نقد و تبصرہ

محمد رضی الاسلام ندوی

قرآن پاک کے منظوم تراجم یا کلام اللہ کے ساتھ کھلواڑ

مصنف:               ڈاکٹر رئیس احمد نعمانی

ناشر:                  گوشہ مطالعاتِ فارسی، پوسٹ بکس۱۱۴، علی گڑھ

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء٭ صفحات: ۲۴٭ قیمت درج نہیں

اس کتابچہ میں قرآن مجید کے اردو زبان میں چار منظوم تراجم کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وہ تراجم درج ذیل ہیں:(۱) قرآن مجید مع منظوم اردو ترجمہ ، از مولانا محمد حسن، لیکچرر دینیات شیعہ کالج لکھنؤ (۲) منظوم اردو مفہوم القرآن از عطا قاضی، پاکستان (۳) قرآن منظوم ،از پروفیسر محمد سمیع اللہ اسد۔ (۴) منظوم القرآن ،ازبدرالدین خاں انجم عرفانی۔ بلرام پور (یوپی)

فاضل مصنف نہ صرف ایک قادر الکلام اور منجھے ہوئے شاعر ہیں، جو فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں، بلکہ فن عروض پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ انھوں نے ان تراجم میں زبان وبیان کی بہت سی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق ان میں تذکیر وتانیث کی کافی غلطیاں ہیں۔ تعقیدات کی بھرمار ہے، بہت سے الفاظ کے تلفظ صحیح نہیں ہیں، اوزان بحر سے خالی ہیں اور ردیف قافیہ اصول کے مطابق نہیں ہے۔ ان شعراء نے اپنے دیباچوں میںبھی بعض نامعقول باتیں لکھ دی تھیں۔ مثلاً ’’قرآن کریم ایک غیر موزوںشعری شاہکار ہے‘‘ یا ’’قرآن کے تمام نثری ترجمے روکھے پھیکے ہیں‘‘ وغیرہ ۔ مصنف نے ان باتوں پر بھی گرفت کی ہے اور ان کا مدلل رد کیا ہے۔

مصنف نے ان تراجم پر اس پہلو سے بھی نقد کیا ہے کہ ان میں الفاظ قرآن کی پوری پابندی نہیں کی گئی ہے اور ترجمہ کے دوران زائد الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ نقد اس صورت میں تو صحیح ہے کہ مترجم ’’قرآن کے حرف بہ حرف ترجمہ‘‘ کا دعویٰ کرے، ورنہ ترجمہ کی دو قسمیں کی گئی ہیں۔ ایک لفظی ترجمہ، دوسری تشریحی ترجمہ۔ اکثر مترجمین قرآن نے اپنے تراجم میں ، خواہ وہ نثری ترجمے ہوں یا منظوم ترجمے، اسی دوسری قسم کو اپنایا ہے۔

مصنف موصوف قرآن کریم کا منظوم ترجمہ کرنے ہی کے خلاف معلوم ہوتے ہیں۔ انھوں نے آخر میں لکھا ہے: ’’قرآن کو نظم کرنا اور ذہنی ورزش کے لیے سامان مشق بنانا قرآن پاک کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف اور قرآن مجید میں تحریف معنوی کے لیے ایک چوردروازہ کھول دینے کے برابر ہے‘‘۔ (ص :۲۴) یہ بات علی الاطلاق درست نہیں معلوم ہوتی۔ یوں تو بعض مترجمین قرآن نے نثری تراجم میں بھی اپنے منحرف رجحانات و افکار شامل کرکے قرآن مجید کے ساتھ کھلواڑ اور تحریف معنوی کا ارتکاب کیا ہے، لیکن اگر کوئی شخص معانی قرآن کو نظم کے پیرائے میں ڈھالے، بایں طور کہ اس کا ترجمہ زبان و بیان کے اعلیٰ معیار پر ہو اور غلط ترجمانی بھی نہ کی گئی ہو تو اس میں کوئی حرج معلوم  نہیں ہوتا۔

  دوخلفائے رسول حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تالیف:  ڈاکٹر طٰہٰ حسین، ترجمہ وتلخیص: حکیم سیداحمد علی

ناشر:  مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی

سنہ اشاعت ۲۰۱۳ء، صفحات  ۱۷۴، قیمت ۔/۷۵ روپے

خلفائے راشدین کی سوانح حیات اور کارناموں پر دنیا کی مختلف زبانوں میں قابل قدر علمی سرمایہ موجود ہے۔ ان کا تذکرہ تاریخ اسلام کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ سیرت صحابہ پر کی جانے والی تالیفات میں بھی۔ ان پر خلفائے راشدین  اور خلفائے اربعہ کے نام سے بھی بہت سی کتابیں لکھی گئیں اور ہرخلیفہ کی شخصیت کو الگ الگ بھی بحث وتحقیق کا موضوع بنایا گیا ہے۔ ان پر بچوں کے لیے آسان زبان میں بھی کتابیں لکھی گئی ہیں اور علمی وتحقیقی اسلوب میں بھی خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ زیر نظر کتاب ’دوخلفائے رسولؐ، جس میں اولین دو خلفائے راشدین— حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمرفاروقؓ — کی سیرت بیان کی گئی ہے، مشہور مصری ادیب ، نقاد اور انشاء پرداز ڈاکٹر طٰہٰ حسین کے رشحاتِ قلم کا نتیجہ ہے۔

طٰہٰ حسین (۱۸۸۹— ۱۹۷۳ء) کی اصل شہرت عربی ادب اور تنقید کے میدان میں ہے۔ انھوں نے ناول اور ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ان کی خود نوشت الایام کو بھی بہت شہرت ملی۔ اپنی جس کتاب کی وجہ سے وہ بہت زیادہ ہدفِ تنقید و ملامت بنے وہ ’فی الشعر الجاہلی‘ ہے۔ اس میں انھوں نے جاہلی شاعری کے استناد کو چیلنج کیا تھا، لیکن ساتھ ہی انھوں نے بعض مسلمہ دینی عقائد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ بالآخر اہل علم کے شدید رد اور محاکمے کے بعد انھوںنے کتاب پر نظرثانی کی اور اس کا دوسرا ایڈیشن ’فی الادب الجاہلی‘ کے نام سے شائع کیا۔

طٰہٰ حسین کو تاریخ اور سوانح سے بھی خصوصی دلچسپی تھی۔ سیرت نبویؐ پر ان کی مشہور تصنیف ’علیٰ ھامش السیرۃ‘ ہے، جس میں انھوں نے افسانوی انداز میں واقعاتِ سیرت کو بیان کیا ہے۔ ابوعدالحق ان کا مشہور ناول ہے جس میں ان صحابہ کرامؓ کا تذکرہ کیاگیاہے جنھوں نے کفارقریش کے مظالم کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کیا تھا۔ اس ناول پر مصر میں ایک فلم بھی بنائی گئی تھی،جوبڑی مقبول ہوئی تھی۔ انھوں نے اپنے مؤثر اور منفر داسلوب میں خلفائے راشدین کے تذکرے بھی لکھے ہیں۔ اولین دو خلفاء (حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ) پر ان کی کتاب ’’الشیخان‘ ہے۔ جس کا ترجمہ زیر نظر کتاب کی صورت میں پیش کیاگیا ہے اور بعد کے دو خلفاء (حضر ت عثمانؓ اورحضرت علیؓ) کے حالات انھوںنے اپنی کتاب الفتنۃ الکبریٰ میں بیان کئے ہیں۔ اس کتاب کا حصہ اول حضرت عثمان پر اور حصہ دوم حضر ت علیؓ اور ان کے صاحبزادگان پر ہے۔اس کتاب کے اردو ترجمے کی خدمت حکیم سید احمد علی (م ۱۹۹۹ء) نے انجام دی ہے۔ موصوف نے ذاتی کوشش سے اردو کے علاوہ عربی اورانگریزی میں بھی اچھی استعداد پیدا کرلی تھی۔ چنانچہ انھوں نے متعدد کتابوں کے ترجمے کی خدمت انجام دی ہے۔

زیر نظرکتاب میں طٰہٰ حسین کا ادبی اسلوب نمایاں ہے ، جسے ترجمے میں باقی رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ضروری نہیں کہ مصنف کے تمام نتائج فکر سے اتفاق کرلیا جائے۔ بہرحال یہ کتاب ان خلفائے رسولؐ پر عربی زبان کی جدید کتابوں میں اہمیت کی حامل ہے۔

الربانیۃ والربانیون

مصنف: شیخ عبدالحمید جلسم البلال، مترجم : ڈاکٹر عبدالحمیداطہرندوی

ناشر: المنار پبلشنگ ہائوس، N-5B، ابوالفضل انکلیو، نئی دہلی۔ ۲۵

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء، صفحات: ۲۴۰۔ قیمت:۔/۱۰۰ روپے

قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ایک اصطلاح ’ربانیون‘ (اللہ والے) کی استعمال ہوئی ہے۔ اس سے کون لوگ مراد ہیں اوران کے کیا اوصاف قرآن میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہ زیر نظر کتاب کا مرکزی موضوع ہے۔ باب اول میں آیاتِ قرآنی کی روشنی میں ’ربانیون‘ کی دس نمایاں صفات بیان کی گئی ہیں۔وہ صفات یہ ہیں:(۱) علم کی طلب (۲) علم کی اشاعت (۳) علم پر عمل (۴) تقرب الی اللہ (۵) ترک دین (۶) ترک ضعف (۷) ترک استکانت (۸) دعا (۹) تربیت (۱۰) امربالمعروف اور نہی عن المنکر۔ باب دوم میں ممتاز تابعین (حسن بصری، سلمہ بن دینار،محمد واسع،طائوس بن کیسان، بلال بن سعد) اور تبع تابعین (ابراہیم بن ادھم، عبداللہ بن مبارک، ابوسلیمان دارانی، معروف کرخی، بشر حافی) کی سوانح بیان کی گئی ہے اور دکھایا گیا ہے کہ ان کی زندگیاں ان ربانی صفات کا پرتو تھیں۔ باب سوم میں ان صفات کے دنیوی اور اخروی نتائج و اثرات بیان کیے گئے ہیں۔

شیخ عبدالحمید بلالی کویت کی نمایاںدینی شخصیت ہیں۔ ان کے دعوتی و تربیتی مضامین کویت کے ہفت روزہ ’المجتمع‘ اور دیگر اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ دعوت وتبلیغ، سماجی مسائل اور دیگر موضوعات پر ان کی چار درجن کے قریب تصنیفات شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی بعض کتابوں کا اردو میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے، مثلاً تابعین کا نظام تربیت، پردہ دکیوں؟ تزکیہ نفس وغیرہ۔ زیر نظرکتاب میں تربیتی نقطۂ نظر سے اہمیت کی حامل ہے۔ امید ہے،اسے قبول عام حاصل ہوگا اور اس سے خاطرخواہ فائدہ اٹھایاجائے گا۔

 تاریخ دعوت وتبلیغ (جموں وکشمیر کے تناظر میں) جلد اول

مصنف: خاکی محمد فاروق

ناشر:  صدیق پبلی کیشنز، چاڈورہ، بڈگام (کشمیر)

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء، صفحات:  ۴۵۸، قیمت ۔/۲۵۰ روپے (لائبریری ایڈیشن۔/۵۰۰ روپے)

اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شاگرد گرامی ’بلغوا عنی ولوآیۃ‘ بخاری: ۳۴۶۱ (میری طرف سے پہنچائو، خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو) کے ذریعے جو ہدایت دی تھی، صحابہ کرامؓ، تابعین عظام اور بعد کے بزرگوں نے اسے حرز جان بنایا، چنانچہ وہ جہاں بھی پہنچے انھوں نے دعوت وتبلیغ کا کام انجام دیا اوران کے مواعظ و ارشادات اور سیرت و کردار سے لوگ جوق درجوق دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے۔ کشمیر میں بھی ایسا ہی ایک خطۂ زمین ہے جہاں اللہ کے کچھ نیک بندوں کے قدم پہنچے اور ان کی کوششوں سے پوراعلاقہ مشرف بہ اسلام ہوگیا۔ کشمیر کی تاریخ پر یوں تو مختلف زبانوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں، لیکن ان سے دعوتی وتبلیغی پہلو سے اور اشاعت اسلام کے حوالے سے کچھ زیادہ روشنی نہیں پڑتی۔ ضرورت تھی کہ اس پہلو کو بحث وتحقیق کا موضوع بنایا جائے اوراس پربھرپور معلومات فراہم کی جائیں۔ یہ سعادت نوجوان قلمکار جناب خاکی محمد فاروق کے نام لکھی ہوئی تھی۔ زیر نظر کتاب کی صورت میں انھوں نے اس ضرورت کو بہ خوبی پورا کردیا ہے۔

یہ کتاب بارہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں جموں وکشمیر کے جغرافیے پر مختصر روشنی ڈالی گئی ہے۔ دوسرے باب میں جموںو کشمیر اور اس کے نواحی علاقوں میں اسلام کے ابتدائی نقوش، تیسرے باب میں چودہویں صدی عیسوی میں عالم اسلام کے حالات اور پانچویں باب میں کشمیر میں اشاعتِ اسلام کی ابتدائی کوششوں کے حوالے سے بحث کی گئی ہے۔ چھٹے باب میں حضرت میر سید علی ہمدانی (۷۱۳۔۷۸۶ھ/۱۳۱۳۔ ۱۳۸۵ء)  اور ساتویں باب میں ان کے فرزند حضرت میر محمد ہمدانی (۷۷۴۔۸۵۴ھ/۱۳۸۲۔۱۴۲۹ء)  اور ان کے معاصر مبلغین اور حکمرانوں کی، اشاعت اسلام کے سلسلے میں خدمات بیان کی گئی ہیں۔آٹھویں باب میں ریشمی تحریک کے سرخیل حضرت شیخ العالم نورالدین ولیؒ) ۷۷۹۔۸۴۲ھ/۱۳۷۷۔۱۴۴۱ء) کی داعیانہ جدوجہد اور اس کے ثمرات و نتائج پر روشنی ڈالی گئی ہے اور نویں باب میں ان کی شاعری میں اسلامی عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دسویں باب میں دیگر علمائے کرام کی تبلیغی مساعی بیان کی گئی ہیں۔ گیارہویں باب میں حضرت شیخ حمزہ مخدومؒ (۹۰۰۔۹۸۴ھ/۱۴۹۵۔۱۵۷۶ء)اور ان کے خلفاء اور معاصرین کی دعوتی وتبلیغی سرگرمیوں سے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں۔ بارہویں باب میں گلگت، لداخ اور بلتستان میں اشاعت اسلام کی سرگزشت بیان کی گئی ہیں۔

فاضل مصنف نے تاریخ نویسی میں تمام دستیاب مراجع و مصادر سے استفادہ کیا ہے۔ فہرست کتابیات سے ان کی محنت اور تحقیقی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ کتاب کی جلد اول ہے، جس میں سولہویں صدی عیسوی تک اشاعت اسلام کے پہلو سے جموں وکشمیر کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ مصنف کے بیان کے بعد جلد دوم میں سترہویں صدی سے اب تک کی تاریخ کا احاطہ کیا جائے گا۔

زیر نظر کتاب کی صورت میں کشمیر میں تاریخ دعوت وتبلیغ کی ایک مستند دستاویز مرتب ہوگئی ہے،جو امید ہے، راہ دعوت میں کام کرنے والوں کو مہمیزکرے گی اور ان کے اندر بھی اشاعت اسلام کا جذبہ پیداکرے گی۔

 مولانا سید امین عمریؒ۔ کردار ساز شخصیت

مصنف:  محمد رفیع کلوری عمری

ناشر:  ادارۂ تحقیقات اسلامی، جامعہ دارالسلام عمرآباد

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء، صفحات: ۱۶۰، قیمت :۶۰ روپے

جنوبی ہند کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ دارالسلام عمر آباد کے سابق ناظم اور استاذالاساتذہ مولانا سید امین عمریؒ (م ۱۹۸۱ء) کی ذات گرامی بڑی خوبیوں کی مالک تھی۔ جامعہ دارالسلام سے فراغت کے بعد انھوںنے مولانا احمد علی لاہورؒ کے حلقۂ درس سے فائدہ اٹھایا تھا۔ وہاں سے واپسی پر جامعہ دارالسلام میں درس و تدریس کی ذمے داری سنبھالی اور وہیں کے ہورہے۔ مولانا کاتعلق جماعت اسلامی ہند سے تھا۔ وہ عرصے تک مقامی امیر رہے۔ ایک زمانے میں مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ جماعت کے موجودہ امیر مولانا سید جلال الدین عمری جامعہ دارالسلام عمر آباد سے فراغت کے بعد ان ہی کی تحریک پر، بلکہ ان کے ساتھ مرکز جماعت اسلامی رام پور آگئے تھے، جہاں انھوں نے جماعت کے ذمے داروں بالخصوص مولانا صدرالدین اصلاحی کی زیر نگرانی خود کو تحریر وتصنیف کے لئے وقف کردیا۔

مولانا امین عمریؒ کی وفات کو تین دہائیاں گزر گئی ہیں۔ ضرور ت تھی کہ ان کاذکر جمیل مرتب کیا جائے اور ان کے شناسائوں، معاصرین ، تلامذہ اور اہل خاندان سے ان پر مضامین لکھوائے جائیں۔ جناب محمد رفیع کلوری عمری قابل مبارکباد ہیں کہ انھیں یہ خدمت انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی۔

اس مجموعے میں شامل مضامین سے مولانا مرحوم کے زندگی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی پڑتی ہے۔ ان کے شاگردوں نے — جن میں بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں، مثلاً مولانا ابوالبیان حماد عمری، مولانا سید جلال الدین عمری، مولانا کاکا سعید احمد عمری، مولانا حبیب الرحمن اعظمی عمری، مولانا حفیظ الرحمن اعظمی عمری، مولانا ثناء اللہ عمری وغیرہ۔ ان کے بارے میں جن تاثرات کا اظہار کیا ہے ان سے ان کی علمی عظمت، تدریسی مہارت، خورد نوازی، نیک نفسی، خوش خلقی، سادگی، قناعت وزہد اور دیگراوصاف حمیدہ نمایاں ہوتے ہیں۔ افراد خانہ— بیٹوں، بیٹیوں، بہوئوں اور دامادوں نے اندرونِ خاندان کے اخلاق کریمانہ سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان مضامین سے مولانا مرحوم کے کردار کی عظمت ذہن پر نقش ہوتی ہے اور ان کی سیرت و اخلاق کو اپنانے کا  جذبہ پیدا ہوتاہے۔

جنوبی ہند کاایک علمی و ادبی سفر

مرتب:  پروفیسراحمد سجاد

ناشر: مرکزادب و سائنس، بریاتو، رانچی (جھارکھنڈ)

سنہ اشاعت: ۲۰۱۳ء، صفحات: ۱۲۰، قیمت ۔/۲۰۰ روپے

پروفیسراحمد سجاد جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کے سابق رکن اور ادارۂ ادب اسلامی کے سابق صدر ہیں۔ تحریک اسلامی کے ادبی قافلے کے رہ نمائوں میں سے ہیں۔ ادب وتنقید کے موضوع پر متعدد وقیع تصانیف ہند وپاک کے اشاعتی اداروں سے شائع ہوچکی ہیں۔ تعلیمی موضوعات کے علاوہ ملی و ملکی مسائل پر بھی لکھتے رہتے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں تعلیمی، ادبی اور تحریکی اجتماعات ، سیمیناروں اور دیگر پروگرام میں ان کی شرکت رہتی ہے۔

۲/تا ۴/جنوری ۲۰۱۲ء جماعت اسلامی ہند کے مرکز اورحلقہ جات کے ذمے داروں کا تربیتی اجتماع  چنئی (تامل ناڈو) میں منعقد ہوا تھا۔ اس میں پروفیسر موصوف نے بھی شرکت کی تھی۔ اس کے بعد تقریباً تین ہفتے انھوںنے مہاراشٹر کے مختلف شہروں میںگزارے تھے اور وہاں کے ادبی و تحریکی پروگراموں میں شرکت کی تھی۔ دوسرا اہم پروگرام جماعت اسلامی ہند کے سینٹر فار اسٹڈی اینڈ ریسرچ کے زیر اہتمام ۱۲/تا ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۲ء حیدرآباد میں منعقد ہوا تھا۔ اسے ’لٹریچر ریویو سیمینار‘ کا نام دیاگیا تھا۔ اس میں مختلف موضوعات پر تحریک اسلامی کے تیار کردہ لٹریچر کا جائزہ لے کر آئندہ کے لئے خطوط کار کی نشاندہی کی جاتی تھی۔ زیر نظر کتاب میں ان پروگراموں کی مفصل روداد بیان کی گئی ہے۔

پروفیسر موصوف نے یہ سفر نامہ بڑے سلیقے سے مرتب کیا ہے۔ راہ کی دشواریاں، مناظر فطرت کا بیان، دورانِ سفر جن شخصیات اور افراد سے ملاقاتیں ہوئیں، ان کا تعارف، ان سے ہونے والی گفتگو، جن اکیڈمیوں، لائبریریوں، ادبی میلوں، شعری نشستوں وغیرہ میں جانا ہوا، ان کاتذکرہ، اس کے علاوہ مذکورہ دونوں پروگرامو ں میں جو تقاریر ہوئیں اور مقالات پڑھے گئے ، ان کے اہم نکات، ان پر ہونے والے مباحثے، سب بہت عمدہ طریقے سے تحریر کیا ہے۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری ان کا ہم سفر ہوجاتاہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ بذات خود ان پروگراموں میں شریک ہوکر ان سے استفادہ کررہاہے۔

جولائی 2013

مزید

حالیہ شمارے

جولائی 2024

شمارہ پڑھیں
Zindagi e Nau