غلطیاں سدھارنے میں غلطیاں

بیوی کی غلطیوں کے حوالے سے

شوہر حضرات سے اکثر جو غلطیاں ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ بیوی کی اصلاح کی بات آئے تو وہ اس کے لیے اپنا ایک معیار طے کرلیتے ہیں۔ یعنی وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیویاں اپنی ذمے داریوں کوان کے مطلوبہ معیار کے مطابق انجام دیں اور کسی بھی وجہ سے اپنی خدمات میں کوتاہی کی مرتکب نہ ہوں۔ بچوں کا پورا پورا خیال رکھیں، گھر کے تمام کام انجام دیں اور ہمیشہ بنی سنوری نظر آیا کریں۔ کھانے کے وقت میں کبھی تاخیر نہ ہو، وغیرہ۔

بلا شبہ یہ تمام کام بیوی سے مطلوب ہوا کرتے ہیں، لیکن یہ فرض کرلینا کہ بیوی ان تمام کاموں کو اسی باریکی سے اور اعلی معیار کے مطابق انجام دے جیسا ان سے چاہا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، تو یہ ناممکن ہے۔

ایسا نہیں ہوسکتا کہ مذکورِ بالا پہلوؤں سے عورت کے کام میں کوتاہی، کمی یا کمزوری واقع ہی نہ ہو۔ اور اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ وہ کمی یا کوتاہی پر ملامت کی مستحق قرار پائے، الا یہ کہ وہ بار بار اسی غلطی کو دہرا رہی ہو اور ذمے داریوں سے لاپروائی اور بے توجہی اس کا مزاج بن چکا ہو۔

لیکن بیوی کی کسی غلطی پر شوہرکا اسے ملامت کرنا، ڈانٹنا یا بعض دوسرے طریقوں سے اسے سزا دینا انصاف کی بات نہیں ہے۔ یہاں ایک اہم تربیتی نکتے کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ ایسے  انسان کا وجود محال ہے جو عیوب اور لغزشوں سے پاک ہو۔ ان عیوب اور لغزشوں کا تعلق انسان کے عمل اور رویے سے بھی ہو سکتا ہے اور اس کی شخصیت و مزاج سے بھی ہو سکتا ہے۔ کسی انسان کے اندر عیوب گنوا دیے جانے کے بعد بھی وہ معزز وشریف رہ سکتا ہے۔

تقصیر وکوتاہی کا ظہور ہر انسان سے ہوتا ہے۔ بس یہ ہو کہ ایسی لغزشیں کبھی کبھی ہوں بار بار نہ ہوں اور مطلوبہ معیار کو حاصل کرنے کی اپنی طاقت بھر کوشش جاری رہے۔

ڈیل کارنیگی کہتا ہے:’’اپنی شریک حیات کو اس کی خامیوں کےساتھ قبول کرو۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ آپ نے کسی فرشتے سے شادی نہیں کی ہے، بلکہ ایک انسان سے شادی کی ہے جو عورت ہے۔ اس کا اپنا انسانی مزاج و فطرت ہے۔ یعنی وہ غلطی کرتی بھی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا کچھ مخصوص مزاج اور فطرت ہو جو آپ کو پسند نہ آتی ہو یا کسی قسم کی کوتاہی اس کی شخصیت کا حصہ بنی ہوئی ہو اور اس مزاج وفطرت سے اپنی شخصیت کو الگ کرنا اس کے لیے ممکن نہ ہو رہا ہو۔ ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے؟ س

اس کے سوا چارہ نہیں کہ آپ خود کو اس کا عادی بنا لیں، بالخصوص اس صورت میں جب کہ اس کا وہ مزاج ثانوی حیثیت رکھتا ہو۔ آپ کے تئیں اس کی محبت، آپ کے سلسلے میں اس کی رغبت و دلچسپی اور اپنے کاموں کو کما حقہ انجام دینے کی اس کی کوشش یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کے مخصوص مزاج پر پردہ ڈال دیا جائے۔ اگر بہ حیثیت مجموعی اس کی شخصیت بلند اور اس کی رفاقت کا نتیجہ اچھا ہو تو مثالیت و کمالیت پر اصرار نہیں کرنا چاہیے، اس لیے کہ جو چیز آپ طلب کر رہے ہیں وہ  نہ کسی انسان کے مزاج وفطرت میں ملے گی، نہ کام اور ذمے داریوں میں کہیں ملے گی۔ یہ بات سمجھ میں آ جائے تو ہمارے لیے اس حدیث کا مفہوم سمجھنا ممکن ہو جائے گا جس میں آپؐ نے فرمایا:

’’کسی مومن مرد(شوہر) کو مومن عورت (بیوی) کی ایک عادت پسند نہ ہو، لیکن دوسری عادت پسند ہو تو اس عورت سے نفرت نہ کرے۔‘‘(مسلم:۳۶۳)

غلطیوں کی فوری اصلاح کی خواہش

شوہر اپنی بیوی کے مزاج میں فوری تبدیلی یا غلطیوں کی فوری اصلاح کے لیے جب کوشش کرتا ہے، تو اصلاح کے اس عمل میں وقت کے عامل کو نظر انداز کرجاتا ہے۔

انسان کی زیادہ تر غلطیاں ان عادتوں اور مزاج کا نتیجہ ہوتی ہیں جن کا عادی وہ اپنی گزشتہ زندگی میں رہ چکا ہے اور عادت ہو یا مزاج دونوں کی اصلاح کے لیے طویل وقت درکار ہوتا ہے، بلکہ نہ صرف وقت درکار ہوتا ہے، بلکہ نفس کا مجاہدہ، صبر اور نفس کی تربیت واصلاح کے طریقوں سے واقفیت بھی مطلوب ہوتی ہے۔

جوان مرد یا خاتون کے لیےازدواجی زندگی بلاشبہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتی ہے اور یہ زندگی ان کی گزشتہ زندگی سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے اس زندگی کے تقاضے اور حیاتیاتی فطرت ومزاج دونوں ہی یکساں طور پر مختلف ہو تے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک عورت جو کہ اپنے گھر میں اس بات کی عادی رہ چکی ہے کہ اس کی ضرورتیں بیٹھے بٹھائے پوری ہوتی رہیں اور دوسرے لوگ اس کی خدمت پر مامور رہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت مطلوبہ صورت میں انجام نہ دے سکے یا اس کے بار بار کے مطالبات اور ضرورتوں پر بے چین و پریشان ہوجائے۔ اس مرحلے پر خود کو نئی زندگی کے سانچےمیں ڈھالنے کے لیےاسے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورت اپنے والد کے گھر میں ایک خاص معیار کی زندگی گزارنے کی عادی رہی ہو۔ پھر اس کی شادی ایسے شخص سے ہوگئی ہو جس کا معیارِ زندگی مذکورہ معیار سے کافی فروتر ہو تو مشکلات پیدا ہوتی ہیں اور عورت کی طرف سے لاپروائی اور بے توجہی کی مثالیں کثرت سے سامنے آنے لگتی ہیں کیوں کہ وہ اس معیارِ زندگی کی عادی نہیں رہی ہے۔ اسی لیے ہمارا کہنا ہے کہ ان مشکلات و مسائل کی روک تھام کے لیے شادی کے وقت شوہر و بیوی کی حیثیت ومعیار میں برابری مطلوب ہے۔ یہ مشکلات و مسائل عورت کی دو مختلف طرح کے معیار کی زندگی میں فرق کی وجہ پیدا ہوتی ہیں۔ یعنی باپ کے گھر اس کی زندگی کا معیار کچھ اور تھا اور شوہر کے گھر پر زندگی کا معیار کچھ اور ہے۔ تاہم اب جب کہ یہ مشکل ایک امر واقعہ بن چکی ہے، شوہر کے لیے ضروری ہے کہ اس کا خیال رکھے اور اس بات کو ذہن میں رکھے کہ بیوی کی اصلاح و تبدیلی میں وقت لگے گا۔ شوہر کو یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہیے کہ اس کی بیوی خود کو علی الفور نئی زندگی کی خوگر بنالے۔ اگر شوہر ایسا نہیں کرے گا تو بیوی اس پر یہ کہہ کر حملہ آور ہو سکتی ہے کہ وہ ایسے حالات میں جینے کی عادی نہیں رہی ہے، اس لیے وہ اس کے لیے ویسا ہی معیارِ زندگی فراہم کرے جس کی وہ اب سے پہلے عادی رہی ہے۔ یہیں سے ہمیں رسول اللہ کی درج ذیل حدیث کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا:

’’اپنی اولاد کے لیےنیک لوگوں کا انتخاب کرو، برابری کے لوگوں سے نکاح کرو اور ایسے ہی لوگوں کے پاس نکاح کا پیغام دو۔‘‘ (ابن ماجہ: ۱۹۶۸، حاکم: ۲۶۸۷)

اگرچہ اصل اعتبار دین میں برابری کا ہے، تاہم اس میں مادی ومعاشی برابری اور اخلاقی برابری بھی شامل ہے۔ اس کے بعد شوہر کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس کی بیوی میں کچھ ایسی خامیاں یا محضوص مزاجی اوصاف ہوں گے جنھیں بدلا نہیں جاسکتا۔ اوپر شریکِ حیات کو اس کی خامیوں کے ساتھ قبول کرنے کے سلسلے میں جو قول ہم نے نقل کیا ہے، غالباً اس کا مقصد بھی یہی ہے۔ لورانس گولڈ اپنی کتاب ’’زندگی کا لطف اٹھاؤ‘‘ میں کہتا ہے:

’’شادی کی بہترین مثال ’’جنرل اسٹور‘‘ سے دی جا سکتی ہے، جہاں آپ کو مختلف غذائی اشیاء تیار شدہ شکل میں فراہم کی جاتی ہیں۔ وہاں ایسی چیزیں آپ کو نہیں ملیں گی جنھیں آپ ’’حسب خواہش‘‘ تیار کرانا چاہتے ہوں۔ ایسی صورت میں آپ کے پاس یہی اختیار ہوتا ہے کہ موجود اشیا میں سے ان کو لے لیں جو عمدہ اور آپ کی خواہش و ضرورت سے زیادہ مناسبت رکھتی ہیں۔ اگر شادی کو اسی نقطہ نظر سے لیا جائے تو وہ زیادہ خوش گوار اور لطف دینے والی بن جاتی ہے۔‘‘

شادی کو اس نقطہ نظر سے لینا بیوی کی غلط عادات واوصاف کو بدلنے میں رکاوٹ نہیں بنتا ہے، خاص طور سے جب کہ وہ غلطیاں یا خامیاں شرعی نوعیت کی ہوں۔ ایسی صورت میں تو اصلاح و تبدیلی شوہر پر واجب ہے۔ البتہ اس پر اسے صبر کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ لیکن جہاں تک ان مزاج و اوصاف کا تعلق ہے جو شخصیت کا حصہ بن چکے ہوں اور شرعی پہلو ان کے اندر نہ پایا جاتا ہو تو انہیں اختیار بھی کیا جاسکتا ہے اور مسترد بھی۔ ایسی صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے صرف نظر کریں اور یہ بھی ممکن ہے کہ امر واقعہ کی طرح انہیں قبول کرلیں۔ بہرصورت ہمیں ایک اہم امر کا ادراک رہنا چاہیے اور وہ یہ ہے کہ وقت اور انتظار اصلاح وعلاج کا ایک جز ہے۔

اصلاح کے دوران عورت کے مزاج سے صرف نظر

بعض لوگ اپنی بیوی کے سلسلے میں یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اسے اپنے ایک موقف پر قائم رہنا چاہیے۔ اپنی بات پر جمنا چاہیے، روز اپنا موقف نہ بدلنا چاہیے اور تمام حالات میں ایک طرح سے رہنا چاہیے۔ حالات سے اس کے قدم ڈگمگائیں نہیں۔ ہر معاملے میں اپنی عقل کا استعمال کرے اور جذباتی پہلو کو اپنے اوپر غالب نہ آنے دے۔ غصہ کرنے یا مشورہ دینے میں جلدی نہ کرے۔ زیادہ سے زیادہ خاموش رہا کرے اور زیادہ بولا نہ کرے، وغیرہ۔ یہ لوگ دراصل اپنی بیوی کے سلسلے میں ایسی چیزوں کو فرض کر لیتے ہیں جن کا پایا جانا عورت کے اندر مشکل اس لیے ہے کہ وہ مرد نہیں ہے۔ شوہر کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اس کی بیوی ایک عورت ہے۔ اس کے اندر نسائی اوصاف اور مزاج پایا جاتا ہے۔ اس کی پرورش اپنے گھر میں بھی اس ماحول میں ہوئی ہے جو خود  اس کے اپنے بھائی (مرد) سے مختلف رہا ہے۔ ممکن ہے وہ اپنی بات پر قائم نہ رہ پاتی ہو، مشکل حالات میں تیزی سے پیچھے ہٹ جاتی ہو اور رونے لگتی ہو۔ ممکن ہے اس کے ساتھ اکثر ایسا ہوتا ہو کہ اس کے جذبات اس کی عقل پر غالب آ جاتے ہوں۔ اسے باتیں کرنا اور خاص طور سے ’’فون‘‘ پر باتیں کرنا پسند ہو۔ وہ بہت زیادہ بھولتی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اسے بعض ایسی چیزیں پسند ہوں جو آپ کے نزدیک بے کار اور لغو ہوں، لیکن اس کے لیے وہ اہمیت کی حامل ہوں۔ وہ ایک عورت ہے۔ اس کا اپنا مزاج اور شوق ہے۔ اس کا ادراک ہونا شوہر کے لیے ضروری ہے۔ شوہر کو اپنی بیوی کے مزاج و فطرت سے ٹکرانے کی کوشش یا اس پر سختی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ سب وہ امور ہیں جو اسے عورت، یعنی مرد سے مختلف، بناتے ہیں۔ یہ وہ امور ہیں جو اسے شوہر کے تئیں دلکش و دل نشین بناتے ہیں۔ یہ امور زندگی میں عورت کے مقصد و مشن سے مناسبت رکھتے ہیں جو کہ مرد کے مقصد ومشن سے قدرے الگ اور مختلف ہے۔

مرد کا معاملہ یہ ہے کہ وہ معاملات میں عزم کا پکا اور مضبوط ہوتا ہے، کیوں کہ گھر اور باہر کی  ذمے داریوں کے لیے اور سخت حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایسے ہی مزاج وفطرت کی ضرورت ہے۔ عورت کا مزاج اور اس کی فطرت ایک دم جوش میں آجانے والی ہوتی ہے۔ اس کے یہاں رقت ونرمی اور اسی جیسی صفات پائی جاتی ہیں۔ یہ صفات ماں اور بیوی کی حیثیت سے اس کی بنیادی ذمے داریوں سے مناسبت رکھتی ہیں۔ اسی طرح عورت کے مخصوص حالات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر وہ بہت سی چیزیں بھول جایا کرتی ہے اور سماج کے ساتھ اس طرح خلط ملط نہیں ہوپاتی جس طرح مرد ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ بالعموم ان کاموں کو انجام نہیں دے پاتی جنھیں مرد انجام دیتا ہے، اگرچہ ان میں سے بعض کاموں کو انجام دینے کی صلاحیت بذاتِ خود اس کے اندر موجود ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ عورت بنیادی طور پر اپنے مزاج میں اور بہت سے معاملات کو برتنے میں مرد سے مختلف ہوتی ہے۔ مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کو سمجھے۔ اس کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ عورت سے اپنے مزاج کے مطابق برتاؤ کرے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ دونوں کے مزاج میں تھوڑا فرق ہے اور یہ فرق لازمی طور پر ہے۔ یہ بات جس وقت ہماری سمجھ میں آ جائے گی اس حدیث کو سمجھنا آسان ہو جائے گا، جس میں آپؐ نے فرمایا:

’’عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیوں کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ پسلی کا سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا اوپری حصہ ہوتا ہے۔ اگر تم نے اسے سیدھا کرنے کی کوشش کی تو اسے توڑ دو گے، اور اگر یوں ہی چھوڑ دیا تو وہ ٹیڑھی ہی رہ جائے گی، اس لیے عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘ (بخاری: ۳۱۳، مسلم: ۳۶۳۱)

بیوی کی غلطیوں کو اس کے اہل خانہ سے جوڑنا

بعض شوہر بیوی کی خامیوں کا رشتہ ہمیشہ اس کے اہلِ خانہ سے جوڑ دیتے ہیں۔ گویا وہ جب بھی کوئی غلطی کرتی ہے، عمداً کرتی ہے اور اس کا سبب اس کے اہل خانہ ہوتے ہیں۔ یہ اندازِ فکر اور بیوی کی خامیوں اور غلطیوں سے پیش آنے کا یہ طریقہ کسی بھی مسئلےکے حل میں رکاوٹ بنتا ہے اور اس کی وجہ سے مسائل و مشکلات سنگین رخ اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر شوہر کے تعلقات اپنی بیوی کے گھر والوں سے اچھے نہیں ہیں اور اسی وجہ سے اپنی بیوی کے خلاف وہ ایسی باتیں زبان سے نکالتا ہے تو ان تعلقات کی اصلاح ہونی چاہیے۔ شوہر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نکاح و شادی کو شرعی حیثیت دے کر اللہ نے یہ چاہا ہے کہ خاندانوں کے درمیان رشتہ و قرابت داریاں قائم ہوں اور مسلمانوں کے درمیان محبت و رحمت عام ہو۔ اللہ فرماتا ہے:

وَهُوَ الَّـذِىْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَـرًا فَجَعَلَـه نَسَبًا وَّصِهْرًا ۗ وَكَانَ رَبُّكَ قَدِیـرًا  (الفرقان: ۵۴)

’’اور وہی ہے جس نےپانی سے ایک بشر پیدا کیا پھراس نے دادیہالی اور نانیہالی رشتے چلائے، اور تیرا رب بڑا ہی قدرت والاہے۔‘‘

رشتہ داروں کے باہمی تعلقات خراب ہوں، یہ اسلام کی ہدایت نہیں ہے۔ شوہر کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن ظن سے کام لے۔ اس کے کسی کام یا غلطی کی توجیہ اس طرح نہ کرے کہ جان بوجھ کر اس نے یہ غلطی کی ہے، یا اس کے گھر والے اسے ایسا کرنے کے لیے کہتے ہیں۔ بعض مرد حضرات یہ باتیں اس لیے بھی کہتے ہیں کہ بیوی کو اس کے والدین کے پاس جانے سے روک سکیں۔ یہ حرکت قطعِ رحمی کے ذیل میں آتی ہے۔ قطعِ رحمی کا تعلق اللہ کے اس حکم کو کاٹنے سے ہے جسے اس نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حرکت دنیوی اور اخروی دونوں سزاؤں کی مستحق ہے، خواہ بیوی کے والدین اللہ رب العالمین کے مطیع و فرماں بردار نہ ہوں، یعنی مشرک ہوں۔ کیا اللہ کے ساتھ شرک کرنے سے سخت بھی کوئی گناہ ہے؟ اللہ کے انکار سے بڑھ کر کوئی گناہ ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود اللہ نے حکم دیا ہے کہ جس کے والدین مشرک ہوں یا اس سے شرک کرنے کا مطالبہ کرتے ہوں، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی یہ بات نہ مانے، لیکن ان کے ساتھ بھلائی کا سلوک کرے۔ (دیکھیں: لقمان: ۱۵)

شوہر کی اولین ذمے داری یہ ہے کہ وہ انصاف پسند ہو۔ اپنے سسرالی رشتے داروں پر بلا کسی دلیل و ثبوت کے الزام نہ لگائے۔ اس کا الزام غلط بھی ہو سکتا ہے۔ اس قسم کے معاملات میں شوہر اور بیوی کے درمیان جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان میں بہت دفعہ شوہر کو واقعات سے نتیجہ اخذ کرنے میں غلط پایا گیا ہے۔ وہ بیوی کے ساتھ بدگمانی کرتا تھا۔ شوہر کو اپنے سسرالی رشتے داروں سے اچھے روابط و تعلقات رکھنے چاہئیں۔ بیوی اپنے گھر والوں کے ساتھ نیکی کرے تو اسے نہ روکے۔ اس لیے کہ کچھ بھی ہو، اس پر اس کے والدین کا بڑا حق باقی رہتا ہے۔ بیٹی اور اس کے والدین کے درمیان قطعِ تعلق کسی بھی وجہ سے جائز نہیں ہے۔ اگر بیوی کے اہلِ خانہ اچھے اخلاق کے حامل نہ ہوں یا ان کے باے میں ناپسندیدہ شبہات کا اظہار کیا جاتا ہو تو اس صورت میں یہ تو ممکن ہے کہ ان سے تعلقات محدود رکھے جائیں، لیکن قطعِ تعلق نہ کیا جائے، بلکہ آپ ان کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آئیں۔ ان کے لیے اللہ سے دعا کریں اور اسلامی تعلیمات و اخلاق کی پابندی کی تلقین کریں۔ لیکن اگر وہ اچھے بھلے لوگ ہوں اور شوہر اور ان کے درمیان محض کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی ہوں تو ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جانا چاہیے، حسن ظن سے کام لیا جانا چاہیے، ان سے ملاقاتیں کرتے رہنا چاہیے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک ہونا چاہیے۔

بیوی کی سرزنش کے لیے مناسب وقت کا انتخاب

کہاوت ہے کہ ’’ہر بات کا ایک موقع و محل ہوتا ہے۔‘‘ہو سکتا ہے کہ انسان کسی سلسلے میں اصلاح کی کوشش کرے اور اس کے مناسب ذرائع اور اسلوب بھی اختیار کرے، لیکن ناکام رہ جائے، صرف ایک وجہ سے اور وہ ہے اصلاح کے لیے نامناسب وقت کا انتخاب۔ غلطی کی اصلاح کے لیے مناسب وقت کا انتخاب بہت اہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاملہ ایک ایسے نفس انسانی سے ہے جو خوشی و غم دونوں قسم کے جذبات سے گزرتا ہے اور اپنے ارد گرد کے حالات و واقعات سے متاثر ہوتا ہے۔ ایک غلطی جس کا ارتکاب بعض شوہر حضرات کرجاتے ہیں یہ ہے کہ وہ نامناسب وقت پر اپنی بیوی کی سرزنش کرنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پربیوی گھر کے ڈھیر سارے کاموں کی وجہ سے تھکی ہوئی ہے اور اس کے باوجود گھر کے کاموں میں پورے انہماک سے جٹی ہوئی ہے، اتنے میں شوہر صاحب اس کی کسی غلطی پر اسے برا بھلا کہنے لگے۔ ایسے حالات میں وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ اپنا کام کر رہی ہے اور گھر کی جو ذمے داریاں اس پر عائد ہیں انہیں انجام دے رہی ہے، اس کے باوجود ایک کام میں کمی کی وجہ سے سرزنش کے الفاظ سنتی ہے یا اسے بار بار یاد دلایا جاتا ہے کہ اس نے بعض دوسرے کاموں میں کوتاہی کی ہے۔ یہ چیز اسے مایوسی کا شکار بنا سکتی ہے اور ممکن ہے کہ وہ دوسرے کام بھی اچھے طور پر انجام نہ دے سکے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گی کہ خواہ کچھ بھی کرلے، اس کا شوہر اس سے خوش نہیں ہوگا۔

اس کے کاموں کی تعریف کر دینے میں شوہر کے لیے کیا چیز مانع ہے؟ کیا وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ’’تم تھک جاتی ہو اور بہت محنت کرتی ہو۔‘‘ اس کے بعد جب وہ کام سے فارغ ہو کر بیٹھ جائے اور آرام کر کے اچھے موڈ میں ہو اس وقت اسے یاد دلائے کہ کون کون سے کاموں کو وہ بھول گئی ہے۔ لیکن اس سے یہ مطالبہ بھی نہ کرنے لگ جائے کہ فوراً ان کاموں کوانجام دے، بلکہ اس طرح یاد دلائے، جیسے ان کا ذکر برسبیل تذکرہ نکل آیا ہو۔ اللہ نے چاہا تو وہ اس پر مثبت ردعمل دے گی، کیوں کہ اسے یہ احساس رہے گا کہ اس کا شوہر اس کے کام کی قدر کر رہا ہے۔ دراصل عورت خود کو سب سے زیادہ تھکا ہوا اس وقت محسوس کرتی ہے جب اسے یہ احساس ہو کہ وہ ہر کام کر دیتی ہے، لیکن پھر بھی پذیرائی سے محروم رہتی ہے اور شوہر کی تنقیدیں اس پر برسنے لگتی ہیں۔ شوہر اور بیوی کے درمیان تنہائی کے لمحات ہوں اور شوہر اس سے لطف اندوز ہوچکے۔ اس کے معاً بعد شوہر اس کے بعض کاموں پر اس کی کمی بیان کرنا شروع کر دے تو اس وقت بھی عورت خود کو تھکا ہوئی محسوس کرتی ہے۔ شوہر کی یہ حرکت بیوی کی غلطیاں سدھارنے کے ضمن میں زبردست خطا قرار پاتی ہے۔ اس لیے کہ وہ وقت ایسی باتوں کے لیے مناسب نہیں تھا۔ سعادت و خوشی کے لمحات کو کسی طرح بھی مکدر ہو ئے بغیر اور دلوں میں تغیر آئے بغیر گزرنے دیجیے۔ خوشی و سعادت کے لمحات دنیا میں کم اور گنے چنے ہی ہیں۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں ہے کہ ہم انہیں دوسرا رخ دے دیں۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں ہے کہ بیوی کو بچوں کے یا دوسروں کے سامنے برا بھلا کہا جائے، بلکہ یہ کام تو تنہائی میں بہتر طریقے سے ہوسکتا ہے۔

بیوی کو اس کی غلطی بتانے کے لیےحالات کی رعایت سے مناسب وقت مختلف ہوسکتا ہے۔ اس میں بیوی کے مزاج و فطرت کا لحاظ کرتے ہوئے وقت کا انتخاب ہونا چاہیے۔ بیوی کے متعلق اپنے تجربات کی روشنی میں دوسروں کی بہ نسبت شوہر کے لیے مناسب وقت کا انتخاب کرنا آسان ہوتا ہے۔ غیر مناسب وقت کا سہارا لینا گھریلو زندگی کے لیے باعث خیر ثابت نہیں ہوگا، بلکہ مسائل کے حل کی بجائے مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا۔

تیکھی اور کاٹ دار تنقید

ازدواجی خوشیاں کاٹ دار تنقید یا مسلسل تنقید کی چٹان سے ٹکراتی ہیں تو چور چور ہو جاتی ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو بیوی کی ہر غلطی پر تبصرہ کرتے ہیں اور اسے مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس سے عورت کی زندگی ختم نہ ہونے والی غلطیوں کا ایک سلسلہ بن کر رہ جاتی ہے۔ دوسری طرف شوہر معمولی اور سنگین غلطیوں کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیتا ہے۔ یہ شوہر کی بھاری غلطی ہوتی ہے۔ اس لیے کہ کسی غلطی پر تیکھی اور کاٹ دار تنقید یا مسلسل تنقید غلطی کرنے والے سے اس کی غلطی کی سنگینی کا احساس ختم کر دیتی ہے۔ ہر چھوٹی بڑی غلطی پر تیکھی تنقید غلطی کرنے والے کے اندر سے اصلاحِ ذات کی توقع ختم کر دیتی ہے۔

تیکھی تنقید خطا کرنے والے شخص کو ذلت و اہانت کا احساس کراتی ہے، جوغلطی کی اصلاح کے عمل میں غیر مطلوب ہے۔ شوہر کو چاہیے کہ بیوی کو قطعی طور پر اس طرح کا احساس نہ دلائے۔ اگر شوہر اس قبیل کا ہو تو اس کے تئیں عورت کچھ زیادہ حساس ہو جاتی ہے، کیوں کہ عورت بالعموم تنقید سے اذیت محسوس کرتی ہے۔ اسے یہ پسند ہے کہ دوسروں کی نظروں میں خوبیوں والی خاتون نظر آئے۔ اسی لیے جب کسی کو دل چیر دینے والی تنقید کرتے ہوئے دیکھتی ہے تو اس سے متنفر ہوجاتی ہے اور اسے ناپسند کرتی ہے۔ وہ نرمی کا معاملہ چاہتی ہے۔ وہ محبت و شفقت کی پیاسی ہوتی ہے۔ پھر کیوں نہ آپ اپنی بیوی کی غلطیوں کی اصلاح کاٹ دار تنقید کی بجائے محبت سے کریں؟!! کیوں نہ آپ اپنی بیوی کےلیے نرم خو بن جائیں؟!! اپنی بیوی کےساتھ نرمی سے پیش آنے والے کو اللہ محبوب رکھتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے:

’’اللہ تعالیٰ نرم خوئی پر وہ اجر عطا کرتا ہے جو سخت رویے پر عطا نہیں کرتا، اور نہ کسی اور قسم کے رویے پر عطا کرتا ہے۔‘‘ (مسلم: ۶۵۴۴)

اللہ کے رسولﷺ سے ایک ارشاد یہ بھی مروی ہے:

’’اللہ جب کسی گھر کے لوگوں سے محبت کرتا ہے تو ان کے دلوں میں نرمی داخل کر دیتا ہے۔‘‘(احمد: ۲۳۹۰۶، بیہقی: ۶۵۶۰)

ماہرین بیوی کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ شوہر اپنی بیوی پر تنقید نہ کرے۔ کیوں کہ کاٹ دار تنقید ہی ہے جو بیش تر معاملات میں طلاق کی راست وجہ ہوا کرتی ہے۔

اگر تنقید ضروری ہی ہو تو ایسی تنقید ہو جس کا اثر دل پر ہلکا پڑے۔ کسی صالح کا قول یاد کیجیے، وہ کہتے ہیں:

’’سچ کڑوا ہوتا ہے۔ اسے بیان کرنے کے لیے شیریں کلامی سے مدد لو۔‘‘

اگر تنقید کسی برحق بات کے لیے کی جا رہی ہے تو وہ لازماً کڑوی ہی ہوگی اور اسے بیان کرنے کے لیے شیریں کلام کی ضرورت ہوگی تاکہ دل اسے قبول کر سکے اور ضمیر پر بوجھ نہ محسوس ہو۔ حالاں کہ سچ اپنے آپ میں کڑوا نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس لیے کڑوا محسوس ہوتا ہے کہ شیطان دل وضمیر پر حاوی ہو کر پیروی حق سے موڑنے کی کوشش کرتا ہے۔

 اصلاح کے وقت عرف و رواج سے صرف نظر

ازدواجی تعلقات میں اور خاص طور سے شوہر کی خدمت کے ضمن میں کسی رویے یا طرز عمل کو غلط یا صحیح تصور کرنا فرد کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سماجی رواج و عادات کا مختلف ہونا ہے۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ عورت کا اپنے شوہر کی خدمت کرنا ایک ایسا معاملہ ہے جو ہر عورت کے لیے مزاج، حدودِ کار اور خدمت کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں عورت آٹا گوندھتی تھی، روٹیاں پکاتی تھی، چکی چلاتی تھی، بکریاں چراتی تھی اور اسی طرح کے دوسرے بہت سے کام کرتی تھی اور شاید بعض دیہی اور ریگستانی علاقوں میں آج بھی ایسا ہوتا ہوگا، لیکن شہر میں رہنے والی عورت کا ان امور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ کام کبھی سن ہی نہ رکھے ہوں۔ اس طرح وہ گھریلو کاموں کو انجام دینے کے سلسلے میں عرف و عادت کی پیروی کرتی ہے اور عرف و عادت ہر معاشرے اور سماج، ہر قبیلے اور گھر خاندان کی الگ الگ ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے علمائے کرام جب بیوی کی گھریلو ذمے داریوں پر گفتگو کرتے ہیں تو سماجی عرف و رواج کا اعتبار کرتے ہیں اور ذمے داریوں کا تعین کرنے میں اسے معیار بناتے ہیں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ پر اللہ کی رحمتیں ہوں، وہ شوہر کی خدمت پر گفتگو کرتے ہوئے مجموع الفتاویٰ میں کہتے ہیں:

’’علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شوہر کی خدمت کرنا بیوی کی ذمےد اری ہے؟ مثال کے طور پر اس کا بستر بچھانا، کھانا پانی پیش کرنا، اس کے غلاموں اور نوکروں کے لیے روٹی پکانا، آٹا پیسنا، اور اس کے جانورں کو سانی کرنا وغیرہ۔ پھر بعض علماء نے کہا کہ ہلکی پھلکی خدمت کرنا اس پر واجب ہے، بعض نے کہا کہ عرف و عادت میں جسے خدمت کہا جاتا ہو وہ واجب ہے۔ اور یہی درست ہے۔ یعنی عورت کی ذمےداری ہے کہ اس کے یا شوہر کے[سماجی] عرف وعادت کے مطابق جسے خدمت تصور کیا جاتا ہو، اسے انجام دے۔ خدمت کا یہ تصور حالات ومواقع کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے۔ مثلاً بدوی زندگی میں خدمت کا تصور دیہی تصور سے مختلف ہے۔ دیہات کی عورتوں کا خدمت کرنا کمزور عورت کےخدمت کرنے جیسا نہیں ہے۔‘‘

گویا عرف و عادت کا ا عتبار و لحاظ اہمیت رکھتا ہے اور عورت کی غلطی کا تعین کرنے یا اس کا درجہ مقرر کرنے کے لیے اس کا اعتبار ضروری ہے۔ شوہر کو ان تمام چیزوں سے قبل از وقت بلکہ شادی سے پہلے ہی سے آگاہ رہنا چاہیے۔ اسے یہ بھی معلوم رہنا چاہیے کہ گھر کے لوگوں کے درمیان، سماج میں اور سماجی عادات و ماحول میں بیوی کے ساتھ کس طرح گزر کرنی ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ شادی سے پہلے ہی اس نےبیوی کی ایک خیالی تصویر بنا لی ہو اور یہ تصویر اس سماج کی حقیقی تصویر سے مختلف ہو جس میں بیوی رہ کر آئی ہے۔ یہ چیز اس وقت زیادہ واضح اور شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے جب کہ مرد کسی ایسے معاشرے کی عورت سے شادی کرے جہاں کی عادات و رواج اس کے معاشرے سے مختلف ہوں۔

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

غلطیاں سدھارنے میں غلطیاں

حالیہ شمارے

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223