہے، لیکن شرعی تکلیف اور جواب دہی اس کے شعور، عقل، ارادے اور اختیار سے وابستہ ہے۔ اس طرح شریعت انسان کو محض ایک جسمانی وجود نہیں بلکہ ایک اخلاقی فاعل (moral agent) کے طور پر دیکھتی ہے، جہاں حقوق کی بنیاد تخلیق (creation as the basis of rights) اور ذمہ داری کی بنیاد اختیار(free will as the basis of responsibility)ہے۔

ان کے مطابق شریعت کا ہر حکم انسان کی کسی نہ کسی فطری صلاحیت کی اصلاح، توازن یا تکمیل سے متعلق ہے۔ وہ فطرت کو محض جسمانی یا نفسیاتی میلانات تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ اسے انسان کی جسمانی، عقلی، روحانی اور معاشرتی صلاحیتوں کی ایک مربوط وحدت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک شریعت کا ہر شعبہ انھی صلاحیتوں کی تربیت سے متعلق ہے۔ عبادات، معاملات، خاندانی احکام اور اجتماعی نظم اگرچہ موضوع کے اعتبار سے مختلف ہیں، لیکن سب کا مقصد انسان کی متوازن شخصیت اور صالح معاشرے کی تشکیل ہے۔ وہ انسانی خواہشات کو فطرت کا لازمی حصہ مانتے ہیں، مگر ان کی بے قید پیروی کو فطرت نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک شریعت خواہشات کو ختم نہیں کرتی، بلکہ ان کی تہذیب اور اعتدال کی طرف رہ نمائی کرتی ہے۔ اس لیے خیر کا معیار فطری خواہشات کی تکمیل نہیں، بلکہ فطرت اور وحی کے درمیان ہم آہنگی ہے۔ یہی نکتہ ان کی فکر کو بعض جدید رجحانات سے ممتاز کرتا ہے، جہاں فطرت کو عموماً انسان کے موجودہ رجحانات یا ذاتی ترجیحات کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک حقیقی فطرت ایک اخلاقی استعداد ہے، اور شریعت اس کی درست تعبیر اور رہ نمائی کرتی ہے۔ اس طرح وہ انسانی مصالح کو محض افادیت یا وقتی منفعت میں نہیں، بلکہ شخصیت کے متوازن ارتقا اور اجتماعی خیر میں تلاش کرتے ہیں۔ شاہ صاحب کی فکر میں حکمت شریعت، انسانی فطرت، اخلاق اور تمدن ایک دوسرے سے گہرا ربط رکھتے ہیں، جس سے شریعت ایک جامع اخلاقی اور تہذیبی نظام کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

فطرت، ارتفاقات اور تمدن

کتاب کے تیسرے حصے میں شاہ صاحب نے انسانی تہذیب وتمدن کے ارتقا کا نظریہ پیش کیا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد انسانی معاشرے کے تدریجی ارتقا کے چار بنیادی مراحل پر ہے، جنھیں وہ ارتفاقات کا نام دیتے ہیں۔ شاہ صاحب کا نظریۂ ارتفاقات ان کی فکر کا ایک منفرد اور نہایت اہم پہلو ہے۔ ان کے یہاں یہ اصطلاح ایک خاص مفہوم رکھتی ہے، جو سیاق وسباق کے ساتھ وسعت اور تنوع اختیار کرتی ہے۔ ارتفاق عربی مادہ ر۔ف۔ق سے مشتق ہے، جس کے بنیادی معانی نرمی، سہولت، رفاقت، شائستگی اور تہذیب کے ہیں۔ باب افتعال میں یہی مادہ کسی چیز سے سہارا لینے، اس سے منفعت حاصل کرنے یا اسے انسانی ضرورت کی تکمیل کا ذریعہ بنانے کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ اس اعتبار سے ارتفاق محض افادیت (utility) کا نام نہیں، بلکہ ان تمام ذرائع، تدابیر اور اداروں کا عنوان ہے جن کے ذریعے انسانی زندگی زیادہ منظم، مہذب اور باہمی تعاون پر استوار ہوتی ہے۔ عبدالعال نے اپنے تحقیقی مطالعے میں اس اصطلاح کی مختلف تعبیرات کا جائزہ لیا ہے۔ حجة اللہ البالغہ کے عربی متن کے محققین نے اسے انسانی زندگی کے مفید انتظامات سے تعبیر کیا ہے۔ عبدالحمید ہالیپوٹہ کے نزدیک ارتفاقات سے مراد وہ تمام اوصاف، ادارے اور معاشرتی مظاہر ہیں جو علم عمرانیات کے موضوع میں شامل ہیں۔ عزیز احمد اسے انسانی معاشروں کے تاریخی ارتقا کے مختلف مراحل قرار دیتے ہیں، جب کہ صبیح احمد کمالی کے نزدیک یہ اصطلاح تمدن اور اس کے مختلف وسائل ومظاہر کی نمائندہ ہے، بلکہ قانون فطرت (natural law) کے ایک نظریے کی بھی عکاس ہے۔ فرانسیسی مستشرق ژاک برک (Jacques Berque) نے ارتفاقات کا ترجمہ استعمالات، منافع یا خدمات (uses, commodities, services) سے کیا ہے۔ مزید برآں وہ اس اصطلاح کو سماجی ومعاشی زاویے سے دیکھتے ہوئے اسے ان ادارہ جاتی خدمات کے ہم معنی قرار دیتا ہے جو مصلحت عامہ کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ ان تمام آرا سے واضح ہوتا ہے کہ ارتفاقات ایک جامع اور کثیرالمعنی اصطلاح ہے، جس میں انسانی افادیت، سماجی تنظیم، تمدنی اداروں، تہذیبی ارتقا اور اجتماعی مصالح کے تمام پہلو جمع ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی میں اس کا کوئی ایک لفظ اس کے تمام مفاہیم کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔ شاہ ولی اللہ کے نزدیک انسانی تہذیب کا ارتقا دراصل ارتفاقات اربعہ کے تدریجی ظہور کا نام ہے۔ ہر ارتفاق سابقہ مرحلے کی نسبت انسانی زندگی میں زیادہ نظم، زیادہ تہذیب، زیادہ تعاون اور تمدنی کمال پیدا کرتا ہے۔ (انگریزی ترجمہ کتاب میں تعارف از مترجم، ص: xviii-xix )

شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان سمیت ہر مخلوق کی فطرت میں اس کی بقا اور ضروریات زندگی پوری کرنے کی بنیادی رہ نمائی ودیعت کر دی ہے۔ جس طرح شہد کی مکھی کو شہد بنانے، گھونسلہ قائم کرنے اور اجتماعی نظم اختیار کرنے، اور پرندوں کو خوراک تلاش کرنے، خطرات سے بچنے، نسل بڑھانے اور بچوں کی پرورش کا فطری شعور دیا گیا ہے، اسی طرح انسان کو بھی کھانے، پینے، رہائش، تحفظ اور نسل کی بقا جیسے بنیادی تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت عطا کی گئی ہے۔ یہی ہر مخلوق کی فطری شریعت (natural law) ہے۔ البتہ انسان کو دیگر مخلوقات پر تین اضافی امتیازات حاصل ہیں، جو اسے ایک اخلاقی اور تہذیبی وجود بناتے ہیں۔ پہلی خصوصیت جامع عقلی بصیرت (comprehensive rational outlook) ہے، جس کی بدولت انسان صرف جسمانی خواہشات کے تابع نہیں رہتا بلکہ انصاف کے قیام، کردار سازی، روحانی ترقی اور آخرت کی کام یابی جیسے بلند مقاصد کے لیے بھی عمل کرتا ہے۔ دوسری خصوصیت جمالیاتی حس (aesthetic sensibility) ہے، جس کے باعث وہ صرف ضرورت پوری کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ حسن، خوب صورتی، نفاست اور ذوق جمال کا بھی طالب ہوتا ہے۔ تیسری خصوصیت تمدنی اختراع (civilizational innovation) ہے، یعنی بعض باصلاحیت افراد عقل وتجربے سے نئی تدبیریں اور ذرائع ایجاد کرتے ہیں، جب کہ دوسرے لوگ انھیں قبول کرکے اجتماعی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اسی عمل سے زراعت، کھانا پکانا، کنویں کھودنا، ذخیرہ اندوزی، رہائش، صنعت اور دیگر تمدنی علوم وفنون وجود میں آتے ہیں۔ اس طرح نسل در نسل تجربات جمع ہوتے رہتے ہیں اور انسانی تمدن مسلسل ترقی کرتا رہتا ہے۔ شاہ صاحب نے ان تمدنی ارتقائی مراحل کو ارتفاقات (stages of civilizational development) کا نام دیا ہے۔ ان کے مطابق ارتفاقات کے درج ذیل چار مراحل ہیں:

پہلا ارتفاق بنیادی انسانی ضروریات اور سادہ معاشرت پر مشتمل ہے، جو ابتدائی اور قبائلی معاشروں میں بھی پایا جاتا ہے۔

دوسرا ارتفاق شہری تہذیب، پیشہ ورانہ تقسیم، علوم، فنون، صنعت اور منظم تمدنی اداروں کے فروغ کا مرحلہ ہے، جہاں اجتماعی تجربات ایک ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔

تیسرا ارتفاق اس وقت وجود میں آتا ہے جب تمدنی زندگی میں ظلم، لالچ، تنازعات اور حقوق کی پامالی پیدا ہونے لگتی ہے۔ اس مرحلے پر عدل قائم رکھنے، امن برقرار رکھنے اور اجتماعی نظم کی حفاظت کے لیے حکومت اور ریاست (political authority) کی ضرورت پیش آتی ہے۔

چوتھا ارتفاق اس وقت سامنے آتا ہے جب مختلف ریاستیں اور حکمراں باہمی کش مکش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں ایک اعلیٰ مرکزی اقتدار یا خلافت (caliphate / supreme political authority) کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تاکہ وسیع تر امن، استحکام اور سیاسی وحدت قائم رہ سکے۔

شاہ صاحب نے واضح کیا ہے کہ انسانی تہذیب کا یہ پورا ارتقائی سفر محض مادی ترقی کی داستان نہیں ہے۔ ان کے مطابق یہ ارتفاقات فطرت، عقل، اخلاق اور الٰہی ہدایت کے باہمی امتزاج کا نتیجہ ہیں۔ انسان کی فطری استعداد، عقل، جمالیاتی ذوق اور اجتماعی تعاون مل کر ایسی تہذیب تشکیل دیتے ہیں جس کا مقصد صرف معاشی خوش حالی نہیں بلکہ عدل، اخلاق، روحانی ارتقا اور انسانی سعادت کا قیام ہے۔ شاہ صاحب نے ارتفاقات کو محض سماجی یا معاشی مظاہر کے طور پر نہیں برتا بلکہ ان سب کو حکمت شریعت سے مربوط کیا ہے۔ ان کے مطابق گرچہ کہ شریعت ان اداروں کو وجود میں نہیں لاتی، لیکن انھیں عدل، امانت اور خیر کے اصولوں کے مطابق منظم ضرور کرنا چاہتی ہے۔ یہ ادارے اگر خواہشات، ظلم یا خودغرضی کے تابع ہوجائیں تو فساد کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اگر انھیں وحی الہی کی روشنی میں استوار کیا جائے تو صالح تمدن کی بنیاد بنتے ہیں۔ اسی بنا پر شاہ صاحب تمدن کی بنیاد صرف سیاسی قوت یا معاشی ترقی کو نہیں سمجھتے۔ وہ اخلاقی اقدار کو اس کا اصل سرمایہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کوئی معاشرہ اس وقت تک پائیدار نہیں ہوسکتا جب تک اس کے اجتماعی ادارے عدل، دیانت اور اخلاقی ذمہ داری پر قائم نہ ہوں۔ یہی پہلو ان کی فکر کو ان عمرانی نظریات سے ممتاز کرتا ہے جو تمدنی ارتقا کو صرف معاشی یا سیاسی عوامل کی بنیاد پر واضح (explain)کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاہ صاحب نے انسانی ضروریات کی مختلف سطحوں کی نشان دہی بھی کی ہے اور واضح کیا ہے کہ شریعت ان سب کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔ شریعت نہ تو رہبانیت کی تائید کرتی ہے اور نہ مادہ پرستی کی، بلکہ انسانی زندگی کے مادی، اخلاقی اور روحانی تمام تقاضوں کو ایک متوازن نظام میں جمع کرتی ہے۔

تصور سعادت اور تشکیل انسان

حجة اللہ البالغہ کا باب سعادت اس کتاب کا مرکزی باب ہے۔ اس میں شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے وحی الٰہی کی روشنی میں انسانی وجود، اس کی فطرت اور اس کے مقصد حیات کا نہایت عمیق تجزیہ کیا ہے۔ یہ بحث محض نظری نہیں بلکہ ہر انسان کی عملی زندگی سے تعلق رکھتی ہے، کیوں کہ اسی پر دنیا وآخرت کی کام یابی کا انحصار ہے۔ سعادت وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کی طرف شریعت کے تمام احکام رہ نمائی کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی حقیقی کام یابی نہ صرف دنیاوی آسائش کا نام ہے، نہ محض قلبی سکون کا، اور نہ صرف آخرت میں نجات کا؛ بلکہ سعادت اس متوازن اور کامل حالت کا نام ہے جس میں عقل، ایمان، اخلاق، عبادات، معاملات اور اجتماعی رویے سب اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھل جائیں۔ اس اعتبار سے سعادت انسان کی ہمہ جہت تکمیل اور اس کی فطرت کے صحیح ارتقا کا نام ہے۔ حقیقی سعادت جسمانی قوت، حسن، دولت یا سماجی مرتبے میں نہیں، اور نہ ہی ان صفات میں ہے جو انسان کو حیوانات، نباتات یا جمادات کے ساتھ مشترک کرتے ہیں۔ اگر یہی کمال ہوتا تو پہاڑ، درخت اور جانور انسان سے زیادہ کامل ہوتے۔ انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرنے والی چیز اس کی قوت عاقلہ، اخلاقی شعور، آزادی ارادہ اور اللہ کی روحانی معرفت اور شعوری بندگی کی صلاحیت ہے۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی بنیاد پر انسان خیر وشر میں امتیاز کرتا ہے، اپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے، عدل واحسان کو اختیار کرتا ہے اور اپنے خالق سے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ اس لیے حقیقی سعادت تب حاصل ہوتی ہے جب عقل انسان کی خواہشات اور جذبات پر حاکم ہو۔ بہادری، ہنر، تہذیب اور اخلاق بھی اسی وقت فضیلت بنتے ہیں جب وہ عقل اور حق کے تابع ہوں۔ شاہ صاحب کے نزدیک انسان کی اصل کام یابی نفس کی اصلاح، اخلاق کی تربیت اور روحانی ارتقا میں ہے۔ یہ مقصد محض علم یا دنیاوی مہارت سے حاصل نہیں ہوتا، کیوں کہ یہ سب عارضی ہیں۔ حقیقی سعادت عبادت، مجاہدۂ نفس اور مسلسل روحانی تربیت سے حاصل ہو سکتی ہے۔

جس طرح انسان جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اسی طرح روحانی استعداد اور حقیقی سعادت کے حصول میں بھی مختلف درجے رکھتے ہیں۔ بعض افراد کسی خاص صلاحیت سے تقریباً محروم ہوتے ہیں۔ بعض میں اس کی صلاحیت موجود ہوتی ہے، مگر وہ مسلسل تربیت، مجاہدہ، صالحین کی صحبت اور ان کے نمونۂ عمل سے پروان چڑھتی ہے۔ کچھ لوگ فطری طور پر نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں، لیکن انھیں بھی اپنی صلاحیت کو کامل بنانے کے لیے رہ نمائی درکار ہوتی ہے۔ جب کہ بعض ایسے ہوتے ہیں جن میں فضیلت اپنی کامل صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ خود بھی خیر کی طرف بڑھتے ہیں اور دوسروں کے لیے بھی نمونۂ عمل بن جاتے ہیں۔ انسانوں کو نفس کی اصلاح، اخلاقی تربیت اور روحانی ارتقا کے لیے انبیائے کرامؑ کی رہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انبیاؑ نہ صرف خود کامل نمونہ ہوتے ہیں بلکہ انسانیت کی اصلاح اور تربیت کا صحیح طریقہ بھی سکھانے پر مامور من اللہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے حقیقی سعادت، انبیائے کرامؑ کی تعلیمات کو اختیار کرنے، ان کے اسوہ کی پیروی کرنے اور ان کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنے میں مضمر ہے۔

شاہ صاحب کے نزدیک حقیقی سعادت تک پہنچنے کے دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ زہد، ریاضت اور دنیا سے بے رغبتی کا ہے، جس میں انسان اپنی توجہ مکمل طور پر اللہ کی معرفت اور روحانی حقائق پر مرکوز کر دیتا ہے۔ یہ نہایت بلند اور دشوار راستہ ہے، جس پر صرف چند غیر معمولی افراد ہی کام یابی سے چل سکتے ہیں۔ دوسرا راستہ عام انسانوں کے لیے ہے۔ اس میں دنیا کو ترک نہیں کیا جاتا بلکہ نفس کی اصلاح، خواہشات پر ضبط، شریعت کی پیروی اور دین ودنیا کے درمیان توازن قائم کیا جاتا ہے۔ یہ راستہ ہر انسان کے لیے قابل عمل ہے۔ یہی معاشرے کی اصلاح، اخلاقی استحکام اور آخرت کی کام یابی کی ضمانت ہے، اور انسان کو حقیقی سعادت تک پہنچاتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ عام انسان کے لیے حقیقی سعادت کا راستہ چار بنیادی اخلاقی صفات پر قائم ہے: طہارت، خشوع، سخاوت نفس اورعدل۔ طہارت صرف جسم کی صفائی نہیں بلکہ دل، نفس اور روح کی پاکیزگی ہے۔ خشوع انسان میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، اپنی عاجزی اور بندگی کا شعور پیدا کرتا ہے۔ سخاوت نفس انسان کو خواہشات، لالچ اور غصے کی غلامی سے آزاد کر کے ضبط نفس اور بلند ہمتی عطا کرتی ہے۔ عدل انسان کے اندر ایسی مستقل اخلاقی کیفیت پیدا کرتا ہے جو فرد اور معاشرے دونوں میں توازن، نظم اور خیر کو فروغ دیتی ہے۔ شاہ صاحب کے مطابق تمام انبیائے کرامؑ اور الہامی شریعتوں کا بنیادی مقصد انہی چار صفات کو انسان کی شخصیت میں راسخ کرنا ہے۔ یہی صفات فطرت سلیمہ کو جلا بخشتی ہیں، اخلاق وکردار کو سنوارتی ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی قربت اور حقیقی سعادت سے ہم کنار کرتی ہیں۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ ان صفات کی تشکیل دو چیزوں سے ہوتی ہے: صحیح عقیدہ اور مسلسل عملی تربیت۔ صحیح عقیدہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، آخرت کی جواب دہی اور عبادت کا شعور پیدا کرتا ہے، جب کہ عبادت، دعا، طہارت، صبر، سخاوت اور نیک اعمال کی مسلسل مشق ان صفات کو انسان کی طبیعت کا حصہ بنا دیتی ہے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرامؑ کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ایمان، اخلاق اور عمل کے ذریعے انسان کی فطرت کی تربیت کریں اور اسے حقیقی سعادت کے قابل بنائیں۔ شاہ صاحب نے واضح کیا ہے کہ فطرت سلیمہ کے ارتقا میں تین بڑی رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں: [1] نفسانی خواہشات، [2] دنیا کی دل کشی اور [3] غلط عقائد۔ خواہشات انسان کو اس کے اعلیٰ مقصد سے غافل کر دیتی ہیں، دنیا پرستی اسے کام یابی سے دور کر دیتی ہے اور باطل تصورات حق کی پہچان کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ اس لیے حقیقی سعادت اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب انسان صحیح عقیدہ اختیار کرے، انبیائے کرامؑ کی تعلیمات پر عمل کرے، عبادت اور اخلاقی تربیت کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کرے اور اپنی زندگی کو رضائے الٰہی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔

اس باب کی آخری بحث میں شاہ صاحب نے حقیقی سعادت کی راہ میں حائل حجابات اور ان کو دور کرنے کی تدابیر پر گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق انسان کی بہت سی ذہنی، اخلاقی اور روحانی مشکلات بے قابو خواہشات، غلط عادات اور فکری الجھنوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے انسان کو خود پر قابو رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جو شخص ہر خواہش کے پیچھے بھاگتا ہو، وہ وقتی لذت تو حاصل کر لیتا ہے، مگر دیرپا اطمینان سے محروم رہتا ہے۔ شاہ صاحب کے نزدیک نفسانی خواہشات کا علاج اعتدال، عبادت، روزہ، مجاہدۂ نفس اور اخلاقی تربیت سے ہوتا ہے۔ انسان کے غلط تصورات اور ذہنی تعصبات اس کے فیصلوں اور رویوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ درست علم، صحیح فکر اور مسلسل خود احتسابی ان غلطیوں کو کم کرنے اور انسان کو حقیقی سعادت سے قریب تر کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ ذکر وعبادت ذہنی سکون پیدا کرتے ہیں اور جذبات کو متوازن بناتے ہیں۔ اسلام میں ذکر، نماز اور دعا کے ان اثرات کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ لیکن ان کا مقصد صرف ذہنی سکون فراہم کرنا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرنا اور شخصیت کی اخلاقی تعمیر ہے۔ اس طرح شاہ صاحب کا تصور سعادت صرف ایک روحانی نظریہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کی ہمہ گیر تعمیر کا ایک مکمل لائحۂ عمل ہے۔ اس کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کے فکر،کردار، جذبات، عادات اور سماجی تعلقات کو درست رخ دینا ہے۔     شاہ صاحب کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے ان تمام اصولوں کو صرف نفسیاتی یا سماجی بنیادوں پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت، عبادت اور انبیائے کرامؑ کی ہدایت سے جوڑ کر غور وفکر کیا ہے اور انسان کے روحانی پہلو کو پوری اہمیت کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔

جدید دور کے چیلنج اور اجتہادی نقوش راہ

آج اکیسویں صدی میں سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی علوم، عالمگیریت اور ڈیجیٹل انقلاب نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو بدل دیا ہے۔ معیشت، سیاست، تعلیم، خاندانی نظام، ماحولیات اور بین الاقوامی تعلقات میں ایسے نئے مسائل سامنے آئے ہیں جن کی بہت سی صورتیں ماضی میں موجود نہیں تھیں۔ اس پس منظر میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ شریعت ان بدلتے ہوئے حالات میں کس طرح رہ نمائی فراہم کرتی ہے؟ شریعت کے وہ کون سے دائمی اصول ہیں جو ہر دور میں انسان کی رہ نمائی کرتے ہیں، اور نئے مسائل میں اجتہاد کن بنیادوں پر کیا جانا چاہیے؟

یہ چیلنج صرف فقہی احکام تک محدود نہیں بلکہ شریعت کی روح، اس کے مقاصد اور اس کی اخلاقی بنیادوں سے بھی متعلق ہے۔ شریعت محض عبادات اور شخصی معاملات کا مجموعہ نہیں، بلکہ وہ عدل، رحمت، انسانی وقار، آزادی، امن اور اجتماعی فلاح کے لیے بھی رہ نما اصول فراہم کرتی ہے۔ چناں چہ معاصر اسلامی فکر میں مقاصد شریعت کو ایک بنیادی منہج کی حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی، ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی، جاسر عودہ اور دیگر اہل علم نے شریعت کے بنیادی مقاصد کی روشنی میں اجتہاد کی نئی جہتیں متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اس فکر کی جڑیں اسلامی علمی روایت میں بہت گہری ہیں۔ تقریباً تین سو سال پہلے شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے حجة اللہ البالغہ میں حکمت شریعت، علل احکام اور اسرارِ دین کے عنوان سے ایک نہایت جامع اور مربوط نظریہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے قرآن وسنت، فطرت انسانی اور سنت الٰہیہ کی بنیاد پر واضح کیا ہے کہ شریعت کے احکام محض قانونی ہدایات نہیں، بلکہ انسان کی فطرت کی اصلاح، اس کی اخلاقی وروحانی تربیت اور ایک صالح معاشرے کی تشکیل کا ذریعہ ہیں۔

اجتہاد کے بارے میں شاہ ولی اللہ نے ایسے اصول پیش کیے ہیں جو موجودہ دور میں بھی رہ نمائی فراہم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق احوال وظروف کی تبدیلی سے احکام کی ظاہری صورتیں تبدیل ہو سکتی ہیں، لیکن ان کی حکمتیں اور بنیادی مقاصد برقرار رہیں گے۔ اس لیے نئے مسائل کا حل تلاش کرتے وقت مجتہد کو صرف ظاہری مماثلت پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ شریعت کے عمومی مقاصد، انسانی فطرت اور مصالح عامہ اس معاملے میں کیا رہ نمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہ اصول آج کے پیچیدہ مسائل پر بھی یکساں طور پر منطبق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بینک کاری، ڈیجیٹل کرنسی، مصنوعی ذہانت اور جینیاتی طب جیسے معاملات عہد نبوی میں موجود نہیں تھے، لیکن شاہ صاحب کے منہج کی روشنی میں ان کا حل صرف قدیم مثالوں سے مشابہت تلاش کرنے میں نہیں، بلکہ اس بات کا جائزہ لینے میں ہے کہ ان میں عدل یا ظلم، امانت یا خیانت، استحصال یا انصاف، انسانی وقار اور اجتماعی مصلحت کے کون سے پہلو پائے جاتے ہیں۔ یہی درحقیقت حکمت شریعت کی بنیاد پر اجتہاد کا صحیح طریقہ ہے۔

حجة اللہ البالغہ کے انگریزی مترجم  ہرمن سین (Hermansen)نے اپنے تعارف میں اس کتاب کی علمی اہمیت اور اس کے دیرپا فکری اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کا اثر بعد کی اسلامی فکر اور مختلف اصلاحی تحریکوں پر نہایت گہرا رہا ہے۔ برصغیر کی تقریباً تمام بڑی دینی روایتیں کسی نہ کسی درجے میں شاہ ولی اللہؒ کو اپنا فکری پیش رو مانتی ہیں۔ دیوبندی مکتب فکر نے حدیث، فقہ، تصوف اور دینی علوم کے بارے میں ان کے متوازن منہج کو آگے بڑھایا، جب کہ اہل حدیث اور جماعت اسلامی جیسے اصلاحی رجحانات نے تجدید دین، اصلاح معاشرہ اور شریعت کی روح کی طرف رجوع کے تصور سے رہ نمائی حاصل کی۔ دوسری طرف بریلوی مکتب فکر نے فقہ حنفی سے ان کی وابستگی اور ان کے معتدل صوفیانہ رجحان کو اپنی علمی روایت میں نمایاں مقام دیا۔ برصغیر سے باہر بھی حجة اللہ البالغہ کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ چوں کہ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی تھی، اس لیے عرب دنیا، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر مسلم خطوں میں بھی اسے وسیع پیمانے پر پڑھا گیا۔ معروف مصری عالم سید سابق نے اسے ایڈیٹ کیا، اور آج بھی یہ کتاب علمی، اصلاحی اور فکری حلقوں میں یکساں احترام کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ جدید مسلم مفکرین، خصوصاً محمد اقبال اور فضل الرحمٰن، نے شاہ ولی اللہؒ کو ایسے صاحب بصیرت مفکر کے طور پر سراہا ہے جس نے اپنے عہد کے فکری بحران کا جواب اعتدال، اجتہادی فکر اور شریعت کی روح کو سمجھنے کے منہج کے ذریعے دیا۔ شاہ صاحب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اسلامی علوم کے مختلف شعبوں — حدیث، فقہ، اصول فقہ، تصوف، فلسفۂ اخلاق اور سماجی وسیاسی فکر— کو ایک مربوط اور ہم آہنگ فکری نظام میں یکجا کر دیا ہے۔ انھوں نے عقل اور وحی، ظاہر اور باطن، شریعت اور طریقت، نیز روایت اور اجتہاد کے درمیان ایسا متوازن ربط قائم کیا ہے جو اسلامی فکر میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ آج، جب مسلم دنیا نئے فکری، تہذیبی اور فلسفیانہ چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے، شاہ ولی اللہؒ دہلوی کا منہج فکر واجتہاد پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور مؤثر محسوس ہوتا ہے۔ دینی نصوص کی صحیح تعبیر، مقاصد شریعت کی گہری تفہیم اور اسلامی روایت کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ان کی فکر ایک مضبوط اور قابل اعتماد علمی بنیاد فراہم کرتی ہے (انگریزی ترجمہ کتاب، ص:xxxiii-xxxvi )

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

اسلام اور تشکیل انسان

حالیہ شمارے

Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223