مدیر دعوت کی دعوتی فکرمندی

(مدیر “دعوت“ عبدالحق پرواز رحمانی پانچ جنوری ۲۰۲۶ کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ انھوں بلند فکر اور اعلی مشن کے ساتھ صحافت کے میدان میں کئی دہائیوں تک قابل قدر خدمات انجام دیں اور سنجیدہ و بامقصد صحافت کا ایک بلند معیار قائم رکھا۔ ان کا کالم خبر و نظر بہت مقبول تھا۔ اس کالم کے مضامین کا ایک مجموعہ “خبر و نظر“کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اس کے کچھ اقتباسات یہاں نقل کیے جارہے ہیں۔ ان اقتباسات سے پرواز رحمانی مرحوم کی دعوتی فکر اور دعوتی فکر مندی کی ترجمانی ہوتی ہے۔ مدیر)

کینیا کے جسٹس اوکو باسو اور ان جیسا تجربہ رکھنے والوں سے تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اس گئی گزری حالت میں مسلمان قرآن سے وہ محبت کرتا ہے جسے دیکھ کر دوسرے لوگ دنگ رہ جاتے ہیں۔ لیکن اس موقع پر اپنے آپ سے بھی کچھ کہنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک طرف تو ہمیں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول سے اس قدر محبت ہے کہ غیر مسلمین رشک کرتے ہیں لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو ہماری زندگی اس کتاب ہدایت اور سنت رسول سے پوری طرح ہم آہنگ نظر نہیں آتی۔ ہماری بے عملیوں کے تذکرے بھی عام ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب عدالتوں میں حلف کے سلسلہ میں قرآن کے ساتھ مسلمانوں کے احترام کو دیکھ کر ایک راسخ العقیدہ جج اس قدر متاثر ہوسکتا ہے تواس صورت میں اس کا تاثر کیا ہوگا جب وہ ہماری پوری زندگی کو قرآن کے عملی نمونے کے طور پر دیکھے گا۔ (ص: ۸)

===

مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمان تو خیر اپنا کام کررہے ہیں اور اس حقیقت کے باوجود کررہے ہیں کہ مغربی نظام نے روس سے ہاتھ ملانے کے بعد اپنی ریشہ دوانیوں کا رخ اسلام کی طرف موڑ دیا ہے اور چرچ کی مدد سے اب اسلام کو (نعوذ باللہ) شکست دینے کے در پے ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ حق کی دعوت پہنچانا کسی ایک خطے کا نہیں دنیا کے سبھی مسلمانوں کا فرض ہے۔ اس لیے دیکھنا چاہیے کہ ہم ہندوستانی مسلمان کیا کرسکتے ہیں۔ جوابی سوال کیا جاسکتا ہے کہ ہم بھلا کیا کرسکتے ہیں۔ ہم تو آج کل خود ہی اپنے مسائل میں گرفتار اور بعض تنظیموں کی فسطائی مہم کا شکار ہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ اس فسطائی مہم اور کردار کشی کے پروپیگنڈے کا سامنا ساری دنیا کے مسلمانوں کو ہے۔ دینی شناخت اور جان و مال کو خطرہ متعدد ملکوں کے مسلمانوں کو درپیش ہے اور یہ سب صرف اس لیے ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اسلام اور قرآن کا نام لیتے ہیں۔ صورت حال کچھ اس طرح بن رہی ہے کہ ایک طرف دین حق ہے دوسری جانب دنیا کی تمام باطل قوتیں متحد ہورہی ہیں۔ اس ملک میں چلائی جانے والی مسلم مخالف مہم بھی اسی عالمی مہم کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے اللہ کے دین کی دعوت پیش کرنے اور لوگوں کو بھلائی اور نجات کی طرف بلانے میں یہ حالات رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ بلکہ زیادہ سچ تو یہ ہے کہ اسلام کو ایک مکمل اور بہترین نظریہ حیات کے طور پر پیش کرنے کا یہ مناسب ترین موقعہ ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارا سب سے بڑا بلکہ واحد ہتھیار خدا اور آخرت پر غیر متزلزل ایمان اور اس پر مکمل عمل-اسلامی احکامات کی پابندی- ہے۔ یہ دودھاری تلوار ہے جس سے ہم باطل قوتوں کو شکست بھی دے سکتے ہیں اور دین حق کی خاموش دعوت بھی پیش کرسکتے ہیں۔ موجودہ حالات کو اپنے حق میں پریشان کن سمجھنے کی بجائے دعوت دین کے لیے سازگار سمجھنا چاہیے۔ یہاں رہنے والے تمام انسان ہماری دشمنی کے نہیں، محبت و ہم دردی کے مستحق ہیں۔ جو لوگ آج ہم سے دشمنی نبھارہے ہیں یقین رکھیے انہیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا۔ (ص: ۲۱،۲۲)

===

اگر سسمتا بھٹا چاریہ کے احساسات پر غور کیا جائے تو پورا نقشہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ مغرب کی طرح یہاں کا سماج بھی عورت کو کیوں مرد کے برابر درجہ دینا چاہتا ہے۔ غور کرنے سے ہر بات سسمتا کی تائید میں جاتی ہے۔ جہیز اور مال و دولت کم لانے پر معصوم دلہنوں کو جلادینا، بیٹوں کو تعلیم کی نقلی ڈگریاں دلاکر بیٹیوں کے ماں باپ سے لاکھوں کی رقم اینٹھنا اور دھوکے، فریب، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ کرکے حتی کہ نقلی دوائیں بیچ کر پیسہ کمانا، بچی کو رحم مادر میں ہی ختم کردینا۔ سب آخر کیا ہے۔ جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی سماج کا کھوکھلا پن سامنے آتا ہے اور دھرم کے نام پر آج کل لگائے جانے والے نعروں کی حقیقت بھی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اس صورت میں کیا اس گروہ کا خاموش بیٹھے رہنا ٹھیک ہے جو عورت کو حقیقی عزت و احترام دینا چاہتا ہے، اعلی انسانی اوراخلاقی قدروں کی بنیاد پر سوسائٹی کی تشکیل کا خواہش مند ہے اور سماج کے کھوکھلے پن کو دور کرکے اسے خدا پرستی کے ذریعے ٹھوس اور مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ (ص: ۳۵)

===

آج عورت کو سماج میں باعزت مقام دلانے کی ضرورت سبھی محسوس کرتے ہیں، اس کے لیے تدبیریں ڈھونڈتے ہیں، لیکن ٹھوس علاج کوئی نہیں بتاتا۔ یہ علاج صرف مسلمانوں کے پاس ہے۔ وقت آگیا ہے کہ مسلمان پیغمبر اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کا بیڑہ اٹھائیں اور اپنے گرد و پیش کے سماج کی عورت کی عزت و ناموس کے لیے خود لڑیں۔ ہاں بعض مخصوص مزاج کے مسلمان کہہ سکتے ہیں ہم یہ کام بھلا کیسے کر سکتے ہیں جب کہ ہمارے پاس اپنے مسائل ہی کیا کم ہیں۔ ایسے لوگوں کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مسائل پیدا ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ ہم نے نبوی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا چھوڑدیا۔ موجودہ مسائل کا علاج یہی ہے کہ ہم ان تعلیمات کو پوری جرأت مگر حکمت کے ساتھ عام کریں۔ (ص: ۴۶)

===

اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ جواب سیدھا سادہ اس کا یہ ہے کہ وہی کرنا چاہیے جو اسلام کی تعلیم ہے اور خیر امت ہونے کی وجہ سے جو ان کا فرض ہے۔ لوگوں کو رنگ و نسل، ذات پات اور علاقائی و لسانی عصبیتوں سے نکالنا اور غیر انسانی سماجی بندھنوں سے چھٹکارا دلانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ اب تو ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ ہندوستانی سماج کے عیار ذہن نے اپنے مقاصد کے لیے مسلمانوں کے خلاف نفرت و عصبیت کو ہی اپنا ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ اب تک تو اس ذہن نے مسلمانوں کی اس غیر ضروری شرافت اور خاموشی سے خوب خوب فائدہ اٹھایا، جو وہ اپنے فرض منصبی کے تعلق سے لاپرواہی کی صورت میں اختیار کیے ہوئِے تھے۔ لیکن ان جب کہ مسلمانوں کی اس خاموشی نے خود ان کے لیے مسائل پیدا کردیے ہیں تو ضروری ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔ (ص: ۴۷)

===

آئیے ذرا دیکھیں کہ یہ برائیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں اور ان کا علاج کیا ہے۔ انسان اتنا شقی القلب کیوں کر بن جاتا ہے کہ اپنے مفاد کی خاطر یا کسی منفی جذبہ کی تسکین کے لیے دوسروں کو مارڈالتا ہے، یا وہ حالات کیسے پیدا ہوتے ہیں کہ انسان اپنی جان دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور اگر جان دینے کا واقعہ نو عمر لڑکیوں کی طرف سے ہو تو بات کس قدر سنگین ہوجاتی ہے۔ صورت حال کا بے لاگ تجزیہ کرنے والوں کو اس حقیقت کے اظہار میں تکلف نہیں ہونا چاہیے کہ یہ نتیجہ ہے خدا کو نہ پہچاننے کا اور زندگی کی حقیقت کو نہ سمجھنے کا۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ یہ دنیا فانی ہے اور یہاں کے ہر اچھے برے عمل کا جواب اسے مرنے کے بعد دینا ہے، اس کی جزا و سزا ملنی ہے اور یہ کہ یہ زندگی در حقیقت خدا کی امانت ہے اسے خدا کی مرضی کے مطابق ہی گزارنا چاہیے تو اس نوعیت کی برائیاں تو کیا ہر قسم کی برائیاں اور فتنہ و فساد دنیا سے ختم ہوجائے گا۔ ان کم عمر لڑکیوں کو تو اتنی گہرائی میں جاکر زندگی کی حقیقت پر غور کرنے کا موقع ملا نہیں ہوگا البتہ اس سلسلہ میں سوچنا اس سوسائٹی کا کام ہے جو آج ان کی موت کا ماتم کررہی ہے۔ (ص: ۵۸)

===

جہاد ایک مشہور اسلامی اصطلاح ہے۔ لیکن اسلام کی دوسری باتوں کی طرح اس لفظ کو بھی پوری دنیا بالخصوص مغرب نے نہایت غلط مفہوم میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں اس لفظ سے بیزاری ہمارے بر صغیر میں بھی آگئی۔ جہاد کو نہایت خطرناک چیز سمجھا جانے لگا۔ اور اس کی بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں کی بھیانک تصویر بنائی جانے لگی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔۔۔دراصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مسلمان بھی اسلامی اصطلاحوں کو دوسروں پر واضح کرنے کی کوشش کیا کریں۔ درست ہے کہ غیر مسلم افراد پروپیگنڈے کا اثر جلد قبول کرتے ہیں اور براہ راست تحقیق نہیں کرتے۔ لیکن اس معاملہ میں ہم مسلمانوں کی کوتاہی بھی کچھ کم نہیں ہے۔ (ص: ۶۰)

===

مرنے کے بعد سزا و جزا کا تصور تقریبًا ہر مذہب اور دھرم کے اندر ہے۔ اچھے کاموں کے اچھے صلے اور برے کاموں کے برے نتائج کو بھی لوگ محسوس کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ موت سے ڈرتے بھی ہیں بلکہ بہت زیادہ ڈرتے ہیں لیکن برے کاموں سے باز نہیں آتے۔ اسلام میں موت و حیات کا تصور بہت واضح ہے۔ موت کو بار بار یاد کرنے اور آخرت کی جزا و سزا کو ہمیشہ ذہن میں رکھنے پر اسلام نے جتنا زور دیا ہے کسی مذہب اور عقیدے نے نہیں دیا۔ موت خواہ کسی کی بھی ہو ایک مسلمان کے لیے باعث عبرت ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ خود بھی آخرت کی فکر کریں اور دوسروں کو بھی موت کی حقیقت اور مرنے کے بعد والی زندگی کے بارے میں بتائیں۔ درست ہے کہ لوگوں کے یہاں دھرم، کرم، پاپ اور پنیہ اور مرنے کے بعد سزا و جزا کا تصور ناقص ہے۔ اسے صحیح رخ دینا مسلمانوں کا فرض منصبی ہے۔ تاہم یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب مسلمان خود بھی آخرت کی فکر کریں جیسا کہ فکر کرنے کا حق ہے۔ (ص: ۶۵)

===

اور اگر کچھ لوگوں نے ہندو مسلم اتحاد کو دل سے چاہا بھی تو بڑے ہی مضحکہ خیز طریقے اپنائے گئے۔ وحدت ادیان کا تصور پیش کیا گیا۔ باہمی شادیوں کی بات کہی گئی۔ نعرے بازی ہوتی رہی۔ غرض کوشش کی گئی کہ ہر فرقہ اپنے عقائد اور اقدار سے تھوڑا بہت دست بردار ہوکر آگے بڑھے۔ جب کہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ہندو کو ہندو مسلمان کو مسلمان عیسائی کو عیسائی اور سکھ کو سکھ رکھ کر اتحاد کی بات کی جاتی اور ایسا کرنے میں کوئی دشواری بھی نہ تھی۔ اگر ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت یا ایک دوسرے کی روایات کو اپنالینے کی تلقین کی بجائے اس پر زور دیا جاتا کہ لوگ ایک دوسرے کے مذہب، عقائد اور روایات کو دیانت داری سے سمجھنے کی کوشش کریں تو زیادہ بہتر ہوتا۔ جو لوگ آج بھی خلوص دل کے ساتھ فرقہ وارانہ اتحاد کے خواہش مند ہیں انہیں ان ہی خطوط پر کام کرنا چاہیے۔ (ص: ۸۸)

===

اندیشہ بڑا واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں اسلام کی کردار کشی کی مہم مزید تیز ہوگی اور باعمل مسلمانوں کے خلاف طوفان اٹھایا جائے گا۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ اسلام دشمن قوتوں کے پاس انسانیت کی بھلائی کے لیے مثبت پروگرام نہیں ہے۔ امریکہ ہو یا ہندوستان کے مسلم مخالف حلقے، سبھی جھوٹ، فریب، عیاری، مکاری اور جبر و تشدد کے ذریعہ اپنی بات منوانا چاہتے ہیں وہیں مسلمانوں کے لیے بھی پوری قوت کے ساتھ اسلام کی دعوت پیش کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اگر انسانوں کے سامنے اسلام کا صحیح پیغام آجائے تو بڑی سے بڑی قوت بھی انہیں زیادہ دن تک دھوکے میں نہیں رکھ سکے گی۔ حالات تو بتاتے ہیں کہ اسلامی دعوت پیش کرنے کا موقع و محل جس قدر موزوں آج ہے، حالیہ تاریخ میں کبھی نہیں تھا۔ (ص: ۱۰۶)

===

افسوس کہ ہندوستانی مسلمانوں سے اس سلسلہ میں بڑی بھاری کوتاہی ہوئی اور کوتاہی کا یہ سلسلہ بہت دراز ہے۔ اس جمود کا سلسلہ ماضی سے جاکر ملتا ہے۔ یہاں مسلم حکم راں آئے۔ شان سے حکومت کی۔ عدل وانصاف کے نمونے بھی قائم کیے۔ اپنے طرز عمل سے مقامی آبادیوں کے دل بھی جیتے۔ مگر دعوت دین کے فریضہ کی طرف ان کی توجہ نہیں گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ایک شر پسند طبقہ ان کے عدل و انصاف کو بھول کر الٹا انہیں ظالم و جابر ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ان کے اچھے کام تو پس پشت چلے گئے، وہ غلطیاں اور نادانیاں مسلم مخالف پروپیگنڈے کی بنیاد بن گئیں جو ان میں سے خدا کے بعض نافرمانوں سے سرزد ہوئی تھیں۔ بادشاہ تو خیر بادشاہ تھے، افسوس تو اس بات کا ہے کہ طبقہ علما نے بھی تحریک اور تنظیم کی شکل میں کماحقہ یہ کام نہیں کیا۔ بے شک بعض بزرگوں نے اپنی انفرادی حیثیت میں دعوت دین کا زبردست کام کیا اور بعض نے تحریکیں برپا کیں اور اس میں بھی شبہ نہیں کہ آج بر صغیر میں چالیس کروڑ مسلمانوں کی موجودگی انہی نیک نفوس کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مگر ہمارے عمل و کردار میں جو کمی پائی جاتی ہے اس کے اسباب کا پتہ لگایا جانا چاہیے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ اہل علم و دانش، جزوی مسائل اور فقہی نکات میں تو دلائل کے انبار لگاتے رہے اور اپنی ساری توانائی اس میں جھونک دی مگر حکمت اور سیدھے سادے طریقے سے مقامی آبادیوں کو خدائے واحد کی طرف بلانے کی منصوبہ بند کوشش کبھی نہ کی۔ طبقہ امرا کی بات تو چھوڑ ہی دیجیے کہ جب اسے سنبھالنے والا کوئی نہ رہا تو لہوو لعب میں نہ پڑتا تو کیا کرتا۔ (ص: ۲۰۶)

مزید

آپ پڑھ رہے ہیں مضمون:

مدیر دعوت کی دعوتی فکرمندی

حالیہ شمارے

جنوری 2026

Zindagi-e-Nau Issue Jan 2026 - Cover Imageشمارہ پڑھیں

دسمبر 2025

Dec 25شمارہ پڑھیں
Zindagi-e-Nau

درج بالا کیو آر کوڈ کو کسی بھی یو پی آئی ایپ سے اسکین کرکے زندگی نو کو عطیہ دیجیے۔ رسید حاصل کرنے کے لیے، ادائیگی کے بعد پیمنٹ کا اسکرین شاٹ نیچے دیے گئے ای میل / وہاٹس ایپ پر بھیجیے۔ خریدار حضرات بھی اسی طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سالانہ زرِ تعاون مبلغ 400 روپے ادا کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں پیمنٹ کا اسکرین شاٹ اور اپنا پورا پتہ انگریزی میں لکھ کر بذریعہ ای میل / وہاٹس ایپ ہمیں بھیجیے۔

Whatsapp: 9818799223