معیار

’’معیار‘‘ ایک مقررہ پیمانہ، مسلمہ اصول، یا ایسا مستند مرکز ہوتا ہے جس کے مطابق دیگر اشیا کو پرکھا، ناپا، یا جانچا جاتا ہے، یہ استقامت، یگانگت، اور اعتبار کا مظہر ہوتا ہے، خواہ وہ وقت ہو، وزن، پیمائش، یا اخلاقی اصول، معیار ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، اور تمام دیگر اشیا اسی سے ہم آہنگ کی جاتی ہیں، معیار کی اصل روح اس کی وحدانیت میں ہے، وہ ایک ہی ہوتا ہے، ثابت و مستحکم، اور مرجع و مرکز۔

یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ انسانی ذہن نے فطری طور پر ہر چیز کے لیے ایک محور، ایک مرکز، ایک مستقل اور یکساں نقطۂ حوالہ کی جستجو کی، فطرت نے خود یہ درس دیا کہ اگر دریا کے بہاؤ میں کوئی سمت نہ ہو، تو پانی بھی کیچڑ بن جائے، اور اگر ستارے اپنی راہ چھوڑ دیں، تو قافلے بھٹک جائیں، یہی حال زندگی کا ہے، اس کے تمام شعبے اسی مرکزیت کے محتاج ہیں، جسے ہم ’’معیار‘‘ کہتے ہیں۔

معیار محض ایک مشورہ یا رہ نمائی نہیں، بلکہ ایک قطعی و حتمی نمونہ ہوتا ہے، مثال کے طور پر معیاری وقت کو لیجیے، دنیا بھر میں مختلف ممالک، ادارے، اور معاشرے اپنے اوقات کو ایک مرکزی معیار جیسے گرین وچ مین ٹائم (GMT)یا مربوط عالمی وقت (UTC)کے مطابق ترتیب دیتے ہیں، یہ معیار وقت کسی مقامی گھڑی سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ تمام گھڑیاں خود کو اسی کے مطابق ڈھالتی ہیں، یہی معیار کی اصل پہچان ہے۔ وہ رہ نمائی کرتا ہے، تابع نہیں ہوتا، یہ وہی اصول ہے جس کی بنیاد پر ریل گاڑیاں روانہ ہوتی ہیں، ہوائی جہاز فضا میں بلند ہوتے ہیں، اور عالمی منڈیاں اپنے سود و زیاں کا حساب رکھتی ہیں۔ اگر یہ ایک ساعت کا اختلاف بھی برداشت کریں، تو نہ صرف تجارت بلکہ تہذیب کا سارا تانا بانا بکھر جائے۔

اسی طرح معیاری اوزان و پیمائش بھی اسی اصول پر قائم ہیں، جب ہم ’’ایک کلوگرام‘‘ کہتے ہیں، تو ہمارا اشارہ ایک مخصوص اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ وزن کی طرف ہوتا ہے، اسی معیار کے مطابق تمام ترازو درست کیے جاتے ہیں، کسی تاجر کا ترازو اسی وقت قابلِ قبول سمجھا جائے گا جب وہ اس معیاری کلوگرام کے مطابق تولتا ہو، ورنہ اس کے ترازو میں خیانت ہو گی اور اس کا سودا باطل، بعینہٖ، ’’ایک میٹر‘‘ کا مطلب ہر فرد کی سوچ یا قیاس پر موقوف نہیں، بلکہ وہ ایک طے شدہ سائنسی تعریف پر مبنی ہے جو روشنی کی رفتار سے متعلق ہے، ہر فیتہ، ترازو، یا نقشہ اسی ایک پیمانے کا پابند ہے، اگر ایک انجینئر اپنے انداز سے ایک میٹر کو ناپے اور دوسرا اپنے خیال سے، تو کوئی پل سلامت نہ بن سکے، کوئی عمارت قائم نہ رہ سکے۔ یہی وہ معیارات ہیں جنھوں نے سائنس کو، فنِ تعمیر کو، اور تمام صنعتی ترقی کو ممکن بنایا۔

اگر دنیا میں مختلف معیار رائج ہوں، تو زندگی کا نظام انتشار کا شکار ہو جائے، تصور کیجیے کہ اگر ہر شہر یا ہر ملک ’’کلوگرام‘‘ یا ’’گھنٹہ‘‘ کی اپنی تعریف رکھتا، تو تجارت، سائنس، اور روزمرہ زندگی میں نہ صرف دشواریاں جنم لیتیں بلکہ افراتفری عام ہو جاتی، کوئی کشتی وقت پر نہ پہنچتی، کوئی سامان درست وزن سے نہ تلتا، اور ہر طرف بے ترتیبی کا راج ہوتا، معیار کی وحدت ہی ہم آہنگی اور تفہیم کو ممکن بناتی ہے، یہی وحدت منصفانہ لین دین، دقیق سائنسی تجربات، اور مربوط عالمی سرگرمیوں کی بنیاد ہے، یہ وحدت وہی ہے جو ایک بینک کے کھاتے میں داخل ایک عدد کو عالمی بازار میں با اعتبار بناتی ہے، جو ایک عالمی معاہدے کی شق کو تمام قوموں کے لیے یکساں معنی میں قابلِ فہم بناتی ہے۔

معیار صرف مادی پیمائشوں تک محدود نہیں، زبان میں بھی معیار ہوتے ہیں، جیسے قواعد و املا، جو تفہیم کو ممکن بناتے ہیں، اگر ہر مصنف یا ہر قوم اپنی زبان کو اپنی مرضی سے ڈھالے، تو مکالمہ ناممکن ہو جائے، ہم دیکھتے ہیں کہ عربی زبان میں ’’نحو‘‘ نے اور فارسی و اردو میں ’’قواعد‘‘ نے زبان کو ایک مرکزیت دی، جس کی بدولت صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی الفاظ کی صورت اور معنوں میں یکسانیت باقی رہی۔

اخلاقیات میں بھی معاشرے ہمیشہ کسی ایسے معیار کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جس کے ذریعے حق و باطل، عدل و ظلم، اور خیر و شر میں تمیز ممکن ہو، اگر نیکی اور بدی کی تعریف ہر فرد کے ذاتی جذبات، وقتی مفادات، یا انفرادی ترجیحات پر چھوڑ دی جائے، تو ظلم بھی انصاف کا لباس پہن لے، اور فریب بھی تدبیر کہلانے لگے، دینِ اسلام نے اخلاقی معیارات کو نہ صرف واضح کیا، بلکہ ان میں ایسا دوام اور ثبات بخشا جو نہ زمانوں کے تغیر سے بدلتا ہے، نہ قوموں کے اختلاف سے متأثر ہوتا ہے۔ اور ہر عہد کے نبی کو اسی معیار کا امام مقرر کیا گیا، ان کی بعثت اسی لیے ہوئی کہ انسانیت کو ایک واضح اور قطعی اخلاقی میزان عطا ہو۔ انبیا كے اصحاب ومتبعین کی سیرتیں اسی معیار کی روشنی میں ترتیب پاتی ہیں، وہ خود معیار نہیں بن جاتیں، بلکہ اس معصوم معیار ومیزان کی حتى الامكان عملی تعبیر، تطبیقى ترجمان اور ظاہری تمثیل ہوتی ہیں۔

تعلیم میں بھی معیارات متعین کیے جاتے ہیں جن کے مطابق طلبہ کی قابلیت کو پرکھا جاتا ہے۔ امتحانات کے پرچے، نصاب کی حد بندی، اور نتائج کی درجہ بندی، سب اسی اصول پر قائم ہیں کہ کوئی معیاری سطح ہو جس سے ناپا جا سکے کہ طالبعلم نے کتنا سیکھا، کتنا سمجھا، اور کس درجہ پر کھڑا ہے، حتیٰ کہ فن، ہنر، اور حسن کے باب میں بھی ایک مخصوص ’’معیارِ جمال‘‘ یا ’’کمالِ فن‘‘ تسلیم کیا جاتا ہے، ہر مصور، ہر معمار، ہر خوشنویس جانتا ہے کہ اس کے فن کو پرکھنے والے آنکھیں کسی خاص پیمانے سے دیکھتی ہیں، وہی پیمانہ جسے وقت نے آزمایا، اور ذوقِ انسانی نے تسلیم کیا۔

البتہ، ان غیر مادی یا سماجی معیارات میں وقت اور تمدن کے ساتھ تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم، ہر مخصوص سیاق و سباق میں یہ بھی ایک مسلمہ معیار کا درجہ رکھتے ہیں، جیسے زبان کے قواعد وقت کے ساتھ بدلے، مگر ہر دور میں ان کے اندر ایک قائم و دائم مرکز ضرور رہا۔ جیسے اخلاقی تصورات زمان و مکان کے اثرات سے بدلتے رہے، مگر ہر قوم نے کچھ بنیادی اصولوں کو معیار کا درجہ دیا۔ یہ تسلسل ہی انسانی تہذیب کا رشتہ ہے جو ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کو جوڑتا ہے۔

فکری و فلسفیانہ سطح پر، ’’معیار‘‘ کا مطلب ایک ایسے مثالی نمونے سے ہوتا ہے جو غیر متغیر، مستقل، اور درست ہو، یہ نہ عوامی رائے سے بدلتا ہے، نہ وقتی رجحانات سے۔ یہ ایسا مرکز ہے جو ہر شے کو سمت عطا کرتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت ’’فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ‘‘ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ راہِ حق کا معیار اللہ کے حکم سے معین ہے، نہ کہ انسان کی خواہش سے۔ اس طرح معیار کا تصور صرف عملی ہی نہیں بلکہ علامتی حیثیت بھی رکھتا ہے، عملی طور پر، یہ نظام کو قائم رکھتا ہے؛ علامتی طور پر، یہ صداقت، ترتیب، اور اصول کی نمائندگی کرتا ہے، اور جب ایک قوم اپنے معیارات کو باوقار رکھتی ہے، تو وہ علم میں ترقی کرتی ہے، اخلاق میں بلندی پاتی ہے، اور تمدن میں پائیداری اختیار کرتی ہے۔ جس دن اس نے معیار کو چھوڑا، اُسی دن اس کے قافلے نے راستہ گم کر دیا۔

چاہے وقت ہو، وزن، پیمائش، یا اخلاقی اصول، ’’معیار‘‘ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔ وہ نہ متعدد ہوتا ہے، نہ مبہم، بلکہ ایک ایسا محور ہوتا ہے جس کے گرد سب کچھ گردش کرتا ہے۔ اس کی اصل قوت اس کی وحدانیت اور مرجعیت میں ہے۔ جیسے جیسے دنیا باہم مربوط اور پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، معیارات کی اہمیت اور بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی خاموش لیکن بنیاد رکھنے والے عناصر ہیں جو ہمارے مشترکہ جہان کو منظم، منصف، اور دقیق بناتے ہیں۔ وہ آفتابِ صداقت ہیں جن کے بغیر زندگی کی وادی تاریک ہے، اور تمدن کی فصیل غیر محفوظ۔ پس لازم ہے کہ ہم معیار کو نہ صرف پہچانیں، بلکہ اسے اپنائیں، قائم رکھیں، اور اس کی روشنی سے اپنے راستے منور کریں۔

مشمولہ: شمارہ ستمبر 2025

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2025

شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223