اہلِ کتاب سے متعلق مسائل واحکام

اسلامک فقہ اکیڈمی

(۱)  اہل کتاب قرآن وحدیث کی ایک اصطلاح ہے اور عہد نبوت سے ہی اہل کتاب کا لقب یہود ونصاریٰ دو گروہوں کے ساتھ خاص ہے جمہور فقہاء بشمول متاخرین احناف نے اسی کو راجح قرار دیا ہے۔

(۲)صائبین کی تحقیق میں آراء انتہائی مختلف رہی ہیں اس لئے ان کا معاملہ ہنوز مشتبہ ہے اس لئے کسی ایک رائے کو اختیار کرنا مشکل ہے۔

(۳) یہود ونصاریٰ جب تک تورات وانجیل اور اپنے پیغمبر کے ماننے کے مدعی ہیں وہ قرآن وحدیث کی اصطلاح میں اہل کتاب کہلائیںگے، جو عیسائی یا یہودی جو منکر خدا اور مذہب بیزار اور وحی وپیغمبر کے سرے سے منکر ہیں وہ اہل کتاب کے ہرگز مصداق نہیں، نکاح وذبیحہ کے باب میں ان کا حکم اہل کتاب کا نہ ہوگا۔

(۴،۵) بابی، بہائی، سکھ اور قادیانی خواہ نسلی ہو یا بذات خود ان مذاہب کو اختیار کیا ہو وہ اہل کتاب میں داخل وشامل نہیں۔

(۶:الف، ب)  کتابیہ سے نکاح فی نفسہ جائز ہونے کے باوجود موجودہ دور میں کسی بھی ملک میں کتابیہ سے نکاح عموماً مفاسد ومضرات سے خالی نہیں، لہٰذا مسلمانوں کو اس سے گریز کرنا چاہئے۔

(۷)کسی کتاب کا آسمانی اور کسی انسان کا نبی ورسول ہونا یہ دونوں مسئلے اعتقادات سے متعلق ہیں اور اعتقادات کے لئے دلائل قطعیہ کا ہونا ضروری ہے اور دیگر اقوام کی مذہبی کتابوں اور ان کے مقتداؤں کے نبی ورسول ہونے پر کوئی یقینی دلیل نہیں لہذا دیگر اقوام کی مذہبی کتابوں کا قرآن مجید کی بہت سی اعتقادی اور اخلاقی تعلیمات میں محض موافقت کی وجہ سے ان کتابوں کے آسمانی کتاب ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا اسی طرح ایسی شخصیتوں کے پیغمبر ہونے کا بھی یقین نہیں کیا جاسکتا ہے جن کے بارے میں کتاب وسنت خاموش ہیں۔

(۸: الف) ہمدردان قو م وملت علماء وعوام پر لازم ہے کہ ایسے عصری معیاری تعلیمی اداروں کے قیام پر توجہ دیں جن میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی واخلاقی تعلیم وتربیت کا بھی نظم ہو، جب تک ایسے اداروں کا نظم نہ ہو تو بدرجہ مجبوری ان اداروں میں جہاں اخلاقی ودینی عقائد کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو احتیاطی تدابیر کے نظم کے ساتھ تعلیم دلانے کی گنجائش ہے۔

(ب)نان ونفقہ، حقوق زوجیت اور حسن معاشرت کے تعلق سے جو حقوق مسلمان بیویوں کے ہیں وہی حقوق کتابیہ بیویوں کے بھی ہیں محض کتابیہ ہونے کی بنا پر ان کے حقوق سے راہ فرار اختیار کرنا اور چھوڑ کر بھا گ آنا درست نہیں، ہاں اگر کتابیہ بیویوں کی رفاقت سے دین متاثر ہورہا ہو تو پھر اس سے علاحدگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔

(ج)اگر زوجہ کتابیہ اپنے مذہب کے مطابق مذہبی رسوم انجام دینا چاہے تو شوہر اس حد تک اس سے چشم پوشی سے کام لے گا کہ جس کا ضرر خود پر یا اپنے بچوں پر نہ پڑے۔

(د)غیر مسلم رفاہی اداروں میں خدمت کرنے اور ان سے استفادہ کرنے میں مسلمانوں کو احتیاط برتنا چاہئے اگر ان اداروں میں کسی ملازم کے ذمہ کوئی ایسا کام سپرد کیا جائے یا فرض وغیرہ سے استفادہ کے نتیجہ میں کوئی ایسا کام کرنا پڑے جس میں عیسائیت کے مشن کی اعانت یا ترویج ہو یا باطل عقائد ونظریات سے متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی خدمت سے انکار واجب ہے اور استفادہ جائز نہیں۔ ملی وسماجی مسلم تنظیموں کی یہ ذمہ داری ہے کہ متبادل نظام پر توجہ دیں۔ فقط

تجاویز بابت: اسلام میں بوڑھوں اور کمزوروں کے حقوق

اسلام ایک دینِ فطرت ہے جو اخلاق وآداب اور معاملات کی ایسی تعلیم دیتا ہے جو انسان کو انسانیت کی تکمیل تک پہنچا دیتی ہے، رسول اللہﷺ کی بعثت کا مقصد ہی مکارم اخلاق کی تعلیم ہے، اسلام کے عطا کیے ہوئے مکارم اخلاق کا ایک اہم عنصر معذورین اور سن رسیدہ لوگو ںکی قدر ومنزلت اور ان کے حقوق کی ادائیگی ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ معذوروں اورعمر رسیدہ لوگوں کی عزت اور ان کی ہر طرح کی ضرورتوں کا مکمل خیال رکھا جائے۔

اس تناظر میں اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا یہ تاریخی سمینار اسلامی اور اخلاقی نقطہ نظر کو واضح کرتے ہوئے درج ذیل تجاویز منظور کرتا ہے:

(۱)            اگر انسان کے پاس مال ہو تو اصولی طور پر اس کا نفقہ خود اس کے اپنے مال میں واجب ہے، البتہ بیوی کا نفقہ ہر حال میں شوہر پر واجب ہے۔

(۲)اگر والدین تنگ دست ہوں تو اولاد کے ذمہ ان کا نفقہ واجب ہے، اولاد کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے والدین کو کسب معاش پر مجبور کریں، اگرچہ والدین کسب پر قادر ہوں۔

(۳) دوسرے قریبی رشتہ داروں کا نفقہ وعلاج اس وقت واجب ہوگا جبکہ تنگ دست ہونے کے ساتھ کسب سے بھی عاجز ہوں۔

(۴) والدین اگر خود کفیل ہوں تواولاد پر ان کا نفقہ واجب نہیں، لیکن اولاد کو چاہئے کہ اخلاقی طور پر والدین کی ہر جائز خواہش کو پورا کریں۔

(۵) والدین کی خدمت اولاد کا فریضہ بھی ہے اور ان کے لئے دنیا وآخرت کی سعادت کا باعث بھی، ضرورت سے زائد معاش اور بلند معیار زندگی حاصل کرنے کے لئے خدمت کے محتاج والدین کو چھوڑ کر دوسرے شہر، دوسری ریاست یا دوسرے ممالک میں جانا اس وقت جائز ہوگا جبکہ والدین کے خدمت گار موجود ہوں اور والدین اس پر راضی بھی ہوں۔

(۶)ساس اور سسر کی خدمت بہو پر شرعاً واجب نہیں ہے، لیکن شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے خدمت کرنا اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

(۷)ماں باپ کی خدمت بیٹا اور بیٹی دونوں پر واجب ہے۔

(۸)اگر والدین بالکل مجبور ہوں یا ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوں کہ بیٹی کی خدمت کے محتاج ہوں اور بیٹی کے علاوہ کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایسی صورت میں بیٹی کو والدین کی خدمت کرنی چاہئے، شوہر کو چاہئے کہ اس کی اجازت دے۔

(۹)اولاد کا اپنے والد کو نکاح ثانی سے روکنا جائز نہیں ہے اور اگر باپ اپنی اس بیوی کے اخراجات کی ادائیگی پر قادر نہ ہو تو اس کی زوجہ ثانیہ (سوتیلی ماں) کا نفقہ بھی اس کی غنی اولاد پر واجب ہے۔

(۱۰)والدین کی زندگی میں تقسیم جائیداد کا مطالبہ کرنا اولاد کا حق نہیں، والدین خود اپنی مرضی سے تقسیم کرکے مالکانہ تصرف دیدیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(۱۱: الف) اپنے بزرگ رشتہ داروں کو اپنے ساتھ رکھ کر خدمت کرنا یا بہ وقت ضرورت دوسرے خدمت گار کے ذریعہ ان کی خدمت کرانا شرعی فریضہ ہے اس لئے اولڈ ایج ہوم اسلام کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں، البتہ بے سہارا لوگوں کے لئے ایسا اولڈ ایج ہوسٹل جن میں شرعی تقاضے پورے ہوتے ہوں بنانے کی اور وہاں رکھنے کی شرعاً گنجائش ہے۔

(ب)جو لوگ خود یا خدمت گار کے ذریعہ اپنے والدین کی خدمت کرسکتے ہیں، ان کے لئے بوڑھے والدین کو ان کی اجازت ومرضی کے بغیر  ہاسٹل میں رکھنا جائز نہیں، البتہ اگر ضرورت کے تحت اور والدین کی اجازت ومرضی سے ان کو ہاسٹل میں رکھا جائے تب بھی اولاد پر واجب ہے کہ وہ مسلسل ان کی خبر گیری کرے، اور ان سے ملاقات کرتا رہے۔

(۱۲)حکومت عمر رسیدہ لوگوں کو رعایتیں فراہم کرنے کے لئے جو عمر مقرر کرتی ہے اس عمر کو پہنچنے سے پہلے ان مراعات سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے۔

تجاویز بابت: طلاق غضبان

پچیسواں فقہی سمینار منعقدہ ۵ تا ۷فروری ۱۶ء بمقام بدر پور آسام کے موضوعات میں ایک اہم موضوع طلاق غضبان کا ہے یعنی حالت غضب میں دی گئی طلاق کا حکم کیا ہے؟ کافی بحث ومباحثہ اور غوروخوض کے بعد شرکاء سمینار جس نتیجہ پر پہنچے وہ درج ذیل ہے:

۱۔ نکاح ایک ایسا رشتہ ہے جس میں شرعاً دوام واستحکام مطلوب ہے، اور جن باتوں کی گنجائش رکھی گئی ہے، ان میں طلاق سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے، جس کابہ وقت ضرورت ہی استعمال کرنا چاہئے ، لہٰذا شوہر کو چاہئے کہ غصہ کی حالت میں اپنے دل ودماغ پر قابو رکھے اور طلاق کے الفاظ زبان پر لانے سے احتراز کرے۔

۲۔ غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق شرعاً واقع ہوگی، البتہ اگر غصہ جنون کی حد تک پہنچ گیا ہو اور شوہر غصہ کی حالت میں دماغی توازن کھوچکا ہو، اسے یہ معلوم نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے او رکیا کررہا ہے تو ایسی حالت میں اس کا حکم مجنون کا ہوگا اور اس کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

تجاویز بابت: وحدت امت-اصول وآداب

وحدت امت وقت کی ایک اہم ترین ضرورت اور دین حق کا اہم ترین مطلوب ہے اس وحدت کو نقصان پہنچانے والے اختلافات اس وقت کا بڑا مفسدہ ہے جس سے امت مسلمہ بدحال ہے، اختلاف کی وہ تمام صورتیں جو فطری اور محمود ہیں وہ ہرگز نقصان رساں نہیں، لیکن وہ بھی اگر شرعی حدود کی رعایت کے ساتھ نہ ہوں تو وہ بھی امت کے لئے زہر ہیں۔

جو اختلافات مذموم ہیں وہ کتنے ہی اچھے جذبہ سے ہوں وہ بہرحال غیر شرعی ہیں۔

فقہی مسائل کے اختلافات میں جہاں اختلاف صرف افضل وغیر افضل اور راجح ومرجوح کا ہے ان میں اپنی رائے کو سراسر حق اور دوسری رائے کو سراسر باطل قرار دینا ہرگز درست نہیں ہے۔

جن مسائل میں اختلافات کی نوعیت حلال وحرام وجائز وناجائز کی ہے وہ بھی چونکہ مجتہد فیہ مسائل ہیں اس لئے ان میں بھی دوسرے کے مسلک کی تغلیط او راس کو مکمل باطل قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

اس لئے اس طرح کے تمام مسائل کو عوامی نہ بنایا جائے انفرادی طور پر اپنا مسلک اور اس کے دلائل بیان کرنے میں مضائقہ نہیں،بلکہ بعض مواقع وضرورت پر بہتر ہیں، لیکن دوسرے مسلک والوں میں ایسے مسائل پر گفتگو ہو تو انصاف ودیانت کے ساتھ ہر موقف کے دلائل بیان کئے جائیں۔ شخصیات کا احترام اور انداز کلام میں شرافت ومتانت ملحوظ رکھی جائے۔

۲۔            جن مسائل میں اختلاف کی نوعیت عقیدہ کی ہے ان میں اپنے عقیدہ کا اثبات، دلائل کی توضیح درست ہے لیکن دوسرے کو اشتعال دلانے والی طرز گفتگو سے اجتناب ضروری ہے، تبادلہ خیال میں اپنے مسلک کے مستدلات کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ اور تفصیلاً بیان کیا جائے۔ مگر دوسرے کی توہین تنقیص اور تشنیع سے پرہیز کیا جائے، دوسرے کی طرف سے اگر نامناسب طرز کلام پایا جائے تو بھی اپنی طرف سے سنجیدگی وحدود کی رعایت برقرار رکھی جائے۔

۳۔           جس فکر یا عقیدہ کو کوئی شخص گمراہی سمجھتا ہو لیکن ان کی بنیاد پر تکفیر کا قائل نہ ہو، ایسے فکر یا عقیدہ پر تنقید، اور جس فکر یا عقیدہ کو موجب کفر سمجھتا ہو اور اس کی بنیاد پر اس کے حاملین کو کافر قرار دیتا ہو اس پر تنقید، دونوں میں شرعی لحاظ سے فرق ہے۔

ایک موجب کفر ہے اور دوسرا موجب فسق وضلالت، لہذا دونوں پر تنقید کے شرعی آداب وحدود میں بھی فرق ہوگا۔

موجب کفر فکر وعقیدہ پر تنقید کے جو آداب ہیں وہ درج ذیل ہیں:

الف:حتی الامکان ان کو کافر کہنے سے گریز کیا جائے اور احتیاط سے کام لیا جائے۔

ب:دینی سماجی اور سیاسی مصالح وضروریات کی بنا پر ان کے ساتھ تعاون جائز ہوگا۔

ج:            مقصد صرف احقاق حق اور ابطالِ باطل ہو نفسانی اغراض اُس میں شامل نہ ہوں۔

د:            فریق مخالف کی حمیت وتعصب کو بھڑکانے کی کوشش نہ کی جائے۔

غیر موجب کفر فکر وعقیدہ کے حدود وآداب مندرجہ ذیل ہیں:

الف:اعتدال ورواداری کا اظہار ہو۔

ب:لہجہ میں خیر خواہی، نرمی ہو اور انداز ناصحانہ ہو، گفتگو تلخ وترش نہ ہو۔

ج:          کسی کی نیت پر حملہ نہ ہو۔

۴۔           اس وقت شیعہ سنی اختلافات تنازعات بھیانک شکل اختیار کرچکے ہیں اور ان کی بنیاد پر امت مسلمہ بدترین جنگ اور خونریزی میں مبتلا ہیں اور دشمنان اسلام نے منصوبہ بندی کرکے ہمارے ان اختلافات کو بھڑکا کر عالم اسلام میں تباہی مچا رکھی ہے۔ ایک فرقہ کے لوگ بے تحاشا دوسرے فرقے کے لوگوں کو قتل کررہے ہیں، اور اس کو کارِ ثواب سمجھنے لگے ہیں۔ اسلام اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ اور اس کو فساد فی الارض سے تعبیر کرتا ہے۔

اس لئے اس وقت عالم اسلام کے مختلف ملکوں میں شیعہ سنی آویزش جو شکل اختیار کرچکی ہے اس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اور اس خونریزی کو روکنے کے لئے مصالحتی کوششیں اور مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔

۵۔            دنیا کے جس کسی حصہ میں سنی اور شیعہ مشترک آبادیاں ہیں وہ پُرامن بقائے باہم کے ساتھ مشترکہ اقدار کی بنیاد پر زندگی گذاریں ایک دوسرے کی مقدس مذہبی شخصیت پر سب وشتم سے گریز کریں۔

باہمی منافرت اور جنگ وجدال کو روکنے کے لئے دونوں فرقوں کے علماء ومذہبی پیشواؤں کا اور اہل صلاح کا کلیدی کردار ہے۔ ممکنہ اسباب کے ذریعہ مصالحتی کوششیں اور مذاکرات بروئے کار لانے کی ان حضرات کی شرعی واخلاقی ذمہ داری ہے۔

تجاویز بابت: بین مذہبی مذاکرات – اصول وآداب

آج مورخہ ۷؍۲؍۲۰۱۶ء کو تجویز کمیٹی کی میٹنگ میں بین مذہبی مذاکرات اصول وآداب کے موضوع پر غوروخوض کے بعد مندرجہ ذیل تجاویز بہ اتفاق مرتب ہوئیں:

۱۔             مذہبی، سماجی اور سیاسی بنیادوں پر بین مذہبی مذاکرات کئے جاسکتے ہیں، بشرطیکہ ان مذاکرات سے مسلمانوں کے مذہبی تصورات وعقائد متاثر نہ ہوں، اور ان کو رواداری، پُرامن بقاء باہم، دعوت دین، غلط فہمیوں کے ازالہ اور سماجی وسیاسی مشکلات کے حل کے لئے استعمال کیا جائے۔

۲۔            مختلف مذاہب کے درمیان بعض قدریں مشترک ہیں، اس لئے مفید مقاصد کے لئے دیگر مذاہب کی کتابوں سے استفادہ اور حوالہ کی گنجائش ہے۔

۳۔           دیگر اہل مذاہب کے مذہبی رسوم واعمال میں شرکت جائز نہیں ہے۔

۴۔           ہم آہنگی برقرار رکھنے اور فتنہ وفساد سے بچنے کے لئے عام حالات میں ایسے مباح اعمال سے دست بردار ہونا درست نہیں جو مسلمانوں کی متوارث تہذیب کا حصہ ہیں۔

۵۔           عقیدۂ توحید ورسالت اقوام عالم کے سامنے پیش کرنا اور جملہ کفر وشرک کے رسوم واعمال سے براء ت کا اظہار کرنا مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے، البتہ اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ اظہار براء ت کے ایسے طریقے اور اسالیب اختیار نہ کیے جائیں جن سے دیگر اہل مذاہب کی دل آزاری ہو۔

۶۔           صحت مند انسانی معاشرہ کی تشکیل کے لئے مشترکہ سماجی مسائل جیسے غربت، کرپشن (بدعنوانی)، بے حیائی، عورتوں، مزدوروں اور سن رسیدہ افراد کے ساتھ زیادتی وغیرہ پر مختلف اہل مذاہب کے ساتھ مذاکرات وقت کی اہم ضرورت ہیں اور مسلمانوں کو اس میں حصہ لینا چاہئے۔

۷۔          مسلمانوں کے دینی، قومی اور اجتماعی مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں اور شخصیات کے ساتھ بہ وقت ضرورت شرعی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے مذاکرات کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔

۸۔           بین مذہبی مذاکرات کو ثمر آور بنانے کے سلسلہ میں درج ذیل اقدامات مفید ثابت ہوسکتے ہیں:

الف:مذاکرات کی صلاحیت کے حامل مسلم اسکالرس کا ایک وفاق بنایا جائے۔

ب:ہر صوبہ کے ممتاز دینی مدارس اور جامعات میں تقابلی مطالعۂ ادیان ومذاہب پر خصوصی توجہ دی جائے، اور اس کے لیے ایک خاص شعبہ قائم کیا جائے۔

ج:          ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں قائم مذاہب وادیان کے شعبوں سے مسلسل رابطہ رکھا جائے اور ان سے استفادہ کی بھرپور کوشش کی جائے۔

د:            مختلف ادیان ومذاہب کے رہنماؤں کا ایک متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے، جس کے اجتماعات وقتا فوقتاً ملک کے مختلف اہم علاقوں میں منعقد کیے جائیں۔

ہ:             ملک کی مختلف مذہبی تنظیموں اور اداروں سے براہ راست مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کے عملی اقدامات کیے جائیں۔

و:            مسلمانوں میں خدمت خلق کے رجحانات کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے، اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے رفاہی تنظیمیں (N.G.O)قائم کی جائیں اور اس غرض کے لیے قائم اداروں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے۔

مئی 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau