عقیدۂ توحید اور وحدتِ اُمت

(5)

احراز الحسن جاوید

یہ چند بیانات اور فتوے ہیں بیشتر اکابرعلماء اسی صف میں کھڑ ے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف تو ہمارے علمائے کرام اور سرسید جیسے دانشوروں کے ایسے رویّے سامنے آتے ہیں اور دوسری طرف ایک ہندواسکالر آچاریہ سوامی وویکانند جی کابیان دیکھئے یہ بیان پہلے الجمیعۃ میں شائع ہواتھا اس کے بعد ماہنامہ زندگی میں آیاوہیں سے نقل کررہاہوں :

’’دنیاکے لیے خاص طورپر انسانی مساوات اور بھائی چارہ بہت بڑی نعمت ہے اور یہی ہندوستانی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے اس معنی میں مسلمانوں کا وجود بھی ملک کے لیے بہت بڑی نعمت ہے ۔ مسلمانوں سے مل جل کر یہاں انسانی قدروں کو فروغ دیا جاسکتاہے ۔ ہم اس کے بارے میں سوامی وویکانند کی ایک شہادت پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ کے خطوط جو انگریزی میں ہیں آدتیہ آشرم ولنگڈن لین۱۳؎نے شائع کیے ہیں۔ خط کانمبرCLXX VIہے جو کتاب مذکور کے صفحہ ۴۵۳پر درج ہے ۔ سوامی جی نے یہ خط الموڑہ سے ۱۰؍جون ۱۸۹۸؁ میں اپنے ایک دوست سرفراز حسین کونینی تال تحریر کیا تھا۔ اس خط میں مذکورہے ۔

’’وید انت کے فلسفہ کا سہرا ہندوؤں کے سر بند ھنا چاہیے ۔ دوسروں نے اس فلسفہ کی صرف خوشہ چینی کی ہے ۔ یہ بھی ظاہرہے کہ یہودیوں اور عربوں کے مقابلہ میں ہندو قدامت کے علمبردار ہیں لیکن جہاں تک انسانی مساوات کے عملی پہلو کاتعلق ہے اسے ہندوؤں میں کبھی نشوونما پانے کا موقع نہ مل سکا۔ اس کے برخلاف میراذاتی تجربہ ہے کہ اگر مساوات کو کسی مذہب نے قائم کیا ہے اور اسے قابل قبول طریقے پر پھیلایا ہے تو وہ اسلام اورصرف اسلام ہے ۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتاہوں عملی مساوات کے بغیر ویدانت کی تھیوری خواہ وہ کتنی ہی حیرت انگیز اوربہتر ہو، عوام کے لیے سود مند نہیں ہوسکتی۔ اسی لیے مادر ہندہی وہ مقام اتصال ہے جہاں ہندوازم اوراسلام مل کر انسانیت کے لیے پیغام امید بناسکتے ہیں۔‘‘ (زندگی اکتوبر۱۹۷۴؁ء)

پانچواں سبب ۔ جماعتوں کا غلو

جناب مولانا مفتی شفیع صاحب دیوبندی نے ملت کو متحد کرنے کے لیے ایک بڑی قیمتی اور وقیع کتاب لکھی ہے ۔اپنی کتاب کی ابتدا میں فرماتے ہیں:۔

’’جہاں تک اسلام کی دعوت اتحاد اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو بلکہ انسانوں کو ایک قوم، ایک خاندان ، ایک برادری قرار دینے کا معاملہ ہے وہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی مسلمان سے مخفی ہو ۔ قرآن کریم کے واضح الفاظ خلقکم من نفس واحدۃ میں تمام بنی نوع اوربنی آدم انسان کو اور انما المومنون اخوۃ  میں مسلمانوں کو ایک برادری قرار دیاہے ۔

حجۃ الوداع کے آخری خطبہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواس وقت کے مسلمانوں کے سب سے بڑے اجتماع میں ہدایتی اصول ارشاد فرمائے ان میں اس بات کو بڑی اہمیت سے ذکر فرمایا کہ ’’اسلام میں کالے گورے ، عربی عجمی وغیرہ کا کوئی امتیاز نہیں سب ایک ماں باپ سے پیدا ہونے والے افراد ہیں ‘‘ اس ارشادکے ذریعہ جاہلانہ وحدتیں جونسب اور خاندان کی بنیاد پر یا وطن اوررنگ کی اور زبان کی بنیاد پر لوگوں نے قائم کرلی تھیں، ان سب کے بتوں کو توڑ کر صرف خدا پرستی اور دین کی وحدت کو قائم فرمایا۔

اسلام نے ایک ایسی وحدت کی طرف دعوت دی جس میں تمام انسانی افراد بلاکسی مشقت کے شریک ہوسکتے ہیں اور یہ وحدت چونکہ ایک مالک حقیقی وحدہ‘ لاشریک لہ‘ کے تعلق اوراس کی اطاعت سے وابستہ ہے اس لیے بلا شبہ ناقابلِ تقسیم ہے ‘‘۔۱؎

آگے مزید فرماتے ہیں

’’ سب سے پہلے یہ واضح کردوں کہ نظری مسائل میںآراء کا اختلاف نہ مضر ہے نہ اس کے مٹانے کی ضرورت ہے ۔ نہ مٹایا جاسکتاہے ۔ اختلاف رائے وحدت اسلامی کے منافی ہے نہ کسی کے لیے مضر، اختلاف رائے ایک فطری اور طبعی امر ہے جس سے نہ کبھی انسانوں کا کوئی گروہ خالی رہانہ رہ سکتاہے کسی جماعت میں ہر کام اور ہر بات میں مکمل اتفاق رائے صرف دوصورتوں میں ہوسکتاہے ، ایک یہ کہ ان میں کوئی سوجھ بوچھ والاانسان نہ ہو جومعاملہ پر غور کرکے کوئی رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتاہو، اس لیے ایسے مجمع میں ایک شخص کوئی بات کہدے تو دوسرے سب اس پر اس لیے اتفاق کرسکتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی رائے اور بصیرت ہی نہیں، دوسرے اس صورت میں مکمل اتفاق رائے ہوسکتاہے کہ مجمع کے لوگ ضمیر فروش اور خائن ہوں کہ ایک بات کو غلط اور مضر جانتے ہوئے محض دوسروں کی رعایت سے اختلاف کا اظہار نہ کریں۔

اور جہاں عقل بھی ہو اور دیانت بھی یہ ممکن نہیں کہ ان میں اختلاف رائے نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف رائے عقل و دیانت سے پیدا ہوتاہے ۔ اس لیے اس کواپنی ذات کے اعتبار سے مذموم نہیں کیا جاسکتااور اگر حالات ومعاملات کا صحیح جائزہ لیا جائے تو اختلاف رائے اگر اپنی حدود کے اندر رہے وہ کبھی کسی قوم وجماعت کے لیے مضر نہیں ہوتا بلکہ بہت سے مفید نتائج پیدا کرتاہے۔ اسلام میں مشورے کی تکریم اور تاکید فرمانے کا یہی منشا ہے کہ معاملہ کے مختلف پہلو اور مختلف آرا سامنے آجائیں تو فیصلہ بصیرت کے ساتھ کیاجاسکے ۔ اگر اختلاف رائم مذموم سمجھی جائے تو مشورہ کافائدہ ہی ختم ہوجاتاہے۔ ۲؎

آگے وہ ’’ جماعتوں کے غلو‘‘کے عنوان سے رقم طراز ہیں:۔

’’ہماری دینی جماعتیں جو تعلیم دین یاارشاد تلقین یا دعوت وتبلیغ اور اصلاح معاشرہ کے لیے قائم ہیں اور اپنی اپنی جگہ مفید خدمات بھی انجام دے رہی ہیں ان میںبہت سے علماء وصلحا اور مخلصین کام کررہے ہیں اگر یہی متحد ہوکر تقسیم کار کے ذریعہ دین میں پیدا ہونے والے تمام رخنوں کے انسداد کی فکر اور امکانی حد تک باہم تعاون کرنے لگیں اور اقامت دین کے مشترک مقصد کی خاطر ہر جماعت دوسری جماعت کواپنا دست وبازوسمجھے اوردوسروں کے کام کی ایسی ہی قدر کریں جیسی اپنے کام کی کرتے ہیں تو یہ مختلف جماعتیں اپنے اپنے نظام میں الگ رہتے ہوئے بھی اسلام کی ایک عظیم الشان طاقت بن سکتی ہیں اور تقسیم عمل کے ذریعہ اکثر دینی ضرورتوں کو پورا کرسکتی ہیں۔

مگر عموماً یہ ہورہاہے کہ ہر جماعت نے جواپنے سعی وعمل کاایک دائرہ اور نظام عمل بنایا ہے ، عملی طورپر ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ خدمت دین کو اسی میں منحصر سمجھ رہے ہیں، گوزبان سے نہ کہیں دوسری جماعتوں سے اگر جنگ جدل بھی نہیں تو بے قدری ضرور دیکھی جاتی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ان جماعتوں میں بھی ایک قسم کا تشتت پایا جاتاہے ۔ غور کرنے سے اس کا سبب یہ معلوم ہوتاہے کہ مقصد سب کا اگرچہ دین کی اشاعت، حفاظت اور مسلمانوں کی علمی ، عملی ،اخلاقی اصلاح ہی ہے لیکن اس مقصدکےحاصل کرنے کے لیے کسی نے ایک دارالعلوم قائم کرکے تعلیم دین کی اہم خدمت انجام دی۔ کسی نے ایک تبلیغی جماعت بنا کر رشد وہدایت کا فرض ادا کیا۔ کسی نے کوئی انجمن بنا کر احکام دین کی نشرواشاعت کا تحریری انتظام کیا ۔ کسی نے فتویٰ کے ذریعہ خلق خدا کو ضروری احکام بتانے کے لیے دارالافتاء قائم کیا کسی نے اسلام کے خلاف ملحدانہ تلبیسات کے جواب کے لیے تصنیفات کا یا ہفتہ واری ، ماہواری رسالہ، اخبارکا سلسلہ جاری کیا، یہ سب کام اگرچہ صورت میں مختلف ہیں ، مگر درحقیقت ایک مقصد کے اجزاء ہیں ، ان مختلف محاذوں پر جو مختلف جماعتیں کام کریں گی یہ ضرور ہے کہ ہر ایک کانظام عمل مختلف ہوگا اس لیے ہر جماعت نے بجا طورپر سہولت کے لیے اپنے اپنے موافق اور ماحول کے مطابق ایک نظام عمل اور اس کے اصول و قواعد بنا رکھے ہیں اور ہر جماعت ان کی پابند ہے ۔ یہ ظاہر ہے کہ اصل مقصد تو منصوص اور قطعی اور قرآن وسنت سے ثابت ہے اس سے انحراف کرنا قرآن وسنت کی حدود سے نکلنا ہے لیکن یہ اپنا بنایا ہوا نظام عمل اور اس کے تنظیمی اصول وقواعد نہ منصوص ہیں اورنہ ان کا اتباع ازورئے شرع ہر ایک کے لیے ضروری ہے ۔ بلکہ جماعت کے ذمہ داروں نے سہولت عمل کے لیے ان کواختیار کرلیا ہے ان میں حسب ضرورت تبدیلیاں وہ خود بھی کرتے رہتے ہیں اور حالات اور ماحول بدلنے پر اس کو چھوڑ کر کوئی دوسرا نظام عمل بنا لینا بھی کسی کے نزدیک ناجائز یا مکروہ نہیں ہوتا مگر اس میں عملی غلو تقریباً ہرجماعت میں پایا جاتاہے کہ اپنے مجوزہ نظام عمل کو مقصد منصوص کا درجہ دیدیاگیا ہے ۔ جو شخص اس نظام عمل میں شریک نہیں اگرچہ مقصد کا کتنا ہی عظیم کام کررہاہواس کو اپنا بھائی ، اپنا شریک کا ر نہیں سمجھاجاتااور اگر کوئی شخص اس نظام عمل میں شریک تھا پھر کسی وجہ سے اس میں شریک نہ رہا تو عملاً اسے اس مقصد اور دین سے منحرف سمجھ لیا جاتاہے اور اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جاتاہے جو دین سے انحراف کرنے والوں کے ساتھ ہوناچاہیے اگر چہ وہ اصل مقصد اقامت دین کی خدمت پہلے سے بھی زیادہ کرنے لگے ۔ اس غلو کے نتیجہ میں وہ ہی تحزب و تعصب اورگروہ بندی کی آفتیں اچھے خاصے دیندار لوگوں میں پیدا ہوجاتی ہیں جو جاہلی عصبیتوںمیں مبتلالوگوں میں پائی جاتی ہیں۔‘‘ ۲؎

یہ سب کیوں ہورہاہے اور خرابیاں کیوں پیدا ہورہی ہیں اس کی وہ تین وجوہ بیان فرماتے ہیں:۔

۱۔            پیغمبرانہ دعوت کو نظر انداز کرنا ۔

۲۔           انبیاء کے اسوۂ حسنہ کو اختیار نہ کرنا۔

۳۔           ’طریقِ نبوت اورہم کے ‘عنوان سے وہ ملت کے علماء کا جائزہ لیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

حقیقت یہ ہے کہ دعوت واصلاح کا کام انبیاء یا ان کے وارث ہی کرسکتے ہیں جو قدم قدم پر اپنا خون پیتےاور دشمن کی خیر خواہی میں لگے رہتے ہیں۔

اس ضمن میں وہ ایک عالم دین کی مثال پیش کرتے فرماتے ہیں:۔

’’حضرت سید اسمٰعیل شہید ؒ کا واقعہ ہے کہ دہلی جامع مسجد سے وعظ کرکے باہر آرہے تھے مسجد کی سیڑھیوں پر چندشرارتی لوگوں نے راستہ روکا اور کہا ہم نے سناہے کہ آپ اصل نسب سے نہیں ہیں ، مولانا نے نہایت طمانیت سے فرمایا کہ بھائی! آپ کو غلط خبر ملی ہے ، میری والدہ کے نکاح کے گواہ اب تک زندہ موجود ہیں‘‘۔

وہ جانتے تھے کہ ان کا مقصد صرف گالی دینا اورایذا پہنچانا ہے ، مگر وارث انبیاء کا جو کام ہونا چاہیے وہ کیا کہ ان کی گالی کوایک مسئلہ بنا کر بات ختم کردی۔

آج کل کے مبلغ اور مصلح کا کمال یہ سمجھاجاتا ہے کہ وہ مخالف پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کو رسوا کرے اور فقرے ایسے چست کرے کہ سننے والا دل کو پکڑکر رہ جائے ۔ اسی کانام آج کی زبان میں زبان دانی اور اردو ادب ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘۔

اللہ تعالیٰ تواپنے انبیاء کو جب مقام دعوت پر کھڑا کرتے ہیں تو موسیٰ وہارون علیہم السلام جیسے اولوالعزم پیغمبروں کو فرعون جیسے سرکش کافر کی طرف بھیجتے وقت یہ ہدایت نامہ دے کر بھیجتے ہیں:۔

فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّہٗ يَتَذَكَّرُ اَوْ يَخْشٰى۝۴۴

فرعون سے بات نرم کرو شائد وہ راستہ پر آجائے اوراللہ تعالیٰ سے ڈر جائے۔

آج ہمارے علماء اور مصلحین ومبلغین میں کوئی حضرت موسیٰ وہارون علیہم السلام سے زیادہ ہادی اور رہبر نہیں ہوسکتا اوران کے مخاطب فرعون سے زیادہ گمراہ نہیں ہوسکتے تو ان کے لیے کیسے روا ہوگیا کہ جس سے ان کا کسی رائے میں اختلاف ہوجائے تو اس کی پگڑی اچھالیں اورٹانگ کھینچنے کی فکر میں لگ جائیں اور استہزا ءوتمسخر کے ساتھ اس پر فقرے چست کریں اور پھر دل میں خوش ہوکر ہم نے دین کی بڑی خدمت انجام دی ہے اور لوگوں سے اس کے متوقع رہیں کہ ہماری خدمت کو سراہیں اور قبول کریں۔

میری نظر میں اس وقت یہ تین اسباب ہیں جو مسلمانوں کا شیرازہ بندھنے نہیں دیتے ۔ ہر اجتماع کے نتیجے میں افتراق اور تنظیم کے نتیجہ میں تفریق ، ہر اصلاح کے نتیجہ میں فساد اورہر دعوت کے نتیجے میں نفرت ہمارے سامنے آتی ہے۔ کاش ہم مل کر سوچیں اور دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کریں کیونکہ اصلی مرض یہی ہے کہ حب مال وجاہ ، حسد وبغض کی نجاستوں سے اپنے قلوب پا ک نہیں۔ ہمیں اس پر برُاناز ہے کہ ہم چوری، رشوت، سود،شراب، رقص وسرور سے پرہیز کرتے ہیں اور نماز روزے کے پابند ہیں لیکن خطرہ یہ ہے کہ کہیں ہماری یہ نماز رروزہ کی پابندی اور سود، شراب، رقص وسرور سے پرہیز کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف اپنی مولوی گری کے پیشے کی خاطر ہوورنہ اگر ہم ان چیزوں سے خالص خوفِ خدا کی بنا پر بچتے تو حب مال وجاہ،حسدو بغض ، کبروریا سے بھی بچے ہوتے کیونکہ اس کی نجاست کچھ سود وشراب سے کم نہیں ۔ مگر یہ باطنی گناہ ، ہمارے جبےاورعمامے کے ساتھ جمع ہوسکتے ہیں اس لیے ان کی پرواہ نہیں ہوتی اور یہی وہ چیزیں ہیں جو دراصل سارے تفرقوں کی بنیاد ہیں۔

اہل نظر وفکر سے یہ بات مخفی نہیں کہ اس وقت دنیا کے ہر خطہ اور ہر ملک میں مسلمان جن مصائب اورآفات میں مبتلا ہیں ان کا سب سے بڑا سبب آپس کا تفرقہ اور خانہ جنگی ہے ۔ ورنہ عددی اکثریت اورمادی اسباب کے اعتبار سے پوری تاریخ اسلام میں کسی وقت بھی مسلمانوں کواتنی عظیم طاقت حاصل نہیں تھی جتنی آج ہے ۔

اس تفرقہ کے اسباب پر جب غور کیا جاتاہے تواس کا سبب خدا اور آخرت سے غفلت اوردوسری قوموں کی طرح صرف دنیا کی چند روزہ مال ودولت اورعزت وجاہ کی ہوس بے لگام ہے ، جو ہمارے معاشرہ میں کبھی سیاسی اقتدار کے لیے کشمکش ، تجارتی اور صنعتی اس کے عہدوں اور منصوبوں کی خاطر باہمی تصادم کی صورت میں ہمارےمعاشرہ کو پارہ پارہ کرتی ہے اور کبھی مذہبی اور دینی نظریات کی آڑ اور مختلف نظاموں کے روپ میں ہمیں ایک دوسرے کے خلاف اہانت و استہزا کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔ وگرنہ اجتہادی نظریات کے باہمی اختلاف کے باوجود صحابہ وتابعین کی طرح ہماری جنگ کارخ صرف کفر والحاد اور بے دینی کی طرف ہوجائے تو اس کے مقابلے میںمسلمانوں کی مختلف جماعتیں ایک صف اور ایک بنیان مرصوص نظر آئیں۔۱؎

مولانا محمود الحسن کے نزدیک مسلمانوں کی بربادی کی وجہ

شیخ الہند مولانا محمودالحسن صاحب مالٹہ کی چار سالہ رہائی کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لائے تو علماء کے ایک مجمع کے سامنے آپ نے ارشاد فرمایا :۔

’’ہم نے مالٹا کی زندگی میں دوسبق سیکھے‘‘:۔ مجمع یہ سن کر ہمہ تن گوش ہوگیا فرمایا کہ :۔

’’میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اوردنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تواس کے دوسبب معلوم ہوئے ۔ ایک ان کا قرآن کوچھوڑدینا ، دوسرے آپس کے اختلاف اور خانہ جنگی‘‘اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کرآیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس کام میں صرف کردوں کہ قرآن کریم کو لفظاً اورمعناًعام کیا جائے بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہربستی میں قائم کیے جائیں ۔ بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معانی سے روشناس کرایاجائے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کے لیے آمادہ کیا جائے اور مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیاجائے۔۱؎

اہل سنت علماء کے علاوہ اہل تشیع کے باشعور علماء نے بھی اتحاد پر بہت زور دیا ہے ۔ اہل نظر اس بات سے ناواقف نہیں ہوں گے کہ ایران میں اسلامی انقلاب آئے ہوئے زیادہ دن نہیں گرے وہاں کے انقلاب کی پشت پرعلامہ آیت اللہ خمینی کی پرعزم اورانقلابی شخصیت تھی جنھیں اسلامی نظریات پھیلانے کے جرم میں ۱۹۶۳ءکے پولیس ایکشن پلان کے بعد ایران سے جلا وطن کردیاگیا تھا پندرہ سال تک انھوں نے جلا وطنی کی زندگی گزاری ۔ پہلے وہ ترکی میں رہے پھر ۱۹۶۵ء میں عراق منتقل ہوگئے وہاں سے وہ تحریک اسلامی کی قیادت کرتے ہوئے وقت کے طاغوت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی ہدایت دیتے رہے ۔پھر شاہِ ایران نے عراقی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ علامہ خمینی کوعراق سے نکال دے اس شدید دباؤ کی وجہ سے امام خمینی کو فرانس منتقل ہونا پڑا۔بالآخر علامہ خمینی کی جدوجہد رنگ لائی اور لاکھوں افراد کی قربانیوں کے بعد ۱۶؍ جنوری ۱۹۷۹ء کو شاہِ ایران سے فرار ہوکر امریکہ بھاگ گیا اور یکم فروری ۱۹۷۹ء کو علامہ خمینی پندرہ سال کی جلاوطنی کے بعد ایران میں داخل ہوئے ۔ ۱۱؍فروری ۱۹۷۹ء کو حکومت پر اسلام پسندوں کا قبضہ ہوگیا ۲؎ اورپھر بقول مولاانا سید ابوالحسن علی ندویؒ صاحب

یکم اپریل ۱۹۷۹ء کوایران میں اسلامی حکومت کی بنیاد پڑی۔ وہ فرماتے ہیں:۔

’’آیت اللہ خمینی کی محیرالعقول کامیابی کی مختلف حلقوں میں مختلف توجیہات کی جاتی ہیں ، شروع میں اس انقلاب کو یساری (LEFTIST) کہا گیا ۔ شاہ ایران نے بھی اس کو یساری تحریک کہہ کر کچلنے کی کوشش کی تھی لیکن انقلاب کے بعد جو طاقت آزمائی ہوئی اس میں اسلامی عنصر کی قیادت علماء کررہے تھے غالب آگیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اس تحریک کے پیچھے صرف اسلامی عنصر تھا۔۳؎

یہ تھا اسلامی اتحاد کانتیجہ ۔ ایران کی پوری قوم نے مل کر قربانیاں دیں اس کا صلہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلامی حکومت کی شکل میں دیا۔

جناب علامہ خمینی ’اتحاد واسلامی کی ضرورت‘ کے عنوان سے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:۔

’’غور طلب پہلو یہ ہے کہ غیر ملکی استعمار نے ہمارے وطن کے حصے بخرے کرکے امت مسلمہ کو مختلف قومتیوں میں بانٹ دیا جب دولت عثمانیہ دنیا کے نقشہ پر ایک متحدہ ریاست کی شکل میں موجو دتھی تواستعماری طاقتوں نے اس کے افتراق وانتشار کی پوری کوشش کی ۔ روس اور انگریز ایک دوسرے کے حلیف بنے اور انھوں نے اپنے دوسرے اتحادیوں کے ساتھ مل کر عثمانی حکومت کے خلاف جنگ کی اور جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ان اتحادیوں نے ساری ریاست کو مالِ غنیمت کی طرح آپس میں تقسیم کرلیا۔ ہمیں اس حقیقت سے انکار نہیں ہے کہ عثمانی حکومت کے اکثر حکام ملکی مفاد اورنظم مملکت سے بالکل کورے اور نااہل تھے۔ان میں سے بعض خود ملک میں بگاڑ کے خواہاں تھے اورا ن کی اکثریت عوام کی گردنوں پر مطلق العنان بادشاہوں کی طرح  مسلط تھی۔ اس کے ساتھ ہی القماری قوتوں کویہ اندیشہ بھی تھا کہ مسلمان موام میں سے کوئی صاحب صلاحیت اوراہل ترآدمی آگے بڑھ کر عوام کی مدد سے دولت عثمانیہ کی وحدت اورا س کے اقتدار اعلیٰ کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی عسکری قوت اور اس کی جملہ ذرائع ووسائل پر قبضہ کرکے حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں نہ لے لے اور اس طرح ان کے تمام خواب منتشر ہوکر نہ رہ جائیں ۔ اسی مقصد کے پیش نظر پہلی جنگ عظیم ختم ہوتے ہی استعمارنے دولت عثمانیہ کو بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیااور ہر ریاست پراپنے ایک آلہ کار برسراہ کی حیثیت سے مسلط کردیا۔ یہ وہی صورت تھی جس کا ماتم علامہ اقبال نے اس طورکیا۔

چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبال

سادگی مسلم کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ

اگست 2015

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau