نقد و تبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

اسلام اور مشکلاتِ حیات

مصنف:    مولاناسید جلال الدین عمری

صفحات:    ۴۸          ٭           قیمت:       20/-روپے ﴿عام ایڈیشن﴾25/- ﴿خاص ایڈیشن﴾

ناشر:        مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی-۱۱۰۰۲۵

اس دنیا میں کسی بھی انسان کی زندگی یکساں حالت پر قائم نہیں رہتی۔ اس کا سابقہ صحت ومرض اور آسائش و تنگی کی متضاد حالتوں سے پڑتا رہتا ہے۔ اس پر مسرت کے ایّام بھی آتے ہیں اور وہ صدمے سے بھی دوچار ہوتاہے۔ کبھی وہ راحتوں سے شاد کام ہوتاہے تو کبھی مشکلات کے بھنور میں گھِرجاتاہے۔ بہت سے لوگ ہیں جو دنیوی آسائشوں اور لذّتوں میں بدمست ہوکر خدا کو بھول جاتے ہیںاور کسی مصیبت یا پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں تو صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے چھوٹ جاتاہے اور وہ خودکشی تک کربیٹھتے ہیں۔ کوئی شخص کسی مشکل یا پریشانی سے دوچار ہوتو وہ کیا کرے؟ یہ مسئلہ ہمیشہ سے رہاہے لیکن موجودہ دور کی مادیت پرستی اور اخلاقی اور سماجی بحران نے اسے زیادہ سنگین بنادیا ہے۔ دنیا کے مفکرین اور سماجی مصلحین اس کو حل کرنے میں سرگرداں ہیں، لیکن انھیں کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر خودکشی کا گراف بڑھتا جارہاہے اور اس کو روکنے کی تمام تدابیر ناکام ہورہی ہیں۔

مولانا سید جلال الدین عمری موجودہ دور کے ان ممتاز مسلم مفکرین میں سے ہیں، جن کی بیش تر تصانیف عصر حاضر کے اہم سماجی مسائل سے بحث کرتی ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کامسئلہ ہو یا حقوقِ نسواں کا، صحت و مرض اور علاج معالجے کے جدید مسائل ہوں یا خدمتِ خلق اور رفاہی خدمات کے۔ مولانا نے ان سب کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایاہے اور ان میں اسلام کی رہ نمائی پیش کی ہے۔ زیرنظر کتاب بھی ایک اہم سماجی مسئلے سے بحث کرتی ہے۔ یہ کتاب دو دہائی قبل ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی علی گڑھ سے شائع ہوئی تھی۔اس کے دو ایڈیشن شائع ہوئے تھے۔ اب مصنف کی نظرثانی کے بعداس کا تیسرا ایڈیشن مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب میں واضح کیاگیا ہے کہ مصائب و مشکلات اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہیں۔ اس کے نافرمان بندے بھی ان کا شکار ہوتے ہیں اور مومن بندوں کو بھی ان سے واسطہ پڑتاہے۔ اس لیے نہ دنیوی آسائش اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے اور نہ ابتلائ و آزمائش اس کی ناراضی کا ثبوت۔ اس معاملے میں راہِ اعتدال کی نشان دہی کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ مصائب کو دعوت دینا بھی غلط ہے اور ان سے گھبراکر موت کی تمنا کرنا یا خودکشی کربیٹھنا بھی غلط ہے۔ آگے تفصیل سے اس موضوع پر بحث کی گئی ہے کہ ایک مسلمان مشکلات سے دوچار ہوتو وہ کیا کرے؟ اس سلسلے میں صبر کی اہمیت واضح کی گئی ہے اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ کتاب دوپہلووں سے اہمیت کی حامل ہے۔ ایک یہ کہ اس کی تمام بحثیں آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی سے مدلل ہیں۔ مصنف نے اپنی ہر بات کی تائید میں قرآن کی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پیش کئے ہیں۔ دوسری خوبی اس کی سلاست اور ادبی چاشنی ہے۔ مصنف نے اس خالص فلسفیانہ اور نفسیاتی مسئلے پر ایسے شستہ اور رواں اسلوب میں بحث کی ہے کہ بغیر کسی تکلف کے قاری پڑھتاچلاجاتاہے اور کتاب ختم کرنے سے پہلے کہیں نہیں رکتا۔

