نقد وتبصرہ

ڈاکٹر تابش مہدی

علم الاحکام فی شریعۃ الاسلام

مؤلف   :         مولانا قاضی محمد امین پرتاپ گڑھی

صفحات   :         ۲۵۲     ٭قیمت  :         درج نہیں ہے

ناشر      :         مکتبہ السعود، اوگئی پور، پوسٹ سگرا سندر پور ضلع پرتاپ گڑھ، یوپی

خالقِ کائنات کے بھیجے ہوئے وہ احکام و قوانین، جو اس کی کتاب قرآنِ مجید اور اس کے آخری رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس و مبارک احادیث میں موجود ہیں، ان کا نام شریعت ہے۔ شریعت کو جاننا اور اس کے مطابق زندگی گزارنا ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے۔ اس کے بغیر ایمان کا دعویٰ نہیں کیاجاسکتا۔ آج مسلمانوں میں ہر سطح پر خامیاں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ عقائد و افکار میں سخت قسم کی کم زوری آچکی ہے، طرح طرح کے توہمات و خرافات ان کے ذہن و فکر میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ اخلاق ومعاملات کے اعتبار سے صورتِ حال اچھی نہیں ہے اور ظلم و ناانصافی، غبن وخیانت اور سودو رشوت کے معاملے میں بھی یہ ملّت دوسروں سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شریعت کی تعلیمات سے ناواقفیت اور بے خبری عام ہے۔ ایسی صورت حال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام الناس میں دینی احکام و تعلیمات کو جاننے اور انھیں اپنی زندگیوں میںجاری و ساری کرنے کا جذبہ و شعور بیدار کیاجائے اور آسان اور عام فہم زبان میں ایسی کتابیں یا کتابچے شائع کریں اورپھیلائیں، جو ان کے فہم و شعور سے قریب ہوں اور شریعتِ اسلامیہ کی تعلیمات و احکام کو سمجھنے میں ان کے لیے ممدو معاون ہوں۔ زیرِنظر کتاب ’’علم الاحکام فی شریعۃ الاسلام‘‘ اسی سلسلے کی ایک مفید اور موثر کوشش ہے۔

یہ کتاب کا دوسرا حصہ ہے۔پہلے حصّے میں مصنف نے عبادات، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج سے متعلق احکام سپردِ قلم کیے تھے، جب کہ زیرنظر دوسرے حصّے میںخریدو فروخت ، مزدوری، رہن اور شرکت مضاربت وغیرہ کے فقہی مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ لین دین، رہن، اجرت و مزدوری اور کاروبار میں ایک دوسرے کے ساتھ شرکت یہ زندگی کے ایسے مسائل ہیں، جو آئے دن سب کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں اور اِن کو لے کر طرح طرح کے جھگڑے اور تنازعے سامنے آتے رہتے ہیں۔ قدیم اور گہرے تعلقات یا رشتے داریوں میں دراڑیں آجاتی ہیں۔ یہ سب بالعموم مسائل سے عدم واقفیت اور بے خبری کی وجہ سے ہوتاہے۔ مولانامحمد امین چوں کہ ایک باخبر عالم دین ہیں، علاقے میں قضا کی ذمے داری بھی انھیں تفویض ہے، ان کے والدِ محترم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ محمد یار پرتاپ گڑھیؒ  بھی اس منصب پر فائز تھے اور پورے خطّے میں ایک مصلح و رہ نما کے طورپر جانے جاتے تھے۔ فاضل مصنف اپنے والدِ محترم کی معیت میں قضا اور معاملات کے فیصلوں کے سلسلے میں اکثر شریک ہوتے رہتے تھے، اس لیے ان کی ان سب مسائل اور ان کی نزاکتوں پر کافی نظر ہے۔ امید ہے کہ ان کی یہ کتاب عوام میں بھی موثر کردار ادا کرے گی اور خواص بھی اِسے پسند فرمائیں گے۔

٭٭٭

بیاضِ ہم راز

شاعر:    محمد شہاب الدین ہم راز  رُہتاسی

صفحات:  ۱۲۸     ٭قیمت:          Rs.100/-

ملنے کا پتا:         مکتبہ اسلامی، پتھرکی مسجد، پٹنہ۸۰۰۰۶ ﴿بہار﴾

جناب محمد شہاب الدین جماعت اسلامی حلقہ بہار کے ایک سرگرم اور فعال کارکن تھے۔ تحریک اسلامی کے ساتھ اپنی بے لوث وابستگی اور محنت اورلگن کے ساتھ اپنی مفوضہ ذمّے داری کی انجام دہی کی وجہ سے بڑی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ ۱۹۲۵ء  میں اپنے آبائی وطن اکبر پور ضلع رُہتاس ﴿بہار﴾ میں پیدا ہوئے اور ۲۰۰۴ء  میں اللہ کو پیارے ہوگئے۔اُنھیں اللہ تعالیٰ نے شعورِ سخن وری سے بھی سرفراز کیاتھا۔ ہم راز تخلص فرماتے تھے۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو ہمارے سامنے ان کی وفات کے بعد آیا۔

زیرنظر کتاب ’بیاض ہم راز‘ ہمارے مرحوم رفیق محمد شہاب الدین ہم راز  کا شعری مجموعہ ہے۔ جسے جناب سرفراز نواز اور سیّد ارتقاء  الدین سہسرامی نے مرتب کرکے شائع کرنے کا اہتمام کیاہے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہواکہ ہم راز  صاحب میں شعرگوئی کی اچھی صلاحیت تھی، خصوصاً نظم اور مثنوی سے انھیں خصوصی دل چسپی تھی۔ اگر انھوں نے یک سوئی کے ساتھ اس پر توجّہ کی ہوتی تو وہ شعر وسخن کی دنیا میں گم نام نہ ہوتے۔ غالب کی صد سالہ برسی، بیوہ کاخواب ، عابد کا خواب، نصیحت نامہ اور اردو کی فریاد جیسی نظموں نے متاثر کیا۔

نومبر 2010

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau