Opens in a new tab

رسائل و مسائل

کیا بے ہوشی کے بعد غسل ضروری ہے؟

سوال: آدمی کے بے ہوش ہونے سے صرف حدثِ اصغر لازم آتا ہے؟ یا حدثِ اکبر بھی؟ یعنی ہوش میں آنے کے بعد آدمی کا نماز پڑھنے کے لیے صرف وضو کرلینا کافی ہے؟ یا غسل بھی واجب ہوجاتا ہے؟

جواب : بے ہوشی کی حالت میں صرف حدثِ اصغر لاحق ہوتا ہے ، حدثِ اکبر لازم نہیں آتا –

فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بے ہوشی ، جنون (پاگل پن) یا نشے کی وجہ سے عقل زائل ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، چاہے بے ہوشی کتنی ہی مختصر وقت کے لیے کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بے ہوشی نیند سے زیادہ گہری اور قوی ہوتی ہے – چوں کہ گہری نیند سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے بے ہوشی سے بھی وضو ختم ہو جاتا ہے۔

لہٰذا اگر کوئی شخص بیہوش ہوگیا اور پھر اسے ہوش آگیا تو صرف بے ہوش ہونے کی وجہ سے اس پر غسل واجب نہیں ہوگا – ہاں، نماز ادا کرنے کے لیے اسے وضو کرنا ہوگا ۔

البتہ اگر بے ہوشی سے پہلے یا دورانِ بے ہوشی منی خارج ہونے کا یقین ہو تو غسل واجب ہوگا، کیوں کہ اس صورت میں جنابت لاحق ہوئی ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی دوسرا سببِ غسل (مثلاً احتلام کے ساتھ منی کا خارج ہونا) پایا جائے تو بھی غسل واجب ہوگا ۔

فقہِ حنفی میں زوالِ عقل (بے ہوشی ، جنون ، نشہ وغیرہ) وضو توڑنے والے اسباب میں سے ہے ، لیکن اس سے بہ ذاتِ خود جنابت لازم نہیں آتی ۔

حجرِ اسود کے استلام کے بعد ہاتھ چوٗمنا

سوال :کیا طواف کے دوران حجرِ اسود کا استلام کرنے کے بعد ہاتھوں کو چوٗم سکتے ہیں؟

جواب :اگر حجرِ اسود کو بہ راہِ راست ہاتھ لگایا تو ہاتھ کو چومنا مسنون ہے ۔ حضرت ابن عمرؓ سے نبی ﷺ کا یہی عمل منقول ہے۔ انھوں نے فرمایا ہے :

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُ يَدَهُ (بخاري :١٦١١، مسلم : ١٢٦٨)

”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ حجرِ اسود کا استلام کرتے ، پھر اپنے ہاتھ کو چوٗمتے تھے ۔“

اگر بھیڑ کی وجہ سے حجرِ اسود کو براہِ راست چھوٗنا ممکن نہ ہو اور اشارہ کرکے استلام کیا جائے تو حنفی فقہ کے مطابق اشارے کے بعد ہاتھ کو چوٗمنا ضروری نہیں ، بلکہ بعض فقہاء نے اس صورت میں ہاتھ چوٗمنے کو پسند نہیں کیا ہے ، کیوں کہ حجرِ اسود کو ہاتھ سے چھوٗا ہی نہیں ۔

ایک بات یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ لوگوں کو تکلیف پہنچا کر حجرِ اسود تک پہنچنا اور اسے ہاتھ سے چھوٗنے کی کوشش کرنا درست نہیں ۔ اگر بھیڑ ہو تو دوٗر سے اشارہ کرنا بہتر ہے ۔

برادرِ نسبتی کی بیٹی سے نکاح

سوال :کیا کوئی شخص اپنے برادر نسبتی (سالے) کی بیٹی سے نکاح کر سکتا ہے؟

جواب :اگر کوئی شخص اپنے برادر نسبتی (سالے) کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو شرعاً اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے ، بہ شرطے کہ حرمتِ نکاح کی کوئی دوسری وجہ موجود نہ ہو ۔

اس لیے کہ برادرِ نسبتی کی بیٹی انسان کے لیے محرماتِ ابدیہ میں شامل نہیں ہے ، بلکہ وہ غیر محرم ہے،  اس لیے اس سے نکاح جائز ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے سورۂ نساء میں جن عورتوں سے نکاح حرام قرار دیا ہے ان میں بیوی کے بھائی کی بیٹی شامل نہیں ہے۔ (آیت 23)

البتہ اگر حرمت کی کوئی دوسری وجہ موجود ہے تو نکاح جائز نہیں ہوگا ، مثلاً اگر اس شخص کے نکاح میں اس لڑکی کی پھوپھی یا خالہ موجود ہو تو اس صورت میں اس سے نکاح کرنا درست نہ ہوگا ، اس لیے کہ بیوی اور اس کی بھتیجی یا بھانجی کو بہ یک وقت نکاح میں رکھنا جائز نہیں ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ (النساء: 23)

” اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرو ۔ “

اسی طرح احادیث میں عورت اور اس کی پھوپھی یا خالہ کو بہ یک وقت نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت آئی ہے۔

لڑکی کے لیے سونا خاص کردیا تو اس پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟

سوال :عورت نے کچھ سونا اپنی بچی کے نام کردیا ہے – کیا اب بھی اس کی زکوٰۃ عورت کو ادا کرنی ہے ، یا جب وہ بچی بالغ ہوگی تب وہ خود ہی ہی ادا کرے گی ، بالغ ہونے سے پہلے اس پر زکوٰۃ نہیں ۔

جواب :اگر عورت نے واقعی کچھ سونا اپنی نابالغ بچی کی ملکیت میں دے دیا ہے ، یعنی ہبہ کرکے قبضہ بھی بچی کو دے دیا ہے تو فقہ حنفی کے مطابق نابالغ بچی کے ذاتی سونے پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ، اس لیے اس کی ماں پر بھی اس سونے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ۔

جب وہ بچی بالغ ہوجائے تو اگر اس کے پاس وہ سونا یا اس کے ساتھ ملاکر کوئی دوسرا مال نصاب کو پہنچتا ہو تو اس پر زکوٰۃ کے احکام جاری ہوں گے ۔

اگر عورت نے صرف یہ کہہ دیا ہو کہ ’’یہ سونا میری بچی کا ہے‘‘، لیکن شرعی طور پر ہبہ مکمل نہیں ہوا ہو اور ملکیت ابھی ماں ہی کی ہے ، تو اس کی زکوٰۃ ماں پر واجب ہوگی۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

رسائل و مسائل

حالیہ شمارے

اکتوبر 2026

شمارہ پڑھیں

ستمبر 2026

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 500 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223