یہودیوں اور صیہونیوں سے متعلق اسلامی بیانیہ

ڈاکٹر عصام تلیمہ | ترجمہ: محی الدین غازی

امریکہ کی متعدد یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ نے جو کچھ کیا، اسے پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح انھوں نے اہل غزہ اور مسئلہ فلسطین کے ساتھ یک جہتی کے اظہار (solidarity) کے لیے زبردست مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں شریک ہونے والوں میں یہودی طلبہ اور اساتذہ بھی ہیں، جو امریکہ اور یوروپ کے مغربی ملکوں میں مقیم ہیں۔ وہ غزہ پر اسرائیلی ظلم و زیادتی کے خلاف ہیں اور اسرائیلی فوج جو ظلم اور قتل عام کررہی ہے، اسے یکسر غلط کہتے ہیں۔

مظاہروں اور یک جہتی کا یہ دائرہ جیسے جیسے بڑھتا جائے گا، اس طرح کے موقفوں میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس موقع پر مسلم بیانیے پر نگاہ رکھنے والوں کی طرف سے ایک سوال پہلے بھی آتا رہا ہے اور اب بھی آ رہا ہے اور وہ یہودیوں کے تعلق سے اس نقطہ نظر کے بارے میں ہے جو مسلمانوں کو وراثت میں ملا ہے۔ معاصر مسلم بیانیے میں یہودیوں کے بارے میں یہ مان کر گفتگو ہوتی ہے کہ ان کا ایک مذہب ہے اور ہمارے مسائل کے سلسلے میں ان سب کا ایک ہی موقف ہے۔ سب ایک ہی رخ پر سوچتے ہیں۔ یہ خیال دراصل نتیجہ ہے ایسے بیانیے کا جو مجموعی طور سے بحث و تمحیص اور ژرف نگاہی کے بغیر جوشِ خطابت اور سطحی نگاہ پر قائم ہے۔

تین الفاظ کے درمیان فرق کرنے کے بجائے اکثر انھیں یکجا کردیا جاتا ہے، جب کہ ان کے درمیان فرق اور وضاحت کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ وہ تین الفاظ ہیں:  بنواسرائیل، یہود اور صیہونی۔ ان الفاظ میں سے ہر ایک کا اپنا مفہوم اور اپنے خاص اوصاف ہیں جو تعامل کے پہلو سے دوسرے لفظ کے اوصاف سے مختلف ہوتے ہیں۔ قرآن کریم جب مخالف کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ فرق کی رعایت کرتا ہے۔ وہ سب کو ایک نہیں مانتا اور نہ ایک اپروچ کا حامل بتاتا ہے۔ وہ فرقوں اور گروہوں میں امتیاز کرتا ہے۔ اور کسی گروہ یا طبقے پر گفتگو کرتے ہوئے استثنا کی گنجائش رکھتا ہے۔ خواہ عقیدے کے لحاظ سے ان سب پر ایک حکم عائد ہوتا ہو اور وہ یہ کہ وہ دینِ اسلام کو نہیں مانتے۔

علامہ قرضاوی کی راہِ تجدید

ہمارے زمانے میں جن لوگوں نے اسلامی بیانیے میں اہم تجدیدی کام کیے ہیں، ان میں ای خاص نام شیخ یوسف قرضاوی کا ہے۔ خاص طور سے یہودیوں کے ساتھ تعلق وتعامل کے حوالے سے۔ انھوں نے اس فرق کو اجاگر کیا ہے کہ ان میں ایک طبقہ وہ ہے جو زیادتی کی روش پر قائم ہے، ان کو صیہونی کہا جاتا ہے، اور ایک طبقہ وہ ہے جس کا پیشہ زیادتی نہیں ہے، وہ صیہونیت کی طرف منسوب نہیں ہوتے۔ وہ یہودیت کو بطور ایک مذہب کے اختیار کرتے ہیں اور افراد یا ریاستوں کے خلاف زیادتی کے ارتکاب میں شریک نہیں ہوتے ہیں۔

بیس سال قبل شیخ قرضاوی کی کتاب آئی تھی، خطابنا الإسلامی فی عصر العولمة (گلوبلائزیشن کے زمانے میں ہمارا اسلامی بیانیہ)۔ ہمارے اس موضوع سے متعلق اس کتاب میں ایک اہم بات یہ ہے کہ انھوں نے بعض مشایخ کی دعاؤں کو غلط قرار دیا جن میں مطلق طور پر یہود و نصاری کی ہلاکت کی دعا کی جاتی ہے، یا یہ دعا کی جاتی ہے کہ اللہ ان کے بچوں کو یتیم بنادے، ان کی عورتوں کو بیوہ کردے اور انھیں اور ان کے مال واولاد کو مسلمانوں کے لیے مال غنیمت بنادے۔

شیخ قرضاوی نے اس طرزِ دعا کو مسترد کیا اور ان دعاؤں کو ’’ اشتعال انگیز دعائیں‘‘قرار دیا۔  انھوں نے واضح کیا کہ اس طرز کی دعائیں دعا کے سلسلے میں بھی اور غیر مسلموں کے ساتھ رہن سہن اور تعامل کے سلسلے میں بھی قرآن وسنت کے منہج کے خلاف ہیں۔ بددعا کو ظلم و زیادتی کرنے والوں کے خلاف ہونا چاہیے، ان ظالموں کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو خواہ وہ ظالم مسلمان کیوں نہ ہوں۔ بددعا مطلق طور سے کسی مذہب کے پیروکاروں کے خلاف نہیں ہونی چاہیے۔

وہ بندروں اور سوروں کی نسل نہیں ہیں

اسی طرح بعض داعیوں، خطیبوں یا عوام کے بیانیے میں یہودیوں کو جو أحفاد القردة والخنازیر (بندروں اور سوروں کی نسل سے) بتایا جاتا ہے، شیخ قرضاوی نے اسے غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ صفت شرعًا درست نہیں ہے، یہ اشتعال انگیز صفت ہے جسے دینی بیانیے میں دوسروں پر چسپاں کرنا نامناسب بات ہے۔ شیخ قرضاوی نے اس کی بھی تفصیل کی کہ دیگر مذہبی گروہوں کو کیسے مخاطب کیا جائے، انھیں کافر کہنے کے بجائے غیر مسلم کہا جائے۔ خاص طور سے اہل کتاب کو جنھیں قرآن نے خاص اہتمام سے گفتگو کا موضوع بنایا ہے اور تعامل کے پہلو سے خصوصی مقام دیا ہے۔

اسلامی بیانیے میں یہ اہم تجدیدی باتیں، خواہ وہ شیخ قرضاویؒ کی طرف سے ہوں، یا شیخ محمد غزالیؒ اور ڈاکٹر محمد عمارہؒ جیسے اکابرعلمائے کرام کی طرف سے، وہ زیادہ تر عام لوگوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ یہ باتیں کچھ اسکالروں تک محدود رہیں جو ان علما کی کتابوں کو اپنی توجہ کا موضوع بناتے ہیں۔ اسی لیے جب اس طرح کے واقعات پیش آئے، تو بعض لوگ حیرت میں پڑگئے کہ ایک طرف تو انھوں نے یہودیوں کے اس سلسلے میں اس طرح کے خیالات اپنے اگلوں سے پائے ہیں اور دوسری طرف یہ صورت حال ہے جو یوروپ اور امریکا میں نظر آتی ہے۔

قرآن کا درست پیمانہ

لوگوں کی پریشانی میں اضافہ کرنے والی چیز یہ ہے کہ اس طرح کا بیانیہ اختیار کرنے والے حضرات قرآن و حدیث کی کچھ نصوص سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ ان امور کے سلسلے میں قرآن کے کلی موقف کو دیکھنے کے بجائے، کسی جزوی نص کو دلیل بناتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ دوسرے دین کے پیروکاروں کے ساتھ تعامل کے سلسلے میں خواہ وہ یہودی ہوں یا عیسائی یا کوئی اور، قرآن کا کلی نقطہ نظر کیا ہے۔ یہ عموم کاری (generalization)کا پیمانہ ہے، جس میں باریکی سے معاملے کا جائزہ نہیں لیا جاتا اور جو انصاف سے دور کردیتا ہے۔ یہ اپروچ اس اپروچ کے خلاف ہے جس کا قرآن داعی ہے۔

یہ اشکال قرآن کریم کے منہج و میزان سے حل ہوجاتا ہے۔ قرآن کا بیانیہ عموم کاری والا نہیں بلکہ انصاف والا ہے۔ اگر قاری ایسی ہر آیت پر باریکی سے غور کرے جو کچھ لوگوں کے بارے میں، یا سماج کے کچھ طبقوں کے بارے میں گفتگو کرتی ہے، خواہ وہ مومن ہوں یا غیر مومن، تو وہ مِن، مِنھم، اور لیسوا سواء جیسے الفاظ اور ایسے تمام صیغے پائے گا جو تبعیض پر دلالت کرتے ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ یہ بات اس طبقے کے کچھ لوگوں کے بارے میں ہے۔ یہ وہ باریک اور درست پیمانہ ہے جو آدمی کو لوگوں کے ساتھ تعامل کرنے اور لوگوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کے سلسلے میں انصاف کی راہ دکھاتا ہے۔

قرآنی نصوص کا استقرا اس قرآنی میزان تک پہنچاتا ہے۔ جیسے قرآن کہتا ہے:  لَیسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ [آل عمران:  113] (مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں) یہ آیت اہل کتاب کے سلسلے میں بتارہی ہے کہ وہ سب ایک اپروچ والے نہیں ہیں، اور ان کے سلسلے میں یکساں فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح قرآن کہتا ہے:  وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِن تَأْمَنْهُ بِقِنطَارٍ یؤَدِّهِ إِلَیكَ وَمِنْهُم مَّنْ إِن تَأْمَنْهُ بِدِینَارٍ لَّا یؤَدِّهِ إِلَیكَ إِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیهِ قَائِمًا [آل عمران:  75] (اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمھارا مال تمھیں ادا کر دے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسا کرو تو وہ ادا نہ کرے گا الّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ) یہ آیت مادی تعامل کے سلسلے میں اہل کتاب کے رویے کی خبر دے رہی ہے اور بتارہی ہے کہ ان کی سمت اور روش ایک نہیں ہے۔ کوئی تو اس درجے کا بھروسا مند ہے کہ اس کے پاس سونے کا خزانہ رکھا جاسکتا ہے، وہ تم سے قرض لے گا اور واپس پورا ادا کردے گا جب کہ کوئی ایک دینار کے بقدر بھی بھروسے کے لایق نہیں ہے، اسے دے دیا تو پھر واپسی کے لیے لمبی مدت اس کے پیچھے لگنا پڑے گا۔

جب قرآن یہودیوں کے بارے میں بات کرتا ہے، جنھوں نے اسلام سے دشمنی رچائی، پیغمبرِ اسلام کی تکذیب کی، جب قرآن ان کے برے اوصاف بیان کرتا ہے، تو اطلاق کا اسلوب نہیں اختیار کرتا ہے بلکہ استثنا کے لیے جگہ باقی رکھتا ہے۔ قرآن کہتا ہے فَبِمَا نَقْضِهِم مِّیثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِیةً ۖ یحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ۙ وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِیلًا مِّنْهُمْ[المائدة:  13](پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انھیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں، اور آئے دن تمھیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں) ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں قرآن (إلا قلیلًا منهم) کہتا ہے۔ امام ابن عطیہ کہتے ہیں:  پھر اللہ تعالی نے ان میں سے قلیل کو مستثنی کیا۔ ہوسکتا ہے یہ استثنا اشخاص میں ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ استثنا افعال میں ہو۔

امام محمد عبدہ ایک دوسری آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں:  یہاں جو إِلَّا قَلِیلًا مِنْكُمْ [البقرة:  83] (مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا) کہا گیا ہے، تو یہ استثنا ہے کچھ لوگوں کا جو سیدنا موسی علیہ السلام کے زمانے میں تھے، یا ہر زمانے میں رہیں گے، کیوں کہ کوئی قوم مخلصین سے خالی نہیں رہتی ہے جو اپنی معرفت کے مطابق اور اپنی طاقت کے بقدر حق کی محافظت کرتے ہیں۔ اس استثنا کو ذکر کرنے کی حکمت یہ ہے کہ خوب کاروں کی حق تلفی نہ ہو، اور یہ وضاحت بھی مقصود ہے کہ کسی قوم میں قلیل تعداد میں صالحین کی موجودگی کی وجہ سے اللہ کا عقاب نہیں رکے گا، جب کہ برائی اس میں عام ہوگئی ہو۔ (تفسیر المنار)

قرآن کریم اور کلام نبوت کی بہت سی مثالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کے لیے ہماری نگاہ (view) خواہ وہ عقیدے میں ہمارے موافق ہوں یا مخالف، عمومی اور اجمالی نہیں ہونی چاہیے، بلکہ انصاف پر مبنی ہونی چاہیے۔ مخالف گروہ میں بھی انصاف پسند اور حق پرست نایاب نہیں ہوتے، خاص طور سے جہاں انسانی مسئلہ درپیش ہو یا مشترک زندگی گزارنے کا معاملہ ہو۔ بہت سے عوامل ہوتے ہیں جو انسانوں کے رویے اور ان کے موقف میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔ بہت سے عوامل ہوتے ہیں جو دوسرے کے سلسلے میں تعصب اور تنگی کا مزاج بناتے ہیں اور ان کے جان ومال اور زمین پر ناجائز حملے کرنے کا محرک بنتے ہیں۔ (بشکریہ الجزیرہ ویب سائٹ)

مشمولہ: شمارہ جون 2024

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau