تنہائی

مرض کی تشخیص اور علاج کی تجویز

موجودہ دور کا ایک اہم مسئلہ تنہائی ہے۔ اس نے انفرادی و اجتماعی دونوں پہلو سے انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس میں مرد خواتین، بزرگ نو عمر غرض ہر عمر کے لوگ مبتلا ہیں۔ یہاں تنہائی سے مراد لوگوں سے جسمانی طور پر الگ تھلک رہنا نہیں ہے بلکہ یہ ایک خاص قسم کا تنہائی کا احساس ہے۔ جس میں انسان سماج میں رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو الگ تھلک محسوس کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے مگر اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ یہ مسئلہ جسمانی سے زیادہ نفسیاتی ہے۔

تنہائی کے اسباب درج ذیل امور میں تلاشے جاسکتے ہیں:

خاندانی نظام، معاشرتی و سماجی رویے، مصروف زندگی، معاشی استحکام، ذہنی صحت، ٹکنالوجی کا غیر مناسب استعمال۔

خاندانی نظام

پہلے ایک خاندان کے افراد ایک ساتھ رہتے تھے۔ دادا، دادی، والدین، اولاد، چچا چچیاں، پوتے پوتیاں اس صورت میں ایک بھرپور خاندان ہوتا تھا، سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے، سب ایک دوسرے کے کام آتے تھے، بچوں کو مل جل کر کھیلنے کا کافی موقع ملتا تھا، خالی اوقات میں بات چیت کرنے والے، دکھ درد بانٹنے والے میسر ہوتے تھے۔ موجودہ دور میں ہر فیملی مختصر ہوتی ہے۔ لوگ تنہا رہتے ہیں جس کی وجہ سے ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ مثلًا ایک خاندان میں شوہر بیوی اور دو بچے ہیں، صبح ہوتے ہی بچے اسکول چلے جاتے ہیں، شوہر کام پر چلا جاتا ہے، بیوی بھی اگر ملازمت کرتی ہے تو وہ بھی اپنے کام پر چلی جاتی ہے۔ اگر ملازمت نہیں کرتی ہے تو گھر میں اکیلی رہ جاتی ہے ایسے میں سب کا لگا بندھا شیڈول ہوتا ہے اور ہر کوئی اس کے مطابق کام کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر بیٹھنے کی فرصت نہیں ہوتی ہے۔ ایسے میں شوہر کو لگتا ہے بیوی اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے اور اس کا خیال نہیں رکھ رہی ہے۔ اسی طرح بیوی کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شوہر اس کو نظر انداز کر رہا ہے۔ پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر نوک جھونک ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو نوبت طلاق تک آ جاتی ہے۔ یا پھر ایک ایک چھت کے نیچے رہنے والے اور ایک بیڈ پر سونے والے تنہائی کے احساس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بچوں کا کیا کہنا صبح اٹھ کر اسکول چلے گئے وہاں سے لوٹ کر آئے تو ٹیوشن و ہوم ورک سوار رہتا ہے۔ نہ کھیل کود، نہ شور و غل، نہ کوئی بات کو سننے والا، ایسے حالات بچوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس بات کا امکان رہتا ہے کہ ان میں بھی تنہائی کا احساس پیدا ہو جائے۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو پہلے اعلی تعلیم کے لیے، پھر ملازمت کی غرض سے گھر سے باہر ملک کے طول و عرض اور کبھی بیرون ملک چلے جاتے ہیں اور گھر پر صرف بوڑھے والدین رہ جاتے ہیں ایسے میں ان کو تنہائی کا احساس ستاتا ہے۔