ضرورت ہے کہ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ عام کیاجائے، تاکہ رنج والم کے مارے انسانوں کو اپنے دکھوں کا درماں مل سکے اور وہ ذہنی اذیتوں سے نجات پاکر سکون واطمینان کی دولت سے بہرہ ور ہوسکیں۔

﴿ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی﴾

٭

اقبال اور آلٰہ آباد

مصنف:    پروفیسر علی احمد فاطمی

صفحات:    ۲۴۰        ٭           قیمت:       ۲۵۰ روپے

ناشر:        ادارہ نیا سفر، ۶۸، مرزا غالب روڈ، الٰہ آباد، یوپی

جناب علی احمد فاطمی اُردو کے سرگرم وفعال اہلِ قلم ہیں۔ وہ الٰہ آباد یونی ورسٹی میں شعبۂ اردو کے پروفیسرہیں اور اس کے صدارت کے منصب پر بھی فائز رہے ہیں، لیکن انھوں نے اِس پر قناعت نہیں کی، بل کہ انھوں نے محنت و مطالعہ کو وسیلہ بناکر اُردو ادب و دانش وری کے موجودہ منظرنامے پر اپنی ایک پہچان بنالی ہے۔ اُن کے ادبی و تنقیدی مضامین آئے دن نگاہ سے گزرتے رہتے ہیں۔ ان سے ان کی دانش ورانہ بصیرت اور جذبۂ تلاش وجستجو کا اندازہ ہوتاہے۔ زیرِ نظر کتاب ’’اقبال اور الٰہ آباد‘‘ بھی اِسی سلسلے کی ایک مضبوط کڑی ہے۔

’’اقبال اور الٰہ آباد‘‘ پروفیسر علی احمد فاطمی کی کوئی مستقل تصنیف نہیں،بل کہ ان کے ان مضامین کامجموعہ ہے، جو وہ اقبال کے فکر اور فن کو موضوع بناکر لکھتے رہے ہیں۔ ان میں بعض مضامین تو وہ ہیں، جو کسی سمی نار یا ادبی مجلس کے لیے لکھے گئے تھے اور بعض وہ جو انھوں نے موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر لکھے۔ مصنف کے قول کے مطابق اِن میں غالب تعداد اُن مضامین کی ہے، جو انھوں نے جامعہ کشمیر کے سمی ناروں یا علمی مذاکروں کے لیے لکھے تھے۔ عناوین اِس طرح ہیں:اقبال اور الٰہ آباد، خطبۂ الٰہ آباد: ایک تجزیہ، اقبال کی عصری معنویت، اقبال کی آفاقیت پر چند باتیں، اقبال کی مقامیت پر چند باتیں، آل احمد سرور کی اقبال شناسی، محمد علی صدیقی بہ حیثیت اقبال شناس، اقبال کی نظم: والدۂ مرحومہ کی یاد میں، لینن خدا کے حضور میں- ایک تجزیہ، اقبال اور سردار کے فکری و تخلیقی رشتے، علّامہ اقبال پر فراق کا ایک مضمون اور اقبال پر چند نئی کتابیں۔

کتاب کاپہلا مضمون علاّمہ اقبال کے الٰہ آباد میں ورودِ مسعود سے متعلق ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا عنوان ’’اقبال اور الٰہ آباد‘‘ رکھاگیاہے اور کتاب کا نام بھی اِسی کو قرار دیاگیا ہے۔ یہ ایک اہم اور قابل مطالعہ مضمون ہے۔ علی احمد فاطمی نے اس کی تصنیف میں غیرمعمولی تحقیق اور تفحص سے کام لیا ہے۔ اِس مضمون سے یہ بات پہلی بار سامنے آئی کہ علاّمہ اقبالؒ نے چار بار الٰہ آباد کو اپنے قدومِ میمنت لزوم سے عزت بخشی ہے۔ دوبار ۳۱۹۱ میں تشریف لائے، ایک بار ۰۲۹۱ میں اور چوتھی اورآخری بار ۰۳۹۱ میں۔ اقبال کی الٰہ آباد کی چوتھی بار کی تشریف آوری کو مصنف نے تاریخی حیثیت سے دیکھاہے۔ اس لیے کہ اِس بار وہ مسلم لیگ کی دعوت پر الٰہ آباد تشریف لائے تھے اور اِسی سفر میں ایک بڑے جلسے میں اقبال نے وہ خطبہ پیش کیاتھا، جس میں بعض لوگوں کے خیال کے مطابق علّامہ اقبال نے پہلی بار اسلامی ریاست کا بہ الفاظ دیگر نظریہ پاکستان پیش کیاتھا۔ ہمارے کچھ برخودغلط قسم کے دانش ور تو اِسی خطبے کو بنیاد بناکر اقبال کو فرقہ پرست بھی قرار دینے کی جرأت کربیٹھتے ہیں۔ آل احمد سرور کی یہ بات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے کہ جس برادری یا فرقے نے اقبال کو سب کچھ دیا اور جس سے ان کی سیرت و شخصیت، ان کے مزاج، ان کے تشخص اور اُن کے کردار کی تشکیل ہوئی ہے، اس کی اِصلاح و فلاح کے لیے کچھ سوچنا یا کرنا اگرفرقہ پرستی ہے تو سرسید، شبلی، محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد اور شیرکشمیر بھی فرقہ پرست تھے۔ اِس لیے کہ ان سب نے اپنی ملت کے لیے کچھ سوچا اور کیا ہے۔ دراصل بہ قولِ مصنف کچھ لوگ اقبال کو اقبال کے حوالے سے کم اور اپنے حوالے سے زیادہ دیکھنا چاہتے ہیں۔

’’اقبال اور الٰہ آباد‘‘ میں ایک مضمون ’’اقبال پر فراق کا ایک مضمون‘‘ کے عنوان سے بھی ہے۔ علی احمد فاطمی نے فراق کی شاعرانہ اہمیت کو تسلیم کرتے ہوے اقبال کے تئیں فراق کے رویے پر اظہار تاسف کیاہے اور لکھاہیکہ ’’ایک بار میں نے اُنھیں ﴿فراق صاحب کو﴾ یونی ورسٹی کے جلسے میں بہ طورِ مہمان خصوصی مدعو کیا۔ پندرہ اگست کی تقریب تھی۔ جب میں فراق صاحب کو لے کر یونی ورسٹی کے احاطے میں داخل ہوا تو یوم آزادی کی مناسبت سے سے اقبال کانغمہ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ لائوڈ اسپیکر پر بج رہاتھا۔ فراق صاحب نے اُسے سنتے ہی عجیب سا مُنہ بنایا اور پھر اپنی تقریر کا آغاز یوں کیا:

’’سچ بات یہ ہے کہ ہندوستان سارے جہاں سے اچھا ہرگز نہیں ہے۔ اگر یہ اچھا ہے تو پھر بُرا کون ہوگا۔ یہ وہ ملک ہے جہاں جمہوریت قے کررہی ہے۔ ہم کو اسی طرح کے سستے قومی جذبات نے ماررکھا ہے۔ جن کو کائنات کی فکر نہیں، اُن کو وطن پرستی کاہیضہ ہوجاتا ہے۔‘‘ ﴿ص:۱۰۳﴾

علی احمد فاطمی نے اپنے اِس مضمون میں فراق گورکھپوری کے اُس مضمون پر گفتگو کی ہے، جو ۱۹۷۷ میں ماہ نامہ ’’آج کل‘‘ دلّی کے اقبال نمبر میں ’’اقبال کے متعلق خوش فہمیاں‘‘ کے عنوان سے شائع ہواتھا۔ پھر یہی مضمون ۰۸۹۱ میں بلراج ورما کے رسالے ’’تناظر‘‘ میں شائع ہواتھا۔ ستر کی دہائی کے بالکل اوائل میں فراق کا ایک مضمون کلکتے کے اخبار ’’آبشار‘‘ میں بھی شائع ہواتھا، جس میں فراق نے اقبال سے متعلق نہایت غیرذمّے دارانہ اور سطحی گفتگو کی تھی۔ مولانا عامرعثمانیؒ نے اپنے مشہور رسالے ماہ نامہ تجلّی دیوبند میں اس پر بڑی تفصیلی گفتگو کی تھی۔ اس مضمون کو پڑھنے کے بعد فراق بالکل طفلِ مکتب نظرآرہے تھے۔ ہوسکتاہے کہ یہ وہی مضمون ہو، جو ۷۷۹۱ میں ’’آج کل‘‘ اور ۱۹۸۰میں ’’تناظر‘‘ میں شائع ہوا۔ علی احمد فاطمی نے اپنے اِس مضمون میں فراق کے متذکرہ مضمون کانہایت بصیرت اور ذمّے داری کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور شیخ غلام ہمدانی مصحفی امروہوی، غالب اور حالی پر فراق کے سطحی اور غیرذمّے دارانہ ریمارکس کاتذکرہ کرتے ہوئے انھوںنے لکھاہے کہ فراق کی سوچ میں نفسیاتی پیچیدگی ملتی ہے۔ خودنگری اور خوپرستی کے عناصر ان کے ہاں نمایاں طورپر ملتے ہیں۔ یہ عناصر ان کے ہاں ذاتی زندگی میں بھی ملتے ہیں اور ادبی و شاعرانہ زندگی میں بھی۔

’’اقبال اور الٰہ آباد‘‘ میں آخری مضمون اقبال پر چند کتابیں کے عنوان سے ہے۔ اِس ذیل میںپروفیسرعبدالحق کی کتاب ’’اقبال: شاعرِ رنگیں نوا‘‘ ڈاکٹر تقی عابدی کی ’’چوں مرگ آید‘‘ پروفیسر بشیر احمد نحوی کی ’’اقبال: عرفان کی آواز‘‘ ڈاکٹر نذیر احمد شیخ کی ’’اقبال اور سوشلزم‘‘ اور ڈاکٹر توقیر احمد خاں کی ’’جہاںِ اقبال‘‘ کاعالمانہ مطالعہ کیاگیاہے۔ پروفیسر علی احمد فاطمی نے ’’اقبال: شاعررنگیں نوا‘‘ کے حوالے سے پروفیسر عبدالحق کا یہ بڑا معنی خیز بیان نقل کیا ہے:

’’حالی صرف اقبال ہی کے نہیں، بل کہ ہماری سخن وری اور سخن شناسی کے بھی پیش رو ہیں۔ اقبال نے حالی کے تصورات کو تنوع و توسیع دے کر ہمارے شعور و فکر کو گراں بار کیاہے۔‘‘

اِسے علی احمد فاطمی نے ’’خراج عقیدت‘‘ سے تعبیر کیاہے، لیکن میری حقیر راے میں یہ ایک بڑی حقیقت کا اعلان ہے۔ علی احمد فاطمی کا یہ مضمون گرچہ اقبال سے متعلق پانچ کتابوں کے تجزیاتی مطالعے پر مشتمل ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقبال فہمی کے ذیل میں اس سے کئی ابواب وا ہوتے ہیں۔

بلاشبہ ’’اقبال اور الٰہ آباد‘‘ ایک معلومات افزا اور بصیرت افروز کتاب ہے۔ اِس سے مصنف کی وسعتِ نظر کا بھی پتا چلتاہے اور اصابت راے کا بھی اور علم، مطالعے اور زاویہ نظر کے سلسلے میں سنجیدگی، متانت اور ان کے غیرجانب دارانہ رویے کا بھی۔           ﴿ڈاکٹرتابش مہدی﴾

عمران عالم فلاحی*

 

عورت اسلام کی آغوش میں

عرب جا ہلیت میں عورت کا بہت برا حال تھا ۔ لوگ لڑکی کی پیدا ئش باعث شرم و عار سمجھتے تھے۔بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جا تا تھا ۔ عرب سماج میں قبل از اسلام حال یہ تھا کہ باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیویاں بیٹے کے تصرف میں آجاتی تھیں ۔ یتیم بچیوں سے اس کے نگراں زبردستی نکاح کر لیتے تھے۔ معصوم بچیوںکو بتوں کے سامنے بلی دیاجاتا تھا،بازاروں میں جانوروں کی طرح اس کی خرید و فروخت ہوتی تھی ۔اس کی کوئی مستقل حیثیت نہیں تھی، بل کہ وہ مرد کے تابع تھی اس کا کوئی حق نہیں تھا۔ وہ مرد کے رحم و کرم پر جیتی تھی ۔ہندو تہذیب میں عورت کو‘‘ ستی‘‘ ہونا پڑتا تھا تو عرب تہذیب میں بچیوں کو زندہ ’’درگور‘‘ کردیا جاتا تھا ۔ عام طور سے رواج یہ تھا کہ بچی کی چھ سا ل تک پرورش ہوتی تھی۔جب وہ چھ سال کی ہو جا تی تو اسے اچھے کپڑے پہنا دیے جا تے تھے ، خوشبو سے معطر کرکے ظالم باپ اس معصوم بچی کی انگلی پکڑ کر اُسے صحرا ئ میں لے جا تے، وہاں گڑھا کھودتے اور بچی کو اس گڑھے میں دبادیتے تھے۔

اس سلسلے میں ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک صحابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ہے :‘‘ اے اللہ کے رسول ﷺ !آپﷺ ہماری مغفرت کی دعا فرما دیں ’’ اللہ کے رسول ﷺ نے دریارفت فرمایا :‘‘ وہ کون سا گنا ہ ہے، جس کی میں مغفرت کی دعا کر دوں‘‘ صحا بی نے کہا: ’’ میں نے زمانہ ٔ جا ہلیت میں ایک بہت بڑا ظلم کیا ہے ،جسے بتاتے ہوئے کلیجہ منھ کو آتا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بتا ئووہ کو ن سا گناہ ہے۔ ’’ صحابی نے عرض کیا: ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے گھر میں ایک بچی پیدا ہوئی، اس وقت میں گھر میں موجود نہیں تھا ، میری بیوی نے اس کی پر ورش کی ، جب میں گھر آیا تو وہ بڑی ہو گئی تھی۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا یہ بچی کس کی ہے ؟‘‘ میری بیوی نے کہا: ’’ پڑوسن کی ہے۔‘‘ میں نے کہا کہ بڑی پیاری بچی ہے۔ میں اس سے مانوس ہو گیا۔ وہ بھی مجھ سے مانوس ہو گئی۔ بالآخر مجھے حقیقت کاعلم ہوگیاکہ یہ میری بچی ہے تو ایک دن میں نے کدال اپنے کندھے پر لیا اور بچی کو لے کرصحرا ئ کی طرف چل دیا ۔ وہاں پہنچ کر گڑھا کھودنے لگا ، مٹی اگر میرے پیروں پر گرتی تو وہ اپنے ہا تھوں سے ہٹا تی اور با ربا رکہتی کہ ابو ! آپ یہ کیا کریں گے ۔ میں خا مو شی سے گڑھا کھودتا رہا ،جب گڑھا کھود چکا تو اس بچی کو گڈھے میں ڈال دیا۔وہ با ربار روتی،چلاتی رہی کہ ابو !میں مرجا ئو ں گی ،آپ مجھے کیوں دفن کر رہے ہیں۔پھر آ پ مجھے کبھی نہیں پا ئیں گے۔اور آج بھی اس کی آواز میرے کانوں سے ٹکرا رہی ہے ۔‘‘اس واقعے کو سن کر آپﷺ اشکبار ہوگئے۔آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ جائو اللہ سے مغفرت طلب کرو اللہ بہت غفار اور رحیم ہے۔‘‘ اس واقعہ سے اندازہ کیجیے کہ عورتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا تا تھا۔عرب سماج میں اس کی کیا حیثیت تھی؟لیکن نبی ﷺ رحمت للعالمین بن کر آئے، عورتوں کو پستیکے گڑھے سے نکال کر بلندی کی طرف لائے ۔

اسلام نے عورت کو عزت دی ،اس کی اہمیت کو سمجھا ،اُسے رحم و محبت کی نگاہ سے دیکھا۔ اسے زندگی کی گراں قدر پریشانیوں سے نجات دی اور زندگی کی نا زک و لطیف ذمے دا ریاں جس کا بوجھ وہ برداشت کر سکتی تھی، اس کے سپرد کی۔

اس سے نسوانی وقار، اس کی انفرادیت ، اس کی شخصیت و حیثیت باقی رہی، اس کا احساس مجروح نہیں ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مرداور عورت دونوں کوواضح ہدایت دی کہ ایک دوسرے پر حسد نہ کرو ، اسے لعن طعن نہ کرو۔ بل کہ اپنے فرائض منصبی کو کما حقہ انجام دو۔مردوعورت کے یکساں حقوق ہیں ،ان کے حقوق کو دبانے کی کوشش مت کرو ، اپنے اخلاق و کردار سے اپنی ذات کا اثبات کرو ،اپنی اپنی صلا حیتوں کا جو قدر ت نے ویعت کی ہے اثبات کرو۔اسلام نے عورت کی حیثیت عارضی طور پر نہیں،بل کہ ہمیشہ لیے کے لئے محفوظ و محترم بنا دی ۔ گوہر عصمت کو ان کے تاج افتخار کا درخشاں موتی بنا دیا ۔عفت ونزہت اور شرم و حیا کو ان کا زیور قرار دیا ۔ان کے حسن و جمال کو شمع انجمن بنانے کے بجائے چراغ خانہ بنا کر انہیں بوا لہوسی اور بد نگاہی کی آندھیوں سے محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تد بیر بھی بتا دی۔انہیں متاع عام بن جانے کی جگہ جنس واجب الاحترام ہونا سکھایا۔اس کی عصمت کا تحفظ کیا ۔ اسلام نے اپنے اخلاقی نظام ہی نہیں ،بل کہ اپنے پورے نظام حیات میں اس کی رعایت رکھی کہ اس کا ہر طرح سے تحفظ ہو۔ اس نے حریم جمال کے گرد اتنی مضبوط فصیل ، اتنا پختہ حصار کھینچ دیا جو بوا لہوسی کی دسترس سے باہر ہے ۔اس پر پر دہ اور نظر ہی کی پا بندیاں نہیںلگائیں ،افکار و خیالا ت کے چور دروازے بھی بند کر دیے تا کہ کہیںسے حملہ نہ ہوسکے۔

علامہ سید سلیمان ندو یؒ اپنی کتاب سیرۃ عا ئشہؓ میںعورت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اسلام کا صراط مستقیم افراط و تفریط کے وسط سے نکلا ہے ۔ وہ نہ عورت کو خدا جانتا ہے نہ زندگی کی راہ میں کانٹا سمجھتا ہے ۔اس نے عورت کی بہترین تعریف یہ کی کہ وہ مرد کے لیے کشمکش گاہ عالم میں تسکین و تسلی کی روح ہے‘‘۔ ﴿سیرۃ عا ئشہ، ص:۶۴﴾

چنانچہ ارشاد ربانی ہے:

وَمِنْ اٰ یَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا ِلَیْْہَا وَجَعَلَ بَیْْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً ِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُون۔ ﴿الروم،:۱۲﴾

’’ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے جنس میں سے جوڑا پیدا کیا تاکہ تمھیںسکون میسر ہواور اس نے تمہارے درمیان مؤدت و رحمت پیدا کیا یقینااس میںغور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانی ہے۔‘‘

اسلام انسان کی عقل کو مہمیز لگاتا ہے تا کہ وہ سو چنے پر مجبور ہو کہ وہ آج اپنے آپ کو، جس کائنات میں پا تا ہے اس کا خالق کون ہے؟اس کے بعد خالق اس حقیقت کواس کے سامنے واضح کرتا ہے کہ اس کائنات میں انسان کا وجود کہاں سے ہوا اور اسے پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے؟۔ اس سلسلے میں اسلام کہتا ہے کہ اس کائنات کو بنانے والا ایک اللہ ہے جس کے قبضۂ قدرت میں تمام اختیارات ہیں۔اسی کے حکم سے دنیا کا نظام چل رہا ہے ،جس نے ایک خاص مقصد کے تحت انسان کی تخلیق کی اور اسے مکمل آزادی دی ۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْئ ٍ قَدِیْرٌO الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُورُ۔

﴿الملک :۱،۲﴾

’’با برکت ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اقتدارہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور وہی ہے جس نے موت و حیات کو پیدا کیا تا کہ وہ آزمائے کہ کون اچھا عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور مغفرت کرنے والا ہے۔‘‘

وہ ذات واحد عبادت و پرستش کے لائق ہے۔ اسی کی ملکیت میں یہ دنیا ہے، اسی نے ہمیں اس دنیا میں اپنے نا ئب کی حیثیت سے بھیجا تا کہ ہم اس کی عبا دت کریں ۔ یہ دنیا ہما رے لیے دا ر الامتحان ہے۔جو چیز اس دنیا میں پیدا ہو ئی ہے، اسے فنا ہو نا ہے مگر زندگی نہ پیدا ئش کے ساتھ شروع ہوئی ہے اور نہ موت کے سا تھ ، بل کہ زندگی پیدائش سے قبل بھی موجو د رہتی ہے اور مرنے کے بعد بھی با قی رہتی ہے۔انسان اس دنیا میں ایک محدود وقت کے لیے ہے ۔اس کی عمر محدود ہے، مگر کا ئنات اس کے مقابلے میں بہت طویل عمر دے کر پیدا کی گئی ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے انسانی نسل کے تسلسل کو قیامت تک کے لئے با قی اور بر قرار رکھنے کے لیے اس کی جنس سے اس کا جوڑ اپیدا کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یَآ أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا ﴿النساء:۱﴾

’’ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑاس بنا یا ۔‘‘

اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اے انسانو!تمھیں ہم نے پیدا کیا ہے اور عورت کو بھی ہم ہی نے پیدا کیا ، تم عورت کو جسمانی طور پر کمزور پا کر اور بعض صنفی عوارض کی وجہ سے مجبور دیکھ کر اس پر ظلم و ستم کا پہا ڑ توڑتے ہو ۔ تم نے ہمیشہ اس کا استحصال کیا ہے گویا کہ وہ انسان ہی نہیں ہے ،یہ عورت کوئی اجنبی مخلوق نہیں ہے ، یہ کوئی عجیب ہستی نہیں کہ تم اسے ظلم و ستم کا نشانہ بنائو۔ بل کہ جس ذات نے تمھا رے دادا آدم ؑ  کو پیدا کیا اسی ذات نے اسے بھی پیدا کیا اور ا س نے عورت کو آدم ؑ  ہی سے پیدا کیا ہے اس لئے اس کا وجود کوئی اجنبی نہیں ، جب وہ دونوں کا خالق ہے یعنی مرد و عورت کا تو جس طرح سے وہ مردوں پر ظلم کو برداشت نہیں کرتا اسی طرح سے عورتوں پر بھی ظلم کو برداشت نہیں کرتا ہے ۔

وما ربک بظلام للعبید ﴿حٰم سجدہ:۴۶﴾‘‘ اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیںکرتا ’’

اسی با ت کو اللہ تعالیٰ دوسری جگہ یوں کہتا ہے:

وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْد﴿ق:۲۹﴾‘‘اور میں کسی بندے پر ظلم و زیادتی نہیںکرتا ’’

عورت کی پیدایش کا مقصد

۱۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَائ﴿النساء:۱﴾‘‘ پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت دنیا پھیلائے۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہو تا ہے کہ عورت کی تخلیق کا مقصد انسانی نسل کو پروان چڑھانا ہے ،اس کی نسل میں اضا فہ کرنا ہے ۔تاکہ یہ نسل پوری دنیا میں چھا جائے ، ااور پوری دنیا میں اللہ کی کبریائی ہو ۔

۲- اللہ تعالیٰ دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:

وَمِنْ آیَاتِہِ أَنْ خَلَقَ لَکُم مِّنْ أَنفُسِکُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوا ِلَیْْہَا وَجَعَلَ بَیْْنَکُم مَّوَدَّۃً وَرَحْمَۃً ِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ﴿سورۃ الروم آیت:۲۱﴾

’’ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہا رے لیے تمہارے جنس میں سے جوڑا پیدا کیا تا کہ تمہیں سکون میسر ہو او راس نے تمہا رے درمیان مؤدت و رحمت پیدا کیا یقینا اس میں غور کرنے و الوں کے لیے نشانی ہے۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہو ا کہ عورت کی تخلیق کا مقصد اس سے سکون حاصل کرناتاکہ مرد آرام اور چین کے ساتھ اپنی زندگی بسرکرے ۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دونوں کے درمیان مؤدت و رحمت پیدا کی تاکہ اس کے سا تھ حسن سلوک کیا جائے نہ کہ اس پر ظلم و زیادتی ہو۔ ایک دوسری جگہ اسی مقصد کو بیان کرنے کے لیے کسان او ر کھیتی کی مثال دی گئی ۔تاکہ مردوںکو معلوم ہو جائے کہ ان کا تعلق عورت سے ویسا ہی ہے جس طرح ایک کسان کا تعلق اپنے کھیت سے ہو تاہے ۔

۳-اللہ کا ارشاد ہے:نِسَائَکُمْْ حَرْْثٌ لَّکُمْْ ’’ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔‘‘

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک کسان کا تعلق اپنے کھیت سے محض اس لیے ہو تا ہے کہ وہ اس سے فصل ،غلہ ،اناج وغیرہ حاصل کرتاہے، ٹھیک اسی طرح مرد کا تعلق بھی عورت سے انسانی نسل کی فصل حاصل کرنا ہو نا چاہیے۔ جس طرح سے وہ اپنے کھیت سے محبت کرتا ہے اسی طرح عورت سے بھی محبت کرنا چاہیے۔

الغرض خدا تعالیٰ نے نسل انسانی کے اس تسلسل کا انتظام فرماکر بتا دیا کہ اس دنیا میں جوجس طرح اپنی زندگی گزا رے گا، اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کرے گا اس کا حساب دینا ہو گا ۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے یوم الدین ﴿ جزا ئ و سزا ﴾کا اہتمام کیا ہے ۔ اس دن اللہ تعالیٰ خود حکم کی حیثیت سے مسند عدل پر جلوہ افروز ہو ں گے ۔ سب کو پا ئی پائی کا حساب دینا ہو گا ۔ جس نے اللہ کے احکام کے اتبا ع او ر اس کی اطاعت کا رویہ اختیار کیا اسے وہاں خدا کی رضا اور جنت کی ابدی زندگی حاصل ہو گی ۔اس کے برخلاف جو وہاں نا فرمان ثابت ہو گا ، جس نے اللہ کی مرضی کے مطابق اپنی زندگی نہیں گزا ری ہو گی خدااس سے ناراض ہو گا اس کے بدلے میں اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا۔جنت میں ایسی نعمت ہو گی جس کا انسا ن تصور بھی نہیںکر سکتا ۔اس کے مقابلے میں دنیا کی نعمتوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور نہ آخرت کی زندگی کے مقابلے میںدنیا کی اس چھوٹی سی زندگی کی کوئی حیثیت ہے ۔اس لیے اللہ کے بندوں کو جن کو خدا کی رضا اور اس کی خوشنو دی مطلوب ہے صا ف صا ف بتادیاگیا ہے کہ دنیا سے ان کا تعلق کتنا اور کس طرح ہوناچا ہیے۔

اس طرح اسلام نے عورت کی جان و مال ،عزت و آبرو کی حفاظت کر کے اسے مکمل زندگی گزارنے کا حق دیا ۔ جس طرح اللہ نے مردوں کے لیے مساوات اور آزادی کی فضا پیدا کی اسی طرح عورتوں کے لیے بھی پیدا کیا ۔ لڑکیوں کے قتل کوحرام قرار دیا ، اسے کبیرہ گنا ہوں میںشما ر کیا۔چنانچہ ایک صحابی حضرت قیس ابن عاصم ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ’’ اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے ایام جا ہلیت میں آٹھ ۸ لڑکیوں کو زندہ در گور کیا تھا۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ ان آٹھو ں کی طرف سے آٹھ غلام آزاد کرو۔ ’’انہوں نے عرض کیا : ’’اے اللہ کے رسول و میرے پاس تو آٹھ غلام نہیں ہیں۔‘‘آپ و نے فدیے میں آٹھ اونٹوں کے صدقے کا حکم دیا۔ ’’ ایک دوسرا وا قعہ ہے کہ ایک صحا بیہ حضرت کبیرہ بنت ابی سفیانؓ نے اللہ کے رسول و سے عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول ﷺمیں نے زمانہ جا ہلیت میں چار لڑکیوں کو زندہ در گور کیا تھا۔ ’’آپ ﷺ نے انہیں چا ر غلام آزا د کرنے کا حکم دیا ۔اس طرح کی متعدد احادیث ہیں جن میں لڑکیوں کو زمانہ ٔ جا ہلیت میںزندہ در گور کرنے کا تذکرہ ملتا ہے۔آپ ﷺ نے لڑکیوں کی پرورش کو فخر و ثواب کا باعث بتا یا۔ ایک حدیث میں ارشاد ہو ا:‘‘جس نے دو یا تین لڑکیوں کی پرورش کی یا بہنوںکی پرورش کی اور ان کی کسی اچھے گھرانے میں شا دی کرائی قیامت کے دن وہ شخص جنت میں میرے ساتھ رہے گا اور اس طرح قریب رہے گا جس طرح یہ دونوں انگلیاں ۔آپ ﷺ نے دو انگلیوں کو ملا کر اشار ہ کیا ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے :‘‘ جس کے پاس کوئی لڑکی ہو ، وہ اسے دفن نہ کرے ، نہ اس کی تذلیل و تو ہین کرے اور نہ بیٹے کو ا س پر ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت میںلے گا اور سے جنت میں دا خل کرے گا ۔‘‘ ایک مرتبہ ارشاد فرمایا : ’’جس شخص پر بچیوں کی پرور ش کی ذمے داری آئی اور اس نے اس کا کما حقہ ادا کیا تو ایسے شخص کے اوپر جہنم حرام ہے ۔‘‘

اس طرح کی متعدد روایا ت ہیں جن کے ذریعے سے نبی ﷺ نے لڑکیوں کی پر ورش کی ترغیب دی اور ان کو لڑکوں کے برابر سمجھنے پرکہیں جنت کو واجب قرار دیا ، اس کی خوشخبری دی تو کہیں جہنم سے نجات کا ذریعہ بتایا ۔ ‘‘

مئی 2011

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau