نقد وتبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

برلب کوثر

شاعر:       ڈاکٹر محبوب راہی

صفحات:    ۱۳۶         ٭قیمت:    -/۱۲۵ روپے

ناشر:        اسباق پبلی کیشنز سائرہ منزل، ومان درشن، سنجے پارک، لوہ گاؤں، پونے ﴿مہاراشٹر﴾

ہندستان کے ایک بڑے اُردو طبقے کے لیے ڈاکٹر محبوب راہی  کی شخصیت ایک جانی پہچانی شخصیت ہے۔ وہ تقریباًچار دہائیوں سے اُردو شعرو ادب کی بے لوث خدمت میں لگے ہوے ہیں۔ ان کا اشہب قلم نثر اور نظم دونوں میں رواں دواں ہے۔ ہندستان اور پاکستان کے ادبی رسائل و جرائد میں ان کی نگارشیں آئے دن دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔ اب تک ان کی بیس﴿۰۲﴾ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کے تحقیقی مقالے ’مظفرحنفی: شخصیت اور کارنامے‘ کو علمی دنیا میں خاصی پزیرائی حاصل ہوئی ہے۔

زیرنظر کتاب برلب کوثر جناب محبوب راہی  کی نعتوں،چند رباعیات اور مناقب پر مشتمل ہے۔ جہاں اس طرح کے اشعار پڑھنے کو ملے، دامن دل کھنچتاہوا محسوس ہوا:

آیا رخ نبیﷺ کا تصور جو ذہن میں

اک روشنی سی حد نظر تک بکھر گئی

وہ نور کہ جس نور سے کونین ہے روشن

وہ نور اسی منبعِ انوار سے پھیلا

لُہولَہان بدن جن کی سنگ باری سے

لبوں پہ ان کے لیے خیر کی دعابھی ہے

ہم نے محبوب راہی  کی نثری نگارشیں تو پڑھی تھیں، لیکن ان کی شاعری پڑھنے کا موقع نہیں ملاتھا۔ ’برلب کوثر‘ سے یہ بات علم میں آئی کہ ان کی نعتیہ شاعری کے اعتراف میں ادارۂ ادب اسلامی ہند کی مہاراشٹر شاخ نے انھیں حفیظ میرٹھی کے معزز ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ یہ بات ہمارے لیے واقعی خوشی کی ہے۔ لیکن تبصرے کی غرض سے جب ’برلب کوثَر‘ کی ورق گردانی کی تو اِس قسم کے اشعار نے مایوس کیا:

ان کے کرم کا راہی بھی امیدوار ہے

سارے جہاں پہ لطف و کرم جن کا عام ہے

مخالف بھی جسے صادق امیں کہہ کے بلاتے تھے

بھروسا کرتے تھے دشمن بھی جس پر کون ہے ایسا

رہبر دنیا ودیں مخزنِ علم و حکمت

ہم پہ قرآن کا ہر ایک سبق روشن ہے

عرب کے پھول اس عالی مقام کی خوش بو

بسی ہے ذہن میں اُس پیارے نام کی خوش بو

ہے قرآں خزینۂ بے بہا، ہر اک حرف جس کا جہاں نما

کوئی لفظ جس میںنہ بیش و کم نہ کوئی فضول کی بات ہے

ہوے ہیں ویسے تو دنیا میں جاں نثار بہت

ابوبکر سا مگر کوئی باوفا بھی ہے

ابوبکرؓکی، عمرؓکی، علیؓکی، عثماںؓکی

ہوں ان کے دورِ خلافت کی نور کی باتیں

وہی صفحات میں توریت و بائبل کے بھی ہیں

وہی قرآن کی جو ہیں زبور کی باتیں

 

پہلے شعرکے پہلے مصرعے کاآخری لفظ ’ہے‘ ہے۔ جب کہ پوری نعت میں ’ہے‘ ردیف ہے۔ حیرت ہے کہ اس قدر واضح تقابلِ ردیف کا عیب انھیں کیوں نہیں کھٹکا۔ دوسرے شعر کا پہلا مصرع ساقط الوزن ہے۔ لفظ’کہہ کے‘ کی بہ جاے ’کہہ کر‘ لکھنا چاہیے تھا۔ تیسرے شعر کے پہلے مصرعے میںلفظ ’دنیا‘ کا الف غائب ہے۔ چوتھے شعر کاپہلامصرع بحرسے خارج ہے، تقطیع میں ’عین‘ غائب ہے، پانچویں شعر کا پہلامصرع بھی ساقط الوزن ہے، لفظ ’قُرآن‘ کو ’قُراَن‘ پڑھنا پڑ رہاہے، چھٹے شعر کا دوسرا مصرع ساقط الوزن ہے۔ اَبُوبَکْرْ کو اُبوبَکَرْ پڑھنا پڑرہاہے، ساتویں شعر کاپہلا مصرع بھی بحر سے خارج ہے، اس لیے کہ یہاں بھی حضرت ابوبکرؓکے نام کو بعض دشمنانِ دیں کی طرح ’اَبُوبَکَرْ‘ پڑھنا پڑ رہاہے اور آٹھویں شعر کے دونوں مصرعے ساقط الوزن ہیں۔ پہلے مصرعے میں لفظ ’صفحات‘ کی ’حا‘ غائب ہے اور دوسرے مصرعے میں لفظ قرآن بروزن ’قران‘ یا نثار ہورہاہے۔

یہ چند مثالیں میں نے محض مُشتے نمونہ از خروارے کے طورپر پیش کردیں۔ ورنہ پوری کتاب اس قسم کے اسقام سے بھری ہوئی ہے۔ عقیدہ وفکرکیبھی متعدد خامیاں نظرآئیں۔ اندازہ ہوتاہے کہ محترم محبوب راہی  نے شاعری کا مشغلہ تو اختیار کرلیا، لیکن سنجیدگی کے ساتھ کبھی اس فن پر توجہ نہیں دی۔ نہ کسی استاذ کی ضرورت محسوس کی۔ یہ وہی اسقام ہیں، جو اکثر بے استادوں کے ہاں ملتی ہیں۔ محبوب راہی  میرے لیے بڑے محترم ہیں۔ میں ان کی علمی و ادبی خدمات کا قدردان ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنا اگلا شعری مجموعہ منظرِ عام پر لانے سے پہلے اس پہلو سے ضرور غور فرمائیںگے۔ ان کے اندر شعرگوئی کی صلاحیت ہے۔ نوع بہ نوع مضامین کی بھی ان کے ہاں کمی نہیں ہے۔

خطوطِ زنداں

مصنف:    جناب متین طارق  باغ پتی

مرتب:     ڈاکٹر ذکی طارق

صفحات:    ۵۲           ٭قیمت:    -/۵۰ روپے

ناشر:        ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، لال کنواں، دہلی-۶۰۰۰۱۱

جناب متین طارق باغ پتی تحریکِ اسلامی کے بزرگ خادم، پختہ رقم اہلِ قلم اور سنجیدہ و خوش فکر شاعر ہیں۔ انھوں نے پوری زندگی معلمی کے مشغلے میں صرف کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے قرطاس و قلم سے بھی رشتہ رکھا۔ اب تک نثرو نظم میں ان کی پچاس سے زائد کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منظوم ترجمہ ان کاایک ایسا کارنامہ ہے، جسے کبھی فراموش نہ کیاجاسکے گا۔ اس وقت وہ نوّے ﴿۹۰﴾ سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، لیکن ان کا اشہبِ قلم اب بھی جواں اور رواں ہے۔

‘‘خطوطِ زنداں’’ حضرت متین طارق کے ان خطوط کا مجموعہ ہے، جو انھوں نے ۱۹۷۵؁ء میں ایمرجنسی کی اسیری کے دوران میں اپنی اہلیہ محترمہ ، اپنے بچوں ، احباب، سیاسی اور سماجی رہ نماؤں اور اربابِ اقتدار کو لکھے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اہلیہ محترمہ اور اہلِ خاندان واحباب کے نام لکھے ہوے ان کے خطوط تربیت و تزکیہ کا بہترین سرمایہ ہیں تو دوسرے خطوط سے ان کی زندگی کا دعوتی پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ ایسی صورت میں ان خطوط کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔ متین طارق  نے مشہور اشتراکی شاعر و دانش ور جناب علی سردار جعفری کے نام اپنے ایک خط میں لکھاہے:

’فکرو خیال کی آزادی کی سب سے زیادہ ضرورت ایک شاعر اور ادیب کو ہی ہوسکتی ہے۔ ہمارے ادیب اور شعراے کرام نے اِس جذبے کی نمایندگی اپنے زوردار کلام سے کی ہے۔ اپنی حُریت پسندی کاہمیشہ ثبوت دیا ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ انگریز کے برزخی دور میں کس طرح لوگوں نے ظلم وجبر کے خلاف آواز بلند کی، جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہے، زنجیروںمیں جکڑے گئے، پھانسی کے تختے پر لٹکے مگر اپنی گردنیں نہیں جھکائیں۔ حکومت کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی، لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج جب کہ صریح ظلم اور زیادتیاں ہورہی ہیں، کشمیر سے کنیاکماری تک لاکھوں بے گناہوں کو جیل میں ٹھونس دیاگیاہے، ہر طرف سزا وعقوبت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں، شہریوں کی جان و مال، عزت و آبرو تک محفوظ نہیں ہے، بل کہ حقوق کی حفاظت کا ٹھونگ پیٹ کر حقوق کو پامال کیاجارہاہے۔ ایمرجنسی کے نام پر آمریت کو جنتاکی گردنوں پر لاد دیاگیا ہے اور اس کے قوانین اتنے سخت کردیے گئے ہیں کہ لوگ آپس میں بیٹھ کر ہنستے ہوے ڈرتے ہیں، تو تعجب ہے کہ ہمارے اردو کے شاعر و ادیب خوشامد، چاپلوسی اور کاسہ لیسی میں مصروف ہیں اور اپنی وفاداری کے لیے سجدہ ریزی میں پیش پیش ہیں۔‘    ﴿خطوطِ زندان، ص:۵۴﴾

یہ خط حضرت متین طارق  کی فکری بلندی، استقامت، سنجیدگی، متانت اور ان کے اندر کے حقیقی شاعر وادیب کی بھرپور نمایندگی کرتا ہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر ذکی طارق  نے حضرت متین طارق  کے خطوط کا یہ مجموعہ شائع کراکر اُردو کے مکاتیبی ذخیرے میں اہم اضافہ کیا ہے۔

مولانا محمد علاء الدین ندوی: ایک یادگار شخصیت

مرتب:     محمد وقار الدین لطیفی ندوی

صفحات:    ۱۴۴        ٭قیمت:  -/۱۰۰ روپے

ناشر:        مجلس گیارہ ستارے انڈیا، ندوی منزل، پپرا لطیف، کھگڑیا، بہار

مولانا محمد علاء الدین ندوی ﴿۱۳۹۱-۱۹۹۵ ﴾ بہار کے مشہور، متحرک اور فعال عالم دین تھے۔ وہ عہدحاضر کی عظیم عربی دانش گاہ دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کے جیّد فضلا میں تھے۔ انھوں نے اپنی عمر کابڑا حصّہ دینی و ملّی خدمات میں صرف کیا۔ عوام و خواص میں یکساں مقبول ومحبوب تھے۔ موجودہ عہد کے بڑے بڑے علما اور دینی و ملّی رہ نماؤں کا انھیں اعتماد حاصل رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۹۵؁ء میں ان کے انتقال کے بعد سے ہی لوگوں نے اس بات کی ضرورت شدّت کے ساتھ محسوس کی کہ ان کی حیات اور دینی و ملّی خدمات سے متعلق کوئی کتاب شائع کی جائے تاکہ نئی نسل اس سے روشنی حاصل کرسکے۔

زیرنظر کتاب ، مولانا محمد علاء الدین ندوی: ایک یادگارشخصیت کوئی مستقل تصنیف نہیں بل کہ ان مضامین اور مقالات کا دل چسپ مجموعہ ہے، جو ہندستان کے علما اور دانش وروں نے اِس پندرہ سولہ سال کے دوران میں مولانا مرحوم کی زندگی اور ان کی علمی، دینی اورملّی خدمات سے متعلق لکھے تھے۔ ان میں سے بعض مضامین قابلِ ذکر رسائل وجرائد میں شائع بھی ہوچکے ہیں۔ کتاب کی اہمیت کااندازہ اس بات سے بھی کیاجاسکتاہے کہ لکھنے والوں میں مدبّر اسلام حضرت مولانا سیّد محمد رابع حسنی ندوی ناظم ندوۃ العلمائ لکھنؤ، امیر شریعت حضرت مولانا سیّدنظام الدین جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ، مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی، مولانا سیّد محمد ولی رحمانی، جناب علقمہ شبلی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا انیس لرحمن قاسمی ﴿امارت شرعیہ بہار﴾ اور مولانا امین عثمانی ندوی ﴿جنرل سکریٹری اسلامی فقہ اکادمی﴾ کے اسماے گرامی شامل ہیں۔ یہ کتاب کل ستائیس مضامین پر مشتمل ہے۔ اور تقریباً ہر مضمون ازدل خیزد بردل ریزد کامصداق ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب عوام وخواص دونوں طبقوں میں مقبول ہوگی۔

ڈاکٹر محمد مفتی محمد مکرم احمد: خدمات اور سرگرمیاں

مترتبین:   جلال الدین اسلم، سعید اختر اعظمی،نوشاد احمد

صفحات:    ۶۱۶          ٭قیمت:  -/۳۰۰ روپے

ناشر:        ہفت روزہ آج کی حکومت،E/100.Bگلی نمبر۲، ویسٹ ونود نگر، دہلی۱۱۰۰۹۲

مفتی محمدمکرم احمد کی شخصیت دلّی ہی نہیں پورے ہندستان کے لیے ایک معروف ومعتبر شخصیت ہے۔ دلّی کی تاریخی مسجد فتح پوری کی امامت وخطابت اور اپنی دوسری دینی و ملّی سرگرمیوں کی وجہ سے دلّی کے ہر طبقے میں وہ معروف ونیک نام ہیں۔

زیرنظرکتاب ’ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد:خدمات اور سرگرمیاں‘ چھے ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں مفتی صاحب سے متعلق دلّی کے متعدد اہل ارباب قلم کی تحریریں اور ارباب اقتدار کے تہنیتی پیغام ہیں، جن میں سب نے اپنے اپنے طورپر مفتی صاحب کی بے لوث خدمات کو سراہا ہے، دوسرے باب میں مختلف ملّی و ملکی مسائل سے متعلق مفتی صاحب کے انٹرویوز ہیں، تیسرے باب میں ’سدابہار تحریریں‘کے عنوان سے مفتی مکرم صاحب کی وہ تحریریں ہیں، جو اخبارات و رسائل میں شائع ہوتی رہی ہیں، چوتھے باب میں جمعہ و عیدین کے وہ خطبے ہیں، جو انھوںنے شاہی مسجد فتح پوری کے منبر سے ملک وملت کے کسی اہم مسئلے سے متعلق مرحمت فرمائے تھے، پانچواں باب مفتی مکرم صاحب کی تحقیقی تصنیف پر تبصروں پرمشتمل ہے اور چھٹا باب مفتی صاحب سے متعلق تہنیتی اشعار، مسجد کی تصاویر اور مفتی صاحب کے نام آنے والے اہم خطوط پر مشتمل ہے۔ ’قدر مردم بعد مردن‘ کی فارسی کہاوت بہت مشہور ہے، لیکن اس کتاب سے اندازہ ہوتاہے ابھی زندوں کی قدردانی اس کی زندگی ہی میں کرنے والوں کا فقدان نہیں ہے۔ یقینا اس اقدام کے لیے مشہور صحافی جناب جلال الدین اسلم، عزیزی سعیداختر اعظمی اور جناب نوشاد احمد ہم سب کے شکریے کے مستحق ہیں۔

نومبر 2011

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau