جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ

شعیب مرزا

ترجمان القرآن

سابق امیر جماعت مولانا سراج الحسن صاحب بیان کرتے ہیں: ابراہیم سعید نے امارت حلقہ کا چارج لینے کے بعد کرناٹک میں ہر مقام پر درس قرآن دیا، غیر مسلم بھائیوں کے لیے خاص طور سے ایک دن توحید، دوسرے دن رسالت اور تیسرے دن آخرت جیسے تین موضوعات پر ان کی تقریر ہوتی تھی۔ یہ ان کے دور امارت میں کئی سال ہوتا رہا۔ چک منگلور ایک جگہ ہے۔ وہاں درس قرآن کا ایک پروگرام رکھا گیا تھا۔ وہاں کے تمام رفقا برادران وطن میں دعوت پہنچا رہے تھے تو ایک سیشن جج صاحب جو اس وقت بر سرکار تھے، انھوں نے ملاقات کے دوران اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں نہایت سخت باتیں کہیں۔ رفقا ان کی باتیں بہت خاموشی اور صبر کے ساتھ سنتے رہے۔ اس وقت ہم نے کہا کہ آپ ہمارے پروگرام میں شرکت کریں۔ انھوں نے شرکت کا وعدہ کیا اور پروگرام میں تین دن مسلسل شریک رہے۔ آخری دن سیشن جج صاحب اسٹیج پر آئے اور سارے مجمع کے سامنے انھوں نے ابراہیم سعید کے پاؤں چھوا۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ جب بھی سنجیدہ برادران وطن کے سامنے بات آئی ہے یہی ہوا ہے۔ (جماعت اسلامی کے ٦٠ سال اکابر جماعت کی نظر میں، خصوصی شمارہ دعوت، ص ٨٣)

عشق بڑھتا رہا

مولانا سید عروج قادری کو جیل کی صعوبت بھی اٹھانی پڑی۔ کئی سال قبل زندگی کے ایک مضمون پر مقدمہ چلا۔ اس سلسلے میں دو ایک دن کے لیے مولانا کی گرفتاری عمل میں آئی۔ بعد میں ضمانت پر رہا ہو گئے۔ ایمرجنسی میں مولانا جماعت کے اور ارکان کے ساتھ جیل میں ڈال دیے گئے۔ مولانا کی استقامت میں اس سے کوئی فرق نہیں آیا۔ کئی ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوئے تو ‘‘حضرت یوسف قرآن کے آئینہ میں’’ اور نظموں کا مجموعہ ‘‘تحفہ زنداں’’ اپنے ساتھ لائے۔ ان نگارشات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسیری کے زمانے میں اس اللہ کے بندہ کے سینہ میں کیا جذبات موجزن تھے اور وہ کن کیفیات سے دو چار تھا۔ (زندگی نو، جولائی ۱۹۸٦)

مردِ قلندر

فضل الرحمن صاحب نے بتایا کہ یہ بہت پہلے کا واقعہ ہے جب مولانا شیخ عبد اللہ صاحب حلقہ مدراس (موجودہ تمل ناڈو) کے امیر تھے۔ مولانا ابواللیث صاحب نے تمل ناڈو کا ایک طوفانی دورہ کیا۔ موصوف نے مدراس، ویلور اور آمبور سمیت مختلف مقامات کا بے تکان سفر کیا۔ مولانا ارکان سے انفرادی ملاقات کرتے، انھیں اجتماعی طور پر خطاب فرماتے، اجتماعات اور معززین کی نشستوں میں شریک ہوتے اور ان ساری غیر معمولی مصروفیات کے دوران موصوف نے ایک دور دراز چھوٹے سے گاؤں میں شیخ عبد اللہ صاحب کی دعوت پر ان کے گھر ایک تقریب میں شرکت فرمائی۔ اس گاؤں اور آمبور کے درمیان بہت کم بسیں چلتی تھیں، لہذا مجبورًا لوگ بیل گاڑیوں کا بھی استعمال کرتے تھے۔ شیخ عبداللہ صاحب کے گھر کی تقریب ختم ہوتے ہی مولانا ابواللیث صاحب نے آمبور جانے کا فیصلہ کیا۔ چناں چہ سب لوگ سڑک پر پہنچ کر بس کا انتظار کرنے لگے لیکن نہ بس کا پتہ تھا نہ بیل گاڑی کا۔ لوگ بے حد پریشان ہوئے اس لیے کہ موسم میں بلا کی شدت تھی اور سورج آگ اگل رہا تھا۔ لہذا سب نے فیصلہ کیا کہ محترم امیر جماعت کو امیر حلقہ کے گھر واپس لے چلیں تا کہ سفر کا کوئی انتظام ہونے تک وہ آرام فرمالیں لیکن امیر جماعت نے آرام کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ ہر صورت میں سفر جاری رکھنا چاہتے تھے۔ لوگوں نے ان سے مشکلات کا ذکر کیا کہ اب دوسری بس چار گھنٹہ بعد آئے گی۔ سورج کی تپش غیر معمولی ہے اور بیل گاڑی تک موجود نہیں ہے، اس لیے سڑک پر کھڑے رہنا بے سود ہے۔ امیر جماعت نے بے حد سنجیدگی کے ساتھ مسکراتے ہوئے فرمایا: کوئی مسئلہ نہیں، چلئے چلتے ہیں۔ ان کے اس بے ساختہ جواب سے رفقا کو بڑی شرمندگی ہوئی۔ سب لوگ مولانا کو واپس لے چلنے کے لیے آمادہ کرنے کی غرض سے سوچ ہی رہے تھے کہ انھوں نے تیزی سے اگلی منزل کی طرف پیدل چلنا شروع کر دیا۔ رفقا بھی ان کے ساتھ چلنے پر مجبور تھے۔ امیر جماعت آگے آگے چل رہے تھے اور احباب ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کل ہند قائد تحریک کو گرد آلود سڑک پر سفر کرتے ہوئے دیکھ کر محو حیرت تھے۔ چند میل پیدل چلتے رہنے کے بعد ایک دو بیلوں کی گاڑی ملی۔ گاڑی طے کی گئی اور سفر جاری رہا۔ شیروانی میں ملبوس امیر جماعت مسرت انگیز انداز میں بیل گاڑی کی بلی تھامے مسکراتے ہوئے خموشی کے ساتھ سفر کرتے رہے، سفر، تا کہ پیغام پہنچے ! (انتظار نعیم، رہبر کارواں مولانا ابو اللیث اصلاحی ندویؒ، ص۱۴۴)

غیروں کی گواہی

میں مرکز جماعت میں ٹھہرا ہوا تھا۔ عصر کے بعد کا وقت تھا۔ جمعہ کا دن تھا۔ دلی کی مقامی انتظامیہ جن سنگھ کے ہاتھ میں زیادہ رہی اس وقت بھی تھی۔ تو جن سنگھ کے لوگ آئے، یہ بہت دل چسپ واقعہ ہے۔ وہ لوگ مولانا سے ملے، مولانا صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ جن سنگھ کے لوگوں نے کہا کہ مولانا ہم آئے ہیں ایک خاص کام کے لیے اور ایک خاص بات کے لیے۔ مولانا نے مسکرا کر پو چھا کہیے! دلی میں سب سے بڑا ادارہ ہے جہاں جانچ کرتے ہیں، ( میڈیکل انسٹی ٹیوٹ ؟)۔۔۔ جن سنگھ والوں نے کہا کہ ہمیں آج یہ اطلاع ملی ہے کہ مولانا ابواللیث صاحب وہاں گئے تھے۔ لائن میں کھڑے تھے، پہنچ نہیں پائے۔ ۱۱ بج گئے تو جمعہ کا خیال کر کے واپس آگئے۔ مولانا نے کہا جی ہاں خبر صحیح ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے سنا تو بہت افسوس ہوا تو ہم نظم کر کے آئے ہیں اور آپ کو اطلاع دینے آئے ہیں کہ کل آپ پھر تشریف لے جائیں اور بغیر نمبر کے آپ وہاں جائیں گے، ہم نے ایسا انتظام کر دیا ہے۔ بات ہوئی پھر چائے وغیرہ پی اور جانے لگے تو میری پرانی شرارت لوٹ آئی۔ میں نے کہا سنئے جناب آپ جن سنگھ کے ہیں اور رام راج چاہتے ہیں اور ابواللیث صاحب حکومت الہیہ چاہتے ہیں، کتنا فرق ہے کتنا بعد ہے؟ کتنی دوری ہے اور آپ نے اس درجہ اہتمام کیا ہے کہ یہ خبر سنی تو بڑا افسوس ہوا اور اہتمام کر کے اطلاع دینے آئے تو ایسا کیوں؟ کہنے لگے بھائی سنئے ! آپ نے تو بڑی ویسی بات کہی، مولانا ابواللیث بڑے شریف آدمی ہیں، بہت اچھے آدمی ہیں۔ ہمارے نزدیک ایک ہی کمی ہے کہ وہ جماعت اسلامی کے ہیں۔ (عبد الرحمن ناصر سے اداریہ رفیق منزل کے نامہ نگار کا انٹرویو سے ماخوذ، رہبر کارواں مولانا ابو اللیث اصلاحی ندویؒ، ص ۲۰۴-۱۰۵)

عوامی قائد

مرحوم نے ایک سال پہلے ضلع اعظم گڑھ میں تربیتی کیمپ لگایا تھا اور جماعت کے ہمدردان اُن کے ساتھ جس تندہی اور صالح جذبہ سے سماج سدھار کی اسکیم میں مشغول تھے اس سے کوئی دشمن بھی انکار نہیں کر سکتا۔ قصبہ بلریا گنج میں صفائی کا ہفتہ منایا جا رہا ہے تو سید صاحب سب سے پیش پیش کبھی اس گلی میں نالیاں صاف کر رہے ہیں، کبھی اُس گلی میں کوڑے کرکٹ اٹھوارہے ہیں، کبھی اجنبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مزاج پرسی کر رہے ہیں تو کبھی اپنے کارکنوں کو سمجھا رہے ہیں اور محلہ والے ہیں کہ کچھ تو شرم سے گھر کے اندر چھپے ہیں اور کچھ لپک کر مدد کر رہے ہیں لیکن ندامت سے جھکے جا رہے ہیں کہ اتنا معزز اور کریم آدمی آج ان کی نالیاں صاف کر رہا ہے۔۔۔۔ نہ اپنی آسائش کی فکر نہ اولاد کی فکر میں گم۔ کبھی کبھی کہہ بھی جاتے کہ میرے پاس رکھا ہی کیا ہے خدا کے دربار میں بخشش ہو جائے بس یہی خواہش ہے۔ (جاوید احمد خان، حیات نو، مولانا سید حامد حسین نمبر، دسمبر- جنوری، ۸۵-۸۶، ص۳۸)

ایسے ہوتا ہے نفس کے ساتھ مجاہدہ

چار سال پہلے بھیونڈی تشریف لائے ان کے ہم راہ جسٹس محمد رفیع الدین احمد انصاری صاحب اور پروفیسر سنگاست سین بھی موجود تھے۔ دو روز غریب خانے پر قیام فرمایا، آرام دہ بستر پر سونے سے انکار کر دیا اور صرف چٹائی پر استراحت فرمائی۔ پوچھنے پر بتایا کہ برسوں پہلے کہیں مہمان تھے اور آرام دہ بستر پر دوپہر میں لیٹ گئے نیند آگئی اور پروگرام میں نصف گھنٹہ دیر سے پہنچے۔ اسی روز سے آرام دہ بستر ترک کر دیا۔ صبح ناشتہ میں اور چیزوں کے علاوہ دودھ کا گلاس پیش کیا گیا مگر پینے سے انکار کر دیا، پتہ چلا کہ گھر کے بجٹ میں اس کی گنجائش نہیں ہے اسی لیے باہر بھی منظور نہیں ہے۔ پروفیسر سنگاست سین نے بھی کچھ عرصے بعد اسلام قبول کر لیا۔ (محمد ابراہیم انصاریؒ، حیات نو، مولانا سید حامد حسین نمبر، دسمبر- جنوری، ۸۵-۸۶، ص۸۹)

یتیم لڑکی کا باپ

ہمارے یہاں ایک یتیم لڑکی تھی بالکل لاوارث- اس کا رشتہ جن صاحب سے طے گیا گیا وہ بھی معاشی طور سے بہت پریشان اور بہت ہی تنگ دست تھے۔ میں خود تنہا دونوں کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لیے میرا ارادہ تھا کہ کچھ اصحاب خیر کو آمادہ کروں کہ اس کار خیر میں حصہ لیں تاکہ یہ کام بحسن و خوبی انجام پائے اور اس بچی کو اپنے یتیم اور لاوارث ہونے کا احساس نہ ہو۔ میں نے اپنی حد تک لوگوں کو اس پر متوجہ کیا۔ بلا شبہ بعض حضرات نے میری اپیل پر ضرور توجہ دی لیکن خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ عرسوں، جلسے جلوسوں اور شادی بیاہ کے غلط رسم و رواجوں پر بے تحاشا خرچ کرنے والی ملت نے اسے لائق اعتنا نہ سمجھا۔ شادی کے دن جوں جوں قریب آتے گئے۔ میری الجھن اور پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا۔ حسب معمول میں مولانا سید حامد حسین صاحب کے گھر ملاقات کے لیے گیا۔ مولانا نے محبت سے مجھے بٹھایا۔ چند ہی لمحوں بعد چائے کی پیالی بھی سامنے آگئی۔ مولانا نے میرے ذہن کی پریشانی کو بھانپ لیا اور مجھے سے میری پریشانی دریافت کی۔ تفصیل سے میں نے مولانا کو صورت حال بتائی۔ مولانا کی اہلیہ محترمہ جنھیں میں امی کہتا ہوں اور گھر کے دیگر افراد بھی پاس ہی موجود تھے۔ مولانا نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ اپنے چہرے پر پھیرتے ہوئے فرمایا۔ میاں اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ ایسا کرتے ہیں کہ میں لڑکی والا بن جاتا ہوں اور تم لڑکے والے بن جاؤ۔ اور اس طرح سے یہ کام ان شاء اللہ بحسن و خوبی جیسا تم چاہتے ہو انجام پا جائے گا۔ اور پھر مولانا نے اپنے لڑکوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ بھئی فلاں تاریخ کو تمھاری بہن کی شادی ہے اور تم لوگوں کو اس میں بھر پور حصہ لینا ہے اور پھر میں نے دیکھا کہ مولانا کے گھر اپنی دینی بیٹی اور بہن کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور شادی سے قبل ایک روز مولانا نے سامان کی ایک لسٹ میرے سامنے رکھ کر فرمایا، یہ سامان ہم نے تیار کر لیا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر مولانا کی عظمت اور ان کے اہل خانہ کی بڑائی کا احساس ہوا کہ انھوں نے واقعی ایک بیٹی کی طرح سامان کی فراہمی کی تھی اور پھر محترم مولانا نے اپنے قریبی اعزاء کو بھی اپنی بیٹی کی شادی میں باقاعدہ مدعو کیا اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ کام بحسن و خوبی انجام پایا۔ الحمد اللہ شادی کے بعد بھی اس نئے جوڑے سے مولانا کا تعلق بیٹی داماد کا رہا۔ (نسیم غازی، حیات نو، مولانا سید حامد حسین نمبر، دسمبر- جنوری، ۸۵-۸۶، ص۱۰۲)

بڑے لوگوں کی بڑی باتیں

ایک مرتبہ پچھم دروازہ میں جماعت اسلامی ہند پٹنہ کا ماہانہ اجتماع تھا اور اسی محلے کی دوسری مسجد میں جماعت اصلاح المسلمین (اہل حدیث ) کا ماہانہ اجتماع تھا۔ مولانا عبدالخبیر صاحب مرحوم اس وقت امیر جماعت اصلاح المسلمین تھے۔ ایک محلے میں دو مذہبی جماعت کا عوامی جلسہ ڈاکٹر صاحب کو اچھا نہیں لگا کہ دونوں جماعت کے لوگ اعلان کریں کہ بعد نماز مغرب خطاب عام ہے، آپ لوگ تشریف لائیے۔ ایک طرف اعلان ہو کہ ڈاکٹر ضیاء الہدی کی صاحب امیر جماعت اسلامی پٹنہ خطاب کریں گے اور دوسری طرف اعلان ہو کہ مولا نا عبدالخبیر صاحب امیر جماعت اصلاح المسلمین خطاب عام کریں گے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم مولانا عبد الخبیر صاحب کا بے حد احترام کرتے تھے۔ چناں چہ انھوں نے جماعت کی طرف سے تجویز بھیجی کہ خطاب عام ایک جگہ ہو۔ ہم لوگ اسی مسجد میں آجائیں جہاں اہل حدیث حضرات کا اجتماع ہورہا ہے یا وہ لوگ آجائیں۔ مولانا عبد الخبیر صاحب مرحوم نے تجویز منظور کی اور خود اس مسجد میں آئے جہاں جماعت اسلامی کا اجتماع ہو رہا تھا۔ اجتماع کا پروگرام بعد نماز مغرب ساتھ ساتھ ہوا۔ ڈاکٹر ضیاء الہدی صاحب نے پہلے تقریر کی بعد میں مولانا عبدالخبیر صاحب نے۔ دونوں میں ادب و احترام کا ایسا رشتہ، جو واقعی دین میں مطلوب ہے، میں نے اس دن دیکھا۔(حسن رضا،نذر ضیاء الہدیؒ، ص۲۲)

ستمبر 2023

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau