اس سلسلہء مضامین میں جدید ملحدین کے ان سوالات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے جن سے عام طور پر تعرض نہیں کیا جاتا۔ پچھلے مضمون میں فجائیت کے حوالے سے جائزہ پیش کیا گیا تھا، اب اس مضمون میں اخلاق کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی۔
مذہبی بیانیے کی رو سے یہ بات مانی جاتی ہے کہ مذہب کے بغیر اخلاق کا وجود ممکن نہیں۔ جدید ملحدین یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا انسان بجائے خود اخلاقی نہیں ہو سکتا؟ اخلاق کے لیے مذہب کی کیا ضرورت ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ خون خرابہ مذہب کے نام ہی پر تو ہورہا ہے!! ایسے مواقع پر مذہب کا اخلاقی کردار کیوں نظر نہیں آتا ہے؟ وہ یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ مذہب کی تعلیمات کی بنیاد پر ہی دوسرے انسانوں کے قتل کو اخلاقی جواز عطا کیا جاتا ہے اس لیے اصل فساد کی جڑ مذہب بذاتِ خود ہے۔
اخلاق کے حوالے سے جدید ملحدین کے دلائل کا رد عام طور پر دفاعی انداز میں کیا جاتا ہے۔
ہم یہاں اخلاق کے ایک وجودی معنوی فریم ورک کے ذریعے اس سوال کا جواب دینا چاہیں گے۔ یہ فریم ورک یہ نہیں پوچھتا کہ انسان کو اچھائی کیوں کرنی چاہیے بلکہ وہ یہ پوچھتا ہے کہ اچھائی ہے کیا؟
اس فریم ورک کو ہم چار پہلوؤں سے پیش کریں گے۔
- اخلاق محض ضابطوں کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک حقیقت ہے۔
- یہ فریم ورک سوال کرتا ہے کہ انسانی تکریم (human dignity) کی بنیاد کہاں ہے؟
- اخلاق کا بحران پارگی (fragmentation) اور اضافیت (relativism) کا ہے؛ اور
- اخلاقیات میں اصل سوال ’’ضرورت‘‘ کا نہیں ’’بنیاد‘‘ کا ہے۔ آگے ہم ان چاروں پہلوؤں پر تفصیل سے بات کریں گے۔
اخلاق صرف ضابطوں کا نام نہیں بلکہ یہ بجائے خود ایک حقیقت ہے
جدید ملحدین نو ڈارونیت اور سماجی ڈارونیت کے اصولوں کا استعمال کرتے ہوئے سیکولر اخلاق کو ایک سماجی معاہدے (social contract) یا ارتقائی فائدے (evolutionary benefit) کے حوالے سے سمجھتے ہیں۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم اچھے اس لیے ہیں کیوں کہ اس سے انسانی معاشرہ میں فساد برپا نہیں ہوتا اور انسانی تہذیب آگے کی طرف ترقی کرتی رہتی ہے۔ یا یہ کہ اس سے انسانیت کی بقا (species survival)وابستہ ہے۔
لیکن اگر ہم اخلاق کو محض سماجی نظم و ضبط کے آلہ کے طور پر دیکھیں تو اس کی اصل حقیقت نظر سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ اخلاق صرف کیا کرنا ہے؟ اس کا سوال نہیں ہےبلکہ کیا ہونا چاہیے؟ اس کا بھی سوال ہے۔
اخلاق اپنے اندر ایک گہرا وجودی اور معنوی پیراڈائم رکھتا ہے جیسا کہ بیان کیا گیا کہ سیکولر نقطہءنظر عمومی طور اخلاق کو یا تو ایک سماجی معاہدہ سمجھتا ہے، یعنی انسانوں نے آپس میں باہمی مفاد کے کچھ اصول طے کرلیے یا اسے ارتقائی فائدے کے طور پر دیکھتا ہے جہاں اخلاقی رویے کو بقا اور تولید کے لیے مفید حکمت عملی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اب اگر اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو اچھا وہ ہے جو نظام کو چلائے اور برا وہ ہے جو اس میں خلل ڈالے۔ یعنی ہم اچھے اس لیے ہیں کہ اچھائی سے معاشرہ مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم رہتا ہے اور اس سے ہماری نوع کی بقا ممکن ہوتی ہے۔
لیکن یہاں ایک بہت ہی اہم سوال ہے جو سماجی ڈارونزم کے اخلاق کے پورے فریم ورک کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر اخلاق صرف فائدے کا دوسرا نام ہے تو پھر عدل اور ظلم کے درمیان کوئی حقیقی وجودی فرق باقی کیسے رہتا ہے؟ کیا یہ دونوں محض مختلف حالات میں مختلف نتائج پیدا کرنے والی حکمت عملیاں ہیں؟ یا ان کے درمیان کوئی ایسا فرق بھی ہے جو انسانی رائے، فائدے، حالات سے ماورا ہو۔ مثلًا اگر کسی طاقت ور گروہ کے لیے کسی دوسرے کم زور انسانی گروہ پر ظلم کرنا، اس کے وسائل کا استحصال کرنا،کم زوروں کو دبانا اس طاقت ور گروہ کے لیے مفید ہو، اس کے اقتدار کو مضبوط کرتا ہو اور اس کے مفادات میں بڑا اضافہ کرتا ہو تو کیا اس منطق کے تحت مذکورہ بالا تمام اعمال اخلاقی شمار ہوں گے؟ اگر ہم خالصتاً ارتقائی یا افادی پیمانے کو معیار بنائیں تو اس سوال کا جواب نفی میں دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ سماجی ڈارونزم میں فائدہ ہی فیصلہ کن اصول ہے نہ کہ حق یا عدل یا انصاف وغیرہ۔
اس سوال کا جواب کبھی گروہی فٹنس کے حوالے سے دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یعنی یہ کہ اس طرح سے کم زوروں کو دبانے یا ان کا استحصال کرنے سے اگرچہ اس خاص گروہ کو فائدہ پہنچتا ہے لیکن بحیثیت نوع انسان کو نقصان پہنچتا ہے، اس لیے یہ نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اصل سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ اگر افادیت پسندی ہی سب کچھ ہے تو پھر عدل و انصاف کے کیا معنی۔
چناں چہ ایک طرف تو سیکولر اخلاق یہ کہتا ہے کہ ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ انصاف کرنا چاہیے۔ لیکن دوسری طرف وہ اس ’’لازمیت‘‘ کو کوئی ایسی بنیاد فراہم نہیں کرتا جو انسانی خواہشات، جذبات یا اجتماعی اتفاق سے بالاتر ہو۔ چناں چہ سیکولر اخلاق جب یہ کہتا ہے کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا ’’چاہیے‘‘ تو فوری سوال اٹھتا ہے کہ یہ ’’چاہیے‘‘ کہاں سے آیا؟ اگر کائنات محض مادی اسباب و علل کا ایک اندھا سلسلہ ہے تو اس میں ’’چاہیے‘‘ جیسی کوئی قدر کہاں سے داخل ہوگئی؟
پہلے پہلو کے تحت یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہاں مسئلہ صرف اصلاحی اخلاقی اصولوں کی فہرست کا نہیں ہے بلکہ اس بات کا ہے کہ ان اصولوں کی وجودی حیثیت کیا ہے؟ کیا عدل واقعی کوئی ایسی حقیقت ہے جو انسانی ذہن اور شعور سے ماورا بھی کوئی معنویت رکھتی ہے؟ یا یہ محض ایک سماجی معاہدہ یا سوشل کنسٹرکٹ ہے؟ اگر یہ صرف سوشل کنسٹرکٹ ہے تو پھر اس کی پابندی کیوں کی جائے؟ خاص طور پر ایسے مواقع پر جہاں اس کی خلاف ورزی ذاتی یا گروہی مفاد میں ہو؟ اور اگر عدل واقعی ایک حقیقی قدر ہے تو پھر اسے محض فائدے یا بقا کی زبان میں محدود کرنا کہاں کی دانش مندی ہے۔
اس طرح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیکولر نقطہ نظر کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ لوگوں کو کچھ اچھے اخلاقی اصول سکھا نہیں سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان اخلاقی اصولوں کو کوئی گہری پائیدار اور زمان و مکان سے ماورا بنیاد فراہم نہیں کر پاتا۔ چناں چہ ایسی بنیاد کی غیر موجودگی میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ عدل ہر حال میں اچھا ہے اور ظلم ہر حال میں برا ہے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں اور چاہے اس کے فوری نتائج کچھ بھی ہوں، عدل سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے اور ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
یہی وہ خلا ہے جہاں اخلاق کو محض کچھ ضابطوں کی نہیں بلکہ ایک وجودی حقیقت کے طور پر سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یہ ضرورت سیکولر اخلاق پوری نہیں کرتا۔
دوسرا پہلو انسانی تکریم کی بنیاد کے حوالے سے ہے
جدید ملحدین بار بار انسانی وقار کی بات کرتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق، آزادی اور مساوات کے اصولوں کا حوالہ دے کر مذہب پر چہار جانب سے حملہ کرتے ہیں۔ مذاہب کو انسانی آزادی اور مساوات کے خلاف بتاتے ہیں۔ بطور خاص ابراہیمی مذاہب میں خواتین اور دیگر اقلیتوں کے حقوق اور ان کی مساوات اور آزادی کے حوالے سے زبردست قسم کی غلط فہمیوں کو پیدا کرتے ہیں۔ اس کے لیے وہ ہر قسم کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔ لیکن جب ہم سیکولر اخلاق کے تناظر میں انسانی وقار کے اس تصور کا ذرا گہرائی سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں تو ایک بنیادی سوال یہ سامنے آتا ہے کہ وقار آخر آیا کہاں سے؟ اگر انسان محض ایک اندھے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے یعنی جینیاتی تغیرات اور قدرتی انتخابات کا ایک حادثاتی سلسلہ ہے، تو پھر اس کے اندر کوئی ایسی ذاتی قدر کیوں اور کیسے موجود ہے، جو اسے کائنات کی دیگر اشیا سے بلند کردے، کائنات کی دیگر اشیا سے اسے امتیاز عطا کر دے اور اسے ایک مختلف اعلی سطح پر لے آئے؟ اسی سوال کو دوسرے طریقے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ ایک پتھر اور ایک انسان میں وجودی فرق کیا ہے؟ اگر دونوں بالآخر مادے کی مختلف تنظیمیں ہیں تو پھر ہم انسان کو ایک خاص حیثیت اور وقار کیوں دیتے ہیں اور وہی پتھر کو کیوں نہیں دیتے؟ یہاں پر جو الٹرا ملحدین ہیں وہ کہتے ہیں کہ بالکل، کوئی خاص امتیاز انسان کو نہیں حاصل ہے!! لیکن پھر وہ انسانی وقار کی بھی بات کرتے ہیں۔ جب انسان کا کوئی امتیاز ہی نہیں ہے تو اس کا وقار کیا معنی رکھتا ہے۔ اگر مادے کی مختلف تنظیموں سے مختلف انواع وجود میں آتی ہیں، اگر شعور،اراده، اخلاقیات، محبت، ممتا، عبادت، رحم، سفاکی، جبر، یہ تمام اندھے ارتقائی عمل کی پیداوار ہیں تو پھر انسانی وقار کا کیا مطلب ہوا؟
عام طور پر معتدل سیکولر جواب فعلی (functional) بنیادوں پر ہوتا ہے- یعنی انسان کو وقار حاصل ہے اس لیے کہ وہ عقل رکھتا ہے، شعور رکھتا ہے، خود آگہی رکھتا ہے اور فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بظاہر یہ معیار ٹھیک ٹھاک لگتا ہے۔ لیکن اس میں خود کئی تضادات اور گہرے اشکالات چھپے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلا تو یہ کہ یہ معیار خود غیر مستحکم ہے۔ یعنی اگر وقار کا انحصار عقل و شعور پر ہے تو پھر وہ افراد جو ان صلاحیتوں میں کم زور ہیں مثلًا ذہنی معذوری کے شکار افراد، کوما میں موجود مریض، نومولود بچے، تو کیا وہ کم انسانی تکریم رکھتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ اور اگر ہاں تو پھر کیوں؟ اسی طرح سے ایک وہ جنین جو ابھی پیدا نہیں ہوا ہے اس کے بارے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر صرف شعور یا خود آگہی انسانی تکریم کی بنیاد ہے تو جنین کی حیثیت کیا ہوگی؟ کیا اس کی قدر محض پوٹینشل پر مبنی ہے؟ یعنی یہ کہ پیدائش کے بعد وہ ایک مکمل با اختیار با شعور فرد ہوگا۔ لیکن پوٹینشل کو حقیقی انسانی تکریم میں کیسے تبدیل کیا جائے گا؟ اور کس اصول کے تحت؟ یہاں پر سیکولر اخلاق کو یا تو اپنے ہی اصولوں میں ترمیم کرنی پڑتی ہے یا پھر کچھ اسشنائی مفروضے شامل کرنے پڑتے ہیں جو اس کی نظریاتی یکسانیت کو کم زور کردیتے ہیں۔ مزید یہ کہ تفاعل (functionality) کا معیار ایک خطرناک ڈھلوان ہے۔ مثلا قارئین ایک منظرنامے کا تصور کریں۔ کل اگر مصنوعی ذہانت یا کوئی اور غیر انسانی ہستی انسان سے زیادہ عقل یا شعور کا مظاہرہ کرے تو کیا اس کی تکریم انسان کی تکریم پر مقدم ہوگی؟ کٹر ملحدین کہتے ہیں کہ ہاں!! لیکن عملی طور پر ایسا نہیں کیا جاسکے گا۔ تو پھر واضح یہ ہوتا ہے کہ انسانی تکریم کا مسئلہ محض عملیت کے حوالے سے نہیں فیصل کیا جاسکتا۔ یہ کسی اور گہرے وجودی اصول اور سوال سے جڑا ہے۔
غرض ہم دیکھتے ہیں کہ سیکولر اخلاق کوئی ایسی مستحکم اور غیر متبدل بنیاد فراہم نہیں کرپاتی جو واقعی داخلی ہو، غیر مشروط ہو اور عالم گیر ہو۔ سیکولر اخلاق ان تینوں خصوصیات سے خالی ہے۔ اس لیے جب تک انسانی تکریم کو کسی ایسی حقیقت سے نہ جوڑا جائے جو خود انسان سے ماورا ہو اور ہمیشہ ہو تغیر پذیر نہ ہو تب تک انسانی تکریم کی بنیاد اضافی (relative) رہے گی یا پھر عملی سطح پر تضادات کا شکار ہوتی رہے گی جس کا مظاہرہ آئے دن مغربی تہذیب کی جارحیتوں سے ہو رہا ہے۔ انسانی تکریم کے جھوٹے دعوے آئے دن بے نقاب ہو رہے ہیں۔
تیسرا پہلو سیکولر اخلاق کے بحران کے حوالے سے ہے
یعنی سیکولر دنیا آج اخلاق کے ایک گہرے بحران کی شکار نظر آتی ہے۔ یہاں پر یہ دل چسپ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ عام طور پر جب ملحدین کے سامنے سیکولر دنیا کے اخلاقی بحران کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو وہ فوراً مذہبی ملکوں میں موجود اخلاقی بحران کا حوالہ دینے لگتے ہیں یا وہ مذہبی افراد کے ذریعے کیے گئے غیر اخلاقی کاموں کا حوالہ دینے لگتے ہیں۔ چرچ میں ہو رہی عورتوں پہ زیادتیوں کی بات کرنے لگتے ہیں، نام نہاد مسلمان مذہبی رہ نماؤں کے ذریعے سرزد ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں کا حوالہ دینے لگتے ہیں اور اس طریقے سے اس بنیادی، حقیقی اور فلسفیانہ سوال کا جواب دینے سے کتراتے ہیں جو سیکولر دنیا میں اخلاق کے بحران کے حوالے سے منھ پھاڑے کھڑا ہے، وہ یہ کہ کیا سیکولر اخلاق میں ٹوٹ پھوٹ اور اضافیت نہیں ہے؟ اور کیا سیکولر اخلاق کی عمارت کسی مضبوط غیر متبدل بنیادوں پر کھڑی ہے؟
مثلًا ہم دیکھتے ہیں کہ سیکولر اخلاق میں بظاہر انسانی حقوق، انسانی آزادی، انسانی وقار اور تمام لوگوں کے لیے یکساں مواقع جیسے بلند نعروں پر اتفاق پایا جاتا ہے، لیکن ہم عملی سطح پر بھی اور اصولوں کی سطح پر بھی ان تمام معیارات پر سیکولر اخلاق کو پرکھتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک ہی مسئلے پر بہت بڑا اور شدید تضاد سامنے اتا ہے۔
مثلا بے ایذا موت (euthanasia)، اسقاط حمل، صنفی اخلاقیات، یہاں پر نہ صرف آرا کا اختلاف ہے بلکہ ہر فریق اپنی ہی رائے کو اخلاقی اور حق بجانب قرار دیتا ہے اور یہ اختلاف سطحی یا فروعی نوعیت کا نہیں ہے، بلکہ اصولی نوعیت کا ہے ۔ مثلًا اسقاط حمل کے مسئلے میں سیکولر اخلاق ایک طرف اسے عورت کی خود مختاری کا لازمی حق قرار دیتا ہے جب کہ سیکولر اخلاق کا دوسرا اسپیکٹرم اسے ایک بے گناہ جان کے قتل کے مترادف سمجھتا ہے۔ اسی طریقے سے ایتھناسیا میں کچھ لوگ اسے تکلیف سے نجات کا عمل کہتے ہیں جب کہ دوسرے سیکولر اخلاق کے مفکرین اسے انسانی زندگی کی حرمت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جینڈر ایتھکس کے میدان میں بھی ایک گروہ خود آگہی کو حتمی معیار مانتا ہے جب کہ دوسرا اسے حیاتیاتی حقیقت کے خلاف قرار دیتا ہے۔ یہ اختلاف محض سطحی نہیں بلکہ اصولی نوعیت کا ہے۔
چناں چہ سیکولر اخلاقیات میں کوئی ایسا مشترکہ معروضی اور حتمی معیار موجود نہیں جو مختلف دعووں کے درمیان فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہو۔
ہر گروہ چاہے وہ آزاد خیال لبرل ہو یا تنگ نظر ہو یا کوئی اور نظریاتی شناخت رکھتا ہو اپنے اخلاق خود تشکیل دے رہا ہوتا ہے، اپنے اصول خود طے کر رہا ہوتا ہے اور پھر انھی اصولوں کی بنیاد پر دوسروں کا جائزہ لے رہا ہوتا ہے، یعنی وہ الزام جو جدید ملحدین مذہبی افراد پر لگاتے ہیں کہ وہ اپنی کتاب کے حوالے سے اخلاق کو تشکیل دیتے ہیں اور پھر اسی اخلاق کو حرف آخر سمجھتے ہیں، اس کا شکار دراصل جدید ملحدین خود نظر آتے ہیں۔
اسی طرح رحم مادر کو کرائے پر دینے کے عمل کی مثال لیجیے۔ کسی معاشرے میں کمرشیل سروگیسی کو ایک جائز خدمت تصور کیا جاتا ہے تو کہیں اسے انسانی جسم اور رشتوں کی کموڈیفیکیشن کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان تضادات کی موجودگی سے ہوتا یہ ہے کہ اخلاق کا سیکولر نقطہ نظر اصل میں اخلاق کو ایک سبجیکٹو مارکیٹ پلیس میں تبدیل کر دیتا ہے جہاں مختلف اقدار ایک دوسرے کے مقابل پیش کی جاتی ہیں ۔مگر ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے کوئی مشترکہ کسوٹی نہیں ہوتی ہے۔ اس مارکیٹ پلیس میں صحیح اور غلط کا تعین اکثر دلیل سے زیادہ بیانیے کی طاقت، سماجی اثر و رسوخ اور سوشل انجینیئرنگ کی قوت پر منحصر ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر اوپر دیے گئے تمام معاملات میں جو موقف میڈیا، فلم اور تعلیمی اداروں میں زیادہ نمائندگی حاصل کرلے وہ رفتہ رفتہ اخلاقی معیار اور سماجی معمول (norm) سمجھا جانے لگتا ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں پیش کی جانے والی تمام دوسری آرا کو غیر اخلاقی یا پسماندہ قرار دے کر حاشیہ پر ڈھکیل دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا میں بھی کسی اخلاقی مسئلے پر ٹرینڈ اور اکثریت کا فیصلہ یہ طے کرتا ہے کہ کون سی چیز اخلاقی ہے اور کون سی چیز غیر اخلاقی، نہ کہ کوئی مستقل اصول۔ اس طرح اخلاق ایک مستقل اور آفاقی رہ نما اصول ہونے کے بجائے ایک سیال یعنی متغیر اور سیاقی یعنی سیاق پر منحصر مظہر بن جاتا ہے جو وقت، مقام اور طاقت کے توازن کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
سیکولر اخلاق کا حوالے سے یہ تجزیہ بتاتا ہے کہ سیکولر اخلاق میں کوئی آخری مرجع موجود نہیں ہے۔ کوئی ایسا ماخذ جو خود انسانوں کے اختلافات سے بالاتر ہو اور جس کی طرف رجوع کرکے ہم یہ طے کرسکیں کہ کون سا موقف درست ہے اور کون سا نہیں۔ جب ہر معیار خود انسان وضع کرے اور ہر انسان یا گروہ اپنا الگ معیار رکھتا ہو تو پھر اخلاق لازمی طور پر اضافی اور منتشر ہو جاتا ہے۔ یوں اخلاقی اختلاف صرف رائے کا اختلاف نہیں رہتا بلکہ حقیقت کے تصور کو بھی غیر مستحکم بنا دیتا ہے اور اس طریقے سے حق اور باطل کے درمیان لکیر دھندلی ہوجاتی ہے اور اخلاق اپنی اصل معنوی قوت کھو دیتا ہے۔ وہ معنوی قوت جو ایک مستحکم معاشرے، ایک ترقی پذیر تہذیب اور انسانی نوع کی مستقل ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
اصل مسئلہ ضرورت کا نہیں بنیاد کا ہے
اخلاق کے حوالے سے جدید ملحدین کے ذریعے جو یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا مذہب کے بغیر انسان اخلاقی اور اچھا نہیں ہو سکتا؟ اس کے جواب میں اوپر دیے گئے مقدمے کے حوالے سے ایک نئی دلیل ہمارے سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ اصل مسئلہ ضرورت کا نہیں بنیاد کا ہے اور اس فریم ورک کا یہ چوتھا اور آخری پہلو ہے۔ وہ یہ کہ اخلاق کو محض قوانین یا سماجی ضابطوں کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک حقیقی وجودی اور معنوی پہلو کے طور پر سمجھا جائے۔ عام طور پر مذہبی افراد کی طرف سے جب اخلاق کی تعریف بھی کی جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے کہ اخلاق دراصل کچھ ضابطے اور کچھ کرنے یا نہ کرنے کا نام ہے۔ لیکن یہ بات کہنی چاہیے اور بہت واضح انداز میں کہنی چاہیے کہ اصل میں اخلاق محض کیا کرنا کی فہرست کا نام نہیں ہے بلکہ اخلاق اس سے بھی گہرے سوال کی طرف لے جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا کرنا حقیقتًا اچھا ہے!! یعنی حقیقتًا کیا اچھا ہے؟ اس کی دریافت کا نام اخلاق ہے۔ اخلاق ایجاد نہیں بلکہ انکشاف ہے۔ عدل، سچائی اور رحم جیسے تصورات کو اگر ہم صرف انسانی سماجی کنسٹرکٹ مان لیں تو پھر ان کی حیثیت انسانی ترجیحات تک محدود ہوجاتی ہے اور انھی پر منحصر ہوجاتی ہے، لیکن عملی اور وجدانی سطح پر ہم انسانی اقدار کو اس طرح نہیں برتتے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ میرے لیے عدل اچھا ہے یا انسانوں کے لیے عدل اچھا ہے۔ ہم کو اس سے اگے بڑھ کر یہ کہنا پڑے گا کہ عدل بذات خود اچھا ہے چاہے کوئی مانے یا نہ مانے۔ عدل اس وقت اچھا نہیں ہوتا جب کہ اس سے فائدہ ہو بلکہ عدل ہمیشہ سے اچھا ہوتا ہے چاہے اس کا فائدہ ہو یا نقصان ہو۔ اسی طرح سچائی ہمیشہ اچھی ہے چاہے وہ ہمارے لیے وقتی نقصان ہی کیوں نہ لے کر آتی ہو۔
سچائی کو صرف مفید ہونے کے پیراڈائم میں نہیں سمجھنا چاہیے۔ بلکہ یہ ماننا ہے کہ سچائی ایک ایسی قدر ہے جو خود اپنی جگہ پر درست ہے۔
عدل سچائی محبت اخوت جیسے تمام قدروں پر معلوم انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے اتفاق رہا ہے اور ابھی تک جدید ڈارونزم یہ ثابت کرنے میں ناکام ہے کہ یہ اخلاقی قدریں محض ذہنی یا سماجی تشکیلات ہیں جو صرف ارتقائی فائدہ دیتی ہیں۔ ابھی تک اس کے واضح ثبوت اور دلائل موجود نہیں ہیں، بلکہ اس کے علی الرغم اب اس بات کی طرف توجہ ہو رہی ہے کہ مذاہب کے ذریعے بیان کیا جانے والا بیانیہ زیادہ حقیقت سے قریب محسوس ہوتا ہے کہ یہ اقدار محض ذہنی یا سماجی تشکیل نہیں بلکہ کسی عالمگیر حقیقت سے جڑی ہوئی حقیقتیں ہیں۔ کیوں کہ اگر عدل، سچائی اور رحم واقعی حقیقت کے بنیادی اوصاف ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان اوصاف کی بنیاد کیا ہے؟ کیا یہ اوصاف خود بخود بغیر کسی مصدر کے اور بغیر کسی سبب اول کے کائنات میں موجود ہو گئے ہیں؟ اگر ہم کائنات کو محض مادی اسباب و علل کا ایک سلسلہ سمجھیں گے تو پھر اس میں عدل و رحم جیسے اوصاف کی کوئی قابل توجیہ جگہ نظر نہیں آتی،لیکن اس کی جگہ ہم اگر ایک آفاقی مذہب کی تعلیم کو سمجھیں اور اس کو اس کی خالص شکل میں دیکھنے کی کوشش کریں تو پورے اطمینان کے ساتھ یہ کہہ سکیں گے کہ خدائے وحدہ لا شریک وہ ہستی ہے جس نے انسان کی ذات میں عدل، مساوات، اخوت، رحم اور محبت جیسی صفات کو القا کر دیا ہے۔
مذہبی افراد کو اسی نکتے کو لے کر مذہب کے نئے فہم کے حوالے سے جدید نسل کو اخلاق کی طرف متوجہ کرنا چاہیے کہ مذہب کو احکامات اور قوانین کی فہرست نہ سمجھیں کہ وہ کچھ حلال و حرام کا مجموعہ ہے۔ دین اسلام بطور خاص اپنی اصل روح میں اس سے کہیں زیادہ عمیق اور گہرا ہے۔ دین اسلام کی اصل روح اخلاقی حقیقت کا انکشاف ہے۔ جس کا تذکرہ پیغمبر محمدﷺ نے اس حدیث میں فرمایا کہ میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں۔ دین اسلام صرف احکام کے اجراکا نام نہیں ہے یعنی دین اسلام ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ چوں کہ خدا نے کہا ہے اس لیے اچھا ہے بلکہ وہ ہمیں اس حقیقت سے بھی روشناس کراتا ہے کہ یہ چیز فی نفسہ اچھی ہے اور خدا نے اسی حقیقت کو بیان کیا ہے۔
سیکولر اخلاق کے جواب میں ہم کو تمام نئی نسل کے سامنے اسی حقیقت کو واضح کرنا ہے۔ اس کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ خدا نے سچ بولنے کو لازم قرار دیا ہے کیوں کہ سچائی بذات خود ایک حقیقی خیر ہے۔ اسی طرح ظلم سے بچنے کا حکم اللہ نے دیا ہے کیوں کہ ظلم اپنی حقیقت میں ایک فساد اور عدم توازن ہے۔ اس طرح اخلاقیات کو ایک وجودی اور معنوی حقیقت حاصل ہو جاتی ہے۔ دین کے اس فہم کے تحت ’’دین‘‘ انسان اور حقیقت کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے انسان اپنی محدود عقل، تجربے اور خواہشات کے باعث اخلاقی حقیقت کو مکمل طور پر نہیں پا سکتا۔
اسلامی اخلاق یہیں سے دیگر تمام اخلاق بشمول سیکولر اخلاق سے ممتاز ہوجاتا ہے جہاں اخلاق محض خارجی پابندی نہیں بلکہ ایک داخلی ادراک ہے، یہ فرق بہت اہم ہے۔
حرفِ آخر
اصل مسئلہ ضرورت کا نہیں بنیاد کا ہے۔
سیکولر اخلاق کے تعلق سے جب ہم جدید ملحدین کی دلیل کا جائزہ لیتے ہیں تو اس میں ایک زبردست مغالطہ سامنے آتا ہے۔ جدید ملحدین اخلاق کی بحث کواس سطح تک لے آتے ہیں، جہاں سوال محض انسانی رویے تک محدود ہوجاتا ہے مثلًا وہ یہ پوچھتے ہیں کہ ہم بغیر خدا کے اچھے نہیں ہو سکتے؟ اب دیکھنے میں یہ سوال بظاہر موزوں اور وزنی محسوس ہوتا ہے کیوں کہ روزمرہ کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ جو مذہبی نہیں ہیں وہ بھی سچ بولتے ہیں، دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور ایک مہذب زندگی گزارتے ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بعض مذہبی افراد اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں، مذہبی سربراہوں کی جانب سے بھی بہت سی غلطیوں کا صدور ہوتا ہے۔ اس مشاہدے کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ چوں کہ اچھا برتاؤ مذہب کے بغیر بھی ممکن ہے اور مذہب کے ہوتے برائی سے بچنا لازم نہیں آتا، اس لیے اخلاق کے لیے کسی ما بعد الطبیعاتی ماخذ کی یا مذہب کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس سوال کو غلط سطح پر رکھا گیا ہے۔ یہ سوال کہ کیا ہم خدا کے بغیر اچھے نہیں ہو سکتے دراصل رویہ جاتی نوعیت کا ہے۔ یعنی انسان کیا کرتا ہے اور کیسے کرتا ہے، جب کہ اخلاق کے حوالے سے سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا اچھائی خود بغیر خدا کے یا کسی ما بعد الطبیعاتی ماخذ کے قائم رہ سکتی ہے؟ چناں چہ یہ سوال وجودی ہے یعنی اچھائی کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا مصدر کیا ہے؟ اور حقیقت کے معنی کون متعین کرتا ہے؟