معاشرتی و سماجی رویے

تنہائی کے احساس میں مبتلا کرنے کا ایک سبب سماج کا رویہ ہوتا ہے۔ بسا اوقات انسان کی زندگی میں ایسے واقعات و حادثات آتے ہیں، کبھی کوئی بڑا حادثہ پیش آ جاتا ہے کبھی پے درپے حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ ان مواقع پر انسان کو ہمدردی، خیرخواہی، مدد و تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جب اس کو تعاون نہیں ملتا ہے۔ سماج کی طرف سے عدم تعاون کا رویہ سامنے آتا ہے تو انسان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ مصیبت کے وقت کوئی غم کو بانٹنے والا نہ ہو، کوئی ہمدردی کے دو بول بولنے والا نہ ہو تو پھر انسان احساس تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ مثلًا کوئی نوجوان تعلیم سے فارغ ہو کر کاروبار کرنا چاہتا ہے، یا کوئی کاروبار کر رہا ہے اور اس کو کوئی بڑا خسارہ ہو جاتا ہے اور ایسے موقع پر جب سماج کی طرف سے کوئی دست تعاون نہ بڑھے تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص لوگوں کے کام آتا رہا ہو، مگر جب اس کو کسی موقع پر ضرورت پڑے تو لوگ پیٹھ دکھا دیں تو لوگوں کا یہ رویہ اس کا دل توڑ دیتا ہے وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیتا ہے۔

مصروف زندگی

موجود دور کا طرز زندگی بھی انسان کو متاثر کر رہا ہے۔ موجودہ دور میں لوگوں بہت زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ ملازمت کی سرگرمیاں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان کے پاس دوسروں سے ملنے جلنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ صبح اٹھتا ہے تو پھر اس کو آفس، اسکول، دکان جانے کی ایسی فکر ہوتی ہے کہ وہ جلد سے جلد تیار ہو کر جانا چاہتا ہے۔ دن میں ملازمت اور تجارت کی سرگرمی میں مصروف رہتا ہے۔ بعض لوگوں کو اس کے لیے لمبا سفر کرنا پڑتا ہے جس میں کئی گھنٹے صرف ہو جاتے ہیں۔ شام کو واپسی پر تھک ہار کر سو جاتا ہے۔ نہ کسی سے خیریت لے پاتا ہے اور نہ اپنی خیریت سے کسی کو آگاہ کر پاتا ہے۔ وہ اپنے خاندان، رشتہ داروں اور دوسروں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتا ہے۔ مسلسل اس طرز زندگی کی وجہ سے جس میں کسی اور کے لیے وقت نہیں رہ جاتا ہے وہ تنہائی کے احساس کا شکار ہو جاتا ہے۔

فکر معاش

موجودہ دور کی ایک خامی یہ ہے کہ اس نے انسان کی سب سے بڑی فکر اس کے معاش کو بنادیا ہے۔ ایک طرف ہوش ربا مہنگائی ہے۔ دوسری طرف بے حد خرچیلا طرز زندگی ہے۔ بنیادی ضروریات کے دباؤ اور معیار زندگی کی فکر نے انسان کو مشین بنا کر رکھ دیا ہے۔ انسانی جذبات، ہمدردی، خیرخواہی، باہمی تعاون مفقود ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں انسان کو تنہائی کا احساس آ گھیرتا ہے۔

ذہنی صحت

تنہائی کا احساس پیدا ہونے کی ایک وجہ انسان کی صحت کا خراب ہونا ہے۔ انسانی صحت برقرار رکھنے کے لیے کھانے پینے، سونے جاگنے کے جو اصول ہیں، موجودہ دور میں انسان ان کی رعایت نہیں کر پاتا ہے۔ اس کی وجہ سے صحت کے مسائل پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں انسان کو دوسروں کی جانب سے ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے مگر وہ اس کو نہیں مل پاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ ڈپریشن، بے چینی، گھبراہٹ اور دیگر ذہنی و نفسیاتی مسائل میں گھر جاتا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کا غیر متوازن استعمال

دور جدید کا ایک اہم ثمرہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے وہیں اس کے مضر اثرات انسانی معاشرت پر پڑ رہے ہیں۔ پہلے لوگ اپنی ملازمت یا پیشہ ورانہ سرگرمی سے فارغ ہو کر آپس میں مل جل کر بیٹھتے اور گفتگو کرتے تھے۔ تعلقات میں خوش گواری اورتازگی رہتی تھی۔ اب لوگ موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر مصروف رہتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ایک کمرے میں بیٹھے چار لوگ آپس میں بات کرنے کے بجائے چاروں اپنے اپنے موبائل پر مصروف رہتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی لوگ ملنے جلنے سے زیادہ اپنے موبائل پر لگے نظر آتے ہیں۔ ایسی ملازمتیں بھی آ گئی ہیں کہ گھر بیٹھے آدمی کام کرے مگر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ایسے لوگ گھر کے ایک کمرے میں بیٹھے ملازمت کے فرائض انجام دیتے رہتے ہیں، گھر کے افراد سے کوئی لینا دینا نہیں رہتا۔ اس طرح کی غیر معتدل مصروفیات انسان کو حقیقی تعلقات سے دور کر دیتی ہیں۔ لوگ آن لائن دنیا میں مصروف ہو کر حقیقی دنیا سے کٹ جاتے ہیں۔ یہ چیز بھی انسان کو تنہائی کا شکار بنا دیتی ہے۔

اثرات

ذہنی صحت پر اثرات

تنہائی کا احساس انسان کے ذہن پر گہرے منفی اثرات ڈالتا ہے۔ اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو ڈپریشن، اضطراب، بے چینی، گھبراہٹ اور دیگر ذہنی امراض کا اندیشہ ہوتا ہے۔ یہ امراض انسان کو اندرونی طور پر کم زور کر دیتے ہیں۔

جسمانی صحت پر اثرات

تنہائی کے منفی اثرات انسان کے جسم پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی قوت مدافعت کو کم زور کر دیتے ہیں اور مدافعتی نظام کی کم زوری کی وجہ سے اور بہت سی بیماریاں جنم لینے لگتی ہیں۔ ایسے افراد کی زندگی کے لمحات کم ہو جاتے ہیں۔ دل کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

معاشرتی اثرات

تنہائی کے احساس کے اثرات انسان کی معاشرتی زندگی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ وہ اجتماعی سرگرمیوں سے لا تعلق ہو جاتا ہے۔ یہ چیز اس کے معاشرتی روابط کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ انسان تنہا رہ جاتا ہے۔ ازدواجی تعلقات تباہ ہو جاتے ہیں۔ طلاق و خلع کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ میاں بیوی کے رشتے ختم ہونے سے بچوں اور خاندانوں پر برے و منفی اثرات پڑتے ہیں۔

کارکردگی پر اثرات

تنہائی کا احساس انسان کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ تنہائی کا احساس رکھنے والا اپنے فرائض، ذمہ داریاں، ڈیوٹی کو پورے طور پر ادا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ ایک طالب علم تنہائی کے احساس میں مبتلا ہو جائے تو وہ تعلیم میں دل چسپی سے محروم ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت اس کے کیریئر و مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی پیشہ و تجارت سے وابستہ فرد کو احساس تنہائی گھیر لے تو اسے پیشے اور کاروبار میں کام یابی حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حل کی تجاویز

خاندانی و سماجی روابط کی مضبوطی پر توجہ

تنہائی کے احساس سے بچنے کا موثر ذریعہ یہ ہے کہ انسان رشتے داروں پڑوسیوں اور دوستوں سے تعلقات کو خوش گوار بنائے اور ان کے ساتھ وقت گزارے۔ اسلام نے رشتوں کو نبھانے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ جب انسان اس حکم کی پاسداری کرتا ہے تو تنہائی اور اکیلے پن کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔

وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَیئًا وَبِالْوَالِدَینِ إِحْسَانًا وَبِذِی الْقُرْبَىٰ وَالْیتَامَىٰ وَالْمَسَاكِینِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَمَا مَلَكَتْ أَیمَانُكُمْ [النساء:۳۶]

”اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمھارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو۔”

انسان جب رشتہ داروں کے یہاں آتا جاتا ہے۔ ان کی خیر خیریت دریافت کرتا رہتا ہے، ان کے دکھ سکھ میں شریک رہتا ہے، ضرورت پڑنے پر مالی تعاون کرتا ہے تو اس سب کے نتیجے میں تعلقات خوش گوار اور فرحت بخش ہوتے ہیں۔ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ ہے وہ تنہا نہیں ہے۔ وہ محبت و اپنائیت کے احساس سے سرشار رہتا ہے۔ ان روابط سے ایک فائدہ یہ ہوتاہے کہ مختلف تقاریب میں شرکت ہوتی ہے جہاں خاندان کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے، گفتگو کا وقت اور موقع میسر آتا ہے۔ یہ مصروفیت اس کو تنہائی کے مرض سے بچا لیتی ہے۔

سماجی رفاہی کاموں میں حصہ لینا

احساس تنہائی کا ایک حل یہ ہے کہ انسانی سماجی رفاہی سرگرمیوں میں فعال رول ادا کرے۔ سماجی رفاہی کاموں سے مراد یہ ہے کہ انسان معاشرے اور لوگوں کے کام آئے۔ سماجی رفاہی کاموں میں فعال رہنے سے لوگوں میں تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ سماجی خدمت ایک خاص قسم کی فرحت کا احساس دیتی ہے۔

اسلام کے نزدیک خدمت خلق صرف اخلاقی خوبی ہی نہیں ہے بلکہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس کو اللہ کی خوشنودی اور اخروی کام یابی کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ کام یاب معاشرے کے لیے خدمت خلق ضروری وسیلہ ہے۔ اس سے معاشرے میں محبت، ہمدردی، اور ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اسلام میں لوگوں کے کام آنے کی بہت فضیلت آئی ہے۔ متعدد مقامات پر قرآن نے اس کا تاکیدی حکم دیا ہے۔ احادیث میں بھی زور دار تاکید ملتی ہے۔ اللہ ایسے بندوں کو پسند کرتا ہے جو لوگوں کے کام آئیں۔ الْخَلْقُ كُلُّهُمْ عِیالُ اللَّهِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِعِیالِهِ (مشکوة:۴۹۹۸)

انسانوں کے ساتھ نیک سلوک یہ ہے کہ انسان انفرادی حیثیت میں اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کے کام آئے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ انسان دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اور کوئی اجتماعی شکل بناکر لوگوں کے کام آئے۔ مثلًا رفاہی اسپتال قائم کرنا جہاں لوگوں کو رعایتی داموں پر اچھا علاج فراہم کیا جائے۔ رفاہی اسکول قائم کرنا، محلہ کی سڑک، اور بجلی کے ٹرانسفارمر کو درست کرانے، محلہ کی صفائی کے نظم کو درست کرانے، بیواؤں، ریٹائرڈ حضرات، طلبہ کی اسکالرشپ فراہم کرانے میں رہ نمائی و تعاون کرنا وغیرہ۔ جب انسان اس طرح کے رفاہی سماجی کاموں میں اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے تو دوسرے انسانوں سے بڑے پیمانے پر اس کا ربط ہوتا ہے۔ احساس تنہائی کے مرض سے وہ کوسوں دور رہتا ہے۔

 دل چسپ مشاغل

تنہائی کے احساس سے بچنے کا ایک بہترین ذریعہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو اپنی دل چسپی کے اچھے اور مفید مشاغل میں مصروف رکھے۔

اچھا مشغلہ انسان کو ذہنی تناؤ، بے چینی، بوریت اور تنہائی سے بچاتا ہے۔ ہر انسان کی کچھ دل چسپیاں ہوتی ہیں جن چیزوں میں دل چسپی ہوتی ہے ان میں اپنے آپ کو مصروف رکھنے سے اس کو خوشی ملتی ہے۔ لوگوں سے تعلقات بھی استوار ہوتے ہیں۔ جب دل چسپی کے مشغلوں میں انسان مصروف رہتا ہے تو تنہائی کا روگ نہیں لگتا ہے۔ انسان کی ذہنی، روحانی، اخلاقی معاشرتی صحت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اچھے کاموں میں مصروف رکھے۔ اسلام وقت کو ضائع کرنے یا غیر ضروری باتوں میں لگانے یا فارغ گزارنے سے روکتا ہے۔ جب کہ اچھے کاموں کے کرنے کا حکم دیتا ہے۔

وَالَّذِینَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ‎(جو لوگ لغویات سے دور رہتے ہیں)، فَاسْتَبِقُوا الْخَیرَاتِ (پس تم بھلائیوں کی اور خیر کاموں کی طرف سبقت کرو)

صحت کا خیال

احساس تنہائی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان صحت مند رہے۔ اس کے لیے اپنی صحت کا خیال رکھے۔ صحت کے اصولوں کی پابندی کرے، صحت بخش تغذیہ سے بھرپور غذا کھانے کا اہتمام کرے، سکون بخش نیند لے، اپنے تمام کاموں کو مناسب نظام الاوقات کے تحت گزارے۔ نظام الاوقات کے زندگی پر اثرات پڑتے ہیں۔

بے وقت کھانے سے جسم کی صحت خراب رہتی ہے، نیند کے پورے نہ ہونے سے دماغی صحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں، نظام الاوقات بنا کر ان کی پابندی کی جائے تو صحت برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ ورزش کا اہتمام کیا جائے۔ صحت مند انسان اپنی ضروریات پوری کرنے میں خود کفیل ہوتا ہے۔ توانا ہونے کی صورت میں دوسروں کے کام آتا ہے۔ مثلًا سفر میں بس پر چڑھتے وقت ایک بوڑھا شخص ضعف کی وجہ سے چڑھ نہیں پا رہا ہے ایسے موقع پر صحت مند شخص اپنا سامان بھی اٹھاتا ہے اور بوڑے کا سامان اٹھانے کی پوزیشن میں بھی ہوتا ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا :

”المُؤْمِنُ الْقَوِی خَیرٌ وأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیفِ، وفِی كُلٍّ خَیرٌ”(مسلم:۲۶۶۴)

(طاقتور مومن کم زور مومن سے بہتر ہے۔ اللہ کو زیادہ محبوب ہے، دونوں میں بھلائی ہے)

صحت مند مومن تنہائی کے مرض سے محفوظ رہتا ہے اس لیے صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

انفارمیشن ٹکنالوجی کا متوازن استعمال

تنہائی کے احساس کو کم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جدید آلات مواصلات کا متوازن استعمال کیا جائے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں پر وقت ضائع نہ کیا جائے۔ بلکہ اہم و ضروری اور علمی و تحقیقی چیزوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ لوگوں سے حقیقی روابط بنائے رکھنے اور مستحکم کرنے پر توجہ دی جائے۔

مثبت سوچ

تنہائی کے احساس سے نکلنے یا اس سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انسان مثبت سوچ رکھے۔ انسان کی صحت برقرار رکھنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے میں مثبت سوچ بہت اہم رول ادا کرتی ہے۔ مثبت سوچ انسان کے دماغ اور کارکردگی پر غیر معمولی اچھے اثرات ڈالتی ہے۔ جو لوگ ذہنی بیماریوں، ڈپریشن اور نفسیاتی امراض کے شکار ہوتے ہیں ان کے درد کا مداوا مثبت سوچ میں ہے۔ مثبت سوچ انسان کو خوشی اور سکون دیتی ہے اور عروج حاصل کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ مثبت سوچ کی دو سطحیں ہیں ایک خود کو مثبت رکھنا دوسرے معاشرے کو مثبت نظر سے دیکھنا۔

مثبت سوچ اور تنہائی کا بہت گہرا تعلق ہے جب انسان تنہائی کا شکار ہوتا ہے تو شیطان وسوسہ اندازی کرتا ہے۔ مایوسی میں مبتلا کرتاہے۔ بدگمانیاں پیدا کرتا ہے۔ اس طرح کے خیالات آتے ہیں کہ مجھے سب نے چھوڑ دیا، لوگ مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، مجھے حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ منفی سوچ ہے۔ اس سے بچنا چاہیے۔ حسن ظن اور مثبت سوچ رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی میری مدد نہیں کر رہا ہے یا کوئی میرے حالات نہیں پوچھ رہا ہے تو ہوسکتا ہے وہ بھی کسی پریشانی، الجھن یا بیماری میں مبتلا ہو۔ مجھے ان کی مدد کرنی چاہیے۔ اس طرح کی مثبت سوچ انسان کو تنہائی سے بچاتی ہے۔

اللہ تعالی نے منفی سوچ اور بدظنی سے روکا ہے۔

یا أَیهَا الَّذِینَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِیرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ [سورہ حجرات: ۱۲]

”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں”

‏نبیؐ نے فرمایا : إِیاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِیثِ (بخاری:۵۱۴۳)

“گمان سے بچوں اس لیے کہ گمان کا تعلق جھوٹی بات سے ہے۔”

حسن ظن یعنی مثبت سوچ کا حکم دیا ہے۔

نبیؐ نے فرمایا: حسن الظن من حسن العبادة (مسند احمد: ۳۱۹۶)

تنہائی سے بچنے کے لیے مثبت سوچ کا اختیار کرنا نہایت ناگزیر ہے۔ اللہ کے بارے میں، مخلوق کے بارے میں اور خود اپنی ذات کے بارے میں حسن ظن اور مثبت سوچ بنانا چاہیے۔

خود اعتمادی

تنہائی سے نجات پانے کا ایک بہترین راستہ خود اعتمادی ہے۔ خود اعتمادی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ذات پر بھروسا رکھے۔ ایک مومن کو اللہ تعالی نے جو صلاحیتیں، لیاقتیں، قوتیں اور وسائل دیئے ہیں ان پر بھروسا کر کے ان کو بروئے کار لائے۔ محنت کر کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرے۔ اپنے آپ کو محض لاچار و مجبور نہ سمجھے۔

خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں و خوبیوں کا ادراک کرے۔ خود اعتمادی انسان کی وہ خوبی ہے جو اس کے لیے عظیم مقاصد کو حاصل کرنا آسان بنا دیتی ہے۔ اس کو خوف اور اندیشوں سے نکال کر پر امید بناتی ہے جس سے انسان کی کام یابی کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔

اسلام میں خود اعتمادی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسلام جن اوصاف حمیدہ کو اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں سے ایک خود اعتمادی ہے۔ وہ ناسازگار حالات میں اسے حوصلہ سے کام لینے کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ مایوسی، قنوطیت، کم ہمتی، پست حوصلگی اور سستی سے روکتا ہے۔ وہ اندیشوں سے مشکلات میں خوف سے روکتا ہے۔

جب موسیؑ اپنی قوم کے ساتھ مصر سے نکلے اور دریا پر پہنچ گئے اور پیچھے سے فرعون کا لشکر آ گیا ہے تو قوم کے لوگ گھبرائے۔ مگر حضرت موسیؑ گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہونے کے بجائے پر اعتماد رہے اور قوم کو بھی پر اعتماد رہنے کو کہا اور فرمایا: قَالَ كَلَّا إِنَّ مَعِی رَبِّی سَیهْدِینِ [الشعراء:۶۲] (موسیٰؑ نے کہا “ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہ نمائی فرمائے گا)

توکل اور خوداعتمادی میں گہرا رشتہ ہے۔ اس کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ انسان کو جو صلاحیت و وسائل اللہ نے دے رکھے ہیں ان کی منصوبہ بندی کرکے استعمال کرکے آگے بڑھنے کا نام خود اعتمادی ہے۔ توکل یہ ہے کہ جدوجہد کرنے کے بعد نتیجہ اللہ کے حوالے کر دے۔ مثلًا کسان کی خود اعتمادی یہ ہے کہ وہ یہ سوچے کہ زمین کو جوتنا، بیج ڈالنا اور پانی کھاد ڈالنا میری کی ذمہ داری ہے۔ اور وہ یہ سب کام کرے۔ اور پر امید رہے کہ اس کی ان کوششوں کے نتیجہ میں اچھی فصل آئے گی۔

توکل یہ ہے کہ انسان ان ذرائع کو استعمال کرنے کے بعد فصل کا بارآور ہونا اللہ کی رحمت کا نتیجہ سمجھے۔اسی لیے قرآن نے پُر عزم ،حوصلہ اور پھر توکل کی بات فرمائی فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ [آل عمران:۱۵۹]  (پھر جب تمھارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسا کرو)

اللہ کی معیت کا احساس

تنہائی کا بہترین علاج یہ ہے کہ انسان اللہ کی معیت کو محسوس کرے۔ جس شخص کا یہ عقیدہ راسخ ہوتا ہے کہ میرا رب میرے ساتھ ہے تو وہ دنیا کی کسی قوت سے نہیں ڈرتا۔ سخت ترین حالات سے گھبراتا نہیں بلکہ ان کا مقابلہ کرتا ہے۔ لوگوں کے برے رویہ سے پریشان نہیں ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرتا بلکہ اپنے ساتھ ایک بہت بڑی قوت یعنی اللہ کے ساتھ ہونے کا یقین رکھتا ہے۔ اور یہ یقین اس کو تنہائی کے احساس سے آزاد کر دیتا ہے۔ جو اللہ پر توکل کرتا ہے وہ ہر طرح کے خوف و مایوسی سے بچ جاتا ہے۔ اسے ایک خاص قسم کا اطمینان قلب میسر آتا ہے۔ یہ احساس کہ اللہ میرے ساتھ ہے، انسان کو بے پناہ قوت عمل عطا کرتا ہے، خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ انسان پر امید رہتا ہے کہ اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہے گی۔ تنہائی کا احساس اس وقت ستاتا ہے جب انسان یہ محسوس کرے کہ اس کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔ کوئی ساتھ دینے والا نہیں ہے۔ مگر توکل علی اللہ کے نتیجہ میں اس کو یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ اللہ ہے۔ جب میرے رب کا حکم ہو جائے گا تو سارے مسائل و مشکلات دور ہو جائیں گے۔

اللہ تعالی نے مومنین کو توکل کا حکم دیا ہے۔ وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِینَ [مائدہ:۲۳]

(اللہ پر بھروسا رکھو اگر تم مومن ہو)

اذکار کا اہتمام

تنہائی کا بہترین حل یہ ہے کہ انسان اللہ کا ذکر کثرت سے کرے۔ جتنا ذکر کرے گا اتنا ہی انسان پر اطمینان کی کیفیت طاری ہوگی۔

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ [رعد:۲۸]

(خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے)

دعا

دعا تنہائی کا ایک اچھا علاج ہے۔ دعا میں بندہ اللہ سے قریب ہو جاتا ہے۔ اس کو یہ یقین بہت سکون فراہم کرتا ہے کہ اس نے اپنا دکھڑا اور اپنی حاجت ایسی ذات کے سامنے رکھ دی ہے جو زمین و آسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے اور وہ اپنے بندوں کی سنتا ہے۔ دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ وہ دنیا سے بے نیاز ہوکر اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اور ایسی خلوت کا لطف پاتا ہے جس پر ساری جلوتیں اور محفلیں قربان کردی جائیں۔

شکرگزاری

شکرگزاری تنہائی کا بہترین حل ہے۔ شکرگزاری انسان کو تنہائی اور اداسی میں مبتلا نہیں ہونے دیتی ہے۔ شکر گزار انسان کی نگاہ محرومیوں پر نہیں ہوتی ہے۔ محرومیوں کا احساس انسان کے سکون کو ختم کر دیتا ہے۔ شکر گزار کی نگاہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں پر رہتی ہے جس سے اس کا دل ایک قلبی راحت محسوس کرتاہے۔

شکر گزاری سے اللہ کی محبت دل میں پروان چڑھتی ہے۔ یہ محبت انسان کے سکون کا باعث ہوتی ہے۔ انسان جب اپنے اوپر اللہ کے احسانات کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کی سوچ مثبت بن جاتی ہے۔ انسان پر اللہ کے احسانات بے شمار ہیں اگر انھیں شمار کیا جائے تو شمار نہیں کر سکتے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔

وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا [النحل: ۱۸]

(اگر اللہ کی نعمت کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکتے )

شکر گزاری ایک بہت بڑی نعمت ہے جو انسان کو بہت سی نفسیاتی بیماریوں سے بچاتی ہے روحانی اور دنیوی ترقی کے منازل تک پہنچاتی ہے۔

تنہائی موجودہ دور کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس سلسلے میں بیداری لانے کی ضرورت ہے۔ صحیح رہنمائی کے ذریعے لوگوں کو اس مرض سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔

مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223