ہندو علماء کے قرآنی افکار

ایک مطالعہ

نذیر احمد علوائی

ہندو کی تعریف

لفظ’ ہندو‘ کے مختلف معنیٰ بیان کیے گئے ہیں:مثلاً(۱) ہندوستان کا رہنے والا(۲) ہندوستان کی وہ قوم جس میں بُت پرستی جائز ہے،اور جن کا طریق دنیا کی دیگر اقوام سے ممتاز ہے ۱؎ جن قدیمی مذاہب کا تعلق ہندوستان سے رہا ہے ان میں ہندومت (بہ اصطلاحِ مروجہ)، جین مت، اور ُبدھ مت خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ ۲؎

قرآن ممتاز علماء کی نظر میں

بابو بین چندربال کہتے ہیں کہ قرآن کی تعلیم میں ہندوسماج کی طرح ذات پات کا امتیاز موجود نہیں ہے،نہ کسی کو محض خاندانی اور مالی عظمت کی بنا پربڑا سمجھا جاتا ہے۔بابو بھو چندر ناتھ باسو فرماتے ہیں کہ تیرہ سو برس کے بعد بھی قرآن کی تعلیم کا یہ اثر موجود ہے کہ ایک خاکروب بھی مسلمان ہونے کے بعد بڑے بڑے خاندانی مسلمانوں کی برابری کا دعوہ کر سکتا ہے۔گرو نانک رقمطراز ہیں کہ توریت، زبور، انجیل اور وید کی ہر کتاب کو خود بھی پڑھا اور دوسروں سے پڑھواکر سنا،اس یُگ کے دور میں اگر کوئی کتاب دنیا کو گناہوں سے پاک رکھ سکتی ہے تو وہ صرف قرآن ہے۔۳پروفیسر دو یجاداس کہتے ہیں کہ قرآن ایسا جامع اور روح افزا پیام ہے کہ ہندو دھرم اور مسیحیت کی کتابیں اس کے مقابلے میں بمشکل کوئی بیان پیش کرسکتی ہیں۔گاندھی جی نے کہا کہ مجھے قرآن کو الہامی کتاب تسلیم کرنے میں ذرہ بھر تامل نہیں۔ ۴

قدیم ہندوستان میں ترجمہ قرآن

دیارِ ہند کے معروف شاعر بھارتیندوہریش چند ۱۸۵۰ء ۔۱۸۸۶ء (وارانسی)کا نامکمل ہندی ترجمہ قرآن ۱۸۷۷ء میں طبع ہوا تھا پھر ۱۸۸۲ء میں جناب کنہیالال لکھداری کا ایک ترجمہ قرآن، دھرم سبھا لدھیانہ سے شائع ہوا،لکھداری نے موضحِ قرآن سے استفادہ کیا ہے،اسی طرح ۱۸۸۳ء میں ایک ہندو عالم نے پنجاب اور سندھ کے راجہ مہروک بن رائق کے لیے قرآن مجید کا ایک ترجمہ کیا جو صرف سورہ یٰسین تک پہنچ سکا۔یہ ترجمہ کس زبان میں ہوا اس کی کوئی تعیین نہیں ملتی۔ بعدازاں جناب ونے کمار اوستھی نے تفسیر ماجدی کا ہندی زبان میں ترجمہ کیا،اس کو لکھنؤ کے کتاب گھر نے ۱۹۸۳ء میں شائع کیا ۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ اوستھی کے والد جناب نندکمار اوستھی نے بھی قرآن مجید کا ہندی ترجمہ ۱۹۴۹ء میں شائع کروایا تھا، جس کا متن عربی کے علاوہ ہندی دیوناگری رسم الخط میں بھی لکھا گیا، اس طرح سنسکرت میں ستسیہ دیو ورما نے قرآن کریم کا ترجمہ’’سنسکرتم قرآنم‘‘ سے کیا ہے، یہ ترجمہ ۱۹۹۰ء میں دہلی سے شائع ہوا تھا۔ ؎۵

کلامِ الٰہی

رابرٹ گلک مشہور ماہر تعلیم لکھتے ہیں کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پہلی وحی میں حکم بھیجا گیا تھا کہ’ پڑھ‘، انہوں نے جواب دیا تھا میں پڑھنا نہیں جانتا۔ ان کی تعلیمات کسی رسمی پڑھائی کا نتیجہ نہ تھیں۔ آج تک کسی شخص نے ذرہ برابر بھی اس دعویٰ کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا کہ قرآن کی کوئی سورۃ ساتویں صدی کےعرب کی کسی تحریر سے ماخوذ ہے ، صحائف کی پیشین گوئی کی روسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے کچھ نہیں فرماتے تھے۔ آپ کا کلام وحی الٰہی کے مطابق ہوتا تھا۔ قرآن نے سورج اور سیاروں کی گردش کے بارے میں جوکچھ بتایا اس وحی کی سچائی کو جاننے کے لیے سائنس دانوں کو ہزار سال لگ گئے۔۶

 ہندؤوں کی قرآنی خدمات

یہاں پر ان ہندوستانی غیر مسلم علماء کا تذکرہ بطورِ خاص مقصود ہے جنہوں نے قرآن مجید کی تکریم کی اور اس کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کی،اس سلسلہ میں درج ذیل ہندو مفکرین کی تصانیف کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے۔(۱)قرآن کے سلسلے میں جناب چندر بلی پانڈے، کی تصنیف سرسوتی مندر،بنارس، ۱۹۴۵ء ؁ چندربلی پانڈے صاحب کا خیال ہے کہ قرآن کریم اوردیگر مذہبی کُتب میں مطابقت کے مختلف وجوہ ہیں جیسے: فرماتے ہیں کہ قرآن کا لفظ ’’دہر‘‘ اپنشد کے ’’دہر‘‘ سے مشابہ ہے اس خیال کی تائید میں مصنف نے دونوں زبانوں کے علماء کے اقوال نقل کیے ہیں، مصنف بین السطور ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن حکیم کے بیانات اپنشد کے بیانات و توضیحات پر مبنی ہیں موصوف کہتے ہیں کہ جن لوگوں کے درمیان محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے وہ ہندوستانی سماج سے مختلف تھے،دونوں ملکوں کے رہن سہن اورحالات کے اختلاف کے سبب مذہبی کتب کے موضوعات و مشتملات میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ورنہ قرآن بھی عربوں کے لیے وہی تعلیم فراہم کرتا ہے،جو اپنشد نے ہندوستانیوں کے سامنے پیش کی تھی، مزید لکھتے ہیں کہ قرآنی لفظ ’’عرش‘‘اور شروتی کے لفظ ’’اسندی‘‘(جو اتھرویدمیں مذکور ہے کہ برہما کا عرش ہے) میںباہم مشابہت دونوں کُتب میں یہ آیا ہے کہ یہ آٹھ لوگوں کے ذریعہ اٹھایا گیا ہے،تائید میں موصوف نے (آتیرا برہمن کے مطابق) اندر کی شاہی محل میں آمد کی توضیح کی ہے اور : وَالْمَلَکُ عَلَی أَرْجَائِہَا وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمَانِیَۃٌ ( حاقہ؍۱۷)کا حوالہ بھی پیش کیا ہے۔آیت کا ترجمہ یہ ہے ’’فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رب کا عرش  اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔مصنف بعض الفاظ و افکار کے تعلق سے ہندومت اور اسلام میں مشابہت دکھانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

(۲)The Essence of Quran  از ونوبابھاوے (اکھل بھارت سیوانگھ (ونوبابھاوے جی نے اپنی کتاب کے آخر میںمنقول قرآنی آیات کا خاکہ پیش کیا ہے۔ مگر اپنی طرف سے ان کو کوئی وضاحت نہیں کی۔تاہم یہ قرآن شریف کے فکر ونظر کو واضح کرنے والی آیاتِ قرآنی کا مجموعہ جن کا جاننا ہرطالب حقیقت کے لیے لازم ہے،قرآنی ہدایت کا یہ خاکہ (مرقع) اس لیے تیار کیا گیا ہے کہ اخوت ومحبت اور امن و سلامتی کا پیغام عام ہو۔

(۳)The Gita and the Quran  از پنڈت سندرلال،انسٹی ٹیوٹ آف انڈو مڈل ایسٹ کلچر اسٹیڈیز،حیدرآباد  ۱۹۵۷ءپنڈت سندرلال کے بقول قرآن کا لغوی معنی ہے ’’اعلان کیا گیا‘‘ یا ’’پڑھا گیا‘‘واقعہ یہ ہے کہ قرآن نازل شدہ کلام کو ’’قرآن‘‘کے نام سے گردانتا ہے جبکہ نبیؐ کے فرامین کو ’’حدیث‘‘ کہا جاتا ہے،لکھتے  ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب انتہائی اعلیٰ پرُلحن اور شیرین ہے مختلف ہے مزید آپ نے قرآنی آیات کا مختلف عناوین کے تحت ذکر کیا ہے۔جیسے حمد باری تعالیٰ ،ایک انسانی معاشرہ،توحید الٰہی کا پیغام اس سلسلے میں اس ارشاد قرآنی کا تذکرہ کیا ہے : لاإِکْرَاہَ فِیْ الدِّیْنِ قَد تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ فَمَنْ یَکْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَیُؤْمِن بِاللّہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَیَ لاَ انفِصَامَ لَہَا وَاللّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْم (بقرہ؍۲۵۶)چند اور موضوعات ہیں محمدؐ اور معجزات،صدقات لینے کی اجازت، اشاعت عقیدہ،خیرات،شرکا بدلہ خیر سے،مسائل نسواں،جہاد،آخرت اوردیگر قرآنی آیات،کتاب کا خاتمہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے مختصر تعارف پر ہوتا ہے۔ مصنف کا یہ کام گیتا و قرآن کے تقابلی مطالعے کے سلسلے میں اہم ہے اورآپ نے ہندؤوںمیں پائی جانے والی قرآنی تعلیمات کے سلسلے میں  غلط فہمیاں دور کردی ہیں۔

(۴)Christ in the Quran and Bible  از باندی سری نو اس راؤ، باندی برادرس، گودادری،۱۹۷۵ء۔باندی سری واستوراؤ کے خیال میں،اسلام کے بہت سے تصورات عیسائی فکر و عقیدہ سے ملتے جلتے ہیں۔قرآن مجید ایک آسمانی کتاب ہے اس کی بے شمار آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ بائبل نافذالعمل ہے،چاہے وہ خدا کے کلمات ہوں یا کسی اور کے الفاظ میں منقول ہوں،آپ نے قرآنی آیات کو توریت،زبور اور دوسرے آسمانی صحف کے نافذ العمل ہونے کے اثبات میں پیش کیا ہے،قدیم کتب سماوی کی موجودگی میں محمدّؐ پر قرآن کریم نازل کیے جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے موصوف نے کثیر تعداد میں قرآنی آیات نقل کرکے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن کا نزول فقط اس لیے ہوا ہے کہ وہ قدیم کُتب سماویہ کو صحیح و نافذ العمل ثابت کرے۔مصنف مزید فرماتے ہیں کہ انسان کو امتیاز کی صلاحیت اس لیے دی گئی ہے کہ وہ خیر و شر میں تمیز کرسکے،غلط کاموں کے لیے جوابدہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ہر شے سے واقف ہے، فرشتے بھی انسان کے ساتھ پیش آنے والی بہت سی باتوں سے آگاہ ہیں،جیسے پیدائش آدمؑ سے پہلے انہوں نے انسان کی گمراہی کی پیشن گوئی کی تھی،اللہ انسان کے گناہ کا ذمہ دار نہیں۔

(۵)Ethics of the Quran  ازمگن لال،اے،بوچ،مصنف نے اپنے خرچ پر بروڈا سے۱۹۷۷ء میں طبع اسےکیا ہے۔کتاب کےساتویں اور آخری باب میں مصنف نے یہ ظاہر کیا ہے کہ کائنات میں دو متقابل گروہ پائے جاتے ہیں یعنی حزب اللہ اور حزب الشیطان،پھر ان دونوں کی خصوصیات واضح کی ہیں،اسی باب میں عدم تشدد(اہنسا)کا تذکرہ کیا ہے۔موصوف کے خیال میں یہ قرآنی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے،اس کی تائید میں قرآن سے مثالیں دی ہیں۔ موصوف نے اپنی ہر بات قرآنی دلائل کے تذکرے کے ساتھ  بیان کی ہے ان کا نقطہ نظر سمجھنے میں کوئی دقّت نہیں ہوتی۔آپ نے قرآنی فلسفہ،اخلاق ہی نہیں بیان کیا ہے بلکہ اسلام کے سلسلہ میں خاصی معلومات فراہم کردی ہیں مصنف نے مقدمۂ کتاب میں کہا ہے کہ وہ قرآن کی اخلاقی تعلیمات سے پورے طور پر اتفاق رکھتے ہیں،گویا یہ کتاب ایک اچھی قرآنی خدمت ہے اور غیر مسلموں کے لیے مفید ہے۔

(۶) Khuda-Qur’anic Philosophy  از آر،بی،ہرش چندر،مطبع ہرج اور سیز،ریٹا،پریس نئی دہلی۱۹۷۹ء۔چندرجی مختلف قرآنی ارشادات کا خالص فلسفیانہ جائزہ لیتے ہیں اور روح کی پیدائش،فطرت خدا، حکمت ، علم،وحدت الہ،صفات خداوندی وغیرہ امور پربحث کرتے ہیں، ان تمام موضوعات پر مصنف نے اپنی آراء بھی بیان کی ہیں۔ اُن کی تائید میں قرآنی آیات کا حوالہ دیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ قرآن کے نزدیک ہر چیز ( ذہنی یا روحانی)اللہ تعالیٰ ہی سے متعلق ہے،خدا اپنی رحمت سے ارادہ کرتا ہے۔وہ مخلوقات کو لا محدودارادے کے محدود حصّہ سے پیدا کرتا ہے،موصوف نے کسی جامد یا غیر متحرک خدا کا انکار کیا ہے، فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی پیدائش کے وقت نہ دنیا کا علم رکھتا ہے نہ خود اپنا البتہ حصول علم کی اہلیت ضرور رکھتا ہے یہی وہ آخری صنعت ہے جو احساسات کو ظہور میںلاتی ہے،پھر لکھتے ہیں کہ علم کی بہ دولت ایک آدمی اللہ کے قوانین کو جان سکتا ہے اور ان پر عمل کرنے کے لیے آمادہ ہوسکتا ہے۔مزید فرماتے ہیں کہ ’’عَالَم‘‘ کا مطلب جو معلوم،معروف ہو،اس کی جمع عَالَمین ہے اور یہ صرف ستاروں ، بادلوں کی دنیا سے متعلق نہیں ہے بلکہ دماغ کی دنیا خود ایک الگ اکائی ہے،موصوف کا خیال یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس سے انسان کا دماغ و ذہن متعارف ہو،ایک کائنات ہے مزید فرماتے ہیں کہ انسان کو با اختیار بنایا گیا ہے،لہٰذا وہ موجوداتِ دنیا کا آزادانہ انتظام کرتا ہے اور اس کو حق کے اقرار و انکار میں بھی اختیار دیا گیا ہے جیسے :إِنَّا ہَدَیْْنَاہُ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِراً وَإِمَّا کَفُوراً (دھر؍۳) پھر لکھتے ہیں کہ ملائکہ و شیاطین کا معاملہ اس سے جُدا ہے،شیاطین کھلے نافرمان ہیں فرشتے اطاعت پر مأمور ہیں مصنف ویدک افکار سے متاثر ہیں جن کو قرآن میں تلاش کرتے ہیں،دوسری طرف قرآنی فکر سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔

(۷)Mukundan, Confruencies of Fundamentals in the Qur’an and Bhagvat Gita مصنف سمکلین پراکاش،نئی دہلی،۱۹۹۰ء۔ڈاکٹر وزیر حسن رقمطراز ہیں کہ مذہبی کتب کا منشایہ ہے کہ دنیا میں نیک لوگ باقی رہیں اور فاسق لوگ ہلاک ہوجائیں تاکہ معاشرہ امن و چین کا گہوارہ بن جائے، مذاہب کے بنیادی اصول ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں جیسے توحید الٰہ،مفہومِ روح،طریق نجات،تخلیق ،موت،آخرت،یوم حساب وغیرہ ایسے اہم موضوعات کسی نہ کسی زاویے سے مذہبی کتابوں میں مشترک ہیں مثال کے طور پر اعلیٰ و برتر قابلِ عبادت معبود پر زور دیتے ہوئے کرشن،گیتا میں اعلان کرتے ہیں ــ’’وہ تمام مذاہب کو دور کرکے صرف ایک خدا کی پناہ چاہتا ہے‘‘اور قرآن میں آیا ہے ــ’’الٰھکم الہ واحد لا الہ الا ھو‘‘  (بقرہ؍۱۶۳)

(۸)Selections from the Qur’an  از او،پی،گھائے،انسٹی ٹیوٹ آف پرسنل ڈیولپمنٹ،اسٹرلنگ پبلیکیشن،نیو دہلی، ۱۹۹۲ء۔او،پی،گھائے نے اپنی کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے کہ طالب علمی کے دور  ۱۹۳۰ء ہی سے مجھے مذہبی لٹریچر پڑھنے کا شوق تھا،۱۹۴۰ء میں مجھے میرے ایک دوست نے مولانا محمد علی کی کتاب ’’”Selection from the Holy Qur’an دی اس سے مجھے پورے قرآن مجید کے مطالعے کا شوق پیدا ہوا۔موصوف نے پورے قرآن کریم سے یہ آیات کا انتخاب پیش کیاہے ۔اس کی نوعیت یہ ہے سورۃ فاتحہ کو مکمل شامل کیا ہے اور دیگر سورتوں سے منتخب آیات لی ہیں،یہ آیات روز مرہ زندگی اور عام فلسفۂ دین سے متعلق ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدت،اس کی صفات،عدل،امن،محبت،انصاف اور اخوت وغیرہ۔اور کتاب کے آخر میں جناب اصغر علی کے بقلم ’’Afterward‘‘نام کا ایک خلاصہ ہے  جس میں انہوں نے جدید ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت و گروہ بندی اور اسلام دشمنی،ظلم و تشدد اور عصبیت پر افسوس ظاہر کیا ہے اور اسے ایک سازش کا نتیجہ قراردیا ہے،ان آیات کی تعداد بہت کم ہے جن میں کفار مکہ اور ان کے حامی یہودیوں و عیسائیوں سے بدلہ لینے وغیرہ کا ذکر ہے،ان مخصوص آیات کا ایک خاص تاریخی پس منظر ہے،اس پس منظر کو ملحوظ نہ رکھنے کی وجہ سے لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔(۹)قرآن شریف کی عظمت از سی،ای،مودی راج،ا بوالکلام آزاد اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ،حیدر آباد۔مودی راج جی نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں قرآن کریم سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے،ان کا ماحصل یہ ہے کہ اکثر لوگ عظمتِ قرآن سے نابلد ہیں کیونکہ اس کو صحیح طور سے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے،جب کہ زندگی کا ہر شعبہ اور دنیا کا ہر کونہ اس کی روشنی سے منّور ہے، قرآن عقل کے استعمال پر بہت زور دیتا ہےلوگوں کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا حکم دیتااورتدبّر و تفکّر پر ابھارتا ہے،اس کی تعلیمات محض کسی خاص گروہ و مخصوص قوم کے لیے نہیں ہیں۔ڈاکٹر وزیر حسن لکھتے ہیں کہ کتاب کے عنوان ہی سے ظاہر ہے کہ قرآن حکیم کی عظمت کو واضح کرنے کے لیے لکھی گئی ہے،مؤلف نے اسے چار موضوعات ، حمد باری،قوانین جنود،احکام عامہ،رفاہی قوانین تک محدود رکھا ہے۔موصوف خود اپنی کوئی رائے نہیں دیتے،نہ کسی طرح کی توضیح کرتے ہیں اور نہ کوئی تنقید کرتے ہیں۔  ؎۷

خلاصہ کلام

محسوس کیا جاتا ہے کہ متعدد غیر مسلم دانشور حضرات قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں مگر بطور کلامِ الٰہی تسلیم نہیںکرتے۔اس کی کئی وجوہات میںغالباً ایک اہم وجہ خود مسلمانوں کی قرآنی تعلیمات سے دوری اور بے عملی ہے۔

حوالہ جات و حواشی

۱۔مولوی سیّد احمد دہلوی،فرہنگ آصفیہ،۴؍۷۳۳،نیشنل اکاڈمی،انصاری مارکیٹ، دریا گنج دہلی، ۱۹۷۴ء

۲۔ اُردو دائرہ معارف اسلامیہ،۳۲؍۱۷۳،پنجاب یونیورسٹی لاہور،۱۹۸۹ء

۳۔ اسلام ،قرآن،محمدؐ غیر مسلموں کی نظر میں،محمد انور بن اختر،ص؍۲۳۳،فرید بُک ڈیپو،۲۰۰۵ء

۴۔ تاریخ القرآن ، عبدالصمد صارم، ص؍۲۰۹، حیدر آباد دکن، ۱۳۵۹ھ۔

۵۔غیر مسلم مصنفین کی اسلامی و ادبی خدمات، (ترجمہ قرآن کی روشنی میں)ڈاکٹر کمال اشرف قاسمی،ص؍ ۵۱تا۵۳،معارف قاسم جدید اکتوبر،دسمبر ۲۰۱۵ء۔

۶۔ اسلام ،قرآن،محمدؐ غیر مسلموں کی نظر میں،محمد انور بن اختر،ص؍۲۶۸،فرید بُک ڈیپو،۲۰۰۵ء

7- The Study of the Qura’n by non-Muslim Indian Scholars, Chapter No. 06 (The Books Directly Related to the Qura’n by non-Muslim Indian Scholars) pp. 259-286, Adam Publishers and Distributors, New Delhi, 2006.

دسمبر 2016

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau