مغربی نظریات پر مولانا مودودیؒ کی گرفت

خان یاسر

نظریات

لفظ ’انقلاب‘ کے مفہوم کو متعین کرتے ہوئے کوسِل لیک نے کہا تھا کہ کچھ اصطلاحیں اس قدر مشہور و معروف ہوجاتی ہیں؛ ان کی اتنی مختلف اور بسا اوقات متضاد تعبیریں سامنے آتی ہیں کہ عملاً وہ اصطلاحیں ایک ’نعرہ‘ بن جاتی ہیں۔(۱) ہر بولنے والا اس سے اپنا مفہوم مراد لے سکتا ہے اور لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ پائیں گے کہ کوئی نوجوان اگر اچانک ’’انقلاب‘‘ کی آواز بلند کردے اور مجلس میں این ایس یو آئی ، آئی سا، باپسا، اے بی وی پی اور ایس آئی او کے ارکان موجود ہوں تو ہر ایک بلا اختیار ’زندہ باد‘ کا نعرہ لگا دے گا حالانکہ ہر ایک کے انقلاب کا تصور ایک دوسرے سے بالکل جدا بلکہ شاید معاندانہ ہوگا۔ یہ بات جتنی انقلاب کے لئے صحیح ہے اس سے کہیں زیادہ ’نظریہ‘ کے لئے ہے۔(۲) اور پھر اردو میں تو ’نظریہ‘ ذرا زیادہ ہی پائمال ہے۔ جب روزمرہ زندگی میں یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس بات کو صرف سیاق طے کرتا ہے کہ مندرجہ ذیل میں سے متکلم کی مراد کیا ہے۔

مفہوم اول: اپنے نظریہ سے آپ صحیح ہیں لیکن میرے نظریے کے مطابق اپنے بھائی کے ساتھ کسی کو ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔ (بطور زاویۂ نظر perspective/viewpoint )

مفہوم ثانی: ہابس کا نظریہ ہے کہ ایک عمرانی معاہدے کے نتیجے میں ریاست کا ظہور ہوا۔ (بطور کسی مفکر کے افکار کا چھوٹا یا بڑا مجموعہ)

مفہوم ثالث: آئن سٹائن کے نظریۂ اضافت نے سائنسی دنیا میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ (بطور ایک خاص علمی یا تصوراتی حقیقت)

مفہوم رابع: حنفی نظریہ کے مطابق سمندری کیکڑے حلال نہیں ہیں۔ (بطور ایک خاص مکتب فکر)

مفہوم خامس: نیشنلزم ایک ایسا نظریہ ہے جس نے دنیا میں صرف تباہی پھیلائی ہے۔ (بطور ماڈرن آئیڈیولوجی)

مفہوم سادس: میں صرف جلوس میں فیمنسٹ نہیں ہوںبلکہ اپنے گھر ،آفس اور بازار میں بھی میرا نظریہ فیمنزم ہے۔ (بطور ایک مکمل نظام زندگی)

مفہوم خامس و سادس میں ایک باریک سا فرق ہے۔ اسے یوں سمجھئے کہ ایک آدمی (مفہوم خامس کے مطابق) صرف فلسفیانہ سطح پر کمیونسٹ ہے اگر وہ پولت بیورو کی نشستوں میں پامردی دکھاتا ہے؛ جلسے جلوسوں اور احتجاجوں میں شرکت کرتا ہے؛ سماج اور ریاست کو کمیونسٹ خطوط پر ڈھالنا چاہتا ہے لیکن اپنی ذاتی زندگی میں پوجا پاٹ کا اہتمام کرتا ہے؛ جینو پہنتا ہے؛ ذات پات کی پابندیوں کو قبول کرتا ہے؛ خشوع و خضوع کے ساتھ ہولی دیوالی مناتا ہے؛ اور عیش و آرام میں زندگی بسر کرتا ہے۔ (مفہوم سادس کے مطابق) اگر وہ نظام زندگی کی سطح پر کمیونسٹ ہوگا تو اس کی زندگی میں یہ دورنگی نہیں پائی جائے گی۔ وہ مارکس اور لینن کے اسوے کے مطابق صرف اجتماعی نہیں اپنی ذاتی زندگی میں بھی ملحد ہوگا۔ سادگی سے زندگی بسر کرے گا۔ خاندان، سماج، اقدار، اور روایات کی پرواہ نہیں کرے گا۔ یہی معاملہ ان افراد کا بھی ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام ہمارا نظریہ زندگی ہے۔ اگر وہ صرف فلسفیانہ یا دانشورانہ سطح پر مسلمان ہیں تو اجتماعی زندگی میں۔۔۔ تحریر تقریر، احتجاج، نعروں اور فیس بک پر یہ اسلامیت نظر آئے گی لیکن بیٹی کو وراثت دینی ہو؛ بیٹے کی شادی میں جہیز نہ لینا ہو؛ اسراف نہ کرنا ہو؛ فجر کی نماز باجماعت پڑھنی ہو۔۔۔ تو اس سلسلے میں کوتاہیاں پائی جائیں گی۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جب کہتے ہیں کہ اسلام اللہ کا نازل کردہ ایک مکمل نظام حیات ہے(۳)تو ان کی مراد مفہوم خامس نہیں مفہوم سادس ہے۔ یہاں اسلام کوئی نقطہ نظر، کسی مفکر کی خیال آرائی، کوئی فروعی اجتہادیا علمی حقیقت، کوئی مکتب فکر، یا فلسفہ نہیں بلکہ فرد کی ذاتی و اجتماعی ، الغرض زندگی کے ہر پہلو کو منظم کرنے والا ایک نظام ہے۔ اس میں کسی عقیدے کو تسلیم کرلینا کافی نہیں ہے بلکہ اپنی پوری عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھال لینا بھی شامل ہے۔ نظریہ نامی اصطلاح کا یہ وسیع تصور مولانا مودودیؒ کا مجتہدانہ کارنامہ نہیں ہے۔ متعدد سیاسی و سماجی مفکرین نے اس کی یہی جامع تعریف بیان کی ہے۔ مثال کے طور پر مارٹن سیلیگر کہتے ہیں، ’’نظریات کچھ ایسے عقائد و اقدار کا نام ہے جو افراد کو عمل پر آمادہ کردیں۔‘‘(۴) نظریے کی اس مختصر مگر جامع تعریف میں تمام جہتوں کا لحاظ کیا گیاہے۔ ایک ایسی فکر جس کے ساتھ عمل یا عمل کے لئے کوئی تحریک نہ ہو فلسفہ تو ہوسکتا ہے نظریہ نہیں۔ ایک ایسا عمل جس کے پیچھے کوئی فکر نہ ہو ایکٹوزم تو ہوسکتا ہے مگر نظریہ نہیں۔ نظریہ اسی شئے کا نام ہو سکتا ہے جو بیک وقت فرد اور سماج کو فکر بھی دے اور عمل کا پیغام بھی۔(۵)

مولانا مودودیؒ کا تجزیہ

کیا مولانا مودودی ؒ کو یہ بات معلوم تھی کہ لفظ نظریہ کے ایسے محدود اور جامع معنی ہوتے ہیں؟ جی ہاں!ہر دانش مند آدمی کی طرح مولانا مودودیؒ بھی یہ بات جانتے تھے خود انہوں نے نظریہ اور نظام کو ان محدود معنوں میں بھی استعمال کیا ہے مثلاً:

’’میکیاولی نے ۔۔۔اس نظریہ کی وکالت کی کہ سیاسی۔۔۔معاملہ میں اخلاقی اصولوں کا لحاظ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ (ا ج م ن: ۱۴) ؛’’کلیسا اور جاگیرداری کے خلاف یہ جنگ جن نظریات کی بنا پر لڑی گئی ان کا سر عنوان تھا لبرلزم‘‘ (ا ج م ن: ۱۳) ؛ لبرلزم کے ’’۔۔۔نظریہ پر جس معاشی نظام کی عمارت اٹھی اس کا نام جدید نظام سرمایہ داری ہے۔‘‘ (ا ج م ن: ۲۱) ؛ کسی بھی مذہب، اخلاقی نظام اور قانون نے ’’یہ نظریہ اختیار نہیں کیا کہ معیشت و تمدن کی وہ صورت بجائے خود غلط ہے جو ذرائع پیداوار کی انفرادی ملکیت سے بنتی ہے۔‘‘ (ا ج م ن: ۴۶)؛سوشلسٹ ’’۔۔۔اسکیم کو ۔۔۔نافذ کرنے کے لئے آپ مجبور ہوں گے کہ سرے سے ایک نیا ہی نظریۂ اخلاق وضع کریں جس کے تحت ہر ظلم و جبر۔۔۔ جائز ہو۔‘‘ (ا ج م ن: ۵۵)؛روس کی پولس اور خفیہ ایجنسیوں کا ’’۔۔۔نظریہ یہ ہے کہ اگر بھول چوک سے چند سو یا چند ہزار بے گناہ آدمی پکڑے اور مارڈالے جائیں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ چندگنہگار چھوٹ جائیں۔‘‘(ا ج م ن: ۶۶)؛ فاشسٹوں نے لبرلزم کے ’’۔۔۔اس نظریے کو بھی بالکل بجا طور پر رد کردیا کہ حکومت صرف پولیس اور عدالت کے فرائض انجام دے‘‘ (ا ج م ن: ۷۲)؛ ’’اسلام نے اشتراکیت اور سرمایہ داری کے درمیان۔۔۔ متوسط معاشی نظریہ اختیارکیا ہے۔۔۔‘‘(ا ج م ن: ۹۴)

’’کیا ہمارے پاس کوئی ایسی روشنی موجود نہیںہے جس کی مدد سے ایک متوازن نظام بنایا جاسکتا ہو؟‘‘ (ا ج م ن: ۹۱)

’’۔۔۔اسلام خود ایک نظام زندگی رکھتا ہے۔‘‘ (۶)

اس طویل تمہید سے صرف اس قدر ثابت کرنا مقصود ہے کہ مولانا مودودیؒ لفظ ’نظریہ‘ اور ’نظام‘ اور ان الفاظ و اصطلاحات کی تہہ داری سے بخوبی واقف تھے؛ معترضین عموماً ان اصطلاحات کے صرف تنگ تصور سے آشنا ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان اصطلاحات کو وسیع سمجھنے میں مولانا مودودیؒ خطا کرگئے۔

مغرب ، مغربی افکار و نظریات، نفسیات اور تصور کائنات کا ناقدانہ تجزیہ مولانا مودودیؒ کی علمی و دانشورانہ خدمات کا ایک روشن باب ہے۔ ہر طرح کی مرعوبیت سے مبرا ہوکر مغرب کو اسلام کی کسوٹی پر پرکھنا اور اس کی خوبیوں کو تسلیم کرتے ہوئے خامیوں کی نشاندہی کرنا وہ معقول اور مدلل علمی شاہراہ ہے جس پر اس کامیابی کے ساتھ اس سے پہلے کوئی نہ چل سکا تھا۔ اوروں کا تو خیر کیا ذکر،سرسیدؒ اور امیر علیؒ جیسے دانشور بھی اپنے تمام تر اخلاص کے باوجود مغرب سے یک گونہ مرعوب تھے۔ دوسری طرف قدامت پسند علماء مغرب کی مخالفت میں ایک الگ ہی انتہا پر تھے ۔

اِدھر یہ ضد ہے کہ لیمنڈ بھی چھو نہیں سکتے

اُدھر یہ دھن ہے کہ ساقی صراحیٔ مے لا

قوانین فطرت

اپنی تحریروں میں مولانا مودودیؒ وضاحت کرتے ہیں کہ قوموں کے عروج و زوال میں اللہ کی حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ ’’اس معاملہ میں خدا کا نقطہ نظرہمیشہ وہی ہوتا ہے جو مالک کا ہونا چاہئے۔ وہ اپنی زمین کے انتظام میں دعویداروں اور امیدواروں کے آبائی یا پیدائشی حقوق نہیں دیکھتا۔ وہ تو یہ دیکھتا ہے کہ ان میں کون بناؤ کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت اور بگاڑ کی طرف کم سے کم میلان رکھتا ہے۔ ایک وقت کے امیدواروں میں سے جو اس لحاظ سے اہل تر نظر آتے ہیں، انتخاب انہی کا ہوتا ہے اور جب تک ان کے بگاڑ سے ان کا بناؤ زیادہ رہتا ہے یا جب تک ان کی بہ نسبت زیادہ اچھا بنانے والا اور کم بگاڑنے والا کوئی میدان میں نہیں آجاتا، اس وقت تک انتظام انہی کے سپرد رہتا ہے۔ ‘‘(۷) اسی طرح وہ جب دنیا کو ایک ریل گاڑی سے تعبیر کرتے ہیں ’’جس کو فکر و تحقیق کا انجن چلا رہاہے‘‘ تو یہ سبق دیتے ہیں مغرب کے غلبہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’’چار پانچ سو سال تک مسلمان اپنے بزرگوں کے بچھائے ہوئے بستر پر آرام سے سوتے رہے اور مغربی قومیں اپنے کام میں مشغول رہیں۔‘‘ اور پھر جب یہ قومیں اٹھیں تو قلم اور تلوار دونوں طاقتوں سے دنیا پر چھا گئیں۔(۸)

قوموں کی امامت و سیادت کے ان اصولوں کے بیان سے مولانا مودودیؒ کا یہ موقف واضح ہوجاتا ہے کہ وہ مغرب پر نظری تنقید تو کرتے ہیں لیکن یہ بات خود بھی سمجھتے ہیں اور سمجھانا بھی چاہتے ہیں کہ ان کا فکری ، تہذیبی اور سیاسی غلبہ کسی اتفاق کا نہیں بلکہ فطرت کے اٹل قوانین کا نتیجہ ہے خواہ وہ ’نافعیت‘ کے حوالے سے ہو یا ’فکر و تحقیق‘ کے حوالے سے۔ مغرب کی اس حوالے سے قدردانی سکے کا ایک رخ ہے، سکے کا دوسرا رخ مغربی افکار، اقدار، مسلمات اور تہذیب پر جم کر تنقید ہے۔ (۹) علم و تحقیق کے میدان میں یہ معقولیت، معروضیت اور اعتدال مولانا مودودیؒ کی تحریروں کی اہم خصوصیت ہے۔ اس تنقید کی صرف اخلاقی اور ادبی ہی نہیں بلکہ علمی شان بھی نرالی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے مغرب کا مطالعہ ثانوی نہیں پرائمری سورسس سے کیا ہے اور اپنے لٹریچر میں ان ماخذوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔ وقت اور حالات، اسلاف کے علمی کارناموں سے اخذ و استفادہ، گہرا اور ناقدانہ مطالعہ ، گھر کا ماحول اور یقینا مشیت الٰہی وہ عوامل ہیں جس کے نتیجے میں مولانا مودودیؒ نے وہ کام کیا جو ملت اسلامیہ پر ایک فرض کفایہ تھا۔

مقالہ ہذا میں مغربی نظریات پر مولانا مودودیؒ کی منظم تنقید کا مطالعہ ان کے دو رسالوں کی روشنی میں پیش کیا جارہا ہےــــــــ۔ ’’ اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘ میں انہوں نے لبرلزم/ کیپٹلزم؛ کمیونزم اور فاشزم کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور ’’مسئلۂ قومیت‘‘ میں نیشنلزم پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اپنی تحریروں میں مولانا مودودیؒ نے سیکولرزم پر بھی گفتگو کی ہے لیکن اس گفتگو کو مختلف کتابوں اور تحریروں سے چھانٹ کر یکجا کرنا اور اس کا جائزہ لینا ایک مستقل کام ہے جو فی الحال میں نہ کرسکا لہذا آج ہمارا ارتکاز مذکورہ بالا چار نظریات ہی پر ہوگا۔ (۱۰)

نظریات کے اس تجزیے کا آغاز مولانا مودودیؒ نے موجودہ عمرانی مسائل کے تاریخی پس منظر کی وضاحت سے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’تمدن اور سیاست اورمعیشت کے بارے میں ہمارے بیشتر مسائل اور ان مسائل میں ہماری الجھنیں ان حالات کی پیداوار ہیں جو مغربی زندگی میں انہی مسائل اور انہی الجھنوں کی پیدائش کے موجب ہوئے ہیں۔‘‘  چونکہ مغرب ہی فکری و عملی میدان میں دنیا کی امامت کر رہا ہے لہذا ’’ہمارے سوچنے سمجھنے والے لوگوں کی اکثریت ان مسائل کے حل کی انہی صورتوں میں اپنے لئے رہنمائی تلاش کررہی ہے جو مغربی مدبرین و مفکرین نے پیش کی ہیں۔‘‘ لہذا حل کی ان صورتوں کا، مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں ’’شجرہ نسب‘‘ جاننا ضروری ہے۔ (ا ج م ن: ۷)

اس کے بعد نظام جاگیرداری (Feudalism) کے خواص پر گفتگو ہوئی کیونکہ جدیدیت (Modernism) اسی کے ردعمل کے طور پر سامنے آئی۔ اس میں زمین کی ملکیت کا بنائے اقتدار ہونا؛ عیسائیت کا (موسوی شریعت کے انکار کے نتیجے میں) اس نظام جاگیرداری کی اچھی بری ہر بات کو مذہبی تقدس عطا کردینا؛ اور تجارت، صنعت اور ذہنیت کا چھوٹے چھوٹے جغرافیائی خطوں میں محصور ہوجانا قابل ذکر ہے۔ یورپ کے نظام جاگیرداری کے اس جمود کو نشاۃ ثانیہ نے چیلنج کرنا شروع کیا۔ یہ کشمکش جوچودہویں صدی سے شروع ہوئی، جس میں کلیسا نے نظام جاگیرداری کا ساتھ دیا اور سائنس نشاۃ ثانیہ کا امام بنا، سولہویں صدی تک اپنے فیصلہ کن دور میں پہنچ گئی۔ اٹھارہویں صدی کے صنعتی انقلاب نے نظام جاگیرداری کا بالکل خاتمہ کردیا۔

لبرلزم اور کیپٹلزم

لبرلزم کیا ہے؟ وکی پیڈیا میں لبرلزم کا پیج کھولیں تو دائیں طرف اس کے variants دکھائی پڑتے ہیں جن کی تعداد کسی طرح بھی بیس سے کم نہیں ہے۔(۱۱) سوال یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ کس لبرلزم کی بات کررہے ہیں؟ کیا مولانا مودودیؒ کو اس بات علم تھا کہ لبرلزم کئی طرح کے ہیں؟ شاید ایک عام ذہن میں نہیں لیکن سیاسیات کے ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے، لیکن اسے اطمینان بخش جواب ملتا ہے۔ مولانا مودودیؒ نشاۃ ثانیہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’کلیسا اور جاگیرداری کے خلاف یہ جنگ جن نظریات کی بنا پر لڑی گئی ان کا سر عنوان تھا ’لبرلزم‘ یعنی ’وسیع المشربی‘۔‘‘(ا ج م ن: ۱۳)یہاں ’جن نظریات‘ کا استعمال قابل غور ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ لبرلزم کئی قبیل کے پائے جاتے ہیں۔ اور یہ بات بھی طے ہے کہ مولانا مودودیؒ کو لبرلزم پر کوئی تھیسس نہیں لکھنی تھی لہذا انہوں نے لبرلزم کے مسلمہ اصولوں سے بحث کی ہے اور فروعات سے تعرض نہیں کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے اسی مختصر رسالے میں انہوں نے دور متوسط کا لبرلزم،جدید لبرلزم کے الگ الگ ذیلی عناوین قائم کئے ہیں۔ اسی سیاسی و سماجی لبرلزم کی معاشی شکل کے طور پر کیپٹلزم کا وجود ہوا۔ چنانچہ صرف جدید نظام سرمایہ داری نہیں بلکہ  کمیونزم اور فاشزم کے جھٹکوں سے سبق سیکھ کر نظام سرمایہ داری نے جو اندرونی اصلاحات کیں ان پر بھی بحث کی ہے۔

سیاست و معیشت کے میدان میں ان نظریات کی بنیاد زندگی کے ہر شعبے اور فکر و عمل کے ہر میدان میں کشادگی ہے۔ چنانچہ جدید لبرلزم ’’۔۔۔نے سیاسیات میں جمہوریت کا؛ تمدن و معاشرت، ادب و اخلاق میں انفرادی آزادی کا اور معاشیات میں بے قیدی(Laissez Faire) کا صور پھونکنا شروع کیا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ چرچ ہو یا اسٹیٹ یا سوسائٹی، کسی کو بھی فرد کی سعیٔ ارتقا اور سعیٔ انتفاع میں رکاوٹیں عائد کرنے کا حق نہیں ہے۔‘‘ (ا ج م ن: ۱۸- ۱۷) فردکی اسی غیر محدود آزادی میں معاشرے کی فلاح و بہبود ہے۔ بعد میں سیاسی و سماجی لبرلزم کی معاشی شکل کے طور پر کیپٹلزم کی پیدائش ہوئی۔ یہ نظریہ جن بنیادی اصولوں پر قائم ہوا وہ ’شخصی ملکیت کا حق‘؛ ’آزادیٔ سعی کا حق‘؛ ’ذاتی نفع کا محرک عمل ہونا‘؛ ’مقابلہ اور مسابقت‘؛ ’اجیر و مستاجر کے حقوق کا فرق‘؛ ’ارتقاء کے فطری اسباب پر اعتماد‘؛ اور ’ریاست کی عدم مداخلت‘ ہیں۔ (تفصیل کے لئے دیکھیں: ا ج م ن:۲۶- ۲۱)

 لبرلزم کے مثبت پہلو

٭ مولانا مودودیؒ کہتے ہیں کہ لبرلزم اپنے اندر صداقت کے بعض ’’عناصر‘‘رکھتا ہے۔ (ا ج م ن: ۱۹) سرمایہ داری نے بھی جو اصول پیش کئے ’’ان کے اندر کسی حد تک مبالغہ کے باوجود صداقت پائی جاتی تھی۔۔۔۔‘‘ (ا ج م ن: ۲۷)

٭ بورژوا طبقے نے کامیابی کے ساتھ کلیسا اور جاگیرداری کے استبداد کو چیلنج کیا اور فکر و تحقیق اور صنعت و تجارت کے ارتقاء کے نقیب ثابت ہوئے۔

٭ اس نظریہ کے حامی نظری طور پر انسانی آزادی ، مساوات اور حقوق کے قائل تھے۔ وہ ظلم و استبداد، شاہی خاندانوں یا زمینداروں کے ہاتھوں میں سیاسی قوت کے ارتکاز کے مخالف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ملک عام باشندوں کا ہے۔ حکومت کا سارا کاروبار انہی کے دیے ہوئے ٹیکسوں سے چلتا ہے۔ لہذا انہی کی رائے سے حکومتیں بننی اور ٹوٹنی اور بدلنی چاہئیں اور انہی کو قانون سازی اور نظم و نسق میں فیصلہ کن اثر حاصل ہونا چاہئے۔ یہی نظریات۔۔۔ جدید جمہوریتوں کی بنیاد بنے۔۔۔‘‘ (ا ج م ن: ۱۹-۱۸)

منفی پہلو

٭ دور متوسط کے لبرلزم کی انتہا پسندی پر تنقید کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں :

اس کشمکش میں اگر اہل کلیسا اور جاگیرداروں کی تنگ خیالی ایک انتہا پر تھی تو ان بورژوا حضرات کی وسعتِ مشرب دوسری انتہا کی طرف چلی جارہی تھی۔ ایک گروہ نے اگر بے اصل عقائد، ناروا امتیازات اور زبردستی کے قائم کردہ حقوق کی مدافعت میں خدا اور دین اور اخلاق کا نام استعمال کیا، تو دوسرے گروہ نے اس کی ضد میں آزادخیالی اور وسیع المشربی کے نام سے مذہب و اخلاق کی ان صداقتوں کو بھی متزلزل کرنا شروع کردیا جو ہمیشہ سے مسلم چلی آرہی تھیں۔ یہی زمانہ تھا جس میں سیاست کا رشتہ اخلاق سے توڑا گیا اور میکیاولی نے کھلم کھلا اس نظریہ کی وکالت کی کہ سیاسی اغراض و مصالح کے معاملے میں اخلاقی اصولوں کا لحاظ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہی زمانہ تھا جس میں کلیسا اور جاگیرداری کے بالمقابل قومیت اور قوم پرستی اور قومی ریاست کے بت تراشے گئے۔ اور اس فتنے کی بنیاد ڈالی گئی جس کی بدولت آج دنیا لڑائیوں اور قومی عداوتوں کا ایک کوہ آتش فشاں بنی ہوئی ہے۔ اور یہی وہ زمانہ تھا جس میں پہلی مرتبہ سود کے جائز اور مباح ہونے کا تخیل پیدا ہوا۔ حالانکہ قدیم ترین زمانے سے تمام دنیا کے اہل دین و اخلاق اور علماء قانون اس چیز کی حرمت پر متفق تھے۔ صرف تورات اور قرآن ہی نے اس کو حرام نہیں ٹھہرایا تھا بلکہ ارسطو اور افلاطون بھی اس کی حرمت کے قائل تھے۔ (ا ج م ن: ۱۴)

٭ جدید لبرلزم کی خودغرضی کا کرشمہ بتاتے ہوئے مولانا مودودیؒکہتے ہیں کہ وسیع المشربی کا دعوی کرنے والے ’’۔۔۔جن حقوق کا خود ۔۔۔ اپنے لئے مطالبہ کرتے تھے وہی حقوق اپنے مزدوروںاور نادار عوام کو دینے کے لئے تیار نہ تھے۔‘‘ (ا ج م ن: ۱۹)

٭ بے قید معیشت نے جن ’فطری قوانین‘ کا ڈھنڈورا پیٹا وہ اس مبالغہ کی حد تک صحیح نہیں ہیں۔ روشن خیال خود غرضی(Enlightened Self-Interest) پر خود جان مینارڈ کینز کی تنقید اور ایڈم اسمتھ کے اعتراف کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں، ’’۔۔۔بورژوا سرمایہ داروں کے اپنے عمل نے ثابت کردیا کہ ان کی خودغرضی روشن خیال نہیں تھی۔ انہوںنے خریدار پبلک، اجرت پیشہ کارکن، اور پر امن حالات پیدا کرنے والی حکومت تینوں کے مفاد کے خلاف جتھہ بندی کی اور باہم یہ سازش کرلی صنعتی انقلاب کے سارے فوائد خود لوٹ لیں گے۔‘‘ (ا ج م ن: ۲۸) اسی طرح ’’حکومت کی عدم مداخلت کے مضمون کو ان لوگوں نے اس کی جائز حد سے اتنا زیادہ بڑھادیا کہ وہ برے نتائج پیدا کئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ جب طاقتور افراد جتھہ بندی کرکے کثیر التعداد لوگوں سے ناجائز فائدے اٹھانے لگیں اور حکومت یا تو تماشا دیکھتی رہے یا خود ان طاقتور افراد ہی کے مفاد کی حفاظت کرنے لگے، تو اس کالازمی نتیجہ شورش ہے۔‘‘ (ا ج م ن: ۲۹)

٭ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں مشینوں نے انسانی محنت کی جگہ لینی شروع کی۔ ایسے میں بے قید معیشت نے پیدا شدہ صورتحال کو مزید ابتر کردیا اور ’’۔بیروزگاری کا ایک مستقل مسئلہ اتنے بڑے پیمانے پر پیدا ہوگیا جس سے تاریخ پہلے کبھی آشنا نہ ہوئی تھی۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ بیروزگاری کسی ایک مسئلے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ انسان کی مادی ، روحانی، اخلاقی اور تمدنی زندگی کے بے شمار پیچیدہ مسائل کا مورث اعلیٰ ہے۔‘‘ اسی بیروزگاری کے نتیجے میں بڑے بڑے شہروں کو ہجرت؛ کم سے کم اجرت اور ظالمانہ شرائط تک پر کام کرنے کے لئے رضامندی؛ جسمانی صحت اور ذہنیت و اخلاق کی گراوٹ الغرض ’’۔زندگی کاکوئی شعبہ ایسا نہ رہا جو اس غلط اور یک رخی قسم کی آزاد معیشت کے برے اثرات سے بچا رہ گیا ہو۔‘‘ (ا ج م ن: ۳۲- ۳۰)

٭ بورژوا طبقے نے کاروبار کے فطری طریقوں کو چھوڑ کر اپنے ذاتی منافع کے لئے اجتماعی مفادات کے صریح خلاف معاشی سرگرمیاں انجام دینی شروع کیں مثلاً ذخیرہ اندوزی؛ غائبانہ خرید و فروخت؛ نرخ کی گراوٹ کے ڈر سے پیدا شدہ مال کی تلفی؛ تعیشات اور غیر ضروری مدوں میں سرمایہ کاری؛ مضر صحت و مخرب اخلاق اشیاء کی پیداوار اور اشتہار؛ کمزور قوموں پر تسلط؛ اورسودخوری۔ (تفصیل کے لئے دیکھیں: ا ج م ن:۳۹- ۳۴)

٭ سماج کے ایک طبقے کا معاشی استحصال؛ ہر طبقے کا اخلاقی زوال کے علاوہ کیپٹلزم اس مقصد میں بھی ناکام ہوا جو اس کا مقصد وجود تھا۔۔۔ پیداوار اور منافع میں اضافہ! سرمایہ داری کے اس اندرونی تضادپر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:

دنیا میں بے حد وحساب قابل استعمال ذرائع موجود ہیں، اور کروڑوں آدمی کام کرنے کے قابل بھی موجود ہیں، اور وہ انسان بھی کروڑ ہا کروڑ کی تعداد میں موجود ہیں جو اشیاء ضرورت کے محتاج ۔۔۔ہیں۔ مگر یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی دنیا کے کارخانے اپنی استعداد کار سے بہت گھٹ کر جو مال تیار کرتے ہیں وہ بھی منڈیوں میں اس لئے پڑا رہ جاتا ہے کہ لوگوں کے پاس خریدنے کو روپیہ موجود نہیں ہے؛ اور لاکھوں بیروزگار آدمیوں کو کام پر اس لئے نہیں لگایا جاسکتا کہ جو تھوڑا مال بنتا ہے وہی بازار میں نہیں نکلتا، اور سرمایہ اور قدرتی ذرائع بھی پوری طرح زیر استعمال اس لئے نہیں آنے پاتے کہ جس قلیل پیمانے پر وہ استعمال میں آرہے ہیں اسی کا بارآور ہونا مشکل ہورہا ہے کجا کہ مزید ذرائع کی ترقی پر مزید سرمایہ لگانے کی کوئی ہمت کرسکے۔یہ صورتحال بورژوا مفکرین کے اس استدلال کی جڑ کاٹ دیتی ہے جو وہ اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کرتے تھے کہ بے قید معیشت میں اپنے انفرادی نفع کے لئے افراد کی تگ و دو خود بخود ذرائع و وسائل کی ترقی اور پیداوار کی افزائش کا سامان کرتی رہتی ہے۔ ترقی اور افزائش تو درکنار، یہاں تو تجربہ سے یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے اپنی نادانی سے خود اپنے منافع کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرلیں۔ (ا ج م ن: ۴۱- ۴۰)

سوشلزم اور کمیونزم

سوشلزم اور کمیونزم کیا ہے؟ دونوں میں فرق کیا ہے؟ وکی پیڈیا میں کمیونزم کا پیج کھولیں تو دائیں طرف اس کے variants کی تعداد پندرہ سے تجاوز کرجاتی ہے؛ سوشلزم کے پیج پر یہ تعداد چالیس سے بھی زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ مولانا مودودیؒ کس سوشلزم اور کونسے کمیونزم کی بات کررہے ہیں؟ سوشلزم اور کمیونزم کی ان دھڑے بندیوں جس کا مظاہرہ آئے دن جے این یو وغیرہ میں ہوتا رہتا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مولانا مودودیؒ اس مسئلے سے تعرض کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’سوشلزم کے اصل معنی ہیں ’اجتماعیت‘ اور یہ اصطلاح اس انفرادیت (Individualism) کے مقابلہ میں بنائی گئی تھی جس پر جدید سرمایہ داری کا نظام تعمیر ہوا تھا۔ اس نام کے تحت بہت سے مختلف نظریے اور مسلک کارل مارکس سے پہلے ہی پیش کردیے گئے تھے جن کا مشترک مقصد یہ تھا کہ کوئی ایسا نظام زندگی بنایا جائے جس میں بحیثیت مجموعی پورے اجتماع کی فلاح ہو۔‘‘(ا ج م ن: ۴۴) ان بہت سے نظریات جو سوشلزم کے عنوان سے پیش کئے جاتے رہے ان میں کارل مارکس کا نظریہ کافی مقبول ہوا اور ’’سائنٹفک سوشلزم، مارکسزم اور کمیونزم‘‘ وغیرہ ناموں سے موسوم کیا گیا۔ مولانا مودودیؒ نے اسی کو موضوع بحث بنایا ہے کیونکہ انہیں نظریات کے صرف نظری پہلو سے نہیں بلکہ عملی پہلو سے بھی بحث کرنی تھی۔ سوشلزم اور کمیونزم کے بنیادی فرق کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان میں فرق ’’صرف طریقہ کار‘‘کا ہے کہ سماج میں وہ انقلاب جس کے نتیجے میں ذرائع پیداوار کو قومی ملکیت بنادیا جائے گا وہ آئے گا کیسے؟ سوشلزم کا جواب ہے کہ وہ جمہوریت کے ذریعہ آئے گااور کمیونزم کا جواب ہے کہ وہ خونی انقلاب کے ذریعہ آئے گا۔ اس سے یہ بات صاف ہوئی کہ انقلاب لانے کے طریقہ کار کے علاوہ جو بات بھی اشتراکیت کے تعلق سے کہی جائے گی وہ ارتقائی اشتراکیت اور انقلابی اشتراکیت پر یکساں چسپاں ہوگی۔ یہاں بھی مولانا مودودیؒ نے اصولیات پر توجہ مرکوز کی ہے اور فروعیات میں الجھنے سے قصداً پرہیز کیا ہے۔

مولانا مودودی نے سوشلزم کا جو جائزہ لیا ہے اس کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ اس نظریے کو صرف جدید سرمایہ داری کے ردعمل کے طور پر دیکھنے کے بجائے یورپ کی جدید مادیت کی ایک توسیع یا بالفاظ دیگر کردار کی تبدیلی کے ساتھ تاریخ کی تکرار کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بورژوا طبقات کے پیش کردہ فطری اصولوں میں بنیادی خامیاں نہیں تھیں،خامیاں تھیں تو ان کی مبالغانہ آمیز شدت اور ان اصولوں کے ساتھ غلط اصولوں کی ملاوٹ میں تھیں۔ لیکن جس طرح نظام جاگیرداری کی مخالفت کرتے ہوئے لبرل مفکرین نے ایک انتہا سے دوسری انتہا کا سفر کیا، بالکل اسی طرح نظام سرمایہ داری کی مخالفت میں سوشلسٹ مفکرین بھی جادۂ اعتدال پر نہیں ٹھہرے بلکہ انتہا ؤں کی ایک نئی جولانگاہ تلاش کرلی۔ مولانا مودودیؒ کا مندرجہ ذیل اقتباس نہ صرف انتہاؤں کے اس سفر کا خلاصہ ہے بلکہ مغربی ذہن پر ایک تنقید بھی ہے اور اس سوال کا جواب بھی کہ سوشلزم کے متعدد مسالک میں سے مارکسزم ہی کو سب سے زیادہ عوامی مقبولیت کیوں حاصل ہوئی۔فرماتے ہیں:

مغربی ذہن اور کیرکٹر نے اس دور میں بھی اپنی انہی کمزوریوں کا اظہار کیا جو اس سے پہلے کے زمانوں میں اس سے ظاہر ہوچکی تھیں، اور اسی بے اعتدالی کی ڈگرپر بعد کی تاریخ بھی آگے بڑھی جس پر وہ پہلے سے بھٹک کر جاپڑی تھی۔ پہلے جس مقام پر مالکان زمین اور ارباب کلیسا اور شاہی خاندان تھے، اب اسی ہٹ دھرمی اور ظلم و زیادتی کی جگہ بورژوا طبقہ نے سنبھال لی اور پہلے حق طلبی اور شکوہ و شکایت اور غصہ و احتجاج کے جس مقام پر بورژوا حضرات کھڑے تھے اب اس جگہ محنت پیشہ عوام آکھڑے ہوئے۔ پہلے جس طرح جاگیرداری نظام کے مطمئن طبقے نے اپنے بے جا امتیازات اور اپنے ناروا ’حقوق‘ اور اپنی ظالمانہ قیود کی حمایت میں دین اور اخلاق اور قوانین فطرت کی چند صداقتوں کو غلط طریقہ سے استعمال کرکے محروم طبقوں کا منہ بند کرنے کی کوشش کی تھی، اب بھی بعینہ وہی حرکت سرمایہ داری نظام کے مطمئن طبقوں نے شروع کردی۔ اور پہلے جس طرح غصے اور ضد اور جھنجھلاہٹ میں آکر بورژوا لوگوں نے جاگیرداروں اور پادریوں کی اصل غلطیوں کو سمجھنے اور ان کا ٹھیک ٹھیک تدارک کرنے کے بجائے اپنی نبرد آزمائی کا بہت سا زور ان صداقتوں کے خلاف صرف کردیا جن کا سہارا ان کے حریف لیا کرتے تھے، اسی طرح اب محنت پیشہ عوام اور ان کے لیڈروں نے بھی غیظ و غضب میں نظرو فکر کا توازن کھودیااور بورژوا تمدن کی اصل خرابیوں اور غلطیوں پر حملہ کرنے کے بجائے ان فطری اصولوں پر ہلہ بول دیا جن پر ابتدائے آفرینش سے انسانی تمدن و معیشت کی تعمیر ہوتی چلی آرہی تھی۔ متوسط طبقوں کے لوگ تو اپنی کمزوریوں اور برائیوں کے باوجود پھر کچھ ذہین اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، اس لئے انہوں نے شکایت اور ضد کے جوش میں بھی تھوڑا بہت ذہنی توازن برقرار رکھا تھا لیکن صدیوں کے پسے اور دبے ہوئے عوام، جن کے اندر علم، ذہانت، تجربہ ہر چیز کی کمی تھی، جب تکلیفوں سے بے قرار اور شکایات سے لبریز ہوکر بپھر گئے تو کسی بات کو قبول کرنے سے پہلے عقل و حکمت کی ترازو میں تول کر اسے دیکھ لینے کا کوئی سوال ان کے سامنے نہ رہا۔ ان کو سب سے بڑھ کر اپیل اس مسلک نے کیا جس نے سب سے زیادہ شدت سے ان کی نفرت اور ان کے غصے اور ان کے انتقام کے تقاضے پورے کئے۔ (ا ج م ن: ۴۴- ۴۲)

سوشلزم نے انفرادی ملکیت کا انکار کیا اور اسے ہی اجتماعی زندگی میں فتنے کا اصل سبب قرار دیا۔ ان حقوق کے فطری ہونے کا انکار یہ کہہ کر کیا گیا کہ سرمایہ دارانہ نظام نے افراد کی فطرت کو مسخ کردیا ہے ’’جب تک انفرادی ملکیت کا نظام قائم ہے لوگ ’انفرادی الذہن‘ ہیں۔ جب اجتماعی ملکیت کا نظام قائم ہوجائے گا، یہی سب لوگ ’اجتماعی الذہن‘ ہوجائیں گے۔‘‘ ذاتی ملکیت کو غیر فطری ثا بت کرنے کے لئے مزید ستم یہ کیا گیا کہ ’’فی البدیہہ ایک پوری تاریخ‘‘ رقم کرکے یہ ثابت کیا گیا کہ ’’انسانیت کے آغاز میں ذرائع پیداوار پر انفرادی ملکیت کے حقوق تھے ہی نہیں۔‘‘ مذہب، اخلاق، اور قانون نے چونکہ ملکیت کے انسانی حق کو تسلیم کیا تھا لہذا ان سب کو اعلیٰ طبقہ کا آلہ کار قرار دیا گیا جن کا کام صرف مالدار اور طاقتور طبقے کی گرفت کو غریب اور محنت کش عوام پر مضبوط کرنے کا جواز فراہم کرنا تھا ۔ طبقاتی کشمکش کو تاریخ کے ارتقاء کے واحد راستے کے طور پر پیش کیا گیا۔ (تفصیل کے لئے دیکھیں: ا ج م ن: ۵۰-۴۵)

سوشلزم کے ان مسلمہ اصولوںکے بیان کے بعد مولانا مودودیؒ اس کا میزانیۂ نفع و نقصان پر روس کے انقلاب کے تناظر میں بحث کرتے ہیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں کمیونزم کے حامیوں اور مخالفوں دونوں کی بے اعتدالی پر تنقید کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں: ’’اس کے حامی اس کے نفع کے پہلو میں بہت سی ایسی چیزوں کو داخل کردیتے ہیں جو دراصل اشتراکیت کے منافع نہیں ہیںبلکہ قابل اور مستعد لوگوں کے ہاتھ میں انتظام ہونے کے ثمرات ہیں۔ دوسری طرف اس کے مخالف اس کے نقصان کے پہلو میں بہت سی ان خرابیوں کو رکھ دیتے ہیں جو بجائے خود اشتراکیت کے نقصانات نہیں بلکہ ظالم اور تنگ ظرف افراد کے بر سر اقتدار آنے کے نتائج ہیں۔‘‘ (ا ج م ن: ۵۱)

سوشلزم کے مثبت پہلو

٭ بے قید معیشت سے پیدا ہونے والی متعدد بے اعتدالیوں کو رفع کیا گیا۔

٭ انفرادی ملکیت سے نکال کرذرائع پیداوار کو اجتماعی ملکیت میں لینے سے منافع چند سرمایہ داروں کے بدلے حکومت کے خزانے میں آنے لگا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ اس منافع کو حکومت اپنی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک منظم اور منصوبہ بند طریقے سے اجتماعی فلاح و بہبود کے کاموں پر خرچ کرے۔

٭ ذرائع پیداوار پر کنٹرول کی وجہ سے حکومت کے لئے یہ بھی ممکن ہوا کہ وہ بیروزگاری کے مسئلے کو حل کردے اور تمام قابل کار آدمیوں سے ان کی اہلیت کے مطابق کام لے سکے۔ اس سلسلے میں حکومت کو کسی نئے محاذ پر افراد کی ضرورت ہو تو انہیں تعلیم و تربیت کے ایک مرحلے سے گزار کر ’’اجتماعی معیشت کے جن پیشوں اور جن خدمات کے لئے جتنے آدمی درکار ہیں اتنے ہی وہ تیار۔۔۔‘‘کئے جاسکتے ہیں۔(ا ج م ن: ۵۴)

٭ حکومت کے ہاتھ میں اس کثیر سرمائے کی وجہ سے وہ اس قابل ہوگئی کہ ایک معتدبہ رقم سوشل انشورنس پر صرف کرے۔ اس مد میں ’’۔۔۔جو لوگ کام کرنے کے قابل نہ ہوں، یا عارضی یا مستقل طور پر ناقابل کار ہوجائیں، یا بیماری، زچگی اور دوسرے مختلف حالات کی وجہ سے جن کو مدد کی ضرورت پیش آئے ان کو ایک مشترک فنڈ سے مدد۔۔۔‘‘ دینا شامل ہے۔ (ا ج م ن: ۵۴)

منفی پہلو

٭ زمین اور کارخانوں کا انفرادی ملکیت سے اجتماعی ملکیت میں انتقال ایک خونیں عمل تھا۔ ’’اندازہ کیا گیا کہ۔۔۔ تقریباً ۱۹؍لاکھ آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، ۲۰؍لاکھ آدمیوں کو مختلف قسم کی سزائیں دی گئیں، اور چالیس پچاس لاکھ آدمیوں کو ملک چھوڑکر دنیا بھر میں تتر بتر ہوجانا پڑا۔‘‘ (ا ج م ن: ۵۵)پھر اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے پورے دور اقتدار میں اس غیر فطری انقلاب کو برقرار رکھنے کے لئے روس کی کمیونسٹ حکومت عوام کو ’تطہیر‘ کے عمل سے گزارتی رہی، ’رجعت پسند‘ اور ’انقلاب مخالف‘ لوگوں کو چن چن کر موت اور جلاوطنی کی سزائیں دیتی رہی۔ عام لوگوں کا کیا کہنا لاکھوں کی تعداد میں کمیونسٹ پارٹی کے ممبران ہی صاف کردیے گئے۔ رجعت پسندوں کو سونگھتے پھرنے کے لئے جاسوسی کا ایک وسیع و عریض نظام قائم کیا گیا۔ ’’روس کی پولس اور سی آئی ڈی کا ’محتاط‘ نظریہ یہ ہے کہ اگر بھول چوک سے چند سو یا چند ہزار بے گناہ آدمی پکڑے اور مارڈالے جائیں تو یہ اس سے بہتر ہے کہ چند گنہگار چھوٹ جائیں (۱۳)اور ان کے ہاتھوں سے جوابی انقلاب برپا ہوجائے۔‘‘ (ا ج م ن: ۶۶)

٭ فرد کو اس کی ملکیت سے محروم کردینے کا عمل مسلمہ اخلاقی اصولوں کے خلاف تھا لہذا مذہب اور اخلاق کو سختی سے رد کیا گیا۔ مولانا مودودیؒ لینن کے الفاظ نقل کرتے ہیں جس میں وہ عالم بالا کے کسی تصور پر مبنی ہر تصور اخلاق کا انکار کرتا ہے؛ اس بات کا انکار کرتا ہے کہ اخلاق کچھ ازلی و ابدی اصول ہیں اور کہتا ہے، ’’ہر وہ چیز اخلاقاً بالکل جائز ہے جو پرانے نفع اندوز اجتماعی نظام کو مٹانے اور محنت پیشہ طبقوں کو متحد کرنے کے لئے ضروری ہو۔ ‘‘(ا ج م ن: ۵۶)

٭ سرکاری ملکیت کی اسکیم روس میں جیسے ہی نافذ ہوئی رشوت، خیانت، غبن۔۔۔ الغرض کرپشن کا سنگین مسئلہ پیدا ہوگیا۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں کہ ’’روس کے ’آہنی پردے‘ سے چھن چھن کر جو خبریں وقتاً فوقتاً باہر آجاتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہاں عمالِ حکومت اور مختلف معاشی اداروں کے ارباب انتظام نے ’بدکرداری‘(Corruption) ایک اچھا خاصا سخت مسئلہ پیدا کردیا ہے۔‘‘ (ا ج م ن: ۵۷)

٭ انسان کی فطرت میں خودغرضی اور ذاتی نفع کی طلب ہوتی ہے جس کو منضبط کرنا اور حدود میں رکھنا انسانی سماج کا کام ہوتا ہے۔ روس کے اشتراکی انقلاب کے بعد انسانوں کے اس جذبے کے جائز اظہار پر مکمل پابندی لگ گئی۔ اشتراکیوں کا دعوی تھا کہ ماحول بدلتے ہی انسان کی فطرت بھی بدل جائے گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ ’’۔۔۔جب انہوں نے افراد کی نفع طلبی کے لئے زراعت، صنعت، تجارت اور دوسرے فائدہ مند کاروبار کے فطری راستے بند کردیے اور مصنوعی پروپگینڈہ کے ذریعہ سے اس نفع طلبی کے صاف اور سیدھے اور معقول مظاہر کو خواہ مخواہ معیوب ٹھہرادیا، تو یہ جذبہ اندر دب گیا، اور انسان کے تمام دوسرے دبے ہوئے جذبات کی طرح اس نے بھی منحرف (pervert) ہوکر اپنے ظہور کے لئے ایسی غلط راہیں نکال لیں۔۔۔‘‘ جس نے سماج کی جڑیں اندر ہی اندر کھوکھلی کردیں۔ ’’اشتراکی معاشرے میں رشوت، چوری، غبن، اور اسی طرح کی دوسری برائیوں کے بڑھنے میں اس چیز کا بڑا دخل۔۔۔‘‘رہا۔ (ا ج م ن: ۵۹)

٭ اجتماعی ملکیت کے پورے فلسفے کی بنیاد یہ ہے کہ قوم کے افراد کے درمیان منافع کی تقسیم مساویانہ بنیادوں پر ہو۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ’’حکومت کے تمام شعبوں اور معاشی کاروبار کے تمام اداروں میں ادنی ملازمین اور اعلیٰ عہدہ داروں کے درمیان معاوضوں میں اتنا ہی فرق۔۔۔‘‘ پایا گیا جتنا کہ کسی بورژوا سماج میں پایا جاتا تھا۔ (ا ج م ن: ۶۰) کل منافع جو حکومت کے پاس جمع ہوتا ہے اس کا ’’مبالغہ کے ساتھ بمشکل ایک یا دو فیصدی‘‘ حصہ ہی سوشل انشورنس کے کاموں پر صرف ہو پاتا تھا۔

٭ روس پر اشتراکی انقلاب کے نتیجے میں روزگار، اس کے نتیجے میں خوراک، اور کسی حد تک سوشل انشورنس کا انتظام تو ہوگیا لیکن روسی باشندوں پر تاریخ انسانی کی بدترین ڈکٹیٹرشپ مسلط ہوگئی۔ ’’اور یہ ڈکٹیٹرشپ بھی کچھ ہلکی پھلکی سی نہیں۔ اجتماعی ملکیت کے معنی یہ ہیں کہ ملک کے تمام زمیندار ختم کردیے گئے اور ایک وحدہ لا شریک زمیندار سارے ملک کی زمین کا مالک ہوگیا۔ سارے کارخانہ دار اور تجار اور مستاجر بھی ختم ہوگئے اور ان سب کی جگہ [ایک]ایسے سرمایہ دار نے لے لی جو ذرائع پیداوار کی ہر قسم اور ہر صورت پر قابض ہوگیا اور پھر اسی کے ہاتھ میں سارے ملک کی سیاسی طاقت بھی مرکوز ہوگئی۔‘‘ (ا ج م ن: ۶۳)

اشتراکیت پر گفتگو مولانا مودودیؒ اس سوال پر ختم کرتے ہیں:

بلاشبہ ایک فاقہ کش آدمی بسا اوقات بھوک کی شدت سے اتنا مغلوب ہوجاتا ہے کہ وہ جیل کی زندگی کو اپنی مصیبت بھری آزادی پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ صرف اس لئے کہ وہاں کم از کم دو وقت کی روٹی، تن ڈھانکنے کو کپڑا اور سر چھپانے کو جگہ تو نصیب ہوگی۔ مگر کیا اب پوری نوع انسانی کے لئے فی الواقع یہ مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کہ اسے روٹی اور آزادی دونوں ایک ساتھ نہیں مل سکتیں؟ کیا روٹی ملنے کی اب یہی ایک صورت باقی رہ گئی ہے کہ ساری روئے زمین ایک جیل خانہ ہو اور چند کامریڈز اس کے جیلر اور وارڈر ہوں؟(ا ج م ن: ۶۷)

فاشزم اور نازی ازم

آج ہم فاشزم اور نازی ازم کے نام پر چاہے کتنی ہی ناک سکیڑیں، جنگ عظیم اول و دوم کے درمیان ایک زمانہ تھا جب اسے قوم کی فلاح کے ایک مقبول عام نظریے کی حیثیت حاصل تھی۔ مسولینی اور ہٹلر نے جس کامیابی کے ساتھ اپنے شکست خوردہ ممالک کو ترقی کے زینے چڑھائے تھے اس نے دنیا بھر میں ان گنت افراد پر ایک چھاپ چھوڑی تھی۔ یہ اتفاق نہیں ہے کہ اس زمانے میں ہندوؤں میں آر ایس ایس اور مسلمانوں میں خاکسار جیسی نیم عسکری تحریکیں شروع ہوئیں۔(۱۴) آر ایس ایس کے ابتدائی لٹریچر میں تو کھل کر ہٹلر اور اس کے طریقہ کار کی تعریف کی گئی ہے اور ہندوستان میں بالخصوص اقلیتوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اس کے اسوے پر عمل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ (۱۵)

اشتراکیوں کا دعوی ہے کہ ہٹلر اور مسولینی سرمایہ داروں کے ایجنٹ تھے، مولانا مودودیؒ کے نزدیک ایسا نہ تھا بلکہ وہ ’’مارکس اور لینن ہی کی طرح کے لوگ تھے۔ ویسے ہی مخلص، ویسے ہی ذہین، اور ویسے ہی کج فہم۔‘‘(ا ج م ن: ۶۹) یہ لوگ بے قید معیشت کی زیادتیاں بھی دیکھ چکے تھے اور پھر روسی انقلاب کے بعد اشتراکیت کی تباہ کاریاں بھی۔ پھر انہیںاس بات کا غم بھی تھا کہ اس نظریاتی کھینچ تان کی وجہ سے ان کی قوم کا افتخار مٹی میں مل گیا ہے اورسخت مصیبت کی گھڑی میں بھی قوم میں باہم افتراق کی جڑیں مضبوط سے مضبوط ترہوتی جارہی ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس بات کی تدبیر سوچنی شروع کی کہ اپنی قومی وحدت کو تقویت پہنچائیں اور معاشی و سیاسی لحاظ سے اپنی قوم کو عظمت کی بلندیوں پر فائز کریں۔ ’’لیکن‘‘ مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں ’’وہ اور ان کے حامی اور پیرو سب کے سب مغربی ذہن کی ان ساری کمزوریوں کے وارث تھے جنہیں ہم تاریخ میں مسلسل کارفرما دیکھتے چلے آرہے ہیں۔ اپنے پیش رو مفکرین و مدبرین کی طرح انہوں نے بھی یہی کیا کہ چند صداقتوں کو لے کر ان کے اندر بہت سے مبالغے کی آمیزش کی، چند صداقتوں کو ساقط کرکے ان کی جگہ چند حماقتیں رکھ دیں، اور اس ترکیب سے ایک نیا غیر متوازن نظام زندگی بنا کھڑا کیا۔‘‘ (ا ج م ن: ۷۰)

فاشزم جنگ عظیم دوم کے بعد ایک متبادل کی حیثیت سے اپنی افادیت کھوچکا ہے۔ مولانا مودودیؒ بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جنگ عظیم دوم کے بعد فاشزم اور نازی ازم دونوں جڑواں بھائی بظاہر مرچکے ہیں ’’لیکن‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’ان کی پھیلائی ہوئی بہت سی بدعتیں بدلے ہوئے ناموں سے مختلف ملکوں میں اب بھی موجود ہیں اور خود ہمارا ملک بھی ان بلاؤںسے محفوظ نہیں ہے۔‘‘ (ا ج م ن: ۷۰) واقعی ہمارا ملک تو آج بھی اس بلا سے محفوظ نہیں ہے۔ خیر، اس کے بعد مولانا مودودیؒ فاشزم کے میزانیہ نفع و نقصان کا جائزہ لیتے ہیں۔

فاشزم کے مثبت پہلو

٭ فاشزم نے یہ صحیح رائے قائم کی کہ زمیندار و سرمایہ دار اور محنت پیشہ طبقات کے درمیان فطری تعلق نفرت اور جنگ کا نہیں بلکہ تعاون و تعامل کا ہے۔ عملی اقدام کے طور پر انہوں نے اجیروں اور مستاجروں کی مشترک کونسلیں بنائیں تاکہ تعاون باہمی کے اصول پر معیشت آگے بڑھ سکے۔

٭ فاشزم نے (اشتراکیت کی طرح )انفرادی ملکیت اور ذاتی نفع طلبی کا انکار نہیں کیا۔ اسے اجتماعی مفاد کے خلاف نہیں سمجھا۔ البتہ نظام سرمایہ داری کی طرح ان اصولوں کو بے قید نہیں چھوڑا۔ مولانا مودودیؒ حاشئے میں یہ بھی کہتے ہیں کہ نازی اور فاشسٹ دونوں سود کو بند کرنے کے قائل تھے اگرچہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔

٭ فاشزم نے اس لبرل خیال کی بھی پرزور تردید کی کہ حکومت کا کام صرف امن و امان کا قیام اور تنازعات کا تصفیہ ہے۔ ’’انہوں نے کہا کہ قومی معیشت کے مختلف عناصر کے درمیان ہم آہنگی اور توافق اور تعاون پیدا کرنا اور نزاع و کشمکش کے اسباب کو دور کرنا قومی ریاست کے فرائض میں سے ہے۔‘‘(اج م ن : ۷۲)

٭ فاشسٹوں نے بڑے پیمانے پر سوشل انشورنس کا اہتمام کرکے نظام سرمایہ داری کی اس خرابی کو دور کیا جس میں کوئی فرد عمر یا حادثے کی وجہ سے ناکارہ ہوتے ہی بے سہارا ہوجاتا تھا۔ خدمت کے اس طرح کے وسیع ادارے قائم کئے گئے جن میں بچے، بیوہ، بیمار، بوڑھے، اور بیکار کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ ’’جنگ سے پہلے جرمنی میں اس طرح کا جو ادارہ قائم تھا اس نے تقریباً۵۰ لاکھ افراد کو سنبھال رکھا تھا۔‘‘(اج م ن : ۷۳)

٭ قومی معیشت کی رہنمائی اور تنظیم کا کام ریاست نے سنبھالا۔ معاشی زندگی کے تمام شعبوں کی کونسلیں بنائیں۔ وسائل کے منظم استعمال پر توجہ دی، پیداوار میں حیرت انگیز اضافہ کیا اور یوں بیروزگاری کے مسئلے کا خاتمہ کردیا۔ ’’۱۹۳۳ء میں جب نازی پارٹی بر سر اقتدار آئی تھی تو جرمنی میں تقریباً ۸۰ لاکھ آدمی بیکار تھے مگر چند سال بعد نوبت یہ آگئی کہ جرمنی کو کارکنوں کی کمی کا شکوہ تھا۔‘‘ (ا ج م ن: ۷۴)

منفی پہلو

٭ ’’نازی اور فاشی حضرات نے طبقاتی منافرت کے افتراق انگیز اثرات کا مداوا قوم پرستی کی شراب سے، نسلی فخر و غرور کے جنون سے، اور دوسری قوموں کے خلاف غیظ و غضب کے اشتعال سے اور عالمگیری و جہاں کشائی کے جذبات سے کیا۔۔۔‘‘ اور یوں طبقاتی کشمکش کو قومی و نسلی کشمکش سے بدل دیا۔ جنون کا علاج کرنے کے بجائے اس کا رخ موڑ دیا۔ (ا ج م ن: ۷۴)

٭ اشتراکیت کی طرح نہیں لیکن فاشزم نے بھی فرد کی انفرادیت کا خون کیا۔ انہوں نے پارٹی، ریاست اور قوم کو باہم خلط ملط کردیا۔ مولانا مودودیؒ کے الفاظ میں:

ہر اس شخص کو قوم اور قومی ریاست کا دشمن قرار دے دیا گیا جس نے بر سر اقتدار پارٹی سے کسی معاملہ میں اختلاف کی جرأت کی۔ تنقید اور بحث اور آزادیٔ رائے کو ایک خطرناک چیز بنادیا گیا۔ ایک پارٹی کے سوا ملک میں کوئی دوسری پارٹی زندہ نہ رہنے دی گئی۔ انتخاب محض ایک کھیل بن کر رہ گئے۔ قوم کے دماغ پر ہر طرف سے مکمل احاطہ کرنے کے لئے پریس، ریڈیو، درسگاہ، آرٹ، لٹریچر اور تھیٹر کو بالکل حکمراں پارٹی کے قبضہ میں لے لیا گیا تاکہ قوم کے کانوں میں ایک آواز کے سوا کوئی دوسری آواز پہنچنے ہی نہ پائے۔ یہی نہیں بلکہ ایسی تدبیریں اختیار کی گئیں کہ اول تو غالب پارٹی کی رائے کے سوا کوئی رائے دماغوں میں پیدا ہی نہ ہو، اگر کچھ نالائق دماغ ایسے نکل آئیں جو خداوندان ملت کے خیالات سے مختلف خیالات رکھتے ہوں تو یا تو ان کے خیالات ان کے دماغ ہی میں دفن رہیں یا پھر ان کے دماغ زمین میں دفن ہوجائیں۔(ا ج م ن: ۷۵)

٭ فاشسٹوں نے مرکزی منصوبہ بندی پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی جس کے نتیجے میں تمام افراد بالکل ایک مشین کے کل پرزے بن گئے۔ ان کا یہ خیال غلط تھا کہ پیداوار ترقی اور خوشحالی کے لئے بس یہی ایک راستہ ہے۔ اس بے اعتدالی کی وجہ سے ’’انہوں نے سارے ملک کی زندگی کو اس کے تمام معاشی، تمدنی، مذہبی، تہذیبی اور سیاسی پہلوؤں سمیت ایک ضابطے میں کس ڈالااور ایک لگے بندھے منصوبے پر چلانا شروع کیا۔‘‘ یہ اس ’’منصوبہ بند زندگی کی اندرونی منطق‘‘ کا تقاضا تھا کہ وہ کسی اختلاف رائے اور تنقید کو برداشت کرنے کے روادار نہ تھے۔ (ا ج م ن: ۷۶)مولانا مودودیؒ یہ بحث اس سوال پر ختم کرتے ہیں: ’’نازی اور فاشی مسلک جو کچھ دیتے ہیں کیا وہ اس قیمت پر لینے کے قابل ہے؟ ساری قوم میں چند انسان تو ہوں انسان؛ اور باقی سب بن کر رہیں مویشی، بلکہ ایک مشین کے بے جان پرزے۔ اس قیمت پر یہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ سب کو چارہ برابر ملتا رہے گا۔ ‘‘(ا ج م ن: ۷۷)

نیشنلزم

نیشنلزم اپنے آپ میں ایک اضافی نظریہ ہے۔ ہر قوم کا نیشنلزم دوسری قوم کے نیشنلزم سے الگ اور ممتاز ہوتا ہے۔ ’’نیشنلزم کے معنی ہی یہ ہیں کہ ہر قوم کا نیشنلسٹ اپنی قومیت کو دوسری قومیت پر ترجیح دے۔‘‘ایک قوم پرستAggressive نیشنلسٹ بھی ہوسکتا اور نہیں بھی لیکن وہ بہرحال تمدنی، معاشی، سیاسی اور قانونی حیثیت سے قومی اور غیر قومی میں فرق کرے گا۔ اپنی تاریخی روایات، روایتی تعصبات اور قومی تفاخر کے جذبات کی پرورش کرے گا۔ ’’وہ دوسری قومیت کے لوگوں جو مساوات کے اصول پر زندگی کے کسی شعبہ میں بھی اپنے ساتھ شریک نہ کرے گا۔‘‘ اس کا نصب العین جہانی ریاست (World State) نہیں بلکہ قومی ریاست (Nation State) ہوگا۔ بالفرض ’’اگر وہ کوئی جہانی نظریہ اختیار کرے گا بھی تو اس کی صورت لازماً امپیریلزم یا قیصریت کی صورت ہوگی‘‘۔ (م ق: ۱۱۱-۱۱۰)اس کے ’اضافی‘ہونے کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ دوسرے نظریات بھی وقتاً فوقتاً سہولت کے اعتبار سے قومیت کا لبادہ اوڑھتے رہتے ہیں۔ (۱۶)

قوم دراصل ساتھ رہنے؛ اس یکجائی و یکسانیت کی وجہ سے پیدا شدہ اغراض و مصالح کے اشتراک اور باہمی تعاون کے نتیجے میں بنتی ہے۔ اس طرح کثرت میں وحدت پیدا ہوتی ہے اور ’’تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس اجتماعی وحدت کا دائرہ بھی وسیع ہوتا چلا جاتا ہے،‘‘۔ (۱۷)جب قومیت کا یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے تو ’’۔۔۔لازمی طور پر ’عصبیت‘ کا رنگ اس میں آجاتا ہے،‘‘ قومیت کا احساس جتنا قوی یا کمزور ہوتا ہے، یہ عصبیت بھی اسی مناسبت سے زورآوریا مضمحل ہوتی ہے۔ جب افراد کا کوئی مجموعہ بحیثیت قوم ایک رشتہ اتحاد میں منسلک ہوجائے گا تو وہ لازماً اپنوں اور غیروں کے درمیان امتیاز کرے گا۔ یہ عصبیت و حمیت، قومیت کا لازمی خاصہ ہے۔ ’’قومیت کا قیام وحدت و اشتراک کی کسی ایک جہت سے ہوتا،، خواہ وہ کوئی جہت ہو۔ البتہ شرط یہ ہے کہ اس میں ایسی زبردست قوت رابطہ و ضابطہ ہونی چاہئے کہ اجسام کی تعداد اور نفوس کے تکثر کے باوجود وہ لوگوں کو ایک کلمہ ، ایک خیال، ایک مقصد اور ایک عمل پر جمع کردے اور قوم کے مختلف کثیرالتعداد اجزاء کو قومیت کے تعلق سے اس طرح بستہ و پیوستہ کردے کہ وہ سب ایک ٹھوس چٹان بن جائیں،‘‘۔ تاریخ میں عام طور پر قومیں نسل، وطن، زبان ، رنگ، معاشی اغراض یا نظام حکومت کے اشتراک سے بنی ہیں۔ ’’قدیم ترین عہد سے لے کر آج بیسویں صدی کے روشن زمانے تک جتنی قومیتوں کے عناصر اصلیہ کا آپ تجسس کریں گے، ان سب میں آپ کو یہی مذکورہ بالا عناصر ملیں گے۔ اب سے دو تین ہزار برس پہلے یونانیت، رومیت، اسرائیلیت، ایرانیت وغیرہ بھی انہی بنیادوں پر قائم تھیں جن پر آج جرمنیت، اطالویت، فرانسیسیت، انگریزیت اور جاپانیت وغیرہ قائم ہیں۔‘‘ (م ق: ۱۰-۷)

نیشنلزم کے مثبت پہلو

٭ دنیا کی مختلف قوموں نے قومیت کی بنیادوں پر بڑی قوت کے ساتھ اپنی شیرازہ بندی کی ہے۔

٭ یورپ میں کلیسا کے تسلط، شہنشاہیت اور نظام جاگیرداری کے خاتمے میں جس تحریک اصلاح کا رول رہا اسی تحریک نے یورپی قومیت کو جنم دیا۔ یورپی اقوام نے قومیت کے جذبے سے سرشار ہوکر زبان اور لٹریچر سے لے کر صنعت و تجارت اور علوم و فنون کو ترقی دی۔

٭ ایشیائی و افریقی ممالک کو نوآبادیاتی تسلط سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

منفی پہلو

٭ نیشنلزم انسانوں کے درمیان ناقابل عبور دیواریں کھڑی کردیتا ہے۔ چونکہ کوئی بھی فرد اپنی نسل، (مادری) زبان، مقام پیدائش اور جلد کے رنگ کو نہیں بدل سکتالہذا ان اتفاقی پہچانوں پر بننے والی قومیتوں کے درمیان نفرت و عداوت بالکل فطری ہے اور بقائے باہم ایک استثنائی صورتحال۔ (۱۸) ’’الجہاد فی الاسلام ‘‘ اور دیگر تحریروں میں مولانا مودودیؒ نے جنگ عظیم کے لئے مغربی ممالک کی قومی دست درازیوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں جانوں کا اتلاف ہوا۔

٭ مولانا مودودی قومیت کے عناصر پر عقلی تنقید کرکے ان کے بودے پن کو واضح کرتے ہیں۔ مثلاً نسل پرستی مشترکہ خون کی بنیاد پر قائم ہے۔ نسل کبھی بھی سو فیصدی خالص نہیں ہوتی بلکہ اس میں مختلف ذرائع سے دوسرے خون شامل ہوتے رہتے ہیں۔ ان آلودگیوں کے باجود اگر مشترک خون کی بنیاد پر اکٹھا ہوا جاسکتا ہے تو کیوں نہ اس مشترک خون کی بنیاد پر اکٹھا ہوا جائے جو آدمؑ و حواؑ کے ذریعہ تمام انسانوں میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح مقام پیدائش کا اشتراکایک لغو اور مہمل بات ہے کیونکہ انسان جس جگہ پیدا ہوتا ہے وہ ایک مربع میٹر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اگر ایک مربع میٹر مقام پیدائش ہونے کے باوجود پورا ملک ایک فرد واحد کا وطن ہوسکتا ہے تو پوری دنیا کیوں نہیں؟ زبان کی یکسانیتکا ایک فائدہ یہ ضرور ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن زبان کی یکسانیت اور خیال کی یکسانیت میں فرق ہے۔ زبان خیال کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ لوگوں کے افکار و نظریات کو چھوڑ کر ان افکار و نظریات کی ترسیل کے ذریعے کی بنیاد پر ان کی درجہ بندی مضحکہ خیز ہے۔ جلد کے رنگ کی بنیاد پر قومیت مضحکہ خیز ہے۔ رنگ ایک جسمانی وصف ہے۔ انسان اپنے جسم کی وجہ سے انسان نہیں ہے بلکہ اپنی روح کی وجہ سے انسان ہے ۔ انسانوں کو رنگ کے بجائے ان کے افکار و خیالات کی بنیاد پر تولا جانا چاہئے۔ معاشی مفادات کی بنا پر جو قومیت وجود میں آتی ہے وہ افراد قوم میں حیرتناک حد تک خودغرضی اور مفادپرستی پیدا کرتی ہے۔ ایسی معیشت حقیقتاً آزاد نہیں ہوتی خصوصاً ’دوسروں‘ کومعاشی مواقع کم سے کم حاصل ہوں اس کا خیال رکھا جاتا ہے۔ نوآبادیاتی تسلط اس نیشنلزم کی بدترین شکل ہے۔ اور جب ایسی کئی طاقتور قومیں کمزور قوموں پر ٹوٹ پڑتی ہیں تو کمزور قومیں تو تباہ ہوتی ہی ہیں، اخیر میں طاقتور قومیں بھی ایک دوسرے سے ٹکرا کر برباد ہوجاتی ہیں۔  سیاسی قومیت جو ایک علاقے، ملک یا سلطنت میں رہنے کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بہت دیرپا نہیں ہوتی۔ ایسی قومیت اسی وقت تک مضبوط ہوتی ہے جب تک علاقوں پر مرکزی حکومت کی پکڑ مضبوط ہو۔ جیسے ہی مرکز کی گرفت کمزور ہوئی، مختلف ذیلی قومیتیں سر اٹھانا شروع کردیتی ہیں۔ (م ق: ۲۰-۱۴)

٭ قومیت کثرتیت کے خلاف ہے اور چاہتی ہے کہ افراد کو ’’۔۔۔ایسے رنگ میں ۔۔۔ڈھالا جائے کہ وہ آہستہ آہستہ تمام افراد اور طبقوں اور گروہوں کو ہمرنگ کردیں، ان کو ایک سوسائٹی بنادیں، ان کے اندر ایک مشترک اجتماعی مزاج اور مشترک اخلاقی روح پیدا کردیں، ان کے اندر ایک طرح کے جذبات و احساسات پھونک دیں اور ان کو ایسا بنادیں کہ ان کی معاشرت ایک ہو، طرز زندگی ایک ہو، ذہنیت اور انداز فکر ایک ہو، ایک ہی تاریخ کے سرچشمے سے وہ افتخار کے جذبات اور روح کو حرکت میں لانے والے محرکات حاصل کریں اور ان کے درمیان ایک دوسرے کے لئے کسی چیز میں بھی کوئی نرالاپن باقی نہ رہے۔‘‘ (م ق: ۹۹-۹۸)

مولانا مودودی کے مطابق قوموں کے بننے کی یہ تمام بنیادیں کھوکھلی اور یک رخی ہیں۔ فرماتے ہیں:

کیا انسان کے لئے اس سے زیادہ غیر معقول ذہنیت اور کوئی ہوسکتی ہے کہ وہ نالائق، بدکار، اور شریر آدمی کو ایک لائق، صالح، اور نیک نفس آدمی پر صرف اس لئے ترجیح دے کہ پہلا ایک نسل میں پیدا ہوا ہے اور دوسرا کسی اور نسل میں؟ پہلا سپید ہے اور دوسرا سیاہ؟ پہلا ایک پہاڑ کے مغرب میں پیدا ہوا ہے اور دوسرا اس کے مشرق میں؟ پہلا ایک زبان بولتا ہے اور دوسرا کوئی اور زبان؟ پہلا ایک سلطنت کی رعایا ہے اور دوسرا کسی اور سلطنت کی؟ کیا جلد کے رنگ کو روح کی صفائی وکدورت میں بھی کوئی دخل ہے؟ کیا عقل اس کو باور کرتی ہے کہ اخلاق و اوصافِ انسانی کے صلاح و فساد سے پہاڑوں اور دریاؤں کا کوئی تعلق ہے؟ کیا کوئی صحیح الدماغ انسان یہ تسلیم کرسکتا ہے کہ مشرق میں جو چیز حق ہو وہ مغرب میں باطل ہوجائے؟ کیا کسی قلبِ سلیم میں اس چیز کے تصور کی گنجائش نکل سکتی ہے کہ نیکی، شرافت، اور جوہر انسانیت کو رگوں کے خون، زبان کی بولی،مولد و مسکن کی خاک کے معیار پر جانچا جائے؟ یقینا عقل ان سوالات کا جواب نفی میں دے گی؛ مگر نسلیت، وطنیت اور اس کے بہن بھائی نہایت بیباکی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہاں ایسا ہی ہے۔(م ق: ۱۳)

مغربی نظریات پر مولانا مودودیؒ کی تنقید

مغربی نظریات پر مولانا مودودیؒ نے جو مطالعہ پیش کیا ہے اس کی خصوصیات درج ذیل ہیں:

٭ گہری سمجھ: مولانا مودودیؒ نے ان نظریات کا پرائمری سورسس سے مطالعہ کیا ہے۔ چنانچہ وہ کیپٹلزم پر بحث کرتے ہوئے ایڈم اسمتھ، کمیونزم پر بحث کرتے ہوئے لینن اور فاشزم پر بحث کرتے ہوئے ہٹلر کا حوالہ دیتے نظر آتے ہیں۔ مطالعہ اگر پرائمری سورسس سے ہو تو ایک گہری سمجھ پیدا ہوتی ہے جو کسی دوسری طرح نہیں پیدا ہوسکتی۔ ان نظریات کی گہری سمجھ ہی کا نتیجہ ہے کہ مولانا موددیؒ اپنے مطالعے میں یہ تک بتانے میں کامیاب ہیں کہ ان نظریات نے کب اور کہاں اپنے ہی مسلمہ اصولوں کو پامال کیا ہے۔

٭ خذ ما صفا ودع ما کدر: مغرب کے سلسلے میں جو بے اعتدالی پائی جاتی تھی کہ ایک فکر سے مرعوب گروہ اندھی تقلید اور دوسرا غضب سے مغلوب گروہ اندھی تغلیط میں مشغول تھا۔ مولانا مودودیؒ نے ان دونوں گروہوں کے درمیان اعتدال کی راہ اختیار کی۔ یہاں تک کہ جب ان نظریات پر تنقید بھی کی تو ان کے مثبت پہلوؤں کا انکار نہیں کیا، انہیں سامنے رکھ کر کہا کہ جس قیمت پر یہ فوائد حاصل ہورہے ہیں وہ انسانیت کے لئے مہنگا سودا ہے۔

٭ سائنٹفک مطالعہ: مولانا مودودیؒ کے اس جائزے کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہاں چیزیں ریاضی کے اصولوں کی طرح واضح ہیں۔ سوشل سائنس کی کوئی کتاب پڑھئے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر باب میں اچانک ایک نیا نظریہ پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن مولانا مودودیؒ کی وقت کے تاریخی عوامل پر گہری نظر ہے، اور ان نظریات کے وجود میں آنے کی داستان وہ تفصیل سے سناتے ہیں۔ اس کی وجہ سے قاری کے ذہن میں ایک ڈھانچہ بنتا چلاجاتا ہے۔ اس ڈھانچے میں یہ سارے نظریات الگ الگ نہیں بلکہ جدید جاہلیت کے ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں نظر آتے ہیں۔

٭ مغربی ذہن کا مطالعہ: نظریات کے اس مطالعہ کے دوران مولانا مودودیؒ ان نظریات کی تخلیق کرنے والے ذہنوں کو بھی سامنے رکھتے ہیں جس سے مغربی اذہان کی قوت اور کمزوریوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ خود غرضی(ا ج م ن :۱۵، ۱۹)، انتہا پسندی (ا ج م ن : ۱۴، ۲۰، ۴۴-۴۳، ۸۹-۸۸)، مبالغہ آمیزی (۱۹)(ا ج م ن: ۲۰،۲۷،۷۰ ) وغیرہ کا تفصیل سے ذکر ہوچکا ۔ فرماتے ہیں، ’’مغربی ذہن کی دلچسپ کمزوریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اپچ کو بہت پسند کرتا ہے، خصوصاً جب کہ وہ نہات لغو ہو اور اس کا پیش کرنے والا بے دھڑک اور بے جھجک ہوکر بڑے سے بڑے مسلمات کو کاٹتا چلا جائے اور اپنے دعاوی کو ذرا سائنٹفک طریقہ سے اتنا مرتب کرلے کہ ان کے اندر ایک ’سسٹم‘ پیدا ہوجائے۔‘‘ (ا ج م ن: ۵۰) مغرب کے اندھے مقلدین میں بھی ذہن و فکر کی یہ کمزوریاں در آتی ہیں اور مشرقی کمزوریوں کے ساتھ مل کر برگ و بار لاتی ہیں مثلاً مولانا مودودیؒ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ مغرب ’’۔۔۔کے اناڑی کم از کم مجتہد تو ہیں۔ لیکن یہاں جو حضرات مطب کھول بیٹھے ہیں وہ اناڑی پن کے ساتھ ساتھ مقلد بھی ہیں۔ مغرب کے اناڑی نقصان ہوتے دیکھیں گے تو نسخے میں کچھ ردوبدل کرلیں گے۔ مگر یہاں مغرب ہی سے کسی ردوبدل کی اطلاع آجائے تو بات دوسری ہے ورنہ ڈاکٹر مریض کی آخری ہچکی تک انشاء اللہ ایک ہی نسخہ پلاتا رہے گا۔‘‘ (ا ج م ن: ۸۸)

٭ داعیانہ جذبہ: مغربی نظریات کے اس جائزے سے صرف ہماری معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ داعیانہ جذبہ بھی حرکت میں آتا ہے۔ وحی الہٰی کی روشنی سے محروم ہوکر انسانیت کیسی تاریکیوں میں بھٹک رہی ہے اس پر دل تڑپ اٹھتا اور ایک مسلمان کو اپنی ذمہ داریوں کے بڑھے ہوئے ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ احساس کمتری یا فکری اضمحلال کی کیفیت اگر کسی میں ہو تو توفیق الٰہی سے دور ہوجاتی ہے:

جس طرح کمیونسٹ اپنا ایک نظریہ رکھتا ہے، اسی طرح مسلمان بھی اپنا ایک نظریہ رکھتا ہے۔ پھر وہ کیوں اتنا ادنی اور پست ہوجائے کہ کسی نقصان سے بچنے یا کسی کی نگاہ میں وقار قائم کرنے کے لئے اپنے مقام سے ہٹ جائے؟ اور اگر وہ اپنے مقام سے ہٹتا ہے تو اس میں کم از کم اس بات کا شعور تو ہونا چاہئے کہ وہ کس چیز سے ہٹ رہا ہے اور کس چیز کی طرف جا رہا ہے۔ کیونکہ اپنی جگہ چھوڑنا تو محض کمزوری ہے، مگر ایک جگہ سے ہٹ جانے کے باوجود اپنے آپ کو اسی جگہ سمجھنا کمزوری کے ساتھ بے شعوری بھی ہے۔ میں ’مسلمان‘ صرف اس وقت تک ہوں جب تک میں زندگی کے ہر معاملے میں اسلامی نظریہ رکھتا ہوں۔ جب میں اس نظریہ سے ہٹ گیا اور کسی دوسرے نظریہ کی طرف چلا گیا تو میری جانب سے یہ سراسر بے شعوری ہوگی اگر میں یہی سمجھتا رہوں کہ اس نئے مقام پر بھی مسلمان ہونے کی حیثیت میرے ساتھ لگی چلی آئی ہے۔ مسلمان ہوتے ہوئے غیر اسلامی نظریہ اختیار کرنا صریح بے معنی بات ہے۔ ’مسلمان نیشنلسٹ‘ اور ’مسلمان کمیونسٹ‘ ایسی ہی متناقض اصطلاحیں ہیں جیسے ’کمیونسٹ فاشسٹ‘ یا ’جینی قصائی‘ یا ’اشتراکی مہاجن‘ یا ’موحد بت پرست‘۔ (م ق: ۱۰۹-۱۰۸)

٭ اسلام ایک نظام حیات: مولانا مودودیؒ کے اس مطالعہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ تنقید پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اسلام کو ایک متبادل کے طور پر کامیابی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔۔۔ ایک ایسے متبادل کے طور پر جس میں ان نظریات کی خامیاں نہیں پائی جاتی البتہ تمام خوبیاں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔مولانا مودودیؒ قدم قدم پر یہ واضح کرتے ہوئے چلتے ہیں کہ ایسا صرف اس لئے ممکن ہوسکا ہے کیونکہ اسلام کسی انسان کا نہیں جس کی عقل زمان و مکان، خواہشات و تعصبات سے محدود ہو بلکہ خالق کائنات کا بنایا ہوا نظام زندگی ہے جس کی نظر سارے زمان و مکان پر محیط ہے اور جو کسی قسم کی محدودیت کا شکار نہیں ہے۔

٭ آگے کرنے کا کام: مولانا مودودیؒ کے علمی و فکری کام کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عصری نظریات پر مولانامودودیؒ نے جو بحثیں کی ہیں وہ اصولی نوعیت کی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان نظریات کے تفصیلی مباحث پر بھی اسلام کی روشنی میں بات کی جائے۔ ان نظریات پر بحث کرتے ہوئے ان کا معاشی پہلو غالب  رہا ہے، سیاسی و عمرانی پہلو پرتوجہ مرکوز  فوکس کرتے ہوئے اس کام کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان نظریات کے عملی ماڈل جو پچھلی صدی میں پیش کئے گئے ان کے تعلق سے بہت سی نئی تاریخی معلومات منظر عام پر آئی ہیں، اس معلومات کے استعمال سے اس تاریخی تنقید کو مزیدجامع و  نوکدار بنانا بھی ایک کام ہے۔ ان تمام نظریات نے شاخ در شاخ ترقی کی ہے،اس تبدیلی کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ متعدد نئے نظریات مثلاً پوسٹ ماڈرنزم، انارکزم، فیمنزم، اِنوائرنمنٹلزم وغیرہ نئے قسم کی انتہاپسندی کے ساتھ منظر عام پر آئے ہیں، ان سے اسی داعیانہ سطح پر مخاطب ہونے کی ضرورت ہے جس طرح مولانا مودودیؒ وقت کے نظریات سے خطاب کرتے نظر آتے ہیں۔

مراجع و مصادر

(۱)تفصیل کے لئے دیکھیں:

Kosselleck, Reinhart. Futures Past: On the Semantics of Historical Time. Translated by Keith

Tribe. New York: Columbia University Press, 2004. p. 43

(۲)تفصیل کے لئے دیکھیں:

Khan, Yasir. Role of Ideologies in the Making & Unmaking of Social Revolutions, (M.Phil Dissertation). 2013. p. 25

(۳)تفصیل کے لئے دیکھیں:

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ اسلام کا نظام حیات۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۴۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ دین حق۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۴۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں۔ لاہور:اسلامک پبلیکیشنز، (سال اشاعت دستیاب نہیں)۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔تفہیم القرآن (سورہ آل عمران، حاشیہ ؍۱۶)۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۵۔

(۴)تفصیل کے لئے دیکھیں:

Seliger, Martin. Ideology and Politics. London: George Allen & Unwin, 1976.

(۵)تفصیل کے لئے دیکھیں:

خان، یاسر۔ ’’چشمہ نظر نہیں نظریے کا۔‘‘ زندگی نو(جون ۲۰۱۴ء؁)

(۶)تفصیل کے لئے دیکھیں:

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’رواداری کا غیر اسلامی تصور‘‘ تفہیمات (حصہ دوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

(۷)تفصیل کے لئے دیکھیں:مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ بناؤ اور بگاڑ۔ لاہور: اسلامک پبلیکیشنز، ۲۰۰۲۔

(۸)تفصیل کے لئے دیکھیں:

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’ہماری ذہنی غلامی اور اس کے اسباب۔‘‘تنقیحات۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۶۔

(۹)تفصیلات کے لئے دیکھیں:

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔تنقیحات۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۶۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ پردہ ۔دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۴۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر۔دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۴۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔اسلامی تہذیب اور اس کے اصول و مبادی۔دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۳۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔خطبات یورپ۔دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۲۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔اسلام اور ضبط ولادت۔دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۳۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’جنگ تہذیب جدید میں۔‘‘الجہاد فی الاسلام(باب ہفتم)۔دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۶۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’عقل کا فیصلہ۔‘‘ تفہیمات (حصہ اول)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۱۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’رواداری‘‘ تفہیمات (حصہ اول)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۱۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’اسلامی قومیت کا حقیقی مفہوم‘‘ تفہیمات (حصہ اول)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۱۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’نبوت محمدی کا عقلی ثبوت‘‘ تفہیمات (حصہ اول)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۱۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’رواداری کا غیر اسلامی تصور‘‘ تفہیمات (حصہ دوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’دام ہم رنگ زمیں‘‘ تفہیمات (حصہ دوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’’تحقیق قربانی‘ پر تنقید‘‘ تفہیمات (حصہ دوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’ہیگل اور مارکس کا فلسفۂ تاریخ‘‘ تفہیمات (حصہ دوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’ڈارون نظریہ ارتقاء‘‘ تفہیمات (حصہ دوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’خطبہ تقسیم اسناد‘‘ تفہیمات (حصہ دوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’اقوام مغرب کا عبرت ناک انجام‘‘ تفہیمات (حصہ سوم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۰۲۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’اسلام میں انسانی حقوق‘‘ تفہیمات (حصہ چہارم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’سانحہ مسجد اقصیٰ‘‘ تفہیمات (حصہ چہارم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’قانون اور معاشرہ‘‘ تفہیمات (حصہ چہارم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’رحمۃ اللعالمین‘‘ تفہیمات (حصہ چہارم)دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۱۹۹۹۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’اخلاق اجتماعیہ اور اس کا فلسفہ‘‘ تفہیمات (حصہ پنجم)لاہور:ادارہ ترجمان القرآن، (سال اشاعت دستیاب نہیں)۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔’’اسلام کا اصلی سرچشمۂ قوت‘‘ تفہیمات (حصہ پنجم)لاہور:ادارہ ترجمان القرآن، (سال اشاعت دستیاب نہیں)۔

(۱۰)تفصیل کے لئے دیکھیں:مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ اسلام اور جدید معاشی نظریات۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۶۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ مسئلہ قومیت۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۲۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔ ’’اسلام، سرمایہ داری اور اشتراکیت کا اصولی فرق۔‘‘ سود۔ دہلی:مرکزی مکتبہ اسلامی، ۲۰۱۶۔

مودودی، سید ابوالاعلیٰ۔تحریک آزادیٔ ہند اور مسلمان (حصہ اول)۔ (مرتب:خورشید احمد) لاہور:اسلامک پبلیکیشنز، (سال اشاعت دستیاب نہیں)۔

(۱۱) تفصیل کے لئے دیکھیں:

https://en.wikipedia.org/wiki/Liberalism (accessed on 23 Nov 2017)

(۱۲) تفصیل کے لئے دیکھیں:

https://en.wikipedia.org/wiki/Socialism (accessed on 23 Nov 2017)

https://en.wikipedia.org/wiki/Communism (accessed on 23 Nov 2017)

(۱۳) روس میں جاسوسی کے نظام اور تطہیر کے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا مودودیؒاپنی گفتگو کو ایک ادبی موڑ دیتے ہوئے وہاں کی حالت زار کی کچھ یوں منظر کشی کرتے ہیں: ’’ جب کوئی کارکن رات کو اپنے گھر نہیں پہنچتا تو اس کی بیوی خود ہی سمجھتی ہے کہ پکڑا گیا۔ دوسرے دن وہ اس کی ضرورت کی چیزیں آپ ہی آپ پولس کے دفتر میں پہنچانی شروع کردیتی ہے اور ان کا قبول کرلیا جانا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس کا قیاس صحیح تھا۔ وہ کوئی سوال کرے تو دفتر کی طرف سے اسے کوئی جواب نہیں ملتا۔ ایک روز یکایک ایسا ہوتا ہے کہ اس کا بھیجا ہوا پارسل واپس آجاتا ہے۔ بس یہی اس امر کی اطلاع ہے کہ اس کا خاوند لینن کو پیارا ہوا۔ اب اگر وہ نیک بخت خود بھی اسی انجام سے دوچار ہونا نہ چاہتی ہو تو اس کا فرض ہے کہ ایک اچھی کامریڈنی کی طرح اس معاملہ کی بھاپ تک منہ سے نہ نکالے اور دوسرا کوئی ایسا خاوند ڈھونڈے جو رجعت پسندی کے شبہے سے بالاتر ہو۔‘‘ (ا ج م ن: ۶۷-۶۶)

(۱۴)تفصیل کے لئے دیکھیں:

Daechsel, Markus. “Scientism and its discontents: The Indo-Muslim “Fascism” of Inayatullah Khan Al-Mashriqi.” Modern Intellectual History, 3(3), 2006: 443-472.

(۱۵)تفصیل کے لئے دیکھیں:

Golwalkar, M.S. We or our nationhood defined. Nagpur: Bharat Publications, 1939.

(۱۶)مثال کے طور پر مولانا مودودیؒ نے مسولینی کی سیرت کو ایک قوم پرست کے کردار کے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں، ’’جنگ عظیم سے پہلے وہ اشتراکی تھا۔ جنگ عظیم میں محض اس لئے اشتراکیوں سے الگ ہوگیا کہ اٹلی کے شریک جنگ ہونے میں اس کو قومی فائدہ نظر آتا تھا۔ پھر جب غنائم جنگ میں اٹلی کو مطلوبہ فوائد نہ حاصل ہوئے تو اس نے جدید فاشستی تحریک کا علم بلند کیا۔ اس نئی تحریک میں بھی وہ برابر اپنے اصول بدلتا چلا گیا۔ ۱۹۱۹ء؁ میں وہ لبرل سوشلسٹ تھا۔ ۱۹۲۰ء؁ میں انارکسٹ بنا۔ ۱۹۲۱ء؁ میں چند مہینہ تک سوشلسٹ اور جمہوری طبقوں کا مخالف رہا۔ چند مہینہ ان کے ساتھ اتحاد کی کوشش کرتا رہا اور بالآخر ان سے کٹ کر اس نے ایک نئی پالیسی وضع کرلی۔ یہ تلون یہ بے اصولی اور یہ ابن الوقتی مسولینی کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ نیشنلزم کی فطرت کا طبعی خاصہ ہے۔ انفرادی زندگی میں جو کچھ ایک خودغرض آدمی کرتا ہے وہی قومی زندگی میں قوم پرست کرتا ہے۔ کسی اصول اور نظریہ پر مستقل ایمان رکھنا اس کے لئے ناممکن ہے۔‘‘ (م ق: ۱۲۸)

(۱۷)تفصیل کے لئے دیکھیں:خان، یاسر۔ وطن پرستی نہیں، وطن دوستی۔ دہلی: منشورات، ۲۰۱۶ ۔

(۱۸)تفصیل کے لئے دیکھیں:

Khan, Yasir. “The mirage of accidental identity: Syed Maududi’s critique of Nationalism.” paper presented at India International Islamic Academic Conference (IIIAC) at India Islamic Cultural Centre, Delhi on 8-9 October 2016.

(۱۹) لبرلزم پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ مغربی ذہن کے اس مسئلے مختصراً یوں بیان کرتے ہیں، ’’ چند صداقتوں کو انہوں نے لیا اور انہیں ان کی حد سے بہت زیادہ بڑھادیا۔ چند دوسری صداقتوں کو انہوں نے نظرانداز کردیا۔ اور زندگی میں جو مقام ان کے لئے تھا اس میں بھی اپنی منظور نظر صداقتوں کو لا بٹھایا حالانکہ ہر صداقت اپنی حد سے نکل جانے کے بعد جھوٹ بن جاتی ہے اور الٹے نتائج دکھانے لگتی ہے۔ یہ افراط و تفریط اس نظام حیات کے سارے ہی گوشوں میں پائی جاتی ہے جو ’بے قیدی‘، ’انفرادیت‘، اور ’جمہوریت‘ کے ان نظریات کے زیر اثر مرتب ہوا۔‘‘(اج م ن: ۲۰)

اکتوبر 2018

مزید

حالیہ شمارے

Zindagi e Nau